سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 18 .سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 18 .سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 18

تحریر: سید انور فراز

سرگزشت کے لیے مصنفین کی اطمینان بخش ٹیم تیار ہوچکی تھی اور بہت تیزی سے کام آگے بڑھ رہا تھا، ہمیں سب سے بڑی سہولت یہ تھی کہ دفتر اور گھر کے درمیان چند قدم کا فاصلہ تھا چناں چہ زیادہ وقت دفتر میں گزرتا ، عموماً گیارہ بارہ بجے تک دفتر آتے اور پھر شام سات آٹھ بجے واپسی ہوتی، رات کے کھانے سے فارغ ہوکر دوبارہ نو دس بجے تک دفتر آجاتے اور جب تک چاہتے اپنے کام میں مشغول رہتے ، زیادہ تر کام رات میں ہی ہوتا تھا کیوں کہ دن میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، کہانیاں پڑھنے کا وقت ہی نہ ملتا، چناں چہ یہ کام رات میں نہایت پرسکون انداز میں انجام پاتا۔
ہماری زندگی کی یہ پہلی ایسی رہائش تھی جس نے ہمیں مکمل طور پر تنہا کردیا تھا یعنی ہم اپنے عزیز و اقارب اور یار دوستوں سے دور ہوکر ایک ایسے علاقے میں آگئے تھے جو مکمل طور پر ایک کمرشل ایریا تھا، چاروں طرف دفاتر ، پریس، کھانے پینے کی اشیا سے متعلق دکانیں اور ہوٹلز کی بھرمار، فلیٹوں میں رہنے والے افراد اپنے اپنے گھروں میں محدود زندگی گزارنے کی عادی ، کسی کو کسی کی خبر نہیں، کسی کا کسی سے کوئی ربط و ضبط نہیں، ہمارے فلیٹ کے سامنے حاجی رفیع اور ان کی بیٹی فاطمہ کا دم غنیمت تھا لیکن ان کی بات چیت زیادہ تر ہماری بیگم سے اور بچوں سے رہتی تھی، اگرچہ ہماری تنہائی دفتر میں خاصی حد تک دور ہوجاتی کیوں کہ دن بھر لوگوں کا آنا جانا، ملنا جلنا لگا رہتا تھا لیکن ہم ابتدا ہی سے رات کے کھانے کے بعد احباب کی محفلوں کے عادی رہے تھے،ناظم آباد میں یہ نشستیں خان آصف اور دیگر احباب کے ساتھ جاری رہیں، اس کے بعد حنیف اسعدی صاحب کے ہومیو کلینک میں بیٹھک رہی مگر اب رات میں بھی کام کرنا پڑتا تھا، جاسوسی ڈائجسٹ کے علاوہ سرگزشت کی فکر بھی ذہن پر طاری تھی، تھوڑی سی فرصت ملتی تو ذہنی تفریح کے لیے ہم انور سن رائے کے گھر چلے جاتے، ان دنوں وہ بھی آرٹس کونسل کے قریب گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے برابر میں ایک فلیٹ میں شفٹ ہوگئے تھے، اکثر شب اتوار انور کے گھر جانے کے لیے موزوں رہتی کیوں کہ صبح اتوار کی چھٹی کے سبب تھوڑی سی بے فکری ہوتی تھی کیوں کہ رات دس بجے بھی اگر وہاں پہنچتے تو پھر واپسی کا کچھ پتا نہ ہوتا، ادھر اُدھر کی باتوں میں اکثر رات کے دو تین بھی بج جاتے، مشہور اور پاکستان کے مایہ ناز آرٹسٹ چترا پریتم سے ہماری پہلی ملاقات انہی دنوں انور کے گھر پر ہوئی تھی، ہم صوفے پر بیٹھے انورسے گپ شپ میں مصروف تھے ، ہم سے کچھ فاصلے پر ایک گول مٹول سا لڑکا بیٹھا اپنے کام میں منہمک تھا، انور کے ہاں اکثر اجنبی چہرے نظر آجایا کرتے اور ہمیں یہ پوچھنے کی عادت نہیں تھی کہ گھر میں موجود یہ اجنبی چہرہ کون ہے؟
کافی دیر بعد چترا اپنی جگہ سے اُٹھے اور ایک بڑا کاغذ ہمارے سامنے رکھ دیا جسے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے کیوں کہ اتنی دیر سے وہ ہماری تصویر بنانے میں مصروف تھے ، ہم صوفے پر جس انداز میں بیٹھے تھے اُسے انھوں نے بہترین انداز میں کاغذ پر پیش کردیا تھا، اب ہمیں معلوم ہوا کہ موصوف آرٹسٹ ہیں اور انھوں نے اس شعبے میں اپنے سفر کا ابھی آغاز کیا ہے، وہ شاید ہمارے نام سے غائبانہ طور پر واقف تھے، ہم سے ان کا تعارف انور نے کرایا بہر حال ان کی بنائی ہوئی تصویر ہم نے شاہد حسین کو دکھائی اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ کب شاہد نے ہماری وہ تصویر جاسوسی ڈائجسٹ کی کسی کہانی پر فٹ کردی، اب یہ بھی یاد نہیں کہ وہ کون سا شمارہ تھا، چترا کی وہ تصویر بھی ہمارے پاس نہیں، گزشتہ دنوں چترا سے دوبارہ فرمائش کی تو اس نے گیند انعام راجا کی طرف اچھال دی، اب انعام راجا بھی دنیا میں نہیں رہے، چترا کے پاس بھی اب کوئی بہانہ نہیں ہے،بہت جلد ہمارا ہاتھ چترا کی گردن تک پہنچ جائے گا۔

پڑوسی نواب

جب ہم دفتر کے قریب ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہوئے تو تقریباً تین چار ماہ بعد ہی ہماری بلڈنگ سے شاید چوتھی بلڈنگ کے ایک فلیٹ میں سیکنڈ فلور پر محی الدین نواب اپنی تیسری بیگم کے ساتھ آگئے،نواب صاحب کے ٹھکانے بھی بدلتے رہتے تھے، خصوصاً تیسری بیگم کے ساتھ انھوں نے بہت گھر بدلے، ان کے مستقل گھر تو دو تھے، ایک شاہ فیصل کالونی میں جہاں پہلی بیوی اور ان کے بچے رہائش پذیر تھے، دوسرا مستقل گھر اورنگی ٹاؤن میں تھا جس میں دوسری بیگم اور ان کے بچے رہتے تھے لیکن تیسری بیگم کے ساتھ وہ اکثر بلی کی طرح گھر بدلتے رہتے تھے، بہر حال اس کی بھی معقول وجوہات تھی،جنھیں بیان کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔

نواب صاحب زیادہ تر تیسری بیگم کے ساتھ رہتے تھے، ہفتے میں دو تین روز کے لیے دوسری بیگم کے پاس اورنگی ٹاؤن چلے جاتے لیکن ہم نے یہ کبھی نہیں سنا کہ وہ شاہ فیصل کالونی گئے ہوں، دراصل پہلی بیگم سے ان کے بچے جوان ہوچکے تھے، سب سے بڑا لڑکا ایک حادثے کا شکار ہوگیا تھا، دوسرا بیٹا شکیل نواب بھی شادی شدہ تھا، اس کی شادی میں ہم بھی شریک ہوئے تھے، بیٹیوں کی بھی شادی کردی تھی، نواب صاحب کی سب سے بڑی صاحب زادی کی شادی اداکارہ دیبا کے بھائی سے ہوئی تھی، دیبا خانم سے نواب صاحب کے مراسم پہلے بھی بہت گہرے رہے اور پھر اس رشتے کے بعد تو اور بھی قریبی ہوگئے۔
اداکارہ دیبا سے نواب صاحب کے اتنے قریبی مراسم کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے،اس کہانی کے دو اہم گواہ الحمداللہ حیات ہیں جن میں سرفہرست انور فرہاد اور ایم الیاس ہیں، یہ دونوں سابق مشرقی پاکستان میں نواب صاحب کے قریبی دوستوں میں تھے، نواب صاحب بہت کم گو اور ٹو دی پوائنٹ گفتگو کرنے والوں میں سے تھے، انھیں فضول گوئی کی عادت بالکل بھی نہ تھی، اس کے برعکس انور فرہاد جب بولتے ہیں تو پھر بولتے ہی چلے جاتے ہیں، دیبا خانم سے مراسم کا واقعہ ہمیں انور فرہاد ہی کی زبانی معلوم ہوا اور اس کی تصدیق نواب صاحب نے بھی کی لیکن وہ اس موضوع پر زیادہ کھل کر بات نہیں کرتے تھے۔
علی سفیان آفاقی صاحب نے جب اداکارہ دیبا کی سرگزشت آشنا کے قلم سے لکھی تو بہت سی پس پردہ باتیں اور حقائق سامنے آئے ، آفاقی صاحب کے بیان کے مطابق دیبا کے والد بہت ظالم و سفاک آدمی تھے ، وہ بہت چھوٹی سی عمر میں دیبا کو اس کی ماں سے جدا کرکے پاکستان لے آئے اور پھر فلمی دنیا میں متعارف کرانے کی کوشش شروع کردی، یہ بہت طویل قصہ ہے جسے آفاقی صاحب نے تفصیل سے بیان کیا ہے،بہر حال جب دیبا اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئیں تو انھیں اپنی والدہ کو تلاش کرنے اور ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی، شاید اسی خواہش کے زیر اثر انھوں نے مشرقی پاکستان کی کوئی فلم سائن کرلی اور اس طرح وہ ڈھاکا پہنچ گئیں۔
محی الدین نواب ، انور فرہاد اور ایم الیاس ان دنوں ڈھاکا ہی میں تھے، انور فرہاد پرانے فلمی صحافی ہیں، وہ شاید جانتے تھے کہ دیبا کی والدہ کون ہیں اور کہاں ہیں چناں چہ تینوں افراد نے کوشش کرکے دیبا تک رسائی حاصل کی اور اسے بتایا کہ اس کی والدہ حیات ہیں اور ان سے ملاقات ہوسکتی ہے، تینوں کی کوششوں سے بچھڑی ہوئی ماں بیٹی کی ملاقات خفیہ طور پر ہوسکی، بعد ازاں دیبا نے انھیں یہ ذمے داری بھی سونپی کہ آپ لوگ میری والدہ کا خیال رکھیں، میں ان کے لیے خرچ بھی بھیجتی رہوں گی اور جیسے ہی ممکن ہوسکا انھیں بلا لوں گی۔
ماں بیٹی کی ملاقات کا یہ اہم موڑ نواب صاحب اور دیبا خانم کے تعلقات کا بھی اہم موڑ ثابت ہوا، جب نواب صاحب لاہور آئے تو اداکارہ دیبا ہی کسی حد تک ان کی معاون و مددگار بنیں، انھیں اس بات کی اجازت دی کہ وہ دیبا خانم کے نام سے ناول لکھیں تاکہ ایک فلم اسٹار کی تحریر کو پذیرائی حاصل ہوسکے ورنہ اس وقت تک محی الدین نواب کو کوئی نہیں جانتا تھا اور کوئی پبلشر ان کے ناول کو شائع کرنے پر تیار نہ ہوتا مگر دیبا خانم کا نام ہر پبلشر کے لیے قابل توجہ تھا، چناں چہ یہ ناول شائع ہوئے اور فروخت بھی ہوئے، پبلشرز نے ان کے ذریعے پیسا کمایا مگر نواب صاحب کو کیا دیا، اس کا ذکر فضول ہے۔
معراج صاحب کے بارے میں ہم بتاچکے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے ادب پر نظر رکھتے تھے، فلم سے بھی ان کی دلچسپی کم نہ تھی لہٰذا اداکاروں ، موسیقاروں ، ہدایت کاروں یا فلم انڈسٹری کے نامور لوگوں کے بارے میں ان کی معلومات خاصی بھرپور تھی، یقیناً دیبا خانم کے نام ہی نے انھیں نواب صاحب کی طرف متوجہ کیا ہوگا اور کوئی ناول پڑھنے کے بعد انھوں نے اندازہ لگایا لیا ہوگا کہ نواب صاحب کس قدر زرخیز ذہن کے مالک ہیں ، ہمیں نہیں معلوم دونوں کے درمیان کس طرح رابطہ ہوا، بہر حال نواب صاحب کراچی آگئے اور انھوں نے سب سے پہلے ماہنامہ پاکیزہ ہی کے لیے لکھنا شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ دیگر پرچوں کے لیے بھی ان کی خدمات سے استفادہ کیا گیا ہے۔

عجیب بدگمانی

آگے بڑھنے سے پہلے ایک دلچسپ قصہ انور فرہاد کے حوالے سے یاد آگیا، یہ اس دور کی بات ہے جب ہم انور فرہاد کے نام سے بھی واقف نہیں تھے، ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں اکثر لڑکیاں آتی جاتی رہی ہیں، انہی میں سے ایک لڑکی نہایت باصلاحیت، خوش شکل، معراج صاحب نے اپنی معاونت کے لیے منتخب کی تھی، لڑکی کم عمر ہونے کے علاوہ سادہ مزاج اور صاف دل کی مالک تھی، ایک نہایت مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، ادب سے خصوصی لگاؤ تھا، اسی وجہ سے ہم سے بہت جلد بے تکلف ہوگئی، اکثر شعر و ادب کی باتیں فارغ اوقات میں کرتی، اس کی صلاحیتوں کے معراج صاحب بھی معترف تھے، دفتر میں معراج صاحب کے علاوہ اگر کسی سے اس کی زیادہ بات چیت تھی تو وہ ہم تھے یا علیم الحق حقی، ہماری اور حقی صاحب کی بہت تعریف کرتی اور ہمیں بہت ہی نیک اور شریف انسان خیال کرتی، علیم الحق حقی کے ولیمے میں وہ خصوصی طور پر شریک ہوئی تھی۔

اس زمانے میں معراج صاحب اور ساجدہ معراج صاحبہ میں علیحدگی نہیں ہوئی تھی اور وہ اکثر دفتر آتی جاتی رہتی تھیں اور پاکیزہ کے دفتر میں صفیہ ملک کے پاس بیٹھتیں، وہ لڑکی بھی اسی کمرے میں بیٹھتی تھی، ساجدہ ایسی نئی لڑکیوں پر گہری نظر رکھتی تھیں، ہمیں نہیں معلوم کہ انھوں نے اس سے کیا پوچھا اور اس نے کیا جواب دیا لیکن جب وہ اچانک ہی غصے میں بھری ہمارے کمرے میں آئی اور آنسو بھری آنکھوں سے اس نے بتایا کہ ساجدہ معراج نے میری چھٹی کردی ہے تو ہم سناٹے میں آگئے، اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے، صرف اسے تسلی دی کہ تم غم نہ کرو، اللہ تمھارے روز گار کا کوئی اور بندوبست کردے گا،بعد میں صفیہ ملک کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کی غلطی یہ تھی کہ اس نے ساجدہ معراج صاحبہ کے سامنے معراج صاحب کی ایسی تعریفیں کیں کہ وہ اس کی طرف سے مشکوک ہوگئیں اور کسی ممکنہ اندیشے کے پیش نظر اسے جاب سے فارغ کردیا۔
چند روز بعد ہی اس کا فون آیا اور اس نے چہکتے ہوئے ہمیں یہ خوش خبری دی کہ اسے ایک اخبار میں جاب مل گئی ہے،اس اخبار کے ایڈیٹر کا نام شاید شفیع ادبی تھا، ہماری ان سے مختصر سی دو تین ملاقاتیں ہوئی تھیں،وہ بھی ان دنوں جب آفاق فاروقی کراچی میں تھے اور کچھ دنوں کے لیے انھوں نے شفیع ادبی کے ساتھ کام کیا تھا، اس سے زیادہ ان سے ہمارا کوئی تعلق کبھی نہیں رہا لیکن ایک دن اس لڑکی نے ہمیں فون کرکے پوچھا ’’کیا آپ شفیع ادبی صاحب کو جانتے ہیں‘‘
ہم نے جواب دیا ’’ہاں، کیوں نہیں‘‘
وہ بولی ’’وہ بھی آپ کو جانتے ہیں،یہاں وہ میرے ایڈیٹر ہیں اور بہت اچھے آدمی ہیں، مجھے اچھی طرح گائیڈ کر رہے ہیں‘‘
ہم نے جواباً یہی کہا کہ یقیناً وہ اچھے آدمی ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ تم ایک اچھی جگہ پہنچ گئی ہو۔
پھر کچھ دن گزرے تو ایک روز اس نے ہمیں فون کیا اور خاصا حیران کیا، کہنے لگی ’’کیا آپ مشرقی پاکستان میں بھی رہے ہیں؟‘‘
ہم نے انکار کیا تو اس نے بتایا کہ آپ کے بارے میں مجھے شفیع ادبی صاحب نے بتایا ہے کہ آپ ان کے ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہیں نہیں۔
ہم چونکے اور پوچھا ’’اس بات کا کیا مطلب ہے؟‘‘
وہ بولی ’’آپ خوب جانتے ہیں کہ اس بات کا کیا مطلب ہے، اب آپ زیادہ بنیں نہیں، ٹھیک ہے اب آپ اپنے ماضی کی سب عادت و اطوار چھوڑ چکے ہیں اور پارسائی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن آپ کا ماضی تو خاصا رنگین رہا ہے‘‘
اس کی یہ باتیں ہمارا دماغ گرم کرنے کے لیے کافی تھیں، ہمیں سخت غصہ آیا اور اسے تھوڑی سی جھاڑ پلائی ’’کیا بکواس کر رہی ہو، ہم تو کراچی میں پیدا ہوئے اور بہت چھوٹی عمر میں ایک بار لاہور گئے تھے اس کے علاوہ دو تین بار حیدرآباد جانا ہوا، ہمارا کیا تعلق مشرقی پاکستان اور کسی بھی قسم کی رنگینیوں سے، تمھیں یقیناً شفیع صاحب نے کوئی غلط پٹّی پڑھادی ہے، ہم کسی وقت آئیں گے تو ان سے بات کریں گے، شاید انھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے‘‘
لیکن جناب وہ ہماری کوئی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھی، بالآخر ہم نے تنگ آکر فون بند کردیا لیکن ایک عجیب سے الجھن ذہن میں رہ گئی کہ آخر شفیع صاحب نے ایسی باتیں کیوں کیں، اصولی طور پر تو ہمیں فوراً ان کے دفتر جاکر ان سے بات کرنا چاہیے تھی لیکن اتنی فرصت ہی نہیں ملی، دوبارہ اس لڑکی نے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا، ہم بھی اس قصے کو بھول گئے، دوبارہ یہ قصہ اس وقت یاد آیا جب انور فرہاد ہم سے ملاقات کے لیے آئے ، ہمارے ذہن میں ان کا نام سن کر ایک اسپارک ہوا، ہمارے سامنے ایک باریش بزرگ بیٹھے تھے ، ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا پہلے مشرقی پاکستان میں رہے ہیں، انھوں نے اثبات میں جواب دیا، پھر ان سے گفتگو کھل کر ہوئی، انھوں نے بتایا کہ وہ شفیع ادبی کے بھی اچھے دوستوں میں رہے ہیں، ہم نے اپنا سر پکڑ لیا اور انور فرہاد سے کہا ’’بھائی! آپ نے ہمیں بڑا رسوا کرایا ہے‘‘ پھر انھیں سارا قصہ سنایا، بعد میں ان سے بہت اچھے مراسم رہے اور آج بھی ہیں لیکن برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی۔
وہ نٹ کھٹ شریر لڑکی پھر ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست کی بیگم بن گئیں اور کئی بچوں کی ماں ہیں، ایک بار ان کے گھر جانا ہوا تو ہم نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا اور بتایا کہ شفیع ادبی انور فراز کو انور فرہاد سمجھ کر تمھارا دماغ خراب کرتے رہے اور تم نے ہماری ایک نہ سنی۔

دیوتا کا آغاز

ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں کہ ڈائجسٹوں کا دیومالائی دور 70 ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک عروج پر رہا اور پھر یکسانیت کا شکار ہوکر بری طرح فلاپ ہونے لگا، شکیل عادل زادہ ، ایچ اقبال اور معراج رسول جیسے بالغ نظر پبلشر اور ایڈیٹر اس صورت حال سے نکلنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کرنے لگے اور نئے موضوعات ، نئی دلچسپیوں کے ساتھ سلسلے وار کہانیاں شروع ہوئیں، نواب صاحب کو دیوتا کا ہدف دیا گیا، اس حوالے سے ڈاکٹر نسیم جاوید صاحب نے اپنی یادداشتوں میں دیوتا کے آغاز کا تذکرہ کیا ہے،چناں چہ دیو مالا کی جگہ دنیا بھر میں مقبول ہوتی مائنڈ سائنسزپر توجہ دی گئی اور ٹیلی پیتھی ، ہپناٹزم، یوگا جیسے موضوعات کو کہانیوں میں جگہ دی گئی۔

اس وقت تک جاسوسی ڈائجسٹ ایک کامیاب میگزین تھا لیکن معراج صاحب کی انتہائی کوششوں کے باوجود ماہنامہ سسپنس کی اشاعت قابل ذکر نہیں تھی، سسپنس کے مدیر اقبال پاریکھ تھے اور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وہ ایک باصلاحیت انسان ہیں، فکشن پر گہری نظر رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود سسپنس کی اشاعت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا تھا، معراج صاحب ایک بڑی معرکہ آرائی کے بعد سسپنس کے لیے الیاس سیتا پوری کو بھی سسپنس میں مستقبل بنیادوں پر لے آئے تھے، وہ بلا شبہ اپنے شعبے کے غیر معمولی افراد میں سے تھے، انھوں نے سب رنگ میں نام کمایا تھا مگر اس کے باوجود سسپنس آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔
ہماری بات سے کوئی اتفاق کرے یا اختلاف لیکن ہماری معلومات کے مطابق معراج صاحب سسپنس سے بے زار ہوچکے تھے، ہم نے یہ بھی سنا کہ وہ اسے بند کرنے کے بارے میں بھی سوچتے تھے کہ اسی دوران میں ’’دیوتا‘‘ کا آغاز ہوا اور یہ کہانی مقبولیت کے نئے ریکارڈ بناتی چلی گئی، سسپنس میں گویا جان پڑگئی، اس کی اشاعت تیزی سے بڑھنے لگی اور وہ وقت بھی آیا جب سسپنس جاسوسی ڈائجسٹ سے آگے نکل گیا اور اس نے ایک لاکھ کی اشاعت کا ہدف عبور کرلیا ، اس کے ساتھ ہی محی الدین نواب کی اہمیت بھی معراج صاحب کی نظر میں بڑھتی چلی گئی، ان کے معاوضے میں بھی اضافہ ہوتا رہا، نواب صاحب کے معاشی حالات میں بھی بہتری آتی چلی گئی یہاں تک کہ انھوں نے ایک شادی اور کرلی، اس شادی کی کہانی تھوڑے سے فکشن کے ساتھ نواب صاحب نے ماہنامہ سرگزشت میں بیان کی تھی۔
نواب صاحب بڑی من موہنی شخصیت کے مالک تھے، آہستہ اور نرم لہجے میں بات کرتے، ہم نے انھیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا، جب ہمارے گھر کے قریب ہی یعنی پڑوس میں رہائش اختیار کرلی تو اکثر ان کے گھر جانا آنا رہتا، ان کے بیوی بچے ہمارے گھر آتے اور ہمارے بیوی بچوں سے گھل مل کر رہتے، ہماری مرحوم بیگم سے نواب صاحب کی تیسری بیگم کی گہری دوستی ہوگئی تھی، اس سب کے باوجود نواب صاحب کسی سے بھی زیادہ بے تکلف نہیں ہوتے تھے گویا اپنی نوابی کا بھرم قائم رکھتے، ان کے نام میں نواب کا اضافہ ان کی والدہ نے کیا تھا، بقول نواب صاحب وہ انھیں نواب صاحب کہتی تھیں، اصل نام محی الدین تھا، ایک بار وصی بدایونی صاحب نے نواب محی الدین لکھ دیا اور وہ شائع بھی ہوگیا، نواب صاحب فوراً دفتر آئے اور ہمارے سامنے ہی وصی صاحب کو تنبیہ کی کہ آپ آئندہ یہ غلطی نہ کریں ، میرا پورا نام محی الدین نواب ہے یعنی نواب، محی الدین کے بعد آئے گا۔
وصی صاحب نے ازراہِ مذاق کہا ’’نواب صاحب! نواب پہلے آئے یا بعد میں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
نواب صاحب نہایت سنجیدگی سے بولے ’’بہت بڑا فرق پڑتا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ میرا نام محی الدین ایک بہت ہی عظیم ہستی کے نام پر رکھا گیا تھا، نواب مجھے میری والدہ کہتی تھیں، مجھے یہ ہر گز پسند نہیں ہے کہ اس عظیم ہستی کے نام سے پہلے نواب آئے۔
نواب صاحب اگرچہ ترقی پسند ذہن کے حامل تھے لیکن اندر سے خاصے مذہبی تھے یا یوں کہہ لیں کہ اللہ اور اس کے برگزیدہ بندوں کا احترام کرتے تھے، حقیقت پسندانہ سوچ رکھتے تھے اور معاشرتی منافقت سے کوسوں دور تھے، ان میں اتنی جرأت رندانہ موجود تھی جو کسی اعلیٰ درجے کے ادیب میں ہونا چاہیے، کوئی بھی موضوع ہو ، ان کا اظہاریہ سچائی کی تلخیاں بیان کرنے سے قاصر نہیں رہتا تھا اسی لیے انھوں نے سسپنس اور جاسوسی کے لیے غیر معمولی موضوعات پر قلم اٹھایا۔
نواب صاحب کا اوڑھنا بچھونا ان کی قلم کاری تھی ، ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ نواب صاحب سے زیادہ کسی دوسرے رائٹر نے نہیں لکھا، صرف دیوتا ہی اگر مروجہ کتابی شکل میں شائع کی جائے تو ہزاروں صفحات پر پھیل جائے گی، اس کہانی کو دنیا کی طویل ترین کہانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
سانگھڑ میں نواب صاحب کا ایک عقیدت مند اس کہانی کو گنیز بک میں شامل کرانے کے لیے برسوں کوششوں میں مصروف رہا، اس کا نام الیاس تھا، اکثر دفتر آیا کرتا اور اپنی کوششیں بیان کرتا، اس نے اس سلسلے میں تمام اعداد و شمار اکٹھا کیے تھے اور مسلسل گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی مینجمنٹ سے خط و کتابت کیا کرتا تھا جس کی تازہ ترین رپورٹ لاکر نواب صاحب کی خدمت میں پیش کرتا، بہر حال ہمیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔
نواب صاحب کی تیسری بیگم بھی بہت خوش اخلاق اور وضع دار ہیں، اکثر ہماری بیگم دو تین روز کے لیے اپنے میکے چلی جاتیں تو وہ ان سے زور دے کر کہتیں کہ فراز صاحب اس عرصے میں کھانا ہمارے گھر کھایا کریں، انھیں معلوم تھا کہ ہم بازار کے کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں، چناں چہ کئی بار ایسا ہوا اور ہم نے دو تین روز نواب صاحب کے گھر ہی کھانا کھایا، اس دوران میں نواب صاحب سے خوب باتیں ہوتیں، نواب صاحب فلموں کے بہت شوقین تھے، انگلش، انڈین کوئی فلم بھی وہ نہیں چھوڑتے تھے، گھر پر وی سی آر کا خصوصی اہتمام تھا، اس کے علاوہ ایک ٹیپ ریکارڈر بھی رکھتے تھے کیوں کہ وہ کہانی لکھنے کے بجائے ریکارڈ کیا کرتے تھے پھر یہ کیسٹ دفتر آجاتے اور ایک خاتون کو بھجوادیے جاتے جو انھیں کاغذ پر منتقل کرتیں، نواب صاحب کے کہانی ریکارڈ کرانے کا مشاہدہ بھی ہم نے کئی بار کیا، وہ اپنے کمرے میں الگ تھلگ رہ کر بند ہوجاتے اور کہانی بولتے ہوئے اس قدر محو رہتے کہ کسی دوسرے کی موجودگی کا انھیں احساس ہی نہ ہوتا، اس وقت بیوی یہ احتیاط کرتیں کہ بچے شور نہ مچائیں، اس وقت تک تیسری بیگم سے نواب صاحب کے دو ہی بچے تھے ، ایک لڑکی پنکی اور ایک بیٹا جمی ، بعد میں ایک لڑکا اور ہوا جس کا نام انھوں نے فرہاد رکھا لیکن پکارنے کا نام سنّی تھا، پنکی ماشاء اللہ اب دو تین بچوں کی ماں ہے اور خوش گوار زندگی گزار رہی ہے، جمی کی شادی جو نواب صاحب کی موجودگی میں ہی ہوئی تھی ، ناکام رہی، تاحال موصوف نے دوسری شادی نہیں کی،فرہاد بھی شادی شدہ ہے اور ایک بیٹے کا باپ ہے۔
اتفاق یہ ہے کہ جب ہم نے آفس کے قریب واقع اس فلیٹ کو خیر باد کہا اور نارتھ کراچی شفٹ ہوگئے، اس کے تھوڑے ہی دن بعد نواب صاحب نے بھی وہ فلیٹ چھوڑ دیا اور وہ سرجانی ٹاؤن چلے گئے، اس طرح ان کی بیگم اور ہماری بیگم ایک بار پھر قریب قریب ہی آگئے تھے، وہ ہماری بیگم سے ملنے کبھی کبھی گھر آجایا کرتی تھیں۔
نواب صاحب نے اردو فکشن کے لیے جتنا کام کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،ان کی تقریباً تمام ہی کہانیاں شائع ہوچکی ہیں لیکن بہت سی کہانیاں ادھوری ہیں جو ان کے بڑے بیٹے شکیل نواب کے پاس ہیں،کچھ دن پہلے وہ ہمارے پاس آئے اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ نواب صاحب کی ادھوری کہانیاں شائع کی جائیں، ہم نے ان کے خیال سے اتفاق کیا اور اس سلسلے میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا لیکن تمام امور طے ہونے کے باوجود شکیل نواب دوبارہ واپس نہیں آئے، شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ معاشی طور پر ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔
جب تک معراج صاحب صحت مند رہے اور ادارے کے معاملات کی پوری طرح دیکھ بھال کرتے رہے، نواب صاحب کو کبھی کوئی بڑی پریشانی لاحق نہ ہوئی، اگر نواب صاحب بیمار ہوتے تو معراج صاحب سب سے زیادہ پریشان ہوتے اور ان کے علاج معالجے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے، نواب صاحب دمے کے مریض تھے اور ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے پھیپھڑے میں سوراخ تھا جس کی وجہ سے دمے کا دورا اکثر خطرناک نوعیت اختیار کرلیتا تھا، آخری دنوں میں معراج صاحب انھیں ہمارے استاد ڈاکٹر اعجاز حسین کے پاس لے گئے اور پھر ان کا مستقل علاج اعجاز صاحب ہی کرتے رہے۔
معراج صاحب کے خرابئ صحت کے باعث ادارے سے علیحدہ ہونے کے بعد نواب صاحب کا برا وقت شروع ہوگیا، عمر بھی زیادہ ہوچکی تھی، ان کا سال پیدائش 1930 ء بتایا جاتا ہے لیکن ایک بار انھوں نے ہم سے زائچے کی فرمائش کی تو ہمیں 1928 ء بتائی، بہر حال اس حوالے سے بھی انتقال کے وقت عمر تقریباً 86 سال تھی ۔
ہم نے فروری 2004 ء میں ادارہ چھوڑا تھا جس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ بیان کریں گے اور اپریل 2004 ء میں معراج صاحب کی صحت شدید خراب ہوئی اور وہ گھر تک محدود ہوگئے، شاید اس کے بعد ہی دیوتا کو بھی بند کرادیا گیا،ایک بار نواب صاحب نے ہمیں پیغام بھیجا کہ میں گلشن اقبال کے ایک اسپتال میں ہوں، آپ آکر ملاقات کرلیں، جب ہم وہاں پہنچے تو شکیل نواب ان کے بڑے صاحب زادے بھی موجود تھے، نواب صاحب کی حالت بہت خراب تھی، وہ ہمیں دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرلائے، ادارے کے لوگوں کی طوطا چشمی کا احوال سنایا پھر بہت غصے میں آئے اور ہم سے کہا کہ وہ آئندہ سسپنس اور جاسوسی کے لیے کچھ نہیں لکھیں گے لیکن ہم نے انھیں اس ارادے سے باز رہنے کی تلقین کی ، سب سے دلچسپ بات جو نواب صاحب نے بتائی ، وہ یہ تھی کہ ادارے میں اب ایسے لوگ آگئے ہیں جنھوں نے کبھی کہانی لکھنا تو دور کی بات ہے، پڑھی بھی نہ ہوگی اور وہ مجھے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہانی کیسے لکھنی چاہیے، وہ میری کہانیوں پر اعتراضات کرتے اور مجھے بتاتے ہیں کہ ایسے نہیں ، ایسے لکھیں، یہ بات ہمیں ادارے کے ایک معتبر شخص نے بھی بتائی تھی جس پر ہم نے بہت افسوس کیا تھا، بہر حال ہم نے سختی سے نواب صاحب کو ادارہ چھوڑنے سے منع کیا کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ جو کچھ بھی انھیں مل رہا ہے وہ کسی دوسرے ادارے میں نہیں ملے گا، اس کے بعد نواب صاحب کی طبیعت سنبھل گئی اور وہ دوبارہ کہانیاں لکھنے لگے۔
انتقال سے کچھ عرصہ پہلے جب طبیعت بہت بگڑ گئی تو انھوں نے تیسری بیوی کا گھر چھوڑدیا اور بڑے بیٹے شکیل نواب کے گھر منتقل ہوگئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️جب سے.. اردو کہانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے