سر ورق / Uncategorized / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔۔ قسط نمبر 19 ۔ سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔۔ قسط نمبر 19 ۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 19

تحریر: سید انور فراز

اس الف لیلہ کا بیان کچھ اس انداز میں جاری ہے کہ مختلف لوگوں کا تذکرہ نامکمل انداز میں پیش ہورہا ہے،بعض قارئین نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آپ کسی بھی کردار کے بارے میں ابتدا سے آخر تک بات نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھ رہے بلکہ ایک دور کی روداد بیان ہورہی ہے جس میں جب کسی کردار کا ذکر ہوتا ہے تو اتنی ہی بات کی جاتی ہے جتنی اُس دور سے متعلق ہو،اسی طرح اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی ہم نے ابھی تک زیادہ نہیں لکھا، ارادہ یہ ہے کہ جب یہ سلسلہ مکمل ہوکر کتابی شکل میں شائع ہوگا تو اس میں ذاتی زندگی کو بھی شامل کیا جائے گا، ہم نے زندگی کی دھوپ چھاؤں میں سب ہی طرح کے دن گزارے ہیں، وقت کی سختیاں بھی جھیلی ہیں اور سہانے موسموں سے بھی لطف اندوز ہوئے ہیں، ڈائجسٹ انڈسٹری کے علاوہ بھی زندگی میں بے شمار اچھے برے لوگوں سے واسطہ رہا ہے،اہل علم کی صحبت بھی حاصل رہی اور جہلا کے تماشے بھی دیکھنے کو ملے، اسی طرح ابتدائی زندگی میں حصول تعلیم کے زمانے ہی میں غم روزگار کے مسائل کا بھی سامنا رہا لہٰذا محنت مزدوری کے دور میں بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا اور رنگ برنگی کہانیاں دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، چناں چہ وہ سب کچھ کتابی شکل میں شامل ہوگا، ان شاء اللہ۔

نواب صاحب کا تذکرہ گزشتہ قسط میں رہا، کچھ اہم واقعات ہم نے بیان کیے لیکن ظاہر ہے کہ یہ نواب صاحب کی پوری زندگی کا احاطہ نہیں تھا،البتہ بعد میں بعض لوگوں نے کچھ ایسے سوالات اٹھائے جن کا تفصیلی جواب دینا ہم نے ضروری سمجھا، خاص طور سے نواب صاحب کے آخری دنوں میں ایک لڑکی کشور سلطانہ کا معاملہ، ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس اہم کردار کے بارے میں بھی پوری طرح نواب صاحب کے چاہنے والوں کی تسلی کردی جائے، اس کی ضرورت اس لیے بھی محسوس ہورہی ہے کہ اس حوالے سے کچھ ایسی باتیں بھی مشہور ہوگئی تھیں جو غلط تھیں، مثلاً وہ خود کو نواب صاحب کی بھتیجی یا رشتے دار کہتی تھی ، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ نواب صاحب نے چوتھی شادی کرلی ہے اور بعض کا خیال تھا کہ شادی کے بغیر ہی اسے رکھا ہوا ہے۔
شاید یہ 2002 یا 2003 ء کی بات ہوگی، ایک روز معراج صاحب نے ہمیں خبر دی کہ نواب صاحب نے چوتھی شادی کرلی ہے، ہمارے لیے یہ خبر نہایت چونکا دینے والی تھی، ہمیں یقین نہیں آیا، مکمل یقین معراج صاحب کو بھی نہیں تھا، وہ خاصے جھلّائے ہوئے اور ناراض نظر آرہے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نواب صاحب نے گلستان جوہر میں ایک فلیٹ کرائے پر لینے کے لیے کچھ ایڈوانس کا مطالبہ کردیا تھا۔
ہمیں معراج صاحب کا یہ جملہ آج تک یاد ہے ’’اس شخص کی ساری عیاشیاں مجھے بھگتنا پڑتی ہیں‘‘
ہم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’وہ آپ کے لاڈلے بھی تو بہت ہیں‘‘
معراج صاحب کی اس اطلاع کے باوجود ہمیں یقین نہیں آیا کہ وہ اس عمر میں اور اپنی صحت کی موجودہ خرابیوں میں ایسی کوئی عیاشی کرنے کی ہمت کرسکتے ہیں، چناں چہ ذہن میں یہی بات تھی کہ اپنے طور پر اس معاملے کی تحقیق کریں گے،ان دنوں بھی نواب صاحب ہمارے استاد ڈاکٹر اعجاز حسین کے زیر علاج تھے چوں کہ ہمیں بھی ہومیو پیتھی سے دلچسپی تھی لہٰذا ان کا کیس ہم اعجاز صاحب سے ڈسکس کرتے رہتے تھے اور ہمیں معلوم تھا کہ ان کی حالت بہت اچھی نہیں ہے،بہر حال اصل صورت حال معلوم کرنے کا ایک بہترین موقع اس وقت ملا جب نواب صاحب دفتر آئے اور ان کے ہمراہ ان کی بیگم اور بچے بھی تھے،نواب صاحب بیگم اور بچوں کو علیحدہ کمرے میں بٹھاکر عام طور سے معراج صاحب کے کمرے میں جاکر بیٹھ جاتے تھے ، ہم نے ایسے ہی موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان کی بیگم سے بات چیت شروع کردی، ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ وہ ہم سے بے تکلف تھیں کیوں کہ ہماری بیگم سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔
جب ہم نے نواب صاحب کی چوتھی شادی کا ذکر چھیڑا تو وہ بہت حیران ہوئیں اور ہنسنے لگیں، انھوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں ایک بوڑھی خاتون آتی ہیں وہ اکثر مالی مدد کا تقاضا کرتی ہیں، نواب صاحب ان دنوں اپنی صحت کی خرابی کی وجہ سے کہانی ریکارڈ کرانے سے بھی معذور ہوچکے تھے،شدید بلغم اور کھانسی کی زیادتی کے سبب ریکارڈ شدہ آواز صاف سنائی نہیں دیتی تھی لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ کوئی لڑکی یا لڑکا ایسا مل جائے جس سے وہ کہانی لکھواسکیں، ان بوڑھی خاتون نے ایک لڑکی کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ خود بھی کہانی وغیرہ لکھتی ہے لہٰذا اس کی معرفت کشور سلطانہ نواب صاحب کے گھر آئی اور ان کی بیگم کے مطابق واقعی اس کی حالت بہت خراب تھی ، اس کے باپ کو کینسر تھا، گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا لہٰذا نواب صاحب نے اسے اس زمانے میں تین ہزار روپے ماہوار پر اپنے پاس رکھ لیا، کچھ عرصے تک وہ نواب صاحب کے گھر آکر کہانی لکھواتی رہی پھر نواب صاحب نے اپنی بیگم کو بتایا کہ وہ گلستان جوہر میں ایک دفتر بنارہے ہیں جس میں کشور کے والد والدہ اور ایک بہن بھی رہیں گے،گویا نواب صاحب اس لڑکی اور اس کی فیملی کی ہمدردی میں ایک فلیٹ کرائے پر لینے پر تیار ہوگئے تھے اور بالآخر فلیٹ لے لیا گیا جس کے ایک کمرے کو آفس بنادیا گیا اور کشور کی فیملی بھی وہاں شفٹ ہوگئی۔
نواب صاحب صبح وہاں پہنچ جاتے اور شام کو واپس آجاتے لیکن بعد میں وہ وہیں قیام بھی کرنے لگے یعنی دو تین دن رات میں وہیں رک جاتے تھے، اس پر ان کی بیگم کا مشکوک ہونا بجا تھا، ان کے بقول انھوں نے اس معاملے کی تحقیق کی تو ثابت ہوا کہ ہر قسم کا شک و شبہ غلط ہے، کوئی کہانی لکھوانے کے سلسلے میں وقت زیادہ ہوجاتا اور وہ بہت تھک جاتے تو وہیں رک جایا کرتے تھے، اس سے زیادہ اور کوئی بات نہیں تھی، واضح رہے کہ یہ نواب صاحب کی بیگم کا بیان ہے، ہم نے انھیں ٹٹولنے کی بڑی کوشش کی مگر ان کا مؤقف یہی تھا کہ نواب صاحب نے ہر گز دوسری شادی نہیں کی اور نہ ہی کوئی اور غلط تصور اس حوالے سے قائم کیا جاسکتا ہے، ہمارے نزدیک بات ختم ہوگئی تھی اور پھر ہمیں ایک اور اہم واقعہ بھی یاد آیا جو ہماری تسلی و اطمینان کے لیے کافی تھا۔

 


بہت پہلے جب نواب صاحب برنس گارڈن کے فلیٹوں میں ہمارے قریبی پڑوسی تھے تو گھر میں کام کرنے کے بجائے معراج صاحب نے انھیں ہمارے ہی کمروں میں سے ایک چھوٹا کمرا دے دیا تھا، پہلے اس کمرے میں ہم بیٹھا کرتے تھے اب ہم کمرے سے باہر زیادہ کشادہ جگہ میں آگئے تھے لیکن فارغ اوقات میں نواب صاحب کے پاس جاکر کچھ گپ شپ کرلیا کرتے تھے،ایک روز ہم نے ان کی نجی زندگی کے حوالے سے سوال و جواب شروع کردیے، مثلاًپہلا سوال یہ تھا کہ نواب صاحب! لوگ کہتے ہیں کہ دوسری شادی کرنا آسان نہیں ہے ، آپ نے تو تین کی ہیں ، آخر کس طرح آپ تینوں کے درمیان رہ کر ایک مطمئن اور خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں، تین بیویوں سے باآسانی نمٹنے کا راز کیا ہے؟
نواب صاحب مسکرائے، پھر کہا ’’ایک اچھے فکشن رائٹر کے لیے یہ کام آسان ہے‘‘
ہم بھی ہنس دیے اور جوابی سوال کیا ’’آپ کا مطلب یہ ہے کہ بندے کو اعلیٰ درجے کا جھوٹا ہونا چاہیے؟‘‘
نواب صاحب نے ہماری بات کی تائید کرنے کے بجائے ایک دوسرے پہلو سے اپنی بات کی وضاحت کی،کہنے لگے’’ایک سے زیادہ بیویوں سے نمٹنے کے لیے انسان کا حاضر دماغ ہونا ضروری ہے ، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کب اور کس بات کا کیا جواب دیا جائے ‘‘
پھر مثال دے کر ہمیں سمجھایا کہ جب میں کسی بیوی کے گھر جاتا ہوں تو جو لباس پہن کر جاتا ہوں وہی پہن کر واپس آتا ہوں کیوں کہ مجھے تجربہ ہوچکا ہے کہ اگر میں دوسری بیوی کے گھر سے کوئی اور لباس پہن کر واپس آؤں گا تو پہلی بیوی سوال و جواب شروع کردے گی کہ یہ کپڑے کہاں سے آئے؟اس نے بنائے ہیں تو اسے آپ نے اتنے پیسے زیادہ دیے ہوں گے تاکہ وہ آپ کے لیے مزید کپڑے خریدسکے، دوسری بیوی کے گھر میں قدم رکھتے ہی وہ پہلا حملہ اپنی سوکن کے حوالے سے کرتی ہے اور اس وقت اگر کوئی غلط جواب زبان سے نکل گیا تو بعد میں نت نئے فساد پیدا ہوتے ہیں،مثلاً اس نے پوچھ لیا کہ فلاں کا کیا حال ہے تو ضروری ہے کہ اسے بتایا جائے کہ اس کا حال بہت برا ہے،اگر آپ نے یہ بتانے کی غلطی کی تو اس کا حال بہت اچھا ہے اور وہ بہت مزے میں ہے تو پھر کوئی نیا فساد شروع ہوجائے گا،وہ اپنی پریشانیوں اور محرومیوں کا رونا لے کر بیٹھ جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔
اسی قسم کی گفتگو کے دوران میں ہم نے کہا ’’آپ کو دوسری یا تیسری شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ جس شعبے میں ہیں اور خصوصاً فلمی دنیا سے بھی آپ کا تعلق رہا ہے تو آپ کو لڑکیوں کی کیا کمی؟‘‘
اس سوال کے جواب میں نواب صاحب نے جو کچھ کہا وہ بہت اہم ہے، انھوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی لڑکی یا عورت سے اس وقت تک قریبی تعلق قائم نہیں کرسکتے جب تک وہ ان کے نکاح میں نہ ہو، ہم نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا اور کہا’’آپ کہیں سے بھی بہت زیادہ مذہبی نظر نہیں آتے، آپ کے بعض دیگر غیر شرعی مشاغل بھی ہماری نظر میں ہیں پھر آپ اس معاملے میں اس قدر شریعت کی پاسداری کیوں کرتے رہے ہیں؟‘‘
نواب صاحب نے جواب دیا ’’یہ مسئلہ شرعی نہیں ہے بلکہ کسی حد تک نفسیاتی ہے‘‘ انھوں نے بتایا ’’جوانی میں بھی ہمیں بارہا ایسے موقع ملے ہیں جب ہم جو چاہتے کرسکتے تھے اور ایک بار ایسی غلطی کرنے کے لیے تیار بھی ہوگئے تھے لیکن عین وقت پر ہمیں محسوس ہوا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، گویا ہمارا جسم برف کا ہوگیا ہے‘‘
اگر یہ باتیں نواب صاحب نے بہت پہلے ہم سے نہ کی ہوتیں تو شاید ہمیں ان کی بیگم کے بیان پر بھی شکوک و شبہات ہی رہتے، بہر حال ہمارا ذہن اس حوالے سے صاف ہوچکا تھا لیکن معراج صاحب کے اور ادارے کے بعض دوسرے افراد کے شکوک و شبہات باقی رہے۔
کشور سلطانہ خود بھی کہانیاں لکھتی تھی، نواب صاحب اسے گائیڈ کرتے اور پھر نواب صاحب ہی کی سفارش پر معراج صاحب نے اس کی لکھی ہوئی کہانیاں شائع کیں، اسی دوران میں کشور کا معاشقہ کنیڈا میں کسی لڑکے سے شروع ہوگیا اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا، وہ لڑکا کراچی آیا اور کراچی کے ایک ہوٹل میں دونوں کی شادی ہوئی جس میں نواب صاحب، ان کا بیٹا شکیل نواب بھی شریک ہوئے اور اس طرح کشور سلطانہ اپنے شوہر کے ساتھ کنیڈا چلی گئی۔
نواب صاحب کی بیگم کو بعد میں کشور سے بعض شکایتیں پیدا ہوگئی تھیں لیکن اس حد تک کہ ان کا خیال تھا، نواب صاحب اس پر زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں اور اس کی فیملی کو سپورٹ کر رہے ہیں، وہ انھیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے، ایک بیوی کی حیثیت سے ان کی یہ شکایات بجا تھیں، یہاں ہم یہ وضاحت بھی کردیں کہ نواب صاحب کے بڑے صاحب زادے شکیل نواب اور بڑی بیٹی وغیرہ بھی گلستان جوہر کے فلیٹ میں ان سے ملنے آیا کرتے تھے اور ان تمام واقعات کے گواہ ہیں۔

ماہنامہ سرگزشت کی اشاعت

ماہنامہ سرگزشت کا پہلا شمارہ 10 دسمبر 1990 ء کو مارکیٹ میں دے دیا گیا تھا، یہ جنوری 1991 ء کا شمارہ تھا، پہلے شمارے پر ادارے کی روایت کے خلاف ذاکر صاحب کے بجائے آرٹسٹ شاہد کا ٹائٹل تھا اور پھر یہ روایت قائم رہی، ٹائٹل اسٹوری کے طور پر ’’آزادی کا فرار‘‘ اقبال کاظمی کی ترجمہ کردہ سرگزشت تھیں، ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو شاہ پرست تھی اور مذہبی انقلاب سے بے زار تھی، ماڈرن خیالات رکھتی تھی جس کے نتیجے میں اسے ایران سے فرار ہونا پڑا، محمد علی کلے کی بائیوگرافی علیم الحق حقی نے شروع کی تھی، آفاقی صاحب نے اداکارہ رانی کی سرگزشت لکھی جس میں اس کا نام شہزادی رکھا گیا لیکن بعد میں یہ طے ہوا کہ آئندہ سے اصل کرداروں کے نام تبدیل نہیں کیے جائیں گے،چناں چہ پھر اسی پر عمل ہوتا رہا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ آفاقی صاحب سے ناراض ہوئے، خاص طور پر اقبال یوسف، اداکار کمال وغیرہ لیکن کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ ادارے پر کیس کرتا یا آفاقی صاحب پر کیس کرتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آفاقی صاحب جو کچھ بھی لکھتے تھے وہ مکمل سچائی کے ساتھ اور ایماندارانہ طور پر لکھتے تھے۔

ہمیں یاد ہے کہ ایک بار آفاقی صاحب کراچی آئے ہوئے تھے، کراچی میں آفاقی صاحب کی کچھ مخصوص دلچسپیاں بھی ہوتی تھیں، مثلاً یہ کہ مدیر نگار الیاس

 

 

رشیدی صاحب سے ایک ملاقات اور ان کے ہمراہ لنچ ضروری تھا، واپسی پر ضروری تھا کہ الیاس صاحب کے صاحب زادے اسلم الیاس برنس روڈ کی ربڑی آفاقی صاحب کے لیے لائیں جو وہ لاہور لے جائیں، ان کی ہمشیرہ گلشن اقبال میں رہتی تھیں، ان سے بھی ملنے جایا کرتے تھے۔
ایسے ہی ایک موقع پر جب ہم ان کے ساتھ الیاس رشیدی صاحب کے دفتر گئے تو انھوں نے بتایا ’’بھئی وہ اقبال یوسف آیا تھا اور بڑا ناراض ہورہا تھا، تم نے اس کے اور بہار بیگم کے بارے میں کیا لکھ دیا ہے؟‘‘
آفاقی صاحب نے الیاس صاحب سے پوچھا ’’میں نے جو کچھ لکھا ہے، آپ نے پڑھا؟‘‘
الیاس صاحب نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور کچھ معذرت خواہانہ انداز میں کہا ’’پرچا تو مجھے ملتا ہے لیکن مصروفیت اتنی ہے کہ پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا‘‘
جس پر حسب معمول آفاقی صاحب کا طنز و مزاح کا انداز شروع ہوجاتا، خیال رہے کہ ہمارے یہ دونوں بزرگ تقریباً ہم عمر تھے اور آفاقی صاحب ویکلی نگار کے بہت اولین کالم نگاروں میں رہے تھے، وہ لاہور فلم انڈسٹری کی ڈائری ’’علی بابا‘‘ کے نام سے لکھا کرتے تھے، دونوں کے درمیان یک طرفہ بے تکلفی تھی یعنی آفاقی صاحب چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے لیکن الیاس صاحب کبھی خاموشی سے اور کبھی مسکراکر بات ٹال دیا کرتے تھے، بہر حال دونوں ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔
الیاس صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اقبال یوسف یہ کہہ کر گئے ہیں کہ وہ لاہور جارہے ہیں اور آفاقی پر کیس کریں گے، جواباً آفاقی صاحب نے صرف اتنا کہا ’’وہ کچھ نہیں کرے گا، میں اسے جانتا ہوں‘‘ اور پھر یہی ہوا۔
اسی طرح ایک بار جب ہم الیاس صاحب کے دفتر پہنچے تو انھوں نے بتایا ’’ اداکار کمال بہت ناراض ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ میں بھی اپنی بائیو گرافی لکھ رہا ہوں اور اس میں ’’صوفی‘‘ کو بتاؤں گا کہ حقیقت کیا ہے؟‘‘(آفاقی صاحب کے بہت قریبی احباب انھیں صوفی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے)
ہم نے دیکھا کہ اس بات پر آفاقی صاحب کو غصہ آگیا، انھوں نے الیاس صاحب سے کہا ’’وہ کیا لکھے گا؟میں نے تو خیال کیا تھا مگر اب وہ دیکھے گا کہ میں کیا لکھتا ہوں‘‘
ہمیں یاد ہے کہ اس کے بعد آفاقی صاحب نے اداکار کمال کے حوالے سے جو کچھ لکھا وہ بہت ہی سخت تھا، اصل میں اداکارہ شمیم آرا کے ساتھ کمال کے معاشقے کا ذکر جس انداز میں ہوا تھا وہ شاید کمال کو برا لگا ہوگا لیکن بعد میں جو کچھ ہوا وہ اور زیادہ برا لگا ہوگا۔
اداکار کمال سے آفاقی صاحب کی دور دراز کی رشتے داری بھی تھی، نوعمری میں آفاقی صاحب میرٹھ میں اداکار کمال کے گھر میں بھی رہے تھے، پاکستان آنے کے بعد اداکار کمال نے سب سے پہلے جس فلم میں کام کیا اس کا نام ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ تھا، اس فلم کی کہانی آفاقی صاحب نے ہی لکھی تھی لہٰذا دونوں کے درمیان خاندانی تعلقات تھے اور اسی وجہ سے بعد میں آفاقی صاحب اور اداکارہ شمیم آرا کے تعلقات بھی بڑھے، یہاں تک کہ ویکلی نگار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ عنقریب اداکارہ شمیم آرا اور علی سفیان آفاقی شادی کرنے والے ہیں۔
ہمارے ذہن میں اس زمانے کے اخبارات کی یہ خبر موجود تھی لہٰذا ہم نے ایک روز آفاقی صاحب سے پوچھ لیا کہ شمیم آرا سے آپ کا کیا چکر چلا تھا؟
’’کچھ نہیں، ایسی ہی یار لوگوں نے خبر اڑادی تھی‘‘
ہم نے عرض کیا ’’رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے، خبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آج کل شمیم آرا آفاقی صاحب کو روزانہ لانگ ڈرائیو پر لے کر نکلتی ہے‘‘
آفاقی صاحب نے بتایا کہ ان دنوں اداکار کمال سے اس کا رومان عروج پر تھا، دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے بھی ہوتے رہتے تھے اور جن دنوں دونوں میں جھگڑا ہوتا تو وہ کمال کی سرگرمیوں سے باخبر رہنے کے لیے ہمیں گھیر لیتی تھی، گاڑی لے کر آجاتی اور کچھ کھلانے پلانے کے بہانے لانگ ڈرائیو پر نکل جاتی، راستے بھر کمال کے حوالے سے ہمارے کان کھاتی رہتی، اتنی سی بات تھی جس کا بھائی لوگوں نے فسانہ بنادیا۔
ہم نے جراح کرتے ہوئے نیا سوال داغ دیا ’’عام لوگوں کی بات تو ہم مان لیتے ہیں لیکن آپ کے جگری یار جناب الیاس رشیدی کے اخبار نگار میں بھی یہ خبر چھپی تھی، کیا الیاس صاحب خبر لگانے سے پہلے آپ سے تصدیق نہیں کرسکتے تھے؟‘‘
اس سوال پر آفاقی صاحب نے الیاس صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا ’’وہ روایتی مدیر ہیں جو چٹ پٹی خبریں لگانا ضروری سمجھتے ہیں، اس خبر پر جب ہم نے انھیں فون کیا تو معذرت کرنے لگے اور کہنے لگے ، لاہور کے نمائندے کی خبر تھی اور میری نظر سے نہیں گزری، اخبار میں چھپ گئی ‘‘
ہمیں یقین ہے کہ ان کے اس جواب پر آفاقی صاحب خاصے گرجے برسے ہوں گے اور الیاس صاحب نے معذرت ہی کی ہوگی،آفاقی صاحب جب غصے میں آتے تھے تو پھر انھیں ٹھنڈا کرنا بڑا مشکل کام تھا، اس کا مظاہرہ ہم ایک بار اور بھی الیاس رشیدی صاحب کے گھر پر دیکھ چکے تھے ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب شمیم آرا کی مشہور فلم ’’منڈا بگڑا جائے‘‘ سپر ہٹ ہوئی اور اس نے بہت بڑا بزنس کیا، اکثر فلمی صحافیوں کی رائے یہ تھی کہ اس فلم نے پاکستان کی ڈوبتی انڈسٹری کو سہارا دیا ہے، انہی دنوں آفاقی صاحب کراچی آئے تو حسب معمول الیاس صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے، وہاں اس فلم کا ذکر بھی چھڑ گیا، کچھ اور حضرات بھی بیٹھے تھے اور سب ہی اس فلم کی اور شمیم آرا کے کارنامے کی تعریف کر رہے تھے ، الیاس صاحب سب کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے اور شمیم آرا کو بڑا کریڈٹ دے رہے تھے، اچانک انھوں نے آفاقی صاحب سے بھی ان کی رائے پوچھ لی، بس سمجھ لیجیے غضب ہوگیا۔
آفاقی صاحب گویا پھٹ پڑے انھوں نے کہا ’’یار الیاس بھائی ! آپ ایک چربہ فلم کی تعریف کر رہے ہیں اور اس چربہ سازی کو شمیم آرا کا کارنامہ بتارہے ہیں، شرم کا مقام ہے، ڈوب مرنا چاہیے اس ۔۔۔۔‘‘
دونوں بزرگوں میں زور و شور سے مکالمہ شروع ہوگیا، الیاس صاحب کا مؤقف تھا کہ فلم چربہ صحیح لیکن اس وقت اس فلم نے انڈسٹری کو سہارا دیا ہے مگر آفاقی صاحب کسی بھی غلط بات اور غلط کام کی تائید و حمایت کرنے کے قائل ہی نہیں تھے اور اسی وجہ سے وہ فلم ’’کالے چور‘‘کے حوالے سے حبیب جالب صاحب کو ناراض کرچکے تھے، یہ واقعہ آگے بیان ہوگا۔

جنرل منیجر اعجاز رسول

ماہنامہ نفسیات کا آخری شمارہ غالباً اکتوبر 90 ء میں آیا اور بالآخر اعجاز رسول صاحب کو یہ پرچا بند کرنا پڑا، وہ خاصے پریشان تھے، چناں چہ معراج صاحب نے انھیں ادارے میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے کی پیش کش کی یا حکم دیا، بہر حال وہ اس طرح ادارے سے وابستہ ہوگئے۔

ادارے کے انتظامی امور میں خاصی بے ضابطگیاں اور بدانتظامیاں موجود تھیں جو مالی نقصانات کا باعث بھی بن رہی تھیں لہٰذا معراج صاحب نے یہ بہتر سمجھا کہ بھائی کی مدد بھی ہوجائے گی اور انتظامی امور بھی درست ہوجائیں گے۔
اعجاز صاحب کی آمد نے بعض لوگوں کے لیے پریشانیاں پیدا کیں ، خاص طور پر سرکولیشن ڈپارٹمنٹ والے زیادہ پریشان ہوئے کہ ان کی کھانچے بازیاں زیادہ تھیں لیکن ادارتی عملے میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا کیوں کہ مالی امور کا تعلق زیادہ تر سرکولیشن ، پرنٹنگ ، بائنڈنگ اور کاغذ کی خریداری یا شعبہ ء اشتہارات سے ہوتا ہے۔
اعجاز رسول صاحب اپنا کمپوزنگ سیکشن بھی چلا رہے تھے، ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ وہ بہت ہی نرم دل اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے، ہمارے ساتھ ان کے مراسم ہمیشہ بہت اچھے رہے ، وقتاً فوقتاً وہ ہماری مدد بھی کرتے تھے، ایسے کئی واقعات جب انھوں نے اس طرح ہماری مدد کی کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
شاید 1985ء کی بات ہے، ایک روز اعجاز صاحب دفتر آئے ، ان دنوں ہم ان کی کتابیں دیوتا وغیرہ کا کام کیا کرتے تھے،خدا معلوم کس نے انھیں بتایا کہ ہماری وائف اسپتال میں ہیں، انھوں نے خیریت پوچھی تو ہم نے بتادیا کہ ڈیلیوری کیس کے سلسلے میں داخل ہیں، اعجاز صاحب بولے ’’بھائی تو امریکا گئے ہوئے ہیں اور مزید ایک ماہ تک ان کی واپسی کا امکان نہیں ہے‘‘
ہم نے ان کی بات کی تائید کی جس پر اعجاز صاحب بولے ’’یقیناً آپ کو پیسوں کی ضرورت تو ہوگی؟‘‘
ہم نے سر جھکادیا اور کوئی جواب نہیں دیا، اعجاز صاحب نے پانچ ہزار روپے ہمارے سامنے رکھے اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے، اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کیسے انسان تھے ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔
سرگزشت کا پہلا شمارہ ہر نئے پرچے کی طرح عوام میں اجنبی تھا، حالاں کہ سسپنس، جاسوسی ، پاکیزہ اور روزنامہ جنگ میں باقاعدہ پلسٹی کا اہتمام کیا جارہا تھا لیکن فوری طور پر ضروری نہیں تھا کہ ایک نئے انداز کے ماہنامے کو کوئی بڑی پذیرائی حاصل ہوسکے،اس سلسلے میں ایک خصوصی میٹنگ بھی ہوئی جس میں ہمارے علاوہ جمال احسانی بھی شریک تھے۔
میٹنگ میں غور طلب بات یہ تھی کہ پرچے کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے کیا ایسا نیا کام کیا جائے جو غیر معمولی ہو، اس وقت ایک بڑا واقعہ عراق کا کویت پر حملہ تھا اور صدام حسین کی شخصیت غیر معمولی طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی، چناں چہ فوری طور پر صدام حسین کی سرگزشت بھی آئندہ شمارے میں شامل کی گئی اور اسی میٹنگ میں حبیب جالب صاحب کے انٹرویو کا پروگرام بھی زیر بحث آیا۔
اگرچہ یہ ذمے داری آفاقی صاحب کو سونپی گئی تھی لیکن جالب صاحب آفاقی صاحب کے ہاتھ نہیں آرہے تھے، صاف انکار بھی نہیں کر رہے تھے اور انٹرویو کے لیے ٹائم بھی نہیں دے رہے تھے ، اصل وجہ یہ تھی کہ وہ آفاقی صاحب سے ناراض تھے، ناراضی کی وجہ ان کی فلم کالے چور تھی جسے سنسر سرٹیفکیٹ نہیں مل سکا تھا، آفاقی صاحب اس زمانے میں مرکزی سنسر بورڈ آف پاکستان کے ممبر تھے اور انھوں نے فلم کے بعض مناظر پر سخت اعتراضات کیے تھے، خاص طور پر سلطان راہی کا عدالت میں ہنگامہ کرنا وغیرہ ۔
آفاقی صاحب اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے،انھوں نے واضح طور پر معراج صاحب کو بتادیا کہ حبیب جالب کا انٹرویو میں نہیں کرسکوں گا اور میں فی الحال مشہور شاعر سیف الدین سیف کا انٹرویو کر رہا ہوں مگر معراج صاحب ہر صورت میں حبیب جالب صاحب کا بائیو گرافیکل انٹرویو چاہتے تھے، جمال احسانی نے اس کا حل یہ نکالا کہ اپنے ذاتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے لاہور میں کشور ناہید صاحبہ کو فون کیا اور ان سے جالب صاحب کی خیر خیریت معلوم کی۔
حبیب جالب صاحب حسب روایت درویشی کے مزے لوٹ رہے تھے، مالی پریشانی کا شکار تھے، معراج صاحب نے فوری طور پر پانچ ہزار روپے انھیں بھجوائے اور درخواست کی کہ آپ کراچی تشریف لائیں، آپ کے طعام و قیام کی تمام ذمے داری ہم قبول کرتے ہیں اور آنے جانے کا بائی ائر ٹکٹ بھی انھیں بھجوادیا گیا۔(جاری ہے)

- admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے