سر ورق / کہانی / دل کا جانی ! …یا سین صدیق۔

دل کا جانی ! …یا سین صدیق۔

ہمارے معاشرے میں کسی کی مدد کرنے والے کو ہی مجرم سمجھ کر اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے توبہ کر لیتا ہے ۔ زندہ کرداروں پر مشتمل سچ بیانی ۔آپ بیتی جگ بیتی ۔
دل کا جانی !
یا سین صدیق۔
یہ اپریل1993 کی بات ہے ۔میں اپنے ہوٹل میں بیٹھا ہوا تھا ۔یہ ہوٹل میں نے اور لالہ حیدر نے مل کر بنایا تھا ۔ان دنوں ادیب نگر کے نزدیک نیا بائی پاس بنا تھا ۔اس بائی اس پر سب سے پہلے ہم نے ہی ہوٹل بنایا تھا ۔دن کی ڈیوٹی لالہ حیدر دیتے تھے اور رات کو میں یہاں کام کرتا تھا ۔کیونکہ دن کے وقت میں کالج جایا کرتا تھا ۔ چھٹی کے بعد میں سیدھا ہوٹل پر آ جایا کرتا تھا ۔شام چھ بجے میرے استاد جواد ہاشمی صاحب مجھے ٹیوشن پڑھانے ہوٹل پر ہی آ جاتے تھے ۔وہ آٹھ بجے جاتے تو لالہ حیدر بھی گھر چلے جاتے میں دو ملازمین کے ساتھ ڈیوٹی پر آ جاتا ۔میری ڈیوٹی صبح تک رہتی ۔جب لالہ گھر سے آجاتے تو میں تیاری کر کے کالج چلا جاتا تھا ۔میرے والدین چارماہ پہلے دوسرے شہرکے ایک گاوں میں چلے گئے تھے ۔میں تین وجہ سے یہاں تھا ایک تو میرے انٹر کے امتحان ہونے والے تھے ۔جن میں اب چند دن باقی تھے اور دوسری وجہ طاہرہ تھی ۔یہاں رہ کر اس کا دیدار دوسرے تیسرے دن تھوڑی بہت کوشش کرنے سے ہو ہی جاتا تھا ۔ تیسری وجہ ہوٹل میں میرا حصہ تھا ۔
اس دن ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی ۔ایسے موسم سے نہ جانے بچھڑنے والوں کا کیا تعلق ہوتا ہے ۔وہ سمے جو بیت گئے نہ جانے کیوں یاد آتے ہیں ۔لالہ حیدر نے مجھے کہا۔
”تم کھانا کھالومیں صفدر اور اجمند سے مل کر آتا ہوں “
یہ شام چار بجے کی بات تھی۔اس کے تھوڑی دیر بعد بارش ہونے لگی ۔مجھے لالہ حیدر پر غصہ آ یا۔ اسے علم بھی تھا کہ میرے امتحان نذدیک آ رہے ہیں وہ دن کو بھی مجھے ایسے ہی ہوٹل پر چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔بے شک کہ میں رات کو پڑھ لیا کرتا تھا ۔چار ،پانچ گھنٹے سو بھی لیتا تھا ۔کیونکہ کام کا اتنا رش نہیں ہوتا تھا ۔جب کوئی بس وغیرہ آ کر رکتی تو ملازم مجھے جگادیتے ۔ایک آدھا ٹرک ہوتا تو وہ خود ہی اسے بھگتا لیا کرتے تھے ۔چھ بجے وہ واپس آئے تو ان کے ساتھ ارجمند صاحب اور دو لڑکیاں تھیں ۔ایک لڑکی بچی تھی اس کی عمر دس سال سے زیادہ نہ ہو گئی ۔دوسری سولہ سترہ سال کی تھی۔ اس نے پھول دار کپڑے پہنے ہوئے تھے جو کہ بارش سے بھیگے ہوئے تھے ۔ اس کے چہرے پرسیاہ نقاب تھا۔وہ لڑکھڑا کر چل رہی تھی ۔بعد میں پتہ چلا کہ اسے بہت تیز بخار تھا ۔
لالہ حیدر اور انکل ارجمند ان لڑکیوں کو اندر ہال میں بٹھا کر باہر آ ئے اور بولے ۔
”بابر۔ اندر کھانا اور چائے بھیج دو“ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں خاموش رہا خاموشی کی وجہ لالہ حیدر کا چہرہ بھی تھا ۔جس پر فکروتشویش کے سائے منڈلارہے تھے ۔میں نے ندیم کو کہہ دیا کہ اندر چائے اور بسکٹ پہنچائے ۔اسی وقت ایک بس ہوٹل پر آ کر رکی میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
بیس پچیس منٹ بڑے مصروف گزرے ۔اس دوران میں لالہ حیدر کے چہرے پر تفکرات کے سائے دیکھتا رہا ۔وہ ارجمند سے ایک چارپائی پر بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔اس دوران چار مختلف عمر کے نوجوان آدمی ایک ساتھ ایک چارپائی پر آ بیٹھے ۔لالہ حیدر ان کو دیکھ کر مزید پریشان ہو گیا ۔اسی وقت ارجمند اٹھ کر اندر کمرے میں چلا گیا جہاں وہ دونوں لڑکیاں بیٹھی تھیں ۔
فارغ ہو کر میں لالہ حیدر کے پاس جا پہنچا ۔
”کیا بات ہے لالہ “میں نے سنجیدگی سے استفسارکیا۔انہوں نے مجھے دیکھا, پھر پوچھا ”تم کھانا کھایا یا نہیں “ ؟
”کھا لیا ہے “ میرے جواب پر انہوں نے بتایا کہ لالہ حیدر ارجمند کے ساتھ واپس آ رہا تھا ۔ دو نوں لڑکیوں ریلوے کے پھاٹک کے پاس ایک دکان کے شیڈ کے نیچے کھڑی تھیں ۔چھوٹی لڑکی نے ان سے پوچھا تھا۔
”انکل ہم نے یہاں ایک گھر جانا ہے لیکن ہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کہاں ہے “ ۔
کس کے گھر جانا ہے ؟لالہ نے استفسارکیا
“نذیراں کے گھر جانا ہے ۔وہ ہماری خالہ زاد ہے ۔اس کے خاوند کے نام کا علم نہیں لیکن وہ ذات کے کمہار ہیں “لڑکی تشویش زدہ لہجے میں بولی۔اس دوران اس کی بڑی بہن آگے بڑھ آئی اور کہنے لگی۔
”میں نذیراں کی شادی پر آئی تھی چار یا پانچ سال ہو گئے ہیں ۔ان کا گھر سڑک کے نزدیک ہی تھا ۔اب ہم نے ساری سڑک دیکھ لی ۔ان کا گھر دو گھنٹے سے بارش مین ڈھونڈ رہی ہیں ۔لیکن مل نہیں رہا “
وہ بے پناہ ڈری ہوئی تھی۔ لالہ حیدر نے سمجھا سردی سے کانپ رہی ہے ۔حالانکہ وہ ڈر اور بخار سے کانپ رہی تھی ۔جوان لڑکی کو اپنی عزت کا ہی ڈر ہوتا ہے ۔شام ہو رہی تھی اندھیرا چھا رہا تھا۔ اوپر سے بارش بھی ہو رہی تھی ۔لالہ حیدر اور ارجمند نے اس کا حوصلہ بڑھایا ۔وہ دونوں جہاں دیدہ تھے ۔اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اس کے ساتھ کوئی پرابلم ہے ۔انکل ارجمندنے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
۔” سچ سچ بتاو ۔کہاں سے آئی ہو ۔کہاں جانا ہے ۔“
ان کے لہجے میں تشکیک کے ساتھ ہمدردی بھی تھی۔اور انداز میں خلوص ہمدردی کے بول سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
”آپ کو اللہ رسول کا واسطہ ۔مجھے اپنی پناہ میں لے لو ۔مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔وہ ۔۔وہ میرے پیچھے پڑے ہیں “وہ آبدیدہ ہوکربولی۔
لالہ نے چاروں طرف دیکھا ۔بارش تیز ہو رہی تھی جس طرف لڑکی نے اشارہ کیا تھا۔ وہ چاروں ریلوے کی دوسری طرف ایک دکان کے سامنے کھڑے تھے ۔ادیب نگر کے درمیان سے پہلے ایک روڈ گزرتا تھا جسے جی ٹی روڈ کہتے تھے ۔اس کے شمال کی جانب روڈ کے متوازی تھوڑے فاصلے پر ریلوے لائن تھی ۔ریلوے لائن سے اتنے ہی فاصلے پر اب بائی پاس بنا تھا ۔اور ہمارا ہوٹل بائی پاس پر تھا ۔ریلوے لائن کے جس طرف بائی پاس تھا اس طرف لالہ حیدر وغیرہ کھڑے تھے اور دوسری طرف وہ چاروں کھڑے تھے جن کا ذکر بڑی لڑکی نے کیا تھا ۔میں نے کافی دور ہوٹل میں بیٹھے ان چار افراد کی طرف اب غور سے دیکھا جن کو دیکھ کر لالہ پریشان ہو گیا تھا۔ان میں ایک ہمارے علاقے کا ہی تھا۔جمیل جو نیا نیا پولیس میں بھرتی ہوا تھا ۔ اور ہیڈ کانسٹیبل تھا ۔دوسرا رشید عرف شیدہ تھا جوخود کو علاقے کا بدمعاش سمجھتا تھا ۔باقی دو سے میں واقف نہیں تھا ۔چاروںمزے سے بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔میں لالہ کی پریشانی سمجھ گیا ۔ایسے لفنگے ہر شہر یا گاوں میں پائے جاتے ہیں جن کو ٹھرکی یا پھونڈ بھی کہا جاتا ہے ۔ لالہ حیدر اور ارجمند ان لڑکیوں کو ہوٹل پر لے آئے تھے ۔لڑکی جس نے لالہ حیدر کو اپنا نام شاہینہ بتایا تھا ۔اس کے مطابق اس کے والدین فوت ہو چکے تھے اب وہ اپنے ایک چچا کے گھر رہتی تھی ۔جہاں اس کی چچی اسے پسند نہیں کرتی تھی ۔وہ وہاں سے اپنی چھوٹی بہن کو لے کر اپنی خالہ زاد نذیراں کے گھر جانا چاہتی تھی۔ اس کا گھر نہیں ملا تھا ۔کیونکہ اسے اپنی خالہ زاد کے خاوند کانام ہی معلوم نہیں تھا ۔اس نے لالہ حیدر اور ارجمند کی منت سماجت کی تھی کہ وہ نذیراں کا گھر تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں ۔
HHH
باہر زور وں کی بارش ہو رہی تھی ۔دونوں لڑکیاں ہوٹل کے ھال نما کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ارجمندان کے پاس ہی تھا ۔لالہ حیدر نے مجھے لڑ کیوں کی بابت بتا نے کے بعد پوچھا
”اب کیا کرنا ہے ۔؟“
”اب یک دم تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔رات کے سات بج رہے ہیں ۔ان کو گھر لے جائیں صبح کوشش کریں گے ۔“اسی وقت انکل ارجمند ہمارے پاس آ بیٹھا اورفکرانگیزلہجے میں بولا-
”لڑکی کی طبیعت بہت خراب ہے ۔بہت تیز بخار ہے ۔اسے چکر آ رہے ہیں ۔اسے ڈاکٹر کو دکھانا ہو گا ۔وہ بے سدھ پڑی ہے ۔ چھوٹی رو رہی ہے “چھوٹی بہن کا نام آسیہ تھا ۔
”میں نے چائے اور کیک بھیجا تھا “ارجمند نے کہا۔
”ہاں چائے تو اس نے پی لی ہے ۔لیکن دوا لینا ہی ہو گی ۔شائد اسے سردی لگ گئی ہے “
”کس گاوں سے آئی ہے ۔کوئی پتہ چلا “لالہ حیدر نے انکل ارجمند سے پوچھا
”نہیں بڑی کا تو حال خراب ہے ۔چھوٹی کو اس نے روکا ہو گا ۔ وہ بتا نہیں رہی “
اسی وقت جمیل اٹھ کر ہمارے پاس آگیا ۔اس نے لالہ جس چارپائی پر بیٹھے تھے ایک پاوں اٹھا کر اس پر رکھا اور بولا۔
“خیر ہے لالہ جی کیا پریشانی ہے “ لالہ حیدر کی عمر چالیس سال ہوگئی ۔میرے ماموں اور استاد جوادکے دوست تھے ۔سب انہیں لالہ ہی کہتے تھے ۔انہیں جگت لالہ کہا جا سکتا تھا ۔حتی کہ اس کی اولاد تک اسے لالہ کہتی تھی ۔
”کچھ نہیں“لالہ نے بے رخی سے جواب دیا ۔
”لڑکیوں نے کیا بتایا ہے “وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا
”کچھ نہیں“لالہ نے بے خیالی میں کہ دیا
”ہمارے حوالے کر دو ۔تھانے لے جاتے ہیں سب بتا دیں گئیں “
”نہیں ۔نہیں “ لالہ نے جلدی سے کہا ۔
”لالہ جھوٹ کیوں بولتے ہو ۔؟“وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا
”بہرحال جو بھی ہے ۔لڑکیاں ہم آپ کے حوالے نہیں کریں گے “لالہ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔
اس وقت تک اس کے باقی تینوں دوست اور ہوٹل کے چاروں ملازم استادجواد وغیرہ بھی اکھٹے ہو چکے تھے ۔
”تم کیا تمہارا باپ بھی ہمارے حوالے کرے گا ۔یہ پولیس کیس ہے “تیزی سے کہتے ہوئے وہ ایک قدم پیچھے ہٹا ۔
”سیدھی طرح یہاں سے چلے جاو ۔۔ورنہ ۔۔“لالہ نے غراتی ہوئی آواز میں کہا لیکن بیٹھے وہیں رہے ۔میں نے دو قدم بڑھائے اور جمیل کے بالکل پاس جا پہنچا ۔
”تم دھمکی دے رہے ہو ۔۔۔۔“” ۔۔۔۔دفعہ ہو جاو “یہ کہہ کر لالہ اٹھ کھڑے ہوگئے ۔
جمیل نے اپنے ارد گرد دیکھا ۔اسے پولیس میں ہونے کا بڑا غرور تھا ۔اس نے لالہ کو دھکا دیا ۔اس کے بعد سب کچھ بہت تیزی سے ہوا ۔میں نے جمیل کو پیچھے سے پکڑا اور زور سے ایک طرف پھینکا ۔جہاں وہ گرا وہاں ندیم تھا اس ن اٹھنے نہ دیا ۔پورے ہوٹل میں جیسے قیامت آ گئی ۔وہ چار تھے اور ان کو مارنے والے سات ۔اصل میں جمیل نے یہ تو سوچا بھی نہیں ہو گا کہ کوئی پولیس پر حملہ بھی کر سکتا ہے ۔اس کی یہ ہی غلط فہمی اسے مار گئی ۔اسے یہ خبر نہیں تھی کہ معاملہ ایک لڑکی کا ہے اور لالہ اسے پناہ دے چکا ہے ۔سب سے زیادہ مار بھی اسے پڑی ۔یہاں تک کہ وہ بھاگ کر جانا چاہتے تھے اور ہم انہیں چھوڑ نہیں رہے تھے ان کی پٹائی کرتے جارہے تھے ۔آخر گرتے پڑتے ،مار کھاتے ،لہو لہان ہوتے وہ وہاں سے جانے میں کامیاب ہو گئے ۔کچھ ہم نے بھی جانے دیا ۔
۔” اب کیا ہو گا ؟“کچھ دیربعد ۔لالہ نے مجھ سے کہا۔ میرے خاموش رہنے پر خود ہی بولے ”بابر تم شاہینہ وغیرہ کو لے جاو ۔انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا جتنے پیسے نکلے میرے ہاتھ پر رکھے ۔”فعل حال یہاں سے نکل جاوابھی پولیس واپس آ جائے گئی ۔لڑکیاں ان کے ہاتھ نہیں آنی چاہیے “میں نے ”جی اچھا “کہا اور ھال کی طرف بڑھ گیا ۔دونوں حیران و پریشان کھڑی تھیں ۔انہیں اس کا علم ہو چکا تھا کہ یہ سارا ہنگامہ ان کی وجہ سے ہوا ہے ۔جمیل اینڈ کمپنی دو گھنٹے ان کو تنگ کرتی رہی تھی ۔میں نے ان دونوں کو سلام کہا ۔بڑی لڑکی نے میرے سلام کا جواب دیا ۔
”میرا نام بابر ہے ۔ہمیں ابھی یہاں سے جانا ہو گا ۔پولیس کسی بھی وقت آ سکتی ہے ۔“وہ خوفزدہ ہو گئی ۔ تھرتھر کانپتے ہوئے مجھے ایک نظر دیکھا ۔نقاب میں اس کی بڑی بڑی آنکھیں میرے چہرے پر نہ جانے کیا تلاش کرتی رہیں ۔پھر اس نے نظریں جھکا کر کہا
”آپ جائیں ۔انکل کو بھیج دیں “انکل سے اس کی مراد لالہ حیدر تھی ۔میں واپس آگیا اور لالہ حیدر کو بتایا کہ آپ کو وہ اندر بلا رہی ہے ۔انہوں نے سر ہلایا اور اندر چلے گئے ۔میں سوچنے لگا اب کہاں جاوں گا ۔مجھے راحیل کا خیال آیا ۔ایک وہ ہی دوست تھا جو اس مشکل وقت میں کام آ سکتا تھا ۔راحیل میرا میٹرک تک کلاس فیلو رہا تھا اس ک بعد اس کے والدین ساہیوال چلے گئے تھے۔اور میرے وہاڑی ۔راحیل نے تعلیم کو خیر باد کہہ کر کسی فیکٹری میں ملازمت کر لی تھی ۔ایک بار میں اس کے گھر جا چکا تھا ۔لالہ حیدر ان کے پاس چلے گئے ۔تھوڑی دیر بعد انکل ارجمند بھی ان کے پاس جا بیٹھا ۔
ہم ہارون آباد جانے والی بس پر سوار ہو رہے تھے تو چھ افراد الوداع کہ رہے تھے ۔لالہ حیدر ،ارجمند ،ریاست ،ندیم،نوید گجر ،جواد ہاشمی صاحب وغیرہ۔بس چل پڑی ہم تین سیٹوں پر بیٹھ گئے ۔اس وقت بھی بہت ہی ہلکی ہلکی پھوار پر رہی تھی ۔شاہینہ نے ایک گہری سانس لے کر اپنا سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔اس کا جسم کا جو حصہ میرے ساتھ مس ہو رہا تھا ۔اس سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسے کتنا تیز بخار ہے ۔یہ حدت مجھے بے چین کر گئی ۔میں نے سوچا تھا وہ بہت سوال کرے گی کہاں جانا ہے ؟ ۔کب پہنچ جائیں گے ؟ ۔لیکن اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔ایک طرح خود کو میرے حوالے کر دیا تھا ۔ اسی وقت ڈرائیور نے ٹیپ ریکارڈر آن کر دیا ۔۔تھوڑی دیر وہ اس سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہا ۔پھر ایک گانا لگا دیا ۔
زندگی بھر نہیں بھولے گئی وہ برسات کی رات
اک اجنبی حسینہ سے وہ ملاقات کی رات
دوران نیند اس نے میرے کاندھے پر سر رکھ دیا ۔
رات ڈیڑھ بجے ہم ساہیوال بس اسٹینڈ پر کھڑے تھے ۔ہم پہلے ہارون آباد گئے تھے وہاں سے لاہور جانے والی بس پر بیٹھے اور ساہیوال اتر گئے تھے ۔تمام راستے میں شاہینہ سوتی رہی نہ جانے کب سے وہ جاگ رہی تھی میں نے بھی اسے سونے دیا تھا ۔
وہ سر جھکا کر کھڑی تھی ۔میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہو گئی پچھتاوے ،اندیشے ،کشمکش ۔پھر بھی میں نے پوچھا
”کیا سوچ رہی ہو “
”بابر خدا کے لیے میرے ساتھ دھوکہ نہ کرنا “
”بابر نے آج تک کسی سے دھوکہ نہیں کیا “میں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ۔
اس لفظ دھوکہ میں ناجانے کیا راز چھپا تھا کہ وہ رونے لگی ۔میں نے ہمیشہ آنسووں کو کمزوری کی نشانی سمجھا اور کمزور لوگ مجھے ذرا بھی پسند نہیں ۔مجھے لجھن ہونے لگی ۔
پہلے مجھے اس پر ترس آیا تھا ۔ وہ مصیبت میں تھی ۔اب آنسو دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہمدردی محسوس ہوئی ۔میں نے کندھے پر ہاتھ رکھا تو پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی ۔پبلک مقام تھا میں نے ایک ہاتھ سے پرے ہٹانا چاہا ۔اسی وقت وہ خود پیچھے ہٹ رہی تھی ۔میرا ہاتھ ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی سے ٹکرا گیا ۔مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ بلندی پر درجہ حرارت اتنا کیوں ہوتا ہے ۔میں نے شرم سار ہو کر سر جھکا لیا ۔اس نے نظریں چرا لیں اور دوسری طرف دیکھنے لگی ۔
ہمیں راحیل کے گاوں جانا تھا اور وہاں پر جانے والی کوچ کا صبح تک ملنا ممکن نہ تھا ۔اس لیے باقی رات کاٹنے کے لیے میں نے دور دور تک نظردوڑائی ۔اسی وقت شاہینہ کہہ رہی تھی ۔”مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ میری طبعیت بہت خراب ہے ۔“
”اچھا کچھ کرتا ہوں ۔“میں نے دلاسا دیا
لاری اڈے کی ایک نکڑ پر ایک ہوٹل بنا ہوا تھا اس کے سامنے کچھ چارپائیاں بھی پڑی ہوئی تھیں ۔ایک چارپائی پر جا کر ہم بیٹھ گئے ۔میں نے شاہینہ سے کہا تم لیٹ جاو ۔وہ لیٹ گئی میں اٹھا اور ہوٹل پر چائے کا آرڈر دیا ۔اس سے پوچھا یہاں کوئی میڈیکل سٹور ہو گا ۔اس نے اشارے سے بتایا ۔
”وہاں ایک جنرل سٹور ہے شائد کوئی گولی مل جائے “میں اس جنرل سٹور پر گیا اور اس سے بخار سر درد کی گولیاں لے آیا ۔چائے کے ساتھ شاہینہ نے کھائیں اور میرے کہنے پر لیٹ گئی ۔میں اور آسیہ بیٹھے رہے ۔وہ لیٹ تو گئی لیکن نیند کہاں ممکن تھی ۔وہ اٹھ بیٹھی ۔اس دوران میں آسیہ سے باتیں کرتا رہا ۔
۔میں نے کہا ۔”ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاو گئی “
”ہاں ۔“
اپنے بارے میں اپنے والدین کے بارے میں بتائیں ۔اس نے نقاب پلٹ دی ۔میں اسے دیکھتا رہ گیا ۔بڑی بڑی آنکھیں ۔بے اختیار میرے منہ سے نکلا
”شاہینہ تم تو بہت خوبصورت ہو “میں نے اس کی تعریف کی تھی اسے خوش ہونا چاہئے تھا ۔لیکن وہ اداس ہو گئی ۔
”کاش نصیب بھی اچھے ہوتے “مجھے ایک شعر یاد آیا۔
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
بچپن مین ماں باپ فوت ہوگئے ۔بد نصیبی نے راہ دیکھ لیا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔موسم بہت خوبصورت تھا ۔
”ہم کہاں جا رہے جی “
”میرا ایک دوست ہے راحیل اس کے گھر جی“میں نے ”جی“اس کی نقل میں کہا تھا ۔اس کے لبوں پر ایک لمحے کو مسکراہٹ پھیلی تھی ۔
”آپ کے کتنے بھائی ہیں ۔ماں باپ کہاں ہیں ۔اب کیا ہو گا ۔میرا دل بہت ڈرتا ہے ۔میرا ساتھ چھوڑ تو نہ دو گے “
”میں تم سے ایک وعدہ کرتا ہوں ۔منزل پر پہنچا دوں گا ۔میرے ساتھ چاہے جو بھی ہو ۔“
HHH
ہم ذات کے کمہار ہیں۔میرے والد دمہ کے مریض تھے ۔گاوں میں چھوٹی سی اپنی کریانہ کی دکان تھی ۔ابو کا نام محمد رمضان جب وہ فوت ہوئے عمر پنتالیس سال ہوگی ۔میری دو بڑی بہنوں فوزیہ اور کلثوم کی شادی ایک ساتھ ہوئی ۔جب سسرال والوں سے ناراضگی کی وجہ سے دونوں روٹھ کر گھر آ بیٹھی توابو کو یہ غم اندر ہی اندر کھا گیا ۔مجھ سے چھوٹی دو بہنیں مزید ہیں ایک یہ آسیہ اور دوسری ناذیہ ہے ۔اس سے چھوٹا ایک بھائی نوید ہے ۔ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔
فوزیہ اور کلثوم کی شادی پانچ سال قبل ہوئی تھی ۔ہم غریب تھے فوزیہ کو زیادہ جہیز نہ دے سکے ۔ اس لیے بھی اسے کم جہیز دیا تھا کہ اس کی شادی خاندان میں ہو رہی تھی اور اس لیے بھی کہ فوزیہ رنگ و روپ کی اچھی تھی ۔لیکن وہ غصے کی تیز تھی ۔ غلط بات برداشت نہیں کرتی تھی ۔امی جان اکثر اسے سمجھایا کرتی کہ” غصے کو کنٹرول کرنا سیکھ لے ۔غلط بات بھی بعض اوقات برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ہم غریب لوگ ہیں سر جھکا کر رہو گئی تو جی پاو گی “۔سرفراز میرے بہنوئی اور خالہ زاد بھی ہیں ۔یوں تو بہت اچھے ہیں لیکن ہمیشہ اپنی ماںکی حمایت کرتے ۔بات ان باتوں پر بڑھی جن میں فوزیہ سچی تھی اور اسے جھوٹی کہا گیا ۔اور جب وہ دلائل سے خود کو سچا ثابت کرنے لگی تو خاوند نے اس بد تمیز کہہ کر تشدد کیا ۔جلتی پر تیل جہیز کے طعنے دئے گئے ۔”ایسے اکڑ کر بات کرتی ہو جیسے بہت سامان لائی ہو ۔بڑے اونچے گھرانے کی ہو “اس کی ساس اکثر کہا کرتی ۔ایسی باتیں فوزیہ برداشت نہ کر سکتی تھی ۔لڑائی جھگڑوں ،مقابلہ بازی شروع ہوئی۔جس گھر میں سلوک و اتفاق ختم ہو جائے رزق و برکت کے ساتھ ساتھ سکون و محبت بھی ختم ہو جاتی ہے ۔رہتی ہے تو صرف بربادی ۔
لڑائی میں شدد آئی توامی جان وہاں گئی انہوں نے باجی کے سسرال والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے ”میری بیٹی نادان ہے ۔اسے معاف کر دو ۔“اس وقت تو صلح ہوگئی لیکن اس کے پانچ چھ ماہ بعد باجی گھر آئی تووہ اکیلی آئی تھی ۔اس کا میاں سرفراز اسے گھر کے دروازے تک چھوڑ گیا تھا ۔وجہ وہی گھر میں ساس بہو کی لڑائی بنی تھی ۔تین ماہ بعد باجی کے ایک بیٹی پیدا ہوئی ۔جس کی اطلاع اس کے سسرال دی گئی لیکن وہاں سے کوئی بھی اپنی بیٹی کو دیکھنے نہیں آیا ۔
میری دوسری بہن کلثوم سانولے رنگت کی خوش بدن لڑکی تھی ۔اس کا خاوند گورا چٹا لمبے قد کاٹھ کا ۔حسین وجمیل مرد تھا ۔کلثوم کی شادی غیروں میں ہوئی تھی اس لیے اسے جہیز بہ نسبت فوزیہ کے کہیں زیادہ دیا گیا تھا۔ کلثوم کے ہاں بھی بیٹی پیدا ہوئی ۔تو اس کے گھر میں قیامت ٹوٹ پڑی ۔جیسے بچی کے پیدا کرنے میں اس کا ہی قصور ہو ۔کلثوم کی ساس بات بے بات کلثوم کو طعنے دینی لگی کہ ”اس کی ماں نے بیٹیاں ہی پیدا کیں اس کے بھی بیٹیاں ہی پیدا ہوں گئیں ۔“ ساس تو کہتی تھی کلثوم کا خاوند بھی کہنے لگا کہ ”اس کی بہن فوزیہ کے ہاں بھی بیٹی ہی پیدا ہوئی ہے “تین سال ایسے ہی گزر گئے ۔کلثوم کے ہاں جب دوسری مرتبہ بھی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کے خاوند اور ساس سے برداشت نہ ہوا ۔ان کی باتیں ،طعنے سن سن کر کلثوم کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا ۔آخر وہ بھی گھر آ گئی ۔گھر میں خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے تھے ۔
خاموشی سے روح گھٹے
مار نہ ڈالے گھائل چپ
کلثوم گھر آئی تو خاموش خامو ش تھی ۔جب کبھی ہم میں سے کوئی اس سے وجہ پوچھتا تو وہ رونے لگتی وہ حساس طبع تھی۔ لیکن ابو سے زیادہ حساس نہیں تھی ۔جس دن کلثوم کو طلاق ہوئی اس دن ابو اس جہاں سے کوچ کر گئے ۔
یہاں تک کہانی سنا کر شاہینہ خاموش ہوگئی ۔میں بھی خاموش ہی رہا ۔کافی دیر بعد وہ خود ہی گویا ہوئی۔
”بابر۔ بھلا یہ کسی کے بس کی بات ہے ۔کہ وہ مرد ہو یا عورت کہ وہ اپنی پسند سے لڑکا یا لڑکی پیدا کر سکے “اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا
”میں نے تو یہ پڑھا ہے کہ لڑکیاں یا لڑکے مرد کے مقدر میں ہوتے ہیں “میں نے اس کے دیکھنے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”ساس خود بھی تو عورت ہوتی ہے ۔پھر نہ جانے وہ بہو کی بیٹی کو پسند کیوں نہیں کرتی ۔اگر سب کے بیٹے ہیں پیدا ہوں تو معاشرے میں انتشار پیدا ہو جائے گا اس کا توازن خراب ہو جائے گا ۔“
وہ مجھے کافی بے چین لگ رہی تھی ۔میں نے پوچھا ”پھر کیا ہوا “وہ بتانے لگی۔ابو کی وفات کے بعد امی دکان پر بیٹھ گئی ۔گھر میں غربت کے ڈیرے ،کمزور و ناتواں ماں ،بھائی ابھی بہت چھوٹا تھا ۔چند ماہ بعد ہم کو احساس ہوا کہ ہم جی نہ پائیں گے ۔بھوک کے ہاتھوں مر جائیں گے
کلثوم تو اپنے آپ میں سمٹ گئی تھی پھر نہ جانے اچانک کیا ہوا ۔ایک صبح وہ اٹھی تو اس کے چہرے پر عزم تھا ۔
کلثوم صبح سے اپنی کسی سہیلی کے پاس جاتی شام کو واپس آتی ۔اس نے گاوں کی ان عورتوں سے دوستانہ کیا جو بدنام تھیں ۔ان کے ساتھ وہ شہر بھی جانے لگی ۔اب کوئی مرد سرپرست نہیں تھا ۔وہ غلط راہ پر چل نکلی ۔
اب گھر میں پیسے اور راشن آنے لگا ۔امی نے ایک دن اسے سمجھایا تو وہ لڑنے کو دوڑی ۔
”کیا دیا اس جھوٹی عزت نے ۔وہ جو فلموں میں کام کرتی ہیں وہ کون سی شریف ہوتی ہیں ۔ان میں سے آدھی دو نمبر ہوتی ہیں “امی رونے لگی تو اس نے دلاسا دیا۔
”آپ ٹینشن نہ لیں میں نے اپنی عزت کا سودا نہیں کیا “
”لیکن جو تم کر رہی ہو اس کا انجام بہت برا ہوگا “امی نے خبردار کیا
”جیسے حالات ہیں اس سے برا انجام کیا ہو گا “
ایسے ہی دو سال گزر گئے ۔ایک صبح وہی ہوا جس کے خدشے کا امی اکثر ذکر کیا کرتی تھی ۔کلثوم گھر سے بھاگ گئی ۔کلثوم کی طلاق پر ابو اس دنیا سے منہ پھیر گئے تھے اس کے گھر سے بھاگ جانے کے صرف دو دن بعد امی بھی ہم کو داغ مفارقت دے گئی ۔
امی کی وفات پر سارا خاندان ہی آیا ۔جب تک وہ زندہ رہیں انہیں پوچھا تک نہیں ۔خاندان والوں نے خود ہی اپنی کا کفن دفن کیا ۔دوسرے دن صرف چند افراد رہ گئے ۔ان میں میرے چچا افضل بھی تھے ۔جو کہ پولیس میں سپاہی ہیں۔وہ ہمیں اپنے گھر لے آئے ۔چچا افضل کی کوشش سے فوزیہ کی اپنے سسرال سے صلح ہوگئی ۔چچا افضل کا بڑا بیٹا تو شادی شدہ تھا اس سے چھوٹا معذور تھا ۔اس کا نام ماجد تھا ۔اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ کام نہیں کرتی تھی ۔بچپن میں بیمار ہوا تھا ۔
اسے گھر کی بیٹھک میں ہی ٹافیاں ،سگریٹ وغیرہ کی ایک دکان بنا کر دے دی تھی ۔چچا اب چاہتا تھا کہ میری شادی ماجد سے ہو جائے ۔پہلے دبے دے لفظوں سے اور پھر بر ملا کہا جانے لگا ۔
ماجد سے شادی کا تصور کر کے ہی میں گھبرا گئی ۔زندگی کیسے بسرہو گئی ۔بڑی مشکل سے ایک سال گزارہ وہاں میں نے ۔کل رات میں نے بہت سوچا اتنا سوچا کہ سر درد کرنے لگا ۔میںنے آسیہ کو بتایا ۔ہم نے مشورہ کیا اور خالہ زاد نذیراں کے گھر کی تلاش میں ادیب نگر جا پہنچی وہاں سے آگے آپ کو علم ہی ہے ۔وہ چند لمحے خاموش رہی پھر کہنے لگی ۔”اب تقدیر اور حالات مجھے آپ تک لے آئے ہیں ۔آگے میری قسمت “شاہینہ میرے سامنے بیٹھی تھی ۔خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔میں نے سر جھکا لیا جیسے اس پر ٹوٹنے والے سبھی صدمات کا میں ذمہ دار ہوں ۔وہ خوبصورت تھی ۔بلکہ خوبصورت ترین تھی ۔بھرے بھرے جسم کی مالک تھی ۔ناک نقشہ بھی دل کش تھا ۔ویسے بھی جوانی کا ایک اپنا ہی حسن ہوتا ہے کشش ہوتی ہے ۔کوئی پیمانہ نہ تھا جس سے اسکی جوانی اور حسن ناپا جا سکتا ۔خوبصورت نہ بھی ہوتی تو اس وقت بہت مجبور تھی ۔مجھے شاہینہ سے ہمدردی محسوس ہوئی ۔میرے اندر بہت اندر محبت خلوص اور قربانی کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا ۔
میں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے ۔خدا جانے میری آواز کیوں روندھی گئی۔
”شاہنیہ تم بہت سے دیر سے مجھے ملی ہو ۔مجھے تم سے ہمدردی ہے ۔میں تیرے لیے جان قربان کر سکتا ہوں ۔محبت میں طاہرہ سے کرتا ہوں ۔وہ میرے بچپن کی محبت ہے ۔“آنسو بھری آنکھوں سے آنسو گر پڑے ۔میں نے سر جھکا کر وقت دیکھا۔صبح کے پانچ بج رہے تھے ۔اس کے بعد ہمارے درمیان خاموشی حائل ہوگئی ۔
HHH
راحیل کے گاوں جانے والی سڑک پر ہم اترے تو صبح کے سات بج رہے تھے ۔یہ کچی سڑک کم از کم دو کلومیٹر جاتی تھی دونوں طرف فصلیں تھیں ۔اب شاہینہ کی طبیعت کافی سنبھل چکی تھی ۔وہ میرے قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی ۔ہم خاموشی سے سفر کر رہے تھے ۔میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔موسم پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو گیا ۔اسی وقت وہ بلند آواز سے گانا گانے لگی ۔
جند لے گیا وہ دل کا جانی یہ ب±ت بے جان رہ گیا
مہمان چلا گیا گھر سے یہ خالی مکان رہ گیا
خوابوں سے تقدیریں ،کب بنتی ہیں
پانی پے تصویریں کب بنتی ہیں
نہ رنگ رہا کوئی باقی نہ کوئی نشان رہ گیا
جند لے گیا وہ دل کا جانی یہ ب±ت بے جان راہ گیا
اس آندھی کا اس طوفان کا زور کسی کو یاد نہیں ہے
آئی تھی ایک روز قیامت اور کسی کو یاد نہیں ہے
بس ایک میرا دل ٹوٹا اوریہ سارا جہاں رہ گیا
جند لے گیا وہ دل کا جانی یہ ب±ت بے جان راہ گیا
اپنے زخموں اپنے صدموں سے میں کتنی شرمندہ ہوں
کیا کارن ہے کیا ہے سبب جو آج اب بھی زندہ ہوں
لگتا ہے کے میرا باقی کوئی امتحان رہ گیا
جند لے گیا وہ دل کا جانی یہ ب±ت بے جان راہ گیا
مہمان چلا گیا گھر سے یہ خالی مکان رہ گیا
اف کیا آواز تھی اس کی میں تو اس کی آواز میں ہی کھو گیا تھا مجھے اتنا پتہ ہے ۔اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے جو اس کی گالوں پے بہہ رہے تھے۔اور ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا۔میرا من بھر آیا تھا ۔میری فرمائش اس نے دوبارہ اسی گانے کو پھر سنایا ۔یہ دو کلومیٹر کا سفر میری زندگی کا یادگار سفر تھا ۔
راحیل کے دروازے پر دستک دے کر ہم انتظار کرنے لگے پھر کوئی پانچ منٹ بعد اندر سے ایک کافی گورا چٹا جوان باہر آیا۔ راحیل کا بھائی عقیل ۔سلام کے جواب کے بعد وہ ہمیں شک کی نظروں سے دیکھنے لگا یا ایسا ہمیں محسوس ہو رہا تھا ۔ میں نے اس سے راحیل کا پوچھا تو وہ مجھے اور شاہینہ کو پہلے تو سر سے پاو¿ں تک اوپر نیچے دیکھنے لگا جیسے کسی بکرے کو خریدتے وقت دیکھتے ہیںپھر اس نے بتایا ” وہ تو کام پر گیا ہوا ہے آٹھ بجے آئے گا۔اس کی رات کی ڈیوٹی ہوتی ہے “ہمارا تین چار بار اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا ۔
ہم گھر میں داخل ہوئے تو راحیل کی والدہ ملی جس کی صحت اچھی تھی عمر پچاس سال ہوگئی ۔راحیل کے والدہ اور ایک نوجوان لڑکی ملی جس کا تعارف راحیل کی بیوی کی حیثیت سے کروایا گیا جس کا حسن پریوں جیسا تھا ۔
ایک گھنٹا باتوں ،اور ناشتے میں گزر گیا ۔راحیل آیا ،مجھے دیکھا یہ کہتے ہوئے ” سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے “ گلے لگایا ۔تب اس کی نظرشاہینہ اور آسیہ پر پڑی تو مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا ۔راحیل کے والد چاچااعجازاورراحیل کو میں نے سب کچھ بتا دیا ۔انہوں نے کہا ”جب تک شاہینہ یہ نہیں بتائے گئی کہ وہ کس گاوں سے آئی ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔“
میں نے بتایا ” ۔اس بات کا ہارون آباد کے تھانے میں اس کے چچا افضل سپاہی ہیں ۔اور گاوں چودہ گجر والاہے “
دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب چچا اعجاز اور لالہ حیدر ،اوراقبال ڈوگر ہارون آباد چک چودہ گجر والاچلے گئے ۔گاوںکے نمبر دارظفر علی گجر سے ملے اس سے افضل سپاہی کا پوچھا اور سارا واقعہ کہہ سنایا ۔
شاہینہ وغیرہ کو پنچائت میں اس کے چچا افضل کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔پنچائت میں راحیل کے گاوں کا نمبر دار چودھری اقبال ڈوگر شاہینہ کے گاوں کا نمبردار ظفر گجر ،ساہیوال کے سماجی رہنماعبدالرشید صاحب، جیسے سرکردہ لوگ شامل تھے ۔پنچائت میںیہ طے ہوا تھا لالہ حیدر ،میرے ،اور استاد جواد کے خلاف قائم مقدمہ خارج کروانے کے لیے افضل کوشش کرے گا،بیان دے گا کہ شاہینہ کے اغوا میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔یوں بارش میں ہی شاہینہ بچھڑ گئی تھی ۔وہ دو دن دو راتیں میرے ساتھ رہی تھی ۔
HHH
دوسری صبح لالہ حیدر ادیب نگر اور میں اپنے گھر چلاگیا ایک دن میں وہاں رہ کر ادیب نگر آیا کیونکہ میرے انٹر کے پیپر نذدیک تھے ۔مجھے ادیب نگر کے حالات کا کوئی علم نہیں تھا ۔میں ادیب نگر بس اسٹاپ پر اترا تو سب سے پہلے اصغر حمام میں گیا ۔اصغر مجھے دیکھ کر حیران ہوا ۔
”بابر تم یہاں “
”کیوں ۔کیا بات ہو “میں اس کے لہجے پر حیران ہوا۔
”تم کو علم نہیں ہے ۔“
میرے انکار کرنے پر اس نے بتایا کہ ”لالہ حیدر ابھی تک تھانے میں ہے کل اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔اور اسے پولیس والوں نے بہت مارا ہے ۔سنا ہے اسے اتنا مارا ہے کہ وہ بے ہوش ہو گیا تھا ۔ہوش میں آنے پر اسے پھر مارا جاتا ہے ۔“
”اس نے ایسا کون سا جرم کر دیا ہے ۔“میںپریشان ہو گیا
”سنا ہے تم نے پولیس والوں کی ہوٹل میں ٹھکائی کی تھی ۔اسی کا بدلہ لے رہے ہیں “ایک لمحے کو وہ رکا پھر بولا
”اب فورا تم یہاں سے چلے جاو ۔ورنہ تیرے ساتھ بھی یہ ہی ہوگا ۔“
”ہم نے لڑکیاں واپس کر دی ہیں ۔پھر ایسا کیوں ہوگا ۔ہمارا کوئی جرم نہیں ہے “
”یہاں جرم نہیں دیکھا جاتا ۔گردن دیکھی جاتی ہے ۔جس کی گردن پر پھانسی کا پھندا پورا ہو اسے پھانسی دے دی جاتی ہے “
”میں لالہ سے ملے بغیر نہیں جاوں گا ۔“
تھوڑی دیر بعد میں تھانے کی طرف جا رہا تھا ۔مین گیٹ پر بیٹھے ہوئے سپاہی سے میں سے سلام کہا اور اندر داخل ہو گیا ۔کافی افراد تھانے میں آ جا رہے تھے ۔لوگوں کی باتوں سے پتہ چلا کہ رات چار دکانوں میں چوری کی وردات ہوئی تھی ۔میں گیٹ سے اندر داخل ہو۔بالکل سامنے ایک بڑا سا کمرہ تھا اس کے دونوں طرف دو دو کمرے بنے تھے ۔بڑے کمرے میں دو چار پولیس والے اور کافی تعداد میں افراد کھڑے تھے ۔تھانے کے صحن میں بھی کافی افراد کھڑے باتیں کر رہے تھے ۔
گیٹ سے تھوڑا آگے دونوں طرف حوالاتیںبنی ہوئی تھیں ۔ایک طرف حوالات میں دو عورتیں اندر فرش پر بیٹھی تھیں اور دوسری طرف چھ سات مرد تھے ۔ان میں سے ایک لالہ حیدر تھے۔ انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر سلاخوں کے نذدیک آ گیا ۔
’بابر۔۔تم ۔۔یہاں فورا چلے جاو ۔جب تک کیس ختم نہ ہو واپس نہ آنا “انہوںنے تھانے کی صحن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں نے بتایا ”میرے تو امتحان نذدیک ہیں “کہنے لگے ”چھوڑ دوامتحان ۔ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔یہ د دو ھڑوں کی آپس میں لڑائی ہے۔اس میں سیاست آ چکی ہے ۔ایک طرف ظفر گجر ہے دوسری طرف اکبر گجر ہے ۔وہ اپنے سیاسی فائدے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے اس مقدمے میں ملوث ہو چکے ہیں “میں نے کہا ”میں سمجھا نہیں “لالہ حیدر نے کہا ”لڑکیاں بے شک ہم نے اس کے چچا افضل کو واپس کر دی گئی ہیں ۔لیکن مقدمات قائم ہیں ۔ایک طرف میرے اور تمہارے نام ایف آئی آر درج ہے دوسری طرف عابد گجر کے خلاف درج ہے ۔میں اور عابد توگرفتار ہیں ۔اس بات کو سمجھو قانون کی نظر میں لڑکیاں ابھی تک تمہارے پاس ہیں ۔کیونکہ افضل نے ان کے مل جانے کا اقرار نہیں کیا ہے ۔“
”افضل تو خود راحیل کے گھر سے چار معزز افراد کی موجودگی میں ان کو لے کر گیا ہے “ میں نے حیرت سے کہا ۔”بے شک ایسا ہوا ہے ۔لیکن اس کو ثابت کیسے کرو گئے ۔“لالہ نے ایک بار پھر مین کمرے کی طرف دیکھا ۔
”ثابت کیسے کروں گا “میں نے حیرت سے سوال دہرایا”تم فورا یہاں سے چلے جاو ۔ گزشتہ دو دن کے اخبارات دیکھ لینا روزنامہ خبریں اور روزنامہ پاکستان ۔میں حیران ہوں تم یہاں تھانے میں کھڑے ہو اور تمہیں تلاش کیا جا رہا ہے ۔تم جاو اب یہاں سے “اسی وقت ہم دونوں کی نظر اچانک جمیل پر پڑی جو اندر بڑے کمرے سے باہر نکل رہا تھا ۔جمیل ہی میرا صورت آشنا تھا ۔میں دھڑکتے دل سے باہر کی طرف چل پڑا ۔اسی وقت جمیل دوڑ کر میری طرف بڑھا ۔اس کے منہ سے گالیاں بھی نکل رہی تھی ۔میں نے تھانے سے باہر کی طرف دوڑ لگائی ۔گیٹ پر کھڑے سپاہی نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔میں نے اسے دھکا دیا ۔اور تھانے سے باہر نکل آیا ۔اسی وقت جمیل اور ایک اور سپاہی مجھ تک پہنچ چکے تھے ۔ اس وقت قسمت نے میرا ساتھ دیا ۔ایک آدمی نے سڑک کنارے موٹر سائیکل روکی اور ہمیں دیکھنے لگا ۔میں تیزی سے اس جانب بڑھا۔وہ ایک ہاتھ موٹر سائیکل سے چابی نکالنے کو بڑھا رہاتھا جب میں نے اس کے دوسرے بازو کو پکڑ کر پوری قوت سے گھما دیا ۔وہ چکر کھاتا ہوا ۔میری طرف آتے ہوئے جمیل سے ٹکرایا ۔اس وقت جس گیٹ پر کھڑے سپاہی کو میں نے دھکا دیا وہ اٹھ رہا تھا ۔موٹر سائیکل والا جمیل سے ٹکرایا اور وہ دونوں اس گیٹ کیپر سے اس طرح تینوں اوپر نیچے گرے ۔یہ سب کچھ چند سکینڈ میں ہوا ۔موٹر سائیکل اسٹارٹ ہی تھا ۔میں اس پر سوار ہوا ۔اور اندھا دھند بھگا نے لگا ۔ میںجتنا ممکن تھا اتنا موٹر سائیکل بھگا رہا تھا ۔چند منٹ میں دس کلومیٹر کا سفر طے کیا اوراس روڈ پر آ نکلا جو چشتیاں سے ہارون آباد کو جاتا ہے ۔ یا ہارون آباد سے چشتیاں کو ۔ایک بس رک رہی تھی میں نے جلدی جلدی موٹر سائیکل روکی اور بس کی طرف بھاگا ۔اسی لمحے بس دو سواریاں اتار کر چل پڑی تھی ۔میں پوری قوت سے بھاگا ۔اور پیچھے سے بس کی سیڑھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا ۔بس کی چھت پر آ کر میں لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔
ہارون آباد اس بس سے اتر کر میں لاہور جانے والی بس پر سوار ہونے سے پہلے ایک نیوز ایجنسی جا پہنچا وہاں سے تین دن کے اخبارات خریدے اور واپس آکر بس میں سوار ہوا ۔
تین دن پہلے کی ایک خبر چک نمبر چودہ چک کے حوالے سے تھی ۔ تین ملزمان نے اسلحہ کے زور پرکھیتوں میں رفع حاجت کے لیے گئی ہوئی لڑکی کو اغوا کرلیا ۔پولیس نے اقدام قتل اور زنا کی نیت سے لڑکی کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق نواحی گاوں گاوں سے عابد گجر اور اس کے دو نامعلوم ساتھیوں نے کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے گئی ہوئی لڑکی کو اسلحہ کے زور پر اغوا کر لیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے ۔نمبر دار ظفر گجر اور لڑکی کے چچا افضل کے بیان پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی ہے ۔
دوسرے اخبار میں دو دن پہلے کی خبر ادیب نگر کے حوالے سے تھی ۔
ادیب نگر پولیس کو اطلاع ملی کہ ادیب نگر کے بائی پاس پر میں واقع ایک نجی ہوٹل میں کچھ خواتین اور مرد فحش حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں، جہاں دو لڑکیوں کو اغوا کر کے لایا گیا ہے ۔جس پر تھانہ ادیب نگر کی پولیس نے چھاپہ مارا ۔ملزمان نے پولیس کا مقابلہ کیا اور پولیس کو پسپا کر دیا ۔ پولیس نے دوبارہ بھاری نفری سے چھاپہ مارا منشیات فروشوں،آتش بازوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چارملزمان کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے 200گرام چرس،11بوتل شراب،2عدد پستول 30بور برآمدکر کے الگ الگ مقدمات درج کر لیے ۔ اس دوران اصل ملزم بابر اغوا شدہ لڑکیاں کو لے کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔
خبرین جھوٹ کا پلندہ تھیں ۔لیکن انہیں جھوٹ کیسے ثابت کر سکتا تھا ۔
شام کے تین بج رہے تھے جب میں راحیل کے گھر جانے والے بس اسٹاپ پر اتراتھا ۔ اسی وقت گاوں کی طرف سے ایک پولیس وین آتی دیکھائی دی۔میں سڑک کنارے ایسے بیٹھ گیا جیسے ضرورت سے بیٹھا ہوں ۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا ۔وین کے گزر جانے کے بعد میں شش وپنچ میں پڑ گیا ۔کیا راحیل کے گھر بھی پولیس نے چھاپا مارا ہے ۔کیوں ؟۔آخر کیوں ۔©؟سمجھ نہیں آ رہی تھی پولیس اتنی ایکٹیو کیسے ہو گئی تھی ۔کہاں ہارون آبادسے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ادیب نگر اور کہاں دو سو کلومیٹر دورساہیوال کا یہ گاوں ۔ میں تیزی سے گاوں کی طرف جانے لگا ۔راحیل کے گھر پہنچا تو اس کی بیگم اور امی سے پتہ چلا کہ پولیس یہاں آئی تھی اورراحیل کے بھائی عقیل اور ان کے والد کو گرفتار کر کے لے گئی ہے ۔وہ میرا پوچھ رہے تھے راحیل گھر میں نہیں تھا ۔اس کی ڈیوٹی بدل گئی تھی وہ جس مل میں کام کرتا تھا ۔وہاں ایک ہفتہ دن اور ایک ہفتہ رات کی ڈیوٹی ہوتی تھی ۔وہ ابھی ڈیوٹی سے واپس نہیں آیا تھا ۔میں بیٹھک میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا شام چھ بجے وہ پہنچا ۔ساری صورت حال کو سن کر کہنے لگا ۔”اب کیا کرنا ہے ۔“میں نے کہا چلو نمبر دار کے پاس چلتے ہیں یوں ہم دونوں دوست گاوں کے نمبر دار کے پاس چلے گئے ۔جس کی موجودگی میں ہم نے شاہینہ کو اس کے ورثا کے حوالے کیا تھا ۔وہ گھر ہی مل گیا ۔اس نے نے بتایا کہ ۔”پولیس پہلے یہاں آئی تھی ۔مقامی پولیس کے ساتھ لڑکی کا چچا افضل بھی تھا ۔“ انہوں نے نمبر دار کو بتایا تھا ”لڑکی نے بابر ،راحیل اور عقیل کے خلاف بیان دیا ہے کہ وہ تین دن تک اس کی عزت سے کھیلتے رہے ہیں ۔“یہ کہہ کر اقبال ڈوگر گھر میں گئے واپسی پر ان کے پا س تازہ اخبار تھا ۔ایک نشان زدہ خبر انہوں نے دیکھاتے ہوئے کہا ”حالات تمہارے خلاف ہیں۔“پھر بولے
۔مجھے کیا خبر تھی ۔تم ایسے کردار کے مالک ہو ۔“
”کیسے کردار کے ۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔“‘میں نے تلخی سے پوچھا ۔”میں تم سے بات نہیں کر رہا ۔تم نے تھانہ پولیس ادیب نگر میں کئی پولیس والوں کو زخمی کیا ہے اور وہاں سے فرار ہو کر یہاں آ گئے ہو ۔آئی جی پولیس نے ساہیوال تھانے تمہاری گرفتاری کے لیے فون کیا ہے ۔“راحیل نے اخبار کی خبر پڑھ کر مجھے تھما دی میں نے خبر پڑھی تو پریشانی سے میرے ماتھے پر پسینہ بہنے لگا ۔لکھا تھا ۔
مقامی عدالت میںپانچ روز قبل ہارون آباد کے نذدیکی گاوں چودہ سے اغوا ہونے والی لڑکی(ش)کے کیس کی سماعت ہوئی ۔
پولیس نے لڑکی کو ساہیوال کے ایک نذدیکی گاوں سے بازیاب کراکہ عدالت میں پیش کیا۔(ش) نے عدالت میں بیان دیا کہ عابد گجر اسلحہ کے زور پر مجھے کھیتوں سے اغوا کر کے ادیب نگر ہے ایک ہوٹل میں لے گیا جہاں اس کا دوست حیدر،بابر سمیت دو دن زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ۔پھر یہ تینوں ملزمان اپنے ایک اور راحیل نامی دوست کے پاس ساہیوال کے ایک قریب ڈیرے پر لے گئے اور وہاں تین دن اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ۔
عدالت نے لڑکی کا موقف سننے کے بعدچاروں ملزمان کے خلاف اغوا اور زنا کا کیس داخل کرنے کے حکم دے دیا۔دوسری طرف لڑکی کا چچا جو کہ پولیس میں ملازم ہے کی درخواست پر آئی جی پنجاب آمین احمد نے پولیس کو جلد ملزموں کوگرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔
پولیس نے لڑکی کی رپورٹ کی روشنی پر مقدمہ الزام نمبر 309/ اقدام قتل کی دفعہ 324 اور زنا کی نیت سے اغوا کی دفعہ 365-B/34 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
”لیکن ہم نے آپ کو سب کچھ سچ سچ بتایا تھا ۔آپ خود گواہ ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا “ راحیل نمبر دار سے کہہ رہا تھا ۔نمبر دار نے کہا ”تم بیٹھک میں بیٹھو میں چائے کا کہہ کر آتا ہوں ۔پھر کوئی حل نکالتے ہیں “ہم دونوں بیٹھک میں بیٹھ گئے ۔اچانک مجھے بے چینی سی محسوس ہونے لگی ۔لیکن اس بے چینی کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔دس منٹ بعد نمبر دار اقبال اور دو تین مزید محلے دار وہاں پر آ کر بیٹھ گئے ۔سب ایک ہی مسئلہ پر بات کر رہے تھے ۔کہ عقیل اور چچا اعجاز کو تھانے سے واپس کیسے لایا جائے ۔پھر چار افراد تیار ہوگئے ان کے ساتھ راحیل بھی جانا چاہتا تھا میں نے راحیل کا بازو پکڑا کو بیٹھک سے باہر نکل آیا ۔”تم نہیں جاو گئے ۔مجھے نمبر دار کی باتوں میں منافقت کی بو آرہی ہے “
”نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے “
”نہیں ایسا ہی ہے ۔چلو یہاں سے “میں نے راحیل کو نمبر دار کے گھر سے دور لے جاتے ہوئے کہا۔”شائد اس نے پولیس کو فون کر دیا ہوگا ۔اسی لیے ہم کو وہاں بٹھائے ہوئے ہے “اسی وقت نمبر دار نے راحیل کو آواز دی ۔راحیل نے کہا ”ہم ابھی آتے ہیں “اور تیزی سے میرے ساتھ چلنے لگا ۔
ابھی ہم مسجد کے قریب ہی پہنچے تھے کہ پولیس وین نمبر دار کے گھر کی طرف جاتی دکھائی دی ۔میں نے راحیل سے کہا ”بھاگو ۔کہیں ایسی جگہ یہاں پولیس نہ پہنچ سکے “ہم دونوں اس صورت حال سے حواس باختہ ہو چکے تھے ۔اس وقت پولیس وین اقبال ڈوگر کے گھر کے سامنے جا
رکی ۔شام کے سائے پھیل گئے تھے ۔ہم دونوں کھیتوں کی طرف ہو لیے ۔گاوں سے باہر نکل کر ہم دونوں بھاگتے ہوئے نہر کی طرف نکل گئے ۔نہر تک آتے ہوئے ہمیں دس سے پندرہ منٹ لگے ہوں گئے ۔راحیل نے مجھے کہا ”میرے پیچھے آو “ وہ کماد کے کھیت میں داخل ہو گیا میں نے بھی اس کی پیروی کی ۔گاوں میں شام کے سات بجے اچھا خاصہ اندھیرا ہو جاتا ہے ۔ہم وہاں دو گھنٹے بیٹھے موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے رہے ۔اب کسی حد تک کہانی سمجھ میں آگئی تھی ۔
منگل کی شام چھ بجے برستی برسات میں شاہینہ اور آسیہ ہوٹل پر آئیں تھیں۔ بدھ صبح ہم راحیل کے گھر گئے تھے ۔جمعرات کو لالہ حیدر اور اعجازشاہینہ کے گاوں گئے تھے اور اسی رات تقریبا آٹھ بجے برستی برسات میں شاہینہ کو الوداع کر دیا گیا تھا ۔ہفتہ کی صبح میں ادیب نگر اور شام کو اس کماد میں بیٹھا راحیل سے تبادلہ خیال کر رہا تھا ۔ظفر گجر ، افضل ہیڈ کانسٹیبل جو کہ شاہینہ کا چچا تھا اور جمیل سپاہی کے علاوہ اقبال ڈوگر سب مل کر مجھے اس جرم میں پھنسانا چاہتے تھے ۔
راحیل نے بتایا کہ جب چچا اعجاز اور لالہ حیدر ظفر گجر سے اس کے گاوں جا کر ملے تھے تو انہیں وہاں یہ نئی بات معلوم ہوئی کہ شاہینہ کے اغوا کا مقدمہ عابد گجر کے خلاف درج ہو چکا ہے اور یہ مقدمہ ظفر گجر اور افضل سپاہی نے مل کر کروایا ہے ۔اصل میں اس گاوں چودہ گجر والا میں دو گروپ تھے ایک گروپ ظفر گجر اور دوسرا گروپ عابد گجر کے والد اکبر گجر کا تھا ۔جس وقت شاہینہ کے غائب ہونے کا افضل کو علم ہوا تو اس نے پہلے خود ہی اسے تلاش کیا لیکن بارہ گھنٹے گزرجانے کے بعد بھی اسے پوری برادری میں شاہینہ کا سراغ نہ ملا تو شام کو اس نے ظفر گجر سے بات کی۔ انہوں نے سارا ملبہ اکبر گجر کے بیٹے عابد گجر پر ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ۔اس کی ایک چھوٹی کی وجہ بھی تھی کہ چند دن قبل عابد گجر نے شاہینہ کی ایک سہیلی رخسانہ کاراستہ روکا تھا اور برے انجام کی دھمکی دی تھی۔ جب وہ ایک شادی کے گھر سے واپس آ رہی تھیں ۔ اس وقت شاہینہ بھی اس کے ہمراہ تھی ۔لیکن اصل بات سیاسی مخالفت تھی ۔اور اس طرح دوسری صبح تھانہ صدر میں عابد گجر کے خلاف شاہینہ کے اغوا کی ایف آئی درج ہوگئی تھی ۔
اسی صبح قصبہ ادیب نگر میں لالہ حیدر ،ارجمند ،میرے استاد جواد ہاشمی اور میرے خلاف جمیل اینڈ کمپنی نے ناجائز اسلحہ ،دو لڑکیوں کے اغوا ،ہوٹل پر کھلے عام منشیات اور جسم فروشی کا اڈا ہونے جیسے سنگین الزمات لگا کر درج کر لیا تھا ۔جس وقت میں اور شاہینہ راحیل کے گھر بیٹھے ان کے گھر والوں کو سارا ماجرہ سنا رہے تھے۔ اس وقت پولیس دو جگہوں پر شاہینہ کو برآمد کرنے کے لیے چھاپے مار رہی تھی ۔دونوں جگہوں کے درمیان پچاس کلومیٹر کا فاصلہ تھا ۔ہارون آباد اور ادیب نگر جبکہ ہم تیسری جگہ ان سے دو سو کلومیٹر دور ساہیوال کے ایک نذدیکی گاوں میں بیٹھے تھے ۔اس دن ایک طرف بے خبری میں عابد گجر کو پولیس نے پکڑ لیا ۔دوسری طرف انکل ارجمند،ہوٹل پر کام کرنے والے چار ملازم ،میرے استاد جواد ہاشمی اور میرے دو کزن منشاءاور ارشد کو پولیس پکڑ کر لے گئی ان سب کی تھانے لے جا کر سب سے پہلے پانچ چھتر وںسے تواضح کی گئی لالہ حیدر اور میرا پتہ پوچھا گیا وہ بے چارے بے خبر تھے اس لیے جب ان کے وارث وغیرہ آئے تو دوہزار فی کس رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ۔اس زمانے میں آج سے 23 سال قبل پانچ ہزار بہت بڑی رقم تھی ۔
ایسا ہی عابد کے ساتھ گیا تھا ۔لیکن عابد کو چھوڑا نہیں گیا ۔اب میری تلاش جاری تھی ۔ راحیل مجھے کہہ رہا تھا۔”تم کہیں غائب ہو جاو ۔ہماری فکر نہ کرو “ اور پھر میں نے نامعلوم مدت کے لیے منظر سے ہٹ جانے کا فیصلہ کیا ۔رات دس بجے ہم گھر پہنچے اور راحیل نے میری ضرورت سے زائد پیسے دے کر مجھے ساہیوال بس اسٹینڈ سے ملتان کے لیے رخصت کر دیا ۔صبح چھ بجے میں ملتان وہاڑی چوک پر جا اترا ملتان میں میرے تایا زاد بھائی نصیر احمد ایک کاٹن فیکٹریوں کی ورکشاپ میں فورمین تھے ۔ آٹھ بجے میں اس کے پاس بیٹھا انہیں سب کچھ سچ سچ بتا رہا تھا
HHH
میرا ہوٹل بند ہو گیا تھا ۔یوں میرا سب سے پہلا بزنس ختم ہوا ۔مجھے تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔میں نے اپنے والدین کو خط لکھ کر ساری صورت حال آگاہ کر دیا تھا کہ میں ملتان میں بھائی نصیر احمد کے پاس ہوں۔یوں گھر والے میری طرف سے بے فکر ہوگئے تھے ۔وہ بہت اچھے اور مہذب انسان تھے ۔انہیں مطالعے کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے چار پانچ ڈائجسٹ مستقل لگوائے ہوئے تھے ۔رسائل کابیس پچیس سالہ ریکارڈ بھی ان کے پاس موجود تھا ۔میں نے انہیں ترتیب سے لگایا ۔ایک طرف سے مطالعہ شروع کر دیا خود کو مصروف رکھنے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا تھا ؟صبح سے رات گئے تک میں مطالعہ کرتا ۔اس دوران چچا اعجاز تو دوسرے دن تھانے سے واپس آگئے تھے ۔لالہ حیدر کی بھی ضمانت ہو گئی تھی ۔اب وہ عدالت میں پیشیاں بھگت رہے تھے ۔میں نے بھی ایک وکیل کیا اور پیسے دے کر کاغذی گرفتاری ڈالوا کر ضمانت کروا لی ۔دوسری طرف میں نے ویلڈنگ ،گیس کٹنگ کا کام سیکھنا شروع کر دیا ۔چھ ماہ لودھراں کے پاس اڈا پرمٹ پر ایک کاٹن فیکٹری میں بھیج دیا گیا ۔میں جاتے ہوئے بہت سے رسائل لے گیا ۔
ہر تاریخ پر میں اپنی پیشی پر عدالت پہنچ جاتا تھا۔گھر کا چکر لگالیتا تھا۔کیس چلتا رہا ۔ایک بات بڑی حیرت انگیز تھی کہ جو مجھ پر مقدمہ تھا اس کی مدعی شاہینہ تھی ۔میں سوچا کرتا شاہینہ کس حال میں ہوگئی ؟اس کی خیر خبر کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہیں تھا ۔ان دنوں ذرائع ابلاغ نے اتنی ترقی
نہیں کی تھی صرف پی ٹی سی ایل فون اور خط ہی ایسے ذرائع تھے ۔جن کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کی خیر خبر سے آگاہ ہوجاتے تھے ۔خط لکھ کر انتظار کرنا۔ہفتے بعد جواب آیا کرتا تھا۔راحیل سے میری خط و کتابت مستقل جاری تھی۔کبھی کبھار ٹیلی فون پہ رابطہ بھی ہوجاتا تھا۔لالہ حیدر سے فون پر رابطہ ہو جاتا تھا۔پیشی سے دس دن پہلے میں نے راحیل کو خط میں شاہینہ کے بارے میں لکھا کہ اس کا پتہ کرو ہم نے اس کے ساتھ نیکی کی اس نے اس کا یہ صلہ دیا کہ بے گھر ہی نہیں در بدر کر دیا ہے ۔ مجھے ایک بات رہ رہ کر یاد آتی کہ شاہینہ چاہتی تھی میں اسے واپس نہ کروں بلکہ اس سے شادی کر لوں ۔اس بارے اس نے واضح طور پر کہا بھی تھا ۔لیکن میں طاہرہ کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا ۔اسے ٹھکرا دیا تھا ۔اب مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے ۔اس کا خیال دن رات مجھے رہتا ۔
یہ محبت تو بہت بعد کا قصہ ہے میاں
میں نے اس ہاتھ کو تھاما تھا پریشانی میں
اس بار میں جیسے ہی کچہری میں داخل ہوا راحیل کو اپنا منتظر پایا۔ہم ایک دوسرے کے گلے لگ کر ملے ۔ایک بات میں نے محسوس کی کہ اس کے چہرے پہ دبا دبا جوش تھا۔میں اسے مل کر بہت خوش ہوا ۔تھوڑی دیر بعد عدالت کے دروازے کے باہر کھڑے لڑکے کی آواز سنائی دی۔میری بلوائی ہوئی تھی۔میں عدالت میں جاکر جج صاحب کے سامنے کھڑا ہوگیا۔حسب ضابطہ کاروائی ہوئی۔اس پیشی پر جج صاحب نے شاہینہ کے وکیل سے کہا
’’امجد صاحب میں نے اگلی ڈیٹ پے فیصلہ دینا ہے اس کیس کوویسے بھی اب کافی عرصہ ہو گیا ہے ۔اگلی پیشی پر لڑکی کو پیش کیا جائے ‘‘
عدالت سے اگلی تاریخ لے کر میں باہر راحیل کے پاس آگیا۔پھر ہم وہاں سے کنٹین میں آگئے جوکہ عدالت کے قریب ہی تھی۔ہم دونوں ایک خالی میز کے پاس پڑی کرسیوں پہ بیٹھ گئے ۔میں نے چائے کا آرڈر دیا۔
”آپ کا خط ملتے ہی میں نے شاہینہ سے ملاقات کی تگ و دو شروع کردی تھی۔دو دن پہلے اس کے ساتھ ملاقات کی ہے اور تفصیلی گفتگو کی ہے ۔“
راحیل نے گفتگو کا آغاز کیا۔میں اس کی بات سن کر چونک گیا،اور حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔
”وہ اس بات پر حیران ہے کہ اس نے تو آپ پر یا کسی پر بھی کوئی مقدمہ ہی نہیں کیا ۔“
”یہ جو ایک سال سے ہم عدالت میں خوار ہو رہے ہیں “میں نے غصے سے کہا
”بیریک پر پیر رکھو ۔یہ سب اس کے چچا اور ظفر گجر کا کیا ہوا ہے ۔صرف عابدگجر کو پھنسانے کے لیے “
”اچھا ۔یہ بتاو ۔اب شاہینہ ہوتی کہاں ہے ۔ کہتی کیا ہے؟“اس کے بعد مجھے راحیل نے ساری بات بتائی
”میں افضل سپاہی کے گھر اس وقت گیا جب میرے خیال میں وہ ڈیوٹی پر تھا ۔اس کا معذور بیٹا ۔۔۔۔دکان پر بیٹھا تھا ۔میں نے اس سے ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس کی شادی کا پوچھا ۔باقی سب اس نے خود بتایا ۔کہ چھ ماہ قبل شاہینہ کو اس کی پھوپھی اپنے گھر لے گئی ہے میں نے پھوپھی کے خاوند کا نام پوچھا تو اس نے بتا دیا ۔دوسرے دن میں ان کی پھوپھی کے گھر چلا گیا ۔وہاں میری شاہینہ اس کے پھوپھا اور دیگر گھر والوں سے ملاقات ہوئی ۔شاہینہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئی ۔اس نے گھر والوں کو سب کچھ سچ سچ بتایا ہوا تھا ۔میرے اور آپ کے نام سے سب پہلے پہلے سے واقف تھے ۔اس لیے بات کرنے میں آسانی رہی ۔جب میں نے مقدمے کا بتایا تو وہ حیران ہوئے کہ شاہینہ نے تو کوئی مقدمہ نہیں کیا ۔پھوپھی نے کہا کہ ”بیٹے میں بہت شکر گزار ہوں آپ کی ،بابر کی کہ ہماری بیٹی عزت و آبرو سے واپس کر دی ۔“
اس نے مزید بتایا کہ ”وہ جلد شاہینہ کی شادی کرنا چاہتی ہے۔ایک دو رشتے دیکھے بھی ہیں ۔“انہیں ایک رشتہ پسند بھی آیا ہے ۔غالبا ساجد نامی لڑکا ہے فیصل آباد کا اس کی اپنی کریانہ کی دکان ہے ۔اس سے جلد شاہینہ کی شادی متوقع ہے ۔اور وہ چاہتے ہیں کہ شاہینہ کا ماضی دفن کر دیا جائے ۔کسی بات کا علم اس کے سسرال کو نہ ہو ۔
میں نے اب اٹھ ک ے راحیل کے پاس گیا اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا اور کہا۔”لگتا ہے اب یہ کیس جلد ختم ہو جائے “راحیل اٹھ کر میرے گلے لگ گیا ۔اس کے تھوڑی دیر بعد میں بس میں بیٹھا ملتان جا رہا تھا ۔
ان دنوں میں کوٹ ادو میں ایک کاٹن فیکٹری میں کام کر رہا تھا ۔جب مجھے راحیل کا خط ملا ۔اس نے لکھا تھا ”میں چند دن پہلے شاہینہ سے اور اس کی پھوپھی سے ملا ہوں ۔وہ اس پیشی پر عدالت میں پیش ہو کر آپ کی بے گناہی کا بیان دے دے گئی ۔“اس خط کے دو دن بعد مجھے لالہ حیدر کا فون آیا اس نے بتایا کہ ”عابد گجر جیل میں فوت ہو گیا ہے “میں یہ سن کر بڑا حیران ہوا ۔
اگلی پیشی پر جب میں پہنچا تو راحیل حسب سابقہ پہلے سے موجود تھا ۔
”شاہینہ ،اس کی پھوپھی ،اور ایک پھوپھی زاد بھائی آئے ہوئے ہیں ۔میں ان سے مل چکا ہوں ۔انہوں نے کہا ہے جب بابر آئے تو ان سے ملے آ کر “
ہم دونوں ان تینوں سے جا کر ملے ۔ ۔میں نے سلام کیا ۔ پھوپھی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ۔کزن نے ہاتھ ملایا ۔شاہنیہ نقاب کیے ایک ٹک مجھے دیکھتی رہی۔میں نے سلام کیا ۔جواب دیتے ہوئے اس کی آواز روندھ گئی۔پھوپھی جو کہ پنتالیس سال کی عام سی گھریلو خاتون تھی بتاتی رہی کہ
”اس کا چچا اس کی شادی نذاکت سے کرنا چاہتا تھا ۔مجھے پتہ چلا تو میں اسے لے آئی ۔اب اس کی شادی کر دینی ہے ۔اس نے مجھے تمہارے بارے میں سب بتایا ہے ۔میں ،میرا خاوند ،ہم سب تیرے بہت شکر گزار ہیں ۔اللہ تمہیں اس نیکی کا صلہ دے گا ۔ہمیں پتہ چلا ہے کہ تم پر خواہ مخواہ کیس کیا گیا ہے ۔اب یہ بیان دے گئی تم بری ہو جاو گے ۔دعا کرنا اس کے نصیب اچھے ہوں “
میں ان کی بات سننے کے ساتھ شاہینہ کو دیکھتا رہا ۔اسے کیا خبر کہ اس ایک سال میں کتنا سوچا اسے ۔لیکن اب ایسی کوئی بات کرنا زیب نہیں دیتا تھا ۔اس لیے میں چپ ہی رہا ۔کہتا بھی کیا ؟۔سب آئینہ تھا ۔میںوہاں سے جانے لگا تو شاہینہ نے آگے بڑھ کر راستہ روک لیا ”مجھے معاف کر دینا “کہتے ہوئے وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی ۔میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ”میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں “
اور تیزی سے پلٹ کر تیزتیز قدم اٹھاتا ان سے دور ہو گیا ۔راحیل میرے ساتھ ہی تھا ۔میں نے آستین سے اپنے آنسو پونجھے تو اس نے کاندے پر ہاتھ رکھ کر دلاسا دیا ۔
دس بجے عدالت میں بلایا گیا ۔کاروائی ہوتی رہی میں کھویا کھویا سنتا رہا ۔جج نے باعزت بری کر دیا ۔اس لفظ باعزت پر میں مسکراہا ۔مجھے نہ خوشی ہوئی نہ کوئی غم ہوا۔نہ جانے دل میں اداسی نے اتنے ڈیرے کیوں ڈال لیے تھے ۔راحیل دل بہلانے کی باتیں کرتا رہا ۔میرا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو کرتا رہا ۔
HHH
میں اپنے گھر وہاڑی آگیا ۔ایف اے کا پرائیویٹ داخلہ بھیجا ۔تین ماہ میں نے دل لگا کر دن رات تیاری کی امتحانات دینے کے بعد پھر کام پر چلا گیا ۔لاہور ،راولپنڈی ،کراچی ،کام کرتا رہا ۔اس دوران درجنوں کہانیوں نے جنم لیا ۔ میری شادی ادیب نگر میں ہوئی ۔اب موبائل کا زمانہ آگیا تھا ۔خط لکھنے کا رواج ختم ہو گیا تھا ۔مجھے شادی پر موبائل گفٹ ملا ۔اب ادیب نگر جانا آنا ہوا ۔لالہ حیدر ،ارجمند ،استاد جواد سے کبھی کھبار سال دو سال بعد ملاقات ہو جاتی۔راحیل سے مسلسل رابطہ رہا۔ ایسے ہی شاہینہ کی بات ہوتی تو میں دل مسوس کر رہ جاتا ۔یہ آج سے ایک سال قبل یعنی 2015 کے جون کی بات ہے ۔میرا فیصل آباد جانا ہوا ۔
میری سالی نبیلہ کی شادی فیصل آباد ہوئی تھی۔اس کے خاوند کا ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا ۔میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اس کی عیادت کے لیے گیا ۔فاروق ہسپتال میں داخل تھا ۔بیوی بچوں کو گھر چھوڑ کر میں نبیلہ کے دیور کے ساتھ ہسپتال گیا ۔فاروق کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ۔اور اس کے پلستر لگا ہوا تھا ۔
پتہ چلا فاروق اور اس کا دوست ساجد دو دن قبل بائیک پر سمندری روڈ پر جا رہے تھے کہ ایک تیز رفتار کار سے ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ساجد کے تو معمولی چوٹیں آئیں لیکن فاروق کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔میں فاروق کے پاس بیٹھا رہا ۔شام کے پانچ بج رہے ہوں گے جب ایک عورت اور مرد فاروق کی عیادت کو آئے ۔فاروق نے ان کا تعارف کرایا ”یہ ہے ساجد جو میرے ساتھ تھا اور اس کی مسز ‘ ‘میں نے ساجد کو دیکھا اس کے چہرے پر زخموں کے معمولی نشان تھے ۔اس نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا ۔ اس کے ساتھ جو عورت تھی اس نے نقاب کیا ہوا تھا ۔اور ایک تین چار سال کا بچہ گود میں تھا ۔میں نے سرسری سا اس کی طرف دیکھا ۔ اس وقت فاروق نے میرا تعارف کرایا ”بابر میرا ہم زلف “ عورت نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے سلام کیا ۔اس کی آنکھیں مجھے جانی پہچانی سی لگیں۔نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیا تھا میرے اندر کچھ ہونے لگا ۔میں نے خود پر لعنت کی اور نظریں جھکا کر سلام کا جواب دیا ۔لیکن اس کی نظروں کی حرارت مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہوتی رہی ۔ساجد فاروق کا ہاتھ پکڑے اس سے باتیں کرنے لگا ۔عورت سٹول پر بیٹھ گئی ۔میں کمرے سے باہر نکل آیا ۔
میںہسپتال کی عمارت کے سامنے بنے ہوئے پارک نما گرا¶نڈ میں سگریٹ سلگا کر ٹہلنے لگا۔ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جا کر جب میںواپس پلٹا تو میرے سامنے وہ بے نقاب کھڑی تھی ۔ہمارے درمیان چند گز کا فاصلہ تھا ۔بچے کی اس نے انگلی پکڑی ہوئی تھی ۔اکیس سال بعد ایک لمحے کے ہزارویںحصے میں میری نظروں کے سامنے وہ شاہنیہ گھوم گئی جو کچہری (عدالت)کی ایک دیوار کے پاس کھڑی مجھے آس بھری نظروں دیکھ رہی تھی ۔اس وقت بھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔آج اتنے برس بعد وہ ایک ہسپتال کے پلاٹ میں خوشی سے بھیگی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔آنکھیں وہی تھیں ۔اب بھی ان میں آنسو تھے لیکن اب اس کی آنکھوں میں تشکر تھا ،خوشی تھی اور تب دکھ تھا ،بے بسی تھی ۔تب میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دی تھی آج یہ ممکن نہیں تھا اب وہ پرائی ہو چکی تھی۔
’’با ۔بر۔‘‘اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا ۔ایک قدم میری طرف تیزی سے بڑھی۔ پھر اسے کچھ خیال آیا ۔ وہ رک گئی ۔جب وقت ہی دوریاں ڈال دے تو فاصلے نہ بھی ہوںتو فاصلے ہوتے ہیں۔ہم دونوں ندی کے وہ دو کنارے بن گئے تھے ۔جو ساتھ چلتے تو ہیں مگر مل نہیں پاتے ۔ہم دنیا کی ندی کے دونوں کناروں پہ چلنے والے وہ مسافر تھے ۔جو کبھی ساتھ نہیں چل سکتے تھے ۔ہاں دونوں کناروں پہ چلتے ہوئے ایک دوسرے کو پکار سکتے تھے ۔اب ہمارے درمیان سماج تھا۔اس سماج کے رسم و رواج تھے ۔شرم وبھرم تھا ۔اس کے رکنے سے آنسو نہیں رکے اس کے رخسار بھگو گئے۔میرے گلے میں کچھ پھنس گیا ۔مجھے وہ دھندلی سی نظر آ رہی تھی ۔میں اس سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔اسے بہت کچھ بتانا چاہتا تھا۔میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ ” شاہینہ بھلے وقت نے ہمیں جدا کر دیا تھا مگر میں تمہیں اک پل نہیں بھول پایا۔تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی ۔مجھے اس سے کہنا تھا ۔ہاں میں نے بدلتے موسموں میں ، ساون کی بارشوں میں اور فصل گل میں ہر لمحہ تمہیں سوچا ہے ۔مگر مجھے لگا میری قوت گویائی سلب ہوچکی ہے ۔ بڑی مشکل سے میں نے پوچھا ۔
”کیسی ہو؟“اس نے اپنا اوپری ہونٹ نچلے ہونٹ سے دبا کر مجھے دیکھا۔ مجھے ایسے لگا جیسے وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگے گی۔
”کتنے بچے ہیں ؟“میںنے دوسرا سوال کیا ۔پہلا سوال فضول تھا ۔
’’چار ۔ دو بیٹے دو بیٹیاں اور آپ کے ؟ ‘‘اس نے اپنے بیٹے کا ہاتھ چھوڑ کر کہا ۔
”تین۔ایک بیٹا دوبیٹیاں“
”طاہرہ ۔سے ہی ہوئی ناں شادی آپ کی“
”نہیں طاہرہ ۔کے والدین نے ایک مجرم کو رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ “شاہینہ نے یہ سن کر سر جھکا لیا ۔جیسے اس کا قصور ہو ۔چند لمحے ہم دونوں خاموش رہے ۔کہنے کو کچھ نہ ہو جیسے ۔پھر سکوت کو اس نے ہی توڑا ۔
’’ہمارے گھر آ¶ نا کسی دن۔اپنے بیوی بچوں کو بھی لانا۔‘‘اس نے التجا آمیز لہجے میں کہا ۔ایک بار میرا دل چاہا” ہاں “کہہ دوں ۔لیکن میں خود سے ہی ڈر گیا ۔اس کا گھر برباد کرنا کسی بھی طرح دانش مندی نہ ہوتی ۔میںنے دل فگار لہجے میں کہا ۔
’’نہیں شاہینہ اب یہ ممکن نہیں ہے ۔اللہ تمہیں خوش رکھے ۔‘‘
”ایک بار۔صرف ایک بار“اس نے التجا آمیز لہجے میں کہا ۔اس وقت اس کا بیٹا کھیلتا ہوا ۔ہم سے کافی دور جا چکا تھا ۔اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور بلند آواز سے پکارا ”با۔بر۔ادھر آو“ پھر مجھے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
”تمہارے پاس بابر ہے تو سہی ۔اسی سے دل بہلاو۔اس کی پرورش کرو۔اس کی تربیت کرو۔“
یہ کہہ کر میں نے ہسپتال میں اس کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے جہاں فاروق اور ساجد تھے ۔میں جانتا تھا اگر مزید رکا تو میں کسی لمحے بکھر جا¶ں گا۔کمرے میں داخل ہونے سے پہلے میں رکا۔پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔وہ اسی جگہ کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھی۔مجھے وہ صدیوں کی مسافت پر نظر آئی ۔اس کے چہرے پر کرب و خوشی کے رنگ ایک ساتھ بکھرے ہوئے تھے ۔کرب و خوشی کے متضاد رنگ بیک وقت میں نے شاہینہ کے چہرے پر پہلی اور آخری بار مجسم دیکھے تھے ۔میں نے گہری سانس لی اور جب میں کمرے میں داخل ہورہا تھا ۔میں نے سنا شاہینہ مدھم آواز میں گا رہی تھی ۔
جند لے گیا وہ دل کا جانی یہ ب±ت بے جان رہ گیا
مہمان چلا گیا گھر سے خالی یہ مکان رہ گیا۔
ختم شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یاسین صدیق ۔ہارون فرنیچرز۔درس کالونی۔کسووال تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال(پنجاب۔پاکستان) ۔03324805121

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے