سر ورق / ناول / اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر3

اتفاق نہیں۔ عشنا کوثر سردار قسط نمبر3

قسط نمبر 3۔آخری

اماں نے باقاعدہ رشتے کی بات کردی تھی سمایا ہاشمی بہت خوش تھی ۔میرے ساتھ اپنی آئندہ زندگی پلان کر رہی تھی ۔ اس کے پاس بہت سے پلانز تھے ۔ اور میں اس کی باتوں کو توجہ سے سن کیوں نہیں پا رہا تھا ۔؟جب سمایا ہاشمی میرے ساتھ تھی میرے پاس تھی اور جب میں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی تیاریاں کرنے میں مصروف تھا اور ایک رشتہ بنانے جا رہا تھاتب میرے حواسوں پر رامین شاہ کیوں سوارتھی اس کی الجھی آنکھوں میں ایسا کیا تھا جو مجھے اپنی طرف مائل کر رہا تھا ؟

 سمایا کے ساتھ تھا جب وہ رنگ پسند کر رہی تھی ہم جلد انگیجمنٹ کرنے والےتھے ۔ اور ان دنوں اس کی تیاریاں چل رہی تھیں جب رامین شاہ نے خبر دی کہ وہ منگنی کرنا چاہتی ہے عمار نے گھر آکر بات کی تھی انکل آنٹی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا مگر میں اس سے اتنا الجھ کیوں رہا تھا ۔

” رامین تم یہ انگیجمنٹ نہیں کر سکتی۔۔۔  !”اس شام میں نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکتے ہوئے کہا اور وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔

” کیوں نہیں ؟” اسکا سوال یقیناً درست تھا مگر میں اس سے الجھتے انداز میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا تھا مگر کوئی جواز بھی تو دینا تھا

کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ عمار کس طرح کا لڑکا ہے اس کی فیملی بھی یہاں نہیں ہے آنٹی بتا رہی تھی کہ وہ کسی رشتے دار کے ساتھ یہاں رہتا ہے تم اس کے بارے میں اور اس کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی میں نے اپنے طور پر سولڈ ریزن دی تھی مگر وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دی تھی میں اس کے مسکرانے پر چونکا تھا اور وہ بولی تھی۔

"اجلال تم بھی تو ہمارے ساتھ رہتے ہو  نا۔؟” سمایا ہاشمی نے تم پر اعتبار کیسے کیا؟  ” وہ  مجھ سے پوچھنے لگی تھی اور میں لاجواب ہوکر اسے دیکھنے لگا تھا۔

مگرمجھے اسےقائل کرنے کی سوجھی تھی۔تبھی میں گویا ہواتھا۔

میری بات اور تھی رامین شاہ۔۔۔سمایا ہاشمی تمہاری طرح کوئی کم عمر بچی  نہیں ہے، وہ ایک  مچیور لڑکی ہے،وہ جانتی ہے کیا صحیح ہے اور کیا غلط !” میں نے رامین کو جھٹلانا چاہا تھا۔ مگر وہ پرسکون انداز میں میری طرف دیکھنے لگی تھی۔

"بس یہی ایک وجہ ہے  یا کچھ اور بھی؟” وہ  بہت پر اعتمادی سے میری طرف  دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تھی اور میں چونک پڑا تھا۔ وہ کیا کہنا چاہتی تھی ؟ اس کے  ذہن میں کیا چل رہا تھا؟ اس بےوقوفانہ سوال کی  کیا لاجک بنتی تھی یہاں؟

میں نے اپنے طور  پر سوچتے  ہوئے اسے دیکھا تھا۔

” رامین شاہ تم اتنی مچیور نہیں  ہو کہ لوگوں کی کوئی پہچان رکھتی ہو۔ عمار کیسا ہے؟ کس قسم کا انسان ہے ،تم اس بارے میں شاید کچھ نہیں جانتی ہو۔تمہارے لیے یہ انگجمنٹ کرنا رسک ہے!” میں نے باور کروانے کی کوشش کی تھی۔

اور تم بھی تو یہ رسک لے رہے ہونا؟ تم کتنا جانتے ہو سمایا ہاشمی کو؟” اس نے  الٹا مجھ پر سوال داغ دیا تھا۔

"میری بات یہاں نہیں  ہورہی،تم اپنی بات کرو  رامین شاہ!”

میں ان نف سمجھدار ہوں۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!”

تم نے سمجھداری کا سر ٹیفیکیٹ لے رکھا ہے؟” اس نے میری بات تیزی سے کہا تھا ،اور اگرچہ اسکا ٹوکنالاجک                رکھتا تھا، مگر میں اپنی رو میں بولا تھا۔

"میں تم سے بڑا ہوں اور دنیا کا نالج تم سے کئی زیادہ رکھتا ہوں!”

"کتنے بڑے ہو اجلال ملک؟ اتنے  بڑے ہو کہ میری  انگلی تھام کر چل سکتے ہو؟کب تک تم میرا سہارا بنوگے ؟ کب تک یہ خیال ، یہ کئیر ، یہ کنسرن رہےگا؟ کل جب تم اپنی  زندگی میں  بزی ہو جاؤ گے  تو کیا  تب  بھی میری    انگلی تھام کر ایسے ہی میرے ساتھ چلو گے؟ تب بھی اتنا  ہی کنسرن شو کروگے؟ تم کیا کر رہے ہو  اجلال ملک؟ یہ سب کس لیے ہے؟ کیا تم خود اس کا مطلب جانتے ہو؟ جب ایک رشتہ تم بنا رہے ہو ؟ تو تم اس کے لیے آزاد ہو  تو میں کیوں نہیں اپنی مرضی کر سکتی؟اچھا مان لو  میں یہ  انگجمنٹ نہیں کرتی۔یہ رشتہ نہیں بننے دیتی تو اس کے بعد کیا ہوگا؟کیا تم تب بھی  اپنے فیصلے مجھ پہ تھوپتے رہوگے؟یا تم خود کی انگجمنٹ بھی روک دو گے؟اگر میرے لیے عمار ٹھیک انتخاب  نہیں پھر  مجھے بتاؤ  رائیٹ  انتخاب کو ن ہے؟تم اگر صحیح غلط کا فیصلہ میرے لیے کر سکتے ہو تو مجھے بتادو ہو از دا ون فور می۔؟   ٹیل می۔۔۔

کون ہے وہ جو میرا اتنا خیال رکھے گا ، میری اتنی فکر کرےگا؟ مجھے اس طر ح  کانچ کی گڑیا کی طرح  سنبھال   سنبھال کر  رکھے گاکہ مجھے کسی شئے سے کوئی ٹھوکر نہ لگے ۔کوئی ٹیس نہ لگے۔کہیں ہرٹ نہ ہوجاؤں۔ کون کرےگا یہ؟کیا تم کروگے؟تم ہو وہ ایک ؟”اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا تھا۔اور میں اسے حیرت سے دیکھنے لگا تھا۔میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔مگر اس کا جتانا ایک لاجک رکھتا تھا۔وہ درست ہی تھی یہ سب کہنے میں۔۔ میں اس کی زندگی کو روک کر  کیا ظاہر کرنا چاہتاتھا!مجھے کیا حق تھا؟میں ایسا کیوں  کررہا تھا۔میں وجہ نہیں جانتا تھا۔مگر میں اسے عمار کے ساتھ محفوظ تصور نہیں کرتا تھا۔تو پھر واقعی کون تھا اس کے لیے جو اس کو اس قدر سنبھال کر   رکھتا؟میں اسے روکنے کی کوشش کیوں کر رہاتھا؟

یہ کیا تھا؟ میں  خاموشی سے اسے دیکھ رہاتھا،جب وہ میری جانب  تکتی ہوئی بولی تھی۔

"تمہیں  اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے  اجلال ملک! اسباب کے بغیر تم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔۔۔۔ ایسا ممکن نہیں ہوگا۔!”وہ پر سکون لہجے میں بولی تھی  اور پھر پلٹ کر  چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی ۔اس کے سوال میرے اردگرد گونجتے ہوئے مجھے چاروں سمتوں سے گھیرتے رہے تھے۔میں اپنے اندر کی کیفیت پر حیران تھا،دل کو ٹٹولا تھا۔احساس ہوا تھا،وہاں کچھ ہے۔میں سمجھ نہیں پایا تھا کیا ہے۔مگر اس شام جب میں سمایا ہاشمی سےملاتھا ،اس نے پوچھا تھا۔

” تم نے کبھی نہیں جتایا نہیں، کبھی کہا نہیں ۔۔۔ مگر اب جب ہم ایک رشتے میں بندھنے جارہے ہیں ،تو میں یہ سننا چاہوں گی کہ تمہارے دل میں کیا ہے ؟ کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟”وہ کہہ کہ مسکرائی تھی  پھر بات جاری رکھتے ہوئے بولی تھی۔

"میں جانتی یہ بہت بچکانہ سوال ہے،مگر میں ایک لڑکی ہوں ،اور میں اپنے ہمسفر کے دل میں بھی راج کرنا چاہتی ہوں ،آئی نو یو لائیک می۔۔۔مگر کیا یہ محبت ہے ؟ ” اس کے پوچھنے پر میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔اور تب میری آنکھوں کے سامنے رامین شاہ کا چہرہ  آگیا تھا۔میں اس کے  خیال  سے دامن نہیں چھڑاسکا تھا۔مگر میں خود کو جھٹلانا  چاہتا تھا،میں نے اس خیال کو جھٹکے ہوئے سمایا ہاشمی کی طرف دیکھاتھا۔۔۔اور بولاتھا۔

"سمایاہاشمی محبت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا میں۔مگر آف کورس سب تمہاری ہوگا۔”میں اسے یقین دلاناچاہتاتھا،مگر میرےاندر کوئی مجھے جھٹلانے لگا تھا اور وہ  کوئی نہیں میرا دل تھا!میں کیوں سوچ رہاتھا؟یہ کیا تھا ؟میں  سمایا ہاشمی کے مدمقابل ہوتے ہوئے  رامین شاہ کو کیوں سوچ رہاتھا؟ میں سمایا کی باتوں میں رامین شاہ  کو کیوں ڈھونڈ رہاتھا؟ رامین شاہ مجھ پر اتنی کیوں  چھارہی تھی ؟وہ مجھ سے نو دس برس چھوٹی لڑکی جیسے  میں محض  ایک کانچ کی گڑیا کی طرح  ٹریٹ کرتا آیاتھا،اب اس کے حوالے میری ذات پر اس طرح کیوں چھانے لگے تھے۔

کیا ہوا؟تم کیا سوچنے  لگے؟”سمایا ہاشمی نے پوچھاتھااور میں نے سر انکار میں ہلادیاتھا۔میں وہاں سے اٹھ آیا تھا۔مگر وہ کیفیت ختم نہیں ہوئی تھی ۔ رامین شاہ اس طور میرے حواسوں  پہ چھائی  رہی تھی۔میں تاریکی میں ٹیرس پہ  کھڑا تھا۔جب وہ کافی کے کپ لے کہ وہاں آگئی تھی ۔اس نے خاموشی سے میری طرف کافی کا ایک کپ بڑھایاتھا،اورمیں نے تھام لیا تھا۔وہ خاموشی سے ریگنگ  کے ساتھ لگ کر کافی کے سپ لینے لگی تھی۔تب میں نے اس کی سمت  دیکھا تھا۔

” کیا ہوااس طرح کیا دیکھ رہے ہو اجلال ملک؟”وہ مسکرائی تھی ۔اسکا اطمینان مجھے چونکا گیاتھا۔کیا وہ واقف تھی کہ  میں اس کے بارے میں سوچتا رہاتھا یا  سوچنے لگاتھا یا اس وقت جب وہ میرے سامنے کھڑی تھی تب بھی وہ میرے دل و دماغ  پر اس طور سوار تھی؟ وہ مجھے اس طرح دیکھ رہی تھی ،جیسے وہ میری کیفیت سے واقف ہو۔اور وہ میری سوچ پڑھ سکتی ہو،یا یہ محض میری سوچ تھی۔

” تم سمایا ہاشمی سے کیوں شادی کرنا چاہتے ہو اجلال ملک؟ کیا تم  اسے وہ زندگی ،وہ تحفظ دے سکوگے وہ جو تم سےامید کرتی ہے؟مجھے لگتا ہے تم اسکے ساتھ نبھاکر لوگے مگر محبت ؟ کیا تم  اس سے محبت کر سکو گے ؟تمہیں نہیں لگتا تم منافق بن جاؤگے؟اور ساری زندگی منافقت کرتے رہوگے؟” جانے  کیوں وہ اس حساس موضوع پہ  با ت کرنے لگی تھی ،اس کے ذہن میں کیا چل رہاتھا۔وہ مجھ سے  کیا سننا چاہتی تھی ؟یا وہ میری تمام سوچوں کو پڑھ رہی تھی،اور مجھ سے کیا اگلوانا چاہ رہی تھی ؟میں اس کی سمت خاموش کھڑا دیکھ رہاتھاجب وہ بولی تھی۔

"تم محبت پر یقین نہیں رکھتے تھے، محبت کی کھل کر مخالفت کرتے  دکھائی دیتے تھے ہمیشہ  آج کیوں چپ ہو؟بولو کچھ اور مجھ کر غلط  ثابت کردو ۔۔۔!وہ پر اعتمادی سے کہہ رہی تھی۔

” اجلال ملک۔۔۔ محبت ایگزیسٹ کرتی ہے ،اور تم جانتے ہو محبت کس طرح واقع ہوتی ہے،اور کس قدر زورآورہے۔تم اس کی نفی کرتے رہے ہو مگر تم اب جان چکے ہو سو تم مسلسل انکار نہیں کر پاؤگے۔تم یقیناخود سے جھوٹ نہیں بول سکوگے۔ہم اچھے دوست رہے ہیں ،اور اگر چہ میں تم سے نو دس برس چھوٹی ہوں،مگر میں  تمہیں اتنا ہی جانتی ہوں جتنا کہ تم مجھے۔تم نے کبھی اس حقیقت کو نہیں جانا،  نہیں مانا ۔تمہیں میں ایک امیچور لڑکی لگی ہوں،ایک بےوقوف لڑکی لگی ہوں۔مگر تم جانتے ہو ایسا نہیں ہے۔”وہ مجھے جتاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔ میں اسے خاموشی سے دیکھ رہاتھا۔اگر میں چاہتا تو اس کے سب کہے کی نفی اب بھی  کر کے اسے خاموش کرسکتا تھا۔مگر میں اسے رعایت دے رہاتھا۔

” تم مجھے یہ رعایت کیوں دے رہے ہو اجلال ملک! اس لئے کہ میں تم سے محض عمر میں چھوٹی ہوں؟ اس لئے کہ میں برا مان جاؤں گی؟ اور تمہیں میری ناراضگی  کی فکر ہے؟”وہ مسکرائی تھی۔اور میں اس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگاتھا۔میں جانتی ہوں تم سمایا ہاشمی سےکوئی وابستگی نہیں رکھتے اجلال ملک۔۔۔جس سے رکھتے ہو تم اس بارے میں محض  کوئی بات  اس لئے  نہیں کرنا چاہتے کہ تمہیں  یہ لگتا ہے یہ غلط ہوگا۔تم اپنی سوچوں میں  خود سے کئی طرح کے نظرئیے اخذ  ایک سوچ  بنا چکے ہو۔اس سوچ  میں تم کسی کی مداخلت برداشت نہیں کر نا  چاہوگے۔مگر اس طرح کرنے سے  تم خود کو جھٹلانہیں سکو گے۔” وہ پر یقین لہجے میں  بولی تھی۔

"رامین شاہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے، میں نے خود کو اور اسے  جھٹلانا  چاہا تھا۔”اور وہ مسکرائی تھی۔

پھرشانے اچکاتے ہوتےبولی تھی۔جواز  ڈھونڈنا چاہو تو  ڈھونڈ لو۔ محبت  تمہارے تعاقب میں  ہے اور تب تک اس طور  تعاقب میں رہے گی ،جب تک تم اس کا  اقرار  نہ کرلو ۔” وہ پر یقین لہجے میں کہتے ہوئے مجھے جیسے جتارہی تھی اور میں اس کی سمت سے نگاہ پھیرکر بولاتھا۔

"میں دو دنوں میں سمایا  ہاشمی سے انگجمنٹ کرنے والا ہوں چھوٹی لڑکی۔میں  ان باتوں کے بارے  میں  فی الحال  سوچنا نہیں  چاہتا۔۔۔”اور وہ پرسکون  انداز میں مسکرائی تھی۔

"میں بھی   کل  انگجمنٹ کررہی ہوں ۔تم انتظام کرنے میں میری مدد نہیں کروگے؟”وہ میرے حوصلوں  کو پست کرنا  چاہتی تھی ۔

کیا وہ جان گئی تھی کہ میں کیا محسوس  کر چکاہوں ؟اور میرے دل میں کیا ہے؟

وہ میری  عمر سے نو دس برس لڑکی کس قدر حیرا ن کن تھی؟ وہ مجھے حیرتوں سے دیکھ رہی تھی۔

"تم  انگجمنٹ کیوں کررہی ہو رامین شاہ یہ کیا بچپنا ہے ؟کیا کھیل کھیل رہی ہو تم؟ یہ سب کیا ہے؟” میں نے اسے ڈپٹا تھا اور وہ  مسکردی تھی۔۔۔

"کیا غلط ہے اجلال ملک؟ میں انگجمنٹ کیوں نہیں  کرسکتی ؟وہاٹسس رونگ ود اٹ؟ انگجمنٹ کرنے پہ صرف تمہاری اجارہ داری ہے کیا؟یا تم انگجمنٹ کے تمام کاپی رائٹ رکھتے ہو؟”وہ حیران ہوکہ بولی تھی ۔اس کا حسِ مزاح بتارہاتھا کہ وہ اس صورتحال سے محظوظ ہورہی تھی۔۔۔جیسے وہ مجھے جتانا چاہتی تھی  کہ میں اس سچ کو قبول کرلوں جو میرے اندر ہے کیوں کہ وہ اس سچ کو جانتی ہے۔اور وہ کہہ رہی تھی۔

"اجلال ملک مان لو کہ یہ محض اتفاق نہیں  کہ ہم ملے ،اگر یہ محض اتفاق ہے ،تو اس اتفاق کے ہونے میں بھی کوئی اسباب ہیں ۔۔۔۔”

“Everything happens for a reason…”

وہ پر اعتماد انداز میں مسکراتے ہوئے میری طرف بہت کچھ جتاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

"محبت کا کوئی واضح اشارہ مت دو اجلال ملک۔۔۔مگر اتنا بتادو تم مشکل میں ہو،اور اس  مشکل سے نکلنا چاہتے ہو۔ میں ہاتھ تھام کرتمہیں اس مشکل سے نمٹنے کی ہمت ضرور دوں گی ،کیونکہ آئی ایم دا ون ہو نوز وہاٹسس رونگ ود یو!” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی،کپ ایک طرف رکھاتھااور وہ پلٹ کر جانے لگی تھی،جب  میں نے اس کا ہاتھ  غصے سے تھام کر اسے اپنی طرف کھنیچا تھا۔۔۔اور اس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگاتھا۔۔۔۔

چھوٹی لڑکی اتنی عجیب باتوں کے معنی میرے   انداز تلاش مت کرو ۔یہ بے سبب ہے،اور اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔میں نے مکرنے کی حد کردی تھی،اور وہ مسکرارہی تھی۔

اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو ؟ بڑے  لاگوں کو غصہ کرنا جائز نہیں ۔بی پی ہائی ہوجاتا ہے۔دل پر بن آتی ہے اور دل پر بن آنا تم افورڈنہیں کر سکتے نا؟”وہ مذاق کر رہی تھی محض اس لیے کیونکہ میں اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے رہناچاہتاتھا۔اور میں اس سچائی کو جھٹلانا چاہتاتھا۔جو ہماری زندگیوں کو افیکٹ کر سکتی تھی ۔

"تم منافق ہو۔ جاؤ منافقت کرو۔ میں بھی کل منگنی کروں گی۔” وہ اس کھیل میں بازی لے جانا چاہتی تھی۔ مجھ سے سچ اگلوانا چاہتی تھی۔ اور میری ری ایکشن جس قدر جارحانہ تھا اور جس سختی سے میں اس کی کلائی تھامے ہوئے تھا اس سے کیا ظاہر ہو رہا تھا۔ اس کی اطمینان سے بھری مسکراہٹ سب راز کھول رہی تھی۔
"تم مجھ سے اتنے بڑےنہیں ہو عمر میں جتنا میریپریٹنڈ  کرتے ہو۔ اور محبت کوئی جرم نہیں ہے۔ جب دو لوگ ملتے ہیں تو اس کا کوئی ریزن ہوتا ہے، کوئی رشتہ یوں ہی وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ کئی اسباب ہوتے ہیں۔ تم خود کی نفی نہیں کر سکتے اجلال ملک۔ چھوٹی سی غلطی سے تم خود کی، میری اور سمایا ہاشمی کی زندگی برباد کر دو گے۔” وہ مجھے میری غلطیوں کا احساس کرانے لگی تھی۔ اس کے مدھم لہجے  میں خوف تھا اور کئی خدشے تھے۔ جیسے اس کی آنکھیں مجھ سے درخواست کر رہی تھی کے اس رشتے کو کئی زاویوں میں بٹنے سے روک دو۔ میں اس شام خاموش رہا تھا۔ مجھے ادراک ہو چکا تھا اور اسے اس ادراک کا احساس ہو چکا تھا۔ مگر میں انکاری رہنا چاہتا تھا۔ میں ہر بات کی نفی کرنا چاہتا تھا۔
” تم اتنےقنوطی کیوں ہو رہے ہو اجلال ملک؟ ہماری عمروں کا ڈیفرنس اتنا زیادہ نہیں ہے۔ محبت کو ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا ۔ میں ان باتوں کو نہیں مانتی۔!” وہ مجھے قائل کرنا چاہتی تھی۔ اور میں اس کی کلائی کو اس طور سختی سے تھامے اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ تبھی وہ مسکراتے ہوئے مدھم لہجے میں بولی تھی۔
"دیکھو تم مجھے کھونا نہیں چاہتے تبھی میرا ہاتھ اس درجہ سختی سے تھامے ہوئے ہو۔ تم مجھے گنوانا نہیں چاہتے کیونکہ تم مجھ سے محبت کرتےہو۔ جب میں کسی اور کے ساتھ ہوتی ہوں تم insecure ہوتے ہو۔ تمہیں میری فکر ستانے لگتی ہے۔ کوئی اس طورمیرا خیال رکھ پائے گا یا نہیں۔ تم مجھے ٹوٹتے بکھرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ کیا ہے اجلال ملک اگر محبت نہیں؟” وہ میری آنکھوں میں جھانکتی ہی بولی تھی ۔
اور میں نے رامین شاہ کے عقب میں کھڑی سمایا ہاشمی کو دیکھا تھا جو جانے وہاں کب آئی تھی۔ وہ رامین کی باتوں کو سن چکی تھی کہ نہیں؟ میں رامین کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اس کے کس قدر قریب کھڑا تھا۔ سمارا ہاشمی کو دیکھ کر میرے ہاتھ کی گرفت رامین شاہ کے ہاتھ پر ڈھیلی پڑ گی تھی اور اس نے پلٹ کر سمایا ہاشمی کو دیکھا تھا۔

سمایا ہاشمی میری طرف کس قدر بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ یکدم وہ مڑی تھی اور چلتے ہوئے وہاں سے نکل گی تھی میں رامین کو چھوڑ کر اس کی سمت بڑھا تھا۔
میں کیا کر رہا تھا؟ کیوں کر رہا تھا؟ اس سب کا مقصد کیا تھا؟ اس سے کس رشتے کی تسکین ہونا تھی؟ کس رشتے کا وجود باقی رہنا تھا؟ یہ منافقت ہی تو تھی، رامین شاہ ٹھیک کہ رہی تھی۔ میں سب جھٹلا رہا تھا۔ منکر تھا۔ مگر میرے جھٹلانے سے حقیقت بدل نہیں رہی تھی۔
رامین کو مجھ سے محبت تھی۔ مجھے رامین سے محبّت تھی جانے کب سے… مگر میں سمجھ نہیں پاتا تھا۔
"تمھارے پاس مجھے دینے کو کچھ نہیں ہے اجلال ملک! تم یہ رشتہ کیوں بنانا چاہتے ہو؟ سمایا ہاشمی نے پوچھا تھا اور میں خود کو ایک عجیب دنیا میں محسوس کرنے لگا تھا۔ میں اپنی مرضی کے فیصلے چاہتا تھا۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ سو میں تھک کر بولا تھا۔
"سمایا ہاشمی۔ آئی ایم سوری میں اس رشتے کے ساتھ، تمہارے ساتھ کسی طور مخلص نہیں رہ پاؤں گا۔ تمہیں محبت کرنا میرے اختیار میں نہیں ہوگا اور میں تمہاری توقعات پر کبھی کھرا نہیں اُترسکوں گا۔ میں تمہیں ایک آدھی ادھوری زندگی نہیں دے سکتا۔ میں جانتا ہوں یہ تمہارے لئے تکلیف دے ہے یہ سچ ہے کے اس رشتے کویہیں ختم ہونا ہے۔” میں نے خود کو مزیدگھسیٹنا نہیں چاہا تھا۔ اور وہ سفر موقوف کر دیا تھا۔
سمایا ہاشمی مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔ وہ یقیناً ایک کرب کے احساس سے دوچارتھی مگر کل اسے مزید دکھ دینے سے تھا میں آج کا یہ رشتہ اس طورپر ختم کر دیتا۔ میں سمایا ہاشمی کو چھوڑ کر لوٹ آیا تھا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کے میں رامین شاہ کی طرف پلٹ رہا تھا۔ یہ آکورڈ تھا۔ اپنی عمر سے نو دس برس چھوٹی لڑکی سے محبت کرنا جسے میں ایک بچی کی طرح ٹریٹ کرتا رہا تھا۔ میرے لئے یہ weird تھا۔
میں گھر لوٹا تھا تو وہ جاگ رہی تھی ۔ میں چلتا ہوا آگے بڑھ جانا چاہتا تھا جب اس نے مجھے آواز دے کر روک لیا تھا۔ میں جانے کیوں رک گیا تھا اور وہ چلتی ہوئی میرے مقابل آن رکی تھی۔
وہ چھوٹی سی لڑکی جب میں اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا اور مجھے فکر تھی کہ اسے کوئی معمولی سا دکھ یا تکلیف بھی نہ ملے پھر میں اسے درجہ آزمائش میں کیوں مبتلا کر رہا تھا؟ کیوں اسے اس حد تک پریشان کر رہا تھا؟ میں نہیں جانتا تھا۔ مگر میں اپنے طور پر جن باتوں کو جائزسمجھا تھا کرتا تھا۔ مجھے اس کے بارے میں سوچ کر خود آکورڈ فیل ہوتا تھا۔ پھر میں اس کی سمت پیش قدمی کس کر سکتا تھا؟ اور آنٹی کیا سوچتیں؟ میں نے ان کے گھر میں رہ کرنقب زنی کی ؟ اگرچہ میں اس قابل تھا کہ اگر رشتہ دیتا تو آنٹی اور انکل کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ مگر مجھے یہ بہت lame لگتا تھا۔ جن باتوں کے لئے میں خود کو مینٹلی تیار نہیں نہیں پاتا تھا میں ان پر عمل درآمد کیسے اور کیونکر کر سکتا تھا؟ جبکہ اب وہ کسی کے ساتھ ایک نئےرشتے میں واستہ ہونے رہی تھی۔ میں وہ رشتہ توڑ ایکدم اپنا رشتہ پیش نہیں کر سکتا تھا۔ دنیا داری کے کئی تقاضے ہوتے ہیں۔ ہم ہر بات کو اپنے زاویئے سے نہیں موڑ سکتے۔ میں باتوں کو سمجھ سکتا تھا۔ لیکن چیزوں کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھال نہیں سکتا تھا۔

وہ سمجھ دار نہیں تھی۔ کم عمر بچی تھی۔ باتیں بچوں جیسی کرتی تھی۔ لیکن مجھ کو تو سمجھ تھی۔ میں تو عقل و فراست  میں اس سے کہیں آگے تھا اور…
"تمہیں یہ سب اتنا عجیب کیوں لگتا ہے اجلال ملک؟ اس میں عجیب کیا ہے؟ کیا کوئی رشتہ قائم کرنا اتنا مشکل ہے؟ تم کیوں اس درجہ قنوطی کیوں ہو رہے ہو؟ کون انکار کرے گا تمھارے لئے؟ میں تمھارے حق میں فیصلہ رکھتی ہوں کیا یہ اہم نہیں ہے؟” وہ بولی تھی۔ اور میں نے تھکے ہوئے انداز میں ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا تھا۔
"پلیز رامین شاہ بند کرو یہ ڈرامہ۔ تم بچوں والی سوچ رکھتی ہو اور میں تمہیں اس کے لئے اپری شی ایٹ نہیں کر سکتا یا ان حماقتوں میں تمہارا ساتھ دے سکتا ہوں۔ تم چپ چاپ یہ انگھجمنٹ کرو کل۔ !”
میں نے فیصلہ کن انداز میں کہا تھا۔ تبھی اس نے حیرت سے مجھے دیکھا تھا۔
"تم نے یہی فیصلہ کرنا تھا پھر خود سمایا سے رشتہ کیوں توڑا؟ ” اس نے بے یقینی سے میری طرف دیکھا تھا۔
"تم سے کس نے کہا کےمیں نے سمایا سے رشتہ توڑ دیا ہے؟” میں چونکا تھا۔
یہ اس قیاس آرائیتھی یا وہ واقعی مجھے پڑھنے کا ہنر رکھتی تھی؟
میں حیران رہ گیا تھااور وہ میری طرف سے نگاہ ہٹا گی تھی۔

"میں جانتی ہوں تم نے یہ رشتہ ختم کر دیا ہے اجلال ملک۔ مگر تم اس نئے رشتے کی داغ بیل ڈالنے سے ہچکچا رہے ہو۔ جواز بڑا نہیں ہے۔ مگر تم نے اپنی سوچوں میں اسے بڑا بنا دیا ہے۔! ” وہ افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔ اور میں نے گہری سانس خارج کی تھی۔
"رامین شاہ میں بچوں والے فیصلے نہیں لے سکتا۔ میں نے سمایا ہاشمی سے رشتہ ختم کیا کیوں میں منافقت نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ مگر میں تم سے کوئی رشتہ نہیں بنا سکتا۔ تم کل اینگیجمنٹ کروگی۔” میں نےکہہ دیا تھا۔ مگر اس نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
"میں وہ اینگیجمنٹ اسی لئے کر رہی تھی کیونکہ تم سمایا ہاشمی سے انگجھمنٹ کر رہے تھے۔ اب جب تم وہ انگجھمنٹ نہیں کر رہے تو میں بھی یہ اینگیجمنٹ نہیں کروں گی !” وہ عجیب پاگل پن بولی تھی۔ اور میں اسے حیرت سے دیکھنے لگا تھا۔
"آر یو کریزی رامین شاہ؟ یہ کیا بچپنا ہے؟ تم اپنی زندگی سے اس طرح کیسے کھیل سکتی ہو؟”  میں نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔
"میں کھیل سکتی ہوں کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ محبت ناممکنات کو ممکن کر سکتی ہے اجلال ملک ۔ میں اپنی زندگی کو داؤ پر لگا رہی تھی کیونکہ تم کسی سے رشتہ قائم کر رہے تھے۔ اب اگر تم میرے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہو گے تو میں بھی تب تک تنہا رہوں گی جب تک تم اس بات کا احساس نہیں کر لیتے کے تم غلط ہو۔” وہ عجیب سر پھری لڑکی تھی۔ میں نے سر تھاما تھا۔
"تم کوئی منافقت نہیں کروگی رامین شاہ!” میں نے اسے باز رکھنا چاہا تھا۔ مگر اس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
"میں بھی تنہا زندگی گزارنا چاہوں گی!” وہ ایک عزم سے بولی تھی۔
"کب تک ایسا کرو گی؟ پاگل ہو تم؟ ” میں نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔
تب وہ خاموش ہو کر میری سمت دیکھنے لگی تھی۔
"میں کسی رشتے میں منافق بن کر نہیں جی سکتی اجلال ملک۔ میں عمار سے محبت نہیں کرتی۔ میں اسے بتا چکی ہوں، اور میں نے ممی ڈیڈی کو بھی بتا دیا ہے۔ میں کل انگیجمنٹ نہیں کروں گی۔ چاہے میں تمھارے ساتھ ہو سکوں یا نہیں۔ مگر میں اس طرح کسی اور کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔ میں خود کو اس طرح سزا نہیں دے سکتی۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں تھا۔ سو میں نے ایک فیصلے پر پہنچ کر وہ رشتہ وہیں ختم کر دیا تھا۔” وہ مدھم لہجے میں بولی تھی اور پلٹنے لگی تھی جب جانے کیوں میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ پلٹ کر مجھے دیکھنے لگی تھی۔ میں فوری طور پر کچھ نہیں کہ سکا تھا۔ وہ بھی کچھ نہیں بولی تھی ۔کئی لمحے اس خاموشی میں گزر گئے تھے۔ اور تب میں نے اس خاموشی کو توڑا تھا۔
"رامین شاہ تم ضدی ہو اور یہ عادت ٹھیک نہیں ہے!”
"پھر بتاؤ کیا ٹھیک ہے؟ مجھے ٹھیک اور نا ٹھیک کی پہچان نہیں۔ تم کرادو۔” وہ میری سمت بغور دیکھتے ہوئے بولی تھی اور تب میں نے اس کی معصومیت پر اس کی چھوٹی سی ناک پر انگلی رکھ کر دبایا تھا۔
"تم پاگل ہو رامین شاہ۔ لیکن زندگی میں یہ پاگل پن بھی ضروری ہوتا ہے۔ تم نے مجھے زندگی کا ایک نیا احساس دیا ہے۔ نئے زاویوں سےروشناس کرایا ہے۔ میں اس متعلق پہلے کوئی احساس نہیں رکھتا تھا۔ تم اپنی صفت میں ایک انوکھی لڑکی ہو۔ مجھے لگتا تھا میرا دل جیتنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا مگر تم نے یہ کر دکھایا اور مجھے خود کے ساتھ باندھ لیا۔ اور تب مجھے ماننا پڑا کے کچھ چیزوں کے ہونے میں واقعی  اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ ہم بے سبب نہیں ملے تھے۔ میں پاکستان سے سفر کرتا ہوا تمھارے لئے یہاں آیا تھا۔ اور یہاں آ کر تم نے مجھےکئی رنگوں سے روشناس کر دیا ہے! ” میں نے حقیقت کو قبول کیا تھا۔
” اس سب کے کہنے کا کیا مطلب ہے؟” وہ نا سمجھے لہجے میں بولی تھی۔ اور میں نے اس کا ہاتھ تھام کر مسکرا  دیا تھا۔
” مطلب یہ ہے کے مجھے اس چھوٹی سی لڑکی سے اس کی تمام حماقتوں سمیت محبت ہو گئی ہے اور میں اس بے وقوف سی لڑکی کے ساتھ عمر بھر کا سفر کرنا چاہتا ہوں!” میں نے کہا تھا اور وہ ہاتھ کا مکا بنا کر مجھے مارنے لگی تھی۔
"اتنی بات تھی تو پہلے کیوں نہیں کہا؟”اور میں نے مسکراتے ہوئے بے فکری سے شانے اچکادیئےتھے۔

 تب وہ بھی مسکرا دی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک ایک دلکشی لئے ہوئے تھی اور میں نے عزم کر لیا تھا کے اس دلکشی کو ہمیشہ برکرار رکھوں گا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے