سر ورق / کہانی / دئیے جلائے ہیں ۔ عروسہ وحید

دئیے جلائے ہیں ۔ عروسہ وحید

دوسری اور آخری قسط

”میں پوچھتی ہوں اخلاقیات نام کی کوئی چیز پھوپھو کلثوم میں موجود ہے کہ نہیں ۔یہ کوئی بات ہوئی ایک کو بغل میں دبا لیا اور باقیوں کو پوچھا تک نہیں۔سارا کام کر کر کے میری ہڈیاں دکھنے لگی ہیں اور وہ تمہیں سگھڑ کہے جا رہی تھیں۔“لائبہ نے اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔

”اور میں نے ساری زندگی میں اتنے پیاز نہیں کاٹے جتنے آج کاٹنے پڑے ہیں ۔سارا کام میں نے کیا، لہسن سے لے کر کیاری سے دھنیا توڑنے تک میں گئی ،تین تین دفعہ اَن دُھلے برتنوں کا انبار دھویااور یہ مہارانی بس چمچ ہلا کر سارا کریڈٹ حاصل کر لیا۔“شزا نے بھی اپنی تکلیف ظاہر کر دی۔

”اب تم دونوں کی شکلیں ہی اتنی معمولی سی ہیں کہ نوٹس لینے کو دل ہی نہیں چاہتا ۔تو اس میں میرا یا پھوپھو کا کیا قصورہے۔“پتیلی میں چائے کے لیے دودھ ڈالتی سمن نے نہایت آرام سے جواب دیا۔”پھوپھو کی نظر میرے خوبصورت چہرے سے ہٹتی تو انہیں تم دونوں نظر آتی۔“

”اصل میں پھوپھو کی نظر نہایت ہی کمزور ہو گئی ہے جو وہ تمہاری تعریفوں کے پُل باندھ رہی تھیں۔ہم دونوں نے کتنی کوشش کی تمہاری ویلیوپھو پھو کے سامنے کم ہو جائے۔مگر پتہ نہیں تم نے کیا گھول کر پلایا تھا جو تم سے محبت جتائی جا رہی تھی۔“عجلت اور غصے میں لائبہ کے منہ سے غلط جملہ پھسل گیا تھا۔

”یعنی تم دونوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیا پر جیت ہمیشہ خوبصورتی کی ہوتی ہے۔آج تم دونوں نے ثابت کر دیا کہ برائی کی طاقت جتنی مرضی ہو اچھائی کے سامنے کبھی نہیں ٹک سکتی۔“پیالیوں میں چائے انڈیلتی سمن نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”بھاڑ میں جاﺅ۔تم اور تمہاری پھوپھو۔“ لائبہ کے نتھنے پھولنے پچکنے لگے۔

”وہ ٹرکو ںکے پیچھے لکھا ہوتا ہے نا،جلنے والے کا۔۔۔ بالکل یہی حالات تمہارے ہیں۔ دھویں کی بُو آ رہی ہے“سمن کہتی ہوئی ٹرے اٹھا کر ڈرائینگ روم میںچلی گئی۔

٭٭٭

                                چائے خوشگوار ماحول میں پی گئی ۔پھوپھو ،دادی سے باتیں کیئے جا رہی تھیں۔

”اماں میری بھتیجی کے ہاتھ میںبہت ذائقہ ہے اس میں تو کوئی شک نہیں۔یہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سلیقہ مند بھی ہے۔کیسے سارا گھر بھی چم چم کر رہا ہے۔“پھوپھو نے چائے پیتے ہوئے کہا۔

لائبہ اور شزا کی شکلوں کے زاوےے پھر سے بگڑنا شروع ہو گئے تھے۔

”نہیں پھوپھو۔“سمن یکدم بول پڑی۔”اگر میری بہنیں میری مدد نہ کرتی تو میں اب تک کھانا ہی بنا رہی ہوتی۔ ہم تینوں نے مل کر سب کام کیئے ہیں ۔اور گھر تو سارا لائبہ نے صاف کیا ہے۔میں تو کچن میںمصروف تھی۔“سمن نے اپنی خمدار پلکیں جھکا کر کہاتوسمن کی اس بات پر لائبہ اور شزا کے چہرے جلتے ہوئے نیون سائن کی طرح جگمگا اٹھے۔اور انہیں اپنی سابقہ گفتگو جو سمن کی ویلیو کم کرنے کے لیے کی تھی اس پر دونوں شرمندہ ہو گئیں۔

”اچھا اماں۔میں نے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔“پھوپھو سب کچھ چھوڑ چھاڑدادی کی جانب متوجہ ہو گئی۔”ہمارا گھر سیٹ ہونے میں ابھی تین چار دن لگ جائیں گے اور ندیم اپنے دوست جو یہاں لاہور میں ہی رہتے ہیں۔ان کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کرنا ہے۔ ان کی ان سے فون پر بات ہو گئی ہے۔اچھرہ میں ریڈی میڈ کپڑوں کی بہت بڑی دکان بنائی ہے یہ بھی اپنے دوست کے ساتھ مل کر وہی دکان چلائیں گے۔احسن تو اپنے پیروں پر کھڑا ہے بس مجھے اب اپنے بیٹے کے لیے اچھی سی لڑکی تلاش کرنی ہے۔اور اس معاملہ میں آپ ہی میری مدد کر سکتی ہیں۔“

”ہاں ہاں میں تمہاری مدد ضرور کروں گی آخر کو میرا اپنا نواسہ ہے۔تم اپنا گھر وغیرہ سیٹ کر لو پھر دیکھتے ہیں ۔“دادی نے پھوپھو کو بھر پور تسلی دی۔اچانک سمن کی نظر غیر ارادی طورپر احسن پر پڑی تو ایک عجیب سا احساس سمن کے جسم میں سرسرانے لگا۔احسن کی نظروں نے پھر سے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ چہرے پرآئی پسینے کی بوندیں دوپٹے کے کونے سے صاف کی اور بڑھتی ہوئی دھڑکن کو قابو میں کرتی سمن خالی کپ اٹھائے باہر کو چلی گئی۔

٭٭٭

                پھو پھو کلثوم لوگ چار دن ان کے گھر رہے پھر ان کا گھر پوری طرح سے سیٹ ہو گیا اوروہ اپنے گھر چلے گئے۔ان چار دنوں میں سمن احسن کے سامنے کم کم ہی گئی بلکہ وہ یہ کوشش کرتی رہی کہ وہ اس کے سامنے بالکل ہی نہ جائے۔وہ احسن کی بولتی ہوئی آنکھوں کی وجہ سے خائف رہنے لگی۔ نجانے کیا تھا کہ وہ اسے کیوں ایسی نظروں سے دیکھتا ہے ۔ایسا پہلی بار اس کے ساتھ ہوا تھا اور یہی بات اسے پریشان کیئے رکھتی۔پھوپھو لوگوں کے جانے کے بعد وہ دیر تک احسن کے بارے میں سوچتی رہی اوردیر تک سوچنے کے بعد بھی اسے کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے لائبہ کو پکڑا اور اسے لے کریٹرس پر آ گئی

”کیا ہوا تم مجھے یٹرس پر کیوں لے کر آئی ہو ؟“لائبہ نے اس سے پوچھا۔

”وہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“سمن نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

کہیں تم مجھ سے کوئی چیز تو نہیں مانگنے والی میںتمہیں اپنی کوئی بھی چیز دےنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔تم نہایت ہی لا پراہ قسم کی لڑکی ہو۔ تمہیں چیز دیتے وقت کم از کم ایک کروڑ بار سوچنا چاہئے۔“

”بکواس بند کرو اپنی، میں تم سے احسن کے بارے میں بات کرنے تمہیں یہاں لائی ہوں۔“

”احسن،اسکے بارے میں تمہیں کیا بات کرنی ہے؟“ لائبہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

”وہ ۔۔۔وہ احسن جب سے ہمارے گھر میں آیا تھا۔مجھے گھورنا شروع کر رکھا ہے اس نے۔ ایسے گھورتا ہے جیسے میں نے اس کا ادھار باقی دینا ہو یا پھر ا سکی کسی سگی والی کا قتل کر ڈالاہو۔پلیز لائبہ تم میری مدد کرو میں بہت پریشان ہوں میں نے صرف تمہیں اپنے دل کی بات بتائی ہے شزا کو تو میں بالکل نہیں بتاﺅں گی۔کیونکہ وہ اپنا راز نہیں رکھ سکتی تو میرا کیسے چھپائے گی۔اگر اس بات کی بھنک دادی کو پڑ گئی۔ وہ بجائے اسے کچھ کہنے کے میری قبر کھودا کر مجھے زندہ گاڑ دے گی۔“

”سمن تمہاری حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ تمہیں گھورا جائے خاصا عقل مند ہے وہ احسن پہلی نظر میں ہی پہچان گیا کہ تم گھورنے کے ہی قابل ہو۔“

”میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے ۔“سمن روہانسی ہو کر بولی۔

”اچھا ٹھیک ہے خاک ڈالو ساری باتوں پر۔ میں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ احسن تمہیںندیدی نظروں سے دیکھ رہا ہے ایسا لگتا تھا جیسے ساری زندگی اس نے کوئی لڑکی نہ دیکھی ہو۔“

تواب میں کیا کرو ں“۔سمن نے فکر مندی سے پوچھا۔

”بدلہ۔۔۔“لائبہ نے فٹ کہا

”بدلہ کیسا بدلہ ؟“سمن نے نہ سمجھتے ہوئے بولی۔

”بھئی سیدھی سی بات ہے وہ تمہیں گھورتا ہے ۔تم اسے گھورنا شروع کر دو حساب برابر۔“لائبہ کے انداز میں سرمو فرق نہ آیا۔

”تم دفع ہو جاﺅ یہاں سے میں نے سمجھا تم میری مدد کرو گی مجھے اس مصیبت سے نکلنے کا رستہ بتاﺅ گی ۔لیکن تم! میری ہی غلطی تھی جو میں نے تمہیں اپنا ہمدرد سمجھا۔“سمن پھر سے روہانسی ہو گئی۔

”ارے سمن تم اتنی سیریس کب سے ہو گئی ۔میں تو مذاق کر رہی تھی۔اور تمہیں پتہ ہے میں نے ایک جگہ پڑھا تھا جب لڑکا کسی لڑکی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پسند کرتا ہے ہو سکتاہے احسن بھی تمہیں پسند کرتا ہو۔“سمن پہلے تو اس کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئی پھر ایک دم دھاڑی۔

”تم ابھی مر جاﺅ اللہ کر ے تمہاری قبر میں شیس ناگ پھنکاریں ۔منکر نکیر بھی سوالات پوچھتے وقت تم سے ایسے ہی مذاق کریں جیسا تم اب میرے ساتھ کر رہی ہو۔“وہ ایک ہی سانس میں اتنی ساری بددعائیں دیتے ہوئے سیڑھیاں اتر گئی اور لائبہ اسے پیچھے سے یہ کہتی رہ گئی۔

”ارے میں اب کی بار بالکل بھی مذاق نہیں کر رہی۔میں سچ کہہ رہی ہوں ۔وہ تمہیں پسند کرتا ہے سمن رکو توسہی۔“لائبہ اسے پکاتی رہی اور وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی تھی۔

٭٭٭

                دن بہت ہی عجیب ہو گئے تھے سکڑے سکڑے بوجھل سے۔باقیوں کا تو پتا نہیں لیکن سمن کے لیے وقت تھم سا گیا تھا۔ اس کے دماغ میں تو بس وہ بھوری آنکھیں سمائی رہتیں۔ کچن میں بھوری آنکھیں اسے دیکھ کر مسکراتی ،ٹی وی دیکھتے ہوئے اچانک بھوری آنکھیں نمودار ہو کر اسے دیکھنا شروع کر دیتی۔وہ یہاں بھی جاتی وہی بھوری آنکھیں اس کا پیچھا کرتیں۔بھوری آنکھوں سے پیچھا چھڑاتے چھڑاتے دن ڈھلنے کا پتہ نہ چلتا ،جیسے کسی ڈھلوان پر پتھر لڑھک گیا ہو۔اسے کیوں ایسے لگتا ہے کہ وہ بھوری آنکھیں اسے کچھ کہنا چاہتی ہیں، کچھ بتانا چاہتی ہیں، کچھ بولنا چاہتی ہیں۔بھوری آنکھوں کا طلسم اس کے گردعنکبوتی جال بن رہا تھا۔اور آخر وہ بھوری آنکھیں جو چاہتی تھی وہ حاصل کر کے اس کے دماغ سے نکل گئی وہ بھوری آنکھیں سمن کی محبت چاہتی تھیں اور ان بھوری آنکھوں نے سمن کی محبت حاصل کر لی تھی۔ہاں سمن کو محبت ہو گئی تھی ان بھوری آنکھوں سے بلکہ اس دبی ہوئی مسکراہٹ والے شخص سے بھی محبت ہو گئی تھی۔

٭٭٭

آج اتوار کا دن تھا سب لوگ ہی گھر پر موجودتھے۔دادی اور لائبہ مل جل کر بڑے چاﺅ سے اچار تیار کر نے کے لیے کئی کریوں پر مسالہ لگا رہیں تھی۔شزا اور زین دادی کی گھوریوں سے ہچکچائے بغیر مثالے لگی کیریاں اٹھا اٹھا کر کھائے جا رہے تھے۔سمن ان سب سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھی فیشن میگزین جس میں میک اپ کیسے کیا جائے کا طریقہ اور جدید تراش خراش کے ملبوسات کے ڈائزئن وہ بڑے انہماک سے دیکھ رہی تھی۔اچانک بیل ہوئی زین جب پتہ کر کے واپس آیا تو وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ پھوپھوبمعہ اپنی فیملی موجود تھیں۔

”ارے کلثوم بیٹا تم!“دادی پھوپھو کو دیکھتے ہی سب کام چھوڑ چھاڑ کر خوشی سے جھوم اٹھیں۔”آنے سے پہلے اطلاع تو کر دیتی کچھ اہتمام وغیرہ ہی کر لیتے۔“

”اب مجھے اپنے گھرآنے سے پہلے بھی اطلاع کرنی پڑے گی ۔“پھوپھو نے پیار بھرے انداز میں گلہ کیا۔

”ارے تمہارا اپنا گھر ہے جب چاہو مرضی آﺅ میںنے تو اسے ہی کہا تھا۔“دادی بول پڑی۔

”اور سناﺅ بچیوں تم سب کیسی ہو؟“پھوپھو نے اپنائیت بھرے انداز میں تینوں لڑکیوں سے پوچھا۔

”اللہ کا شکر ہے پھوپھو ،ہم سب ٹھیک ہیں۔“

”اے اپنی پھوپھو کو کھڑے رکھنے کا ارادہ ہے یا بیٹھنے کے لیے بھی کہو گی۔“دادی نے ان کی توجہ دلائی۔

”نہیں اماں آج ہم لوگ بیٹھنے نہیں بلکہ تم لوگوں کو اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں۔آج موسم بڑا سہانا ہے میرا دل چاہ رہا تھا کہ اس سہانے موسم میں پکنک پر جانا چاہئے۔چلو لڑکیوں تم جلدی سے تیار ہو جاﺅ۔ میںاتنی دیر میں بھابھی سے مل کر آتی ہوں۔“یہ بات سن کر ایک لمحے کے لیے تو لڑکیوں کے چہرے چمک اٹھے۔اور جب انہوں نے دادی کی جانب دیکھا تو دوسرے ہی پل بجھ گئے۔کیونکہ ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔پھوپھو نے پہلے دادی اور پھر لڑکیوں کے چہرے کی جانب دیکھا اور بولی۔”ارے تم لوگ ابھی یہی کھڑی ہوجاﺅ گی نہیں ۔اماں آپ میرے ساتھ کمرے میں آئیں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔“

تینوں لڑکیاں اپنے کمروں میں چلی گئیں۔زین احسن اور پھوپھو جی ڈرائنگ روم میں چل دیئے۔پھوپھو دادی کو لے کر ان کے کمرے میں چلی گئی۔

                ”دیکھو کلثوم !تم اس گھر کے حالات اور اصولوں سے اچھی طرح واقف ہو پھر بھی تم سیر سپاٹوں کی بات کر رہی ہو۔میں لڑکیوں کو تب تک کہیں بھی باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی جب تک وہ اپنے گھر بار والی نہیں ہو جاتیں۔“دادی لہجے اور چہرے پر سنجیدگی طاری کرے ہوئے بولی۔

”دیکھیں اماں۔“پھوپھو ان کو نرماہٹ سے سمجھاتے ہوئے بولی۔”مانا کہ بے جا آزادی اچھی بات نہیں ہے۔لیکن کبھی کبھار تفریح انسان کا حق ہے۔اگر آپ لڑکیوں پر اسی طرح پابندیاں عائد کرتی رہیں گی، ہر بات پرحدسے زیادہ روک ٹوک ان کو آپ سے بد ظن کر دے گی۔“

”لیکن وہ تو یہاں پر بہت خوش ہیں میری ہر بات کو مانتی ہیں مجھے ایسا کبھی بھی محسوس نہیں ہوا کہ میری روک ٹوک سے وہ بھی مجھے سے ناراض یا بد ظن ہوئی ہوں اور میں ان کے بھلے کے لیے ہی ایسا کرتی ہوں۔تا کہ کل کو وہ اپنے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر سکیں۔“

”آپ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں اماں ۔لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے سامنے کچھ نہ کہتی ہوں مگر ان کے دل میں یہ بات ضرور آتی ہو گی جب وہ اپنی ہم عمر لڑکیوںکو وہ سب کرتا دیکھتی ہوں گی جو وہ خود نہیں کر سکتی۔ اماں آپ نے ان کو کٹ پتلیاں بنا رکھا ہے وہ کپڑے کس طرح کے پہنیں، یہ آپ فیصلہ کرتی ہیں۔وہ کیا کھائیں وہ کس سے ملیں اور تعلیم تک آپ ہی کی مرضی چلی ہے۔اماں پانی بھی ایک جگہ اکٹھا رہے تو اس میں بھی بد بو پیدا ہو جاتی ہے ۔یہ تو پھر بھی جیتی جاگتی سانس لیتی لڑکیاں ہیں۔اور آپ کو تو اس بات پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کرنا چاہئے کہ وہ گمراہی کے راستے پر نہیں گئیں۔“پھوپھو نے اپنے لہجے میں پیار سموتے ہوئے کہا۔پھوپھو کی بات سن کر وہ سوچ میں ڈوب گئی۔کیا واقع انہوں نے اپنی پوتیوں کے ساتھ زیادتی کر دی ہے۔او ر جو کلثوم نے ابھی ابھی کہا ہے وہ سچ ہی تو تھا وہ میری مرضی پر ہی تو جی رہی تھیں۔اوپرسے چاہے لاکھ وہ جتائیں کہ وہ خوش ہیں لیکن دل سے تو وہ مجھ سے بد ظن ہو چکی ہوں گی۔دادی کے دل میں ایک ملال سا ہونے لگا اور ایک فکر مندی ان کے چہرے پر صاف عیاںہو رہی تھی۔وہ خود کر لڑکیوں کا قصور وار سمجھ رہی تھیں۔

”اماں اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔پرانی سوچوں کو اب دل سے نکال دیں اوراب آگے کا سوچئے کہ کیا کرنا ہے۔“ پھوپھو اپنی ماں کے چہرے پر اپنی پوتیوں سے کی جانے والی زیادتی کی شرمندگی او رآنکھوں میں ندامت دیکھ کر بولی۔”اماں اب ہم لوگ پکنک منانے جا سکتے ہیں کیا؟“اور دادی نے اپنی آنکھوں میں آتی نمی کو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔

٭٭٭٭٭٭

جب لڑکیوں کو پتا چلا کہ دادی نے پکنک میں جانے کی اجازت دے دی ہے تو ان کو خوشی کے مارے ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے بچا۔سب لوگ ہی جا رہے تھے بڑے ابو نے اپنے دوست کی وین کرائے پر منگوائی تھی۔احسن کے پاس گاڑی تھی۔ پھوپھو نے تینوں لڑکیوں اور زین کو اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا اور باقی سب وین میں آئیں گے اور ان بزرگان میں بیچارا ابرار بھی موجود تھا۔وہ سب گاڑی اور وین میں بیٹھ گئے تو لائبہ یکد م سے بولی۔

”ابرار بھائی کو ہمارے ساتھ اس گاڑی میں ہونا چاہے تھا بھلا وہ اس وین بزرگان میں بور نہیں ہو رہے ہوں گے۔“

”لائبہ آپی اگرآپ کی نزدیک کی نظر ٹھیک ہے تو دیکھیں یہ گاڑی ہے کوئی بس نہیں جس میں ہم سب سما جائیں۔اور گاڑی میں صرف پانچ لوگوں کی ہی گنجائش ہوتی ہے۔“اس پر لائبہ نے زین کو خطرناک قسم کی گھوری سے نوازا۔احسن نے ڈیش بورڈ کھول کر ایک ڈسک منتخب کی اور سی ڈی روم میں ڈال کر سی ڈی آن کر دی۔عمران ہاشمی کے گانے سے گاڑی کی فضا بھر گئی۔

                دل عبادت کررہا ہے۔

                دھڑکنے میری سن

                تجھکو میں کر لوں حاصل

                لگی ہے یہی دھن

سمن کو یہ گانا بہت پسند تھا اس کا پاﺅں خود بخود لے کے ساتھ تھرکنے لگا۔

ایک دم سے وہ چونک اٹھی تھی۔بیک ویو مرر میں احسن کی نظریں اسی پر مرتکز تھیںاور ہونٹوں پر ایک پیاری سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔کچھ جتاتی ہوئی سی۔

گانے کے بول سمن کو یوں لگے، ’اُف اللہ ، وہی نظریں۔۔‘جیسے وہ اپنے دل کا حال اسے بتا رہا ہو۔اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔احسن کو مسکراتے دیکھ کر وہ کھڑکی کی طرف رخ موڑ کر بیٹھ گئی ۔لیکن سارے راستے اس کی نظریں سمن کو خائف کرتی رہیں۔

                کالی سیاہ تارکول کی سڑک پر ان گنت سواریاں گزر رہی تھیں تینوںلڑکیاں زن زن کر کے گزرنے والی نئے ماڈل کی گاڑیوں بسوں،ویگنوں اور موٹر سائیکل کو بڑے اشتیاق سے دیکھ رہی تھیں۔ان کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔

”ارے یہ کیا۔۔۔“زین ایک دم سے بولا تارکول کی سیاہ سڑک پر گاڑی چلتے چلتے اچانک دھول مٹی سے بھری کچی سڑک پر چلنے لگی۔”ہم کہاں جا رہے ہیں احسن بھائی؟“زین نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

”جہاں ہمیں یہ وین لے جا رہی ہے اور یہ ہم کو تب ہی پتہ چلے گا جب وین رکے گی۔“

پھر جب وین رکی تو یہ بھی راز کھل گیا کہ وہ لوگ کہاں آئے ہیں۔یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور پر سکون جگہ تھی یہاں پر بہتی ہوئی نہر گھنی شاخوں والے درخت اور بڑے بڑے پتھر پڑے تھے۔جن کو دیکھ کر لڑکیوں کو مری کے پہاڑوں کی یاد آئی جن کو صرف انہوں نے پڑھاتھا دیکھا کبھی نہیں تھا۔اور سب سے بڑ ھ کر اس خوبصورت جگہ کی خاصیت یہاں رش بہت کم تھا ۔یہ ایک بہت ہی زبردست پکنک اسپاٹ تھا۔یہاں پر آنے کا مشورہ پھوپھو کلثوم کا تھا کیونکہ وہ سکول کے زمانے میں اپنی ماں سے چھپ کر اپنی سہلیوں کے ساتھ اکثر املی اورکچی کیریاں آ کر کھایا کرتی تھیں۔تینوں لڑکیاں ایک درخت کے موٹی شاخ پر بیٹھ گئیں جو پانی پر جھکا ہوئی تھی ۔وہ تینوں پانی میں پاﺅں لٹکائے بیٹھی تھیں۔

”یہ پھوپھو تو خاصی چالاک نکلی۔ہمیں تو دادی ساتھ والے گھر بھی جھانکنے نہیں دیتی اور یہ یہاں کیریاں کھانے آتیں تھیں اتنی دور۔پتا نہیں پھوپھو کے اور کون کون سے تاریک پہلو ہم پر طلوع ہو ں گے۔خاصی آوارہ قسم کی ثابت ہوئی ہیں یہ پھوپھو کلثوم۔“لائبہ نے اپنے دل میں آئی بات کہہ دی۔

”خبر دار پھوپھو کو کچھ مت کہنا۔“سمن ایک دم بول پڑی۔

” کتنی نا شکری ہو تم ایک تو وہ تمہیں یہاں لے کر آئیں تمہاری معمولی شکل کو نظر انداز کرنے کے باوجود تمہیں اتنی عزت دی۔میں ابھی جا کر دادی کو بتا دو کہ تم ان کی لاڈلی بیٹی کے لیے ایسی فضول زبان استعمال کر رہی ہو تو وہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسی پانی میں پھینک دے گی ۔اور مگر مچھ تمہارے ٹکڑوں کو چبا چبا کر کھائیں گے ۔ تمہیں بڑا شوق ہے ساتھ والے گھر میں جھانکنے کا۔ مجھے پہلے ہی شک تھا تم رینا کے بغیر بتیسی والے دادے کو پسند کرتی ہو۔ اسی لیے تمہیں دادی سے شکوہ ہے اورتمہیں شرم نہ آئی بیچاری رینا کی بوڑھی دادی کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے آخر وہ اس بھرے پرے بڑھاپے میں کہاں جائے گی۔“

لائبہ ابھی جوابی حملہ کرنے ہی والی تھی کہ شزا بول پڑی۔

”وہ دیکھو احسن بھائی کے ساتھ یہ لڑکی اور بے ڈھنگا سا آدمی کون ہے؟“

ان دونوں نے دیکھا تو احسن پہلے اس جنگلی بھینسے جیسے شخص کے ساتھ گلے مل رہا تھا دوسرے ہی پل اس کے ساتھ کھڑی لفنگی سی لومڑی جیسی لڑکی سے ہاتھ ملانے لگا۔سمن کو تو وہ لفنگی ہی لگی تھی ایسے بھلا کوئی غیرلڑکے سے ہاتھ ملاتا ہے۔

”ہاتھ چھوڑو کمینی کہیں کی ۔“مارے غصے اور جلن کے سمن نے لائبہ کا ہاتھ مروڑ ڈالا۔

”اندھی ہو کیا میرا ہاتھ تم نے پکڑرکھا ہے“ لائبہ نے اپنا ہاتھ چھڑکر درد سے چیختے ہوئے کہا۔

’کون ہے یہ لمبوترے چہرے والی ٹیڑھے میڑھے لمبے دانت نکالے ہنسے جا رہی ہے۔“سمن اٹھ کر پھوپھو کی طرف بھاگی ۔شزا بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے پھوپھو کے قریب چلی گئی۔لائبہ پانی میں پاﺅں بھگونے کا ختم کرنا نہیں چاہتی تھی۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا تو وہ احسن کا باس او ر اس کی بیٹی تھی ۔تھوڑی دیر احسن کے پاس کھڑے رہنے کے بعد وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔اس جگہ پر سب کچھ تھا نہر کا پانی، گھنے درخت ،بادل۔۔ نہیں تھے تو صرف پھول۔پتا نہیں احسن کہاں سے ایک گلاب کا پھول لے کر آ گیا۔سب ہی نے حیرانگی سے پوچھا لیکن وہ ٹال گیا۔

”ہائے کاش یہ پھول مجھے دے دیں۔“سمن نے دل میں سوچا۔

احسن نے پھول سونگھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور ہنس پڑا۔

”ہنستے ہوئے کیسے دل میں گھسنے لگتا ہے کمبخت ایسا لگتا ہے جسم سے روح کھینچ لے گا۔“اس کی نظریں اپنی جانب متوجہ پا کر یکدم ہی سمن کی نظریں بہتے پانی پر پھلسنے لگیں۔یہاں وہاں گھومنے پھرنے اور پانی میں پتھر پھینک پھینک کر وہ سب ہلکان ہو گے تو دادی نے گھر واپس چلنے کو کہا۔وہ سب ایک کبھی نہ بھولنے والا خوبصورت دن بتا کر خوشی خوشی واپس آ گئے۔

٭٭٭

”ہیلو۔!کلثوم بیٹا کیسی ہو تم؟“دادی نے فون پر پوچھا

”میں ٹھیک ہوں اماں آپ کیسی ہیں اورخیریت فون کس لیے کیا؟“ وہ بولیں

”سب ٹھیک ہیں اور میری بات غور سے سنو۔ میں نے احسن کے لیے لڑکی ڈھونڈنے کا کام ایک رشتے والی سے کہا تھا۔اس نے ایک لڑکی ڈھونڈی ہے آج ہی ہمیں دیکھنے جانا ہے۔تم جلدی سے آ جاﺅ۔“دادی نے کہا

”لیکن اماں میںنے تو کچھ اور سوچ رکھا ہے۔“پھوپھو بولی۔

”اے وہ بعد میں دیکھا جائے گا پہلے تم یہاں آﺅ میں نے زبان دی ہے اور لڑکی والے بھی ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔تم بس جلدی سے آ جاﺅ ۔اللہ حافظ۔“دادی نے کہتے ہوئے فون کھٹاک سے بند کر دیا۔سمن جو دادی کو دوا دینے کے لئے ان کے کمرے میں آئی تھی یہ سب سن کر اسے شدید جھٹکا لگا۔اس کے ہونٹ کپکپائے او ر آنکھیں شفاف پانیوں سے بھرنے لگیں۔اس نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے جلدی سے دادی کو دوا پلائی اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آ گئی۔لائبہ الماری کی صفائی کر رہی تھی ۔اس کی موجودگی میں پھر سے اسے اپنے آنسو ضبط کرناپڑے اور چپ چاپ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا ئے خاموشی سے چھت کو گھورنے لگی۔لائبہ نے اسے یوں خاموش بیٹھے دیکھا تو چونک اٹھی ۔وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔وہ چند ثانےے چپ رہی پھر اس کے قریب جا کر بولی۔

”کیوں منہ لٹکا کر بیٹھی ہو؟“ابھی لائبہ کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ سمن کا ضبط جواب دے گیا اور آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔”ارے یہ معجزہ کب ہوا تم تو رولانے والی تھی دوسروں کو آج خود رو رہی ہو۔“وہ پھر بھی کچھ نہ بولی او ر اگے بڑھ کر لائبہ کے گلے لگ گی۔لائبہ بھی پریشان ہو گئی ۔”اے سمن کچھ بولو بھی کہ ہوا کیا ہے آخر؟“لائبہ فکر مندی سے بولی۔

”دادی اور پھوپھو احسن کے لئے لڑکی دیکھنے جا رہے ہیں۔“سمن بھیگی ہوئی آواز میں بولی۔

”ہائیں۔یہ تو اچھی بات ہے ہر تم رو کر منحوست کیوں پھیلا رہی ہو؟“لائبہ کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا ۔”پہلے تمہیں اس سے یہ پرابلم تھی کہ وہ تمہیں گھورتا ہے اب اس کے لیے لڑکی دیکھی جا رہی ہے تب تمہیں تکلیف شروع ہو گئی ہے۔آخر تم چاہتی کیا ہو؟“لائبہ نے اسے اپنے سے الگ کرتے ہوئے کہا۔

”میں پھوپھو کی بہو بننا چاہتی ہوں۔“سمن نے ایک زور دار دھماکہ کیا پہلے تو لائبہ کو سمجھ میں ہی نہ آیا کہ وہ کیا کہے پھر اپنے حواس قابو میں کرتی ہوئی غصے میں بولی۔

 ”مکار لڑکی تم نے مجھے بھی نہیں بتایا کب سے چلا رکھا ہے تم نے یہ چکر؟“

”میں نے کوئی چکر وکر نہیں چلا رکھا کسی سے۔احسن کو تو پتا بھی نہیں ہے اور مجھے خود پتہ نہیں چلا کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔“سمن کہتے ہوئے پھر سے رونے لگی۔

”اچھا ٹھیک ہے، رو کر مزیداپنی شکل مت بگاڑو پہلے ہی حسن کا کال پڑا ہواہے۔اوپر سے آنکھیں خراب کر کے مزید اپنی بد صورتی میں چار چاند لگاﺅ گی میں کچھ کرتی ہوں۔“ وہ بولی

”تم کیا کرو گی ؟“سمن نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

میں اس لڑکی کا ایسا نقشہ احسن کے سامنے کھینچوں گی کہ وہ دادی اور پھوپھو کو مجبور کر دے گا کہ وہ آئندہ اس کے لیے کوئی بھی لڑکی دیکھنے نہ جائیں۔“

”لیکن یہ سب ہو گاکیسے؟“ وہ حیرت سے بولی

”بس تم دیکھتی جاﺅ ۔میں ایسا کھیل کھیلوں گی کہ تم حیران رہ جاﺅ گی۔“لائبہ ، سمن کو حیران و پریشان چھوڑتی ہوئی باہر چلی گئی۔

٭٭٭

”اس لڑکی کو دیکھ کر بے ساختہ اپنے بال نوچ کر جنگل میں بھاگ جانے کو دل چاہتا ہے۔عجیب قسم کی مردانہ وار لڑکی تھی وہ بلکہ مجھے تو وہ لڑکی لگی ہی نہیں وہ تو کوئی قبروں کا دروغہ ہی لگتی تھی۔لمبے چہرے پر بیک کومنگ والا ہیر سٹائل ہی ہمارا ہارٹ فیل کرنے کے لیے کافی تھا۔اس کے چہرے پر اتنی جھریاں تھیں کہ سورج کی آنکھوں میں بھی شرم کے مارے آنسو آجائے کہ میری شعاعیں اس کی جھریوں سے بھی کم ہیں۔اس کے ہاتھ دیکھ کر متلی کرنے کو جی چاہا۔ناخن جنہیں صدیوں سے نہ کاٹا گیا ہواور ان میں پھنسا میل توبہ توبہ (لازمی کہا جائے)ہونٹ کسی اونٹ کے ہونٹوںسے مشابہ تھے۔اور ان پر دل دہلا ینے والا بد نما کالا منہ دیکھ کر ہی کلیجہ منہ کو آ جائے۔قد اس کا اتنا لمبا تھا کہ چھے فٹ کا ہٹا کٹا شخص اس کے ساتھ کھڑا دو فٹ کا ”کاکا“ لگے۔“

”کیا بکواس ہے کس جنگلی فلم کی اسکرپٹ ہے یہ۔“زین نے غصے سے وہ صفحہ بیڈ پر بیٹھی لائبہ کے سامنے پھنکتے ہوئے کہا۔

”یہ کسی بھی فلم کی اسکرپٹ نہیں ہے اور اس کو اچھے طریقے سے یاد کر لو ۔پھر تمہیں پھوپھو اور دادی کے ساتھ لڑکی دیکھنے جانا ہے اور آ کر تمہیں یہ احسن کو بتانا ہے کہ لڑکی ایسی تھی اور ہاں اس میںمیں لکھنا بھول گئی کہ خالہ شٹل کاک ہمیشہ ایسے ہی گھٹیا اور عجیب رشتے دکھاتی ہے۔آئندہ آپ ان رشتوں سے پرہیز کریں۔شکریہ۔“

”آپ کو یہ خوش فہمی کیوں لا حق ہو گئی ہے کہ میں یہ بکواس یاد کر کے احسن بھائی کو سناﺅں گا او ر ویسے میراانہوں نے کیا بگاڑا ہے جو میں ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ پیدا کروں ۔اور آپ کو انہوں نے کیا کہا ہے جو آپ ان کے ساتھ اتنا برا کر رہی ہیں؟“ زین نے ان دونوں کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”تمہیں جتنا کہا گیا ہے اتنا کرو۔تہہ تک جانے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس کو فوراً یاد کرو اور یہاں سے چلتے پھرتے نظر آﺅ۔“لائبہ نے اسے وارننگ ہوئے کہا۔

”آپ ہوتی کون ہیں مجھ پر یوں رعب جمانے والی ۔میں ابھی جا کر دادی کو بتاتا ہوں اس بارے میں پھر دیکھنا کیا زبردست شو چلتا ہے۔“

”ٹھیک ہے پھر ہم ہی ابرار بھائی کو بتا دیں گے کہ اپنی خون پسینے کی کمائی گئی رقم تمہارے پاس بطور امانت رکھتے ہیں تم ان پیسوں میں سے چوری کر کے اپنی اس ڈبل بیٹری آنکھوں سے پیدل گرل فرینڈ کو آئے دن گفٹ دیتے ہو اور اگر پھر بھی تم نہ مانے تو ہم اس بیٹری کو فون کر کے یہ کہہ دیں گے کہ یہ خود تو خیانت کر کے دوزخ کی آگ میں جلے گا تمہیں بھی اپنے ساتھ جہنمی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔تمہیں چوری کیے ہوئے پیسوں سے گفٹ دے کر۔تا کہ دوزخ میں اسے کو کمپنی دینے والا موجود ہو۔“

زین پہلے جس کی آنکھوں میں غصہ تھا اب وہ رحم کی اپیل بن گیا ۔اسے یہ سوچ سوچ کر ہی ہو ل اٹھ رہے تھے اس بارے میں صرف وہ جانتا تھا یا اس کا خدا پھر لائبہ نے یہ سب کچھ کیسے جان لیا۔یکدم اس کا لہجہ کسی منجھے ہوئے فقیر سے مشابہ ہو گیا۔

”خدا کے لیے آپی آپ ابرار بھائی کو کچھ مت بتائے گا۔ورنہ میر خرچا کیسے پورا ہو گا۔آپ جو کہیں گی میں وہ کروں گا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک لڑکی کو بیاں کروں گا ۔اور مجھے کیا لینا دینا اس احسن بھائی سے ضرور اس نے کچھ کیا ہو گا جو آپ اس کے ساتھ ایسا کر رہی ہیں۔ویسے انہوںنے کیا کیا ہے جو آپ ان کے ساتھ ایسا کر رہی ہیں۔“

”اس نے بچپن میں سمن کو ایک زور دادر تھپڑ مار کو کیچڑ میں دھکا دیا تھا، بس اسی کا بدلہ ہے۔اور ہاں لائبہ کے بالوں پر اس نے چونگم چپکا دی تھی ۔اور پھر جگہ جگہ سے اس کے بال کاٹنے پڑے تھے جس کی وجہ سے یہ کسی پاگل خانے سے بھاگی ہوئی پاگل ہی لگتی تھی۔“سمن پیچھے رہنے والوں میں سے نہیں تھی۔

”اب تم جاﺅ یہاں سے ہمیں اور بھی کام کرنے ہیں ۔“زین اٹھ کر باہر چلا گیا اور لائبہ بیڈ پر لیٹ گئی۔

”مجھے یہ تو اندازہ تھا کہ تم نہایت ہی چالاک اور شیطانی فطرت کی مالک ہو لیکن اس حد تک کمینگی کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔اتنے کم وقت میں تم جیسی شاطر ہی یہ سب کر سکتی ہے۔آخر تمہیں زین کے بارے میں یہ سب پتا کیسے چلا۔“سمن نے چہرے پر خوشی اور حیرانگی سے ملے جلے تاثرات ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”بس کچھ خاص نہیں، میں زین کے کمرے کی صفائی کر رہی تھی اور اس کی ڈائری پڑھی جو شائد وہ لکھتے لکھتے اپنے سرہانے بھول گیا تھا۔تم بھی جانتی ہو میں نے کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ وہ نوٹ اسی میں تھی جس پر ابرار بھائی واویلا کر رہے تھی کہ ان کے پیسے کدھر گئے؟“لائبہ نے اپنے چہرے پر ایک فتح مندی کی چمک لاتے ہوئے کہا۔

٭٭٭

                لڑکی دیکھنے زین ،دادی ،پھوپھو اور خالہ شٹل کاک گئے تھے۔دادی زین کو اپنے ساتھ کسی بھی طرح لے جانے کو تیار نہ تھی، پر زین نے کہا، جس علاقے میں آپ لوگ جا رہے ہیں وہاں میرا ایک دوست رہتا ہے میں اس سے لڑکی کے بارے میں پوچھ گچھ کر وں گا۔اس لیے دادی اسے اپنے ساتھ تو لے جانے پر راضی ہو گئی تھی۔

٭٭٭٭٭٭

”اے کرم الہی تو کن چھچھورے لوگوں کے گھر ہمیں رشتہ دیکھانے لے کر گئی تھی جو انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں تھے ۔توبہ توبہ۔۔۔“دادی نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہی دھاڑنا شروع کر دیااور خالہ شٹل کاک جس کا نام تو کرم الہی تھا لیکن ٹوپی والا برقعہ پہننے کی وجہ سے وہ لوگ اسے شٹل کاک کہہ کر پکارتے تھے۔وہ دادی کے سامنے یوں دبکی بیٹھی تھی جیسے اس نے کوئی شیر وغیرہ دیکھ لیا ہو۔

”کیا نام تھا اس رنگین بھینس کا ہاں شکیلا۔بڑی ہی واہیات عورت تھی وہ اس نے سلام نہ دعا اور جاتے ہی ہم سے شکوہ کرنے لگی کہ آپ لوگ دےر سے کیوں آئے ہو۔اگر تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو مجھے پھر سے پالر میںجانا پڑتا۔پھر خود ہی اپنی اس گھٹیا بات پر قہقہ لگاکر ہنس پڑی۔اور وہ ایک عیار شکل والا آدمی جس کی نظر چیل جیسی گندی تھی جیسے وہ اپنا بھائی بتا رہی تھی۔کیسے کہہ رہا تھا۔آپا تم نے گلاب اور موتےے سے بنے گجرے اپنے بالوں میں کیوں نہیں لگائے جو میںنے لا کر دیئے تھے۔توبہ ایسے ہوتے ہیں بھائی وہ مچھر مجھے اس لفنگی کا بھائی کم اور یار زیادہ لگا تھا۔“دادی یوں بول رہی تھیں گویا انہوں نے مرچیں چبا رکھی ہوں۔”پرانی کہاوت ہے لڑکی ماں کی پرچھائیں ہوتی ہے، پر وہ تو اپنی ماں سے بھی بڑھ کر نکلی۔مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ اشتہار نما لڑکی تھی یا پھر لڑکی نما اشتہار ۔یوں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ہمارے سامنے بیٹھی تھی جیسے کہہ رہی ہو میں ہوں تم لوگوں کے لیے اپنی ماں کی طرف سے فخریہ پیشکش۔ارے ایسا لگ رہا تھا ہم رشتہ دیکھنے نہیں بارات لے کر آئے ہوں جو یوں سجی سنوری بیٹھی تھی۔اور اپنی دو گز کی زبان کے ساتھ ٹرٹر کرکے ہمارا سر کھائے جا رہی تھیں پھر جب میں نے اس بے شرمی کی انتہا سے اس کا نام پوچھا تو بولی۔وہی جو پاکستانی ہدایت کار سید نور کی خفیہ بیوی کا نام ہے۔اب بھلا بتاﺅ مجھے کیا پتہ کون ہے اس کی ماں کا کصم(شوہر) سید نور اور کون اس کی بے غیرت بیوی ہے جس کا نام اس بے غیرت کے نام سے ملتا ہے۔پھر اس کی وہ بڑے پیٹ والی ماں جو بڑھ بڑھ کر زین کو چوم رہی تھی۔بولی میری بیٹی کا نام صائمہ ہے اور ہم اسے پیار سے صیم بلاتے ہیں۔شادی کے بعد آپ لوگ بھی اسے صیم ہی بلانا۔وہ اپنی طرف سے پکی ہوئی بیٹھی تھی۔کہہ رہی تھی جمعے کو نکاح کر لو۔پچیس کو رخصتی کر لینا جہیز وغیر ہ میں دے نہیں سکتی کیونکہ صائمہ کے والد فوت ہو چکے ہیں اور میںنے دوسری کر رکھی ہے۔ارے اس کا انداز ایسا تھا کہ اسے لو ورنہ زبردستی دیں گے۔

پھر جب کلثوم نے پوچھا کہ آپ کے دوسرے شوہر اب کہاں ہیں؟ تو بولی جب اس کی ضرورت ہو گی اسے بلا لیں گے۔ارے شوہر نہ ہوا کرئے پر لی ہوئی کوئی چیز ہو گی۔پھر زین نے پوچھا کہ وہ کرائے کا شوہر کام کیا کرتا ہے تو دوبارہ سے زین پر صدقے واری ہوتے ہوئے کہنے لگی۔وہ کام تو کوئی نہیں کرتا بس لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے والے ادارے کے ساتھ مل کر تبلیغ کر تا ہے۔وہ الو کا پٹھا سامنے ہوتا تو کہتی تمہارے گھر میں بھی بے ہدایت لوگ موجود ہیں ذرا ان کو بھی راہ راست پر لے آﺅ۔ارے میرا تو ان باتوں کو سن کر ہی بی پی ہائی ہونے لگا تھا۔دل کیا اس لفنگی عورت کے منہ پر زور دار تھپڑ مار کر منہ پرلی جانب پھیر دوں۔“دادی کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان لوگوں کو جا کر آگ لگا دیں۔ذرا سانس لے کر بولی ”اے زین چل جا کر اپنا منہ دھو اس واہیات عورت نے تیرا منہ چوم چوم کر سارا نور چاٹ ڈالا ہے۔باپ کا مال سمجھ رکھا تھا اس لفنگی نے۔اور تم !“اب دادی کا رخ خالہ شٹل کاک کی جانب ہو گیا۔”یہاںکبھی بھول کر بھی مت آنا ورنہ میں تمہارا جینا حرام کر دوں گی۔مجھے کیا پتا تھا تم ایسے بے حیا رشتے دکھاتی ہو۔ابھی تو میری تین پوتیاں اور دو پوتے باقی ہیں پہلی بار میں ہی تم نے اوقات دکھادی اپنی۔“

خالہ شٹل کاک مایوس سا منہ بنائے چلی گئی آخر کو اتنے رشتے ہاتھ سے نکل گئے تھے جن کے اسے اچھے پیسے ملنے تھے۔زین اٹھ کر منہ دھونے چلا گیا۔

”کیسا زمانہ آ گیا ہے وہ عورت اپنی بیٹی کو کوئی تمیز یا تہذیب سیکھانے کی بجائے اس کے پاگل پن میں اس کا ساتھ دے رہی تھی ۔اس لڑکی نے حد سے زیادہ بے ہودہ لباس پہن رکھا تھا یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک مسلمان ہے ۔اس کی ماں بجائے اسے یہ کہے کہ تم اپنے سر پر دوپٹہ کر و یہ کہہ رہی تھی تم نے جالی والا دوپٹہ کیوں نہیں لیا۔ایسی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو اسے اپنی بیٹی کو سیکھانی چائیں تھیں۔پر اس نے اپنی بیٹی کو شتر بے مہار چھوڑا ہوا ہے کہ جاﺅ جو کچھ مرضی کرو۔میری طرف سے کھلی اجازت ہے۔“دادی کے لہجے میں گہرے دکھ کی لہر تھی۔وہ پھو پھو کو لے کر اپنے کمرے میںچلی گئیں۔

”ارے واہ سمن ہمارے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہی سب کچھ خود بخود ہو گیا۔“لائبہ نے دادی کی باتیں سنتے ہوئے سمن سے کہا۔”میں زین کو روک کر آتی ہوں کہ وہ احسن کو کچھ نہ بتائے ہمارا کام تو ہو گیا ہے اب ہم فضول قسم کی سازشیں کر کے اپنا ٹائم کیوں ضائع کریں۔“لائبہ کہتے ہوئے زین کے کمرے کی طرف چل دی اور سمن کچن کی جانب مڑ گئی آخر پھوپھو کی خاطر دادی کا سامان تیار کرنا تھا۔

٭٭٭

                ان دونوں کا بی اے کا رزلٹ آ چکا تھا دونوں ہی فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو گئی ۔پھوپھو بھی اب کم کم ہی ان کے گھر آئیں جب بھی آتیں بس دادی یا امی کے پاس بیٹھ کر چلی جاتیں۔لڑکیوں کے ساتھ ا ن کی پہلے والی گرمجوشی نہ رہی تھی۔سمن کی سمجھ میںنہیں آ رہا تھا کہ پھوپھو ایسا کیوں کر رہی ہیں۔پہلے پہل تو وہ ان کے آگے پیچھے پھری لیکن بعد میں اسے احساس ہو ا کہ عزت نفس بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔سمن او ر لائبہ اپنی رزلٹ کارڈ لینے کالج گئیں تھی ۔واپسی پر انہیں پتا چلا کہ پھوپھو آئی بیٹھی ہیںاور تمام بزرگ لوگ کمرہ بند کر کے کوئی کھچڑی پکا رہے ہیں ۔

”کیا باتیں ہو رہی ہوں گی اندر۔۔۔؟“وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی اپنے کمرے میں جا رہی تھیں کہ ان کو زین آتاہوئی دکھائی دیا۔

”زین!“لائبہ نے اسے پکارا ۔وہ قرعیب آیا تو اس نے پوچھا”تمہیں پتا ہے دادی کے کمرے میں کیا ہو رہا ہے؟“

” اندر سب لوگ احسن بھائی کی شادی کی بات کر رہے ہیں اور شائد انہوں نے لڑکی بھی ڈھونڈ لی ہے۔“زین کی بات سن کر وہ چونک گئیں اور ان کے چہرے لخطہ بہ لخطہ تاریک ہونے لگے”پلیز آپی اگر میںنے آپ کو یہ سب بتا دیا ہے توا س کا یہ مطلب نہیں کہ آپ احسن بھائی کی شادی میں پھر سے کوئی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا اتنی چھوٹی سی باتوں کے لیے آپ ان کا گھر بننے نہیں دے رہی ۔بچپن کی باتوں کو بھی کوئی یاد رکھتا ہے۔بھلا۔“زین کو ان دونوں کا مذاق سچ لگ رہا تھا۔

”تم جانتے ہو وہ لڑکی کون ہے؟“لائبہ نے پوچھا۔

”مجھے پکا پتا تو نہیں ہے کہ وہ کون ہے ۔لیکن اتنا ضرورجانتا ہوں کہ وہ احسن بھائی کو بہت ہی زیادہ پسند ہے۔ہو سکتا ہے وہ ان کے باس کی بیٹی آصفہ ہو۔مجھے پکا پتہ نہیں ہے پر پورا یقین ہے وہی ہو گی۔اس دن نہر پر بھی وہ ان کے ساتھ بڑے خوش دکھائی دے رہے تھے۔“

پتہ نہیں زین لائبہ سے اورکیا کیا کہہ رہا تھا سمن کو کچھ بھی سنائی نہ دیا وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔تو کمرے میں جا کرلائبہ نے بیڈ پر اُوندھی لیٹی ہوئی سمن کو پکارا

”سمن ۔۔بے شک تمہاری شکل بہت مشکل سے قبول صورت ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ تمہیں وہ دوغلی پھوپھو، یوں ٹھکرا دے ۔چلو اٹھو شاباش جلدی سے۔“لائبہ نے اسے سیدھا کر کے بیٹھاتے ہوئے کہا۔

”اس پھٹکار برساتی شکل والی جس کے منہ پر ہزاروں کی تعداد میں مہاسے ہیں اور جس کے دانت دیکھ کر کسی ڈریکولا کی یاد آ جائے ۔بھلا تمہارا اس حقیر لڑکی سے کیا مقابلہ ۔میں نے اس لومڑی کا بندوبست سوچ لیا ہے۔اس کا حشر ایسا عبرت ناک کروں گی کہ گدھے پر سوار ہو کر کسی دوسرے سیارے پر روانہ ہو جائے گی۔تم فکر نہ کرو۔تم اس وقت خاموشی اختیار کر لو تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہو گی۔اور تم کیا بار بار مجھ پر احسان کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ایک بار تم سے مذاق میں کچھ کہہ دیا تم تو جونک کی طرح چمٹ ہو گئی ہو۔“

”نہ مجھے تم سے کچھ لینا دینا ہے نہ ہی پھوپھو اور احسن سے ۔سمجھ آئی تم کو۔اب تم یہاں سے دفعہ ہو جاﺅ اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔“سمن نے زہر خند لہجے میں چلاتے ہوئے کہا۔اور دوبارہ سے اندھی لیٹ گئی۔لائبہ نے اسے اکیلا چھوڑنے میں ہی عافیت جانی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر کمرے سے باہر چلی گئی۔

٭٭٭

                سمن نے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔جس دن سے اسے پتا چلا تھا کہ احسن کی شادی کہیں اور ہو رہی ہے۔اس نے ایک چپ سادھ لی تھی۔کوئی اس سے بات کرتا تو بس ہوں ہاں میں جواب دے دیتی۔اگر اس سے کوئی مشورہ مانگا جاتا تو خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگتی۔

”سمن آپی ۔!“زین نے اسے پکار ۔وہ سڑھیوں پر بیٹھی خدا جانے خلا میں کیسے گھور رہی تھی۔اس کی آواز سن کر یکدم چونک اٹھی۔”آپی آپ کو ہو کیا گیا ہے ۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے پہلے میں آ سے کوئی ڈش بنانے کی فرمائش کرتا تو آپ کتنے نخرے کرتی تھیں اور اب ایک ہی بار کہنے پر بنا دیتی ہیں۔ پہلے ہر وقت آپ ٹوٹھ پیسٹ کا اشتہار بنی ہر وقت ہنستی رہتی تھیں ہم سب آپ کو سمائل ٹی وی کہہ کر چھیڑتے تھے پتہ نہیں اب آپ کو کیا ہو گیا ہے۔پلیز آپی آپ پہلے جیسی ہو جائیں ہم پہلے تو کسی نہ کسی طرح آپ کو جھیل لیتے تھے پر اب یہ رونی صورت ہماری برداشت سے باہر ہے خدارا ہم پر رحم کرے۔“

”تمہیں کوئی کام ہے؟“سمن نے اس کی تقریر کا نوٹس نہ لیتے ہوئے پوچھا۔توزین نے منہ بناتے ہوئے کہا

”ہاں۔دادی کہہ رہی ہیں پھوپھو کا فون آیا تھا کہ ہمار ا آج رات کا کھانا ان کی طرف ہے۔آپ تیار ہو جائیں ۔لائبہ اور شزا نے آپ کے پاس آنے سے منع کر دیا ہے۔وہ کہہ رہی ہیں آپ مکمل طور پر پاگل ہو چکی ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ آپ ان پر پتھر مارنا شروع نہ کر دیں۔اسی وجہ سے میں آپ کو بتانے آیا ہوں۔“وہ بتاتے ہوئے وہاں سے چلاگیا۔پہلے تو سمن نے پکا ارادہ کیا کہ وہ بالکل نہیں جائے گی پھر اس نے سوچا گھر والے پہلے ہی اس کی حرکتوں سے مشکوک نظر آتے ہیں۔کہیں کچھ ایسا ویسا ہی نہ سمجھ لیں ۔چلے جانے میں ہی بہتری ہے ۔فضول کی ٹینشن پھیلانے کا کیا فائدہ۔پھر پھوپھو اور احسن نے اس کے ساتھ کون سے وعدے کیے تھے جو وہ ان کے گھر نہ جاتی ۔قصور سارا تو اس کے دل کا تھااس لیے اس نے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

٭٭٭

                وہ لوگ عصر کے بعد پھوپھو کے گھر روانہ ہو گئے اور ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ ان کے گھر موجود تھے۔جدید طرز سے بنا گھر کافی خوبصورت تھا تین کمرے تھے ۔ڈرائنگ روم اور ڈائنگ روم اکھٹے ہی تھے۔ کھانے پکنے میں ابھی کچھ دیر تھی اس لیے سب خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔سمن کچھ فاصلے پر پڑی ایک کرسی پر سمٹی بیٹھی تھی اس نے کچن میں جا کر پھوپھو کی مدد کرنے کے لیے نہیں پوچھا۔البتہ لائبہ اور شزا کچن میں پھوپھو کی مدد کر رہی تھیں۔

”یہ کتنا خوش لگ رہا ہے۔“سمن نے ابرار سے باتیں کرتے ہوئے احسن کو دیکھتے ہوئے سوچا ۔خوشی جس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔آصفہ آ جائے گی تو اور بھی خوش ہو جائے گا۔ا س نے تلخی سے سوچتے ہوئے حلق میں نمک کا کھارا ذائقہ محسوس کیا۔اچانک سے اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا۔احسن کے خوشی سے دمکتے چہرے سے،پھوپھو جی کے قہقہوں سے،دادی کی آنکھوں میں پھیلی خوشی ،ابرار کے ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ سے،زین کی شرارتوں سے ، امی کی بات سے ۔اس وقت اس کے دل میں صرف اتنی خواہش تھی کہ یہ وقت پلک جھپکتے گزر جائے ۔وہ اپنی آنکھوں پر آئی نمی کو بے دردی سے ہاتھ کی پشت سے رگڑا،وہ کسی کی نظروں میں نہیں آنا چاہتی تھی اس لیے کچن کی طرف چلی گئی۔

”پھوپھو میں آپ لوگوں کی کچھ مدد کروں؟“سمن نے برتن سیٹ کرتی ہوئی پھوپھو سے کہا۔

”ارے نہیں بیٹا سب کچھ ہو گیا ہے۔لائبہ اور شزا نے میری بہت مدد کی ہے۔“پھوپھو پیار سے کہتے ہوئے بولیں۔سمن کو شرمندگی سی محسوس ہونے لگی،کیا تھا جو وہ اپنا جوگ بھول کر پہلے پھوپھو کو مدد کے لیے پوچھ لیتی۔وہ واپس مڑنے لگی تو پھوپھو نے اسے پکار۔”سمن ذرا چھت پر جا کر اپنے پھوپھا جی کے طوطوں کو پانی اور دانہ تو کھلا دو مجھے صبح سے یاد ہی نہیں رہا بیچارے بے زبان صبح سے بھوکے پیاسے بیٹھے ہیں۔“اسے اور کیا چاہیے تھا وہ تو پہلے ہی کوئی موقع تلاش کر رہی تھی کہ اسے تنہائی میسر آئے۔اس نے جلدی سے پانی اور باجرے کی پیالی اٹھائی اور کچن کے ساتھ ہی بنی سڑھیاں چڑھ گئی۔

٭٭٭

                وہ طوطوں کو دانہ کھلانے کے بعد انہیں پانی پلا رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے کسی کے کھڑے ہونے کا احساس ہوا تو وہ یکدم مڑی۔یک لخطہ وہ چونک گئی وہاں احسن کھڑا تھا۔اس نے بری طرح گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا پر اس کے علاوہ اور کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

”آپ یہاں کھڑی کیا کر رہی ہیں؟“احسن نے پوچھا۔

ایک لمحے کے لیے تو وہ ساکت کھڑی رہی پھر سوچا کیسا احمقانہ سوال ہے ۔دیکھ بھی رہا ہے کہ طوطوں کو پانی پلا رہی ہوں پھر بھی پوچھے جا رہا ہے۔اس نے اپنی ساری اداسی اکتاہٹ اور تلخی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جلے بھنے انداز میں کہا۔

”میں یہاں پتنگ اڑا رہی ہوں۔“اس کے اس انداز پر وہ مسکرا دیا۔وہ نیچے جانے لگی تو احسن نے اس کا رستہ روک لیا۔اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

”پہلے میرے سوال کا جواب دو پھر چلی جانا۔“سمن پریشان ہو گئی وہ کس سوال کے بارے میں کہہ رہا ہے۔”آخر تم میری شادی میں کیوں رکاوٹ بن رہی ہو؟میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔“اس سوال پر وہ دنگ رہ گئی اور اپنے چہرے پر ایسے تاثرات پیدا کر لیے جیسے کہہ رہی ہو میں نے کون سی رکاوٹ پیدا کر دی ہے تمہاری شادی میں ۔”مجھے زین نے بتایا ہے کہ تم مجھ سے کسی بچپن کی بات کا بدلہ لینا چاہتی ہو اور اس لیے تم نے اسے کسی ہٹی کٹی غلاظت سے بھری ٹارزن ٹائپ لڑکی کا نقشہ کھینچ کر دیا تا کہ وہ مجھے بتائے اور میں شادی سے بد ظن ہو جاﺅں۔“یہ سب سن کر ایک پل کے لیے ا س کا چہرہ متغیر ہو ا اور زین کی کم عقلی پر غصہ آیا ۔لیکن دوسرے ہی پل وہ خود کو سنبھالتی ہوئی بولی۔

”میرا رستہ چھوڑوں اور میں نے کوئی بھی نقشہ نہیں کھینچا۔“وہ نیچے جانے لگی تو احسن اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

”میری بات سنئے بغیر تم یہاں سے گئی تو میں تمہیں تھپڑ مار مار کر چھت پر سے دھکا دے دوں گا۔پھر وہ الزام بھی سچ ہو جائے گا جو تم نے مجھ پر بے بنیاد لگایا ہے۔“یہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہنسی آ گئی و ہ اپنی ہنسی پوشیدہ رکھنا چاہتی تھی پر احسن دیکھ چکا تھا۔”تمہیں یہ غلط فہمی لا حق ہو گئی ہے کہ میں تمہیں چھوڑکر کسی اور کے بارے میں سوچوں گا۔“احسن کی بات سن کر وہ یوں تڑپ کو سیدھی ہوئی جیسے کسی بچھو نے ڈنگ مار لیا ہو۔

”جھوٹ تو مت بولو۔جھوٹ بولنے سے خدا کا قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔ میں سب جانتی ہوں تمہاری شادی تمہارے گینڈے باس کی لومڑی بیٹی سے ہو رہی ہے۔“وہ تڑخ کر بولی۔تو وہ شاکی لہجے میں بولا۔

”تمہیں خدا سمجھے سمن،تمہارے لیے میں نے اپنی جان تک کی بازی لگا ڈالی اور تمہیں میری پروا ہی نہیں۔“ وہ آنکھوں میںمصنوعی حیرت لے کر بولا۔

”کون سا پہاڑ ہے جس پر تم میرے لیے کودے ہو؟کے ۔ٹو یا ماﺅنٹ ایورسٹ؟“سمن تیکھے پن سے بولی۔

”یہ کیا کم ہے کہ تمہارے ہی گھر میں تمہارے بھائیوں کے سامنے تمہیں گھورتا تھا اگر وہ مجھے تمہیں ایسے گھورتے دیکھ لیتے تو ہو پنجابی فلموں کے بھائیوں کی طرح گز بھر لمبے خنجر سے میرا سینہ چاک کر دیتے۔“

”اللہ نہ کرے ۔“یکدم سمن دہل گئی ۔احسن دھیرے سے مسکرا دیا۔اسے مسکراتے دیکھ کر وہ بولی

”اگر اتنے ہی محبت کے دعوے کر رہے ہو تو اس لومڑی کے ساتھ تمہارا چکر کیا تھا؟“

”پہلے تو میں تمہیں یہ بتا دوں کہ اس کا نام لومڑی نہیں آصفہ ہے اور میرا اس کے ساتھ کوئی چکر نہیںہے۔وہ تو یہاں اپنے پاپا سے ملنے آئی تھی۔لندن سے اور اب تو وہ واپس چلی گئی ہے۔“احسن کے وضاحت پیش کی۔”تمہیں گھور گھور کر میری آنکھوں میں درد شروع ہو گیا تھا۔ تمہاری طرف سے کوئی بھی گرین سگنل نہیں ملا ورنہ میں امی کو اس وقت نانی سے بات کرنے کے لیے بھیج دیتا۔پر تم یوںنخرے دکھا رہی تھی جیسے آسمان سے اتری ہوئی حور پری ہو جو میری طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی۔“

”میں بھلا تمہاری طرف کیوں دیکھتی۔خاندانی باحیا اور مشرقی لڑکی ہوں۔تمہاری اس لومڑی کی طرح تھوڑی ہوں جو غیر لڑکے کے سامنے بے حیائی سے باچھیں پھاڑ کر خاندان کی عزت کو کلنک لگاتی پھر وں۔“سمن نے بظاہر بڑے مطمئن لہجے میں کہالیکن آواز میں رچی تلخی کو پوشیدہ نہ رکھ سکی۔احسن کو اس کی خفگی اچھی لگ رہی تھی اسے مزید تپانے کے لیے بولا۔”میںنے آصفہ کے لیے ایک گفٹ خریدا تھا جب وہ لندن واپس جانے گی تو اسے دے دوں گا۔“اس کے لہجے میں شرارت چھپی ہوئی تھی۔”پر اب وہ تمہیں دے دیتا ہوں۔وہ تو واپس چلی گئی ہے۔“اس نے اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبیا نکالی اور ایک جھلملاتی انگوٹی اس کے آنکھوں کے سامنے لہرائی۔”یہ تو صرف میری مخروطی انگلیوں والے ہاتھ میں ہی جچ سکتی ہے۔وہ لومڑی اپنے گدھ کے پنجوں جیسے ہاتھوں میں پہن کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرتی۔ویسے ایک بات توبتاﺅ۔“وہ اسے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولا۔تم مجھ سے واقع ہی محبت کرتی ہو اس لیے آصفہ کو میرے ساتھ دیکھ کر کوئلے کی طرح جل گئی تھی ہے نہ؟“

سمن کو اس کی بات سن کر پتنگے لگ گئے۔اتنی خوبصورت لڑکی کو اس نے کوئلے سے ملا یا ہے اس کی گستاخی ہر گز معاف کرنے کے لائق نہ تھی۔

”میرے دماغ میں بھس نہیں بھرا جو میں تم سے محبت کروں اور میں اس لومڑی سے کیوں جلوں میرا اس کے ساتھ کیا مقابلہ ۔کہاں اکبر بادشاہ اور کہاں قطبوں موچی۔“

”لو صاف مکر گئی حالانکہ جل جل کر بس جلا ہوا کباب نہیں بنی۔“

اچھا چھوڑو سب باتیں مجھے یہ بتاﺅ اب تو تم شادی کے لیے تیار ہو نا؟“احسن کی آنکھوں میں پھر سے شرارت امنڈ آئی ۔سمن اس کی بات کا جواب دیئے بنا بولی۔

”مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے چلو نیچے چل کر کھانا کھاتے ہیں۔“

”چلتے ہیں، اتنی جلدی بھی کیا ہے۔“احسن نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔سمن نے گھبرا کرا سے دیکھا اور سیڑھیوں کی جانب بھاگتے ہوئے بولی۔

”وہ ہڈحرام لائبہ سار ا کچھ ہڑپ کر جائے گی میں نیچے جا رہی ہوں تم یہاں کھڑے ہو کر طوطوں کے کھانے کو نظر لگاتے رہنا تا کہ ان کے پیٹ میں درد شروع ہو جائے۔“وہ شوخی سے کہتے ہوئے سیڑھیاں اتر گئی۔پیچھے سے احسن اسے پکارتا رہا میری بات کا جواب تو دیتی جاﺅ۔ساری کدورتیں اور فاصلے مٹ گئے تھے۔غم منہ لٹکائے ان سے بہت دور جارہا تھا۔خوشیاں بانہیں پھیلائے دونوں کی منتظر کھڑی تھیں۔

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے