سر ورق / افسانہ / فیس بک۔۔۔ مہتاب خان

فیس بک۔۔۔ مہتاب خان

                میں اس فیملی کو اچھی طرح جاننتی تھی -جس بلڈنگ کہ سیکنڈ فلور پر میرا فلیٹ تھا -اس بلڈنگ سے کوئی ڈھائی تین فرلانگ کے فاصلے پر ان کی شاندار کوٹھی تھی -میں مقامی گرلز کالج میں لیکچرار ہوں -اریبہ میرے پاس ٹیو شن پڑھنے آتی تھی -اریبہ کے والد اکبر ہمدانی ایک ٹیکسٹائل  مل کے مالک تھے -جوانی میں ان کا کاروبار زوروں پر تھا -کروڑوں میں کھیلتے تھے -پھر ایک دن اچانک ان کا ہارٹ فیل ہو گیا -یوں ان کی موت واقیع ہو گئی -ان کی بیوی سیدھی سادی ہاؤس وائف تھیں -کاروبار نہ سنبھال سکیں اور رفتہ رفتہ کاروبار ختم ہو گیا مگر اب بھی ان کے پاس اتنی دولت تھی کہ نہ صرف اریبہ  بلکہ اس کے ہونے والے بچے بھی پر آسائش زندگی گزر سکتے تھے –

             اریبہ  ان کی واحد اولاد  تھی -اس کے والد کی وفات کے بعد اریبہ کی امی نے  اس کی پرورش ماں اور باپ بن کر کی تھی -اور اپنی تمام تر توجہ اور محبت کا مرکز اریبہ  کو بنا لیا تھا -اب وہ اٹھارہ سال کی خوبرو اور حسین دوشیزہ تھی-اس کوٹھی میں وہ دونوں ماں بیٹی اپنے دو پرانے ملازمین کے ساتھ خاموش اور پرسکون زندگی بسر کر رہی تھیں –

            اس رات کوئی نو بجے تھے -میں اپنے گھر کے قریب واقع پارک میں معمول کے مطابق واک کر رہی تھی کہ میں نے اریبہ کو دیکھا جو تنہا ایک بنچ پر بیٹھی تھی اس کے کھلے ہوے خوبصورت بال تیز ہوا میں لہرا رہے تھے -رات کے اس پل اسے تنہا بنچ پر بیٹھا دیکھ کر میں حیران ہو گئی تھی، میں اس کے قریب چلی گئی –

      ،اتنی رات گیے  تم پارک میں کیا کر رہی ہو؟،

،اوہ ………آپ …..، وہ کچھ پریشان سی نظرآ رہی تھی، کہنے لگی  ، میری کچھ سہیلیوں نے یہاں آنے کا پروگرام بنایا تھا -پروگرام کے مطابق آٹھ بجے تک انہں آ جانا چاہے تھا مگر ان میں سے کوئی بھی نہیں آئ  -میں ان کا انتظار کر رہی تھی،بس اب جانے ہی والی تھی امی پریشان ہوں گی، وہ اٹھتے ہوے بولی-

، کہو تو میں چھوڑ آؤں ،

، اوہ نو میں خود چلی جاؤں گی -، وہ جلدی سے بولی-

اس کی طرف سے میں شک میں مبتلا ہو گئی تھی-اس کا یوں مجھے دیکھ کر پریشان ہونا معمولی نہیں تھا-اس کی کہی ہوئی بات پر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا-نوجوان لڑکیوں کا گھر کے باہر ملنا اور اگر فرض محال ایسا  تھا بھی تو پھر اس کی سہیلیاں پہنچی  کیوں نہیں تھیں -کسی ایک کو تو آنا چاہے تھا -جب میں نے اسے دیکھا تھا وہ اکیلی بنچ پر بیٹھی تھی،پارک تقریباً خالی تھا-ایک دو خواتین اور مرد واکنگ ٹریک پر واک کر رہے تھے اور کچھ آوارہ لڑکے اس کے گرد گھوم رہے تھے -مجھے شک گزرا کہ وہ کسی سے محبت کے چکر میں پڑ گئی ہے -شاید وہ وہاں بیٹھی اپنے دوست کا انتظار کر رہی تھی ویسے تو میں اسے اچھی طرح جانتی تھی-وہ زیادہ آزاد خیال لڑکی نہیں تھی-اور گزشتہ ایک سال سے میرے پاس ٹیوشن پڑھنے آ رہی تھی وہ ایک ذہین،لائق اور سمجھدار لڑکی تھی حال ہی میں اس نے بڑے اچھے نمبروں سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا تھا

اس دنوں اس کی والدہ شدید بیمار تھیں،وہ سانس کی مریضہ تھیں اور بستر تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں-اریبہ کا کردار اور ماں سے اس کا والہانہ پیار دیکھتے ہوۓ ہوئی میں مجھے یقین نہیں آ رہا تھے کہ وہ کسی ایسے چکر میں پڑ سکتی ہے-ماں کی بیماری میں اس کی پریشانی میں دیکھ چکی تھی-بہرحال وہ جوان تھی اور جوانی کے  ایسے دور میں تھی  جہاں لڑکی یا لڑکا کتنا بھی پارسا هو ان کے سوچنے کا انداز بدل جایا کرتا ہے –

           ممکن تھا کہ کچھ دن بعد میں یکسر بھول جاتی لیکن اس دن ایک ایسا اتفاق ہوا کہ میں نئے سرے سے اس معاملے میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو گئی-اس واقع کو کوئی دس بارہ روز ہی گزرے تھے وہ سہ پہر کا وقت تھا میں کالج سے واپس آ رہی تھی -میری نظر اریبہ پر پڑی وہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ادھر ادھر دیکھتی تیز قدموں سے چلی جا رہی تھی-اس کے انداز نے مجھے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا-

              میں نے اپنی گاڑی  ایک طرف پارک کی اور کچھ فاصلے سے اس کے پیچھے چل پڑی اریبہ نے مجھے نہیں دیکھا تھا-کچھ دور جا کر وہ ایک ریستوران کے سامنے رک گئی،یہ ایک خاصا فیشن ایبل اور مہشور ریستوران تھا-کچھ در بعد اس ک پاس ایک شخص آ کر کھڑا ہو گیا وہ دراز قد اور اریبہ سے تقریبآ دگنی عمر  کا تھا چوڑے شانے،مضبوط جسم اور سرخ و سفید رنگت کا مالک وہ بلا شبہ ایک وجیہ مرد تھا-وہ دونوں باتیں کرتے ہوۓ ریستوران کے اندر چلے گے تھے-

             میرا شک اب یقین میں بدل چکا تھا کہ اریبہ عشق و محبت کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی-لیکن زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کا دوست اس سے عمر  میں کم از کم پندرہ سال بڑا تھا-مجھے اریبہ کی امی سے دلی ہمدردی محسوس ہو رہی تھی-ان کی کل کائنات اریبہ ہی تھی اور جو راستہ وہ اختیار کر چکی تھی وہ کسی طرح بھی پسندیده نہیں تھا-اریبہ کے ساتھ اس شخص کا میل  جول کسی طور مناسب نہیں تھا-میں نے سوچا کہ بات بڑھنے سے پہلے مجھے اپنے طور پر اریبہ کو سمجھانا چاہے –

                        ایک روز میں اریبہ کے گھر جا پہنچی اس دن سہ پھر کے تین بجے تھے-دروازے پر اریبہ نے میرا استقبال کیا ،وہ ڈھیلے ڈھالے گلابی رنگ کے کرتے میں بال کھولے بڑی دلکش لگ رہی تھی میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ امی آرام کر رہی ہیں –

،ویسے کافی دیر ہو گئی ہے میں انہیں جگا دیتی ہوں -،

وہ برآمدے کی طرف بڑھی تو میں نے اسے روک دیا ،انہیں آرام کرنے دو ،میں نے کہا

کچھ ہی در میں ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں  کر رہے تھے-چند  رسمی باتوں کے بعد میں جلد ہی اصل موضوع کی طرف آ گئی -میں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اریبہ کو بتا دیا کہ میں اس کی مصروفیات سے آگاہ ہو چکی ہوں ،اس کے ہونٹ خشک ہو گۓ اور آنکھوں میں پریشانی کروٹیں لینے لگی-اسی وقت ملازم چاۓ لے کر آ گیا کچھ دیر وہاں خاموشی چھائی رہی -ملازم کے جانے کے بعد میں نے کہا –

،اریبہ تم مجھے آپا کہتی ہو ،اپنا بڑا مانتی ہو نا -میں صرف تمہاری ٹیچر نہیں ہوں بلکہ تمہاری دوست بھی ہوں-، اس نے سادگی سے اقرار میں سر ہلایا، میں نے کہا –

،یہ راستہ جو تم نے اختیار کیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے -اس میں سواۓ بدنامی اور جگ ہنسائی کے تمہارے حصّے میں کچھ نہیں اے

 گا -یہ راستہ تمہیں بربادی کی طرف لے جاۓ گا-ذرا سوچو تمہاری ماں بیمار ہیں -ان  کی قربانیاں یاد کرو،انہوں نے تمہیں ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ہے جب انہیں پتا چلے گا کہ ان کی لاڈلی بیٹی کیا کھیل کھیل رہی ہے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی -میں سمجھتی ہوں کہ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ،تم اس راستہ سے بآسانی واپس آ سکتی ہو -کوئی ایسا راستہ اپناؤ جس میں تمہاری عزت بڑھے اور تمہارے والدین کا نام روشن ہو -تمہاری امی کو تم سے بڑی  امیدیں ہیں ،اس طرح ان کی آرزؤں کو خاک میں نہ ملاؤ ،

              وہ خاموشی سے میری بات سنتی رہی پھر چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر سسکیوں سے رونے لگی-اس کے اندر جیسے کوئی طوفان چھپا تھا –

،رو نہیں جو کچھ تمہارے دل میں ہے مجھے بتا دو ،میں نے اسے تسلی دی -وہ بے دردی سے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے کاٹ رہی تھی-وہ زبردست الجھن کا شکار نظر آ رہی تھی-ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے تھے کہ دفعتاً کال بیل کی آواز گونجی غالباً ملازم نے گیٹ کھولا تھا -کچھ ہی دیر  میں ملازم ایک سانولے سے درمیانہ قد کے نوجوان کو لے کر اندر داخل ہوا -نوجوان نے بلیو چیک دار شرٹ اور بلیک پتلوں پہن رکھی تھی -آنکھوں پر سیاہ چشمہ تھا جو اس نے اندر داخل ہوتے ہی اتار  دیا تھا -اسے دیکھتے ہی اریبہ بری طرح چونکی تھی -وہ جلدی سے کھڑی ہوئی اور بولی ،ارے جاوید بھائی آپ ……..یہاں کیسے آ ے ،

نوجوان نے ایک نگاہ غلط انداز مجھ پر ڈالی پھر بولا-

،تمہیں ابھی بلایا ہے …….سخت پریشان ہیں فیکٹری بھی نہیں گئے -،

پھر نہ جانے اریبہ نے اسے کیا اشارہ کیا ،وہ اچانک خاموش ہو گیا -اریبہ اسے لے کر ایک طرف چلی گئی -دونوں مدھم لہجے میں کچھ در باتیں کرتے رہے پھر اریبہ الجھی ہوئی سی میری طرف آئی اور کہنے لگی-

،آپا مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے،میں امی کو جگا دیتی ہوں آپ ان کے پاس بیٹھیں -،میں اس کا اشارہ سمجھتے ہوۓ بولی-

،نہیں نہیں ……..اب میں جا رہی ہوں،ایک دو دن میں پھر آؤں گی-میری طرف سے  ان کی خیریت دریافت کر لینا-،

تھینک یو آپا ، اریبہ نے افرا تفری میں کہا اور میرے ساتھ گیٹ تک آئی  جونہی میں نے اپنے فلیٹ کا رخ کیا-وہ اسی لڑکے کے ساتھ ایک سفید رنگ کی کار میں بیٹھ کے روانہ ہو گئی-اریبہ نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا مگر نووارد شخص کی گفتگو سے میں سمجھ گئی تھی کہ وہ اریبہ کے لیے اسی شخص کا پیغام لے کر آیا تھا اور اب وہ اسی کی طرف گئی ہے-پیغام لانے والا وہ شخص مجھے پہلی نظر  میں ہی اچھا نہیں لگا تھا-اس کی آنکھوں میں عجیب طرح کی مکاری تھی اور زبان قینچی کی طرح تیز چلتی تھی-

                  دوسرے دن اریبہ میرے پاس ٹیوشن پڑھنے آئی تو بڑی چپ چپ سی تھی-میں نے بھی اسے کریدنا مناسب نہیں سمجھا گھر جاتے ہوے اس نے ایک لفافہ میری طرف بڑھاتے ہوۓ کہا –

،یہ پڑھ لیجیے گا -،

اس کے جانے کے بعد ذرا فرصت ملی تو میں نے لفافہ چاک کیا -تین چار صفحات پر مشتمل اس خط کا لب لباب یہ تھا-

،آپا مجھے افسوس ہے کہ میں کل آپکے سوالوں کا صحیح جواب نہیں دے سکی -میں اپنے رویہ پر شرمندہ ہوں جو بات میں آپ سے کرنے جا رہی ہوں اس پر بھی شرمندہ ہوں-پتا نہیں مجھے اسی باتیں لکھنی چاہے یا نہیں لیکن کیا کروں -مجھے اس دنیا میں اپنا کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا جس سے دل کا حال بیان کر سکوں اور جو مجھے کوئی صحیح مشوره دے سکے -ایک دوست کی حیثیت سے میں آپکو سب کچھ بتا دینا چاہتی ہوں-

       ،آپا میں وامق سے سب سے پہلے فیس بک پر ملی تھی،اس نے ایک لڑکی کے نام سے اپنی آئی ڈی بنی ہوئی تھی-رفتہ رفتہ جب بات بڑھی تو اس نے بتایا کہ وہ اصل میں لڑکا ہے -یہ سب میرے لیے شوکنگ تھا-مگر پھر بھی ہماری بات ہوتی رہی-ہماری چیٹنگ کا دورانیہ بڑھتا جا رہا تھا–یہاں میں یہ اعتراف بھی کروں گی کہ جب تصویروں کا تبادلہ ہوا تو مجھے بڑا دھچکا پونہچا تھا وہ عمر میں مجھ سے بہت بڑا تھا-لیکن وہ باتیں بہت اچھی کرتا تھا-اور کبھی کبھی تو ہم پوری رات باتیں  کیا کرتے تھے-اس کے بعد فون نمبرز کا بھی تبادلۂ ہوا-اب دن رات میسج اور فون پر باتیں ہونے لگیں -وہ مجھے بڑا پر خلوص  اور ہمدرد لگتا تھا-میں اپنے گھر کی ہر بات اس سے شیئر کرنے لگی تھی-امی کی بیماری کی وجہ سے میں بہت پریشان رہتی تھی-وہ میری ہمت بڑھاتا اور مجھے حوصلہ دیتا تھا-ہم دونوں بتدریج ایک دوسرے کے قریب آ گے تھے-اب وہ میرے لیے دوست سے بڑھ کر تھا-مجھے پتا بھی نہیں چلا کہ کب میرے دل میں وامق کی محبت جاگی تھی -ہماری دوستی تھوڑے ہی دنوں میں محبت میں بدل گئی -ہماری اکثر ملاقاتیں ہونے لگیں -ہم جانتے تھے کہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں مگر زبانی اقرار نہیں ہوا تھا-

         اس دن جاوید  بھائی جو وامق کے دوست ہیں کی زبانی پتہ چلا کہ وہ اپنے بزنس پر توجہ نہیں دے رہے ،ہفتوں فیکٹری نہیں جاتے اور ان سب کی وجہ میں ہوں-وہ بہت زیادہ شراب پینے لگے ہیں-جاوید بھائی کی یہ بات سن کر میں حیران رہ گئی تھی-جاوید بھائی نے کھا تھا اریبہ تم اور صرف تم انہیں اس مشکل سے نکال سکتی ہو -میں اس کا گہرا دوست ہوں-اس کے دل میں جھانک سکتا ہوں -وہ تمہاری محبت میں گرفتار ہے-وہ تمہیں بے حد چاہتا ہے-اس کی بیوی اس کے لائق نہیں ،وہ ایک بدمزاج عورت ہے وہ وامق کو ذہنی سکون دی سکتی ہے نہ ہی کوئی خوشی-وہ بیوی بچوں میں رہ کر بھی تنہا ہے،ازدواجی زندگی کی سچی خوشیوں سے کوسوں دور -اگر تم اسے سہارا دو گی تو اس کی ڈانواڈول زندگی بچ سکتی ہے-ورنہ تو اس کی تباہی یقینی ہے،کاروبار بھی تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے -کل آپ کی موجودگی میں جاوید بھائی مجھے لینے اے تھے ،میں وامق کو دیکھنے گئی تھی-جو کچھ ان کے بارے میں سنا تھا وہ درست تھا-ان کی حالت دیکھ کر میرے آنسوں نکل آے ،میں نے اپنے دل میں عہد کیا کہ اب کم از کم وامق کو کوئی دکھ نہیں پہنچے گا-میں در تک ان کے پاس بیٹھی باتیں کرتی رہی اور جب وہاں سے اٹھی تو میں سمجھتی ہوں کہ ان کی زندگی کا رخ بدل چکا تھا-بلکہ ہم دونوں کی زندگی کا رخ بدل چکا تھا-

              آپا میں اعتراف کرتی ہوں کہ فیس بک سے شروع ہونے والی یہ دوستی سچی محبت میں ڈھل چکی ہے -اکثر ہماری ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں-میں جانتی ہوں کہ میرے لیے یہ سب نقصان دہ ہے-لیکن خدا جانتا ہے میرے بس میں اب کچھ نہیں رہا-میں وامق سے محبت کرتی ہوں اتنی زیادہ کہ اب میرا دل کوئی رکاوٹ قبول نہیں کرتانہ کوئی نقصان مجھے ڈراتا ہے-اور نہ کوئی نصیحت مجھ پر اثر کرتی ہے-

                آپا میں اپ سے معافی مانگ رہی ہوں آپ کا دل میں نے کسی نہ کسی طرح توڑا ہے اور آپکی توقع پر میں پوری نہیں اتر رہی-امید ہے آپ میری مجبوری سمجھ جایں گی-،

                 اریبہ کے خط نے صورتحال بڑی حد تک واضح کر دی تھی-وامق بلا شبہ ایک پر کشش اور وجیہ مرد تھا اسے لوگوں کے لیے صنف نازک کے دل میں گھر کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن اپنے تیر نظر کے لیے اس نے جو شکار منتخب کیا تھا وہ کسی طور مناسب نہیں تھا-اٹھارہ انیس سال کی معصوم لڑکی جس کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب تھے جس نے ابھی زندگی کے میدان میں کئی معرکے سر کرنے تھے اور جو ایک بوڑھی اور بیمار ماں کا واحد شرا تھی-اس کی شدید اور غیر مشروط محبت دیکھتے ہوۓ میں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ویسے بھی کسی کے ذاتی معاملات میں ایک حد تک ہی دخل اندازی کی جا سکتی ہے-میرا خیال تھا کہ اس کی امی اس معاملے میں بے خبر نہیں ہوں گی-

                اریبہ حسب معمول ٹیوشن آ رہی تھی لیکن بہت چپ چپ تھی مجھے اس معاملے سے کہیں زیادہ ضروری معاملات درپیش تھے لہٰذہ میں نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا ہاں کبھی کبھار اڑتی ہوئی سی بات کانوں میں پر جاتی تھی-اسکینڈل خوبصورت لڑکی کا ہو تو افواہوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں-ایسی ہی تیز رفتار افواہیں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں-بیہودہ افسانے گڑھے اور سنے جا رہے  تھے-نہ جانے اریبہ کی امی کو ان سب باتوں کا پتا تھا یا نہیں کہ وہ کن راستوں پر چل رہی ہے-

                اس روز میں ہمدردی اور دوستی کے رشتے سے مجبور ہو کر اس کے گھر گئی تھی-اریبہ کی امی نے بستر پر لیتے لیتے نہایت خندہ پیشانی سے میرا استقبال کیا -ان کے چہرے سے کسی پریشانی کا اظہر نہیں ہو رہا تھا -نہ ہو لہجے میں کوئی مشمنی تھی-شاید وہ لا علم تھیں،انہوں نے اریبہ کو آواز دی-

               ،ریبو دیکھو کون آیا ہے؟، ان کی اوز سن کر اریبہ نیپکن سے ہاتھ صف کرتی دروازے پر نمودار ہوئی-مجھے دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھٹکی پھر سلام کرتی میرے پاس بیٹھ گئی-وہ شاید باورچی خانے میں مصروف تھی،ماتھے پر پسینہ تھا-گھر میں ملازم ہوتے ہوۓ بھی وہ اپنی امی کے لیے کھانا خود بناتی تھی-

                  ،ریبو اپنی ٹیچر کو چاۓ پلاؤ ،اریبہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور باہر چلی گئی-میں کچھ دیر ان کی خاموش اور گہری آنکھوں میں دیکھتی رہی آخر میں نے کھا-

        ، آنٹی اب آپ اریبہ  کی شادی کر دیں-،

        ،ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں-،

           اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہتی اریبہ چاۓ کی ٹرے لیے اندر  داخل ہوی اور ہم خاموش ہو گئے -پھر جتنی  دیر  میں وہاں رہی بس رسمی سی باتیں ہوتی رہیں -ان باتوں سے میں نے محسوس کیا کہ بے شک اریبہ اور اس کی امی کے چہروں سے کوئی الجھن ظاہر نہیں ہوئی مگر دلوں کی حالت بدلی بدلی تھی ماں بیٹی کا رشتہ اپنی جگہ قائم و دائم تھا لیکن اس رشتے کے شیشے پر کوئی دھند ضرور چھائی ہوئی تھی-

             میں اریبہ کی امی سے مل کر واپس آئ  تو دل پر ایک بوجھ سا تھا اور ذہن میں ان کا با ہمت اور بردبار چہرہ گھوم رہا تھا-

             اس ملاقات کو تین چار ہفتے گزرے تھے-اریبہ ایک ہفتے سے ٹیوشن نہیں آئی تھی-ایک روز شام کے وقت میں ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ٹیلیفون کی گھنٹی بجی -میں نے ریسیور اٹھایا دوسری طرف اریبہ کی امی کی نہایت گھبرائی ہوئی آواز آئ –

           ،ہیلو………نزہت مجھے اس وقت تمہاری مدد کی شدید ضرورت ہے پلیز ابھی آ سکتی ہو………..اریبہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا ہے-کچھ دن سے وہ بہت پریشان تھی چھپ چھپ کر روتی  رہتی تھی -میرے پوچھنے پر مجھے کچھ نہیں بتایا ……..وہ کہیں کچھ کر نہ بیٹھے پلیز جلدی آ جاؤ -،فون پر ان کے لہجے سے پریشانی صاف ظاہر  تھی-

             میں نے فون بند کیا اور امی کو اریبہ کی طرف جانے کا کہ کر میں تیزی سے گھر سے نکل آئ میرے ذہن میں کی سوال چکرا رہی تھے-ان میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اسے کیا ہوا ہے ؟ میں جیسے ہی اس کے گھر پہنچی تو دیکھا کہ اریبہ کی امی غم کی تصویر بنی بیٹھی تھیں-میں نے انہیں تسلی دی اور اریبہ کے کمرے کا دروازہ بجایا اور تحکمانہ لہجے میں کھا-

            ،اریبہ دروازہ کھولو تمہاری وجہ سے تمہاری امی کس قدر پریشان ہیں،کچھ احساس ہے تمہیں اگر انہیں کچھ ہو گیا تو اس کی زمےدار تم ہو گی،بہرحال بہت کہنے سننے کے بعد بڑی مشکل سے اس نے دروازہ کھولا اور چلا کر بولی –

            کوئی مجھ سے کوئی سوال نہ کرے،مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں میرے راستے سے ہٹ جائیں ،میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی-میں اسے مار ڈالوں گی-،وہ زخمی شیرنی کی طرح غرائی -صاف طور پر سمجھ آ رہا تھا کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے-اس کا سنگین لہجہ بتا رہا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی المناک واقعہ ہو چکا ہے -اور اب وہ زندگی سے اس قدر بے زار ہے کہ کوئی خطرہ اس کے لیے خطرہ نہیں رہا-اس کی سرخ آنکھوں میں آنسو شعلوں کی طرح چمک رہی تھے-

             مججھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس جیسی سمجھدار اور پڑھی لکھی لڑکی کو آٹھ دس مہینوں میں یہ کیا ہو گیا تھا-ایک سال پہلے کی اربعہ اور آج کی اریبہ میں زمین آسمان کا فرق نظر آ رہا تھا-

وہ وامق کے خون کی پیاسی ہو رہی تھی-آج اس کی معصوم آنکھوں میں حسین خوابوں کی جگہ شعلے رقص کر رہی تھے-

             اریبہ کی امی رو رہی تھیں اور اسے سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھیں یوں لگتا تھا جیسے وہ اریبہ کو ایک چھوٹی سی گڑیا کی کی طرح اپنی گود میں لے لینا چاہتی ہو ں اور یوں اپنے بازوں میں جکڑنا چاہتی ہوں کہ کوئی زندگی بھر اسے ان سے جدا نہ کر سکے وہ گڑیا نہیں تھی ایک بپھری ہوئی جوان لڑکی تھی اور ان کے بوڑھے بازو کمزور تھے،ان کا بیمار جسم ہانپ رہا تھا وہ بے بسی اور بے چارگی کی مکمل تصویر نظر آ رہی تھیں-میں نے غصے سے بھنا کر اسے تھپڑ مرا-

       ،تمہیں اب احساس ہوا کہ تم سے کیا غلطی ہوئی ہے،اس دن کے لیے میں تمہیں سمجھاتی تھی-، اس نے چیخ ماری اور منہ چھپا کر پھوٹ  پھوٹ کر رونے لگی ۔اریبہ کی امی بے قراری سے ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھیں-شاید انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بیٹی کا دکھ بانٹنے کے لیے کیا کریں کہاں جایں ۔

میں نے اریبہ کی امی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور یہیں لے کر کمرے سے باہر آ گئی -میں نے کھا-

        ،بہتر ہے کہ اسے فی الحال اس کے حال پر رہنے دیا جاۓ -غصہ اتر جاۓ گا تو وہ ہماری بات سنے گی،اور اپنی بھی سنے گی-ابھی کچھ کہنا سننا فضول ہے،مجھے امید ہے کہ کچھ دیر میں یہ نارمل ہو جاۓ گی -کوئی مسئلہ ہو تو فورا مجھے فون کر لیجیے گا،باقی پھر تفصیل سے بات کریں گے-،

         نزہت تم نہیں جاؤ ،میرا دل گھبرا رہا ہے،بس میرے پاس بیٹھو،مجھے اکیلا نہیں چھوڑو -،میں نے

        ان کی حالت واقعی قابل رحم تھی،اریبہ کے کمرے میں اب خاموشی تھی-میں نے دبے پاؤں جا کر کھڑکی سے جھانکا وہ بیڈ پر نڈھال سی پڑی  تھی-اس کی آنکھیں بند تھیں،میں اریبہ کی امی کے آ بیٹھی-میں نےگھر فون کر کے امی کو بتا دیا تھا کہ میں اریبہ کے پاس کچھ دیر  ٹھہروں گی-اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے-ملازم گرم  چاۓ  ہمارے سامنے رکھ گیا تھا-میرے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی اریبہ کی امی نے کھا-

               ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا،وہ غلط آدمی نکلا-، انہوں نے پر تاسف لہجے میں کہا

      ،کون؟……اور غلط سے آپ کی کیا مراد ہے-،اریبہ  کی امی بولیں

        ،وہ شیطان وامق جو اریبہ کے معصوم دل سے کھیلتا رہا اور جب دل بھر گیا تو دوسری عورتوں کے پیچھے بھاگنے لگا -وہ کلی کلی منڈلانے والا بھنورا ہے-میری ریبو اس بد ذات کی فطرت نہیں سمجھ سکی-،

         میں نے کھا ،یہ آپ کیا کہ رہی ہیں،آپ کو سب کچھ پتا تھا؟

       وہ بولیں، ہان ریبو نے مجھے بتا دیا تھا-، وہ وامق سے شادی کرنا چاہتی تھی-وہ شادی شدہ تھا -میں نے ریبو کو بہت سمجھایا تھا مگر وہ نہیں مانی تھی -آخر بہت دکھے دل کے ساتھ میں راضی ہو گئی تھی-لیکن اب وہ اسے اگنور کر رہا تھا-بے رکھی برت رہا تھا ۔وہ پگلی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی-جھوٹی اس اور امیدوں کی ڈور سے بندھی ہوئی تھی-کل اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا-اس نے کالج سے واپس آتے ہوۓ وامق کو کسی لڑکی کے ساتھ کر میں جاتے ہوئے دیکھا تھا،وہ آگ بگولہ گھر پہنچی تھی-اس نے گھر پہنچتے ہی کسی کو فون کیا تھا،جس وقت وہ فون پر بات کر رہی تھی میں برابر والے کمرے میں تھی-ریبو کا خیال تھا کہ میں سو رہی ہوں لیکن میری ریبو انگاروں پر لوٹ رہی ہو تو میں کیسے سو سکتی تھی-میں نے ریبو کی باتیں سنی تھیں،وہ کسی سے پوچڑھی تھی کہ وامق کے ساتھ کر میں جانے والی لڑکی کون تھی-جواب میں شاید وہ شخص اسے تلنے کی کوشش کر رہا تھا-ریبو بولی میں جانتی ہوں کہ وہ کیا کرتا پھر رہا ہے میں نے بہت بٹن سنی ہیں اور سن رہی ہوں تم لوگ جو کچھ کر رہی ہو اچھا نہیں کر رہی-ریبو کی تلخ باتوں کے جواب میں شاید اس نے اسے کسی برے نام سے پکارا تھا-وہ چلا کر بولی-

     ،آوارہ میں نہیں تم ہو،دغا بازی بھی تم لوگوں نے کی ہے  -تم لوگوں نے قدم قدم پر مجھے دھوکہ دیا ہے-،

دوسری طرف شاید اس نے رابطہ کاٹ دیا تھا-ریبو خود ہی کچھ در چیخ چلا کر چپ ہو گئی تھی-

         آج صبح سے وہ اپنے کمرے میں بند تھی،اس نے نہ کچھ کھایا نہ پیااور نہ ہی کسی سے بات کی تھی -مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے،مجھے ڈر  تھا کہ کہیں وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے آخر میں نے تمہیں فون کر دیا-،

           مجھے وامق پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا اور اس سے بھی زیادہ غصہ اس کے دوست جاوید پر تھا-واقعات سے صاف ظاہر تھا کہ یہ شخص وامق کے ڈیایسٹی راست کا کردار ادا کر رہا تھا-پہلے فیس بک کے ذزریعے اس کو پھنسایا پھر دوست کے زریعے اریبہ کے دل میں ہمدردی پیدا کی ان دونوں کو ملانے اور معاملات کو آگے بڑھنے میں اس جاوید نامی شخص کا کردار اہم تھا-اب یہی جاوید اریبہ کی بات سننے کا بھی روادار نہیں تھا – میں در تک ان کے پاس بیٹھی بٹن کرتی رہی اور جب اریبہ اپنے کمرے میں گہری نیند سو گئی تو میں اس کی امی کی ڈھارس بندھا کر گھر واپس آ گئی-

            تین چار روز گزر گے تھے-میں اپنے کاموں میں الجھی ہوئی تھی-مجھے اریبہ کی طرف جانے کی بالکل فرصت نہیں ملی تھی نہ ہی ان کی طرف سے کوئی فون آیا تھا-چوتھے دن ایک دھماکہ خیز خبر میری منتظر تھی- کہ وامق کو گزشتہ روز رات نو بجے اس کی فیکٹری میں قتل کر دیا گیا اور اریبہ کو جاۓ وقوع سے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے-اریبہ پر وامق کے قتل کا الزام تھا-میں سب کام چھوڑ چھاڑ اریبہ کے گھر کی طرف بھاگی-مجھے دیکھتے ہی اس کی امی بولیں-

         ،وہ بے قصور ہے،اس نے کچھ نہیں کیا،خدا جانتا ہے اس نے کچھ نہیں کیا-،

       تو پھر کس نے کیا ہے؟،میں اسے ٹیش کے عالم میں دیکھ چکی تھی-

وہ سٹپٹا کر بولیں، مجھے کچھ معلوم نہیں-میں کچھ نہیں جانتی،میں تو بس اتنا جانتی ہوں میری ریبو بے قصور ہے،وہ کسی کو قتل نہیں کر سکتی-،

            حالت اور واقعات سے صاف طور پر پتا چلتا تھا کہ اریبہ نے اپنی بربادی کا انتقام لیا تھا اور وامق جیسے ہرجائی کو زندگی کی سرحد پار کرا دی تھی-وہ اپنے جرم کو مانتی یا نہ مانتی اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا-وہ انتہائی قدم اٹھا چکی تھی-

            وامق کو تیز دھار  آلے سے قتل کیا گیا تھا-جو اس کے عین دل میں پیوست تھاجس کے لیے بے پناہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے-اس جیسی دھن پان لڑکی سے اگرچہ اس قتل کی توقع نہیں کی جا سکتی مگر طیش اور غصّہ بڑے  سے بڑا کام کروا دیتا ہے-خوں آلودہ خنجر لاش کے پاس ہی پر ملا تھا جس پر کسی کے انگلیوں کے نشان نہیں تھے انہیں صاف کر دیا گیا تھا-اریبہ کو اس کی لاش کے پاس سے آنسو بھتے گرفتار کیا گیا تھا-

           وہ اپنے جرم سے انکار کر رہی تھی بہرحال پولیس ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد اسے جیل پہنچا دیا گیا تھا-دو ہفتے بعد میں اس کی امی ک ساتھ اس سے ملنے جیل گئی تو آہنی سلاخوں سے لپٹ کر وہ زور زور سے رونے لگی اس نے کھا-

     ،امی میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں چھپایا،کبھی جھوٹ نہیں بولا،اگر آپ سمجھتی ہیں کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں تو مجھے  ہاتھوں سے مار ڈالیں-مجھے مر ہی جانا چاہے،میں جیل میں سڑنا نہیں چاہتی-مجھے جلدی سے پھانسی دلوا دیں تاکہ میری اور آپ کی جان  چھوٹ جاۓ –

            اس دن اریبہ جو کچھ اس واردات کے بارے میں بتایا تھا اس کے مطابق -اس دن جاوید کا فون آیا تھا-کہ وامق اس سے فوری طور پر فیکٹری میں ملنا چاہتا ہے-اسے کوئی ضروری بات کرنی ہے،اور وہ اسے لینے آ رہا ہے-وہ سمجھی تھی کہ شاید وامق کو احساس ہو گیا ہے اور وہ اپنی غلطی کی تلافی کرنا چاہتا ہے-کچھ در بعد جاوید وامق کی کار میں اسے لینے آ پہنچا تھا-وہ فیکٹری پہنچی تو گیٹ پر چوکیدار نہیں تھا اور باہر سے تالا لگا ہوا تھا-جاوید نے بتایا کہ وامق اندر اپنے آفس میں اسکا انتظار کر رہا ہے-گیٹ کا تالا جاوید نے کھولا تھا-اور اس سے کھا تھا وامق کے آفس میں جاۓ وہ گاڑی پارک کر کے آ رہا ہے-اس نے جیسے ہی آفس میں قدم تو یہ دیکھ کر ہکا بکّا رہ گئی کہ وامق زمیں پر پڑا ہوا تھا-اس طرح کہ اس کی قمیض سینے کے قریب خوں سے تر تھی-اور اس پاس بھی خوں پھیلا ہوا تھا-لاش کے قریب ہی ایک خوں آلودہ خنجر بھی پر تھا-یہ سب دیکھ کر وہ بری طرح گھبرا گئی اور  وہیں بیٹھ کر رونے لگی-اتنی دیر میں پولیس آ گئی -پولیس کو فون جاوید نے کیا تھا-وہ سمجھ گئی تھی کہ اسے پھنسایا گیا ہے-

                  جیل سے واپسی پر وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر میں اور اریبہ کی امی باتیں کرنے لگے تھے-اریبہ کی امی نے کہا  ،نزہت میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ ریبو نے اسے نہیں مارا،میں اس کی ایک ایک ادا کو سمجھتی ہوں-وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی -ہم نے زندگی بھر ایک دوسرے سے جھوٹ نہیں بولا-اور شاید کبھی نہیں بول سکیں گے-حالات اسے مجرم ثابت کر رہے ہیں-مگر وہ مجرم نہیں ہے-

               میں نے کہا ،میں یہ کیسے مان لوں میں نے خود اسے یہ کہتے ہوۓ سنا تھا کہ میں اسے مار ڈالوں  گی -وہ اتنے جذبات میں تھی کے اسی دن وامق کو قتل کر  دیتی اور اس نے کر دیا اس دن نہ سہی  چار دن بعد سہی -،

       ،تم اس دن کی بات کر رہی ہو اور یہ نہیں جانتیں کہ اس کے بعد کیا ہوا تھا-تمہیں کچھ معلوم نہیں ہے -میں ریبو کو مکمل طور پر پر سکون کر چکی تھی-میں نے اس سے کہا تھا میں نے زندگی میں کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا ،آج ایک چیز مانگ رهھی ہوں،دیکھو انکار نہ کرنا-مجھے میری ایک برس پہلی والی ریبو لوٹا دو،وہ ہنستی کھیلتی ریبو ،تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا سب بھول جاؤ -سب کچھ فراموش کر دو،آؤ ہم ماں بیٹی ایک نئی زندگی شروع کریں -ہماری  ہوئی خوشیاں لوٹا دو-میں ریبو کو بہت در تک سمجھتی رہی اور آخر دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں سے غیظ و غضب کی سرخی چھٹ گئی اور امید کی روشن کرنیں چمکنے لگیں -وہ بھاگ کر مجھ سے لپٹ گئی،اتنا روی کہ اس کے آنسوؤں سے میری قمیض بھیگ گئی-ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان کہنے لگی –

       ،مما میرا دل مر چکا ہے لیکن میں آپ کی خطر زندہ رہوں گی -میں ساری دنیا کو انکار کر سکتی ہوں مگر آپ کو انکار نہیں کروں گی-آپ کی بات نہیں ٹالوں گی،سب کچھ بھول جاؤں گی-جو بھول سکتی ہوں وہ بھی اور جو نہیں بھول سکتی وہ بھی-،

         ،میں نے اسے گود میں سمیٹ لیا اور در تک دلاسہ دیتی رہی کہ جو کچھ ہوا ہے اسے بھول جو-میری تربیت میں ہی شاید کوئی کمی رہ گئی تھی-وہ سسک سسک کر میری گود میں ہی سو گئی تھی-ہمارا ارادہ اریبہ کی پھوپھی کے پاس اسلام آباد شفٹ ہونے کا تھا-وہ کافی عرصہ سے ہمیں بلا رہی تھیں -اگلے روز ہم اسلام آباد جا رہی تھے،میں سامان باندھ چکی تھی،ہم تکت بھی لے چکے ٹھیکہ روانگی سے ایک رات پہلے وامق کا قتل ہو گیا-میری ریبو قتل نہیں ہے،اگر یہ جھوٹ ہے کل کا سورج کبھی طلوع نہ ہو-،

              میں اور اریبہ کی بیمار اور بوڑھی ماں آنسوں پونچھتی میرے ساتھ جیل سے باہر آ گئی تھیں-اچانک نہ جانے انہیں کیا ہوا وہ لڑکھڑا گئیں میں نے جلدی سے انہیں سہارا دیا تو وہ میرے بازوؤں میں جھول گیں -وہ بے ہوش ہو گئی تھیں-میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی ،ایک سفید رنگ کی کار ہمارے قریب سے گزری،میں نے اسے رکنے کا اشارہ کیا ،کار کچھ فاصلے پر جا کر رک گئی-جو شخص کار سے باہر نکلا اسے دیکھ کر میرا خون کھول گیا-وہ وامق کا دوست جاوید تھا-،وہ تیزی سے ہمارے قریب آیا اور ماں جی کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر اپنی کار میں جا کر لٹا دیا -مجھے اس وقت کوئی راستہ سجھائی نہ دیا ،اس وقت ماں جی کو بچانا ضروری تھا-میں ان کے پاس ہی بیٹھ گئی-اس نے کچھ بولے بغیر ہسپتال کی طرف تیزی سے کار دوڑا دی پورا راستہ خاموشی سے گزرا تھا -ہسپتال پہنچتے ہی ماں جی کی ایمرجنسی ٹریٹمنٹ شروع ہو گئی-وہ میرے سامنے بنچ پر خاموش بیٹھا تھا-پھر کچھ دیر بعد وہ بولا-

                   ،انہیں اچانک کیا ہوا تھا؟،

میں نے کہا ،ان کی اس حالت کے ذمہ دار تم اور تمہارا دوست ہیں،اس دنیا میں تو شاید تم بچ جاؤ مگر قیامت  کے دن خدا کی عدالت میں کیسے بچو گے-،

وہ سر جھکاۓ کچھ دیر بیٹھا رہا پھر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور آندھی طوفان کی طرح وہاں سے کچھ کہے  بغیر چلا گیا-

      بعد میں پتا چلا کہ وہ وہاں سے سیدھا پولیس اسٹیشن گیا تھا اور اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کروایا تھا- کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں کوئی لمحہ ایسا  بھی آتا ہے جب اسکا ضمیر جاگ اٹھتا ہے-اور انسان اپنے ضمیر کی سنتا ہے -تو شاید وہ ایسا ہی لمحہ تھا جب جاوید نے اپنے ضمیر کی سنی تھی-بہرحال پولیس کو دئیے گے اس کے بیان کے مطابق وامق کا قتل اس نے کیا تھا-

        جاوید پنجاب کے کسی دوردراز گاؤں کا رہنے والا تھا۔گاؤں میں بھی اس پر کسی کے قتل کا کیس چل رہا تھا-دو برس پہلے وہ گاؤں سے شہر آ گیا تھا-وہ وامق کی فیکٹری میں ملازمت کر رہا تھا ۔اپنی ذھانت اور چرب زبانی کی وجہ سے وہ یہاں تیزی سے ترقی کرنے لگا اور جلد ہی وامق کے قریب آ گیا -جلد ہی وہ دونوں دوست بن گے -وامق خوبصورت لڑکیوں کا دلدادہ تھا -جاوید وامق کی رنگ رلیوں میں اسکا دست راست بن گیا-وہ اس کے لیے شکار پھنسانے کا کام کرتا تھا-وامق فیس بک یا دوسرے زرائع سے لڑکیوں سے رابطے کرتا اور جاوید اس کے لیے راستے ہموار کرتا تھا-ایسا کرتے وقت اس نے یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ کوئی ذات اوپر بھی ہے جو اس کی ہر حرکت کو دیکھ رہی ہے-وہ ذات کبھی کبھی گنہگاروں کو یوں بھی سزا دیتی ہے کہ شکاریوں کے جال ہی خود انہیں پھانس لیتے ہیں –

      اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا-پنجاب کے اس گاؤں میں رہنے والی اس کی ماں اور بہن کو جب پتا چلا کے جاوید شہر میں خوشحال اور پر سکون زندگی گزا ر رہا ہے اور فیکٹری کی طرف سے اسے گھر بھی مل گیا ہے تو وہ دونوں بھی اس کے پاس آ گئی تھیں-

      کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے وامق کسی کام سے جاوید  کے فلیٹ پر گیا تو وہ گھر پر موجود نہیں تھا-اس کی غیر موجودگی میں جب وامق نے اسکی خوبصورت اور کم عمر  بہن کو دیکھا تو دنگ رہ گیا اور حسب فطرت اس نے اپنا اگلا شکار منتخب کر لیا تھا-اس نے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی کہ وہ اپنے دست راست اور بے تکلف دوست کے گھر پر نقب لگا رہا ہے-پھر وہ اکثر جاوید کی غیر موجودگی میں اسکے گھر جانے لگا اور کچھ لالچ اور کچھ اپنی وجاہت کے بل بوتے پر اس نے صغراں کو شیشے میں اتار لیا-صغراں نادان تھی نہ سمجھ تھی اس کی باتوں میں آ گئی-

          اریبہ نے جاوید کو بتایا تھا کہ وامق کے ساتھ اس نے کسی لڑکی کو دیکھا ہے تو شروع میں تو جاوید نے کوئی توجہ نہیں دی تھی بعد میں اس نے وامق سے پوچھا تو وہ ٹال گیا تھا-یہ پہلا موقع تھا کہ وامق اس سے رازداری برت رہا تھا جاوید کو یہ بات عجیب محسوس ہوئی تھی وہ اس کی کھوج میں رہنے لگا تھا۔بلاخر ایک دن وامق کا پیچھا کرتے ہوے اسے ایک لڑکی کے ساتھ ایک ہوٹل میں جاتے ہوۓ دیکھ لیا-اس کے تو پاؤں تلے سے زمین نکل گئی -وہ سر سے پاؤں تک لرز کے رہ گیا-اس کی رگوں میں خون کے بجائے لاوا دوڑنے لگا-اوپر والا اس طرح بے ضمیروں کو دکھاتا ہے -دکھ الم سے اس کا سنا پھٹنے لگا کیوں نہ پھٹتا معاملہ اس کی اپنی بہن کا تھا-اس نے دیوارسے ٹکریں ماریں -وہ تڑپ تڑپ کر رویا تھا-اب وہ سراپا انتقام بن گیا تھا-

               اس رات اس نے وامق کو ڈھیروں شراب پلائی تھی اور دیر تک فیکٹری میں رکنے پر مجبور کیا تھا-اور جب وہ بری طرح مدہوش ہو گیا تو خنجر کے پے در پے وار کر کے اس کا کام تمام کر دیا تھا-فیکٹری میں اس وقت  ان دونوں کے علاوہ صرف چوکیدار تھا جو باہر گیٹ پر تھا-خنجر سے اس نے فنگر پرنٹ ہوشیاری سے صاف کر دیے تھےاور اسے لاش کے قریب ڈال دیا تھا-اس کے بعد وامق کی گاڑی میں وہ اریبہ کو لینے اس کے گھر روانہ ہو گیا تھا-وہ یہ تمام منصوبہ پہلے ہی تیار کر چکا تھا-اور اپنے اس بے داغ منصوبے پر بڑا مطمئن تھا-اریبہ کو اسکے آفس میں چھوڑ کر دوسرے کمرے سے اس نے پولیس کو فون کر دیا-یوں اریبہ کو وامق کے قتل کے الزام میں اس کی لاش کے پاس سے گرفتار کر لیا گیا تھا-اور وہ صاف بچ گیا تھا-لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہے شاید اریبہ پھانسی چڑھ جاتی اور اس کی بورھاور بیمار ماں غم کا یہ بوجھ اٹھا نہ پاتیں -جاوید نے جو ماں جی کو اس حالت میں دیکھا تو اسے اپنی بوڑھی ماں کا خیال آ گیا –

      بہرحال جاوید گرفتار ہو گیا اور اس کی ماں اور بہن پنجاب واپس چلی گئیں ۔اریبہ رہا ہو گئی اور وامق اپنے  انجام کو پہنچا۔اریبہ کی رہائی کے فورا بعد اریبہ کی امی نے اپنی کوٹھی فروخت کر دی اور تمام جمع پونجی لے کر اپنی نند کے پاس اسلام آباد چلی گئیں -میں خود انہیں ایئر پورٹ چھوڑنے گئی تھی اریبہ قید و بند کی تکلیفوں سے نڈھال تھی جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ انہوں نے اریبہ کو یوں اپنی بانہوں کے حلقے میں چھپا رکھا تھا جیسے اپنی زندگی کی آخری پونجی لٹیروں کے نگر سے بچا کر لے جا رہی ہوں-

                   …………

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے