سر ورق / کہانی / مکافات عمل۔۔ سید بدر سعید

مکافات عمل۔۔ سید بدر سعید

مکافاتِ عمل

                                کرائم رپورٹنگ کے آغاز میں ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے روٹین کی خبریں فائل نہیں کرنی ہیں۔ روٹین کی خبروں سے مراد وہ خبریں ہوتی ہیں جو کسی خاص کوشش کے بغیر ہر رپورٹر کو ہی مل جاتی ہیں۔ ہمارے یہاں عام طور پر پولیس والے جب کسی مجرم کو گرفتار کرتے ہیں تو اپنی بہادری اور قابلیت ریکارڈ پر لانے کے لیے میڈیا کو ایک پریس ریلیز جاری کردیتے ہیں۔ اس پریس ریلیز یا پریس نوٹ میں بتایا جاتا ہے کہ کس تھانیدار نے کس مجرم کو پکڑا اور کتنا مال برآمد ہوا۔ اسی طرح دیگر تفصیلات بھی اس پریس ریلیز میں شامل ہوتی ہےں۔ عموماً کرائم رپورٹر بھی اسی ”سٹوری“ پر گزارہ کرلیتے ہیں اور اگلے دن تمام اخباروں میں لگ بھگ ایک جیسی خبر لگی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مجرم نے تھوڑا بڑا جرم کیا ہو یا اس کا تھوڑا سا نام بھی ہو تو تھانیدار باقاعدہ پریس کانفرنس بھی کرلیتے ہیں جس میں مسروقہ مال اور ملزم کا دیدار بھی کروادیا جاتا ہے۔ عام طور پر اس پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی یا ایس پی کو بھی بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے سامنے بھی نمبر بن سکیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینئر افسر ہی اپنی فورس کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ سب روٹین کی خبریں کہلاتی ہیں۔ اسی طرح مقدمات کا ریکارڈ اور گراف بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ مہیا کردیتا ہے۔

                                میں نے شروع میں ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ میں جہاں پولیس ڈیپارٹمنٹ سے معلومات حاصل کروں گا وہیں جرائم پیشہ افراد سے بھی براہ راست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔ کامیاب کرائم رپورٹر یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس طرح خبر کے دونوں پہلو سامنے آجاتے ہیں۔ اسی لیے میں نے مختلف بدمعاشوں کے ڈیروں اور ٹھکانوں پر بھی جانا شروع کردیا۔ یہ الگ ہی دنیا تھی۔ یہاں جرم پر کھل کر بات ہوا کرتی تھی اور جرائم پیشہ افراد اپنے جرائم پر فخر کرتے تھے۔ کسی کے سر پر حکومت نے انعام مقرر کررکھا ہو یا کسی نے قتل کررکھا ہو تو اسے خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ اسی طرح جس کی جتنی زیادہ دشمنیاں ہوں وہ اتنا ہی بڑا سمجھا جاتا تھا۔ یہیں میں نے ایک خاص بات بھی نوٹ کی، وہ یہ کہ بڑے بدمعاش یا ڈیرے دار بہت زیادہ بڑھک بازی پر یقین نہیں رکھتے ۔ اسی طرح یہ لوگ چھوٹی موٹی لڑائیوں سے بھی کتراتے ہیں۔ انہوں نے پولیس سے بھی اچھی خاصی دوستی کررکھی ہوتی ہے۔ذاتی معاملات میں یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر سیخ پا نہیں ہوتے۔ ہمارے ذہنوں میں پنجابی فلمیں دیکھ دیکھ کر بدمعاشوں کا جو خاکہ بن چکا ہے، یہ اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ بدمعاشی کی آڑ میں اپنا کاروبار کررہے ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو مرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی جذباتی ہوتے ہیں۔

                                زیرزمین مافیا کی زبان میں بات کروں تو میں کہا کرتا ہوں جو جتنا بڑا بدمعاش ہو وہ اتنا ہی ”ٹھنڈا“ ہوتا ہے البتہ یہ اپنی ساکھ اور رُعب برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ان کے مختلف کاروبار ہیں جو ظاہر ہے غیر قانونی ہیں۔ زمینوں پر قبضہ ، پلازوں کی تعمیر، منشیات کی خریدوفروخت، جوئے کا اہتمام، اسلحہ کا کاروبار ان کے وہ بنیادی ذرائع ہیں جن سے یہ بھاری رقم کماتے ہیں۔ لڑنے والے بدمعاش عموماً جذباتی نوجوان ہوتے ہیں جو بات بات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہی نوجوان ان ڈیرے دار بدمعاشوں کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہ نوجوانوں کو اسلحہ بھی دیتے ہیں، لڑنے پر بھی ابھارتے ہیں اور پھر ضمانتوں سے لے کر پناہ دینے تک اپنا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ بدمعاشی کے ذریعے شہرت پانے کے خواہش مند نوجوان جب کسی بڑے بدمعاش کی سرپرستی میں آجائیں تو مزید شیر ہوجاتے ہیں۔ یہی شیر لڑائی کے وقت میدان میں اُتارے جاتے ہیں اور یہی شیر وقت آنے پر کتے کی موت مار دئیے جاتے ہیں ۔ میں انہیں بدمعاش سے زیادہ باڈی گارڈ کہا کرتا ہوں جو جوانی کی ترنگ میں استعمال ہوجاتے ہیں اور اپنے ماں باپ کو اذیت کی آگ میں جلنے کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔

                                کرائم رپورٹنگ کے دوران میں جرائم کے سبھی مراکز یا اڈوں پر جایا کرتا تھا۔ ان میں ڈیرے، بیٹھک، تکیے اور کلب سمیت کچھ گھر بھی شامل تھے۔بلّو خان کا کلب بھی ایک ایسا ہی ٹھکانہ تھا۔یہ باڈی بلڈنگ یعنی تن سازی کا ایک درمیانہ سا کلب تھا۔ جس میں ویٹ لفٹنگ کا پرانا سامان موجود تھا۔ بلّو خان کا اصل نام مجھے معلوم نہیں کیونکہ سب اسے بلّوخان ہی کہتے تھے۔ کہیں کوئی سرکاری ریکارڈ ہو تو شاید وہاں اس کا اصل نام لکھا ہو ورنہ ہر جگہ وہ بلّو خان کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ کلب کے رجسٹر پر بھی بلّو خان ہی لکھا ہوا تھا جبکہ وہ فیس کی رسید پر بھی ”بلّو“ ہی لکھا کرتا تھا۔ اس کلب میں ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ روزانہ فیس سسٹم بھی رائج تھا۔ کوئی بھی شخص 20 روپے جمع کروا کر ایک دن کے لیے باڈی بلڈنگ کرسکتا تھا۔ اس کلب کی اصل کمائی روزانہ کی بنیاد پر آنے والے وقتی شوقین لڑکے ہی تھے۔ بلّو کلب کی آڑ میں کئی غیر قانونی دھندوں میں بھی ملوث تھا۔ چرس اور اسلحہ کے ساتھ ساتھ جعلی نوٹ بیچنا اس کا خاص شعبہ تھا جبکہ چوری شدہ گاڑیوں کے حوالے سے بھی درمیانی پارٹی کے طور پر کام کرکے اپنا حصّہ وصول کرلیا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کلب میں جرائم کی دنیا سے وابستہ لوگوں کا بھی آنا جانا تھا۔

                                میں ہلکی پھلکی ویٹ لفٹنگ کے لیے ”بلّو خان کلب“ جایا کرتا تھا۔ شروع سے ہی بلّو کو معلوم تھا کہ میرا تعلق صحافت سے ہے۔ اس لیے ابتدا میں تو میرے آنے پر وہ محتاط ہوجاتا تھا لیکن جلد ہی میں اس پر اپنا اعتماد قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میرا مختلف ڈیروں پر اٹھنا بیٹھنا ہے اور میں کسی بھی حوالے سے پولیس کا ٹاﺅٹ یا مخبر نہیں ہوں تو وہ بھی کھل کر باتیں کرنے لگا۔ میں نے اس پر واضح کردیا تھا کہ میں صرف خبر فائل کرتا ہوں اور مخبری کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔ اسی طرح میں اس پر یہ بھی واضح کرچکا تھا کہ میں یہاں کے نظام سے بخوبی واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ پولیس اور مجرموں کا کیا گٹھ جوڑ ہے ۔

                                 بلو کی عمر لگ بھگ 40 سال تھی ۔اس کا جسم قدرے فربہی مائل تھا لیکن موٹاپے کی بجائے صحت مندی میں شمار ہوتا تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ بلّو خان ہر وقت اپنے پاس نائن ایم ایم پسٹل رکھتا تھا جس کا میگزین گولیوں سے بھرا ہوتا تھا۔ بلّو کا شمار ٹھنڈے بدمعاشوں میں ہوتا تھا۔ وہ غیر قانونی دھندے کرتا تھا اور اس کی دشمنی بھی چل رہی تھی لیکن وہ زیادہ دکھاوے کا قائل نہیں تھا۔ وہ ہر وقت اپنے پاس اسلحہ رکھتا تھا لیکن اس کی نمائش نہیں کرتا تھا۔ میری اس سے اچھی خاصی دوستی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے کلب کے دروازے میرے لیے کھول رکھے تھے اور اس سلسلے میں مجھ سے فیس لینے سے انکار کردیا تھا۔ ابتدا میں تو میں اسے فیس دیتا رہا لیکن جب ہماری دوستی ہوگئی اور میرا اس کے گھر آنا جانا ہوگیا تو اس نے فیس لینے سے انکار کردیا۔ مجھے یاد ہے جب میں نے اسے ماہانہ فیس کے پیسے دئیے تو اس نے یہ کہتے ہوئے رقم میری جیب میں ڈال دی کہ ”شاہ! اپنے پولیس مقابلے کی خبر بھی توتم نے ہی لگانی ہے۔ بس تصویر بڑی سی لگا کر لکھنا : بلّو خان بہادری سے لڑتا ہوا پولیس مقابلے میں مارا گیا“۔ میں نے بات مذاق میں ڈالتے ہوئے کہا: یار تم کونسا مقابلے کرتے پھرتے ہو جو ایسا کہہ رہے ہو؟ اس نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔ میں پولیس سے مقابلہ نہیں کرتا اور نہ ہی رُعب ڈالنے کے لیے فائرنگ کرتا پھرتا ہوں، خاموشی سے اپنا دھندہ چلا رہا ہوں لیکن اس کے باوجود سچ یہی ہے کہ ہم جیسوں کو موت پولیس یا دشمن کی گولیوں سے ہی آتی ہے۔ بہرحال بات آئی گئی ہوگئی اور معاملات یونہی چلتے رہے۔

                                بلّو کلب میں ہی میں کئی جرائم پیشہ افراد سے ملا اور میں نے یہیں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر زیر زمین دنیا میں رہنے والے جرائم پیشہ افراد کے کاروبار اور آپس کے اختلافات کے حوالے سے کئی خبریں فائل کیں۔ جرائم کی دنیا میں کیا ہورہا ہے؟ ۔ کس اڈّے پر کونسا دھندا ہوتا ہے ؟ ایسی خبروں پر پولیس کی کالی بھیڑوں اور مجرموں میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ میں مجرموں اور پولیس کی کالی بھیڑوں کی اس پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی گردن بچاتے ہوئے خبریں فائل کردیا کرتا تھا۔ میری کچھ خبروں پر ان میں سے کسی نہ کسی نے اعتراض کیا بھی تومعاملہ اتنا بڑھنے نہ پایا تھا کہ صورت حال بگڑ جاتی۔

                                وہ دسمبر کی ایک سرد رات تھی۔ میں بلّو خان کلب سے ہوکر دفتر آیا تھا اور معمول کے مطابق خبریں فائل کررہا تھا۔ اسی دوران بلّو خان کا فون آگیا۔ اس کے لہجے میں کسی قدر جوش محسوس ہورہا تھا۔ کہنے لگا: شاہ اگر تم ابھی آسکو تو ایک خبر تمہاری منتظر ہے۔ میں نے کہا: فون پر ہی بتا دو۔ سچ کہوں تو میں دفتر کے گرم کمرے سے اُٹھ کر بلّو کلب نہیں جانا چاہ رہا تھا لیکن بالآخر مجھے بلّو کے اصرار پر جانا پڑا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ آج استاد بلّو کو ڈاکو پڑگئے تھے۔ ان دنوں لاہور میں سٹریٹ کرائمز کافی ہورہے تھے۔ بلّو کے بقول وہ قریب ہی ایک دوست کے گھر گیا تھا۔ واپسی پر پیدل کلب کی طرف آرہا تھا کہ اندھیری گلی سے گزرتے ہوئے اسے دو نوجوان لڑکوں نے روک لیا۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گلی میں مکمل اندھیرا تھا جو کہ سٹریٹ کرائم کرنے والوں کو کھلی دعوت دے رہا تھا۔ نوجوان موٹرسائیکل پر تھے۔ انہوں نے پستول بلّو کے سر سے لگاتے ہوئے موبائل اور پرس کا مطالبہ کیا۔ بلّو خود بھی جرائم کی دنیا میں اپنی ساکھ رکھتا تھا لیکن وہ ”ٹھنڈا“ بدمعاش تھا۔ اس نے اپنی زبان میں ان شوقیہ یا کل کے چھوکروں کے آگے مزاحمت کرنے کی غلطی نہیں کی اور خاموشی سے موبائل اور پرس ان کے حوالے کردیا۔

                                 سٹریٹ کرائمز کے دوران ڈکیت عموماً موبائل اور پرس کا ہی مطالبہ کرتے ہیں۔ پرس سے نقدی نکال لی جاتی ہے جبکہ موبائل لاہور کی بڑی مارکیٹ میں باآسانی بک جاتا ہے۔ ڈاکو بھی اپنی مطلوبہ اشیاءلے کر نکل گئے لیکن اب بلّو اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے اسی وقت کے لیے مزاحمت کا ارادہ ترک کیا تھا۔ اس نے اپنا پستول نکالا اور ڈاکوﺅں پر پیچھے سے فائرنگ شروع کردی۔ ڈاکو فرار ہوگئے لیکن یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بلّو کی گولی سے وہ زخمی ہوچکے ہیں۔ سڑک پر خون کے ساتھ ساتھ بلّو کا موبائل، پرس اور ڈاکو کا ہتھیار بھی گرا ہوا تھا۔ بلّو خان اپنی فتح پر مسرور تھا۔ اس ڈکیتی کے دوران اس کا کچھ نہیں گیا لیکن اسے ایک اضافی ہتھیار ضرور مل گیا تھا۔ وہ اپنے سچّے نشانے پر خوش تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ شاید موٹرسائیکل کی رفتار اور اندھیرے کی وجہ سے نشانہ تھوڑا سا چوک گیا ورنہ اس کی گولی ڈاکو کی ریڑھ کی ہڈی پر ہی لگنی تھی۔ بہرحال جو بھی ہوا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلّو نے اپنے مجرموں کو گولی مار دی تھی لیکن کسی وجہ سے وہ گرنے کی بجائے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اخباری نقطہ نظر سے میرے لیے اس میں کوئی خاص خبر نہ تھی سوائے اس کے کہ ”ایک بدمعاش نے اپنے ساتھ ڈکیتی کرنے والوں کو گولی مار کر سبق سکھا دیا“، لیکن یہ خبر میرے اخبار کی پالیسی کے مطابق نہ تھی۔ میں خود بھی ایسی خبر لگا کر کسی بدمعاش یا جرائم پیشہ شخص کی دھاک نہیں بٹھانا چاہتا تھا، چاہے وہ میرا دوست ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال بلّو کے لیے یہ بہت اہم واقعہ تھا اورمیں جانتا تھا وہ اگلے دن اپنے کلب کے پکے ”ممبران“ کے ذریعے یہ بات پورے علاقے میں پھیلا دے گا تاکہ باقی جرائم پیشہ افرادپر اس کا رُعب و دبدبہ مزید بڑھ جائے۔

                                اگلے دن میں سوکر اٹھا تو ایک خبر میری منتظر تھی۔ جرائم کی دنیا سے وابستہ کئی افراد کے ایس ایم ایس اور فون کالز میرے موبائل پر موجود تھیں۔ میں نے ایس ایم ایس پڑھنے شروع کیے تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات بلّو نے اپنے ہی چھوٹے بھائی کو گولی ماردی تھی۔ بلّو کا چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی سے متاثر تھا۔ اس نے سٹریٹ کرائمز شروع کردئیے جس کا بلّو کو علم نہیں تھا ورنہ وہ اسے روک دیتا۔ گزشتہ رات انجانے میں وہ بلّو کو ہی لوٹ رہا تھا اندھیرے میں دونوں ہی ایک دوسرے کو نہ پہچان سکے۔ اس کا دوست اس وقت تو اسے نکال لے جانے میں کامیاب ہوگیا لیکن آگے کی صورت حال اس کے لیے بھی اعصاب شکن تھی۔ وہ اپنے زخمی دوست کو ایک سڑک پر چھوڑ گیا جہاں سے کسی نے ریسکیو کی مدد سے اسے ہسپتال پہنچا دیا۔ بلّو خان کا جوان بھائی کچھ عرصہ ہسپتال رہا اور پھر ڈاکٹروں نے اسے گھر بھیج دیا۔ ریڑھ کی ہڈی پر گولی لگنے کی وجہ سے اس کے جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہوچکا تھا۔ اب وہ گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا ہے۔

                                یہ بات میرے اور بلّو کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اسے اس انجام تک پہنچانے والا اس کا بڑا بھائی بلّو ہی ہے۔ بلّو خان کو اپنے بھائی سے بہت محبت تھی لیکن انجانے میں وہی اس کی معذوری کا باعث بن گیا۔ بلّو خان اپنے علاقے میں جرائم کی دنیا کا بادشاہ تھا لیکن اس سے کہیں طاقتور اصل بادشاہ اوپر بیٹھا ہے۔ بلّو خود مرتا یا زخمی ہوتا تو اسے اتنا صدمہ نہ ہوتا جتنا ہر روز اپنے بھائی کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس کا بھائی اسی سے متاثر ہوکر اس راہ کا راہی بنا اور پھر اسی کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ مکافات عمل شاید اسے ہی کہتے ہیں۔

مامتا

میری اشرف سے پہلی ملاقات ایک فیچر کے سلسلے میں ہوئی تھی۔ میں رکشہ ڈرائیوروں کے حوالے سے ایک فیچر بنا رہا تھا جبکہ وہ رکشہ ڈرائیور تھا۔ دوسری بار وہ مجھے ضلع کچہری میں نظر آیا۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں اور دو اہلکار اس کے ہمراہ کھڑے تھے۔ غالباً کسی مقدمے کے سلسلے میں اسے لایا گیا تھا۔ تیسری بار اسے عدالت میں دیکھا۔ وہ بطور گواہ پیش ہوا تھا۔ اس کے بعد میرا اس سے کئی بار سامنا ہوا۔ اس کا تعلق جرائم کی زیرزمین دنیا سے تھا۔ بعض لوگوں کو حالات جرائم کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ پہلے جرم کے ساتھ ہی ڈر، خوف اور نیکی کا احساس ختم ہونے لگتا ہے اور پھر انسان جرائم کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسے مجرموں سے ہمدردی بھی ہونے لگتی ہے جنہیں معاشرہ خود جرائم کی دلدل میں پھینک دیتا ہے اور انہیں اپنی بقا کے لیے جرائم کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اشرف کا تعلق دوسری قسم کے مجرموں سے تھا۔ آپ انہیں خاندانی مجرم بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کا باپ بھی مجرمانہ زندگی گزارتا تھا اور اس کا سُسر بھی اٹھائی گیرا تھا۔ اشرف نے اپنی بیوی کو اپنے سُسر سے جوئے میں جیتا تھا۔ ایک دن وہ پیر غازی شاہ کے تکیے پر جوا کھیل رہے تھے۔ چرس کے نشے میں احساس شکست اور آخری بازی جیتنے کی اُمید پر اس کے سُسر نے اپنی بیٹی دا ¶ پر لگا دی اور پھر اشرف وہ بازی بھی جیت گیا۔ اشرف کے بقول خود اس کا باپ بھی اس کی ماں کو جوئے میں جیت کر لایا تھا۔

                                کرائم رپورٹنگ کے دوران میری اشرف سے متعدد بار ملاقات ہوئی اور بات سلام دعا سے آگے چلی گئی۔ بظاہر وہ سب کا دوست تھا لیکن اپنی فطرت کی وجہ سے کسی کا بھی سگا نہ تھا۔ پیسے اور مفاد کے لیے اس سے کسی بھی سطح تک گرنے کی اُمید کی جا سکتی تھی۔ جھوٹی قسم اُٹھانا اور دوستی میں جان دینے کا دعویٰ کرنا اس کی عادت بن چکی تھی۔ بظاہر وہ رکشہ ڈرائیور تھا لیکن پس منظر میں اس کا کوئی اور دھندا تھا۔ وہ منشیات اور اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ اس دھندے میں اس کی بیوی بھی برابر کی شریک تھی۔ ان کا طریقہ واردات کچھ ایسا تھا کہ وہ یہ کام پولیس کی ناک کے نیچے بہت آرام سے کر رہے تھے۔ جب انہیں کوئی چیز ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانی ہوتی تو اشرف رکشہ کی سیٹ کے نیچے بنے خانے میں وہ چیز چھپا دیتا اور اس کی بیوی بطور سواری اسی رکشہ میں بیٹھ جاتی۔ اکثر اس کے ہمراہ اشرف کا چھوٹا بیٹا بھی ہوتا تھا۔ بچے اور خاتون کی وجہ سے پولیس اس کے رکشہ کو روک کر تلاشی نہ لیتی اور اگر کبھی زیادہ سختی ہوتی تب بھی دیگر رکشوں کی نسبت ان کے رکشے کی سرسری تلاشی لی جاتی۔ یوں وہ بہت آرام سے اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف وہ پولیس کے مخبر کے طور پر بھی کام کر رہا تھا اور چھوٹی موٹی وارداتوں کے بارے میں پولیس کو بھی اطلاع دے دیتا تھا۔ جرائم کی دنیا میں اسے اشرف © ”کن ٹٹا“ کہتے تھے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ وہ کرائم رپورٹروں کو بھی چھوٹی موٹی وارداتوں کے بارے میں بتاتا رہتا تھا کہ فلاں کارروائی کن لوگوں کی ہے یا فلاں گاڑی چوری ہونے کے بعد کس گینگ کو بیچی گئی ہے۔

                                سردیوں کی ایک دھند آلود صبح اشرف کا فون آیا تو وہ خاصا گھبرایا ہوا تھا۔ کسی نے اس کے بیٹے کو قتل کر دیا تھا۔ اس کا فون بند ہوتے ہی ایک اور اخبار کے کرائم رپورٹر کا فون آ گیا۔ مجھ سے پہلے اشرف نے یہی خبر اسے بھی دی تھی۔ وہ پریشانی کے عالم میں اپنے تمام واقف رپورٹروں کو فون کر رہا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں پولیس اسی کو اپنے بیٹے کے قتل کے الزام میں نہ دھر لے۔ ہمارے ہاں پولیس کا روایتی طریقہ یہی ہے کہ ایسے معاملات میں گھر کے ہی کسی فرد کو پکڑ کر پھینٹی لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یا تو گھر والے ہی مقدمے کی پیروی سے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں اور پولیس پر دبا ¶ کم ہو جاتا ہے یا پھر گھر کے افراد میں سے ہی کوئی اعتراف جرم کر لیتا ہے۔ تیسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسے جرائم میں عموما کوئی واقف کار ہی ملوث ہوتا ہے ۔ اشرف پولیس کی اس روایتی تفتیش سے بخوبی واقف تھا۔ اس لیے اس نے ہمیں بلا کر ایک طرح سے اپنی غیرقانونی حراست سے بچا ¶ کا انتظام کیا تھا۔ ہم اس کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کسی نے اس کے 13سالہ بیٹے کے سر پر کوئی بھاری چیز مار کر اسے ہلاک کر دیا تھا۔

                                 پولیس کے آنے تک جو کہانی معلوم ہوئی اس کے مطابق اشرف دو دن کے لیے شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس نے واپس آنے سے پہلے گزشتہ روز اپنی بیوی کو فون کیا تو تب تک ایسی کوئی واردات نہیں ہوئی تھی۔ صبح سویرے وہ گھر پہنچا تو کھلے دروازے اور بیٹے کی لاش نے اس کا استقبال کیا۔ اس کی بیوی ساتھ والے کمرے میں سو رہی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی نشہ آور چیز کے زیراثر ہے۔ ہمارے پہنچنے تک اشرف اسے جگانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اب اس کی بیوی پھٹی پھٹی آنکھوں سے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پولیس آئی تو اس نے معاملات اپنے کنٹرول میں لیتے ہوئے تفتیش شروع کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جائے واردات سے ثبوت بھی تلاش کرنے شروع کر دیئے۔ اشرف کے بیٹے کے سر پر مارے جانے والا خون آلود ہتھوڑا بھی وہیں سے مل گیا۔ اس کی بیوی کے بیان کے مطابق ایک دن قبل دوپہر کو اشرف سے فون پر بات کرنے کے بعد ماں بیٹے نے دودھ پیا اور پھر کچھ دیر بعد اسے نیند آ گئی۔ اس کے بعد اسے اشرف نے ہی آ کر جگایا اور صورت حال سے آگاہ کیا۔ معصوم بچے کی لاش دیکھ کر اس کی ماں فرط غم سے بے ہوش ہوئی جاتی تھی ۔ پولیس نے علاقے کے دودھ فروش کو بھی حراست میں لے لیا لیکن تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ہی وہ بے گناہ ثابت ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اشرف کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی ہمسائی نے بھی اسی سے دُودھ خریدا تھا۔ دُودھ فروش نے کچھ ملایا ہوتا تو اس کا اثر ساتھ والے گھر میں بھی نظر آتا۔ پولیس نے تفتیش کا دائرہ تنگ کرنا شروع کر دیا۔ بچا ہوا دُودھ فرانزک لیبارٹری بھیجا گیا تو اس میں نشہ آور دوائی کی آمیزش پائی گئی۔ کسی نے انتہائی رازداری سے دُودھ میں یہ دوائی ملائی تھی۔ اسی طرح بچے کے جسم سے بھی اس دُودھ کے نمونے ملے اور یہ ثابت ہو گیا کہ کسی نے اشرف کی بیوی اور بیٹے کو دُودھ میں دوائی ملا کر پہلے گہری نیند سلایا اور پھر بچے کے سر پر ہتھوڑا مار کر اسے قتل کر دیا۔ پولیس نے اشرف کو بھی تفتیشی عمل سے گزارا لیکن یہ ثابت ہو گیا کہ وہ دو دن شہر سے باہر تھا ۔جس دن اس کی بیوی اور بیٹے کو نشہ آور دُودھ پلایا گیا اس دن شہر سے باہر اس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔

                                پولیس کو اس قتل کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ ایک دن اشرف روتا پیٹتا میرے دفتر چلا آیا۔ معلوم ہوا پولیس نے روایتی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کی بیوی کو ہی گرفتار کر لیا ہے۔ میں اس کے ساتھ تھانے گیا تو معلوم ہوا پولیس اس کی بیوی سے اقرار جرم بھی کروا چکی ہے۔ تھانیدار مجھے بطور صحافی جانتا تھا۔ میں نے طنزیہ انداز میں اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ”سر آپ تو چھا گئے ہیں۔ چند گھنٹے قبل ملزمہ کوشک کی بنیاد پر پکڑا اور لمحوں میں کر اسے مجرم بھی بنا دیا“۔ پولیس آفیسر میرے طنز کو پی گیا اور اس نے اشرف کی بیوی کو بلوا کر ہمارے سامنے اقرار کروا دیا۔ میں نے وہیں اس سے مختصر انٹرویو شروع کر دیا۔ ملزمہ اور پولیس افسر سے گفتگو کے بعد جو صورت حال سامنے آئی وہ بہت بھیانک تھی۔

                                 اشرف کی بیوی کا تعلق بھی جرائم پیشہ گھرانے سے تھا اور وہ خود بھی اکثر جرائم میں اشرف کے ساتھ شامل رہتی تھی۔ اس کے بقول اسے اشرف کے ہی ایک دوست سے پیار ہو گیا تھا۔ جرائم پیشہ گھرانے کا یہ پیار کس نوعیت کا تھا اس کا ذکر ضروری نہیں۔ اشرف بھی چونکہ مجرمانہ پس منظر رکھتا تھا اس لیے اسے اکثر پورا پورا دن اور رات گھر سے باہر رہنا پڑتا۔ بعض اوقات کسی واردات کے بعد وہ دو چار دن کے لیے اپنے گھر اور علاقہ سے دور کہیں چھپ جاتا تھا۔ اس کی بیوی اسے صورت حال سے آگاہ کرتی رہتی تھی۔ جب اشرف کو یقین ہو جاتا کہ واردات میں اس کا کھرا نہیں مل سکا اور پولیس نے اس کے گھر کا رُخ نہیں کیا تو وہ گھر لوٹ آتا۔ اس کی بیوی اسے موبائل کی بجائے کسی پی سی او سے ایسی اطلاع دیتی تھی۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے ایسے کئی طرےقے اختیار کر رکھے تھے۔ اس کی بیوی نے تھانے میں بتایا کہ انہی دنوں وہ اشرف کے دوست کو بلا لیتی اور دونوں گھر کے کسی کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے۔ بیٹے کے قتل کے دن بھی اشرف کا دوست گھر آیا ہوا تھا جس پر اس کے بیٹے نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس بچے کی پرورش جس ماحول میں ہوئی تھی اس کا بھی اثر تھا کہ اس کا ناپختہ ذہن وقت سے پہلے بڑا ہو چکا تھا۔ اصل معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہی وہ آگ بگولا ہو گیا۔ اشرف کا دوست افراتفری میں گھر سے چلا گیا جبکہ اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو رام کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اسے ڈر تھا کہ اشرف کو صورت حال کا علم ہو گیا تو وہ اسے قتل کر دے گا۔ اس کا بیٹا باپ کو ساری بات بتانا چاہتا تھا اور اشرف کے دوست کو قتل کرنے کی قسمیں بھی کھا رہا تھا۔ اشرف کے گھر نشہ آور ادویات موجود تھیں۔ اس کی بیوی نے وہی ادویات دودھ میں ملائیں اور بیٹے کو پلا دیں۔ اس دوران وہ مختلف وضاحتیں بھی دیتی رہی اور بچے کو خاموش رہنے کا بھی کہتی رہی۔ گفتگو کے دوران ہی نشہ آور دودھ نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا اور بچّہ گہری نیند سو گیا۔ اشرف کی بیوی نے ایک ہتھوڑے سے سوئے ہوئے بیٹے کے سر پر وار کیے اور اپنے بیٹے کی جان لے لی۔ اس کے بعد اس نے اس ہتھوڑے پر سے ہاتھوں کے نشانات صاف کیے۔ جرائم کی دنیا سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اسے معلوم تھا کہ پولیس کن کن شواہد کو تلاش کرتی ہے۔ اس نے اندھے قتل کا پورا ماحول تیار کیا اور پھر خود بھی دُودھ پی کر ساتھ والے کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔ کچھ دیر میں نشہ آور دُودھ نے اسے بھی گہری نیند سلا دیا۔ ماں کی مامتا کے بارے میں سنی سینکڑوں کہانیاں میرے ذہن میں گردش کرنے لگیں اوربے ساختہ میں نے اسے کہا۔ ”تم ماں نہیں ڈائن ہو۔ ایک ایسی ڈائن جو سات گھروں کا بھی پاس نہ رکھ سکی۔“

                                اشرف کی بیوی سے ساری کہانی سننے کے بعد میں نے پولیس آفیسر سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ: آپ کو کیسے پتا چلا کہ قتل بچے کی ماں نے ہی کیا ہے؟ پولیس آفیسر کہنے لگا: یہ ایک پیچیدہ کیس تھا جس میں بڑی مہارت سے شواہد مٹا دیئے گئے تھے۔ ایک فرانزک ایجنسی کے ماہر سے اسی کیس پر گفتگو کرتے ہوئے میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ماں اور بیٹے کو جو دودھ پلایا گیا اس میں نشہ آور دوائی کی مقدار اتنی کم تھی کہ اسے پی کر کوئی ہلاک نہ ہو۔ اگر یہ کام ان دونوں کے کسی دشمن کا ہوتا تو وہ دوائی کی مقدار اتنی کم نہ رکھتا۔ قاتل کو اس کیس میں مکمل بے ہوشی کی بجائے محض بے ہوشی درکار تھی۔ اس کا مطلب واضح تھا کہ اسے یہ دودھ پینے والوں میں سے کسی ایک کو زندہ رکھنا تھا۔ میں خاموشی سے انسپکٹر کی بات سُن رہا تھا۔ وہ ایک لمحہ کو سانس لینے کے لیے رُکا اور پھر کہنے لگا: میرا شک اشرف یا کسی اور پر تھا لیکن چونکہ پہلی کڑی یہی عورت تھی اس لیے ہم نے اسے گرفتار کر لیا۔ بیٹے کو قتل کرنے کے بعد یہ خود بھی اندر سے بکھر چکی تھی۔ اس نے روایتی تفتیش کے آغاز میں ہی اقبالی بیان دے دیا اور یوں یہ کہانی ختم ہو گئی۔ پولیس نے اشرف کی مدعیت میں اس کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ اشرف نے اسے معاف کرتے ہوئے کیس واپس لے لیا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو گھر لے گیا اور پھر اسے انتہائی ظالمانہ انداز میں قتل کر کے جانے کہاں فرار ہو گیا۔ اس کی بیوی کی لاش اور اشرف کا اقبالی خط پولیس کو اسی گھر سے ملا لیکن اشرف اس کے بعد شہر میں کہیں نظر نہ آیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق پہلا حصہ خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے