سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفرکیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفرکیانی

 

 

 

 

 

 

 

جب کمی باس کے آداب میں آ جاتی ہے

غیر آسانی سی پھر جاب میں آ جاتی ہے

ہو کے جذباتی، پکڑتا ہے اسے رانجھا میاں

تیرتی بھینس جو سیلاب میں آ جاتی ہے

ہونا پڑتا ہے معلم کے مجھے زیر عتاب

جب بھی لغزش مرے اعراب میں آ جاتی ہے

کتنی تاثیر ہے تادیبی منکوحہ میں

بدتمیزی زد القاب میں آ جاتی ہے

اس نے تھانے میں بتایا کہ زن ِ مرحومہ

دھمکیاں دینے مجھے خواب میں آ جاتی ہے

یوں مرے دل میں اترتی ہے بشیراں بی بی

مینڈکی جیسے کہ تالاب میں آ جاتی ہے

ڈاکٹر عزیز فیصل

محبت کی حسیں کوئی کہانی فیس بک تک ہے

مجھے لگتا ہے میری زندگانی فیس بک تک ہے

حقیقت میں تمھاری ذات پر مجھ کو بھروسہ ہے

برائے نام سی اک بدگمانی فیس بک تک ہے

تری ” ڈی پی” چھپا لیتی ہے سارا بھید عمروں کا

مجھے معلوم ہے تیری جوانی فیس بک تک ہے

مری غزلیں،مری نظمیں،مرا ہر شعر "ایویں” سا

مرے لفظوں کے دریا کی روانی فیس بک تک ہے

میں اپنی ذات میں قیصر بہت گم صم سا رہتا ہوں

اُسے کہہ دو مری یہ خوش بیانی فیس بک تک ہے

زبیر قیصر

سمجھتے ہو اِسے تم بس چنے کی دال کا تڑکا

مگر ہے اصل میں یہ اک پلیٹ اور تھال کا تڑکا

نہ جانے کون سے اچھے سمے والا یہ تڑکا ہے

نہ مستقبل ،نہ ماضی اور نہ ہے ہے حال کا تڑکا

کلاسیکل کا ماہر ہی ہے ٹھمری، راگ کا رسیا

لگائے نعت میں بھی ہے جو سُر اور تال کا تڑکا

سمجھتا تھا کہ ہے تقریر اب تاثیر سے خالی

لگائے مولوی نے وعظ میں اقبال کا تڑکا

بھگو کر بھیرویں کو چائے میں کلیار پیتا تھا

نہیں بھولے ابھی تک ہم اسی قوال کا تڑکا

ہے بیلنس ختم میرا اور ایزی لوڈ ناممکن

لگاتی پھر بھی ہے وہ مس مجھے مس کال کا تڑکا

برے حالات میں دیتا ہے خوش خبری زمانے کو

لگاتا ہے ترا طوطا بھی اچھی فال کا تڑکا

میں بھولابھالا تھا معصوم تھا پکڑا گیا یونہی

لگا ڈالا ہے اس نے مجھ کو گہری چال کا تڑکا

ہوئے شادی کو جتنے سال اتنے مےرے بچے ہیں

مجھے ہرسال لگتا ہے نئے اک بال کا تڑکا

نہ سولہ، سترہ سے کو ئی ریاض اب کام بننا ہے

تمہارے کام آئے گا پچہتر سال کا تڑکا

ریاض احمد قادری

گیس ہے عنقا مرا چولھا جلانے کے لیے

ہے مگر موجود تیرے کارخانے کے لیے

راہ چلتوں سے کوئی پنگا لے اور پھر بھاگ مت

جیب میں پیسہ نہیں گر سر منڈانے کے لیے

اس قدر اونچا اُڑا بادِ مخالف سے عقاب

اُس جگہ پہنچا جہاں کچھ تھا نہ کھانے کے لئے

باز آ رشوت سے جانے دے مجھے اے پُلسئے!

عاقبت برباد نہ کر چار آنے کے لئے

شہر میں پاگل بہت ہیں، ختم پتھّر کیوں نہ ہوں

اک ٹرک بجری کا لے لو ہر دوانے کے لیے

چونکہ پائے میرے لیڈر کو بہت مرغوب ہیں

اس نے کھویا کھو دیا پائے کو پانے کے لیے

ہے دبے لفظوں میں بھی انکار کرنا بزدلی

تھوڑی ہمت چاہیے ٹھینگا دکھانے کے لیے

ایک بلی کیا نہیں کافی تھی ایسے کام کو

پاپ سنگر بھی ہیں لاکھوں خرخرانے کے لئے

ساری ٹینشن دور ہو جاتی ہے جب سنتے ہیں ہم

شعر تیرے خود ہیں دل گدگدانے کے لئے

عرفان قادر

کب وہ سنتی ہے کہانی میری

اور پھر وہ بھی زنانی میری

یار کیبل کا اثر مجھ سے نہ پوچھ

دیکھ بھٹکی ہوئی نانی میری

ریس دے ، یار ہوئے اوجھل بھی

ہائے یہ کار پرانی میری

کون ساقرض ، پروفیسر ہوں

”بھول جانا ہے نشانی میری“

کئی دیوان کیے ہاتھ سے صاف

پھر ملی مجھ کو روانی میری

چار من وزن ہوا سستی سے

”سخت ارزاں ہے گرانی میری“

میں جو اپنی کبھی زوجہ ہوتا

ٹوٹتی روز مدھانی میری

جوضیا دور میں کاٹی قندیل

ننگِ پیری تھی جوانی میری

محمد ظہیر قندیل

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

جری ابنِ جری ہوں، وہ سدا اعلان کرتا ہے بڑا رُستم بنا پھرتا ہے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے