سر ورق / کہانی / آج پیر ہے پرشوُ پردھان/عامر صدیقی

آج پیر ہے پرشوُ پردھان/عامر صدیقی

اِڈا یاد کرنے لگی کہ آج کون سا دن ہے، ٹی وی کے دلچسپ مناظر سے لگ رہا تھا کہ آج اتوار ہے، اچھا سا اتوار ہے، پھر اسے لگا آج پیر ہے اور ہیریش سے ملنا ہے۔ ہیریش کی یاد آتے ہی اِڈا کو پیر ہی سے بوریت سی ہونے لگی۔ کتنا شرابی ہے ہیریش۔ رات بھر وہسکی کی کتنی ہی بوتلیں خالی کر جاتا ہے اور پھر باتیں کرتا ہے زمین آسمان کی۔ جیسے ساری رات اسی کی ہے اور کسی کی تو ہے ہی نہیں۔ جیسے پھر وہ کوئی طالب علم نہ ہو، بلکہ کسی رئیس کا اکلوتا وارث ہو ۔جیسے اس کے پاس ڈالروں کی بوریاں ہوں یا اس کا بہت بھاری بھرکم بینک بیلنس ہو۔

وہ بوریت سے کھسر پھسر کرتا ہے ،’’اِڈا ،میں اس سمسٹر کے بعد یہاں نہیں رہنے والا۔ کتنا چھوٹا اور تنگ ہے یہ شہر۔ اگر نیویارک نہیں تو واشنگٹن ڈی سی جاؤں گا۔ وہاں سے ڈاکٹریٹ بھی آسانی سے کیا جا سکتی ہے۔‘‘

پر اپنی سوجھ بوجھ اور علم سے بہت دور تھا وہ۔

اِڈا کمرے کو دیکھتی ہے۔ دیواروں میں کیا ہوا پیلا رنگ کتنا زیادہ پیلا ہے۔ اِڈا کو تیز پیلے رنگ سے چڑ ہے۔ زیادہ نمک، زیادہ چینی ۔۔۔ اف کتنا بور ۔۔۔ کمرے کا پردہ بھی اتنا ہی پرانا ہے ۔ پردے کی آڑی دھاریاں اِڈا کو کیسے ڈراتی ہیں، گویا یہ دھاریاں سانپ کا پھن بن کر اٹھتی ہوں ۔کبھی کبھی راتوں میں وہ ڈر جاتی ہے اور چیختی بھی ہے ۔اِڈا کو اب پوری طرح سمجھ میں آ گیا کہ آج پیر ہے۔ پکا پیر کا ہی دن ہے۔

ہاں آج پیر ہی ہے اور آج کی رات ،بل شٹ ہیریش کے نام ہے ۔مہینے میں پیر کی چار راتوں میں ہیریش کا ساتھ دینے پر، اِڈا فیصلہ کرتی ہے کہ ہیریش کے ساتھ ہوئے سمجھوتے کو منسوخ کر دے گی اورہیریش سے صاف کہہ دے گی۔

’’مجھے بھی تو ایک دن کی فرصت چاہئے ہیریش ،تم اور کوئی گرل فرینڈ ڈھونڈو اور مجھے چھٹی دو۔‘‘

’’تمہیں چھٹی دوں اِڈا، ناممکن بالکل ناممکن ۔بلکہ تمہیں اگر ڈالر بڑھوانے ہیں تو صاف کہو ۔میں تو تیار ہی ہوں۔‘‘

’’ایسا نہیں ہے ہیریش۔ بہت سالوں سے صحت ٹھیک نہیں ہے۔ لگتا ہے یہ کام اب چھوڑ دوں ۔لیکن حالات اور ضرورتیں بھی کچھ ہوتی ہیں۔ ہیریش میں کر نہیں پا رہی ہوں۔ لیکن چھوڑنے کوشش کر ضرور کروں گی۔‘‘ اِڈا اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے ۔کبھی کبھی دیر ہونے پر ہیریش خود ہی گاڑی لے کر اسے لینے آ پہنچتا تھا ۔پھر مسلسل بیل بجاتا تھا۔کیا کرتی وہ۔ دروازہ کھولنے پر مجبور ہو جاتی اور اسی ایک قسم کی خوشبو کے ساتھ رات گزارنے پر مجبور ہو جاتی۔

ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے لگی۔ رسیور اٹھانے کو دل نہیں کرتا ۔ممکن ہے ہیریش کہتا ہو، آج دس بجتے ہی میرے یہاں آ جاؤ۔ اِڈا میں نے دو چار کین بیئر ٹھیک کر رکھے ہیں ۔کیوں نہ دن بھر اپنے آپ کو بیئر سے بدل دیں پھر۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بند ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اِڈا رسیور اٹھاتی ہے۔ خوش قسمتی سے رانگ نمبر ہے۔ وہ گھڑی کی طرف نظر ڈالتی ہے۔ دس بجنے کو ہے۔ شام کا اپائنٹمنٹ سارا دن خراب کر دیتا ہے۔ دیگر دنوں میں اسے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ اتوار جونز کے یہاں، منگل رابرٹ کے یہاں، پھر جمعہ جیکسن کے یہاں۔

سب سے اچھا تو جمعہ ہی ہے ایک تو ویک اینڈ، اوپر سے خوش مزاج جیکسن ۔جیکسن کی شخصیت کتنی پیاری اور متاثر کن ہے۔ اسکا ہیریش سے کسی بھی طرح موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جیکسن کا نام یاد آتے ہی اِڈا کی خوابیدہ خواہشیں جاگ اٹھیں۔ پوکھر میں کہیں نئی مچھلیاں کلبلانے سی لگتی ہیں۔ اب اِڈا کو بہت دور اپنے گھر کی یاد ستا رہی ہے۔ جہاں والد کے خطوط کے حرفوں کو یاد کرتے ہی اِڈا کو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا،’’تجھے گھر کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔صرف اپنی صحت کا خیال کر ۔تیری جاب کیسی ہے اور کالج میں پڑھائی کیسی چل رہی ہے۔ہمیں کچھ معلوم نہیں، جس سے ہم پریشان ہیں۔‘‘

اِڈا کو لگتا ہے کہ یہ حروف بڑھ رہے ہیں یا بڑے ہو رہے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ انہیں حرفوں تلے دب کر کہیں وہ مر ہی نہ جائے۔ اِڈا کیا جاب کرتی ہے اس چھوٹے سے شہر میں، اس جاب کو کس طرح سے بیان کیا جائے، اِڈا کو معلوم نہیں۔ وہ کہہ بھی نہیں سکتی کہ اِڈا اس شہر میں کیا کرتی ہے اور کس طرح جی رہی ہے۔ اسے لگتا ہے وہ جی رہی ہے۔ دھندلی، بے معنی اور غیر محفوظ زندگی۔

آج دن بھر کاکام یاد کرنے لگی اِڈا ۔سارے اپائنٹمنٹ اور کام بھول کر دن یوں پھسل جاتا ہے۔ پھر آتی ہے سیاہ رات، وہی ہیریش کی رات۔ وہ گھبرا جاتی ہے، ہیریش کی رات سے ۔اس نے ہیریش کو مشورہ نہ دیا ہو، تو ایسا نہیں ہے۔

’’ ہیریش تم کسی سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔ پینتیس برس کی عمر کیا چھوٹی ہوتی ہے۔ اب صرف پانچ سال ہیں ہیریش، تم اپنی بیوی ڈھونڈو۔ تم تو سترہ اٹھارہ سال کے نوعمر لڑکے لگتے ہو، کچھ تو کہو تو ناراض ہوتے ہو ؟‘‘

’’تم غلط ہو اِڈا۔ابھی سے شادی کر کے میں کیا بوڑھا ہو جاؤں۔ کیا تم مجھے بوڑھا دیکھنا چاہوگی؟۔ کیا رکھاہے شادی میں؟ ایک سادہ سی سچائی جسے قبول بھی کیا جا سکتا ہے، رد بھی۔‘‘ ہیریش ہر بات کو ہنسی میں ٹال دیتا۔

ادھر اِڈا کو ہر پیر کو جسم بھاری محسو س ہے، متلی سی ہوتی ہے ،کمرہ گھومتا ہوا سا نظر آتا ہے۔ بہت مہینوں سے سنبھالے ہوئے فیصلے کو اُگلنے کا دل کرتا ہے۔

’’میں آج نہیں آؤں گی، ہیریش مجھے معاف کرنا۔‘‘

وہ پوچھتا ہے،’’صرف میرے یہاں نہیں آؤگی یا جاب ہی چھوڑ دو گی؟‘‘

’’پہلی بات تو تمہارے یہاں نہیں آؤں گی، جاب چھوڑنے کے بارے میں ابھی نہیں سوچا ہے۔‘‘

’’یہ صرف تمہارا خیال ہے اِڈا، فیصلہ نہیں ،اب کیا وجہ ہے مایوس ہونے کی۔‘‘ہیریش پھر ہنسی میں ہی ٹال دیتا ہے۔ اِڈا کے دل کے شعلوں کو اس نے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی، نہ ہی تیار ہے۔

ہر قسم کے لوگوں سے اچھا برتاؤ کرنا واقعی مشکل کام ہے، یہ صرف نادانی ہے، اپنے آپ کو ختم کرنا ۔ہر مرد کی محبت کرنے اور چاہت رکھنے کا ایک وقت ہوتا ہے، جب وہ وقت گزر جاتا ہے یا یوں کہیں جب کنارہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر کچھ نہیں ہونے والا۔ آسمان میں ہوائی جہاز مسلسل اڑ رہے ہیں ،کسی بھی ہوائی جہاز نے اب تک اِڈا کو کہیں اڑا کر دور نہیں پھینکا ۔کسی جہاز نے اسے گھومنے پھرنے کیلئے کہیں نہیں اڑایا۔ کتنا چھوٹا ہے اسکا بینک بیلنس۔ ہر ماہ اسے بڑھانے کا ارادہ بھی جاب چھوڑنے جیسا مضحکہ خیز ہو گیا ہے۔ کبھی کاسمیٹکس کا مسئلہ تو کبھی کپڑوں کی ضد، توکبھی دوائیں سارے بجٹ کو توڑمروڑ دیتی ہیں۔ پھر کمرے کے ایک کونے میں بیئر کی ایک بوتل کو کھول کر ساری سچائی کو بھول جانا اچھا لگتا ہے اِڈا کو۔ لوگوں کے چہروں کو کہیں دور پھینک دینے کا دل کرتا ہے۔

اپنا گھر ہے کہیں دور سہی، محبت کرنے والے ماں باپ ہیں، اس بات کو بھول کرکچھ اور سوچنے کو جی کرتا ہے اس کا۔ مگر ہفتے کے سارے دنوں سے بندھی ہوئی ہے وہ ۔وہ دن اس کی زندگی کو روٹین بنائے ہوئے ہیں۔ یہ روٹین کی زندگی، دیوار پر ٹنگی ہے۔ زندگی کی یہ روٹین امتحان کے روٹین کی طرح ہے:

اتوار۔جونز

پیر۔ ہیریش

منگل۔ رابرٹ

بدھ۔ گرین

جمعرات۔ جیمز

جمعہ۔ جیکسن

ہفتہ۔سل

کیوں باہر نہیں نکل سکتی اس دیوار سے اِڈا؟ ناشتے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور لنچ کیلئے نزدیکی ڈرگ ہاؤس تک جانا ضروری ہے۔ پھر ماتھے میں پیر گھس کر اس کو بھاری بنا ڈالتا ہے۔ پھرہیریش کا روکھا رویہ آکر اسکو ٹھنڈا کر ڈالتا ہے۔ کاش ابھی فون کر کے میں بیمار ہوں، نہیں آ سکتی، کہہ سکتی ۔پر بہت ضدی ہے وہ۔ ہفتے میں ایک بار ہی تو ہے، میں تو نہیں مانتا، بول کر گاڑی لے کر آ دھمکا تو۔ پھر فون کرنے کا کوئی مطلب نہیں، دس سینٹ خرچ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔اِڈا خود سے لڑ سی جاتی ہے کیسے کاٹے گی یہ لمبا دن؟۔ پارک تک جائے، پرادھر بھی خرچہ ہی ہے۔ کمرے کے باہر قدم رکھتے ہی ڈالروں سے راستہ بناتے ہوئے چلنا پڑتا ہے۔ دن بدن مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی میں جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ کمرے میں ہی جھول کر کتنا وقت کاٹا جا سکتا ہے ؟۔ یہ شہر بھی سٹھیا گیا ہے ۔اِڈا جائے تو کہاں جائے، کون سی جگہ باقی ہے، سینٹرل پارک میں بھی کتنا جھولا ، جھولاجائے، درجنوں آدمیوں کے درجنوں سوال، جواب دیتے دیتے پریشان ۔جدھر دیکھو آدمیوں کی بھیڑ ۔ایسی پریشانی اور کسی دن نہیں ہوتی، سوائے پیر کے، بیکار پیر۔

لنچ کا وقت بھی ختم ہو چکا ہے۔ اِڈا کو بھوک نہیں ہے۔ گاڑی لے کر فالتوچلوں تو کتنی دیر چلوں؟ کتنی دور چلوں؟ کس موٹروے تک پہنچ کر لوٹوں؟ جدھر دیکھو سڑکوں کے جال بچھے ہوئے لگتے ہیں ۔کون سا راستہ اسے کتنی دیر تک کہاں تک لے جا سکتا ہے؟ کہیں کوئی حادثہ ہوگیا تو؟ کہیں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ سوائے رات کا انتظار کرنے کے، دل کو موم سا پگھلاکر باہر جاؤں؟ پھر دل کو سپنوں کے ننگے تار چھو رہے ہیں۔ اِڈا فون لگاتی ہے۔ ادھر ہیریش ہی ہے۔ وہ بول بھی نہ پائی تھی کہ ادھر سے ہیریش کی آواز اس کو ہلا کر رکھ لیتی ہے ۔

’’فرصت ہو تو ابھی آ جاؤ اِڈا، کیوں شام کا انتظار کرتی ہو ؟۔ میں تمہاری ہی وجہ سے، کالج نہیں گیا ہوں تم ابھی آجاؤ۔‘‘

’’میری طبیعت آج ۔۔۔۔‘‘

فون میں بات کو درمیان میں ہی ٹوک کر، بولنے کی آواز آتی ہے،’’اکیلے رہنے سے کیسے طبیعت اچھی رہے گی؟ادھر آ جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا، نائٹ کلب بھی جانا ہے نہ ،تھوڑی دیر کے لئے ۔۔۔‘‘

’’کہہ تو رہی ہوں ۔۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔۔‘‘

’’نو نو۔ فوری طور پر آ جاؤ۔‘‘ ہیریش فون کاٹ دیتا ہے۔

اب اِڈا سوچ رہی ہے، اس شہر سے اس کی نجات ممکن نہیں ہے۔ اس پیر سے بھی اس کی نجات ممکن نہیں ہے۔ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی جانا ہے۔ اس کے نہ چاہنے پر بھی پیر آ ہی جاتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہیریش کے ساتھ رات گزارنی ہے۔

ہیریش،ہیریش، ہیریش؟

اِڈا باتھ روم میں گھس جاتی ہے۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ یوگیش کناوا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے