سر ورق / افسانہ / قلمی نام۔ سلمان عبدالصمد

قلمی نام۔ سلمان عبدالصمد

 سوچتے سوچتے نام کی تبدیلیوں خاص کر قلمی ناموں پر وہ سوچنے لگا۔ خود رائٹر تھا۔اگر چاہتا تو کسی مخمصے میں پھنسے بغیر ہی اپنا کوئی قلمی نام رکھ لیتا۔

لیکن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس نے قلمی نام کی نفسیات پر تحقیق کرناشروع کردیا۔ فرائیڈ اور یونگ کی نظریاتی رگوں میںخون بن کر دوڑا اور جب ان سے نکلا تو تبدیلی ¿نام کا مسئلہ مجسم بنا ہوا تھا۔اصلی نام سے قلمی نام کی منتقلی کا قضیہ جوں کا توں —-

ایک دن اس نے سوچا کہ میں اپنا قلمی نام کیوںنہ رکھ لوں ایک نہیں، کئی ایک —- لیکن پھر اسے خیال آیا کہ اب تک تو بیش تر ادیبوں نے ایک ہی رکھا ہے تو میں کیوں کئی ایک رکھنے لگا۔ میں تو ایک بھی قلمی نام کی معقول وجہ نہیں جانتا تو بھلا دو چار رکھ لیے تو بڑی بڑی گتھیاں اور مشکلیں آن پڑیں گی—-لوگ پوچھیں گے تو کیا جواب دیا کروں گا۔

 ہفتہ بھر بعد ایک دن لائبریری سے پھر نامراد لوٹا تو اس نے تہیہ کرلیا کہ آج قلمی نا م کا کوئی نہ کوئی غلاف اوڑھ ہی لوں گا—- پھر خیال آیا کہ میرے پرکھوں کے پاس کچھ تھا ہی کہاں ، وہ مجھے کچھ خاک دیتے —-ان کا دیا ہو ا تو فقط ایک نام ہی ہے۔بھلا اسے میں کیسے تبدیل کرلوں—-نہیں نہیں،میں نام تبدیل بالکل بھی نہیں کرسکتا —- یہاں تک کہ لوگ پرکھوں کی حویلیاں اور پرانے گھر انسانوں سے چھین کر جناتوں کو بسنے دے دیتے ہیں ، اس لیے وہ پرانی حویلیوں میں خود داخل ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور انسان کو داخل ہونے دیتے ہیں بس سامنے کھڑی رہتی ہیں آسیب زدہ حویلیاں—-بلکہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پرکھوں کو جنت میں سکون نہیں ملتا ہے تو وہ شاید واپس آکر ان حویلیوں میں رہنے لگتے ہیں—- تومیں ان کا دیا ہوا نام تبدیل کیوں کروں —-ایک ہی نام تو انھوں نے دیا ہے —-پا پھر میں رائٹر ہوں ، میرے پاس ہے ہی کیا کہ میں اپنے پرکھوں کے لیے کچھ کروں نہ کوئی ایصال ثواب، نہ ان کے لیے کوئی کار ِ خیر —- تو اپنا نام ہی محفوظ رکھ لوں تو ان کی روحوں کو شاید سکون پہنچے۔

اصلی نام سے قلمی نام کی منتقلی پر وہ تحقیقی قدم آگے بڑھا رہا تھا ، مگر تبدیلی کا نفسیاتی گرہ کھولنے میں ناکام تھا۔ ایک دن پھر لائبریری سے آیا اور بچپن کی گلیوں میں پہنچ کر کوئی دل کش قلمی نام ڈھونڈنے لگا —- منٹو کے وزن پر ننکو—-بیدی کے وزن پر لیڈی یا لِیدی —- عینی کے وزن پر کانی—- مگر اس کے دوستوں نے اسے بچپن میں کسی انوکھے نام سے پکار ا ہی نہیں تھا—- چنانچہ چالیس سالہ زندگی سے نچوڑ نچوڑ کر بھی وہ کوئی قلمی نام ٹپکا نہ سکا —-پھر سوچا،سوچتے سوچتے سوچنے لگا کہ میرے پرکھوں کا رابطہ باہر کے کسی ملک سے تو نہیں ۔ کیامیرے دادا پردادا افغانستان سے تو نہیں آئے۔ کاش وہ وہیں سے یہاں بھٹکتے بھٹکتے آجاتے تو آج کم از کم حذیفہ احمد سے حذیفہ افغانی بن جانا آسان ہوتا —-یا پھر حذیفہ لندنی ہی بن جاتا۔کاش، کوئی سراغ و ہاں سے ہی ہاتھ آجائے! اس طرح پورا نام نہ بدل پاتا نہ سہی، مگر آدھا قلمی نام تو ہاتھ آ ہی جاتا —- لیکن وہ آئے کہاں سے۔پتا نہیں—- کسی گمنا م یا بے نام مقام سے تو نہیں اچھا حذیفہ گمنامی کیسا رہے گا یا حذیفہ بے نامی —-

 چند سکنڈوں میں ہی اس نے اِن دونوں لاحقے کو ناپسند کیااور حذیفہ جنتی پر آکر اٹک گیا —- کیوں کہ جنت سے آدمی کا پرانا رشتہ ہے نا ، لیکن یکایک خیال آیا کہ میں مرد ہوں، ہٹھا کٹھا مرد —-جنتی سے نسوانیت کی بو آتی ہے۔جنت،یائے نسبی سے پہلے بھی مو ¿نث تھی۔ یائے نسبتی کے بعد تو اس میں ڈبل تا نیثیت—-اللہ کی پناہ میں حذیفہ جنتی کیوں بننے لگا۔

لائبریری کی حد بندیوں میں اس کی فکر کا پہیہ بڑی تیزی سے گھومتا تھا ، مگر لائبریری کے اندر کی سڑکیں شاید تنگ تھیں۔ اس لیے وہ فکر کی گاڑی سے اتر کر ناکامی کے پروں پر سوار ہو جاتا اور نامراد اپنے روم لوٹ آتا۔ تحقیق کے اِس سفر میں البتہ وہ اتنا جان گیا تھا کہ قلمی نام کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔کوئی اپنے پرکھوں میں سے کسی مشہور ہونے والی شخصیت کی طرف نسبت کرتا ہے۔ کوئی اپنا نام تبدیل کر کے اپنی محبوبہ کا نام، خود اپنا نام رکھ لیتا ہے۔کوئی اپنی عرفیت کو قلمی نام کے طور پر قبول کرلیتا ہے۔کوئی اپنی پسند کے شاعر کے نام کے کسی حصہ کو اپنے نام سے جوڑ لیتا ہے، تاہم اس تبدیلی کی اصل نفسیات تک پہنچنے میں وہ ناکام تھا ۔

 اسی دوران اس کے ذہن میں ایک سوال ابھر ا کہ کیا رائٹر بنتے ہی آدمی کچھ زیادہ عقل مند ہوجاتا ہے —- اس لیے وہ والدین سے ملنے والے ناموں کو شاید نا پسند کرتا ہے اور فی الفور کوئی قلمی نام رکھ لیتا ہے۔

ہاں، میں رائٹر ہوں—- اپنا نام تبدیل کرنے کا مجاز ہوں —-میں بڑا رائٹر ہوں۔اس لیے ایک نہیں، کئی ایک قلمی نام رکھوں گا—-میں عقل مند ہوں،بہت زیادہ عقل مند—- ایک نہیں اَنیک نام رکھوں گا کون کیا کرتا ہے میرا،دیکھ لوں گا —-حذیفہ احمد میرا اصل نام—-اور قلمی نام فُلاں فُلاں فُلاں فُلاںفُلاںفُلاںفُلاںمجھے لوگ آ ج سے صرف فُلاں نہیں، تکرار کے ساتھ فلاں فلاں پکاریں —-

تحقیق کے اڑن کھٹولے میں بیٹھا پھر لائبریری پہنچااور آج اس نے بڑے بڑے شاعرو ں کا مطالعہ کیا۔ معلوم ہوا کہ نام کی تبدیلی کے پیچھے ان کے محبوباو ¿ں کا بھی اہم کردار ہوتاہے۔واپسی کے بعد سوچا کہ کوئی محبوبہ تو میری ہے نہیں۔کیوں نہ ایک محبوبہ خرید ہی لوں۔کسی پروفیسر کے پیچھے پڑجاو ¿ں۔ شاید وہ ایک آدھ طالبہ محبوبہ میرے ہاتھوں بیچ دیں۔ میری محبوبہ —- نہیں نہیں ،ا ن کی محبوبہ کو ایک رائٹر ہاتھ آجائے گا۔اس طرح میرے لیے کوئی قلمی نام رکھنا آسان ہوجائے گا اور اس کے حق میں میرا قلمی ناچ—-

ففتھ فلور پر گودام جیسے اس کے روم میں لُو کے جھونکے بن بلائے مہمان کی طرح بغیر شرمائے آجا تے تھے۔پنکھے کی پنکھڑیاں ان جھونکوں کی آو ¿ بھگت کرتی رہتی تھیں۔ اس لیے وہ مکمل شدت وحدت کے ساتھ گرمی کا شعلہ بن کر تحلیل ہوجاتے تھے —- پنکھے سے متواتر گھرڑ گھرڑ گھرڑکی آواز آتی تھی اور کمپوٹر سی پی یو سے مسلسل سی سی سی سی کی کرہن —-مزید، سیلن زدہ ٹنکی والی چھت کبھی کبھی مہربان ہوجاتی تھی اوروقفے وقفے سے پانی کی بوند کھٹر پٹر کرنے والے کِی بورڈ میں آسماتی تھی—-ان تمام ہنگامہ آرائیوں میں بھی وہ تحقیق کے گھوڑوں پر سوار رہتا تھا۔

اس وقت محبوبہ کے خیال سے ہی اسے مثلِ آتش فشاں کمرہ اے سی زار معلوم ہوا۔

محبوبہ کے خیالی پروں پر سواری کے بعد وہ یکایک کہنے لگا ، نہیں نہیں، کیوں میں محبوبہ خریدوں—- وہ نچائے گی تو باربار ناچنا ہوگا۔پانچ وقتہ نماز کی طرح دن میں پانچ دفعہ نچائے گی —- پہلے کسی پروفیسر کی محبوبہ رہ چکی ہوگی نا تو کبھی کبھی وہ یہ بھی کہے گی کہ اپنے قلم کو میرے حق میں نچاو ¿اور میرے پروفیسر کے حق میں بھی—- میرے پروفیسر کو بھی تمھارا قلمی ناچ پسند ہے۔چار ناچار مجھے دونوں کے حق میں ناچناہوگا—-خدشہ یہ بھی ہے کہ جس دن ان کے حق میں میں ناچنا بند کردوں تو میرا قلمی نام چھن جائے گا—-محبوبہ اپنا نام، میرے نام کے ساتھ کیوں جڑا رہنے دے گی —-بالکل بھی نہیں —-

 دنیا میں سب سے زیادہ محبت مجھے ”اماں“ سے تھی۔ کیوں نہ”اماں“میںیائے نسبتی جوڑ کر امی بنالوں اور آج سے بطورِ قلمی نام حذیفہ اَ مّی اختیار کرلوں۔ کبھی کوئی ”امی “کو میرے نام سے جدا نہیں کرپائے گا۔آج سے میرا نام حذیفہ امیہی رہے گا۔

اس کی عادتوں میں تبدیلی ضرور آئی تھی، مگر وہ مکمل تبدیل نہیں ہوا تھا۔ اس لیے اس کی یہ عادت برقرا ر تھی،سے می نار میں آنے جانے کی عادت—-چاہے وہ مقالہ نگار کی حیثیت سے جائے، یا پھر سامعین کی حیثیت سے —-اکثر سامعین کی صف کا ہی وہ مجاہد ہوتا —- اس طرح جہاں صفِ سامعین میں رعنائی آ جاتی ،وہیں افلا س کے زمانے میں پیٹ بھی اس کا دل کش ہوجاتا تھا۔

 وہ سے می نار پر صدقے جاتا تھا اور وہاں کا کھانا گویا اسے صدقے میں مل جاتا تھا۔

آج سے می نار میں کئی لوگوں سے اس کی ملاقات ہوئی۔ لکھنے پڑھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے جانتے تھے، حذیفہ احمد—- ایک نشست کے بعد جب وہ کھانا کھارہا تھا تو کئی لوگوں نے اس عاشقِ ادب سے نمبر طلب کیا۔ اس نے جلدی سے حذیفہ امی لکھا اور اس کے نیچے اپنا نمبر—-

”پہلے تو وہ فقط رائٹر تھے،اِٹ مینس پروز ہی ان کی فیلڈ تھی۔اب شاید شاعری بھی کرنے لگے، چلو اچھا ہوا—- ان سے سمپرک رکھنا لابھ دایک ہوگا—-“حذیفہ سے نمبر لینے والے ایک فرد نے اپنے دوستوں سے کہا۔

”اما یار—-آج سے کیوں،پرانے شاعر ہیں وہ، بہت پرانے“۔ کسی نے جواب دیا۔

”اچھا—-اس لیے تو اتنا قدیم تخلص ہے، اُمّی—-“

”اُمی کیسے قدیم ہے“۔ کسی نے سوال کیا۔

”اَما جاو ¿ یار—-پیغمبررسول کو اُمّی کہا جاتا تھا۔آپ پڑھے لکھے نہیںتھے،لیکن اللہ نے آپ کو اتاہ علم عطا کیا تھا۔اسی مناسبت سے شاید شاعر صاحب نے اپنا قلمی یا شاعرانہ نام اُمّی رکھ لیا ۔ سمجھ میں آئی بات اُمّی کے بارے میں—- “

”نہیں—-اُمّی سے نبی کی طرف نسبت وہ کاہے کو کرنے لگے۔ ان کی ایک گرل فرینڈ تھی اُمّ ماریہ اس لیے اس سے انتساب کرکے وہ اُمّی کہلانے لگے “۔ تیسرے نے سب کو سمجھانے کی کوشش کی ۔

”ایسا کچھ نہیں ہے ،جو تم لوگ الگ الگ مطلب بگھارنے لگے ہو—- یہ دیکھو ، اُمّی کہاں لکھا ہواہے،امتی لکھا ہوا نظر آتا ہے—-مگر تم لوگ تو اُمّی یا اُمّ ماریہ کے پیچھے پڑ ے ہو—-“

حذیفہ سے نمبر لینے والے تینوں انیس زیادی ، قسیم کثیری اور مونس بڑھئی مسکان سے بھرے ہوئے چہروں کے ساتھ سے می نار ہال پہنچ گئے۔

نام کی تبدیلی کا کوئی نفسیاتی گرہ ہاتھ نہ آنے کے باوجود وہ تحقیق کررہا تھا۔ قلمی نام کے فلسفوں پر گہری نظر رکھنے لگا تھا۔ یہاں تک کہ قلمی نام نہ رکھنے والے ادیبوں کو بے وقوف سمجھتا تھا کہ جو ادیب اپنا نام ڈھنگ کا نہ رکھ پائے۔ اصلی نام تبدیل نہ کرسکے تو دنیا میں تبدیلی خاک لا پائے گا—-

تحقیقی کاموں پر خاص توجہ دینے کی وجہ سے بڑی تبدیلی یہ سامنے آئی تھی کہ اس نے اپنے نام سے لکھنا کچھ کم کردیا تھا۔ یوں تو اس کی تحریریںمدیروں کے لیے باعثِ کشش تھیں، مگر سیاسی مدیرانہ داو ¿میں وہ الجھ جاتی تھیں—- البتہ قاری مدیر وںکی روایت کم ازکم اس کی تحریروں سے باقی تھی۔ اس لیے انھیں اس کی تحریروں کا انتظار رہتا تھا، مگر ان کے تملقانہ سمندر میں اکثر وہ غرق ہوجاتی تھیں۔ غرق ہونے والی تحریریں امر کیسے بن جائیں گی—-

اس نے ہمت نہیں ہاری،بلکہ اب تو وہ تحریروں کوامر بنانے کے فلسفے میں بھی الجھ گیا تھااور سے می نار آنے جانے کی عادت ، ایوارڈ فنکشن میں شرکتسابقہ عادت کے مطابق!

ان دنوں ایوارڈ یافتگان اسے ترجیحی طور پر فنکشن میں مدعوکرتے۔ وہ بھی شوق سے جاتا، کیوں کہ پرستانی فنکشن میں اسے اپنی تحریر امر ہوتی نظر آتی۔ ایوارڈ میں امربنانے کی جو شکتی ہوتی ہے نا!

انیس زیادی ، قسیم کثیری اور مونس بڑھئی کے یہاں بھی اس کی آمد ورفت کثرت سے ہونے لگی تھی۔ تنہائی میں ان تینوں سے راز دارانہ مراسم کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور چند ماہ قبل سے می نار میں اس سے نمبر لینا ان تینوں کے لیے نیک شگون ٹھہرا اوروہ دن بھی آیا کہ ساہتیہ پریوار کی جانب سے تین برسوں میں انھیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس نے ہر فنکشن میں بشاست سے شرکت کی اور وہ مستقل قلمی نام و تحریر کے امر ہونے کے فلسفے پر غور کرتا رہا۔

 امر ہونے کے معاملے میں اسے کسی حد تک کامیابی ملی، لیکن قلمی نام کا نفسیاتی گرہ ہاتھ نہیں آنا تھا، نہ آیا۔سوائے اس کے کہ قلمی نام میں پرکھوں، محبوباو ¿ں اور عرفیت کا بھی عمل دخل ہوتا ہے، مگر نفسیاتی گرہ کا معاملہ —-ڈھاک کے وہی تین پات!

دن اور رات مل کر تاریخ کی گنتی کررہے تھے۔ اس لیے ایک تاریخ جاتی تھی اور ایک آتی تھی۔ دن رات رک جائے تو تاریخ بھی رک جائے گی کیا—-

اس کی عادتوں میں تبدیلی آئی تھی مگر یکسر نہیں بدلی تھی، جبل گردد کہ جبلت نہ گردداس لیے سے می نار پر وہ صدقے جاتا تھا اور ایوارڈ فنکشن پر مر مٹتا تھا—-

آج بھی اسے ایک ایوارڈ فنکشن میں جانا تھا، مگر بیوی سے تو تو میں میں وقت نکلتا جارہا تھا۔ بیوی بضد تھی کہ وہ فنکشن میں نہ جائے۔ جانے کا کوئی فائدہ ، پوری زندگی لکھا تو کیا ملا ، کوئی ایوارڈ فنکشن اس کے لیے کہاں ہوا —-تو بن بات کے جائے کیوں—- اسی تکرار کے درمیان حذیفہ کا فون بج اٹھا۔بیوی نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے موبائل ریسیو کرلیا۔

”ہیلو“

”آپ کون حذیفہ اُمَّتی صاحب ہیں کیا “

”اُمَّتی اَجی اُ مَّتی کون اُمَّتی “ اس کی بیوی نے حیرانی کا اظہار کیا۔

”حذیفہ اُمَّتی اُمَّتی آپ ان کی بیوی ہیں یا محبوبہ“

بیوی نے فون پٹخ دیا اور اس کے سینے پر چڑھ گئی۔ ”ارے وہ کون ہے اُمَّتی، جنتی —-ا ب سمجھی سے می نار کی آڑ میں جنتی اور امتی پالنا۔یہ لے، اور لے ، یہ بھی لےچٹ چٹ چٹ“بیوی نے اچھی مالش کردی۔ ”جا جہا ں جانا ہے جا ، امتی کے پاس، جنتی کے پاس ، جا“

بیجارہ حذیفہ امی کوبیوی کے سامنے اس وقت کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ اس لیے وہ یہ بھی وضاحت نہیں کرسکا کہ کسی جاہل نے حذیفہ اَمّی کو حذیفہ اُمَّتی پڑھ لیا۔

خیر وہ ملکوتی ہال پہنچا۔جہاں سے می نار کے بعد ایوارڈ کے ذریعے کچھ تحریروں کو امریت کی سند دی جانی تھی—- و ہ خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے ذہن پر تحقیقِ قلمی نام اور فلسفہ ¿ امرچھایا ہوا تھا۔ کانوں میں بیوی کے ”یہ لے ، اور لے ، یہ بھی لے والی مالش“ بھی اثر انداز ہورہی تھی اور پرستانی قمقموں کی روشنی میں اس کے چہرے اور آنکھوں میں شعلے لپلپا رہے تھے—-اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا ”آج آپ کا انٹر ویو کرنا ہے۔آپ کو فون بھی کیا تھا۔ کسی دوشیزہ نے ریسیو کیا تھا۔میں حذیفہ اُمَّتی ، حذیفہ اُمَّتی کہتا رہا اور انھوں نے بڑی بے رخی سے فون رکھ دیا۔“

اَمّی کو اُمَّتی پڑھنے والے صحافی نے اس سے متواتر کئے سوالات کیے۔ ایک کے بعد ایک سوال —-

”آپ کی عادت میں تبدیلی کیوں آئی —- برسوں سے آپ نے لکھنا کم کیوں کردیا—-“

”آپ یہ کس بنیادپر کہہ سکتے ہیں کہ میں نے لکھنا کم کردیا ، یا نہیں لکھتا تھا—-“

”آپ کی تحریروں سے ملاقات نہیں ہوتی تھی—- اس لیے“

”سنیے —-فانی کے لیے امر ہونے کی چاہ بڑی عجیب بات ہے۔البتہ میری تحریروں کو امرنا ہونا چاہیے تھا،مجھے لگتا ہے کہ وہ ہوگئیں۔ میرے اصلی نام سے نہ سہی، قلمی ناموں سے ہی بھلا—- میرے اصلی نام میںشاید امرکرنے والی قوت ہی نہیں تھی—- اور چند برسوں میں ساہتیہ پریوار سے ایوارڈ لینے والے بھی میرے قلمی نام ہی ہیں۔ اچھے رسالوں میں میرا اصلی نام ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ، مگر قلمی نام —- “

صحافی کے ہاتھوں میں قلم خشک ہوگیا تھا اور سوچنے لگا کہ اے کا ش، میرے تعلق سے بھی وہ ایک قلمی نام رکھ لیتے تو میں آج کہیں اور ہوتا—- !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے