سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن۔۔۔۔ نادیہ احمد۔۔ قسط نمبر 4

ڈھل گیا ہجر کا دن۔۔۔۔ نادیہ احمد۔۔ قسط نمبر 4

ڈھل گیا ہجر کا دن۔۔۔۔ نادیہ احمد۔۔ قسط نمبر 4

چل عمر کی گٹھڑی کھولتے ہیں

اور دیکھتے ہیں

ان سانسوں کی تضحیک میں سے

اس ماہ و سال کی بھیک میں سے

اس ضرب جمع تفریق میں سے

کیا حاصل ہے کیا لاحاصل

چل گٹھڑی کھول کے لمحوں کو

کچھ وصل اور ہجر کے برسوں کو

کچھ گیتوں کو ، کچھ اشکوں کو

پھر دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں

یہ درد بھری سوغات ہے جو

یہ جیون کی خیرات ہے جو

اک لمبی کالی رات ہے جو

سب اپنے پاس ہی کیوں آئی

یہ ہم کو راس ہی کیوں آئی

یہ دیکھ یہ لمحہ میرا تھا جو اور کسی کے نام ہوا

یہ دیکھ یہ صبح کا منظر تھا جو صبح سے مثلِ شام ہوا

اور یہ میرا آغاز پڑا جو بدتر از انجام ہوا

اب چھوڑ اسے آدیکھ ادھر

یہ حبس پڑا اور ساتھ اس کے

کچھ اکھڑی اکھڑی سانسیں ہیں

اک دھندلا دھندلا منظر ہے

اور اجڑی اجڑی آنکھیں ہیں

یہ جھلسے ہوئے کچھ خواب ہیں جن کے ہاتھ کوئی تعبیر نہیں

یہ دیکھ حنائی ہاتھ ہیں پر وصل کی ایک لکیر نہیں!!!!!!!

صبح کی نرم دھوپ سنہری کرنوں میں لپٹی زمین پہ دلکشی لٹا رہی تھی۔ بہار کی گرم ہواو ¿ں میں اب لو جیسی تپش در آئی تھی۔ شہر کے مہنگے ترین رہائشی علاقے میں موسمی پھولوں سے سجی بلند و بالا کوٹھی کرنوں میں نہائی تھی۔ صدر دروازے پہ لگی انصاری ہاو ¿س کی نیم پلیٹ اس دو منزلہ عمارت کے وقار کو چار چاند لگا رہی تھی۔ وسیع لان کے سبزے پہ اس پل دھوپ کا راج تھا۔ اندر قرینے سے سجے کشادہ لاو ¿نج میں ٹانگ پہ ٹانگ جمائے ، دو سیٹر صوفہ کے کونے پہ ٹکی پر اعتماد لیکن پرتکلف کشمالہ معین اور اسکے برابر سنجیدہ پر مطمئن سمیر بیٹھے تھے۔ سفید قیمتی اور اسٹائلش لباس میں، شولدر تک کٹے سلکی بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا ۔ سر پہ ٹکے انتہائی قیمتی ڈیزائینر سن گلاسز اور چہرے پہ ہلکا سا میک اپ۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔ ہر بار کی طرح آج بھی اسٹائل اس پہ ختم تھا ۔ اس کی شخصیت کو چار چاند لگاتا اس کا اعتماد اور تنی ہوئی گردن جس سے اس کی کلاس اور عہدے کا تکبر جھلکتا تھا۔

سامنے اسی سے ملتے جلتے تھری سیٹر کاو ¿چ پہ مسٹر اینڈ مسز انصاری براجمان تھے جبکہ فریحہ اس وقت اسپتال میں تھی۔ مجبوری نہ ہوتی تو شائد وہ بھی گھر سے قدم باہر نہ نکالتی۔ سینٹر ٹیبل کھانے پینے کے لوازمات سے پر تھی اور پاس ہی ایک خوبصورت سا بوکے دھرا تھا۔

”تم نے خوامخواہ زحمت کی۔ اس فارمیلیٹی کی ضرورت نہیں تھی“۔ سمیر کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی مین چھپی پریشانی کی لکیریں اور آنکھوں میں نیند کا خمار تھا۔ لیکن وہ کمپوزڈ تھا۔

”یہ فارمییلیٹی تمہارے لئے ہے، میرے ہاں اسے اخلاقیات کہتے ہیں “۔ وہ کوئی اور نہیں کشمالہ معین تھی جس کے پاس جواب موجود ہوتا تھا۔

”یا پھر دوست ہونے کے ناطے ایک کرٹسی وزٹ بھی الاو ¿ نہیں“۔ زیرِ لب جتا کر کہا گیا تھا ۔ اس بار آواز دھیمی تھی پھر بھی سامنے بیٹھے ڈاکٹر انصاری سن چکے تھے۔

”آپ کا اپنا گھر ہے بیٹا، آپ جب چاہیں یہاں آسکتی ہیں“۔ ڈاکٹر انصاری کا چہرہ کچھ اترا ہوا تھا پر وہ ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش تھے۔

کل رات اچانک ان کی طبیعت اپ سیٹ ہوگئی تھی۔ شوگر لیول خطرناک حد تک ہائی ہوگیا تھا اور نور سمیت سب کی جان پہ بن آئی تھی۔ تمام رات ان سب نے جس پریشانی میں گزاری اس کے بعد آج صبح سمیر نے لاہور واپس جانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا ۔ اسے اگلے ہفتے ڈی سی آفس جوائن کرنا تھا۔ لاہور میں اپنا سب کام وائینڈ اپ کرنا تھا مگر اس نے یہ دو روز کے لئے مو ¿خر کر دیا تھا۔ صبح تک انصاری صاحب بہت بہتر محسوس کررہے تھے پر سمیر انہیں ایسے چھوڑ کر جانے پہ راضی نہ تھا اور اسے کنوینس کرنا آسان کام نہیں تھا۔ فریحہ کو بمشکل اسپتال بھیجا کہ اس وقت کوئی تو وہاں موجود ہوتا پر ڈاکٹر نور ان کے پاس ہی تھیں۔ کشمالہ کی کال اتفاقاََ آئی تھی۔ وہ اسے گڈ بائے کہنا چاہتی تھی پر دوسری طرف سمیر کا تھکا ہوا اور پریشان لہجہ سن کر کشمالہ نے آفس جانے کی بجائے گاڑی انصاری ہاو ¿س کی طرف موڑ لی۔

”مجھے تو علم ہی نہیں تھا آپ دونوں بیچ میٹ ہیں۔(سمیرنے کبھی ذکرجو نہیں کیا) ورنہ ہم آپ کو خود انوائیٹ کرلیتے“۔ ڈاکٹر نور نے بھی اخلاقیات نبھائی۔

”اٹس رئیلی ویری سوئیٹ آف یو آنٹی اینڈ تھینکس ٹو مسٹر سمیر انصاری جس کی بدولت آج تک ہمارا تعارف نامکمل ہے“۔ کشمالہ کی وہی مخصوص پرتکلف سی مسکراہٹ تھی اور سمیر کو جتاتا ہوا انداز۔ اس کی نظروں میں سمیر کے لئے واضح پسندیدگی مسٹر اینڈ مسز انصاری سے چھپ نہ سکی تھی۔

”اتنے بہت سے لوگ پہچان والے ہیں۔ کوئی سینئیر تو کوئی جونئیر۔ آپ کو سب کے متعلق تھوڑا معلوم ہے‘۔ لیمن کیک کا پیس کاٹ کر اپنی پلیٹ میں رکھتے سمیر ہلکا سا ہنسا۔ ڈاکٹر نور نے تحیر سے اس کی طرف دیکھا۔

کشمالہ کا چہرہ یکدم پھیکا پڑا تھا ۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑی تھی۔ ان میں بے یقینی کے ڈورے لہرائے تھے۔ بس ایک ہی پل لگا تھا سمیر انصاری کو اسے آسمان سے زمین پر لانے میں اور یہ تو بس کشمالہ معین کا دل ہی جانتا تھا وہ اس جبر کو کیسے برداشت کرتی تھی۔

”یعنی آپ نے گھوڑوں اور گدھوں کو ایک ہی صف میں لاکھڑا کیا۔( دوستوں اور پہچان والوں میں فرق ہوتا ہے)“۔ بڑا جتاتا سا انداز تھا کشمالہ کا۔ بس چند سیکینڈ ہی لگے تھے اسے خود پہ قابو پانے میں۔ایک بار پھر وہی پرتکلف سی مسکراہٹ تھی جس نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا اور آنکھوں میں پہلے سی چمک لوٹ آئی تھی۔ سمیر اگر اسے چڑانے کا خواہاں تھا تو وہ ہرگز نہیں چڑی تھی ۔

”گدھے کہاںبچے اب تو سب گھوڑے ہیں“۔جواب ترکی با ترکی آیا تھا لیکن وہ اس سے مزید الجھنا نہیں چاہتی تھی۔

”ویل تھینکس فار دی کافی آنٹی۔ انکل آپ اپنا خیال رکھیں۔ میں اب چلوں گی“۔بڑے کانفیڈنٹ انداز میں اپنا ہینڈ بگ سنبھالتے اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ایک نگاہ کی ۔

 وہ بس دس منٹ ہی بیٹھی تھی ۔ اسے دفتر پہنچنا تھا اور اس مختصر وقت میں بھی وہ اپنی شخصیت سے مسٹر اینڈ مسز انصاری کو مرعوب و متاثر کرگئی تھی۔ ان دونوں نے ہی اسے بہت اچھے انداز میں سی آف کیا تھا۔

٭….٭….٭

اور اس کے جانے کے بعد بھی موضوع کشمالہ معین ہی تھی۔

”ماشاءاللہ بڑی کیوٹ ہے نا“۔ ڈاکٹر نور کا خالص ماو ¿ں والا تجزیہ تھا۔

”ویسے کیا ضرورت تھی اس سے اتنا روڈ ہونے کی وہ تمہیں کتنا وی آئی پی ٹریٹ کر رہی تھی“۔ وہ اچانک یاد آنے پہ بولیں۔

”میںباس ہوں۔۔۔۔ اس کا فرض بنتا ہے“۔ سمیر نے دونوں بازو انگڑائی کی طرح ہوا میں لہرائے اور پھر انہیں تکیے کی طرح سر کے نیچے رکھ لیا۔ وہ اب صوفہ پہ پاو ¿ں پسارے ریلیکس انداز میں بیٹھا تھا۔ لیدر صوفہ کی مخصوص مہک میں اب” گوچی بیمبو“ کی مہک شامل تھی۔ ان دنوں کشمالہ کا مخصوص پرفیوم ۔ سمیر اس خوشبو کو پہچاننے لگا تھا۔

”لڑکیوں کا دل نہیں توڑتے برخودار خاص طور پہ خوبصورت لڑکیوں کا“۔ اس سے پہلے کہ نور کچھ کہتیں انصاری صاحب بولے۔ وہ اب کافی بہتر محسوس کررہے تھے۔ اور ایسے موقعوں پر تو ان کی حسِ مزاح عروج پہ ہوتی تھی۔

”تو کیوں گھومتی ہیں دل ہاتھوں میں تھامے، گرگیا تو ٹوٹ بھی جائے گا“۔ جواب برجستہ آیا تھا۔

”بڑی مختلف سی ہے۔ حالانکہ شہر میں اس کی سخت مزاجی کے جھنڈے گڑے ہیں پر مجھے اچھی لگی “۔ ان دونوں باپ بیٹا کی بات کو صریحاََ نظر انداز کرتے نور انصاری اپنے جوڑ توڑ میں لگی تھیں ۔ انہوں نے سمیر کی طرف جوابی نظروں سے دیکھا جیسے اپنی ججمنٹ کی تائید چاہتی ہوں۔

” ممی پلیز آپ پہ سوٹ نہیں کرتا یہ ٹیپیکل رویہ۔ اچھی صورت والی لڑکی دیکھی اور شروع ہوگئیں قیافے ملانے“۔ وہ ہنسا۔

”سو فیصد اس کا جھکاو ¿ تمہاری طرف ہے لکھوا لو مجھ سے“۔ سمیر نے سر پہ ہاتھ مارا۔اسی لئے وہ کشمالہ کو اپنی فیملی سے دور رکھنا چاہتا تھا۔ اس کے گھر آتے ہی ایک نیا چیپٹر کھل گیا تھا۔

”وہ بس میری دوست ہے اور اب کولیگ۔ ہم نے ساتھ کام کرنا ہے۔(آپ مجھ سے لکھوا لیں سو نہیں دو سو فیصد اس کا جھکاو ¿ میری ہی طرف ہے )۔ اور ابھی تو میں اس جھنجٹ میں بالکل نہیںپڑنا چاہتا“۔ماحول میں ایکدم سنجیدگی در آئی تھی۔

”اب نہیں تو کب؟“ نور انصاری تو ویسے بھی ذہنی طور پہ تیار تھیں ۔ سمیر اور فریحہ کی شادی ان دنوں ان کا سب سے اہم مسئلہ تھا اور قدرت نے یہ موقع ان کو دیا تھا۔بات شروع ہوچکی تھی اور وہ اپنی بات پہ مصر تھیں۔

”پتا نہیں۔ آئی مین آئی ایم ناٹ ریڈی“۔ وہ سٹپٹا کر بولا۔انداز جان چھڑانے والا تھا۔

”یار ویسے اس معاملے مین تم بالکل اپنے باپ پہ نہیں گئے ہو“۔ اس سنجیدہ ماحول میں ڈاکٹر انصاری کے غیر سنجیدہ کمنٹ نے نور انصاری کی باتوں کا رخ موڑ دیا ۔

”اچھا اور باپ نے کیا تیر مارا تھا“۔ وہ پورا پورا کا گھوم کر اب متعجب سی انصاری صاحب کی طرف متوجہ تھیں۔

”آپ کو دیکھتے ہی پسند کرلیا تھا“۔ نور انصاری کے چہرے کا رنگ بدلا، آنکھوں میں اک سایہ سا لہرایا تھا۔ انصاری صاحب کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی جیسے اپنی ہی بات سے محظوط ہورہے ہوں۔

”براوو ڈیڈ۔ آپ جیسا بننے میں عمر گزر جائے گی“۔ سمیر کا ہاتھ ماتھے تک اٹھا۔ سیلوٹ کیا اور ان کے شرارتی انداز پہ دل کھول کر ہنسا ۔ اس کا دھیان انصاری صاحب کی باتوں میں تھا شائد اسی لئے اس نے ماں کی بدلی رنگت پہ غور نہ کیا۔

”لیکن یہ جو ہماری جنریشن ہے نا، اس کی زندگی بہت کمپلیکس (پیچیدہ) ہے۔ ہم میں آپ کی طرح فوراََ فیصلے کرنے کی صلاحیت مفقود ہے۔ آپ خود سوچیں ہمارا دل فیس بک پہ ، دماغ ٹوئیٹر پہ، انگلیاں واٹس ایپ پہ اور نظریں انسٹا پہ گڑی ہیں۔ کون سا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں کہ لائک اور کمنٹ کا طوفان مل جائے اس سوچ نے تو پہلے ہی دماغ کی دہی بنا دی ہے۔ ہم اس دلدل سے نکلیں تو کسی کے عارض و رخسار کا سوچیں اور کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ “نور انصاری کو بس شائد اتنا ہی وقت چاہیئے تھا خود کو نارمل اور کمپوز کرنے کے لئے بھی۔ انصاری صاحب کی طرح وہ بھی اب سمیر کی طرف متوجہ تھیں۔

”بہت پرابلم ہے ڈیڈ بہت زیادہ پرابلم ہے۔ آپ ہمارا مسئلہ سمجھیں ہم نے کیا خاک محبت کرنی ہے“۔ اپنے تئیں اس نے جیسے انتہائی سنجیدہ بات کی تھی۔ سر جھٹکتا وہ اسی سنجیدگی سے صوفے سے اٹھا اور متانت سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

”ایک میسیج کا جواب نہیں دیتا یہ، سوشل میڈیا تو اس نے کبھی نہ خود استعمال کیا نہ فری کو کرنے دیا یہ کون سے مسائل کا تذکرہ کر رہا تھا؟“ نور انصاری واقعی الجھ گئی تھیں۔ انہوں نے انصاری صاحب کی طرف دیکھا جو بدستور مسکرا رہے تھے۔

”ڈاکٹر صاحبہ، آپ کا بیٹا ایک انتہائی قابل سرکاری آفیسر ہے۔ غچہ دے گیا“۔ ان کی بات پہ سنجیدہ سی نور انصاری بھی بے ساختہ مسکرا دیں۔

٭….٭….٭

ایک مصروف سا دن بھی فریحہ کے ذہن سے انصاری صاحب کی طبیعت کو لے کر پریشانی محو کرنے سے قاصر رہا تھا۔ حالانکہ وہ اسے خود تسلی دے چکے تھے پر دل کو قرار کہاں تھا۔ اسی لئے آدھا دن بمشکل گزارا اور پھر واپسی کا عندیہ لیا۔ وہ کوریڈور مین تھی جب اسے شاکرہ اماں سامنے سے آتی دکھائی دیں۔انہیں اسپتال دیکھ کر فریحہ کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ تیز قدموں سے چلتی ان تک پہنچی تھی۔

”ارے آنٹی آپ، اسوقت“۔اس کی آواز متفکر تھی۔

”بہو سے ملنے آئی تھی۔ اس دن جو ہوا میرا دل بہت برا کرگیاوہ سب“۔ شفقت سے فریحہ کا ماتھا چومتے وہ اب اس کا ہاتھ تھامے کھڑی تھیں۔

”کیسی باتیں کر رہی ہیں آنٹی۔ مس انڈر اسٹینڈنگ تھی وہ۔۔۔ بس اور کیا۔۔۔“ فریحہ کو ان کا شرمندہ سا لہجہ اچھا نہیں لگا تھا۔ بیچاری کتنا گلٹی فیل کر رہی تھیں۔

”علینہ تو بونگی ہے۔ عقل سے کام لیتی ہی نہیں۔ ذلیل کرکے رکھ دیا مجھے تو اس لڑکی نے“۔سمیر کی ناراضی کا سوچ کر فریحہ کچھ شرمندہ ہوئی۔ وہ بیچاری ضرورت سے زیادہ کرٹئیس(شائستہ) ہورہی تھیں۔ فریحہ بھی اس بات سے ناواقف تھی کہ ان چھوٹے شہروں کے سادہ مزاج لوگوں کی رواداری ہی تو ان کا اثاثہ ہے ۔ وہ انہیں کوریڈور میں لے کر تو کھڑی ہونہیں سکتی تھی۔ اندر اپنے کمرے میں چلنے کا کہا ساتھ ہی ڈاکٹر انصاری کی ناسازیِ طبع اور ڈاکٹر نور کی غیر موجودگی کا ذکر بھی کردیا۔ وہ خود بھی پریشان تھی اور اس کی پریشانی چہرے سے جھلک رہی تھی پر شاکرہ تو اس سے بڑھ کر پریشان ہوگئیں۔ فریحہ نے یونہی ساتھ چلنے کی آفر کی تو وہ فوراََ سے پہلے راضی ہوگئیں۔

فریحہ کے ساتھ شاکرہ کو دیکھ کر نور انصاری کو خوشگوار حیرت ہوئی تو دوسری طرف سمیر چونکا تھا۔ سب لوگ لاو ¿نج میں جمع تھے اور ڈاکٹر انصاری بیمار رہ رہ کر اتنے تھک چکے تھے کہ اب اگر کوئی ان سے ایک بار بھی طبیعت کے حوالے سے پوچھتا تو وہ چڑ جاتے۔ ان کے خیال میں سب نے بات کا بتنگڑ بنالیا تھا۔ لہذا اس وقت وہاں ان کی صحت کے سوا دنیا کا ہر ٹاپک زیرِ بحث لایا جاسکتا تھا۔ مختصراََ ان کی خیریت پوچھ کر موضوع گفتگو اب روٹین کی باتوں میں ڈھل چکا تھا۔

”کئی دن سے سوچ رہی تھی چکر لگاو ¿ں، لیکن بس پریشانی ہی کچھ ایسی تھی میں آنہیںسکی“۔ شاکرہ کے سادہ لفظوں میں تفکر نمایاں تھا ۔

”خیریت کیا ہوا؟ علینہ تو ٹھیک ہے نا؟“فریحہ اور نور دونوں نے ایک ساتھ پوچھا تھا۔ سمیر لاتعلق سا بیٹھا تھا پر دھیان اور کان دونوں انہی کی جانب تھے۔

”ہاں وہ تو ٹھیک ہے پر اس کی ماں کی طبیعت بہت خراب ہے“۔شاکرہ اماں نے دھیمی آواز میں بتایا۔ اس لہجے میں اولاد کا درد تھا۔

”اللہ رحم کرے کیا ہوا اسے“۔انصاری صاحب نے استفسار کیا۔

”گردے میں پتھری ہے ۔ ڈاکٹر نے آپریشن بتایا ہے“۔ان کی پریشانی چہرے اور لفظ دونوں سے عیاں تھی۔

” اللہ اپنا کرم کرے گا آج کل تو لیزر سے ہوجاتا ہے۔ لمبا چوڑا مسئلہ نہیں ہوتا“۔ڈاکٹر نور نے اپنے تئیں تسلی دی۔ ان کے نزدیک یہ واقعی اتنی بڑی تکلیف نہیں تھی۔ ہاں وقتی پریشانی ضرور تھی پر قابلِ علاج تھی لیکن یہ بھی سچ ہے اپنوں کی معمولی سی تکلیف کتنے درد کا باعث ہوتی ہے اس کا تازہ تجربہ وہ اور ان کا خاندان فقط چند گھنٹے پہلے کر چکے تھے۔

”وہ تو سب ٹھیک ہے پر اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہاں۔ ہسپتال دیکھے گی یا گھر۔ شوہر ملازم پیشہ ہے۔ نوکری چھوڑ کر بیوی کو ڈاکٹر پہ لے جائے یا بچے سنبھالے“۔شاکرہ نے وہی سب دہرادیا جو پچھلے تین چار دن سے ان کے گھر موضوعِ گفتگو تھا۔

”تو آپ چلی جائیں نا اس کے پاس اگر ممکن ہے تو یا پھر اسے یہاں بلالیں“۔فریحہ نے کندھے اچکا کر اپنی طرف سے مسئلہ ہی ختم کردیا تھا۔یہ آسان حل تھا۔

”وہی تو۔ مجھے ہی جانا پڑے گا وہ تو ابھی آنے سے رہی ایسی حالت میں۔ پھر وہاں علاج بھی اچھا ہوجاتا ہے۔ پر یہ علینہ دردِ سر بنی ہوئی ہے“۔شاکرہ نے آخری جملہ کچھ ایسے سنسنی خیز انداز میں کہا کہ وہاں موجود سب ہی چوکنے ہوگئے۔

”علینہ کا کیا مسئلہ ہے“۔ڈاکٹر نور نے ہمت کرکے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔

”سارا مسئلہ تو اسی کا ہے“۔فون پہ ٹیکسٹ پڑھتے سمیر نے سر اٹھا کر دیکھا۔

”صاف انکار کردیا دوہا نہیں جائے گی“۔ شاکرہ نے الٹے ہاتھ مار کر راز افشاں کیا۔

”اوہ“۔نور کے سینے سے ایک پرسکون سانس خارج ہوئی ان کے ذہن میں تو پتا نہیں کون کون سی ایکسٹریمز گھومنے لگی تھیں۔

”خیر وہ تو آسیہ بھی اس کے آنے پہ راضی نہیں تھی“۔اچانک شاکرہ کا لہجہ انتہائی مطمئن ہو چکا تھا۔

”پھر مین نے سوچا چلو اپنے باپ کے ہاں رہ لے گی۔ ایک مہینے کی تو بات ہے ساری“۔وہ مزید گویا ہوئی۔ وہ سب نہایت تحمل سے یہ گفتگو سن رہے تھے۔

”پھر تو مسئلہ حل ہوگیا“۔فریحہ فوراََ بولی۔

”باپ سے تو ویسے ہی چڑتی ہے۔ اس سے بات تک نہین کرتی سیدھے منہ۔ وہاں جانے سے بھی منع کر دیا“۔شاکرہ نے ایک اور بم پھوڑا ۔ منہ ایسے بنا ہوا تھا جیسے ابھی ابھی کوئی کڑوی گولی نگل لی ہو۔

”پھر اب کیا ہوگا؟“نورنے فریحہ اور ڈاکٹر انصاری کو فرداََ فرداََ دیکھا۔ سمیر البتہ اب بھی اپنے سیل فون پہ جھکا سوکر کھیل رہا تھا۔

”جوان لڑکی کو اکیلا چھوڑ کر کیسے چلی جاو ¿ں بیٹا۔ وہاں آسیہ کا آپریشن ہے اگلے ہفتے۔ ویزہ آیا رکھا ہے میرا لیکن علینہ کی وجہ سے جا نہیں سکتی“۔شاکرہ کے حالات میں یہ پریشانیوں کا انبار تھا۔ مسائل ہمیشہ وسائل کا منہ دیکھتے ہیں۔ ان پہ قابو پانے کی حیثیت اور طاقت سب میں انفرادی ہوتی ہے۔ بظاہر یہ چھوٹی سی بات شاکرہ کے حلق کا کانٹا بنی ہوئی تھی۔

”کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے میں پاگل ہوجاو ¿ں گی“۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائیں۔

”آنٹی آپ اس کو ہمارے گھر چھوڑ دیں نا“۔ فریحہ کی بات پہ جہاں نور اور انصاری صاحب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا وہیں سامنے بیٹھے سمیر کے چہرے پہ ناگوار تاثرات ابھرے۔

”کیوں ممی؟“معصومیت سے اس نے بال اب نور انصاری کے کورٹ میں پھینک دی تھی۔

”جی اگر آپ کو مناسب لگے تو ضرور“۔مرتا کیا نہ کرتا کے مترداف وہ اب یہی کہہ سکتی تھیں۔ سمیر نے خائف نظروں سے ماں کی طرف دیکھا پر انہوں نے قصداََ اسے دیکھنے سے گریز کیا۔

”میرے لئے جیسی فری، ویسی ہی علینہ بھی ہے“۔بات کوئی اتنی نامناسب بھی نہیں تھی۔ وہ دور کے ہی سہی پر اس شہر میں شاکرہ کے واحد رشتے دار تھے اور پھر ان حالات میں جبکہ وہ پریشان بھی تھی اپنے بہترین وسائل کی بدولت یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی کہ علینہ ایک ماہ ان کے گھر ٹھہرے۔

”بات تو تمہاری دل کو لگتی “۔شاکرہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔

”باپ کے گھر نا رہنے کی تو چلو وجہ ہے پر یہاں رہنے پہ کیا بہانہ کرے گی۔ اکیلے وہاں رہنے سے تو بہتر ہے بڑوں کے پاس رہ لے“۔وہ اسوقت خود ہی سوال وجواب میں لگی تھیں۔

”جی بالکل۔ میں خیال رکھوں گی“۔نور نے یقین دہانی کرائی۔

”کرتی ہوں بات، دیکھو جو مان جائے“۔ وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولیں۔

”مان جائے گی ان شاءاللہ۔ آپ پریشان مت ہوں “۔نور انصاری نے تسلی دی۔ حالانکہ تسلی کی ضرورت ماتھے پہ بل ڈالے سامنے بیٹھے ان کے برخودار کو تھی ۔شاکرہ کو رخصت کرتے وقت وہ نہیں جانتی تھیں علینہ کی اس گھر میں آمد اس گھر کے مکینوں پہ کس طرح بھاری پڑنے والی ہے۔

٭….٭….٭

”ممی ایک بات تو ہے، یہ شاکرہ آنٹی ہیں بہت مزے کی “۔فریحہ کا تبصرہ عجیب تھا۔وہ تینوں اسی طرف متوجہ تھے۔

”ان کی باتیں بہت فنی ہوتی ہیں نا۔ میرے لئے تو ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا ہے“۔ وہ اب تک ان کی باتوں کو انجوائے کر رہی تھی۔

”یہ ہے آج کل کی جنریشن کا حال، ہماری نانی کی عمر کی ہوں گی وہ۔ اور اس میڈم کو ہنسی آتی ان کی باتوں پہ“۔سمیر نے باقاعدہ شرم دلائی۔

”وہ تو پیار سے آتی ہے، میں کوئی مذاق تھوڑی نا اڑارہی ان کا“۔ فریحہ نے تصحیح کی۔

”پرانے وقتوں کی سادہ سی خاتون ہیں۔ دورِ حاضر کی بناوٹ نہیں ان میں“۔بیگم انصاری کے لبوں پہ ہمیشہ کی طرح آسودہ سی مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں سنجیدگی پرچہرے پہ حلیمی تھی۔ ٹی پنک اور مہندی رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں بالوں کو سمیٹے وہ سادہ سے حلیے میں بھی بہت خاص لگ رہی تھیں۔ ان کی شخصیت کا ٹھہراو ¿ ، ان کا دل میں اترتا لب و لہجہ، اس عمر میں بھی ان کا رنگ روپ دیکھنے والے کو جکڑ لیتا تھا۔ فریحہ ان سے قدرے مختلف تھی۔ وہ شکل و صورت اور عادات میں باپ پہ گئی تھی لیکن سمیر ان کا پرتو تھا۔ اس کی شخصیت ماں کی طرح گہری تھی۔

”ہماری نانی بھی ایسی ہی ہوں گی نا۔ سادہ اور کیوٹ“۔فریحہ کا لہجہ عام سا تھا۔ یونہی بات برائے بات کہا گیا تھا۔

”ہاں۔۔۔۔“نور انصاری کے لبوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔

”آپ نے تو کبھی ان کے بارے مین کچھ بتایا ہی نہیں ہمیں“۔ گفتگو کا رخ بدل چکا تھا۔فریحہ کے لہجے میں اشتیاق تھا۔

”کیا بتاتی۔ ان کی ڈیتھ ہوگئی تھی تمہاری پیدائش سے پہلے“۔نور انصاری نے پاس بیٹھے ڈاکٹر انصاری کو دیکھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اگلے ہی پل نظریں چرا لیں۔

”اوہ۔ کیسے ہوئی تھی ڈیتھ ، کیا کوئی بیماری تھی؟“وہ مزید بولی۔ اپنی دھن میں نہ تو اس نے ماں کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھا تھا نہ باپ کے سنجیدہ و پشیمان چہرے کو پر سامنے بیٹھے سمیر نے ان کے ہر ایکسپریشن کو نوٹ کیا تھا۔

”بہت موذی بیماری تھی“۔نور انصاری کی آواز بہت دور سے آئی تھی۔

”اوہ“۔فریحہ کے لبوں پہ انگریزی حرف ”او“ کا خم ابھرا تھا۔ اس کے چہرے پہ تاسف تھا۔

”اور نانا“۔پر بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

”ان کی ڈیٹھ کیسے ہوئی تھی؟“ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔

”وہ؟۔۔۔۔۔۔“بیگم انصاری اٹکی۔۔۔جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

”وہ تو مجھے بھی نہیں معلوم “۔آواز بہت دھیمی تھی۔ وہ گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھیں۔

”ڈونٹ ٹیل می۔ آپ کو یہی نہیں معلوم آپ کے پاپا کی ڈیتھ کیسے ہوئی۔ آپ بہت چھوٹی تھیں کیا؟“فریحہ شاکڈ تھی۔ اب بھلا یہ بھی کوئی بات تھی جو اس کی اتنی قابل، پڑھی لکھی اور ویل انفارمڈ ماں کو معلوم ہی نہ تھی۔ اس نے خود ہی وجہ دریافت کرلی تھی۔

”ہاں“۔نور انصاری نے تائید کی۔

”تو نانی نے نہیں بتایا آپ کو۔“سولات کا سلسلہ آزمائشوں کی طرح ختم ہی نہیں ہورہا تھا۔

”نہیں ۔ “جواب یک لفظی تھا۔

”وہ بہت کم گو تھیں۔ دل کی ہر بات ہر کسی سے نہیں کہتی تھیں“۔ان کے لہجے میں کرب تھا۔ اذیت تھی۔ درد تھا۔ پاس بیٹھے ڈاکٹر انصاری نے لب بھینچے۔ سمیر کا ذہن اس ساری صورتحال کو دیکھ کر چند دن پرانی ان دونوں کی گفتگو پہ جا رکا تھا۔

”ڈیڈ کی تو بہنیں بھی ہیں، آپ کا کوئی بھائی بہن نہیں ہے کیا؟“فریحہ نان اسٹاپ شروع تھی پر شائد سمیر کی برداشت ختم ہوگئی تھی۔ اتنا تو وہ صاف محسوس کرچکا تھا فریحہ کے سوالات اس کے والدین کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔ ممی کو ایک انداز میں تو ڈیڈ کو دوسرے ۔ پر وہ دونوں مضطرب ہیں، پریشان ہیں اور شائد پشیمان بھی۔ کمرے میں چار نفوس ہونے کے باوجود فریحہ کی گونجتی آواز کے ساتھ ایک نامعلوم اداسی اور خاموشی کا راج تھا۔

”تم ممی کا سارا شجرہ نسب اس ایک نشست میں معلوم کرو گی۔ توبہ ہے فری کتنا بولتی ہو تم ویسے“۔اس نے جیسے ان دونوں کو اس اضطراب سے چھٹکارہ دلوایا تھا۔

”میرا خیال ہے ممی آپ کو اس کے لئے ایک عدد گونگا شخص تلاش کرنا پڑے گا کیونکہ زبان والے کے ساتھ تو اس کا گزارہ مشکل ہوجائے گا“۔وہ یکدم بات کا رخ بدل چکا تھا کچھ اس انداز میں کہ فریحہ سب کچھ بھول کر اب اس کی طرف متوجہ تھی۔ اس کی کھنکتی آواز اور شرارتی لہجہ درو دیوار سے اداسی بھگا رہا تھا۔

”وہ کیسے؟“فریحہ کو واقعی سمجھ نہیں آئی تھی۔

”اس بیچارے کے حصے کا بھی تم ہی بول لیا کرو گی ۔ زبان والا تو یہ نا انصافی سہنے سے رہا۔“سمیر نے ہنسی دبائے چھیڑا اور فریحہ کا ہاتھ پاس پڑے صوفہ کشن تک گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے وہ کشن پوری قوت سے سمیر کو دے مارا تھا۔ سمیر نے ہنستے ہوئے کشن سہولت سے کیچ کیا اور پھر اسے بڑے مزے سے کمر کے پیچھے رکھ کر ٹیک لگالی۔ اس کی ہنسی فریحہ کو تپا رہی تھی وہ بخوبی جانتا تھا۔ فریحہ مٹھیاں بھینچتی الٹے سیدھے منہ بناتی پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ڈاکٹر انصاری نے دھیمی مسکراہٹ سے ان دونوں کو الجھتے دیکھا جبکہ نور انصاری اب تک اسی کیفیت میں بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ شائد وہ اس پل وہاں موجود نہیں تھیں۔

٭….٭….٭

انسان کو دنیا میں اگر کوئی شے سب سے زیادہ خوار کرتی ہے تو وہ محبت ہے۔ وہ تعلق ہیں جن سے ہم نا چاہتے ہوئے بھی امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور تمام عمر ان رشتوں سے نکلنے والی چاہت کی ایک ایک بوند آبِ حیات سمجھ کر پیتے ہیں یا پینا چاہتے ہیں۔ تعلق کی الجھی ڈور سلجھائے نہیں سلجھتی اور ہم اپنی انگلیاں زخمی کرتے نہیں تھکتے۔ لاکھ خود کو تاویلیں دیں، سب کو جھٹلایا، دل کو سمجھایا پر سچ تو یہ تھا کہ وہ ماں اور باپ دونوں سے یکساں محبت کرتی تھی۔ وہ دونوں اس کے وجود کی اساس تھے اور وہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی تھی۔ آسیہ ہزاروں میل دور تکلیف کے جس مرحلے سے گزر رہی تھی اس درد کو علینہ اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی ۔ساتھ کمرے میں بیٹھے خاور کی نم آنکھوں کی بوچھاڑ نے علینہ کی ناراضی کی دیوار میں چھید کیا تھا۔ اس کے چہرے پہ لکھی اذیت نے اس کی روح کو چھلنی کیا تھا۔ اس سے ایک نظر ملا کر سرسری سا سلام کرکے وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے بے وجہ باورچی خانے میں چلی آئی تھی۔ نانی اور خاور دونوں کمرے میں بیٹھے تھے اور ان کی آوازیں وہ بآسانی سن سکتی تھی۔ وہ اس وقت باپ کی گھر آمد کے مقصد سے واقف تھی ۔ وہ نانی کے ساتھ ماں کے پاس دوہا نہیں جانا چاہتی تھی اور وہ اسے یہاں اکیلا چھوڑنے پہ راضی نہ تھیں ۔ وہ باپ کے ساتھ نہ جانے کی ضدلئے بیٹھی تھی پر شاکرہ بھی ایک فیصلہ کر چکی تھیں ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے اپنی ضد کو باپ کے آنسوو ¿ں کے سامنے ہتھیار ڈالتا محسوس کیا تھا۔

”آسیہ کا آپریشن ہے اور مجھے کل پرسوں تک لازمی اس کے پاس جانا ہے۔اسے میری ضرورت ہے“۔ شاکرہ نے بلا تمہید خاور کو اصل بات سے آگاہ کیا تھا۔ وہ جو سر جھکائے بیٹھا تھا ان کی آواز پہ چونکا۔ کچھ حیرت اور بہت سا تاسف چہرے پہ در آیا تھا۔ پھر جس طرح چہرہ اٹھایا اسی طرح جھکا لیا۔ نگاہیں ایک بار پھر جوتوں پہ ٹکی تھیں۔

”علینہ جانے سے انکار کر رہی ہے۔ اکیلی لڑکی کو یہاں چھوڑ کر جانا ٹھیک نہیں لگتا۔ تم اسے ایک ماہ کے لئے اپنے گھر لے جاو ¿“۔ وہ بس منٹوں میں اصل مدعے کی طرف آگئی تھیں۔ اندر باورچی خانے میں کھڑی علینہ کا پورا وجود کان بنا ہوا تھا۔ پچھلے تمام سالوں میں وہ باپ کی اپنے لئے بے چینی، پرواہ اور محبت کو محسوس کرچکی تھی لیکن اس تمام عرصے میں اس نے ایک بار بھی علینہ کو اپنے ساتھ رکھنے کی فرمائش نہین کی تھی ۔ آسیہ اور شاکرہ ، دونوں ہی اس کے وہاں جانے پہ راضی نہ تھے پر اب تو یہ مدعا خود شاکرہ نے چھیڑا تھا۔ وہ خاور کے جواب کی منتظر تھی۔ یقینناََ یہ سن کر اس کی باچھیں کھل جائیں گیں۔ وہ پھولے نہیں سمائے گا۔ مارے خوشی کے اس سے بولا نہیں جائے گا۔ علینہ نے ساس پین میں پانی ڈالا اور چائے بنانے لگی۔ وہ خاطرداری جو آج سے پہلے کبھی اپنے بابا کے لئے نہیں کی تھی وہ آج کرنا چاہتی تھی۔ اسے بس چائے ہی بنانی آتی تھی۔ اپنا وجود جو اب تک بے مول لگتا تھا اچانک اس کی اہمیت اور حیثیت محسوس ہونے لگی تھی۔قدموں تلے پتھر کے فرش کی جگہ سرخ مخملی قالین آبچھا تھا۔

”میں علینہ کو کہاں رکھوں گا ماں جی؟“ ایک ساتھ بہت کچھ ٹوٹا تھا۔ خواب، مان، اعتماد، دل۔

”رخشندہ کی طبیعت مختلف ہے۔ وہ اباجی کو بڑی مشکل سے برداشت کرتی ہے اور علینہ کے لئے۔۔۔۔۔“ خاور نے ایک گہری سانس لی اور کم لفظوں میں اپنی مجبوری کہہ سنائی۔ شاکرہ اور علینہ دونوں نے اس کے نامکمل جملے کو مکمل سمجھا تھا۔ وہ سب جو وہ کہہ نہیں پایا تھا وہ دونوں سمجھ چکی تھیں۔ کمرے کے صوفے پہ بیٹھی شاکرہ کے چہرے پہ ملامت تھی ۔ خاور نے سر جھکالیا۔باورچی خانے میںکھڑی علینہ کے قدموں تلے بچھا مخملی قالین پوری قوت سے کھینچ لیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ منہ کے بل گر جاتی اس نے خود کو بچانے کی خاطر کاو ¿نٹر ٹاپ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا تھا۔

”ڈاکٹر انصاری میرے قریبی رشتہ دار ہیں۔ علینہ ایک مہینہ ان کے گھر رہے گی“۔ اس نے پوچھا نہیں بتایا تھا۔ دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ خاور یا علینہ کو اگر شاکرہ سے کسی ملامت ومذمت کی توقع تھی تو وہ غلط تھے۔ ایک موہوم سی امید تھی جس کے ٹوٹنے پر اس نے فوری طور پہ پلان بی سامنے رکھ دیا تھا ۔

”آپ کو مناسب لگتا ہے تو میں اعتراض کرنے والا کون ہوں“۔خاور کی شرمندہ آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ ساس پین میں رکھا پانی ابل ابل کر آدھا ہوگیا تھا اور وہ اس میں پتی ڈالنا بھول گئی تھی۔ لب کاٹتے غصے سے اس نے ساس پین کو چولہے سے اتارا پر ذہن اتنا منتشر تھا کہ اسے ہینڈل سے پکڑنے کے بجائے گرما گرم سائیڈ سے پکڑ لیا ۔ نرم و نازک انگلیاں دہکتی بھٹی میں جھونک دی تھی جیسے۔ ایک آگ اندر لگی روح کو سلگا رہی تھی دوسری باہر جسم کو جلا رہی تھی اور اس کے اندر کی ضدی سر پھری علینہ نے وہاں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا تھا ۔

٭….٭….٭

شاکرہ نے فون پہ بیگم انصاری کو تفصیلاََ سب بتا دیا تھا۔ انہوں نے خوشدلی سے علینہ کو اپنے ہاں ٹھہرنے پہ ویلکم کہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ شاکرہ کو پوری طرح تسلی و تشفی دی تھی کہ وہ اس کا خیال رکھیں گیں۔ کل ان کی لاہور سے دوہا کی فلائٹ تھی اور کل ہی سمیر بھی واپس لاہور جارہا تھا ۔ انہوں نے ائیر پورٹ تک شاکرہ کو پہنچانے کی ذمہ داری بھی سمیر سے بناءپوچھے اسی پہ ڈال دی تھی۔ سمیر نے خاموشی سے اثبات سے سر ہلا یا تھا ۔ وہ اس سے اسی فرمانبرداری کی امید رکھتی تھیں۔

”ویسے ممی کتنا مزا آئے گا نا علینہ کے یہاں آنے سے“۔ فریحہ کو پتا چلا تو وہ کافی ایکسائیٹیڈ تھی۔ اس کے لئے جیسے ایک لگی بندھی زندگی میں تبدیلی اورہیجان دکھائی دینے لگا تھا۔

”پرائی بچی کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے بیٹا۔ اللہ ہمیں سرخرو کرے“۔ڈاکٹر نور نے ابھی ابھی فون پہ بات ختم کی تھی۔ وہ فریحہ کے برعکس سنجیدہ اور گہری سوچ میں تھیں۔ ان کا کہنا غلط بھی نہیں تھا یہ ایک بڑی ذمہ داری تھی اور اگر فریحہ یہ راستہ شاکرہ کو نہ سجھاتی تو وہ خود کبھی ایسی آفر نہ کرتیں پر اب جو بھی تھا انہیں یہ فرض پورا کرنا تھا۔ دوسرے شاکرہ کی مدد کرکے انہوں نے ان کے ساتھ بھلائی ہی کی تھی اور اس سوچ نے ان کے دل پہ دھرا بوجھ اتار دیا تھا۔

”آپ کو پتا ہے نا مجھے ہمیشہ سے بہن کا کتنا شوق تھا۔ علینہ کے ساتھ زبردست کمپنی رہے گی“۔وہ بالکل بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی اس بات سے قطع نظر کہ اس کے اردگرد بیٹھے لوگوں کے ذہنوں میں کیا کشمکش جاری ہے۔

”اس کی کمپنی صرف آپ کو مخبوط الحواس کر سکتی ہے۔ مجھے تو تمہاری طرف سے پریشانی ہو رہی ہے“۔پاس بیٹھے سمیر نے لقمہ دیا۔ اس کے لئے اب تک یقین کرنا مشکل تھا کہ علینہ میڈم کی سواری انصاری ہاو ¿س میں اترنے والی ہے۔

”آپ کچھ زیادہ روڈ نہیں ہورہے اس بیچاری کے لئے۔ پلیز ڈونٹ بی بائیس(برائے مہربانی متعصب نہ ہوں)۔ معصوم سی تو ہے“۔فریحہ کو اس کا تبصرہ اچھا نہیں لگا تھا اور وجہ کیا تھی وہ پہلے سے جانتی تھی ۔ اسے لگ رہا تھا سمیر ایک حادثے کو سانحے کا روپ دے رہا ہے جو کہ اس کی زیادتی ہے۔

”اللہ بچائے ایسے معصوموں سے ۔ “سمیر نے جھرجھری لی۔وہ اب اپنی ممی سے مخاطب تھا۔

”آپ کے گھر تو مہمان آرہے ہیں ممی تو میں ڈی سی ہاو ¿س ہی شفٹ ہوجاو ¿ں گا“۔ وہ علینہ جو ایک نہیں دو بار اس کی خفت کا سامان کرچکی ہے۔اس کی بوکھلاہٹ اور بدحواسی سمیر کو جس طرح ایمبیرس (شرمندہ) کرچکی تھی یہ سب اسے علینہ سے بدگمان کرنے کو کافی تھا ۔ وہ نہ چاہ کر بھی اس بیوقوف لڑکی کے متعلق سوچنے لگا تھا جس پہ عام حالات مین ایک سے دوسری نظر ڈالنا بھی شائد وہ گوارا نہ کرتا۔

”کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی۔ وہ کون سا ہمیشہ کے لئے آرہی ہے۔ ایک مہینے کی تو بات ہے اور اتنا وقت تو ڈی سی ہاو ¿س ری فرنیش ہونے میں لگ جائے گا“۔ بیگم انصاری نے گھرکا۔ اب کیا اچھا لگتا ایک مہمان کے آنے پر بیٹا گھر سے چلا جائے وہ بھی اس صورت جب اس کی رہائش کا انتظام بھی مکمل نہ ہو۔

”پھر ہوٹل چلے گا، ریسٹ ہاو ¿س تو پہلے سے موجود ہے ۔پر میرا یہاں گزارا نہیں “۔جواب فوراََ آیا تھا۔ وہ سب سوچ کر بیٹھا تھا۔نور اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئیں۔

”اپنا گھر چھوڑ کے جائیں گے۔ حد ہے ایک بیس سال کی لڑکی سے ڈر رہے ہیں“۔ان سے پہلے فریحہ نے جواب دیا تھا۔ بات ایسی تھی سمیر کو آگ لگا گئی تھی۔

”ایکسکیوز می، ڈرنے والی بات کہاں سے آگئی۔ ڈرتا ورتا نہیں ہوں میں کسی سے۔ بس میرا موڈ نہین کسی ایرے غیرے کو منہ لگانے کا“۔اس نے فوراََ زرہ بکتر پہنی۔ اپنے ڈیفینس کے لئے یہ ضروری تھا۔

”تو منہ کنٹرول مین رکھئے گا نا “۔ فریحہ بھی بغیر سوچے سمجھے شروع ہوگئی تھی۔

”فریحہ!“سمیر نے لب بھینچے پر ڈاکٹر نور سے برداشت نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا۔

”سوری ممی“۔اپنی نامناسب بات پہ فریحہ نے لب کاٹتے فی الفور معافی مانگی ۔

”بیکار کی بحث مت کرو سمیر، کوئی کہیں نہیں جائے گا میں نے کہہ دیا ہے“۔ڈاکٹر نور نے اس کی معافی کو یکسر نظر انداز کیا ان کا مخاطب اب سمیر تھا۔ وہ دو ٹوک انداز میں بولیں اور یہ اب بحث کا اختتام تھا۔

”اوکے باس، آپ کہتی ہیں تو نہیں جاتے، یہیں کہیں کسی کونے میں چھپ جائیں گے اپنی عزت بچاتے“۔اس نے تابعداری سے سر کو ہلکا

سا خم دیا۔آخری جملے پہ جہاں نور انصاری کے لبوں پہ مسکراہٹ در آئی تھی وہیں فریحہ کا اترا ہوا منہ بھی جھلملانے لگا تھا۔

٭….٭….٭

چاندنی میں بھیگی سیاہ رات کا ارتکاز ہولے ہولے شہر کو اپنی آغوش میں لے رہا تھا۔ کھڑکی کے پردے سے چھن کر آتی چاند کی کرنیں کمرے کے اندھیرے میں شگاف ڈال رہی تھیں۔ دونوں ہاتھ گود میں رکھے وہ بیڈ کراو ¿ن پہ سر ٹکائے سن بیٹھی تھی۔ چاند کی کرنیں اس کے دودھیا چہرے پہ رنگ برسارہی تھیں۔ آنسو رخسار بھگوئے تواتر سے بہہ رہے تھے۔ اپنے کمرے کی تنہائی میں یہ اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا سو اب بھی جاری تھا۔اس گھر میں یہ اس کی آخری رات تھی اور کل صبح نانی کی دوہا روانگی کے ساتھ اسے ایک ماہ کے لئے انصاری ہاو ¿س شفٹ ہونا تھا۔ خاور سے دل نے پہلی بار ٹوٹی پھوٹی ہی سہی ، امید نے سر اٹھایا تھا کہ وہ بے تحاشہ محبت اور حق سے اسے زور زبردستی اپنے گھر لے جائے گا۔ وہ لاکھ کہے گی اسے بابا کے ساتھ نہیں جانا پھر مان بھی جائے گی ۔۔۔پر نروٹھے پن سے اسے انکار کرے گی لیکن وہ اس کی ایک نہ سنے گا اور ہاتھ پکڑ کے گھر لے جائے گا۔ اور وہ پہلا گھر ہوگا جہاں علینہ حق سے قدم رکھے گی۔ وہاں احسان اور مہربانی کا سایہ نہیں ہوگا۔ وہ اس کے باپ کا گھر ہوگا جہاں وہ پورے وثوق سے اعتماد اور مان کے ساتھ سر اٹھا کر رہ پائے گی۔ اسے مہربانی اور احسانات گنوانے والی نانی نہیں ہوگی۔ اسے مراعات دے کر طنز کرنے والا سوتیلا باپ نہ ہوگا۔پر خاور کے انکار نے اسے عرش سے فرش پر لاکھڑا کیا تھا۔ امید کے ساتھ دل بھی ٹوٹا تھا۔ دل کے ساتھ روح بھی چھلنی ہوئی تھی۔ روح کے ساتھ انا پہ بھی چوٹ پڑی تھی اور انا کے ساتھ ضد بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھی۔ اس نے شاکرہ کے فیصلے سے اختلاف نہیں کیا تھا اور یہ فیصلہ اس نے باورچی خانے میں کھڑے خاور کی بات سننے کے بعد کیا تھا کہ اب اگر نانی اسے کالا پانی بھی جانے کو کہے گی، وہ وہاں بھی چلی جائے گی ۔ نل کھول کر اپنی جلتی سرخ انگلیوں کو بھگوتے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اس کی تکلیف جسمانی ہے یا ذہنی۔ آنسو اب بھی تواتر سے بہے جارہے تھے اور وہ نہیں جانتی تھی اس پل یہ آنسو بہہ کیوں رہے ہیں۔ انگلیاں جلنے کی تکلیف زیادہ ناقابلِ برداشت ہے یا اپنی اوقات جاننا زیادہ تکلیف دہ ہے۔

٭….٭….٭

صبح روشن اور چمکدار تھی۔ سورج کی تیز روشنی کرہِ زمین کو ابھی سے دہکانے لگی تھی۔ گرما کے اوائل میں درجہ حرارت تیزی سے اوپر جارہا تھا ۔ انصاری ہاو ¿س کے ڈرائیو وے پہ کھڑی سیاہ چمکتی کار میں ملازم سمیر کا سامان ٹرنک میں رکھ رہا تھا۔ وہ خود گھر کے داخلی دروازے پہ دونوں ہاتھ نیلی ڈینم جینز کی جیبوں میں ڈالے کھڑا تھا۔ سیاہ پولو شرٹ کی آدھی آستینوں سے جھانکتے اس کے کسرتی بازو جن پہ بال بہت کم تھے ۔ وہ اس رف حلیے میں بھی مکمل لگ رہا تھا۔ دھوپ سے بچاو ¿ کے لئے آنکھوں پہ سیاہ سن گلاسز لگائے اس کی نظریں مین گیٹ پہ مرکوز تھیں جو اس پل کھلا ہوا تھا ۔ اسی پل دروازے سے شاکرہ کی سنگت میں وہ داخل ہوئی۔ زہر موہرے رنگ کی پرنٹڈ شارٹ شرٹ اور ملک وائٹ تنگ ٹراو ¿ز کے ساتھ اسی رنگ کا بڑا سا سوتی دوپٹہ اوڑھے جس سے اس نے اپنا سر بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ کندھے پہ سیاہ شولڈر بیگ تھا اور ایک دستی بیگ جس میں اس کا سامان بھرا تھا دائیں ہاتھ سے تھامے وہ سر جھکائے چلی آرہی تھی۔ اردگرد سے بے نیاز اس نے ایک بار بھی گھر یا اپنے گردونواح کو نہیں دیکھا تھا۔ سمیر کے ماتھے پہ چند بل اس کی ناگواری کا واضح ثبوت تھے ۔ نپے تلے قدموں سے چلتا وہ اب گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ شاکرہ نے ملازم سے کچھ کہا تو وہ رکشے سے اس کا سامان نکالنے باہر چلا گیا جبکہ وہ خود اب سمیر کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ مسکراہٹ کے جواب میں مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا تھا۔ اسے یکسر نظر انداز کئے سمیر نے شاکرہ کو سلام کیا ۔ انہوں نے جواب میں ڈھیروں دعاو ¿ں سے نوازا۔ علینہ نے ایک بار بھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ وہ تو بس اس پل ایک ہی نقطہ پہ سوچ رہی تھی۔

”جنہیں ماں اور باپ نہ قبولیں انہیں یونہی دنیا میں دربدر گھومنا پڑتا ہے“۔ قنوطیت کا یہ دورہ اسے آج صبح ہی پڑا تھا۔ جب پہلی بار رکشے میں بیٹھتے ہوئے اس نے باپ کے انکار سے ہٹ کر سوچا تھا۔ وہ اس اجنبی گھر میں جارہی تھی ۔ ان لوگوں سے تو کچھ دن پہلے اس کا کوئی تعارف بھی نہ تھا اور پھر پہ در پہ وہ دونوں واقعات اسے عجیب سی شرمندگی اور گھٹن ہورہی تھی لیکن اب اس میں مزاحمت کا حوصلہ نہیں تھا۔ وہ تھک گئی تھی سب سے لڑتے لڑتے، خود سے لڑتے لڑتے۔۔۔۔اس نے کل رات جو ہتھیار ڈالے تھے وہ ہار اسے آج صبح تک شدید ڈپریشن میں لے گئی تھی۔ ڈاکٹر نور انصاری اور فریحہ بھی اب وہاں آچکے تھے جبکہ کچھ دیر پہلے ڈاکٹر انصاری اسپتال جاچکے تھے۔ فریحہ اور نور علینہ کی خاطر وہاں موجود تھیں۔

”آپ بے فکر ہوکر جائیں، یہ اب میری ذمہ داری ہے“۔ نور انصاری نے علینہ کو خود سے لگاتے شاکرہ کو تسلی دی۔ ان کے لہجے میں وہی نرمی تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔ ان کے لفظوں میں وہی خلوص تھا جو ہر بار ہوا کرتا تھا ۔ وہ سب سے اسی طرح بات کرتی تھیں لیکن اس پل ان کے سینے سے لگی علینہ کو عجیب سی اپنائیت کا احساس ہوا تھا۔ ان کے وجود کی حرارت میں چاندنی سی ٹھنڈک تھی۔ اسے لگا وہ اس خوشبو سے بہت پہلے سے واقف ہے۔ یہ لمس اس کے لئے اجنبی نہیں ہے۔ بس چند سیکینڈ ہی انہوں نے اسے لپٹائے رکھا تھا پر علینہ کو کسی بہت اپنے کا خیال آیا تھا۔

”تم نہ بھی کہتی پھر بھی جانتی ہوں تم اس کا خیال رکھو گی۔ یقین جانو بہو اس وقت تمہارے ساتھ نے مجھے کتنا حوصلہ دیا ہے“۔ ان کا ہر لفظ خلوص و تشکر کا آئینہ تھا۔ اس پل یہ گھر، ان لوگوں کا ساتھ عطائے ربی تھا ۔ وہ اگر لڑ جھگڑ کر زور زبردستی علینہ کو خاور کے سپرد کر بھی جاتیں تو اللہ جانے وہاں اس کی دوسری بیوی لڑکی کا کیا حشر کرتی لیکن اب تو وہ پرسکون تھیں۔ اور یہ سب انصاری خاندان کی بدولت ممکن ہوا تھا۔

”اپنے کس لئے ہوتے ہیں آنٹی۔ “ ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔ علینہ بغور اس چہرے کو کھوجتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ناجانے کیوں نور انصاری کے گلے لگ کر اس کا اضطراب ختم نہ سہی پر کم ہوا تھا۔

”آپ کو اب نکلنا چاہیئے، فلائیٹ سے تین گھنٹے پہلے ائیر پورٹ پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ سمیر آپ کو اندر تک گائیڈ کردے گا“۔ سمیر کو گھڑی پہ نظر ڈالتے دیکھا تو خود انہیں بھی وقت گزرنے کا احساس ہوا تھا ۔ وہ اب باری باری سب سے مل رہی تھیں۔فریحہ اور نور کو جی بھر کر دعائیں دیں۔ علینہ کو چند نصیحتیں کیں ، وہی سارا سبق جو اسے تمام راستے طوطے کی طرح پڑھاتی آئیں تھیں ایک بار پھر سب کے سامنے دہرایا گیا۔ وہ لب کاٹے خاموشی سے سنتی رہی۔اس گھر میں آنے سے پہلے اس کا تعارف کتنا ناخوشگوار اور منفی تھا وہ اس سے باخبر تھی لیکن ان تینوں کی پرواہ کئے بغیر شاکرہ نے علینہ کو لاوبالی پن، حماقتوں اور ہٹ دھرمی کرنے سے جس طرح منع کیا تھا وہ بہرحال حد تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ وہاں سے بھاگ جاتی لیکن اس وقت تو بس زمین میں گڑ جانا چاہتی تھی۔ اگلے چند منٹوں میں سمیر اور شاکرہ لاہور کے لئے روانہ ہوچکے تھے ۔ علینہ کی آنکھوں سے آنسوو ¿ں کی چند بوندیں ٹپ ٹپ گریں ۔ بے دردی سے آنکھیں رگڑتے اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کیا ۔ کئی سال بعد وہ ایک بار پھر دربدر ہوگئی تھی۔

٭….٭….٭

دروازے پہ ہونے والی مخصوص دستک پہچانتے ہوئے فاطمہ نے دروازہ کھولا۔ سفینہ چادر کے پلو میں ہاتھ چھپائے تیزی سے اندر داخل ہوئی اور کھوجتی نظروں سے گھر کا جائزہ لیا۔فاطمہ کو اس کے چہرے پہ پریشانی اور خوف ایک ساتھ نظر آئے۔

”تمہارے ابا کہاں ہیں؟“ وہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔جواباََ فاطمہ نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ ایک گہرا سانس لیتی سفینہ تقریباََ بھاگتی ہوئی دوسرے کمرے میں جاگھسی۔

”کیا ہوا امی سب خیریت ہے نا۔ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟“ وہ بھی ماں کے پیچھے چلی آئی تھی۔ ماں کی گھبراہٹ دیکھ کر اس پہ وحشت طاری ہورہی تھی۔ سفنہ نے لبوں پہ انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کو کہا۔

”اسکول میں کمیٹی ڈالی تھی میں نے۔ اگلے ہفتے تمہاری داخلہ فیس دینی ہے نا اور پھر امتحان کے بعد تمہارا ایڈمیشن بھی تو کرانا ہے یونیورسٹی میں ۔ بس میں نے اسی لئے چپکے سے ڈال رکھی تھی کہ پیسوں کی ضرورت پڑے گی“۔فاطمہ کا ایف ایس سی کا داخلہ جانا تھا۔ وہ ایک لائق اسٹوڈنٹ تھی، ان نامساعدہ حالات میں بھی دل لگا کر اور بہت محنت سے پڑھ رہی تھی۔ ایڈمیشن بھیجنے کی آخری تاریخ سر پہ تھی لیکن ماں کا خالی بٹوہ اور باپ کی ڈانٹ پھٹکار نے لب سی دئیے تھے۔ اس کی دو سال کی شدید محنت داو ¿ پہ لگی تھی پر وہ خاموش تھی لیکن سفینہ بیٹی کی آنکھوں میں ابھرتا خاموش سوال پڑھ رہی تھی۔ چادر کے پلوں سے ہاتھ نکال کر اس نے چند نوٹ فاطمہ کی طرف بڑھائے۔ اسے ماں پہ سچ میں پیار آیا تھا۔ ان سخت حالات میں بھی وہ کس طرح ان کی ضروریات کا خیال رکھے ہوئے تھے۔ جبکہ ان کی کلاس میں تو یہ سب ضرورت سے کہی بڑھ کر عیاشی کے زمرے میں آتا تھا۔ جس عورت کا مرد کما کر لانے کی بجائے اس کی کمائی بھی جوئے میں اڑا آئے اس کی آنکھوں میں بیٹی کی اعلی تعلیم کا خواب دنیا والوں کی نگاہ میں بھی کانٹا بن کر چبھتا ہے۔

”داخلے کے پیسے الگ کرلو صبح جمع کرادینا اور باقی پیسے وہاں چھوٹی پیٹی میں چھپا دو۔ خیال رکھنا ابا کو پتا نہ چلے“۔ اس نے رازداری سے کہتے مٹھی مین دبائے نوٹ فاطمہ کی طرف بڑھائے پر اس سے پہلے کہ فاطمہ وہ پیسے پکڑتی کمرے کا دروازہ لات مار کر کھولا گیا تھا۔ طنزیہ ہنسی ہنستا وہ بس ایک جست میں اس کے سر پر آکھڑا ہوا تھا۔ سفینہ اور فاطمہ دونوں ہی کا سانس خشک ہوگیا تھا۔

”بڑے پیسے اکٹھے کرلئے ہیں“۔ اس نے ہاتھ مار کر نوٹ چھین لئے تھے۔

”شہباز یہ فاطمہ کے داخلے کے پیسے ہیں“۔ وہ تڑپ کر بولی۔وہ چہرے پہ تمسخر لئے اب ایک ایک نوٹ گن رہا تھا۔

”پیسے پہ پیسہ ضائع کر رہی اس کی پڑھائیوں پہ، کچھ مجھے بھی دے دے تجھے ڈبل کرکے لوٹا دوں گا“۔ وہ اگر بے غیرت تھا تو پرلے درجے کا تھا، ٹھگ تھا تو اول نمبر کا تھا اور بے حس تھا تو شدید قسم کا تھا۔ پیسے گن کر وہ اپنی جیب میں ڈال چکا تھا۔ فاطمہ میں تو خیر ہمت نا تھی اس سے الجھنے کی پر سفینہ نے آگے بڑھ کر اس کی جیب سے روپے نکالنے کی کوشش کی۔

”یہ میری سال بھر کی بچت ہے میں تمہیں اسے برباد کرنے نہیں دوں گی“۔ شہباز نے اس کا ہاتھ تھاما اور ایک جھٹکے سے پرے دھکیلا۔ فاطمہ بت بنی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کے دیکھتے ہی دیکھتے شہباز نے دو تین زوردار تھپڑ سفینہ کے منہ پر مارے۔ وہ چکرا کر فرش پہ گری۔ فاطمہ اسے اٹھانے کو آگے بڑھی تو شہباز نے دونوں کو ٹھڈے مارنا شروع کردیئے۔ وہ روتی رہیں، چیختی رہیں اور جب یہ تسلی کرچکا کہ سفینہ مار کھا کر بے ہوش ہوچکی ہے تو بڑبڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ فاطمہ نے سفینہ کے بے ہوش وجود کو اٹھا کر بمشکل چارپائی پہ ڈالا اور پھر بغیر سوچے سمجھے روتی بلکتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

٭….٭….٭

”امی“۔ اپنے پھولے ہوئے تنفس کے ساتھ وہ بمشکل یہ لفظ کہہ پائی تھی۔

”کیا ہوا انہیں؟“ ڈاکٹر زبیر اپنے کلینک سے نکل کر اس وقت ایمرجنسی کا راو ¿نڈ لینے جارہا تھا۔ سامنے سے آتی بدحواس فاطمہ کو ایک سال بعد دیکھ کر بھی پہچان گیا تھا۔

”وہ۔۔۔۔وہ بیہوش ہوگئی ہیں“۔ اس نے روتے ہوئے کہا۔ اس نے سوچنے کے لئے ایک منٹ بھی نہیں لیا تھا۔وہ خود بھی اچھا خاصا پریشان لگ رہا تھا۔

”میں چلتا ہوں ساتھ“ ۔ اگلے چند منٹ میں وہ اپنا میڈیکل بیگ لے کر فاطمہ کے ساتھ اس کے گھر کے راستے پہ سفر کررہا تھا۔

” ڈونٹ وری انہیں کچھ نہیں ہوگا“۔گاڑی کی پیسنجر سیٹ پہ بیٹھی فاطمہ مسلسل رو رہی تھی۔ زبیر کی تسلی نے بھی اس تسلسل کو نہیں توڑا تھا۔

”آپ رونا تو بند کرو“۔ اسے فاطمہ کے آنسو ڈسٹرب کر رہے تھے۔وہ اب بھی سر جھکائے روئے جارہی تھی۔

”پلیز“۔اس بار لہجہ التجائیہ تھا۔ فاطمہ نے چہرہ موڑ کر دیکھا۔ ڈھیروں پانی اور سرخ ڈوروں کے باوجود اس کی بڑی بڑی ہلکی بھوری آنکھوں کی دلکشی دیدنی تھی۔ وہ یک ٹک فاطمہ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور شائد دیکھتا رہتا اگر فاطمہ اپنی سیاہ چادر سے رگڑ کر آنسو نہ پونچھتی۔

”تھینکس“۔ وہ دھیمے لہجے میں بولا۔ یہ اظہارِ تشکر فاطمہ کے سر پہ سے گزر گیا تھا ۔وہ اسے الجھی نظروںسے دیکھ رہی تھی لیکن وہ اپنی نگاہیں سڑک پہ مرکوز کرچکا تھا۔

٭….٭….٭

سفینہ کو ہوش میں لانے کی اپنی سی کوشش کرنے کے بعد اس اچانک افتاد پہ اسے اور تو کچھ نہ سوجھا بس ٹیپو کو ماں کے پاس چھوڑ کر وہ ڈسٹرکٹ اسپتال چلی گئی۔خوش قسمتی سے ڈاکٹر زبیر وہاں موجود تھا اور اس سے سامنا بھی راہداری میں ہوگیا تھا۔ بناءوقت ضائع کئے وہ اس کے ساتھ ان کے گھر پہنچا تھا ۔ چوٹیں تو فاطمہ کے بھی لگی تھیں پر اس وقت مدد کی ضرورت سفینہ کو تھی ۔ فوری طبی امداد سے وہ جلد ہوش میں آگئی تھیں۔ اچھی سی مرہم پٹی کرکے اور اسے پین کلر دینے کے بعد اس نے صاف اور دوٹوک الفاظ میں سفینہ پہ تشدد کرنے والے اس کے شوہر کے متعلق پوچھا تھا۔ راستے میں فاطمہ سے وہ تمام تفصیلات پوچھ چکا تھا۔ جھگڑا اور اس کی وجہ ۔۔۔۔۔وہ سب جانتا تھا۔

”آپ بات کو گھما پھرا کر جہاں لے جارہے ہو میں وہاں جانا نہیں چاہتی“۔سفینہ نے ایک بار پھر پہلو بچایا۔

”آپ کو نہیں لگتا آنٹی، آپ خود سے زیادہ اپنی اولاد کے ساتھ زیادتی کر رہی ہیں“۔ اس کا لہجہ اس بار سخت تھا۔

”کس گھر میں والدین کے درمیان جھگڑا نہین ہوتا۔ تو کیا ان سب بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے“۔ سفینہ نے دفاع کیا۔

”جھگڑے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ان میں ہاتھ پاو ¿ں نہیں ٹوٹتے“۔ وہ کچھ دھیما پڑا تھا۔

”جس طرح اسوقت بھی آپ کے چہرے پہ نظر آنے والے یہ نیل اور پھٹا ہوا ہونٹ محض اتفاق ہے۔ شائد آپ کا پاو ¿ں دوبارہ پھسل گیا ہوگا“۔سفینہ کچھ کہہ نہیں پائی۔ فاطمہ پاس کھڑی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔

”ذرا سوچیں، کل اگر آپکی بیٹی کا شوہر اس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرے تو کیا اسے بھی آپ کی طرح ان باتوں پہ پردہ ڈالنا چاہیئے؟“زبیر نے مزید کہا۔

”اللہ نہ کرے میری فاطمہ کا نصیب میرے جیسا ہو“۔وہ فی الفور بولیں ۔ آواز میں خوف تھا۔

”اور کیا کبھی سوچا ہے آپ کا بیٹا جو اپنے والد کو دیکھ کر سیکھ رہا ہے کل اگر اس نے بھی اپنی شریکِ حیات کے ساتھ یہی سلوک کیا تو پھر آپ کیا کریں گیں؟ “ سفینہ نے لب کاٹے۔ یہ بے بسی کی انتہا تھی کہ کٹہرے میں کھڑا مجرم کوئی اور نہیں خود وہ تھی۔ یہ ظلم وہ فقط اپنے ساتھ نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان پہ کر رہی تھیں۔

”فقط دعاو ¿ں پہ اکتفا کرنے کی بجائے اگر آپ اپنی بیٹی کو یہ سیکھ دیں کہ ظلم کے آگے سر نہیں جھکانا ، ظالم کا مقابلہ کرنا ہے اور کسی بھی رشتے کو اپنا استحصال نہین کرنے دینا تو شائد اس کی زندگی آپ سے بہتر گزرے“۔ ڈاکٹر زبیر سمجھانے کے سوا شائد اور کچھ نہین کرسکتا تھا۔

”آپ جیسی پڑھی لکھی خاتون جو خود پہ جبر کرکے اپنے بچوں اور گھر کا بوجھ خود اٹھارہی ہو اسے تو بہت ہمت و حوصلے والا ہونا چاہیئے۔ عزتِ نفس کا سبق تو ہمیں ہمارے استادوں نے ہی سکھایا ہے۔تو کیا آپ نہیں چاہتیں آپ اور آپکے بچے عزت سے زندگی گزاریں“۔سفینہ کی خاموشی میں دراڑ پڑی تھی۔

”آپ کی ہر بات صحیح ہے ڈاکٹر، لیکن مجھے بس اتنا بتا دیں یہ سب ہوگا کیسے؟ آپ چاہتے ہیں میں اپنا گھر توڑ لوں۔ اپنے بچوں کو باپ کے سایے سے محروم کردوں؟“وہ تلخ ہوئی تھی۔ مشورہ دینا سب کو آتا ہے کیوں کہ آسان ہوتا ہے۔ جوتا کہاں کاٹ رہا یہ بس وہی جانتا جس نے پہنا ہو اور وہ یہ بھی جانتی تھی بناءجوتے کے سنگریزے پیروں کو زخمی کردیتے ہیں تو کیوں نہ اس کا کاٹنا برداشت کرکے نوکدار پتھروں سے لہولہان ہونے سے بچا لیا جائے۔

”میں نے ایسا تو ہرگز نہیں کہا۔ یہ حتمی باتیں ، گھر توڑنے کا مشورہ کیون دوں گا میں آپ کو۔“اپنا میڈیکل باکس بند کرتے وہ ہولے سے مسکرایا۔ کچھ بھی تھا بالآخر سفینہ نے اپنا مسئلہ شئیر کیا تھا اور اس کے لئے یہی بہت تھا ۔

”تو پھر آپ ہی بتائیں کیا حل ہوگا ان سب باتوں کا۔ ایک چھوٹی سی بات نہین مانتی تو ہاتھ پاو ¿ں ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہاتھ روکنے کھڑی ہوئی تو گھر سے ہی نکال دے گا اور پھر میں اکیلی عورت جوان بیٹی کو لے کر کس در پہ جاو ¿ں گی“۔ وہ اب کھل کر بات کر رہی تھیں۔

”وہ ہاتھ اس لئے اٹھاتا ہے کیونکہ آپ اسے اجازت دیتی ہیں خود پہ ہاتھ اٹھانے کی۔ آپ نے کبھی اپنے رشتے کی حد ہی سیٹ نہیں کی۔“اس نے برجستہ کہا۔ سفینہ گنگ رہ گئیں۔

”حقوق کے ساتھ فرائض ہوتے ہیں۔ عورت لڑ جھگڑ کر، بحث کر کے اپنا وجود مرد کی زندگی مین تسلیم کروا لیتی ہے پر آپ کی خاموشی آپ کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ آپ تو مجھ سے بھی چھپا رہی تھیں ان زخموں کی اصلیت حالانکہ یہاں جتنے بھی ڈاکٹر اور نرس آپکے علاج میں ملوث تھے سبھی کا کہنا تھا کہ آپ پہ جسمانی تشدد ہوا ہے“۔ سفینہ نے گہرا سانس لیا پر کچھ نہیں کہا۔ کہنے کو تھا بھی کیا۔

”اپنا داخلہ فارم مجھے دے دیں“۔ اس کا مخاطب اب فاطمہ تھی۔

”جی؟“ وہ چونکی۔

”یہ آخری ہفتہ ہے نا ایڈمیشن جمع کرانے کا، مجھے دے دیں میں کروادوں گا“۔ اس کا انداز اتنا دو ٹوک اور سنجیدہ تھا کہ فاطمہ یا سفینہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائیں۔ کمرے مین پڑی چھوٹی سی میز پہ دھری فائل سے چند کاغذ نکال کر فاطمہ نے زبیر کی طرف بڑھائے پر اس پل اس کی طرف دیکھنے سے اجتناب کیا۔ بے تاثر چہرے کے ساتھ اس نے تفصیل سے کاغذات کو پڑھا، انہیں درست طریقے سے بھرا گیا ہے یہ تسلی کرکے اس نے انہیں اپنے بیگ میں رکھا اور سلام کرکے تیزی سے نکل گیا۔ سفینہ اور فاطمہ چہرے پہ حیرت لئے اسے جاتا دیکھتی رہیں۔ وہ فقط نام کا ہی نہیں اس پل ان کے لئے حقیقی مسیحا ثابت ہوا تھا۔

٭….٭….٭

سمیر نے شاکرہ کو لاہور ائیر پورٹ تک لفٹ ہی نہیں دی تھی بلکہ وہ امیگریشن تک ان کے ساتھ رہا تھا۔ پاسپورٹ کنٹرول سے آگے ایف آئی اے کا عملہ ان کا معاون تھا اور یہاں بھی سمیر کے کانٹیکٹ کام آئے تھے۔ شاکرہ نے زندگی میں پہلی بار ائیر پورٹ دیکھا تھا ۔ یہ اس کا پہلا ہوائی سفر تھا اور کل تک وہ جتنا گھبرا رہی تھیں آج سمیر کی بدولت یہ مرحلہ اتنا ہی آسان ہو گیا تھا۔ وہ اسے ڈھیروں دعائیں دیتی ویٹنگ لاو ¿نج تک گئی تھیں۔ لاہور ائیر پورٹ پہ جہاز کے ٹیک آف کرنے سے دوہا میں اس کے ٹچ ڈاو ¿ن کرنے تک شاکرہ کا دل مٹھی میں تھا۔ ارائیول لاو ¿نج میں عامر ان کا منتظر تھا۔رسمی سلام دعا کے بعد گھر تک تمام راستہ نہائت خاموشی سے گزرا۔ عامر کے سنجیدہ چہرے پہ تناو ¿ چھپائے نا چھپتا تھا۔ شروع میں اپنی طبیعت کے مطابق شاکرہ نے دو چار ادھر ادھر کی باتیں کیں لیکن عامر کے روکھے پھیکے اور مختصر جواب سن کر وہ خاموش ہوگئی تھیں۔ گھر کا ماحول قدرے مختلف تھا۔ آسیہ اور بچے ان کے منتظر تھے اور وہ سب انہیں دیکھ کر بہت نہال ہورہے تھے۔

یہ ایک درمیانے سائز کا دو بیڈ روم اپارٹمنٹ تھا۔ لاو ¿نج اور اوپن کچن کے ساتھ اس کا رقبہ شاکرہ کے گھر سے تقریباََ آدھا تھا۔ انہیں یہ جگہ کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی حالانکہ انہوں نے اس سے نصف سہولیات بھی اپنے گھر میں نہیں دیکھی تھیں پھر بھی انہوں نے جگہ کی تنگی کو لے کر ناک منہ چڑھایا تھا۔ عامر کا موڈ کچھ اور خراب ہوا تھا۔ وہ اس کے لگژری اپارٹمنٹ کو ناپسند کر رہی تھیں اور وہ جو پہلے ہی جلا بھنا بیٹھا تھا کچھ اور سیخ پاءہوا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ دو چار سنا ہی دیتا لیکن اب ضرورت اس کی تھی تو کونہ بھی اسی کا دبتا تھا۔ شاکرہ کی رہائش بچوں کے کمرے میں تھی۔ چند سال پہلے یہ کمرہ علینہ کا ہوا کرتا تھا۔ اس وقت رامس اور حارث دونوں آسیہ اور عامر کے کمرے میں سوتے تھے۔

 ”علینہ کیسی ہے امی؟“آسیہ کے لہجے میں چھپا چھپا جوش تھا۔ وہ دونوں اب کمرے میں تنہا تھیں اور یہاں وہ سکون سے اپنی بیٹی کے متعلق بات کر سکتی تھی۔

”علینہ تو ویسی ہی ہے لیکن یہ عامر میاں کو کیا ہوا ہے۔ ان کے تیور اتنے بدلے بدلے کیوں لگ رہے ہیں“۔شاکرہ نے ناک بھوں چڑھائی۔

”نہیں۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں“۔آسیہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا ۔کچھ توقف سے توجیح دی پر شاکرہ قائل نہ ہوئیں۔

”میری طبیعت اور آپریشن کو لے کر پریشان ہیں “۔آسیہ کافی کمزور لگ رہی تھی ۔ چہرہ الگ اترا ہوا تھا، شاکرہ کو پہلی بار احساس ہوا تھا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ ایسا ضرور ہے جو اس سے پوشیدہ رکھا جارہا ہے یا شائد اس کا ذہن ہی اس طرف نہیں جاپایا تھا ۔

”یہ کیسی پریشانی ہے بھئی کہ انسان مہمانداری کے آداب بھی بھول جائے“۔اس نے صاف گوئی سے کہا، آسیہ نے نچلا لب کاٹا۔

”میں کوئی تمہارے گھر بن بلائے تو آئی نہیں۔ اس نے خود مجھے منت کر کے بلایا ہے اور اب دیکھو دو گھڑی پاس بھی نہیں بیٹھا “۔ وہ مزید بولی تو آسیہ کی شرمندگی اور بڑھی۔

”ان کی عادت مختلف ہے امی وہ ہمیشہ سے ریزرو رہتے ہیں“۔وہ انہیں کیا بتاتی کہ غصہ کسی اور بات کا ہے جو نکل نہیں پارہا تو اندر رہ کر اسے کھولا رہا ہے۔ آسیہ کی وجہ سے وہ شدید پریشان تھا اور پچھلے چند روز میں وہ اس کا بہت خیال رکھ رہا تھا۔ اچانک وہ وہی پہلے والا عامر بن گیا تھا جس کا ساتھ اسے ماضی کی تلخیاں بھلا رہا تھا لیکن جب سے اسے یہ پتا چلا تھا علینہ شاکرہ کے ساتھ نہیں آرہی وہ چپ سا ہوگیا تھا اور آسیہ اس خاموشی کا موجب سمجھ سکتی تھی۔

”یہ جو تم پڑھے لکھے لوگوں نے بدتمیزی کے متبادل انگریزی لفظ بنا رکھے ہیں نا میں ان پہ دو حرف بھیجتی ہوں“۔ اپنے خیالوں میں کھوئی آسیہ ماں کی بات پر چونکی۔

”اچھا یہ بتاو ¿ یہ تمہارے ساتھ بھی اتنا سرد رویہ رکھتا ہے؟“اس نے جیسے اپنے اندر سر اٹھاتے خدشات کی تصدیق چاہی تھی۔

”امی آپ عامر کو جانتی نہیں کیا۔ “آسیہ نے پلٹ کر سوال کیا۔

”اب تو یہی لگ رہا شائد واقعی ہی میں اسے نہیں جانتی ہوں“۔شاکرہ نے حد درجہ صاف گوئی دکھائی۔

”علینہ کو تم نے اچانک پاکستان بھیج دیا مجھے کہا یہاں کالج کا مسئلہ ہورہا لڑکی کو اسکول سے درمیان میں اٹھا لیا۔ میں باو ¿لی تمہارے بہانے سچ مان بیٹھی پر اب تو مجھے لگ رہا اس سب کی وجہ عامر ہی ہے“۔وہ کڑی سے کڑی ملاتی جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گئی تھی۔

”آپ سے علینہ نے کچھ کہا تھا؟“ وہ ٹھٹکی۔

”تمہاری اولاد تو اللہ جانے کیا کچھ کہتی ہے اور کیا کچھ کرتی ہے۔ خودسری تو جیسے خون میں ہے اس کے“۔ آسیہ کا رکا ہوا سانس بحال ہوا تھا۔

”ایسی بات نہیں۔ علینہ خود بھی یہاں ایڈجسٹ نہیں ہورہی تھی۔ اسے آپ کے پاس ہی رہنا چاہیئے۔ وہ وہاں محفوظ ہے“۔نظریں جھکائے اس نے وضاحت دی، اس پل اپنی ہی آواز کہیں دور سے آرہی تھی۔

”اولاد سب سے زیادہ ماں باپ کے پاس محفوظ ہوتی ہے آسیہ“۔اس نے نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا وہ جانچتی نظروں سے اسی کو دیکھ رہی تھیں۔

”کمزور ماں اولاد کی حفاظت نہیں کرسکتی امی اور باپ تو سمجھیں بس نام کا ہے“۔لفظوں کی طرح لہجے میں بھی بے بسی تھی۔ شاکرہ کی زبانی خاور کا علینہ کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار تو وہ سن ہی چکی تھی۔ کیا حالات آگئے تھے جوان بیٹی پرائے گھر رشتے داروں کے احسان پہ چھوڑنا پڑی تھی۔ دل ہی دل خاور سے شکوہ کچھ اور بڑھا تھا۔ وہ سالوں پہلے اس کی محبت کو ٹھوکر مار چکا تھا اولاد تو ایسے بھی زندگی میں اس کی ترجیح نہ تھی۔

 ”آپ تھک گئی ہوں گی اتنا لمبا سفر کرکے ، کھانا کھا کر ریسٹ کرلیں۔ “

شاکرہ اگلی بات کہنا بھول گئی۔ تو کیا اتنے سالوں سے جو ایک آسودہ اور خوش و خرم زندگی کی داستان اس کے کانوں تک پہنچتی رہی تھی وہ سب ایک ڈھکوسلا تھا۔ علینہ کی ہٹ دھرمی اور ضدی طبیعت، آسیہ کی بے بس خاموشی اور عامر کا سرد رویہ۔۔۔شاکرہ کے سامنے ہر منظر فلم کی طرح گھومنے لگا تھا۔ دھیمی آواز میں کہتی آسیہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ شاکرہ تنہا اور خاموش بیٹھی تھیں۔

٭….٭….٭

رات کی سیاہی سرد ہوا میں لپٹی تھی۔ سہ پہر میں ہونے والی بارش نے گرمی کا زور توڑا تھا۔ گرمی آتے آتے واپس پلٹ گئی تھی۔ موسم شام سے ہی خوشگوار ہوگیا تھا اور رات کے اس پہر ہوا میں نمی اور ٹھنڈک عود آئی تھی۔ انصاری ہاو ¿س کے ڈائئنگ ہال کی بتیاں روشن تھیں ۔ سربراہی کرسی پہ بیٹھے ڈاکٹر انصاری خوشگوار موڈ میں ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔ ان کی طبیعت کی بہتری کے ساتھ ہی بیگم انصاری اور فریحہ کے موڈ بھی بدلے تھے۔ بیگم انصاری مطمئن تھیں تو فریحہ بے حد خوش اور اس خوشی میں علینہ کی آمد کی آمیزش بھی شامل تھی۔پچھلے تین چار دن سے وہ اتنے پریشر میں تھی کہ فارس کے متعلق سوچنے کا وقت ملا تھا نہ ذہن اس طرف گیا تھا ۔ وہ سب حسبِ معمول ڈنر کے دوران ہلکی پھلکی گفتگو کررہے تھے اور ان سب کی باتوں سے یکسر بے نیاز علینہ وہاں حد درجہ خاموشی اور بے دلی سے بیٹھی تھی۔ اس کی پلیٹ میں کھانا نہ ہونے کے برابر تھا اور جو تھا اس میں سے شائد ہی اس نے لقمہ اٹھایا تھا۔ اس کا دل و دماغ اس پل انصاری ہاو ¿س کے ڈائئنگ ہال میں تو ہر گز نہیں تھا۔

”علینہ یہ چاو ¿میئن ٹیسٹ کرو، ہمارے گھر کی اسپیشئل ڈش ہے“۔فریحہ نے اچھے میزبان کی طرح اسے سرو کرنا چاہا۔ وہ ٹھٹکی۔

”تھینکس“۔ فریحہ کے ہاتھ سے ڈش پکڑ کر اس نے تکلفاََ کہا ۔

”اچھا یہ فرائیڈ چکن لو، ممی بہت مزے کا پکاتی ہیں“۔اس نے بس تھوڑی سی نوڈلز پلیٹ میں ڈالی تھیں۔ فریحہ نے دو پیس اٹھا کر جلدی سے اس کی پلیٹ میں رکھے۔

”تم بولنے کی طرح کھانے کے معاملے میں بھی کنجوس ہو“۔فریحہ کے تبصرے پہ مسٹر اینڈ مسز انصاری دونوں ہی ہنسے تھے جبکہ دوسری طرف علینہ بمشکل مسکرائی۔

”علینہ بیٹا آپ کو یہاں کسی قسم کا تکلف برتنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ یہاں ایسے رہیں جیسے اپنے گھر میں رہتی تھیں اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہم میں سے کسی کو بھی بلا جھجک بتا سکتی ہیں آپ“۔ڈاکٹر انصاری نے ایک بار پھر وہی بات دہرائی جو آج سارا دن میں اس گھر کا ہر فرد (ماسوائے سمیر کے) اس سے بارہا کہہ چکا تھا۔ فریحہ اس سے نہائت دوستانہ انداز میں بات چیت کر رہی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ آج اسپتال بھی نہیں گئی تھی پھر بھی علینہ حد سے زیادہ ریزرو تھی۔ فریحہ کو یہی لگا شائد وہ کم گو ہے جبکہ اس کے مام اور ڈیڈ کا کہنا تھا اسے نئی جگہ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگے گا اور اس کی خاموشی یا لیا دیا انداز فطری ہے۔

”شکریہ “۔ایک بار پھر وہی پرتکلف انداز۔ پر اس بار مسکراہٹ کچھ گہری تھی۔

”اونہو۔۔۔۔یہ پلیز اور شکریہ کو باہر کا راستہ دکھاو ¿۔ اس گھر میں ان لفظوں کی گنجائش ہے نا ہی ضرورت۔ یہاں سب کچھ حق سے لیا جاتا ہے اور محبت سے دیا جاتا ہے لہذا آج اور ابھی یہ پرتکلف الفاظ کو بھول جاو ¿“۔ فریحہ کا انداز عام سا تھا پر علینہ کے اندر احساسِ محرومی مزید گہرا ہوا تھا۔ اس پکچر پرفیکٹ ہنستی مسکراتی فیملی کے درمیان بیٹھ کر اس کی نامکمل اور بکھری زندگی نے منہ چڑایا تھا۔ یہ سب کسی افسانے یا ناول کی کہانی تو ہوسکتی تھی پر علینہ کے لئے اسے حقیقت میں قبول کرنا مشکل تھا کیونکہ اسے جو ملا وہ محبت نہیں احسان تھا، حق نہیں نوازشات تھیں، مہربانیاں تھیں۔ عجیب حالات میں بڑی غلط جگہ بیٹھ کر وہ اپنی اور فریحہ کی زندگی کا موازانہ کرنے لگی تھی اور اس موازنے نے اس کے احساسِ کمتری کو چار سو گنا بڑھا دیا تھا۔

٭….٭….٭

علینہ کے لئے بیگم انصاری نے گیسٹ روم ٹھیک کروادیا تھا۔ اس گھر کے دیگر کمروں کی طرح یہ بھی ایک وسیع و کشادہ کمرہ تھا جس کی آرائش جدید اور شاندار فرنیچر سے کی گئی تھی۔ گھر کے باقی بیڈرومز سے ہٹ کر یہ کمرہ لاو ¿نج اور مین اینٹرنس سے منسلک تھا۔ اس کی بڑی سی فرینچ ونڈو لان میں کھلتی تھی لہذا منظر شاندار تھا۔ اس نے جتنی بے دلی سے کھانا کھایا تھا اسی بیزاری سے اٹھ کر وہ اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی۔ فریحہ اس کی آمدپہ جتنی ایکسائیٹیڈ تھی اسے خاموش اور گھٹا گھٹا دیکھ کر کچھ ناامید ہوئی تھی۔ انصاری صاحب کی تسلی نے بھی اس کے ستے ہوئے چہرے پہ آسودگی نا بکھیری تھی۔ بیگم انصاری اس کی طرف سے فکرمند تھیں۔ وہ جانتی تھیں وہ ایک اسپیشل بچی ہے، اس کے حالات نارمل نہیں تو وہ خود کیسے نارمل ہوسکتی ہے۔ یون تو زندگی میں سب کو سب کچھ پرفیکٹ نہیں ملتا پر کم عمری کی محرومیاں انسان کی شخصیت کو کس طرح توڑ پھوڑ دیتی ہیں وہ اس حقیقت سے واقف تھیں ۔یہی سوچ کر وہ اس کے پیچھے پیچھے چلی آئیں تھیں۔ وہ اسے اکیلے میں دلاسہ دینا چاہتی تھیں۔ اسے ری اشئیور(یقین دہانی) کرانا ضروری تھا، شائد اس کی بار بار ضرورت پڑتی۔ ایک بروکن فیملی ممبر کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہے وہ سمجھ سکتی تھیں۔

”میں اندر آجاو ¿ں علینہ؟“دروازے پہ دھیمی دستک کے بعد اجازت طلب کی گئی ۔

”میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا بیٹا، آئی مین آپ سونے تو نہیں لگی تھی؟“اجازت ملنے پر وہ اندر چلی آئیں۔ علینہ جزبز سی بیڈ کے پاس کھڑی تھی۔ وہی صبح والا لان کا سوٹ اس پل شکن زدہ تھا۔ ہلکے براو ¿ن سلکی بال جو صبح سے کیچر میں مقید تھے اس وقت کھلے ہوئے تھے۔ شولڈر سے کچھ نیچے آتے خوبصورت انداز میں کٹے تھے اور اس پہ سوٹ بھی کرتے تھے۔

”نہیں مجھے دیر تک جاگنے کی عادت ہے۔ رات کو اسٹڈی کرتی ہوں نا“۔وہ انگلیاں مڑوڑتی اس پل ان کی آمد کا مدعا سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بیگم انصاری کی نظر بے اختیار اس کی آنکھوں پہ پڑی، چیسٹ نٹ براو ¿ن بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔۔۔بڑی جانی پہچانی شباہت تھی ان میں۔ ان کا ذہن الجھا پر آنے والے خیال کو جھٹک کر انہوں نے علینہ کی آنکھوں تلے سیاہ حلقوں پہ نگاہ جمائی۔

”یہ تو اچھی بات ہے لیکن نیند بھی ضروری ہے ۔ ایک مناسب وقت پہ سوجانا چاہیئے ۔ اٹس ہیلدی ہیبِیٹ(یہ صحت مند عادت ہے)“۔ اس مختصر نصیحت کے بعد وہ اصل بات کی طرف آئیں۔

”ماما کی طرف سے بالکل پریشان نہیں ہونا، بہت مائینر سا آپریشن ہے اور وہ ان شاءاللہ جلدی ٹھیک ہوجائیں گیں“۔اس کا کندھا تھپتھپاتے انہوں نے دوسرے ہاتھ سے اس کے گالوں کو چھوا۔

”ان شاءاللہ“۔اس نے زیرِلب دہرایا۔ اپنی جذباتیت پہ قابو پانے کی کوشش کرتے اس نے پلکیں جھپک کر پانی کی بوندوں کو پرے دھکیلا۔

”نانی کو مس کر رہی ہو“۔وہ مزید بولیں۔

”اب تک تو پہنچ چکی ہوں گی ، کال کرکے پوچھ لو۔ میں بات کرواو ¿ں؟“اس کا ہاتھ تھامے شفقت سے پوچھا گیا تھا پر اس نے نفی میں گردن ہلائی۔

”نہیں میں صبح بات کروں گی“۔آواز دھیمی اور بھرائی ہوئی تھی۔

”خوش رہا کرو۔ لڑکیاں شور مچاتی، شرارتیں کرتیں اچھی لگتی ہیں۔ فری کو دیکھا ہے نا کتنی ٹالکیٹیو(باتونی) ہے۔ “انہوں نے قصداََ اس کے رونے کو اگنور کیا۔ اگر وہ اس پل اسے ٹوکتیں تو یقینناََ وہ زور و شور سے رونے لگ جاتی۔ بعض اوقات زخم پہ پھاہا رکھنے کے لئے درد کو نظر انداز کرنا ضروری ہوتا ہے۔

”آپ بہت اچھی ہیں آنٹی“۔ان کو پلٹتے دیکھ کر علینہ بے ساختہ بولی۔

”تم خود جو بہت اچھی ہو اسی لئے تمہیں سب اچھے لگتے ہیں“۔مسکرا کر انہوں نے اس کے ماتھے پہ شفقت بھرا بوسہ دیا۔

”نہیں آپ۔۔۔۔“وہ الجھی۔

”آپ کے پاس سے مجھے بہت مانوس سی خوشبو آتی ہے“۔صبح والی کیفیت اس پل بھی حاوی تھی۔ وہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔

”ہر ماں کے پاس سے بچوں کو ایسی ہی خوشبو آتی ہے“۔وہ اپنی ماں کی طرف سے پریشان ہے، اسے مس کر رہی ہے۔ اجنبی ماحول اور پریشان کن حالات میں انسان بہت زیادہ حساس ہوجاتا ہے جو کہ اس وقت وہ تھی بھی۔ نور انصاری اس کی کیفیت بخوبی سمجھ رہی تھیں۔

”پتا نہیں۔۔۔شائد۔۔۔۔۔میں ایکسپلین(وضاحت) نہیں کرسکتی۔ “وہ اٹکی ، ذہن خالی تھا۔ بہت ٹٹولا پر کوئی منطقی جواب نہیں ملا۔ لیکن چہرے پہ اس پل کچھ ایسا تاثر تھا جیسے نور انصاری کے جواب نے اسے مطمئن نہیں کیا تھا۔ وہ چند لمحے اس کے الجھے ہوئے چہرے کو تکتی رہیں ۔ نگاہ ایک بار پھر بے اختیار ان ہلکی بھوری آنکھوں پہ جاٹکی تھی۔

(شائد میں ان دنوں ایک ہی بات سوچنے لگی ہوں) ایک بار پھر ذہن میں اٹھتی سوچوں کے جنجال کو نظر انداز کرتے انہوں نے موجودہ سچویشن پہ فوکس کیا۔ علینہ کنفیوز سی سامنے کھڑی تھی۔ مسکراتے ہوئے اسے شب بخیر کہا اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔ وہ اگلے کئی پل کھڑی نور انصاری کے متعلق سوچتی رہی۔ سمیر کا سامنا کرتے جو خفت اور ذہنی انتشار اعصاب پر سوا ر ہوا تھا نور انصاری کے متعلق سوچ کر وہ بہت ریلیکس ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر انصاری اور فریحہ کتنے کئیرنگ تھے۔ اس گھر میں رہنا اتنا بھی مشکل نہیں تھا کیونکہ یہاں کے مکینوں کے دل میں بہت وسعت تھی۔

٭….٭….٭

”کوئی اچھا رشتہ ہو تو آسیہ کے لئے نظر میں رکھنا“۔شاکرہ کی آواز پر صحن میں کپڑے دھوتی آسیہ کے کان کھڑے ہوئے۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ بھی اپنی ہم عمر لڑکیوں کی طرح شرم سے لال ہوجاتی، اس ذکر پہ ایک حسین خوبصورت زندگی کا خواب آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا اور خوامخواہ خوشی کے لڈو دل میں پھوٹنے لگتے لیکن وہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔

”تمہارا بھی وہ حال ہے لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں“۔پڑوس کی فرخندہ خالہ کی آواز پہ دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔ اتنے مہینوں سے جو خواب دل میں پروان چڑرہا تھا وہ بس ایک پل میں ٹوٹ جائے گا اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا۔

”آسیہ کے لئے یہ لڑکا کیا برا ہے جسے تم نے دکان کرایہ پہ دے رکھی ہے“۔شاکرہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا پر آسیہ کے اندر کسی نے نئی روح پھونک دی تھی۔

”لیکن اس کا تو کوئی آگے پیچھے نہیں، ایسے کیسے لڑکی بیاہ دوں اس کے ساتھ“۔آسیہ کے دل کے حال سے بے خبر اس نے ایک پل میں اس تجویز کو ریجیکٹ کردیا تھا۔

”کون سے زمانے کی باتیں کرتی ہو شاکرہ، یہ تو اور بھی اچھی بات ہے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ میری بات سنو“۔شاکرہ بیوہ عورت برسوں سے تنہا اس محلے میں اکلوتی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں۔ رہنے کے لئے اچھے وقتوں کا بنا یا گھر تھا جس کے نیچے چار پانچ دوکانیں تھیں۔ دو سال پہلے خاور نے ان میں سے تین دوکانیں کرایہ پہ لے کر اپنی ورکشاپ کھولی تھی۔ اکیلا آدمی تھا ، نہ کوئی جان نہ پہچان اس لئے ضمانت کوئی تھی نہیں پر شکل صورت سے بھلا اور شریف لگتا تھا۔ شاکرہ ضرورت مند تھی لہذا کوئی لمبی چوڑی جانچ پڑتال کے بغیر بس زر ضمانت پہ دوکانیں کرایہ پہ اٹھ دی گئیں۔

”لڑکا دیکھا بھالا ہے۔ شکل و صورت سے شہزادہ لگتا ہے یقینناََ کسی بھلی ماں کی اولاد ہے۔ نہ سگریٹ نہ پان۔۔۔کوئی لمبی چوڑی دوستی یاری نہیں گانٹھی ۔ بس اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور سچ پوچھو تو پورے محلے میں کسی کو اس سے سوئی جتنی تکلیف نہیں“۔ خاور انتہائی کم گو اور حد درجہ شریف انسان تھا ۔ نام لینے کو بھی کوئی بری عادت اس میں نہیں تھی اور آج یہ حال تھا کہ سارا محلہ اس کے کردار کی گواہی دینے کو تیار تھا۔ کاریگر آدمی تھا اور اپنا کام ایمانداری سے کرتا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ترقی کی تھی ۔اسی لئے تو فرخندہ اس کی اتنی حمایت کر رہی تھی۔ اگر تین سال پہلے وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہ ہوچکی ہوتی تو بلا جھجک خاور سے اس کی شادی کردیتی۔ اب یہی تجویز اس نے شاکرہ کو دے ڈالی جو کچھ عرصے سے آسیہ کے رشتے کو لے کر پریشان تھیں۔

”کہتی تو تم ٹھیک ہو فرخندہ۔ اعتبار والا بھی ہے اور سب سے بڑھ کر شریف آدمی ہے۔ نگاہ نیچی رکھ کر بات کرتا ہے اور کرایے کے لئے تو مجھے آج تک اس نے پریشان نہیں کیا۔“شاکرہ نے بھی تائید کی۔

”تو پھر کس بات کی پریشانی، ایسا اچھا انسان تو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا“۔فرخندہ نے ہاتھ پہ ہاتھ مارا۔ بیٹھے بٹھائے آسیہ کی دلی مراد پوری ہوگئی تھی اسے اور کیا چاہئے تھا۔ آسیہ نے ایف اے کے بعد پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ پہلی بار خاور کو اس نے کالج آتے جاتے ہی دیکھا تھا پر اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ عجیب انسان تھا ہر وقت سر جھکائے کام میں مشغول رہتا تھا۔ لیکن آسیہ کو اس کا یہ انداز اچھا لگتا تھا۔ کہنے کو مکینک تھا پر صورت شکل صاحبوں والی تھی۔ہر روز آتے جاتے وہ لازمی ایک نظر اسے دیکھتی ، شروع مین یہی لگتا تھا وہ اس بات سے بے خبر ہے لیکن جلد ہی آسیہ کو احساس ہوگیا تھا کہ وہ بظاہر جتنا لاپرواہ نظر آتا ہے اتنا ہے نہیں۔ اس کی خود پہ توجہ کو محسوس کرنے کے باوجود خاور نے آج تک ہمیشہ اسے نظر انداز ہی کیا تھا اور یہی بات آسیہ کے دل کا کانٹا بن گئی تھی۔

”لیکن اب رشتے کی بات کرتے میں بھلا کیا اچھی لگتی ہوں۔ وہ خود توبڑا لئے دئے رہنے والا بندہ ہے“۔شاکرہ کا انکار پل میں اقرار میں بدلا تھا۔

”تم کیوں کرو گی بات، میں کرتی ہوں نا اس سے رشتے کی بات۔ اس کا تو بھلا ہی ہوجائے گا ورنہ خاندان دیکھے بناءکوئی اپنی لڑکی تھوڑا ہی دیتا ہے“۔ فرخندہ خالہ کی بات سن کر وہ ساتویں آسمان پہ پرواز کرنے لگی تھی۔ شفق کی ساری سرخی اس پل چہرے پہ اتر آئی تھی۔ تقدیر اس طرح مہربان ہوجائے گی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لیکن آج بائیس سال بعد دوہا کے اسپتال میں تنہا لیٹی اپنی، خاور اور علینہ کی زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے تقدیر کی ستم ظریفی پہ رونا آیا تھا۔ وہ چاند کو پانے کی آرزودل میں بسائے تھی قسمت نے اسے تپتے صحرا میں برہنہ پاءدھکیل دیا تھا۔ وہ خود سے لڑ سکتی، دنیا سے جھگڑ سکتی پر قسمت سے لڑنا اس کے بس سے باہر تھا۔

آسیہ کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔ شاکرہ گھر میں بچوں کے پاس تھیں جبکہ اسپتال میں عامر آسیہ کے پاس آنا جانا کرتا رہتا تھا۔ اسے ابھی مزید دو تین دن اسپتال میں ہی رکنا تھا اور شاکرہ کے آنے سے وہ بچوں کی طرف سے بے فکر ہوگئی تھی۔ عامر بھی وقفے وقفے سے گھر کا چکر لگا رہا تھا اس لئے بچے ماں کے بغیر زیادہ مسئلہ نہیں کر رہے تھے۔ اس دوران علینہ کے علاوہ دو تین بار نور انصاری کی بھی کال کر چکی تھیں اور شاکرہ کے ساتھ آسیہ کی خیریت معلوم کرچکی تھیں۔ علینہ ماں کے آپریشن اور اس کی خیریت جان کر کچھ ریلیکس ہوگئی تھی۔ ذہن پہ دھرا ایک بوجھ اترا تھا تو دوسری طرف علینہ سے بات کرکے آسیہ بھی مطمئن تھی۔ شاکرہ کی زبانی انصاری فیملی کی جتنی تعریفیں سنی تھیں اس کے بعد نور انصاری سے بات کرتے ہوئے اور پھر علینہ کا پرسکون لہجہ اسے اور بھی مطمئن کر گیا تھا ۔ بے شک ایک در بند کرکے رب سو در کھول دیتا ہے۔ آسیہ تیزی سے رو بہ صحت تھی اور عامر کے سر پہ دھرا ایک بڑا بوجھ اترا تھا۔

٭….٭….٭

سیاہ برستی رات میں جائے نماز بچھائے وہ دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اٹھائے بہت دیر سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا تھا۔ لبوں پہ جنبش نہ تھی پر ہاتھوں میں لرزش تھی۔ اس پہر جب سارا عالم نیند کے مزے لوٹ رہا تھا وہ گھر کے اس ویران گوشے میں تہجد کے بعد ربِ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی کیا مانگے۔ سب کچھ تھا پر سکون نہیں تھا۔برسوں ہوئے اس نے دعا مانگنا ترک کر دیا تھا، جو مانگنا چاہتا تھا اسے سالوں پہلے گنوا چکا تھا ۔ کسی کی غیر مشروط محبت، تابعداری اور وفا۔۔۔۔جو بن مانگے مل گئی تھی اسے خود ہی ٹھکرایا تھا ۔ برسوں بعد نصیب نے اس کے در پہ دستک دی تھی جسے اس نے اپنی کم عقلی اور جہالت سے ٹھکرادیا تھا۔ اب تو بس توبہ کرتا اور بہت کرتا تھا لیکن مانگتا کچھ نہیں تھا۔

برسوں پرانی وہ دوپہر آج بھی روزِ روشن کی طرح یادوں کے پردے پہ جھلملارہی تھی ۔ اس نے اسے دیکھ کر رخ پھیرا تھا لیکن وہ اس کے تیور نظر انداز کرتی بے جھجک دوکان میں چلی آئی تھی۔

”آپ نے شادی سے انکار کیوں کیا؟“ وہ اس کے سوال پہ چونکا تھا۔ اب سے پہلے ان دونوں کے درمیان چند پرتکلف لفظوں سے زیادہ بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ کبھی ٹھیک سے دیکھا بھی نہ تھا اسے۔

”کیا میں جواب دینے کا پابند ہوں؟“وہ رکھائی سے بولا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں تحیر ابھرا۔ یہ پہلی بار تھا جب خاور نے اسے بغور دیکھا تھا۔ وہ خوبصورت نہیں تھی پر قبول صورت تھی لیکن اگر وہ کوئی حسن پری بھی ہوتی تو خاور اسے ایسے ہی نظر انداز کرتا ۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ عورت ذات سے شدید نفرت کرتا تھا۔

”بالکل ۔ آخر مجھے پتا تو چلے مجھ سے شادی سے انکار کیوں کیا گیا۔ ایسا کیا عیب دیکھا آپ نے مجھ میں جو ایکدم ریجیکٹ کردیا“۔ وہ بلاخوف بولی۔

”میں شادی نہیں کرنا چاہتا“۔ اس نے جان چھڑائی۔

”کیوں؟“ ایک اور سوال۔ وہ متعجب تھی۔

”میری مرضی“۔اس نے چڑ کر جواب دیا۔

”عجیب مرضی ہے جو بس اپنا ہی سوچتی ہے“۔ وہ بڑبڑائی۔

”میں آپ کا پابند نہیں بی بی“۔ وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔ آسیہ گنگ رہ گئی۔ اپنا سارا مان، ساری انا چولہے میں جھونک کر وہ خاور سے اس کے انکار کا سبب پوچھنے آئی تھی ۔ فرخندہ خالہ نے شادی کی بات کی تو اس نے سوچنے میں ایک لمحہ برباد نہیں کیا تھا اور جھٹ منع کردیا لیکن آسیہ کے دل پہ قیامت بیت رہی تھی اور یہاں تو کوئی پچھتاوہ یا ملال نہ تھا الٹا وہ تو حد درجہ بے اعتنائی برتتا اس سے جان چھڑا رہا تھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود وہ اس پل اپنے آنسوو ¿ں کو بہنے سے نہیں روک پائی تھی۔ مزید کچھ بھی کہے بغیر وہ وہاں سے چلی گئی تھی مگر خاور کے دل پہ محبت کی یہ دستک رائیگاں نہیں گئی تھی۔ اسی روز اس نے فرخندہ خالہ کے پاس جاکر معذرت کرتے ہوئے آسیہ سے شادی کی حامی بھرلی تھی۔

بائیس سال بعد تہجد کی نماز کے بعد وہ اس پل صرف یہی سوچ رہا تھا کاش آسیہ کی دستک پہ اس لمحہ خاور اپنے دل کا دروازہ نہ کھولتا تو آج ان سب کی زندگیوں میںملال و تاسف کم ہوتا۔سالوں پہلے وہ اس کی نامکمل اور ادھوری زندگی کی تکمیل بن کر آئی تھی جسے خاور نے اپنے احساسِ کمتری اور تشنگی کے زیرِ اثر خود سے پرے دھکیل دیاتھا۔ بوجھل دل سے اس نے ہاتھ گرادیئے۔ زار و قطار بے آواز روتے وہ اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپائے ایک بار پھر ماضی کی غلطیوں پہ خود ملامت کررہا تھا۔ اس عورت کے دکھ پہ آنسو بہا رہا تھا جس سے نا چاہتے ہوئے بھی اس نے شدید محبت کی تھی پر جب تک یہ احساس ہوا وہ اس کی زندگی سے دور جاچکی تھی۔

٭….٭….٭

تین دن کسی رولر کوسٹر رائڈ کی طرح ہیجان انگیز گزرے تھے۔ ایک ہفتے کا شیڈول نصف وقت میں بدل کر اس نے اپنے سر پہ کام کا انبار جمع کرلیا تھا۔ لمبی چوڑی ملاقاتوں کا سلسلہ تھا، فئیر ویل عصرانے و عشائیے تھے ۔ کچھ اٹینڈ کئے کچھ کو اگلی بار پہ ٹالا، بہت سوں کو معذرت کرتا وہ بمشکل آج رات کو واپسی کے لئے نکلا تھا۔ سامان کل ہی بھجوا چکا تھا ۔ اگر پیر کی صبح اسے آفس جوائن نہ کرنا ہوتا تو وہ یقینناََ ایک دو دن لاہور رک جاتا لیکن چونکہ اس کی ڈیوٹی کا پہلا دن نہائت اہم تھا ساتھ ہی تینوں تحصیلداروں اور جونئیر سٹاف کے ساتھ میٹنگ شیڈول تھی تو ایسے میں اس کی غیر حاضری سے بہت سا کام اپ سیٹ ہوجاتا اور سمیر انصاری پروفیشنل ایتھکس کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کرتا تھا۔ وہ اس ضلع کا ایگزیٹیو ہیڈ تھا اور یہ ڈسپلین اسے ہی قائم رکھنا تھا۔ تقریباََ دس بجے کا وقت تھا جب اس کے سیل فون پہ وائبریشن ہوئی۔

”گھر پہنچ گئے“۔کشمالہ کا ٹیکسٹ تھا۔ وہ اس کی واپسی سے باخبر تھی ۔ صبح ان دونوں کی مختصر بات ہوئی تھی۔

”یار راستے میں ہوں۔ بس نکلتے نکلتے دیر ہوگئی“۔اس نے ریپلائی کرنے کے بجائے کال بیک کیا۔ میسیج تو خیر وہ عام حالات میں بھی کم ہی کرتا تھا جہاں نہائت ضروری ہو ورنہ کال کرتا وہ بھی نہائت مختصر۔ لمبی چوڑی باتیںکرنا اس کی عادت نہیں تھی(فریحہ کا کیس مختلف تھا )

”تو کل صبح آجاتے، نارملی رات کو اس روڈ پہ سفر کرنا خطرناک ہوتا ہے‘۔اس کی آواز میں تفکر تھا۔

”اور تمہیں لگتا ہے میں نارمل ہوں؟“۔وہ تمسخر سے بولا۔

”شائد نہیں“۔کشمالہ کا انداز محتاط تھا۔

”یقینناََ نہیں“۔سمیر کے لہجے میں اعتماد تھا۔ کشمالہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔

”کب تک پہنچو گے؟“ اس نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

”گھنٹہ لگ جائے گا۔ ۔۔۔۔کیوں؟“ ڈسپلے پہ وقت دیکھتے اس نے سرسری انداز میںکہا۔

”پہنچ کر ٹیکسٹ کردینا“۔ وہ اس تنبیہہ پہ متحیر ہوا۔

”یعنی کشمالہ جی میرے انتظار میں جاگتی رہیں گیں“۔ وہ ہنسا۔

”نہیں جاگنا چاہیئے؟“دوسری طرف سوال ابھرا تھا۔

”ظاہر ہے۔ “اس نے کندھے اچکاتے برجستہ کہا۔کشمالہ نے گہرا سانس لیا۔

”میں انتظار کروں گی۔۔۔میسیج کا“۔کشمالہ کی سنجیدہ اور مایوس آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔ اگلے ہی پل رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

 سمیر کا دھیان راستے سے بھٹک کر کشمالہ معین کے مایوس لہجے میں جا اٹکا تھا۔ اپنے حلقہِ احباب میں یہ وہ واحد عورت تھی جس کی خوبیوں کا وہ دل سے معترف تھا۔ جس کی شخصیت بے جھول تھی۔ جو محبت اور دوستی کے مہین سے فرق کو انتہائی وضع دارری سے نبھارہی تھی یوں کہ آج بھی اپنی انا اور عزتِ نفس کو سمیر انصاری کے قدموں تلے کچلنے نہیں دیا تھا ۔ وہ اس کی بہترین دوست تھی اور شائد سب سے قریب بھی ۔ اس سیاہ رات میں ویران سڑک پہ تنہا ڈرائیو کرتے اس کے ذہن میں چند روز پرانی اپنی ماں کی باتیں کسی فلم کی طرح چل رہی تھیں ۔ اس تنہائی میں اس نے ایک بار پھر اپنے دل کو ٹٹولا، کشمالہ کے چہرے کو نظروں میں لاکر اپنے اندر جھانکا۔۔۔۔۔وہ جذبہ آج بھی ناپید تھا جس کی خواہش کشمالہ معین رکھتی تھی۔

 سمیر انصاری بے حس ہی نہیں بد نصیب بھی تھا۔سو میل دور بیلوں سے ڈھکے بنگلے کے خنک بیڈ روم میں اداس بیٹھی کشمالہ معین نے سوچا تھا۔کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے اور سیاہ رات میں تاروں بھرا آسمان دولہن کے دوپٹے سا دمک رہا تھا۔ وہ ایک ٹک دیکھتی گئی۔دور فلک پہ کوئی تارہ ٹوٹا تھا اور کشمالہ معین کا دل بھی۔

٭….٭….٭

کمرے میں اندھیرا تھا بس نائٹ بلب کی مدھم سی زرد روشنی تھی جس میں اردگرد کا منظر واضح نا سہی پر دکھائی ضرور دے رہا تھا۔ آدھی رات سے اوپر کا وقت تھا اور پپوٹے نیند سے بوجھل ہورہے تھے پر دماغ میں اب تک کل شام والی باتیں گھوم رہی تھیں۔ وہ سوچ سوچ کر تھک چکی تھی۔ جتنا سوچتی تھی الجھتی چلی جاتی تھی۔ اس کا وجود ہمیشہ سے سب کے لئے پریشانی کا باعث بنا رہا تھا اور آج بھی وہ اسکے آنسوو ¿ں کی وجہ تھی حالانکہ اس نے کبھی جتایا نہ تھا پھر بھی وہ جانتی تھی ۔ وہ ایسا کیا کرے کہ سب کو مطمئن کرپائے یہی سوچتے سوچتے اسکا دماغ شل ہورہا تھا پر ایسا کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا جو سب کی مشکلات کو حل کردے۔کسی بھی نتیجے پہ نہ پہنچتے ہوئے بالآخر تنگ آکر اس نے اپنی بوجھل آنکھیں موند لیں۔ کلائی سے آنکھوں کو ڈھانپ کر وہ اس حالیہ صورتحال سے فرار پاچکی تھی پر اچانک کسی شے کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ رات کے اس لمحے گھر میں مکمل سناٹا تھا ۔ سب سورہے تھے اور ذرا سی آہٹ بھی شور لگتی تھی۔ کمرے کے باہر قدموں کی چاپ وہ بآسانی سن سکتی تھی۔اچانک قدموں کی آواز آنا بند ہوگئی اور اسی پل اس نے بازو ہٹا کر دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازے کا ہینڈل گھمایا گیا تھا اور پھر بناءآواز کے دروازہ کھلتا چلا گیا۔ اس ملگجے اندھیرے میں بھی وہ نوارد کو دیکھ سکتی تھی ۔ رات کے اس پہر اسے اپنے کمرے کے دروازے پہ کھڑا دیکھ کر وہ چونکی تھی۔ وہ نپے تلے قدموں سے چلتا کمرے مین داخل ہوا اور انتہائی احتیاط سے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا۔ اچانک اسکی ساری حسیات بیدار ہوچکی تھیں۔ بیڈ کے کنارے تک پہنچ کر وہ جھکا اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔ سنسناتی لہر اسکی ریڑھ کی ہڈی مین دوڑی پر وہ سانس روکے آنکھیں سختی سے بھینچے لیٹی رہی۔ اسکے ہاتھ اب اسکے بالوں سے ہوکر اسکے گالوں کو چھو رہے تھے۔ اپنی سخت انگلیاں اسکے نرم گالوں پہ دائرے کی صورت گھماتے وہ اسے اذیت دے رہا تھا ۔ یہ سب اسکی برداشت سے باہر ہورہا تھا۔ اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ اے سی کی ٹھنڈک مین بھی پسینہ آنے لگا ۔ وہ مسلسل اپنی انگلیوں کو حرکت دیتا اسے اذیت دے رہا تھا اور یہ سب اسکے لئے ناقابل برداشت ہورہا تھا۔ وہ اسے روکنا چاہتی تھی، اپنے کمرے سے دھکے مار کر باہر نکال دینا چاہتی تھی ، خود وہاں سے دور ہوجانا چاہی تھی لیکن وہ اسے روک نہیں پائی تھی۔ خوف اور وحشت سے ایک دلخراش چیخ اسکے منہ سے نکلی ۔

ژ              ژ

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے