سر ورق / قاری سے لکھاری / قاری سے لکھاری۔۔ ہمافلک۔۔۔ یاسین صدیق

قاری سے لکھاری۔۔ ہمافلک۔۔۔ یاسین صدیق

ہما فلک
یاسین صدیق

اصل نام ہمامالنی وائیں ہے اور قلمی نام ہمافلک سے جانی جاتی ہیں۔ان کی تعلیم ایم اے پولیٹیکل سائینس ہے۔پہلا مطبوعہ افسانہ ہلدی والی اور پہلا افسانوی مجموعہ،روح دیکھی ہے کبھی؟ سال اشاعت 2018 ہے۔جن ادبی رسائل میں افسانے شایع ہوئے ان کے نام درج ذیل ہیں۔
ثالث مدیر محترم اقبال حسن آزاد،
زبان وادب بہار اکیڈمی انڈیا،
بیسویں صدی مدیر محترمہ شمع افروززیدی
قلم کی روشنی مدیر محترم ظفر اقبال ہاشمی
اور دیگر بہت سے رسائل میں شائع ہوچکے ہیں
ہما فلک نے اب تک پاپولر ادب نہیں لکھا۔ہمارے ہاں جس کو خالص ادب کہا جاتا ہے اسی میں نام بنانے کی تگ و دو میں ہیں۔یہ انٹرویوز،حوصلہ رائیٹر ویلفیر ایسوسی ایشن کے پلیٹ سے قاری سے لکھاری تک کی ایک کڑی ہے۔مقصد نئے ادباءکی ادبی دنیا میں پہچان و تعارف ہے۔
انٹرویوز پینل میں جہاں مستقل ممبران(عدیل عادی،شبیر علوی،خرم شہزاد،شاکر فاروقی،عاصم سعید،عالی مان،فائزہ شاہ،ماہ رخ ارباب،فائزہ شیخ،عائشہ احمد)نے سوالات کیے ادب کی مایہ ناز شخصیات محترم جناب ظفر اقبال ہاشمی،شہباز الفت،عبدلشکور جاذب ،اریبہ فاطمہ ،حمیرہ تبسم نے بھی چند ایک سوالات کیے۔جن پر حوصلہ انٹرویوز پینل ان کا مشکور ہے۔
آئیں ملتے ہیں ابھرتی ہوئی لکھاری محترمہ ہما فلک سے۔
سوال ٭آداب ہما فلک۔۔۔۔۔۔ مالنی کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
جواب ﴿اس کا مطلب تو مجھے خود بھی نہیں معلوم شاید مالن (پھول چننے والی)سے مالنی
سوال ٭آپ کا نام کس نے رکھا تھا،اور آپ نے خود اپنا نام قلمی نام کب رکھا۔یہ بھی بتا دیں کیوں رکھا؟
جواب ﴿میرے والدصاحب نے میرانام رکھا تھا ۔میں نے صرف تخلص اختیار کیا پندرہ سولہ برس کی عمر میں مجھے شاعری کا شوق ہوا تھا” جواب ﴿آسمان” اور بادلوں کی شروع سے دیوانی ہوں اس لیے ”فلک ” رکھ لیا۔
سوال ٭آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔اصل تاریخ پیدائش بتائیے گا؟
جواب ﴿میری اصل اور نقل تاریخ پیدائش ایک ہی ہے ۔
اٹھائیس دسمبر
سوال ٭پرائمری کس سن میں پاس کیا؟پرائمری تک کے ان اساتذہ کا مختصر تعارف جنہوں نے آپ کے علم و ادب کے شوق کی بنیاد رکھی حروف شناسی ؟
جواب ﴿میں اپنی پہلی استاد اپنی خالہ کو مانتی ہوں جنہوں نے پانچ سات برس کی عمر میں ہی مجھے غالب اقبال مومن داغ وغیرہ کے اشعار یاد کروا دئیے تھے اس وقت کے یاد کیے ہوئے اشعار آج تک یاد ہیں ۔پڑھنے کا ماحول گھر میں ہمیشہ رہا اس لیے ہر قسم کی کتاب کامطالعہ کرنے کا موقع ملا
سوال ٭بھارت میں اردو کو زندہ رکھنے کیلیئے لیکھت کار کیا کوششیں کر رھے ھیں ؟
جواب ﴿میں پاکستان سے ہوں بھارت کے کچھ جرائد میں میرے افسانے شائع ہوئے ہیں ان رسائل سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ اپنی سی بھر پور کوشش کر رہے ہیں؟
سوال ٭ادب کی کس صنف کی طرف آپکا رجحان بہت کم ہے؟ اور کیوں؟
جواب ﴿مجھے پڑھنے کے لیے میسر ہو تو سب کچھ پڑھ ڈالتی ہوں مگر خواتینی رومانوی ادب کی طرف میرا رجحان نہیں اس کی وجہ یہی کہ یہ خواتین کو کمزور بناتے ہیں
سوال ٭کیا آج کا ادب اتنے ہی خالص پن سے موجود ہے جیسے اس کو ہونا چاہئیے؟پاپولر فکشن سے کتنا لگاﺅ؟ اسکے بارے میں اپنی رائے اردو ادب کے تناظر میں دے دیجئے؟
جواب ﴿لکھنے والے خالص ہوں تو آج یا کل ہر دور میں خالص ادب تخلیق ہوتا ہے کبھی کبھی مایوسی ہوتی ہے کہ پہلے ناموں کے بعد نیا کچھ پڑھنے اور اسے سراہنے یا کم از کم سمجھ ہی لینے پر بہت کم لوگ آمادہ ہوتے ہیں ۔اس معاملے میں جو لوگ کسی مقام پر پہنچ چکے ہیں ان کا رویہ کافی حوصلہ شکن ہے
سوال ٭آپکی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ کیا آپ کسی پیشے سے منسلک ہیں؟ وہ پیشہ کیا آپ کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتا؟
جواب ﴿میں نے ایم اے پولیٹیکل سائینس کیا ہے ۔میں شوقیہ جاب کرتی ہوں جس کا میری اس ڈگری سے دور کا بھی واسطہ نہیں لیکن جاب شوقیہ ہے اس لیے میں مطمئن ہوں۔
سوال ٭زندگی کے سب سے حسین دور کے بارے میں بتائیں کچھ؟
جواب ﴿میری زندگی کا ہر دور میرے لیے حسین ہے زندگی ایک بار ملتی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی ہوں بڑی حسرتیں نہیں پالتی سو خوش رہتی ہوں زندگی ہر دور میں حسین ہی لگتی ہے
سوال ٭سب سے بدترین دور کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب ﴿وہ دو تین ماہ جب میری امی بیمار تھیں اسے کہہ سکتے ہیں
سوال ٭آپ نے تھوڑا لکھالیکن سنا ہے خوب لکھا ہے آپ کی وال دیکھتے ہیں تو علم ہوتا ہے لفظ و حرف اے کھیلنا آتا ہے سوال یہ ہے کہ اس لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا. وہ کیا وجہ تھی جس وجہ سے اس فیلڈ میں آئیں؟
جواب ﴿میں quantity سے زیادہ qualiپر یقین رکھتی ہوں اب لکھنے کی کوالٹی کیا ہے یہ تو پڑھنے والے ہی بتا سکتے ہیں میں صرف اپنے موڈ کے حساب سے لکھتی ہوں کچھ لکھا گیا تو ٹھیک نہ لکھا گیا تو خود پر جبر نہیں کرتی ۔مجھے لگتا ہے کہانی یا تحریر ہمیشہ سے میرے اندر تھی اس بات کو میں نے اپنی کتاب کے حرف آغاز میں زیادہ بہتر طریقے سے بیان کیا ہے
سوال ٭فیس بک پر ادب کے مختلف گروپ بلکہ مخالفت میں دھڑے بنے ہوئے ہیں.ہر دھڑا خود کو صحیح سمجھتا ہے.آپ کے خیال میں اس دھڑے بندی کی وجہ کیا ہے اور اس دھڑے بندی کا ذمہ دار کون ہے؟علاوہ ازیں اب تو قارئین نے اپنے اپنے ادباءبھی بانٹ لئے ہیں. ادب بھی.یاد رہے سیاسی بیان نییں دینا.اپنا مشاہدہ پوری ایمانداری اور بغیر لگی لپٹے بتانا ہے…اور ذرا تفصیل سے
جواب ﴿لگی لپٹی کے بغیر ایمانداری سے ہی بات کروں گی فیس بک ایک ایسا میڈیم ہے جہاں قاری اور لکھاری آمنے سامنے ہوتے ہیں اپنے لکھے کا فیڈ بیک فوری مل جاتا ہے اسے لڈو کے کھیل کی طرح سمجھیِں جب کھیل رہے ہوں تو زندگی موت کا مسئلہ لگتا ہے سستی شہرت کے لیے کچھ لوگوں نے اسے بھی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے کچھ حسد کچھ خوشامد بھی اس میں کار فرما ہیں
اپنے اپنے قاری اور اپنے اپنے ادیب۔۔۔۔
اس معاملے میں خواتین کے مسائل اور دوسری طرف ان کا کردار بھی بہت اہم ہے یہ بات بہت تفصیل مانگتی ہے مختصرا یہی کہ یہ گروپس فوری شہرت کا ذریعہ سمجھے جا رہے ہیں اس لیے چھینا جھپٹی کا ماحول نظر آرہا ہے ۔صحیح تو سب ہی خود کو سمجھتے ہیں مگر اس کا فیصلہ وقت ہی کرتا ہے
میرا ماننا یہی ہے کہ ادب ان صرف فورمز میں موجود نہیں اس لیے لکھنے والوں کو خود کو صرف یہیں تک محدود نہیں کر لینا چاہئے
سوال ٭آپ کے خیال میں اردو ادب میں ابھرتے ہوئے لکھاری کون کون سے ہیں. میل و فیمیل کا نام لکھیں.جو مستقبل کا سرمایہ ہوں گے؟
جواب ﴿بہت سے ہیں مگر میرے بہت پسندیدہ فارس مغل، قرب عباس، منزہ احتشام گوندل وغیرہ ہیں
سوال ٭ایک افسانہ نگار کو افسانہ لکھتے وقت کن پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے؟
جواب ﴿لکھنے والوں کے لیے اپنا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے
سوال ٭ آپکا اصلی نام اتنا پیارا ہے تو آپ نے قلمی نام کیوں رکھا؟
جواب ﴿کیاقلمی نام پیارا نہیں؟ بس شوق تھا صرف ” میرا ” ایک نام ہو
سوال ٭لکھنے کا شوق کیونکر ہوا؟
جواب ﴿پڑھتے پڑھتے لکھنے کا شوق ہوگیا ۔جو کہانی بھی پڑھتی اس کے آگے اپنی کہانی بننے لگتی تھی
سوال ٭آپ نے کسی سے متاثر ہوکر لکھنا شروع کہا ہے ہے یا ویسے ہی لکھنا شروع کیا؟
جواب ﴿لکھنے والے بہت سے ہیں جو پسند ہیں مگر لکھنا اپنے طور پر شروع کیا
سوال ٭آپکی پسندیدہ لکھاری اور کتاب کونسی ہے؟
جواب ﴿بہت سے ہیں مختلف ادوار میں مختلف کتابوں کے سحر میں جکڑی رہی یوں کسی ایک کانام مخصوص کرنا مشکل ہے
سوال ٭پرانے دور کے لکھاری زیادہ اچھا لکھتے تھے یا آج کے دور کے؟
جواب ﴿ہر دور کا لکھاری اپنے ماحول اور حالات سے کچھ نہ کچھ متاثر ہو کر لکھتاہے ۔پہلے زمانے کے لوگوں کے پاس علم اور صبر تھا سکھانے والے کی قدر اور سیکھنے کی لگن تھی شاید اس وجہ سے وہ تحریریں آج تک زندہ ہیں
سوال ٭ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟
جواب ﴿اچھا لکھاری بنتا نہیں ہوتا ہے جب اپنے اندر یہ جوہر مل جائے تو مطالعہ اور مشاہدہ سے اسے نکھارا جاسکتا ہے
تنقید کو کبھی بھی منفی معنوں میں نہ لیں کوئی ایک معمولی سی غلطی کی نشاندہی بھی کرے تو اس کے شکر گزار ہوں کہ یہ بہتری کی طرف اگلا قدم ہے
سوال ٭پاکستانی ادب کے علاوہ اور کس ملک کا ادب پڑھنا اپکو پسند ہے؟
جواب ﴿میں نے روس چائنہ جرمن اور انگلش ادب کو کچھ نہ کچھ پڑھا ہے
سوال ٭اگر اپکو وزیراعظم پاکستان بننے کا موقع دیا جائے تو آپ ملک میں کیا تبدیلی لائیں گی؟؟؟

جواب ﴿اللہ نہ کرے ۔ویسے تعلیم کافی ضروری ہے
سوال ٭پاکستانی فلموں اور ڈراموں سے دل دلچسپی ہے اپکو؟
جواب ﴿فلموں سے تو نہیں ڈرامہ کبھی کبھار وقت گزاری کے لیے دیکھ لیتی ہوں مگر ان کے موضوعات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے وہی گھسے پٹے فارمولہ
سوال ٭اپکا پسندیدہ پاکستانی اداکارہ اور اداکار کونسے ہیں؟
جواب ﴿آج کل صباقمر نعمان اعجاز اور سجل علی
سوال ٭حوصلہ رائیٹر ویلفئیر جیسی تنظیم کے متعلق آپکی کیا رائے ھے؟
میرا اس تنظیم سے زیادہ تعارف نہیں لیکن علم وادب کی ترویج کے لیےغیر جانبدار ہوکر اقدامات کرنے کو سراہنا چاہئیےسوال ٭لکھنے کے علاوہ اور کونسا شوق ہے؟
جواب ﴿لکھنے کے علاوہ پڑھنے کا شوق کا ۔
.سوال ٭شاعری سے کتنا شغف رکھتی ہیں آپ؟
جواب ﴿اچھی شاعری پسند ہے مگر اپنی مرضی سے پڑھتی ہوں ”ٹیگیائی ” شاعری نہیں پڑھتی
سوال ٭مطبوعہ کا نام ہلدی والی…کچھ سوچ کر رکھا ہے
جواب ﴿ہلدی والی ایک افسانہ ہے افسانوی مجموعہ کا نام
”روح دیکھی ہے کبھی؟” ہے


سوال ٭ہما مالنی سے بھارتی اداکار ہیما مالنی تصور میں در آتی ہیں….نام میں مشابہت محض اتفاقیہ ہے یا ان سے محبت….؟؟؟
جواب ﴿پیدائشی نام یقینا کوئی کسی کی محبت میں نہیں رکھتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جن کا نام جاوید ندیم شبنم یا سلمی ہے وہ ان اداکاروں کی محبت میں رکھا گیا ہو
سوال ٭نئے لکھاریوں کو کوئی پیغام….؟
جواب ﴿لکھنے سے پہلے بہت زیادہ پڑھیں
سوال ٭کتنے عرصے سے لکھنے کا عمل جاری ہے؟
جواب ﴿باقاعدگی سے لکھنا نو برس پہلے شروع کیا ویسے پندرہ برس کی عمر سے لکھ رہی ہوِں
سوال ٭محبت کے بارے میں آپ کا خیال.؟محبت کی جاتی ہے یا ہو جاتی ہے۔
جواب ﴿محبت اچھا جذبہ ہے اظہار مانگتا ہے اور اظہار ضروری ہے خواہ کسی سے بھی ہو ماں باپ بہن بھائی استاد دوست اولاد یا بیوی۔محبت ہوتی ہے یہ آفاقی جذبہ ہے اسے صرف ایک تناظر میں نہیں دیکھنا چاہئے۔
سوال ٭ایک لکھاری کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے؟
جواب ﴿ایک لکھاری کے پاس علم ہونا ضروری ہے وسعت خیال ضروری ہے
سوال ٭آپ کا کوئی ایسا افسانہ جسے لکھتے ہوئے آپ خود بھی آبدیدہ ہو گئی ہوں؟
جواب ﴿مجھے یہ سوال بہت پسند آیا ہے ۔ایک سچا قلم کار اپنے کرداروں کے ساتھ سانس لیتا ہے ان کے ساتھ ہنستا اور روتا ہے ۔ہلدی والی لکھتے ہوئے تو نہیںمگر ہمیشہ پڑھتے ہوئے اس عورت کا درد آج بھی محسوس کرتی ہوں ”ببول“لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم تھیں ۔
”ایوارڈ” لکھتے ہوئے ایک خوف کہ وہ سوال شاید کردار مجھ سے ہی پوچھ رہا ہے میں خوف سے کانپ گئی تھی ۔”بوڑھا پیڑ“ لکھتے ہوئے بھی آنکھوں میں نمی تھی ۔افسانے تو سب ہی دل سے لکھتی ہوں مگر یہ خاص دل سے قریب ہیں
پزیرائی کا سب سے خوب صورت لمحہ۔جب میرے افسانوں کو تین مختلف مدیران نے اپنے جرائد کے لیے منتخب کیا اور برلن کی افسانہ شام۔
سوال ٭شادی شدہ زندگی کو پہلے والی زندگی سے کتنا مختلف سمجھتی ہیں؟
جواب ﴿یکسر مختلف ۔شادی کے بعد قلم تھامنا خواتین کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہوتا
سوال ٭ میں نے عربی، اردو، انگریزی اور پنجابی ادب پڑھا ہے سب میں ایک بات یکساں نظر آتی ہے… یعنی… عورت… اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس سے ہٹ کر کچھ نہیں سوچا جا سکتا؟
جواب ﴿نہیں موضوع عورت نہیں انسان ہے اور ہر موضوع پر لکھا جارہا ہے۔ادب کا میدان بہت وسیع ہے خود میں نے بھی صرف عورت پر نہیں لکھا۔
سوال ٭آپ اپنی تحاریر سے معاشرے کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟
جواب ﴿میں پیغام نہیں دیتی یہ پیغمبروں کا کام تھا میں سبق بھی نہیں دیتی یہ کام استاد کے کرنے کا ہے میں تو جو محسوس کرتی ہوں لکھ دیتی ہوں اس سے جو کوئی کچھ اخذ کرلے۔
سوال ٭افسانوی ادب کہنے کو تو افسانوی ہے لیکن حقائق کا علمبردار ہے.. آپ اس صنفِ ادب میں کس سے متاثر ہیں؟
جواب ﴿افسانے میں حقیقت کی آمیزش یا حقیقت کو افسانوی انداز میں بیان کرنا کہ ادبی ذوق کی تسکین کے ساتھ ساتھ زندگی کے حقائق کی بھی عکاسی ہو یہی اس صنف ادب کی خصوصیت ہے ۔میں کسی ایک لکھنے والے سے متاثر نہیں ہوتی نہ چند ایک نام ہیں نہ ہی پرانے منجھے ہوئے بڑے ناموں سے میں کسی بھی نئے پرانے لکھنے والے کی ایسی تحریر جو دل کو چھو جائے انداز تحریر دلکش ہو اس سے متاثر ہوتی ہوں
سوال ٭مظالم کا شکار عورت پر طویل افسانے اور ناول لکھے جاتے ہیں۔۔مرد بھی مظالم کا شکار ہوتے ہیں تو کیا مرد اس ہمدردی کے مستحق نہیں
جواب ﴿ہر مظلوم ہمدردی کا مستحق ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس ہمدردی سے اس مظلوم کو عملی فایدہ کیا ہو رہا ہے ویسے مظالم کا شکار عورتوں پر زیادہ تر عورتیں ہی لکھتی ہیں جب کہ مرد اپنی صنف کا درد محسوس کر کے ان پر لکھتے ہیں ۔میں نے کچھ افسانے لکھے ہیں جن میں مردوں پر ہونے والی زیادتی کا بھی ذکر ہے اور آئیندہ بھی لکھنے کا ارادہ ہے سو میرا ضمیر اس حد تک مطمئن ہے کہ میرا موضوع صرف مرد یا صرف عورت نہیں بلکہ انسان ہے
سوال ٭خوبصورت عورتوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ھے۔ہمارے ڈائجسٹوں میں خوبصورت لڑکیاں بیحد زہین بھی بتائی جاتی ہیں۔دنیا کا ہر فن انکے پاس موجود پایا جاتا ھے۔۔حقیقت اسکے بر عکس ھے۔؟؟آپکا اس بارے میں کیا خیال ھے؟؟
جواب ﴿ خواتینی ڈائجسٹس میں شائع ہونے والی کہانیاں لڑکیوں کے لیے زہر قاتل ہیں وہ جو خوبصورت ہیں وہ شہزادوں کے خواب دیکھنے لگ جاتی ہیں اور جو کم صورت ہیں وہ ایک عجیب سے احساس کمتری میں آجاتی ہیں ۔ان میں بعض جو ذہین ہیں وہ اپنی کم صورتی کے آگے اپنی ذہانت کو ڈھال بنا کر احساس برتری کا شکار ہو جاتی ہیں جب کہ یہ بھی ایک کمپلیکسڈ شخصیت کی ہی ایک شکل ہے ۔جس دن ہم یہ سمجھ لیں کہ ذہانت شکل و صورت سے مشروط نہیں اور صرف اچھے ساتھی کی تلاش اور اس کا حصول ہی زندگی کا حاصل نہیں بہت بہتری ہو سکتی ہے
سوال ٭کسی انسان سے ملتے وقت شخصیت کے کن پہلو¶ں کا جائزہ لیتی ہیں ور کیوں؟؟
جواب ﴿مجھے دوسروں کا اخلاق متاثر کرتا ہے لباس شکل صورت تعلیم دولت ان سب کی میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی جب تک کوئی اپنی زبان اور انداز و اطوار سے خود کو بہترین شخص ثابت نہ کر دے۔
سوال ٭اگر آپ لکھاری نہ ہوتی تو کی ہوتیں۔
جواب ﴿میں لکھاری نہ ہوتی تو بھی لکھاری ہوتی ۔مجھے کسی جزیرے پر تنہا چھوڑ دیں میں زمین پرسے تنکے چن کر ریت پر تحریر کرنے لگ جاﺅں گی
سوال ٭کیا آپ سمجھتی ہیں کہ رائٹنگ نرسنگ۔۔ڈاکٹر۔۔ ٹیچنگ کے علاوہ بھی بہت سے شعبہ جات ھے جہاں عورت کا کردار ہوسکتا ھے؟؟
جواب ﴿زندگی کے ہر شعبے میں خواتین فعال ہیں ہو سکتی ہیں ان کو ہونا بھی چاہیئے ۔
سوال ٭کبھی دیکھا اینٹوں کے بھٹوں پر کمر سے بچہ باندھے کسی عورت کو مزدوری کرتے؟ اگر ایک پسماندہ طبقے کی عورت یہ سب کر سکتی ہے تو ایک مڈل کلاس عورت کیوں نہیں؟
جواب ﴿یہاں جرمنی میں میرے مشاہدے میں سڑکوں کی تعمیر میں بھی پیلی کیپ اور پیلی جیکٹیں پہنے عورتیں ہیں ۔ہماری عورت کسی سے کم نہیں بس تھوڑی سست ہے یا ہمارا مائینڈ سیٹ کہ عورت صرف مخصوص شعبوں میں کام کر سکتی ہے یا اسے کرنا چاہئیے۔
سوال ٭ہمارے معاشرے میں پردے کو آگے نہ جانے دینے کی وجہ بتایا جاتا ھے یا وجہہ بنا دیا جاتا ھے۔اس بارے میں کیا کہینگی۔۔۔؟؟
جواب ﴿جن خواتین نے کچھ کرنا ہے وہ پردہ میں بھی کر لیتی ہیں وہاں خواتین کے لیے پردہ کر کے کام کرنا کچھ ایسا مشکل نہیں یورپین ممالک میں ان کو ان مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ حوصلہ ہارے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہیں ۔معاشرے میں تبدیلی کے لیے اس سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے کہ چار دیواری سے باہر کی دنیا عورت کے لیے بھیڑیوں کی دنیا ہے اگر ایسا ہے تو عورت کے راستے مسدود کرنے کی بجائے ان بھیڑیوں کو پٹہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
سوال ٭آپ کے خیال میں یہ کس طرح ممکن ھے کہ سالوں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کیا جا سکے ۔عورت کے لئے علم اور فن کے راستوں کو ہموار کیا جا سکے؟؟ گو کہ اب دنیا کافی آگے بڑھ چکی ھے ور عورت ہر فیلڈ میں طبع آزمائی کر رہی ھے مگر اب بھی پاکستان میں بہت سے علاقہ جات ہیں جہاں کو دئے گئے حقوق محدود ہیں۔۔آج بھی عورت کی۔ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ حائل ہیں؟
جواب ﴿تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بھی تعلیم سے ہی دور کی جاسکتی ہے وہ خواتین جو تعلیم یافتہ ہیں اور عملی زندگی میں فعال ہیں وہ اس آگہی اور شعور کو جگانے میں مدد گار ہو سکتی ہیں اگر واقعی پرخلوص ہو کر نام و نمود کی خاطر نہیں معاشرے کی بہتری کی خاطر اس سلسلے میں کوشش کریں
دئیے سے دیا جلتا ہے
سوال ٭ہما فلک بادلوں کے اوپر بیٹھ کر، قلم میں روشنی بھر کر زمین اور زمین زادوں کے متعلق لکھتی ہیں۔۔۔مَیں ان کا بہت بڑا فَین ہوں۔۔۔سوال صرف ایک ہے۔کیا نثر کا اثر برقرار ہے؟ اگر ہاں تو کیسے اور اگر نہیں تو کیوں؟کیا نثر کا اثر برقرار ہے؟ اگر ہاں تو کیسے اور اگر نہیں تو کیوں؟(ظفر اقبال ہاشمی)
جواب ﴿آپ کے الفاظ میرے لیے کسی سند کا درجہ رکھتے ہیں دل کر رہا ہے انہیں سنہری حروف میں لکھ کر دیوار پر لگا دوں تاکہ ہمہ وقت سامنے رہیں۔میں یہ مانتی ہوں کہ نثر کا اثر برقرار ہے پڑھنے والے اپنے ذوق کی تسکین کے لیے اچھی چیز کی تلاش میں رہتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایک جملہ کوئی ایک بات دل کو ایسی چھو جاتی ہے جسے اپنی ڈائری (آجکل وال) کی زینت بنا لیا جاتا ہے۔یہ اثر باقی ہے تو آج بھی نثر میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے لکھا جارہاہے۔رہی بات اس سب کو پڑھ کر کیا معاشرے میِں کوئی مثبت تبدیلی پیدا ہوئی؟ تو میرا جواب ہے نہیں۔بچپن سے جہاں لالچ بری بلا ہے غرور کا سر نیچا جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ٹائپ باتوں کو کورس کاحصہ سمجھ کر رٹا تو لگایا جارہا ہے مگر اپنے اندر جذب کر کے کردار کا حصہ نہیں بنایا جارہا
مگر میں پھر بھی مایوس نہیں کہ ایک معمولی سا دیا بھی دور تک پھیلی تاریکی کو مات دے دیتا ہے اندر کی اچھائی آج بھی زندہ ہے جو ان لکھنے والوں کے لیے امید کی کرن بن کر نثر لکھوا رہی ہے۔
شکریہ محترمہ ہما فلک صاحبہ ۔ان شا اللہ امید ہے آئیندہ بھی کبھی ہم آپ کا انٹرویوز کریں گے ۔کیونکہ آپ کی لگن سے لگتا ہے آپ نے ابھی بہت آگے جانا ہے ۔لکھتی رہیں ،شاد رہیں ۔ہم حوصلہ رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن کی جانب سے آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا ۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

قاری سے لکھاری۔۔ الفت کا شہباز۔۔ یاسین صدیق

الفت کا شہباز ! محمد یاسین صدیق شاعر ، ادیب شہباز اکبر الفت بنیادی طور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے