سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔ رضاالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضاالحق صدیقی

میسی اور دوسرے سٹورز

ہمیں امریکہ آئے پندرہ دن ہو گئے تھے۔عدیل آفس چلا جاتا تھا اور ہم اس کی واپسی تک گھر پر ہی ہوتے تھے زیادہ سے زیادہ ڈاﺅن ٹاﺅن کا چکر لگا آتے تھے۔عدیل کا آفس چونکہ گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا اس لئے وہ پیدل چلا جاتا تھا۔گاڑی گھر پر ہی ہوتی تھی۔رات کے کھانے پر عدیل نے رابعہ سے کہا کہ تم امی پاپا کو گھمانے لے جایا کرو۔

رابعہ نے کہا ،،امی ابو آپ تیار رہیئے گا کل گھومنے چلیں گے۔

صبح میں جلدی اٹھ گیا،دیکھا تو بیگم صاحبہ نماز پڑھنے میں مصروف تھیں،اوہ،میں نے اٹھ کر کھڑکی کا کرٹن ہٹا کر باہر دیکھا،فجر کا وقت ہو گیا تھا،باہر کے موسم سے توکچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا،شاید آئی پیڈ پر وہاں کے وقت کے مطابق اذان ہوگئی تھی۔میں نے بھی نماز پڑھنے کا سوچا اور باتھ روم میں چلا گیا،ناشتے کے بعد عدیل آفس چلا گیا۔آج ہمارا رابعہ کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام تھا۔

،،آج میں آپ کو دو سٹوروں پر لے جاﺅں گی،،

رابعہ نے کہا

،،ٹھیک ہے،،

میں نے عنایہ سے کھیلتے ہوئے کہا

،،پھر حلال سٹور بھی چلیں گے،گوشت اور چکن لانا ہے،عدیل واپسی پر روز بھول جاتے ہیں،،رابعہ نے پھر کہا

،،یہ حلال سٹور کیا ہے،،میں نے پوچھا

،،ابو یہ کراچی کے دو بھائیوں کا سٹور ہے،تھوڑے ہی فاصلے پر ہے،ایک تو وہاں سے ہمارے دیسی مصالحہ جات مل جاتے ہیں،دوسرے حلال مٹن اور چکن مل جاتا ہے۔اسی مناسبت سے انہوں نے سٹور کا نام حلال سٹور رکھا ہے۔یہاں دور دور رہنے والے مسلما ن مہینے بھر کی گروسری یہاں سے لے جاتے ہیں،میں بھی گوشت مرغی اسی سٹور سے لاتی ہوں،،

رابعہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا

یہاں امریکہ میں یہودی بھی بڑی تعداد میں ہیں۔یہودی حلال گوشت کھاتے ہیں،جسے کوشر کہتے ہیں۔مچھلی تو مارکیٹ سے عام مل جاتی ہے۔یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

،،چلو حرام حلال کا مسئلہ تو حل ہوا ورنہ مشکل ہو جاتی،،

میں نے ہنس کر کہا

امریکی سور کا گوشت کھاتے ہیںجسے پورک کہتے ہیں،بھینس اور بکرے کا گوشت کم ہی استعمال کرتے ہیں۔مارکیٹ میں گوشت کی دکانوں پر پورک عام پڑا ہوتا ہے۔بھینس اور بکرے کا گوشت ہو بھی تو حلال نہیں ہوتا جھٹکے کا ہوتا ہے کیونکہ ان میں ہماری طرح حلال حرام کا کوئی تصور نہیں ہے۔اس لئے مسلمانوں کو محتاط ہونا پڑتا ہے۔اور اب حلال گوشت کی مسلمانوںکی دکانیں کھل جانے سے لوگوں کو کچھ سکون ہو گیا ہے کہ انہیں حلال گوشت مل جاتا ہے۔

میں نے رابعہ سے کہاکہ حلال سٹور تو جانا ہی ہے،موٹا کٹا ہوا قیمہ بھی لے لیں گے۔رابعہ کہنے لگی

،،ابو یہاں ایسے نہیں ملتا،وہ لوگ کہتے ہیں قیمہ کے لئے پوری ران لیںپھر قیمہ بنا کر دیں گے،،

میں نے کہا

،،تو ٹیلی فون پر کہہ دو،جب دوسرے سٹور جہاں تم لے جارہی ہو،وہاں گھوم لیں گے تو واپسی پر قیمہ لے لیں گے،،

رابعہ نے ٹیلی فون پر قیمے کا کہہ دیااور میری فرمائش پر اسے یہ بھی کہہ دیا کہ موٹے قیمے والے بلیڈ لگا کر قیمہ بنایئے۔آج نجانے کیوں کھڑے مصالحے کا قیمہ کھانے کا دل کر رہا تھا۔شاید پاکستان یاد آ رہا تھا۔

گاڑی اپارٹمنٹس کے نیچے پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی لفٹ نے ہمیںنیچے پارکنگ ایریا میں پہنچا دیا۔

ہم باتیں کرتے ہوئے گاڑی کے پاس آگئے۔رابعہ نے گاڑی کھولی ،پچھلی سیٹ پر نصب بے بی سیٹ پر عنایہ کو بٹھایا پھر اس کی سیٹ بیلٹ باندھی،اس کے ساتھ والی سیٹ پر اس کی دادی بیٹھ گئیں۔پھر رابعہ ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھی۔دوسری طرف کا دروازہ میرے لئے کھول دیا،میں بھی سیٹ پر بیٹھ گیا۔رابعہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے میری طرف دیکھ کر بولی

،،ابو سیٹ بیلٹ باندھ لیں،،

،،کیوں؟تم نے باندھ تو لی ہے،کیا ضروری ہے، میں بھی بیلٹ باندھوں،پاکستان میں تو نہیں باندھتے،،

میں نے کہا

،،ابو ،آپ امریکہ میں ہیں،پاکستان میں نہیں۔یہاں بیلٹ باندھنا قانوناََ ضروری ہے،،

رابعہ نے وہی سبق دھرایا جو عدیل نے ائیرپورٹ پر ہمیں ریسو کر کے گھر لاتے ہوئے پڑھایا تھا۔

،،یہ ٹوں ٹوں کی آواز کیوں آ رہی ہے گاڑی میں سے،،

میں نے رابعہ سے پوچھا

،،اس لئے کہ آپ نے ابھی تک بیلٹ نہیں باندھی،گاڑی میں جو سسٹم نصب ہے،وہ یاد دھانی کراتا ہے کہ بیلٹ پہن لیں،،

رابعہ نے ہنس کر کہا

میں نے کندھے کے اوپرسے بیلٹ لا کر سینے کے اوپر سے لے جا کر اس کا ہک لگا دیا اور گاڑی میں سے ابھرنے والی ٹوں ٹوں کی آواز بند ہو گئی اور ڈیش بورڈ پربیلنک کرتا سرخ نشان بھی بجھ گیا۔

،،یاد رکھیں جب بھی گاڑی میں بیٹھیں،یہ بیلٹ لگانا ضروری ہو گا،،

،،اچھا اچھا ٹھیک ہے،،

رابعہ نے گاڑی سٹارٹ کی، پارکنگ لاٹ سے نکالی۔یہ ٹوون ٹاور کا پارکنگ ایریا تھا جہاں پر ہر فلیٹ کے مکینوں کو جگہ مخصوص کر دی گئی تھی۔اس وقت ایک دو گاڑیاں ہی کھڑی تھیں کیونکہ لوگ اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی نوکریوں پر جا چکے تھے۔ وقت کی پابندی یہاں لازمی امر ہے اور لوگ اس کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔

عدیل کا فلیٹ چونکہ ڈاﺅن ٹاون کی مین سڑک پر واقع ہے اورنزدیک ہی فائر بریگیڈ کا آفس بھی ہے اس لئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہر وقت شور مچاتی ہوئی گذرتی ہیں۔

ہم سڑک پر آگئے،بائیںجانب سے گھوم کرہم مین سڑک پر آئے،سڑک کے دونوں طرف عمارتیں،کناروں پر چلنے کے لئے اینٹوں کے بنے خاصے چوڑے فٹ پاتھ،ترتیب سے بنے صاف ستھرے اپارٹمنٹس بڑے خوبصورت لگ رہے تھے ، سڑکیں صاف ستھری جیسے دھلی ہوئی ہوں،فضا صاف شفاف،دھول نا مٹی،نا گاڑیوں کا دھواں اور نا ہی ہارنوں کی بے ربط آوازیں حالانکہ بیشمار گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔

چھوٹی سڑکیں پار کر کے رابعہ ہائی وے پر آ گئی۔وہ ہمیں امریکہ کے مشہور سٹور میسی پر لے جا رہی تھی۔میسی سٹور ،ویٹن مال میں واقع ہے جہاں کئی اور سٹور بھی ہیں۔

رابعہ نے گاڑی میسی کے سامنے ایک وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں لا کھڑی کی۔میں نے گاڑی سے باہر نکل کر اس پارکنگ پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔صاف ستھرا پارکنگ لاٹ جہاں زمین پر سفید رنگ سے لائینیںبنی ہوئی تھیں۔دو لائینوں کے درمیان گاڑی کھڑی کرنا ہوتی ہے۔بے ترتیبی سے کوئی گاڑی کھڑی نہیں کر سکتا۔ہر کوئی سفید لائنوں کے درمیان چھوڑی جگہ پر گاڑی پارک کرنے کا پابند ہوتا ہے۔سٹوروں کے سامنے معذوروں کی گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ مخصوص ہوتی ہے وہاں صرف معذور لوگ جن کے پاس باقاعدہ سرٹیفیکیٹ ہو گاڑی کھڑی کر سکتے ہیں۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ دور دور تک کہیں کوئی کاغذ کا ٹکڑا تک نظر نہیں آ رہا تھا،کہیں پاﺅں سے مسلی ہوئی کوئی سگریٹ نہیں تھی،کوئی پھل،کوئی چھلکا،کوئی لفافہ،کسی چاکلیٹ کی ریپنگ،کچھ بھی نا تھا۔کہیں پھٹے ہوئے اخبار کے ٹکڑے تھے نہ کوئی مومی لفافہ ہوا سے ادھر سے ادھراڑرہا تھا،کوئی کوک کا ٹن پیروں کی ٹھوکروں میں نہیں آ رہا تھا،کوئی جوس کا خالی ڈبہ پڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

معذوروں کی گاڑیوں کے لئے مخصوص جگہیں اکثر خالی نظر آرہی تھیں کیونکہ یہاں کسی بھی حال میں عام آدمی گاڑی کھڑی نہیں کرتا چاہے پاکنگ لاٹ میں کتنا ہی رش کیوں نا ہو۔

میں وہاں کھڑا سوچ رہا تھاکہ ہمارے ملک میں ایسی بات کیوں نہیں ہے،گاڑیاں جہاں بھی کھڑی کی جاتی ہیں۔بے ترتیبی سے کوئی آگے کھڑی کر دیتا ہے کوئی پیچھے۔بعض اوقات تو ایسے گاڑی کھڑی کی جاتی ہے کہ گاڑی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ان گاڑیوں کے مالکان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے دوسروں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہے۔

یہاںامریکہ میںکیاخوبصورت نظام ہے ناکسی کوتکلیف نہ پریشانی۔گاڑی کھڑی کی،کام کیا،شاپنگ کی اور آرام سے بغیر کسی تکلیف کے گاڑی نکال کر لے گئے۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ لوگ ،جو پاکستان میں قانون کو خاطر میں نہیں لاتے یہاں بلاچوں چرا وہی کرتے ہیں جو قانون کہتا ہے۔گاڑی سیٹ بیلٹ باندھے بغیر نہیں چلاتے۔حدِرفتار کاخیال رکھتے ہیں۔اشاروں پر رکتے ہیں چاہے اردگرد دیکھنے کو ئی نہ ہو۔ گاڑی پارکنگ لاٹ میں دو سفید لائینوں کے درمیان اس طرح کھڑی کرتے ہیں کہ سفید لائن پر گاڑی کا پہیہ نہیں آتا،یہ معمولی معمولی سی باتیں ہیں جن پر عمل کرنا مشکل کام بھی نہیں پھر بھی ہمارے ہاں لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے۔اصولوں کو توڑنا،قانون شکنی ہمارا شیوہ کیوں بن گیاہے۔بہ حیثیت قوم یہ کتنی معیوب بات ہے۔آخر یہاں بھی تو یہ لوگ ہیں۔ کس قدر شفاف نظام چلا رہے ہیں۔صفائی اور قانون کے احترام نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔

،،ابو چلیں،،

رابعہ نے مجھے محو دیکھ کر کہا۔

رابعہ،بوٹ(پاکستان میں ڈکی) سے عنایہ کا سٹولر نکال کر عنایہ کو اس میں بیٹھا کر مجھ سے مخاطب تھی۔

،،ہاں ہاں چلو،،

میں نے محویت سے نکلتے ہوئے کہا

ہم میسی سٹور میں داخل ہوئے۔اتنا بڑا سٹور جو ایکڑوں پر محیط ہے میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔یہاں کیا کچھ نہیں تھا، مختلف چیزیں بڑے سلیقے سے سجی ہوئی تھیں۔ایک ایک حصہ ہمارے اسلام آباد کے سنٹورس سٹور سے بڑا تھا۔کہیں کراکری تھی،قیمتی کرسٹل کے برتن، ڈیکوریشن کی جگمگاتی چیزیں،چمکتی دمکتی کٹلری،کوئی حصہ زنانہ لباسوں کے لئے مختص تھا،کہیں مردانہ قمیضیں اور سوٹ تھے،کوئی کھلونوں کا حصہ تھا تو کہیں ہر قسم کے جوتے ریکوں میں سجے تھے اور بے شمار چیزیں تھیں۔اوپر بھی اتنا ہی طویل و عریض علاقہ تھا ایسکیلیٹر سے لوگ اوپر جا رہے تھے،نیچے آ رہے تھے۔ایک طرف لفٹ بھی استعمال ہو رہی تھی جن لوگوں کے ساتھ سٹولر ہوتے ہیں وہ لفٹ ہی استعمال کرتے ہیں۔

لوگ شاپنگ میں مصروف تھے،کاﺅنٹر پر زیاد ہ تر لیڈیز کھڑی تھیں،کمپئیوٹر سے قیمتیں لگائی جا رہی تھیں۔لوگ سامان خرید کر آ جا رہے تھے لیکن کیا مجال جو شور شرابہ ہو یا دھکم پیل ہو،کاونٹروں پر لوگ اپنا سامان اٹھائے قطاروں میں نظر آ رہے تھے۔باری آنے پر سیل گرل کے سامنے رکھ رہے تھے،بل ادا کر رہے تھے اور اپنی راہ لے رہے تھے۔

ہم نے میسی نے بیشتر حصے دیکھ لئے۔اوپری منزل پر فوڈ کورٹ بھی تھی،کھانے پینے کی دکانیں۔اتنا بڑا میسی دیکھتے دیکھتے بہت وقت لگ گیا۔رابعہ کہنے لگی فوڈ کورٹ سے کھانا کھا لیتے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ عنایہ کو فرائز لے دو،کھانا ہم گھر چل کر کھائیں گے۔اس وقت تک عدیل بھی واپس آ گیا ہوگا۔

رابعہ نے کہا

،،جیسی آپ کی مرضی،،

پھر رابعہ کہنے لگی کیوں نا اب ساتھ والے مآل میں چلیں۔لیکن ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے کیونکہ میسی اتنا بڑا مآل ہے کہ اس کا ایک چکر لگا کر ہی ہم تھک گئے تھے۔ہم نے رابعہ سے کہا ،،آج نہیں پھر کسی دن آئیں گے،آج بہت تھک گئے ہیں،،۔

ہم باتیں کرتے کرتے باہر نکل آئے،چار بج گئے تھے، سٹور میں گھومتے پھرتے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔وہاں سے ہم حلال سٹور آئے،قیمے کا پیکٹ پکڑا اور گھر کو چل دئیے،گھر پہنچتے پہنچتے پانچ بج گئے۔میں خاصا تھک گیا تھا،گھر پہنچتے ہی صوفے پر دراز ہو گیا، ہماری بیگم اور رابعہ اپنی شاپنگ دیکھنے لگیں۔

 

منٹگمری کاونٹی ۔ وڈ سائیڈ پارک

شام کو عنایہ پارک جانے کی ضد کرتی تو ہم سب پیدل ہی اسے سٹولر میں بیٹھا کر قریب کے پارک میں لے جاتے،یہ کوئی زیادہ بڑا پارک نہیں ہے لیکن اس تک جانے میں میرے سیر کے کیڑے کو خوراک مل جاتی تھی۔ مجھے ابھی تک اس پارک کا نام معلوم نہیں تھا کیونکہ کئی بار پارک جانے کے باوجود کبھی پارک کے بورڈ پر نظر ڈالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

اس روز بھی عنایہ پارک جانے کے لئے بضد ہوئی تو ہم عنایہ کو لے کر پارک لے آئے۔ننھی عنایہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے تک بھاگنے لگی،ماں باپ اور دادی بھی اس کے ساتھ ساتھ پھر رہے تھے،پارک میں ہر رنگ و نسل کے بچے اور ان کے پیچھے بھاگتی مائیں،میں اکیلا ہی ایک قدیم سے لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔میں نے نظر اٹھا کردیکھا تو آج پہلی باراس پارک کے نام کے بورڈپرپڑی جووہاںسڑک کے کنارے استادہ تھا ، وڈسائیڈ پارک،پارک کے نام سے ہوتی ہوئی میری نظر منٹگمری کاونٹی پر ٹک کر رہ گئی۔بچوں کے لئے توشاید اس لفظ ،،منٹگمری،، میں کوئی خاص کشش نا تھی لیکن میں لمحوں میں اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔منٹگمری(ساھیوال) میری جنم بھومی جس سے میری یادیں جڑی ہیں،ماہی شاہ کے قبرستان میں میرے ماں باپ محوِ خواب ہیں۔جہاں میں نے اپنے بابا جی سرکار،اپنے والد سے پہلا لفظ بولنا سیکھنے سے قلم کی حرمت تک کا درس لیا،دوستوں کی صحبت میں کیفے ڈی روز کے شب و روز۔مجلسِ فکرِ نو میں بیتا ایک ایک لمحہ،اسٹیڈیم ہوٹل پر مجید امجد کی صحبت میںگذرا ہوا وقت ، شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر جو ہمیں دریائے ٹیمز لگتی تھی کے کنارے ٹہلنا،اسی نہر کے کنارے لگے ہرے بھرے چتناروں پر چلتے تیشوں پرمجید امجد کے قلم سے نکلی ایک کرب ناک چیخ جس نے ان کی حساسیت کو دنیا پر آشکار کر دیا۔

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

جھومتے کھیتوں کی سرحد پر،بانکے پہرے دار

کھنے،سہانے،چھاﺅںچھڑکتے ، بور لدے چھتنار

بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم

گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار

کٹتے ہیکل ، جھڑتے پنجر،چھٹتے برگ و بار

سہمی دھوپ کے رد و کفن میں لاشوں کے انبار

آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار

اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال

مجھ پہ بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل

یہ درخت جن کے کٹنے پرمجید امجد کے اندر ایک حساس انسان چیخ اٹھا تھا،یہاں امریکہ میں کسی شاعر کو چیخنے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ یہ نیچر سے پیار کرنے والی قوم ہے،یہاں ہر طرف ہریالی بکھری ہے،درختوں کی بہتات ہے،لیکن یہاں کوئی ٹمبر مافیا نہیں ہے۔ہر طرف گھنے جنگل نما پارک بھی ہیں جہاں قدرتی طور پر عمر رسیدہ ہو کر اگر کوئی درخت گر جائے تو یہاں کی انتظامیہ اسے گرا ہی رہنے دیتے ہیں ما سوائے اس درخت کے جو سٹرک پر گر کر سڑک کو بلاک کر دے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک نیچرل عمل ہے۔

منٹگمری(ساھیوال) کی نہر کے کنارے واقع کنعان پارک میں داخل ہوتے ہی ہمارے کانوں میں مجید امجد کی نظم توسیعِ شہرکی گونج لاشعوری طور پر سنائی دیتی ہے۔کیفے ڈی روز پر منعقد ہونے والی مجلس فکرنو کی محفلیں ، کنور شفیق،نعیم نقوی،زاہد حکیم ، ارشدرضوی،رانازاہد،کامران،وارث انصاری،ارشد چوہدری،عبدالمجید،ایزد عزیز،اعجاز شیرازی،دین محمد درد،آئیون راجکمار،جاوید کنول،ایم اے اشرف،وقاص بٹ،سلیم شاہ،اسحاق خان،انوار سیف اور بہت سے دوست،سینئرز میں حاجی بشیراحمد بشیر،گوہر ہوشیار پوری،جعفر شیرازی، محمود علی محمود،ناصر شہزاد،یٰسین قدرت،اکرم کلیم،غلام فرید کاٹھیہ،پروفیسر راجہ عبدالقادر اور جانے کتنے لوگ تھے جو وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔منٹگمری(ساھیوال) میری یادوں، میری انسپر یشن کا مرکز و محور ہے۔یادوں کا ایک سلسلہ تھا جو بہتا چلا آ رہا تھا۔

اچانک بھاگتی ہوئی ننھی عنایہ زور سے مجھ سے ٹکرائی۔اور ،،ابو،، کی آواز مجھے پھر پارک کے اس بینچ پر لے آئی جہاں میں بیٹھا تھا،میں نے عنایہ کی جانب دیکھا تو چڑھی ہوئی سانس کے ساتھ اس کے چہرے پر مسرت کے دھنک رنگ جھلملا رہے تھے۔ بچوں کی یہ عادت مجھے بہت پسند ہے کہ سیر حاصل کھیل کود کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا،عنایہ بھی اپنے باپ پر گئی ہے۔میں اور میری بیگم دونوں اپنے اپنے کام سے واپس آتے تو سارا دن کی تھکن چاہتی تھی کہ تھوڑا ریسٹ کیا جائے لیکن عدیل کہیں نا کہیں جانے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا تھا حالانکہ وہ بھی سکول سے آیا ہوتا تھا لیکن بچوں میں انرجی کوٹ کوٹ کربھری ہوتی ہے،ہمارے آتے ہی جوائے لینڈ یاکسی اور جگہ جانے کا تقاضا شروع ہو جاتا اور ہم اسے لے کر نکل جاتے،جوائے لینڈ کی ساری رائیڈز پر دو،دو بار بیٹھنے کے باوجود اس کا دل نہیں بھرتا تھا،عنایہ بھی عدیل کی طرح دبلی پتلی سی ہے لیکن انرجی ہے کہ کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔

پارک سے واپسی کے لئے عدیل نے بڑی مشکل سے اسے سٹولر میں بٹھایا اور ہم واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔راستے میں چلتے چلتے میں نے عدیل سے پوچھا،،یہ منٹگمری کاونٹی ہے؟،،

،،جی پاپا،میری لینڈ میں تین کاونٹیاں ہیں ۔منٹگمری واحد کاونٹی ہے جہاں انگریزوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ورنہ دوسری کاونٹیوں میں میکسیکنز نیگرو بھرے ہوئے ہیں۔بنیادی طور پر کاونٹی کو اگر پاکستان کے نظام میں دیکھا جائے تو یہ ڈویژن کی حیثیت رکھتا ہے۔

—0—0—

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

حضرت شاہ۔۔۔ مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق

حضرت شاہ                 مسیولینی اکثر مجھ سے یہ شکایت کرتا کہ فلیٹ میںکوئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے