سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔ میاں ساجد فاروق

مسافر تیرے شہر میں ۔ میاں ساجد فاروق

ویلیز ، سکاٹ لینڈ ، آئرلینڈ

ویلیز

                یہ 1292ءکا ذکر ہے ۔ برطانوی افواج نے پرنس لیلولائن(LLEWLLYN) کو فیصلہ کن جنگ میں شکست دے کر ویلیز پر قبضہ کر لیا۔پھر گذرتے وقت کے ساتھ 1536ءمیں برطانوی قانون ساز اسمبلی نے ایک قانون پاس کیا‘ جس میں ویلیز کو برطانیہ کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ اس قانون سے قبل وہاں پر پرنس آف ویلیز کے احکاماپ پر عمل کیا جاتا تھا۔ ویلیز کے علاقائی شہزادے اور معززین بھی انتظامی امور میں پرنس کے ممدو معاون ہوتے۔

                1536ءکے ایکٹ کے تحت ویلیز کو انگریزی زبان کی شرط کے ساتھ برطانوی پارلیمنٹ میں باقاعدہ نمائندگی دے دی گئی اور وہاں انگریزی طرز کا انتظامی نظام نافذ کر دیا گیا۔1942ءمیں ایک قانون پاس ہوا کہ کورٹ آف گریٹ سیشن مشترکہ کی عدالت (ویلش کورٹس) برطانوی سرکٹ سسٹم میں داخل ہو گئیں۔ ویلش کے ایک قانون (Disastblishment Act 1914) کے تحت چرچ آف انگلینڈ کو ختم کر دیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر 1951ءمیں وزارت برائے امور ویلیز بنا دی گئی۔ اس کا صدر دفتر وزارت داخلہ میں رکھا گیا۔ لیکن 1957ءمیں ہاو ¿سنگ اور لوکل گورنمنٹ کی وزارت میں منتقل کر دیا گیا۔ 1964ءمیں ایک سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ویلیز کی تعیناتی وجود میں لائی گئی۔اس کا سربراہ کابینہ کا ممبر ہوتا ہے۔ لوکل کورنمنٹ لاﺅن اینڈ کنٹری پلائنگ ، ہاﺅسنگ اینڈ ٹراسپورٹ ویلش آفس کی ذمہ داری ہیں۔ 1967ءمیں ایک قانون کی منظوری کےک بعد دفتری کاغذات اور عدالتی زبان پر ویلش زبان استعمال نہ کرنے پر پابندی ہٹا دی گئی۔

سکاٹ لینڈ:

                سکاٹ لینڈ کے باسیوں میں 1314ءمیں بناک برن (Bannock Burn)کے مقام پر فیصلہ کن لڑائی کے بعد اپنی آزادی کی تسلیم کروا لیا تھا۔ جیمس ششم جب برطانیہ کا تاجدار بنا اور اس ملک میں جیمس اول کہلایا گیا تو خاندانی تعلقات ان دونوں ممالک کو ایک دفعہ پھر قریب لے آئے۔ وہ علیحدہ علیحدہ ممالک کا ایک ہی بادشاہ دونوں ممالک کے لوگوں اور ان کے اداروں کو یکجا نہ کر سکا۔بادشاہ وقت لندن آ گیا۔ سکاٹس پارلیمنٹ کا انتظام و انصرام اس کمیٹی کے پاس ہی رہنے دیا‘ جیسے بادشاہ خود کنٹرول کرتاتھا۔ مئی 1707ءمیں دونوں ممالک کی ایک یونین کے لئے معاہدہ وجود میں آیا۔ دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں نے قانون پاس کرتے ہوئے اتحاد کو قابل عمل کر دیا۔ اس قانون کے آرٹیکل Iکے مطابق دونوں ممالک یعنی انگلینڈ اور سکاﺅٹ لینڈ کو نئی بادشاہت قرار دے دیا گیا۔ اس کا نام متحدہ شہنشایت برائے عظیم برطانیہ (United Kingdom of Great Brition) دیا گیا۔ آرٹیکل 3کے تحت اس شہنشایت کی نمائندگی صرف ایک پارلیمنٹ کرے گی اس کےک ساتھ مشترکہ امور کے لئے انتظامات شروع ہو گئے۔ تجارت ، اوزان ، پیمائش اور سکول کے لئے ایک اصول بنا دیا گیا۔ سکاٹس اداروں بشمول عدالتی نظام ، چرچ ، نظام تعلیم اور جامعات کی اسی طرح جاری رکھا گیا۔ اتحاد کے آغاز سے حکومت میں سیکرٹری اورسٹیٹ برائے سکاٹ لینڈ کا ایک عہدہ تھا۔ 1745ءکے بعد اس عہدے پر کوئی تقرری نہ ہوئی۔ اس کی بجائے سکاٹ لینڈ کے امور کی ذمہ داری دوسرے وزاراءکو دے دی گئی۔1782ءسے اس ملک کے امور کو ہوم آفس نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ عملی طور پر لارڈایڈووکیٹ ، سکاٹ لینڈ کے امور پر اصلی طاقت تصور ہوتا ہے۔

                1885ءمیں ایک سکاٹس آفس وجود میں آیا۔ اس کا سربراہ عام طور پر 1892ءسے کابینہ کا ممبر ہوتا تھا۔ 1926ءمیںآفس آف دی سیکرٹری برائے سکاٹ لینڈ بنایا گیا۔ اس وقت سکاٹس آفس میں 5شعبے ہیں۔ داخلہ امور صحت ، تعلیم ، ماحولیات، ماہی گیری، صنعت کاری و زراعت۔

                سکاٹس قانونی انتظام ، انگلینڈ اور ویلیز سے مختلف ہے۔ اس میں تبدیلی کے لئے خاص قسم کے قوانین متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ جس سے پورے برطانیہ کے قوانین کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ دارالعلوم میں خاص طور پر سٹینڈنگ کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں۔ جن میں سکاٹس بل، سکاٹ لینڈ کے قانونی انتظام کے مطابق تیار کےے جاتے ہیں۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے سکاٹس عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ”سکاٹس پارلیمنٹ “ کے بل کو پاس کر دیا گیاہے۔ اب ایک مخصوص کردہ حد تک سکاٹس عوام کے لئے قانون سازی اسی پارلیمنٹ میں ہو گی۔

                آئر لینڈ:

                بارہویں صدی میں نارمینز(Normans)کے حملہ آوری کے بعد سے ہی آئرلینڈ کی آزادی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ ا س کے ساتھ ہی انگریزی شہنشاہ ہنری دوئم نے اپنے نام کے ساتھ لارڈ آف آئر لینڈ کا اضافہ کرلیا۔ آئر لینڈ کو برطانوی کالونی بنانے کا سلسلہ اگرچہ خاصا طویل تھا۔ تا ہم 1494ءمیں برطانوی پارلیمنٹ نے پائینگز لاءPoynings Lawکے نام سے ایک قانون بنا کر بادشاہ اور اس کی کونسل کو آئرش قانون سازی میں اختیار تفویض کر دیا۔ الزبتھ کے دور کے بعد آئرلینڈ کو باقاعدہ انگریزی اور سکاٹس آبادکاروں کی مدد سے فتح کر لیا۔یوں عیار قوم نے اپنے پاﺅں پھیلانا شروع کر دیے۔

                سترویں اور اٹھارویں صدی میں ایسے قوانین واضع کئے گئے جو مقامی کیتھولک اکثریت کے لئے کسی طرح بھی گوارہ نہیں تھے۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک آئرلینڈ کا اعلی طبقہ سخت پریشانی کا شکار ہو چکا تھا۔خصوصاً ان لوگوں کو زیادہ پریشانی ہوئی جو تاجر پیشہ تھے۔ اس لئے کہ وہ ان قوانین پر عمل درآمد نہیںکر سکتے تھے جو ان لوگوں کے لئے لندن میں بیٹھ کر بنائے جاتے تھے۔ امریکہ کے حالات نے ان کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ۔ وہ اپنے معاملات میں زیادہ آزادیاں چاہتے تھے ۔1782ءمیں ایک کامیاب تحریک چلی۔ اس طرح آئرش پارلیمنٹ پر موجود پابندیاں تقریباً ختم کر دی گئیں۔ جنہیں وہ ناجائز خیال کرتے تھے۔لیکن وہ خیال کر رہے تھے کہ ان پر ناجائز تسلط کے اثرات بھی باقی ہیں۔ اس تسلط کے اثرات بہر حال کچھ دیر تک رہے۔

                1798ءکی تحریک کے ناکام باغیوں نے ”اپنا گھر اپنا راج“ کے نعرے کو تقویت دے دی۔ باغیوں اور فرانسیسیوں کے درمیان اتحاد پریشان کن تھا۔ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے درمیان یونین کو ناگزیر خیال کیا گیا۔ اس اتحاد کے لئے بنائے جانے والے قوانین کی منظوری آئرش پارلیمنٹ سے بد عنوانی کے زور پر حاصل کی گئی۔ حقیقت میں یہ بل جب آئرش دارالعلوم میں پہلی دفعہ پیش کیا گیا تو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔

                عیاری کے بل بوتے پر قائم ہونے والی یہ یونین یکم جنوری 1801ءمیں نافذ العمل ہوئی۔ اس یونین میں تخت و تاج کی وراثت کے وہی اصول تھے جو انگلینڈ او ر سکاٹ لینڈ کی یونین میں تھے۔ چرچ آف انگلینڈ اور چرچ آف آئرلینڈ کو یکجا قرار دیتے ہوئے جدید چرچ آف انگلینڈ اینڈ آئرلینڈ بنا دیا گیا۔تجارت کے میدان میں دونوں ممالک میں چند اشیاءکی آمدورفت پر 20سال کے لئے ٹیکس لگائے گئے۔ جب کہ سامان تجارت کی ایک بڑی تعدا دپر کوئی ٹیکس نہیں تھا۔

                برطانوی آئرش یونین میں کیتھولک کی آزادی اور ہوم رول جیسی تحاریک کا زور تھا۔ آخر کار 1829ءمیں کیتھولک کی آزادی کے بارے میں ایک قانون (Catholic Emancipation Act) قانون آزادی کیتھولک کے نام سے پاس ہوا۔ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد کیتھولک فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیئے موجود پابندیوں کو ختم کر دیاگیا۔ اس طرح کیتھولک فرقہ کے لوگوں سول ملٹری اداروں میں بھی ملازمت کا حق دے دیا گیا۔ تا ہم اس کے باوجود تا حال رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں میں لڑائیوں کے سلسلے جاری ہیں۔ علاقہ اکثر سخت کشیدگی کا شکار رہتا ہے۔

جزیرے کا عدالتی نظام

                میں نے دی ٹائمز(The Times)اخبار پڑھتے ہوئے کئی بار نظریں چرا کر دیکھا، مسیولینی خاصا بے چین نظر آ رہا تھا۔ میں تاڑ گیا یہ کہ ضرور اسے بوریت محسوس ہو رہی ہو گی۔ جب کچھ وقت تک میں نے سر نہ اٹھایا تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ بڑی آہستگی سے بولا”کیا پڑھ رہے ہو؟“

                ”عدالتی خبریں“ میں نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔

                ”کیا ہے ان خبروں میں؟“ اس نے شائد یونہی کہہ دیا تھا۔ میں جان گیا کہ یہ اب باتیں کرنا چاہ رہا ہے۔

                ”بہت کچھ ہوتا ہے ان میں“ میں اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔

                ”مثلاً کیا؟“ اس نے بحث کرنے والے انداز میں پوچھا

                ”احساس ہوتا ہے کہ جزیرے میں طرز انصاف کیسا ہے؟“ میں نے سنجیدگی سے کہا۔

                ”بھئی وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ کیسا ہے؟“ وہ مسکراتے ہوئے بولا

                ”تو سنوپھر“! جزیرے میں انصاف کا بول بولا ہے کسی کے ساتھ زیادتی یا نا انصافی نہیں ہوتی۔ لوگ ایک دوسرے کو خواہ مخواہ مقدمات میںپھنسا کر وقت ضائع نہیں کرتے۔بنیادی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وکلاءصاحبان بھی ایسے مقدمات دائر کرنے سے احتراز برتتے ہیں جن میں محض وقت کا ضیاع ہو۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ کسی کا وقت اور پیسہ برباد کرنے یہ عدالتیں بھی بہت سخت فیصلے صادر کرتی ہیں“

                ”یہاں کی عدالتوں کے متعلق بتائیں گے آپ“ اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا۔

                ”کیوں نہیں“

                ”تو پھر بتائیں“

                ”لندن میں اگر آپ سنٹرل لائن پر بیٹھ کر سینٹ پال اسٹیشن پر اتر کر باہر آئیں تو سینٹ پال چرچ کے ساتھ ایک عظیم عمارت نظر آئے گی۔ اولڈ بیلی روڑ پر واقع یہ عمارت سنٹرل کریمینل کورٹ ہے اس عمارت کو دیکھ کر بابا ونیﺅ کا زمانہ یاد آنے لگتا ہے ۔چاروں طرف سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ عدالت کے وقار اور احترام کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔عدالت کے اردگرد نہ تو وکلاءکے دفاتر ہیں اور نہ ہی سائیلان کی لمبی چوڑی قطاریں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ مقدمے کی سماعت کے لئے آئے ہوں اور پتہ چلے کہ جج صاحب تشریف فرما نہیں ہیں۔ نوٹس بورڈ پہ بڑے واضع انداز میں مقدمات کی تفصیل درج ہوتی ہے کہ کتنے بجے ، کون سی عدالت میں ، کونسا مقدمہ سماعت ہو رہا ہے۔ مقدمات کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جاتا ہے۔ چار منزلہ اس عمارت کی ہر منزل پر چار سے پانچ عدالتیں ہر وقت کام میں مشغول رہتی ہیں۔اگر آپ کسی اور کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر عدالت میں گیلری موجود ہے۔ آپ کورٹ روم کے باہر ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی والے سے اجازت لے کر خامشی سے گیلری میں بیٹھ کر مقدمات کی کاروائی سن سکتے ہیں۔“ میں اتنا کہ کر ذرا خاموش ہو گیا۔ تو مسیولینی بولا۔

                ”اور کیا۔۔۔۔۔؟“

                ”اوریہ کہ اولڈ بیلی روڈ پرواقع سنٹرل کریمینل کورٹ میںدستی بیگ یا پھر کیمرہ وغیرہ عدالت کے احاطے میںنہیں لے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ داخلہ مشروط ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ “ میں نے مزا لیتے ہوئے کہا۔

                ”تو سنائیں پھر“ اس نے میری طرف منہ کرتے ہوئے کہا۔

                ”ایک دفعہ میرے پاس بیگ تھا۔ گورے گارڈ نے مجھے اندر نہیں جانے دیا۔ میں نے اسے بڑا کہا اسے بہت بہانے بنائے۔ مگروہ روائتی انداز میں میری پوری بات بڑے اطمینان سے سنتا اور اسی اطمینان سے کہہ دیتا کہ مجھے افسوس ہے آپ ہینڈ بیگ کے ساتھ اندار نہیں جا سکتے۔ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ شائد ریکارڈ شدہ پیغام بار بار سن رہا ہوں۔ بہت مایوس ہوا اسی عالم میں عدالت سے ملحقہ فٹ پاتھ پر ادھر ادھر چکر لگانے شروع کر دیے۔ اچانک مجھے ایک ایشیائی کی گروسری شاپ نظر آئی۔دل بہت خوش ہوا کہ چلو اسی کے ہاں بیگ رکھ دیتا ہوں۔ خوشی سے قدم بڑھاتا اس کی دوکان پر جا پہنچا۔علیک سلیک کے بعد مدعا بیان کیا۔دوکاندار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بیگ رکھنے کے پیسے لیں گے۔ میں نے سمجھا مذاق کر رہا ہے او ربیگ دوکان کے ایک کونے میں رکھ کر مڑنے لگاتو فوراً اس نے آواز دے کہا کہ یہ آپ کی رسید ہے اوربرائے مہربانی دو پونڈ دے دیں۔اس کے ساتھ ہی بڑے بے مروتی کے ساتھ اپنے کام میں دوبارہ مشغول ہو گیا۔ میں نے بٹوے سے دو پونڈ نکالے اور اس کی طرف بڑھا دیے۔ میری ہزار کوشش کے باوجود وہ میرے ساتھ آنکھیں نہیں ملا رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ ا س کی مجبوریاں اسے یہاں تک تو لے آئی ہیں لیکن اندر کا مشرقی انسان ابھی بیدا ہے ۔ مگر ۔۔۔۔۔ ©“ میں کہتے کہتے رک گیا۔

                ”مگر کیا؟“

                ”مگر اس کے باوجود بعد میںیہ تجربہ بھی ہوا کہ کئی لوگ تو آنکھیں ملانے سے بھی باز نہیں آتے۔ نجانے ان کا مشرقی انسان کدھر چلا گیا ہے۔“ میں کہتے کہتے ذرا دکھی ہو گیا ماحول تھوڑا بوجھل ہو گیا۔یہ بات محسوس کرتے ہوئے مسیولینی نے جھٹ پوچھ لیا۔

                ”اچھا تو آپ عدالت کی بات کر رہے تھے۔“

                ”ہاں تو برطانیہ کی دوسری بڑی عدالت ”رائل کورٹ آف جسٹس“ ہے جو شہر کے وسط میں واقع ہے۔ اس عدالت کو کئی بلاک میں تقسیم کیا گیاہے۔ جہاں آپ نقشے کی مدد یا پھر راہنمائی کے بغیر اپنی مطلوبہ جگہ پر نہیں پہنچ سکتے۔دنیا بھر کے مشہور مقدمات کی سماعت یہیں ہوتی ہے۔ اس عدالت میں عام طور پر اپیل شدہ مقدمات ہی سماعت کے لیے آتے ہیں۔ سفید بالوںوالے جج صاحبان بڑے انہماک سے مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ ان کی لیاقت ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔ٹائپ رائٹر کا شور عدالتی امور میںمخل نہیں ہوتا۔ بیرسٹر کالے رنگ کا گاﺅن پہنے، سروں پر وگ سجائے نہایت وقار سے مقدمات کی پیروی کرے ہوئے عدالتوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔وکلا حضرات کے لئے سفید بالوں والی وگ اور کالا گاﺅن پہننا ضروری ہے۔وگ عقل کی علامت اور گاﺅن علم کی نشانی کے طورپر پہنا جاتا ہے۔ جج صاحبان کی آمد کا احساس ایک گرزبردار سے ہوتا ہے۔ گرز طاقت کے نشان کے طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ آپ رشوت اور سفارش کے بغیر اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں۔

                رائل کورٹ آف جسٹس میں ”ٹپ مین“ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ٹپ مین دراصل ایک ایسا کردار ہے جسے عدالت کی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ یہ عدالت کے اندر عدالتی احکامات کی تکمیل کرواتا ہے۔ عدالت کے حکم پر کسی کو بھی گرفتار کرسکتا ہے۔ اس عمل کے لئے پولیس یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے مدد لے سکتا ہے۔ ٹپ مین کی اب صرف ایک روائتی کردار کے طور ر پہچان باقی ہے۔“

                ”مقدمات نمٹانے کا کام تو بہت مشکل ہوتا ہے“۔ مسیولینی نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔

                ”اس کا طریقہ کار میں بتاتا ہوں۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا لینا۔ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں فوجداری مقدمات میںکوئی بھی مقدمہ عدالت میں پیش کرنے سے قبل ”کراﺅن پراسیکوشن سروس“ اس بات کی پوری طرح جانچ پڑتال کرتی ہے کہ مقدمہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی مضبوط شہادتیں موجود ہیں۔ایسے مقدمات جونوعیت کے اعتبار سے بلاواسطہ کراﺅن کورٹ کے دائرہ اختیار میںآتے ہیں۔ ان میں شہادتوں کی جانچ پڑتال مجسٹریٹ صاحبان کرتے ہیں اور مطمئن ہونے کے بعد باقاعدہ سماعت کے لئے کراﺅن کورٹ بجھوا دیتے ہیں۔

                برطانیہ میں فوجداری مقدمات کی سماعت کے لئے سب سے چھوٹی عدالت ”مجسٹریٹ کورٹ “ ہے۔ ان عدالتوں میں کام کرنے والے مجسٹریٹ صاحبان جسٹس آف پیس عام طور پر غیر تربیت یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔جو عام پبلک سے ان کے اچھے کردار اور مقامی کمیونٹی میں خدمات کے اعتراف کے طور پر لئے جاتے ہیں۔ان کے فیصلے عمومی شعور (Common Sence)پر مبنی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے باقاعدہ طور پر قانونی تعلیم حاصل نہیں کی ہوتی۔ زیادہ تر معروف عدالتوں میں تربیت یافتہ افراد کو وظیفہ یا اعزازیہ پر بھی مامور کیا جاتا ہے۔ ان مجسٹریٹ صاحبان کے پاس مبلغ پانچ ہزار پونڈ جرمانہ اور چھ ماہ تک کی قید کے اختیارات ہوتے ہیں۔“

                ”کیا وہ تنقید کا نشانہ نہیں بنے؟“اس نے پوچھا

                ”ہاں بنتے ہیں۔ ان مجسٹریٹ صاحبان کو اکثر اوقات اس بات پر زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ قانون سے نا بلد ہونے کی وجہ سے پولیس کی شہادتوں پر فیصلے صادر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مجسٹریٹ کورٹس میں ایک بڑی تعداد میں مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔“

                ”کراﺅن کورٹ کی نوعیت کیا ہے؟“

                ”کراﺅن کورٹ میں ہائی کورٹ کے جج ، سرکٹ جج ، ریکارڈ ز اور جسٹس آف پیس ہوتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کے مقدمات سنتے ہیں۔انتہائی اہم قسم کے مقدمات کی سماعت ہائی کورٹ کے جج صاحبان ، اس سے ذرا کم اہمیت کے مقدمات کی سماعت سرکٹ جج صاحبان کرتے ہیں۔ کچھ مقدمات میں ان کے ساتھ جسٹس آف پیس بھی بیٹھتے ہیں۔ اس عدالت میں بارہ افراد کی ایک جیوری کو مقدمہ کے نتیجہ تک پہنچنا ہوتا ہے۔ جیوری کے ارکان عام پبلک سے چنے جاتے ہیں۔ جیوری کے کسی بھی نتیجے پر جج سزا کا تعین کرتے ہیں۔ ”مجسٹریٹ کورٹ“ کے فیصلوں کے خلا ف آنے والی اپیلوں کی سماعت بھی اسی عدالت میں ہوتی ہے۔“

                ”اور جو دیوانی مقدمات ہوتے ہیں“

                دیوانی نوعیت کے مقدمات کی سماعت ”کاﺅنٹی کورٹ “ میں ہوتی ہے۔ان عدالتوں کا دائرہ اختیار پچیس ہزار پونڈ کے مقدمات تک محدود ہے۔ تاہم بسا اوقات وہ ایسے مقدمات کی سماعت بھی کر سکتی ہے۔ جس میں پچاس ہزار تک کی مالیت کا تنازعہ ہو۔ مگر ایسے مقدمات کی سماعت فریقین کی باہمی رضا مندی سے ہو سکتی ہے۔

                ” اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔ ؟“ اس نے معصومیت سے کہہ دیا۔

                ”اس کے علاوہ یہ ہے کہ چھوٹے مسائل حل کر نے کے لئے ”سمال کلیم کورٹس “ ہوتی ہے۔ان میں باقاعدہ عدالتی کاروائی نہیں ہوتی۔ان عدالت کا رجسٹر ہی بحیثیت ”ثالث“ مقدمات کی سماعت کرتا ہے۔ اس کا دائرہ اختیار ایک ہزار پونڈ یا اس سے کم مالیت کے مقدمات تک محدودہوتا ہے۔ اس عدالت کے اخراجات بہت کم ہوتے ہیں۔یہ عدالت عام طور پر رقوم کے حصول کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ ان کے فیصلوں کو ”کاﺅنٹی کررٹس“کے فیصلوں جیسی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔”یہ اپیل شدہ مقدمات کی سماعت کرتی ہے لیکن در حقیقت یہ ایک دیوانی عدالت ہیں۔مقدمات کے لحاظ سے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ہائی کورٹ کا جج کسی بھی ڈویژن میں بیٹھ سکتا ہے۔ہائی کورٹ کے تین حصوں میں ”چانسری ڈویژن“میں ایسے مقدمات سنے جاتے ہیں۔جو کمپنی لاءاور قانون دیوالیہ سے متعلق ہوں۔ ”فیملی ڈویژن“ میں طلاق اور طلاق کی صورت میں خاندانی املاک کی تقسیم سے متعلق مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ برطانیہ میں طلاق ہونے کی صورت میں عورت جو ہے وہ مرد کے برابر کے حصہ کی حقدار ہوتی ہے۔ اس لیے یہ عدالتیں خاصی مصروف رہتی ہیں۔تیسری ہے ”کوئیز بینچ ڈویژن“ یہ ایسا حصہ ہے کہ جس میں ایسے معاملات کی اپیل کی جاتی ہے جو پہلے والے دونوں حصوں کے دائرہ اختیار میں نہ ہوں۔ اس میں ایسے مقدمات کی سماعت بھی کی جاتی ہے۔ جن میں کوئی قانونی نکتہ وضاحت طلب ہو۔ قانون معاہدہ اور ایذا رسائی سے متعلق مقدمات کی سماعت بھی اسی ڈویژن کے زمرے میں آتی ہے۔ خصوصی ٹربیونل کے خلاف اپیلوں اور ان ٹربیونلیز کے اختیارات سے متعلق معاملات کی سماعت بھی اسی میں ہوتی ہے۔“

                ”ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اگر اپیل کرنی ہو“

                ”ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ”کورٹ آف اپیل “ میں ہوتی ہے۔ اس عدالت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک ہے کریمینل ڈویژن اور دوسرا ہے سول ڈویژن۔ کریمینل ڈویژن میں کراﺅں کورٹ کی سزاﺅں کے خلاف اپیلیں سماعت کی جاتی ہے اور سول ڈویژن میں ہائی کورٹ اور کاﺅنٹی کورٹس سے آنے والی اپیلوں کی سماعت کی جاتی ہے۔اس عدالت کے چیف جسٹس کو ”ماسٹر آف دی رولز” (Master of The Rolls)کہتے ہیں۔“

                اس سے پہلے کہ مسیولینی کچھ بولتا میںنے اشارے سے منع کرتے ہوئے کہا ”برطانیہ میں ”ہاﺅس آف لارڈز “ فوجداری اور دیوانی قسم کے مقدمات کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنیوالی سب سے بڑی عدالت ہے۔ س کے چیف جج کو ”لارڈ چانسلر“ کہتے ہیں جو کہ کابینہ کے ممبر بھی ہوتے ہیں۔ اس عدالت میں اپیل کا حق صرف ایسے مقدمات میں دیا جاتا ہے جو قانون اعتبار سے وضاحت طلب ہوں“

                ”اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟“

                ”اور یہ کہ اب اٹھو اور اچھی سی کافی پلا دو اور بس “ میں نے کہا تومسیولینی سعادت مند بچے کی طرح اٹھ کر کچن کی جانب چل دیا۔

جلتے ہوئے کاغذ پر لکھا ایک وعدہ

                پہلی ہی نظر میں اس شخص پر فاتر العقل ہونے کا گمان ہوتا ۔ بس سٹاپ ، انڈر گراﺅنڈ ریلوے اسٹیشن یا پھر کسی پارک میں ڈھلتی عمر کے ایک باریش شخص سے اکثر ملاقات رہتی۔ ہاتھ میں ہر وقت تسبیح رکھے وہ انفرادی طور پر ہر آنے جانے والے کو روک کر مذہب کے بارے میں کچھ بتاتے رہتے۔ مجھے بھی ان کی باتیں سننے کا اکثر موقع ملتا۔ کبھی کبھی بڑی دانائی کی باتین کرتے۔ بڑے ہی جذباتی انداز میں راہ حق پر چلنے کی دعوت دینے والا وہ شخص میرے اندر اک تجسس چھوڑ گیا۔اس کا زیادہ تر ”ٹھکانہ “ پلاشٹ پارک ہوا کرتا تھا۔ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہتی تھی کہ اسی پارک کے کسی پرسکون گوشے میںدھرے بینچ پر اس شخص سے ڈھیر ساری باتیں کروں۔ مگر وہ مقصد سے ہٹ کر کبھی بات نہ کرتا۔ اور میں اکثر اس کے انتظار میںپارک میں کئی کئی گھنٹے گزار دیتا۔ میرا تجسس یہ ہی تھا کہ اس مایہ پرست معاشرے میں یہ شخص ہے کون؟

                ایک باروہ کئی دن تک پارک نہ آیا۔ مجھے خاصی تشویش ہوئی۔ میں نے ہمت کر کے پارک کے نگران سے پوچھا کہ وہ باریش شخص جو آپ سے بھی گھنٹوں محو گفتگو رہتا ہے، کون ہے؟ اور کہاں چلا گیا؟ نگران نے منہ سے سگار نکالتے ہوئے ہلکا سا قہقہ لگایا اور بولا” یہ ایک لمبی کہانی ہے میں تمہیں ضرور سناﺅں گا۔ لیکن اس وقت مجھے اپنے پالتو کتے کو ڈاکٹر کے ہاں لے جانا ہے۔ تم ایسا کرنا کہ شام چار بجے اسی جگہ آ جانا۔“

                میں چار بج کر تقریباً چار منٹ پر اسی جگہ پہنچ گیا۔ نگران میرا پہلے سے ہی انتظار کر رہا تھا۔ تیسری دنیا کی ترقی نہ کرنے کی وجہ وقت کی پابندی نہ کرنا قرار دے کر مجھے بیٹھنے کو کہا۔ سگار سلگا کر اس نے کہنا شروع کر دیا۔

                اس شخص کا نام عبد الحمید ہے۔ یہ پندرہ برس قبل اس ملک میں سیاح کی حیثیت سے آیا تھا۔ جلد ہی اس کی ملاقات ایک ویلری نامی خاتون سے ہو گئی۔ وہ برطانوی نسل کی ایک سرخ و سفید لیکن نہایت بردباد قسم کی تھی۔شناسائی جلد ہی گہرے تعلقات میں بدل گئی۔ پھر جلد ہی دونوں نے شادی کر لی۔ ویلری نے عبد الحمید کو بہت پیار دیا۔ وہ جو کچھ کہتا ویلری ویسا ہی کرتی۔ یہاں تک اس نے یورپی لباس چھوڑ کر مشرقی لباس پہننا شروع کر دیا۔ ایسے لباس میں وہ بڑی پر وقار نظر آتی۔اس نے با قاعدہ تو نہیں لیکن بہر حال اپنا نام تبدیل کر کے نسرین رکھ لیا تھا۔دونوں میں پیار و محبت اور باہمی یگانگت ایک مثال کی طرح واضح نظر آتی ۔ وقت گزر ا اور ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔پھر دوسری بیٹی اور تیسرا بیٹا پیدا ہوا۔ وہ پر سکون زندگی گزار رہے تھے ۔ ہمیشہ گھر سے شاپنگ کے لئے نکلتے تو ان کے بچے بھی ان کے ہمراہ ہوتے۔ بڑی بیٹی کی عمر تقریباً چودہ سال ہو گئی۔ باقی دونوں بچے ابھی چھوٹے تھے۔ عبدالحمیدرات کی شفٹ میںکسی فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔ معقول آمدنی تھی۔ ویلری کو گھر کی زیبائش و آرائش سے خاصی دلچسپی تھی ۔ ان کا پیار قابل رشک تھا۔

                پارک کے نگران نے اتنا کہہ کر بجھے ہوئے سگار کو پھر سے جلایا۔ ایک طویل کش کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ وہ عبدالحمید کے گھر کے بالکل نزدیک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف مجھے سے بہت دیر تک گفتگو کرتا رہتا ہے بلکہ جو اس کے ساتھ گزار وہ سب میرے سامنے ہوا۔ وہ اپنے گھر کا نقشہ بتاتا رہا۔ جس سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میں تو بس عبدالحمید کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا۔ شائد اس نے بھانپ لیا کہ میں کیا چاہتا ہوں ۔ اس لیے پھر سے کہنا شروع کر دیا۔

                ایک دن علی الصبح میں نے عبدالحمید کے ساتھ گندگی رنگت اور مضبوط جسم والے تندرست و توانا جوان کو دیکھا۔اس کی صحت قابل رشک تھی۔ میں نے عبد الحمید سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ میرا تایا زاد بھائی ہے۔ بچپن ہی میں اس کا باپ فوت ہو گیا تھا۔ اس کا کوئی اور بہن بھائی بھی نہیں ہے۔ تب میرے والد نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ برطانیہ آئے۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ میری طرح یونان چلا جائے اور وہاں پر کسی بحری جہاز پر ملاح بھرتی ہو جائے۔ جب وہ جہاز سامان لے کر برطانیہ چلا جائے تو وہاں سے فرار ہو کر میرے پاس آجائے۔یوں یہ میرے پاس آ گیا ہے۔ وہ خوبرو نوجوان چند ہی دنوں میں ماحول سے واقف ہو گیا۔کسی ایشیائی کی دوکان پر کچھ گھنٹے کام بھی کرتا تھا۔یوں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

                چند ماہ گزرے ہوں گے کہ رات میرے گھر کا دروازہ بڑی تیزی سے بجایا گیا۔ میں نے وقت دیکھا، رات کے اڑھائی بج چلے تھے۔میں پریشان ہو گیا کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ میںنے دروازہ کھولا تو میرے سامنے عبدالحمید تھا۔ پریشان چہرہ سر کے بال بکھرے ہوئے اور نہایت تھکا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کچھ کہنا چاہا مگر شائد گلے سے آواز نہ نکل پائی تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں میں آ گئے تھے ۔ میں مزید پریشان ہو گیا کہ کیا ماجرا ہے۔ اسی اثناءمیںوہ میرے گلے لگ چکا تھا۔میں نے بڑے نرم لہجے میں اس سے پوچھا کہ ہوا کیا ہے۔ اس نے لکنت زدہ زبان میں مجھے بتایا کہ ویلری بچے اور وہ نوجوان گھر سے غائب ہیں۔ زیورات اور قیمتی چیزیں بھی وہ ساتھ لے گئے ہیں۔

                ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ گھر چھوڑ گئے ہیں اور ساتھ میں وہی یہ چیزیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

                ”یہ خط، جس میںانہوں نے ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلے جانے کی بات لکھی ہے۔ “ میں نے سر سری نظر سے وہ خط پڑھا۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ اس موقع پر اس سے کیا کہوں۔ذہن بالکل ماﺅف ہو کر رہ گیا تھا۔ اس وقت مجھے صرف یہی سمجھ آئی کہ چند منٹ اس سے لگ ہو کر سوچوں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔میں نے اسے اندر بلا کر صوفے پر بٹھایا اور خود کچن میں جا کر چائے بناتے ہوئے سوچنے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں خودحیرت ذدہ ہو گیاہوں تو عبدالحمید کا حال کیا ہوگا۔ناجانے کیوں مجھے ان کا ماضی رہ رہ کر یاد آ رہا تھا۔ ویلری اور عبد الحمید کی محبت تومثالی تھی۔ عبدالحمید جب کام پر جاتا تو ویلری اسے باہر پارکنگ میںکھڑی گاڑی تک چھوڑنے جاتی۔ رات ایک بجے اگر میراان کے گھر کے آگے سے گزر ہوتاتو ویلری بے قراری سے لابی میں ٹہل رہی ہوتی۔ وہ عبدالحمید کے گھر خیریت سے پہنچنے کے لےے بے قرار رہا کرتی تھی۔ عبدالحمید اور ویلری کی پر خلوص محبت کے چرچے تو دور دور تک تھے۔ کافی دیربعد میں نے کافی کا مگ اس کے سامنے رکھا لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ہم اس واقعہ پر کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔وہ کسی طور پر مطمئن نظر نہیں آ رہا تھا۔اورپھر جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا ۔ بغیر کسی نتیجے پر پہنچ کے۔

                ان لوگوں کے جانے کے بعد چند ہی دنوں میں ویلری کی طرف سے عبدالحمید کو قانونی نوٹس آگیا کہ مجھے طلاق چاہیے کہ میں اب تمھارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ عبدالحمید نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ عدالت میں بھی اپنا پر زور موقف پیش کیا۔ لیکن ویلری کی ایک ہی رٹ تھی کہ مجھے طلاق چاہیے تا کہ وہ اس نوجوان سے شادی کر سکے۔جو عبدالحمید کا تایا زاد بھائی تھا۔ عبدالحمید کی حالت بہت خستہ ہو گئی۔ اس نے اپنے بچوں سے ملنے کی کوشش کی جو کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی۔ اس حکم عدولی پر اسے تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا تھا۔ اب وہ کبھی مذہب کی تبلیغ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی ہیپی بن جاتا ہے یا پھر آپ کو اکثر اس پارک میں ملے گا۔

                پارک کا نگران چپ ہو کر سگا ر پھر سے سلگانے لگا۔ اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اب وہ مزید بات نہیں کرے گا۔ میں نے اجازت چاہی اور اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ تمام راستے میں یہی سوچتا رہا کہ کیا بندھن کے عہد و پیمان جلتے ہوئے کاغذ پر لکھے گئے تھے۔

اصول

                ہمیں یونیورسٹی جانے کے لئے بنک اسٹیشن سے ”ناردن لائین “ پر سوار ہونا پڑتا۔ اسی طرح بنک اسٹیشن واپس آنے کے لئے دو تین راستے تھے۔”بنک“ ایک قسم کا بڑا جنکشن ہے۔ وہاں سے ”سنٹرل لائین “ اور ”ڈسٹرکٹ لائین“ کے علاوہ ”ڈاک لینڈ لائیٹ ریلوے“ بھی ہمارے گھر کی طرف آتی ہے۔ ٹیوب سسٹم میں ڈاک لینڈ ایسی ٹرین ہے جسے کوئی ڈرائیو نہیں چلاتا۔ یہ ٹرین پوری طرح کمپیوٹرائیزڈ ہے۔ جدید فنی تکنیک پر بنی یہ ٹرین ہر اسٹیشن پر خود کار سسٹم کے تحت رکتی ہے، اس کے دروازے خود بخود کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔اور پھر اسی طرح اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتی ہے۔ اس ٹرین پر عملہ کا کوئی آدمی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار کوئی ٹکٹ چیک کرنے والا آ جاتا ہے۔ورنہ یہ کام بھی خود کار مشین کرتی ہے۔

                مسیولینی ہمیشہ اس ٹرین پر سوار ہونے سے ڈرتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی ڈرائیو نہیںہوتا، اس لئے نجانے کہاں چلی جائے۔ ہمیں جانا کہیں اور ہو، نکلیں کسی اور طرف، میںہمیشہ اسے زبردستی ٹرین میںسوار کر دیتا تھا۔ تب وہ سارے سفر کے دوران آنکھیں بند کر کے ”آیت الکرسی “ کا ورد کرتا رہتا۔ جیسے ہی اپنا مطلوبہ اسٹیشن آتا تو میں اسے جھنجھوڑتا ”بھائی چلواترو“ ۔ تب وہ چھلانگ لگا کر ٹرین سے باہر آ جاتا۔ اپنے آپ کو سلامت دیکھ کربہت خود ہوتا اور میرے ساتھ گھنٹوں بات چیت بند رکھتا۔

                لند میں زیر زمین چلنے والی ٹیوب کے اسٹیشن کافی مصروف رہتے ہیں لیکن چند ایک ایسے بھی اسٹیشن ہیں جہاں پر اکا دکا ہی مسافر ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً ویران سے ہوتے ہیں۔ دینا کے دوسرے ممالک کی طرح برطانیہ میںبھی نسلی فسادات ہوتے رہتے ہیں اور ایسے خاموش اسٹیشن انتہا پسندون ، نسلی فسادی اور جرائم پیشہ افراد کی اماجگاہ بنے رہتے ہیں۔ کانوں میں بالیاں ڈالے، سر کے بالوں کو ایک مخصوص انداز میں کنگھا نما بنائے ، چرس کے سگریٹ پیتے اکثر ایسے اسٹیشنوں کے اندر باہر گھومتے رہتے ہیں۔متعصب اور انتہا پسند گوروں نے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے۔ان کا عزم ہے کہ برطانیہ سے ہر آخری رنگ دار کو ملک بدر کرنا ہے۔ اس کے لیے چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔ 1970ءکے عشرے میں ، اس تنظیم کے لوگوں نے نو آبادکاروں کی املاک لوٹ کر اس تنظیم کے لئے چندہ اکٹھا کیا تھا۔ بظاہر تو حکومت اور حکومتی ارکان غیر جانبدار نظر آتے ہیں اور ان کی سرکوبی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔لیکن اس کی حقیقت کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ برطانیہ کے مختلف علاقوں میں نسل پرستی کی بنیاد پر قتل ، مار کٹائی اورلوٹ مار کی خبریں آئے دن اخباروں میں چھپتی رہتی ہیں۔اسی طرح لندن میں بھی کچھ مخصوص علاقے ہیں۔ جن میں رنگ دار لوگ جانے سے کتراتے ہیں۔ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے ہی ایک طالب علم کو ایک ٹیوب اسٹیشن پر پانچ انتہا پسندوں نے گھیر لیا۔انہوں نے پیسے چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر زبردست تشدد کا نشانہ بنایا اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تمام رنگ دار لوگوں کو گالیاں دیتے ہوئے غائب ہو گئے۔ اس انتہا پسند تنطیم کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ رنگ دار لوگوں کا ان کے دیس میں بسنے کی وجہ سے ان کا کلچر تباہ ہو رہا ہے۔ گورے اپنے انگریزی کھانوں کی بجائے چائینز اور انڈین کھانوں کی طرف راغب ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا لباس بھی دن بدن بدلتا جا رہا ہے۔

                کبھی کبھار ایسا واقعہ سننے میں آ جاتا تو سنٹرل لائبریری جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ ایسے میں اپنی مقامی لائبریری چلے جاتے۔الفورڈ ٹاﺅن سنٹرکی لائبریری کچھا کھچ بھری رہتی ۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جو بھی فارغ ہوتا ہے وہ لائبریری کی جانب ہی رخ کر لیتا ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر ایشیائیوں پر مشتمل ہے۔ طالب علموں کی زیادہ تعداد بھی اسی کمیونٹی سے ہوتی ہے۔کچھ شرارتی طالب علم بعض اوقات ”فائر الارم“ بجا دیتے ایک منٹ میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں شور مچاتی ہوئیں آ جاتیں۔ اور پوری لائبریری کو ایمرجنسی دروازوں سے خالی کروا لیا جاتا۔ ہفتہ میںدو مرتبہ ایسا ہونا معمول بن چکا تھا۔

                مجھے ذاتی طور پر یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کی لاءلائبریری بہت پسند تھی۔ اس میں دنیا بھر کے قوانین کی کتابیں موجود ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں سے تو اس کی اہمیت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھاری بھر کم لائبریرین کی جگہ ایک کومل سی لائبریرین کا تقرر کر دیا تھا۔اپنے وطن کی کوئی لائبریری ہوتی تو رش اس قدر بڑھ جاتا کہ باہر ”ہاوس فل“ کا بورڈ رکھوانا پڑتا۔ لائبریری میں داخل ہوتے ہیں اس کا فرحسینہ پر نظر پڑتی۔ وہ اپنے کاﺅنٹر کے اندر سے بڑے سبک انداز میں کتابیں جاری کرتی، فون سنتی،یا پھر دوسری معلومات دے رہی ہوتی۔ مجال ہے جو لمحے کے لئے بھی اس کے چہرے پر تھکن یا تفکر آیا ہو۔وہ اپنے چہرے اور اپنے آپ میں اتنی کشش رکھتی تھی کہ جی چاہتا بار بار کاﺅنٹر پر جاﺅں اور معلومات لیتا رہوں۔ ان کے سرخ گال دیکھ کر یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ہی یہ ادھر ادھر حرکت کرے گی تو خون پھواروں کی طرح اس کے گالوں میںسے پھوٹ پڑے گا۔ اور جب وہ اپنی مخروطی انگلیوں میں پین دبا کر تھوڑا سا جھک کر کاﺅنٹر پر کام کرتی تو مضبوط اعصاب کا بندہ بھی اپنا آپ ہار جاتا۔ اس کا باتیں کرنے کا انداز نازک اور اجلا تھا۔ اکثر دوپہر کو لنچ بریک میں وہ یوینورسٹی کے کھلے لان میں کبوتروں کو دانا کھلاتی تو لگتا کہ جیسے کوئی نہایت عقیدت و احترم سے اپنے محبوب کو نذرانہ پیش کر رہا ہو۔شاید کوئی داستان تھی لیکن چہرے پر سے کوئی لفظ بھی عیاں نہ تھا۔ یہ کمال فن تھا یا پختگی کی انتہا کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔

                ایک دن میں لائبریری پہنچا تو معلوم ہوا کہ لائبریری آج ہی سے ایک ہفتہ کے لئے بند ہو رہی ہے۔ میںاپنے سارے حوصلے جمع کر کے کاﺅنٹر تک گیا ور پوچھا کہ لائبریری کیوں بند ہو رہی ہے؟ اس نے بتایا کہ لائبریری کے اندر کچھ مرمت کا کام ہو رہا ہے ۔ جس کے لئے آج بھی جلد ہی لائبریری بند ہو جائے گی۔ اتناکہہ کر اس نے چہرے پر رخصت ہونے والی مسکراہٹ دے ماری۔ میں جدا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں نے فوراً دوسرا سوال داغ دیا۔ ”آپ کا نام کیا ہے؟“‘

                ”مس لیزا !“ کچھ سکون محسوس ہوا کہ اسے ابھی مس ہی ہونا چاہیے تھا۔ دل نے تقویت پکڑی۔ مجھے کاﺅنٹر سے ہٹتا نہ دیکھ کر ، گوروں کی روایت کے برعکس، چاکلیٹ کا ٹکڑا میری طرف بڑھایا۔ جسے میںنے سوچے سمجھے بغیر قبول کر لیا۔ اگر چاکلیٹ مزیدار تھی لیکن اس کی باتوں کے مقابلے میں پھیکی تھی۔ اس بار میں نے کاﺅنٹر جلد ہی چھوڑ دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھے بچھڑنے والی مسکراہٹ دے مارے۔

                یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کی لائبریری اس لیے بھی بند کی جاتی ہے کہ وہاں انتہائی درجے کاسکون ہوتا ہے۔ یار لوگ تین عدد کرسیاں ایک سیدھ میں کر کے قیلولہ بھی فرما لیا کرتے تھے۔ مسیولینی ایسے کاموں میں ہمیشہ صف اول میں رہتا۔ دو تین گھنٹے پڑھائی کے بعد، میرے ڈانٹنے کے باوجود چار گھنٹے کے لیے سو جاتا۔ ایک دن تو زور سے خراٹے لینے لگا۔ کاﺅنٹر پر موجودڈیوٹی اسسٹنٹ نے دو تین بار منع بھی کیا۔بڑے اچھے انداز میں سمجھایا بھی کہ لائبریری سونے کی جگہ نہیں ہے۔ لیکن مسیولینی بازآنے والوں میں سے نہیں تھا۔دوبارہ سو گیا اور خوفناک قسم کے خراٹے لینے لگا۔ حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے لائبریری اسسٹنٹ نے سیکورٹی والوں کو بلوا لیا۔آٹھ آٹھ فٹ کے دو سیاہ فام چہرے پر انتہائی کرختگی، آنکھوں میں جھلکتی سرخی نما زردی، وہ ایسے تھے کہ جنہیں دیکھ کر زیر جامے خراب ہو جائیں، وہ سیدھے مسیولینی کی طرف بڑھے۔ میں سمجھ گیا کہ کیا ہونے والا ہے۔ میری منت سماجت اور ”مس لیزا“ کی مداخلت پر فقط وراننگ اور مشروط طور پر لائبریری میں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔ میں نے ”مس لیزا“ کو مشکور نظروں سے دیکھا اور نگاہوں کی زباں میں شکریہ کہہ ڈالا۔ کالے سیکورٹی والے فاتحانہ تکبر کے ساتھ لائبریری سے نکلے۔ وہ نظروں ہی نظروں میںکہہ رہے تھے کہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرنا ورنہ ہم آ جائیں گے۔

                لائبریری بند ہونے سے پندرہ منٹ قبل الارم بجا دیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس نے کتابیں ایشو کروانی ہے یا جمع کروانی ہے وہ کروا لے۔اس کے بعد لائبریری بند ہو جائے گی۔جس دن وہاں مرمت ہونے جا رہی تھی اس دن بھی پندرہ منٹ پہلے الارم بجا دیا گیا۔ میںجو کتاب پڑھ رہا تھا وہ ایک ریفرنس کتاب تھی جو باہر لے جانے کے لئے نہیں دی جا سکتی تھی۔ ابھی اس کے چند صفحات باقی تھے۔ جو میرے لیے پڑھنا ضروری تھے۔ اس لیے میںتیزی سے اٹھا اور فوٹو سٹیٹ مشین تک گیا تا کہ فوٹو کاپی کروا لوں۔ جنہیں گھر میں بیٹھ کر پڑھ لوں گا۔ مگر فوٹو سٹیٹ مشین بند ہو چکی تھی۔میں فوراً کاﺅنٹر کی طرف لپکا کہ میرے کچھ اوراق فوٹو کاپی کروانا بہت ضروری تھے۔ برائے مہربانی مشین کو چالو کروا دیں۔ لیزا نے روائتی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ تمام فوٹو کاپی کرنے والی مشینیں لائبریری بند ہونےسے قبل بند کر دی جاتی ہیں۔ میں نے التجا کی کہ لائبریری ایک ہفتہ کے لئے بند ہورہی ہے اور مجھے صفحات بہت ضروری چاہیں ورنہ میرا کام رک جائے گا۔ لیکن اس پر میری پکار کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ وہ مجھ سے اصول کی بات کرنے لگی کہ مشین آدھا گھنٹہ پہلے اس لیے بند کر دی جاتی ہے کہ آگ لگنے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔ یہ ایک اصول ہے میں اس اصول کو توڑ نہیں سکتی۔ لیزا نے حکمانہ انداز میںفیصلہ سنا دیا اس د ن وہ مجھے بہت بری لگی۔کیا سارے اصول فقط ہمارے لیے ہیں۔اصول کا بھید تو اس دل کھل کر سامنے آ گیا تھا، جب میں اپنے ویزے کی معیاد بڑھانے کے لئے ہوم آفس گیا تھا۔کاﺅنٹر پر موجود گوری چمڑی والے نے قطار میںلگے ہوئے آٹھ دس لوگوں کو نظر انداز کر کے ایک گوری چمڑی والی لڑکی کو محض اس لئے اپنی باری سے پہلے قطار میں سے پہلے بلا لیا کہ وہ شکل و صورت اور رنگ و نسل سے ”گوری“ دکھائی دے رہی تھی۔مگر جب وہ کاﺅنٹر پر آئی تو عقد ہ کھلا کہ یہ بھی ہماری طرح ایک غیر ملکی بے وطن مسافر ہے۔” اصلیت“ کا پتا چلنے پر واپس اسی جگہ بھیج دیا گیا۔ جہاں وہ پہلے کھڑی تھی۔ وہ آفیسر قطار میں لگے ہوئے سب لوگوں کو معنی خیز نظروں کا بڑی ڈھٹائی کے ساتھ سامنا کرتا رہا ۔ یہ ان کا اصول تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق میاں

سر تھامس میور کا ”یوٹوپیا“۔1                 وہ دن بڑا خوب صورت تھا یا پھر مجھے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے