سر ورق / کہانی / ریل گاڑی چھکا چھک۔۔ نوشاد عادل

ریل گاڑی چھکا چھک۔۔ نوشاد عادل

                                                ریل گاڑی چھکا چھک

          آج صبح سے ہی چاچا چراندی کی ایک آنکھ مسلسل پھڑک رہی تھی۔ وہ ٹھہرے ایک نمبر کے توہم پرست ۔ یہی سمجھے کہ آج کوئی غیر معمولی بات ہونے والی ہے۔ صبح گوشت لینے بازار گئے ۔ مجو قصائی کی دکان پر رش لگا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں گوشت نہیں بلکہ ٹائی ٹانک فلم کے ٹکٹ مل رہے ہیں۔ چاچا اسکڈ میزائل کی طرح بھیڑ میں سے راستہ بناتے ہوئے مجو قصائی کے نزدیک جاپہنچے۔ مجو نے بغدا چلاتے ہوئے چاچا کو دیکھا تو رنگیلے کی طرح اوپر ی ہونٹ اُٹھاکر مسکرایا۔”اوخیر ہو چاچا کی …. آﺅ چاچا آﺅ۔“

          ”ابے اور کہاں آﺅں …. ؟ آتو گیا ہوں…. اب کیا گود میں آﺅں؟“

          ”اوبلے بلے…. آج تو قسمت چمک گئی دکان کی …. چاچا خود چل کر آئے ہیں۔“

          چاچا کے ماتھے پر کئی بل پڑگئے ۔ ابے تو کیا پہلے میں کسی کی پڈی پر بےٹھ کر آتا تھا؟“

          ”او چھوڑو چاچیو…. بولو …. کیا لینا ہے؟“

          ”ظاہر ہے، گوش لینا ہے ۔ کوئی پتنگ لینے تھوڑی آیا ہوں۔ صاف صاف گوشت دیجیو…. چھیچھڑے نکال کے۔“

          ”چھیچھڑے نکال کے ؟“ مجو قصائی کے سر میں دماغ ایک چھٹانک ہی تھا، اس لئے وہ کچھ اور مطلب لے گیا۔” آج چھیچھڑوں کی بریانی پکواﺅ گے چاچا؟“

          ”ابے …. بلی کے چھیچھڑے…. گوشت نکال صاف سا…. بول کیا ریا ہوں، سن کیا ریا ہے ۔“ چاچا بھنا اُٹھے تھے۔

          ”یہ چاچا…. آنکھ کو کیا ہوگیا ہے؟“ مجو قصائی پوچھ ہی بیٹھا۔” رات بھر کیبل پر فلمیں دیکھی تھیں کیا؟“

          ”پتا نہیں کیا ہوگیا ہے …. صبح سے ہی پھڑکے جارہی ہے فالتو فنڈ میں۔“

          ”چاچا مجھے تو لگتا ہے کوئی خو ش خبری ملنے والی ہے تمہیں۔“ مجو بولا ۔ساتھ ساتھ وہ گاہکوں کو بھی نمٹا رہا تھا۔”صحیح بول رہا ہوں چاچا …. دیکھ لینا …. تمہیں اب خوش خبری ملنے ہی والی ہے میری طرف سے …. پہلے ہی مبارک لے لو۔“

          ”مبارک کیوں بھئی ….؟ آج میری سال گرہ ہے ؟“

          ”ارے چاچا لکھ لو…. آج تمہیں خوش خبری ضرور ملے گی…. ابھی تھوڑے سے دن پہلے میری بھی آنکھ پھڑک رہی تھی تو مجھے ایک خوشی ملی تھی۔“

          ”وہ …. وہ کیا….؟“

          ”چاچا مجھے سڑک پر سے پانچ کا سکہ ملا تھا۔“

          ”پانچ کا سکہ؟ “چاچا کی آنکھیںپانچ کے سکے جتنی ہوگئیں ۔”واقعی؟“

          ”تو اور کیا چاچا…. میں کوئی بکواس کررہا ہوں۔“

          ایک آدمی منہ بناکر بولا ۔” یار بھائی مجو…. مجھے تو فارغ کردو جلدی سے…. کب سے کھڑا ہوں ۔ادھر گھر میں مہمان بیٹھے ہیں۔“

          چاچا ٹینک کی نال کی طرح اس بے صبرے کی طرف گھومے ۔ ”مہمان کیا گوش کھانے کے لئے بیٹھے ہیں ۔بھگا دے ایسے ندیدے مہمانوں کو۔“

          ”یار…. یہ …. یہ کیا ہے مجو بھائی ؟“ وہ آدمی غصے سے چلایا۔ کون ہے یہ ؟“

          ”انسان ہوں ۔تجھے کیا چڑیل نظر آرہا ہوں ،پاگل کے بچے ….لینا ہے تو لے، ورنہ بھاگ یہاں سے۔“ چاچا نے اسے ڈانٹ دیا۔

          وہ آدمی پیچ و تاب کھاتا ہوا چلا گیا ۔ چاچا نے مجو سے کہا۔”چل بھئی چل…. پہلے میرا قیمہ بناد۔“

          ”ابھی لو چاچا…. آجاﺅ مڈی پر۔“ مجو نے اشارے سے چاچا کو اوپر آنے کی دعوت دی۔” بنادوں تمہارا قیمہ۔“

          ”ابے میں کیوں آﺅں اوپر فالتو فنڈ میں …. جلدی کر مجھے بہت اہم کام ہے گھر پے۔“

          ”اوہو…. اہم کام…. کون سا اہم کام ہے ؟“

          ”وہ بھوسی ٹکڑے بیچنا ہیں۔ آج یامین سے وعدہ کیا تھا بھوسی ٹکڑے دینے کا۔“ مجو چاچا کے لئے گوشت کاٹ کاٹ کر نکالنے لگا۔    چاچا درمیان میں ہدایات دے رہے تھے۔”ابے ذرا صاف صاف نکال…. یہ کیا نکال رہا ہے گدھے جیسا گوش…. رکھ رکھ یہ چربی …. دور رکھ دے اسے۔اور یہ ہڈی کا ہے کوڈال ریا ہے …. ہیں ؟ ابے سب دیکھ رہا ہوں تیری کارستانیاں…. ہشیار مت بن۔“

          مجو نے چاچا کو قیمہ دے کر رخصت کیا، ورنہ عین غین ممکن تھا چاچا اس کے مزید گاہکوں کو پویلین، یعنی گھروں کا راستہ دکھا دیتے ۔ راستے بھر چاچا زمین پر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے آئے شاید انہیں پانچ کا سکہ مل جائے، مگر انہےں سخت مایوسی ہوئی تھی۔ چاچا اپنے گھر کے دروازے تک پہنچ گئے ۔ابھی انہوں نے دستک بھی نہیں دی تھی کہ گلی میں ڈاکیا اپنی لرزتی ہوئی سائیکل چلاتا ہوا نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھ اُٹھاکر چاچا کو سلام کیا۔” سلام چاچا…. کیسے ہو خےریت ہے نا؟“

          ”خےریت نہیں ہے…. قیمہ ہے ۔ “چاچا نے قیمے کی تھیلی دکھائی۔” تو کیسا ہے خطوط خاں؟“

          ”بہت اچھا ہوں ۔“ اس کے ساتھ ہی خطوط خاں کی سائیکل ڈگمگائی اور وہ دھڑام سے نیچے آگرے ۔سارے خط بکھر گئے ۔

          چاچا نے آگے بڑھ کر اس کی ہیلپ کی۔”چوٹ تو نہےں لگی سائیکل کو ؟“ چاچا،ڈاکیے کے بجائے سائیکل کو ٹٹول رہے تھے۔

          ڈاکیے کا سر ایک پتھر سے ٹکراگیاتھا۔ اس کی یادداشت متاثر ہوئی تھی ۔ اس نے حیران حیران نظروں سے چاچا کی طرف دیکھا اور پوچھا۔” تم کون ہو؟“

          ”میں چاچا ہوں …. مجھے ہی بھول گئے کم بخت۔“ چاچا جھنجلا کر بولے۔

          ”تم چاچا ہوتو میں کون ہوں ؟ “ڈاکیے کا دماغ بالکل ناکارہ ہوگیا تھا۔

          ”تم ڈاکیے ہو۔“

          ”میں ڈاکیا ہوں …. توپھر تم کون ہو؟“

          چاچا نے سرپیٹ لیا۔” ابے میں چاچا ہوں۔“

          ”اچھا تو پھر میں کون ہوں؟“ ڈاکیے کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

          ”ٹھہر ابھی صبر کر دو منٹ۔“ چاچا نے اسے نہایت تحمل سے رکنے کی تلقین کی۔” میں اندر سے ڈنڈا لاتا ہوں۔ پھر تجھے یاد آجائے گا کہ تو کون ہے ۔“

          چاچا جب ڈنڈا لے کر واپس گھر سے نکلے تو ڈاکیا جاچکا تھا ۔ اچانک چاچا نے دیکھا کہ ایک لفافہ ان کے دروازے کے قریب پڑا ہوا تھا۔ چاچا نے لفافہ اٹھایا۔اس پر ایڈریس بھی درج تھا۔ خوش قسمتی سے چاچا کے خاندان میں پڑھنے لکھنے کا رواج نہیں تھا ،لہٰذا انہوںنے بلا سوچے سمجھے جنگلیوں کی طرح لفافہ پھاڑااور اند رسے خط نکال لیا۔ چاچا نے سوچا ،کیوں نہ یہ خط للو اور پنجو سے پڑھوایا جائے۔ بس جناب، پھریہ تھا کہ چاچا مخصوص اونٹ جیسی چال چلتے ہوئے کونسلر صاحب کے دفتر میںآ گئے۔ چاچا سوچ رہے تھے کہ شاید یہ خط انہیں کسی سیٹھ نے لکھا ہوگا ،جو اپنی تمام دھن دولت جائیداد اُن کے نام ٹرانسفر کرکے مرگیا ہوگا، اسی لےے آج آنکھ پھڑک رہی تھی ۔مجوقصائی نے بتایا کہ آج اُن کو خوش خبری ملے گی، اس لئے چاچا بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفتر آئے تھے۔ راستے میں خود شرفو کونسلر صاحب بھی ملے تھے ، جنہوں نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا، لیکن چاچا نے اُن کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کردیا تھا۔ جس جس نے کونسلر صاحب کی بے عزتی کا یہ نظارہ کیا ،وہ قہقہے نہ روک سکا۔ دفتر میں صرف گلابی تھا ۔للو اور پنجو ابھی نہیںآئے تھے۔ گلابی میزکے پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھا جادوگروں کے انداز میں ہاتھ ہلارہا تھا۔ چاچا کو دیکھ کر اس کے منہ سے لاشعوری طور پر نکلا۔

          ”یا اللہ تھیر…. ترم تل دے مالت…. یہ تاتا تھبا تھبا تہاں تھے تپت پلے۔“

          ”ابے او…. شیدی باشا …. کہاں ہیں وہ دونوں ؟ کیا نام ہیں ان کے چلو سک ملوسک۔“ چاچا،للو‘پنجو کے نام ہی بھول گئے۔

          ”تلو ست ملوست نئی…. للو پندو….“ گلابی نے تصحیح کی، جسے خود تصحیح کی ضرورت تھی۔

          ”ابے ہاں وہی …. للو ‘پنجو…. کالو پیلو…. کیسے فالتو قسم کے نام ہیں ۔“

          ”اوہ ابی آنے والے ایں …. تاتا …. میں تمے ایت دادو دتھا ﺅں؟“

          ”دادو؟“چاچا سمجھ نہ سکے۔” نہیں میں تو سانگھڑ دیکھوں گا۔“

          ”وہ والا دادو نئی…. وہ تھو متل والا دادو۔“

          ”ابے تو جادو بول….کیادادو دادو کرریا ہے فالتو فنڈ میں۔“ چاچا اب سمجھے۔

          گلابی نے اُٹھ کر زمین سے ایک چیونٹی پکڑی اور ٹیبل پر رکھ کر منتر پڑھنے لگا۔” اب یہ تو نتی دائب ہودی…. اتڑبتڑ بمبے بو…. اتھی نبے پولے تھو…. تھوتا نتلا دھاوا…. تو رنتل تے بھادا…. تومتل تالی تلنتر…. تالی مائی تا پھیلا…. تھودو۔“

          گلابی نے چھوکرتے ہوئے چیونٹی پر زور سے پھونک ماری ۔اتنے پریشر سے چیونٹی اُڑ کر کہیں غائب ہوگئی۔ گلابی نے اپنا پنکچر سینہ فخر کے پمپ سے پھلاتے ہوئے چاچا کو دیکھا۔”دیتھا دیتھا…. میلا تمال دیتھا…. مدے دادو آتا اے۔“

          چاچا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔” ابے واہ توتلے…. تونے تو کمال کردیا واقعی…. بتاﺅ ذرا…. چیونٹی ہی غائب کردی۔“

          اسی لمحے للو اور پنجو اندر داخل ہوئے تھے۔ ”کیا غائب کردی چاچا؟“ للو نے آتے ہی سوال کیا۔

          ”ابے اچھا ہوا تم آگئے …. میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا ۔“ چاچا ایک دم خوش ہوگئے تھے۔

          ” کوئی بے تکا کام ہوگا۔ “پنجو نے پیش گوئی کی۔

          ”ابے آج صبح سے ہی میری آنکھ پھڑک رہی ہے…. پھڑ پھڑ کر کے۔“

          ”پھڑ پھڑ کرکے ….؟“ للو نے حیرت سے پوچھا۔” پھڑ پھڑ کرکے کیسے پھڑ ک رہی ہے؟“

          ”اب جیسی پھڑکتی ہے …. پھڑ پھڑ….“ چاچا نے منہ بنایا۔

          ”وہی تو معلوم کرنا ہے چاچا…. کیسے پھڑک رہی تھی…. تھوڑا بتاﺅ تو ایکشن سے ؟ “پنجو نے اصرار کیا۔

          ”اب تم دونوں اتنا اصرار کررہے ہوتو دیکھو…. ایسے پھڑک رہی تھی۔ “یہ کہہ کر چاچا نے اپنا پورا بدن مکرانیوں کے اسٹائل میں ہلا ہلا کر دکھایا ۔” پھڑ پھڑ پھڑپھڑ۔“

          ”بس کرو چاچا…. بس کرو…. کہیں اسٹارٹ ہوکر باہر مت نکل جانا۔“ للو نے انہیں روک دیا ۔

           چاچا نے رک کر جیب سے خط نکالا اور اسے دیا۔” یہ دیکھ میرا خط آیا ہے…. ذرا سنائیو زور سے ….بتا کیا خوش خبری لکھی ہے اس میں ۔“ چاچا کا بس چلتا تو گن پوائنٹ پر فوراً خط پڑھوالیتے ۔

          للو نے خط لے کر اپنا گلااتنی بلند آواز میں کھنکارنے لگا،جیسے ابھی اُلٹی کردے گا۔

          ”ابے خط سنائے گا یا قوالی؟جلدی کر۔“ چاچا نے اپنی چونچ ہلائی۔

           للو نے چاچا کا خط بلند آواز میں پڑھنا شروع کیا۔

          ”چاچا یہ لکھا ہے کہ ہم یہاں خیریت سے ہیں اور آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ بڑے دنوں سے آپ نے ہماری طرف چکر نہیں لگایا۔ پچھلی مرتبہ آپ کے گھر ہم آپ کی دعوت میںآ ئے تھے۔ اس مرتبہ آپ ہمارے گھر ابا کے انتقال کی دعوت میں فوراً آجائیں، کیوں کہ ابھی کل ہی میرے والد، یعنی آپ کے بڑے بھائی ٹی وی کھول کر مزید خراب کررہے تھے کہ کرنٹ لگنے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔بہ احسن و خوبی ان کا بالکل خیریت سے انتقال ہوگیا ہے …. آپ جلد پہنچ جائیں …. فقط آپ کا بھتیجا….لو بھئی چاچا جی …. خوش خبری مبارک ہو۔،،

          اچانک دفتر میں شہنائی کی پیں پیںگونجنے لگی ۔ چاچا کا جسم جھٹکوں سے ہل رہا تھا ۔انہوں نے دور بےٹھے بےٹھے دور درشن چینل کیچ کرلیا تھا۔”ارے مرگیا…. مرگیا میرا بھائی …. کم بخت ،بے موت مرگیا…. کیسا بدمعاش تھا میرا بھائی …. ہائے ہائے ۔سب اس سے ڈرتے تھے۔ اس کی ٹکر کا بدمعاش پورے شہر میں کوئی نہ تھا۔ میرا بھائی نہیں مرسکتا…. کہہ دو یہ غلط ہے …. وہ نہیں مرسکتا۔ “

          ”کیوں نہیں مرسکتا…. تمہارا بھائی لوہے کا بنا ہوا تھا؟“پنجو نے پوچھا۔

          ”ابے یہ سب ٹی وی والوں کا قصور ہے ۔“ چاچا اپنی بولے جارہے تھے۔” نہ ٹی وی ہوتا…. نہ وہ خراب ہوتا…. نہ بھائی میاں ٹھیک کرتے اورنہ مرتے ۔“چاچا شعر کہنے کے انداز میں بول رہے تھے۔” دیکھنا…. میں …. میں ٹی وی کمپنی پر کیس کردوں گا۔“

          ”ایسا ہی کرنا چاچا۔“ للو نے تائید کی۔” ٹی وی کمپنی کا ہی سارا قصور ہے…. ان سے نئے ماڈل کا چوبیس انچ کا رنگین بھائی لینا…. ریموٹ کنٹرول والا۔“

          ”میرے بھائی …. میں آرہا ہوں۔“ چاچا نے کرسی سے کھڑے ہوکر ہوک ماری۔

          ”کہاں ….؟ دوزخ میں ؟ “پنجو نے چاچا کو دیکھا۔

          ”ابے اپنے بھائی کے گھر…. میں ضرور جاﺅں گا۔“ یہ کہہ کر چاچا باہر نکل گئے۔

                                                          ٭٭٭

          کالونی تھی ہی کتنی بڑی اور پھر چاچا چراندی ویسے ہی بڑے مشہور تھے۔ سب کو خبر ہوگئی کہ چاچا چراندی کے بھائی چاچا چنگاری بڑے مزاحیہ انداز میں انتقال کرگئے ہیں۔ چاچا نے فوراً رخت سفر باندھا۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اتنا طویل سفر اکیلے طے کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہے کسی کو ساتھ لے جائیں۔ چاچا کے ساتھ جانا اپنی عبرت ناک شامت کو دعوت دینے کے برابر تھا۔اُن کے ساتھ جانے کو کوئی بھی تیار نہیںتھا۔ سب لوگ حیلے بہانے کرکے کنی کترا کر نکل لےے۔ چودھری بشیر نے آخر سخن کوپٹا پٹا کر راضی کرلیا۔ پہلے تو وہ بھی سرکش کھوتے کی طرح دولتیاں ماررہا تھا، لیکن جب چودھری صاحب نے بتایا کہ چا چاچا چنگاری کے انتقال پر انواع و اقسام کے کھانے پکائے جائیں گے اور سوئم والے روز تو کڑاہی گوشت،بریانی اور کھیر بنے گی تو سخن کے منہ سے جگ بھر کے رال ٹپکی اورچودھری صاحب کی ساری قمیص خراب ہوگئی تھی ۔سخن جھٹ راضی ہوگیا۔ بڑی مشکلوں سے اماں نے اجازت دی ،وہ بھی اس شرط پر کہ سخن ان کے لئے شاپر میں کھیر لے کر آئے گا۔

           اب سخن اور چاچا کو کالونی سے تانگے میں سوار ہوکر ریلوے اسٹیشن تک جانا تھا۔ وہاں سے انہیں ٹرین کا ایک طویل ترین سفر کرنا تھا ۔ چاچا کے گھر کے آگے بہت سے افراد جمع تھے۔ وہ سب چاچا اور سخن کو اپنی بدعاﺅں میں رخصت کرنے آئے تھے۔ تانگا گلی میں کھڑا تھا۔ اُن دونوں کا سامان تانگے پر رکھ دیا گیا۔

           سب سے پہلے شرفو کونسلر صاحب آگے آئے اور انہوں نے چاچا کو گلے لگاکر تسلی دیتے ہوئے جھوٹ موٹ غمگین لہجے میں کہا ۔ ”بس چاچا جی بس….قدرت کو یہی منظور تھا…. صبرکرو۔“

          ”قدرت کو کیا بھائی صاحب کا ٹی وی سے کرنٹ کھاکر مرنا منظور تھا؟“ چاچا اس حال میں بھی چراند کرنے سے باز نہیں آئے۔

          ”میرا یہ مطلب نہیں ہے چاچا۔“ کونسلر صاحب نے وضاحت کی۔” میرا کہنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے آنسو پونچھ ڈالو۔ روتے ہوئے بڑے بھیانک لگ رہے ہو۔ فوراً پونچھ ڈالو یہ آنسو…. اُوئے گلابی، اندر سے پونچھا لا جلدی ۔“

          ”ابے رین دے۔“ چاچا نے گلابی کو منع کردیا۔” یہ آنسو نہیں ہیں ۔یہ تو آنکھ میں کچرا گرگیا تھا۔ اس لئے پانی بھر آیا تھا۔“ چاچا نے حماقت کا اعلیٰ ثبوت دیا۔

          ”چاچا…. چاچا….وہاں سے میرے لئے کیا لاﺅگے ؟ “نجمو سبزی والے نے اشتیاق سے پوچھا۔

          ”تیرے لئے ایک پستول لاﺅں گا اور اسی سے تجھے ماروں گا انشاءاللہ ….“ چاچا نے ٹھوڑی پر ہاتھ پھیرا۔

          ” چاچا مجھے ایک دوربین لادینا۔ “یامین بھوسی ٹکڑے والے نے بھی موقع جان کرفرمائش کرڈالی۔ ”مجھے بڑا شوق ہے دوربین کا۔“

          ”دوربین…. ابے میں تجھے صرف بین لاکردوں گا…. بس تو بین بجاتا رہا کر…. الو کے چرخو…. میں کوئی جاپان جارہا ہوں ، جسے دیکھو چاچا یہ لادو…. چاچا وہ لادو۔“

          ”چاچا…. وہ میرے ماموں رہتے ہیں سنگاپور میں …. وہاں ان کا پان کا کھوکھا ہے ۔ اگر راستے میں ادھر جانا ہوتو ان سے مل کر میرا سلام بول دینا۔“ دنبے نائی نے اپنی کہی۔

          ”ابے شکار پور میں رہتے ہوں گے تیرے ماموں …. سنگاپور کی اولاد۔“ کونسلر صاحب نے اس کو جھڑک دیا۔” سنگاپور کوئی گوٹھ ہے ،جو راستے میں پڑے گا۔“

          استاد لارے بھی کھڑے تھے۔ وہ اچانک گلوگیر اور دل سوز آوازیں نکالتے ہوئے چاچا کے گلے سے لگ گئے۔ ”گلے مل لو چاچا ۔ ناجانے پھر ہم مل بھی سکیں گے یا نہیں …. ہوسکتا ہے ،وہ بھوتنی کی ٹرین کسی بھیانک اور خوف ناک حادثے میں تباہ و برباد ہوجائے اور تم جہنم کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوجا ¶۔“

          ”ابے میں کیا آخرت کے سفر پر جا رہا ہوں ؟“ چاچا نے جھٹکے سے انہیں الگ کیا۔” فالتو فنڈ میں الٹی سیدھی منحوس باتیں منہ سے نکال رہا ہے۔“

          ”اوئے اب کوئی نہ بولے ۔“ چودھری بشیر نے حسبِ عادت ہاتھ اٹھائے ۔” لعنت بھیجو چاچا پر…. جانے دو ان کو…. پتا نہیں، وہاں ان لوگوں نے میت دفن بھی کی ہوگی کہ نہیں ۔ ہوسکتا ہے، چاچا کے انتظار میں اب تک میت سڑ رہی ہو اِن کے بھائی کی۔“

          ”میرا خیال ہے، اب تک تو کب کا دبادبو کے جان چھڑالی ہوگی۔“ شرفو صاحب نے رعب دار آواز بناتے ہوئے خیال ظاہر کیا اور گھڑی دیکھ کر بولے۔” اب تو دوزخ میں کوڑے لگانے کا ٹائم شروع ہو گیا ہے۔“

          ”چاچا…. بولو تو لیڈو لادوں گھر سے ۔ٹرین میں کھیلتے ہوئے جانا۔ سفر اچھا کٹ جائے گا تم دونوں کا۔“ للو آگے بڑھا۔

          سخن نے جلدی سے کہا۔” ابے لے …. زبردست…. لالے آ…. جلدی لادے بھاگ کے …. میں تو لیڈو کا چمپئن ہوں۔ چاچا کو سوکھے توڑ سے ہراﺅں گا۔“

          سخن کی خوشی دیکھ کر چاچا کے آگ لگ گئی۔ ”ہاں ہاں کیوں نہیں …. اُدھر ہم میت میں تو ایسے ہی تفریح کرنے جارہے ہیں فالتو فنڈ میں…. اصل میں تو ہمیں لیڈو کی چمپئن شپ میں حصہ لینے جانا ہے نا۔“

          ”چلو چاچا چھوڑو…. اپنا موڈ خراب مت کرو …. خوشی خوشی جاﺅ میت میں۔“ چودھری بشیر نے چاچا کو گودی میں اُٹھاکر تانگے پر آٹے کی کنستر کی طرح رکھ دیا۔سب لوگ سخن اور چاچا کو ٹاٹا کرنے لگے اور باقاعدہ زور زور سے بول رہے تھے۔

          ”ٹاٹا….ٹاٹا….ٹاٹا….“ سخن لیڈروں کے انداز میں جوابی ہاتھ ہلار ہاتھا۔

          کونسلر صاحب نے چلتے چلتے زور سے کہا۔” چاچا…. میت کو ذرا ہوشیاری سے اچھی طرح دفن کرنا۔ کہیں واپس نہ نکل آئے۔“

          ”میری طرف سے قبر پر پھولوں کی چادر، تکیہ اور لحاف ڈال دینا۔“ کسی نے کہا۔

          ”اور میری جانب سے اگربتیاں سلگا دینا قبر پر….“ یہ کوئی تیسرا تھا۔

           یہ فرمائشی پروگرام سن سن کر چاچا کے دماغ کی مینگو چٹنی بن گئی۔ وہ طیش میں آکر تانگے کی سیٹ پر کھڑے ہوئے اور مکا ہوا میں لہرا کر گرجے۔”ابے …. ابے میں جاکر قبر پر دستی بم ماردوں گا…. نہ قبر ہوگی اورنہ تمہاری فرمائشیں پوری کروں گا….“ساتھ ہی اُنھوں نے لہراتا ہوا ہاتھ کوچوان کے کان پر دیا۔” او چل اوئے ٹڈے …. تو کیا کان لگاکر سن رہا ہے فالتو فنڈ میں …. چلا اپنے ڈیڈی کو۔“ چاچا نے کوچوان کا کان نیم گرم کردیا تھا۔

          وہ غریب گھوڑے پر گرتے گرتے بچا۔ پھر اس نے سنبھل کر گھوڑا اسٹارٹ کردیا۔ سخن پتھرائی ہوئی نظروں سے کالونی والوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسے سب لوگ بھوکے ننگے اور چمار لگ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ امریکی ریاست لاس اینجلس جارہا ہے اور سب اسے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ۔چاچا بھی غم سے نڈھال بےٹھے تھے۔ کالونی بہت پیچھے رہ گئی ۔

          کافی دیر بعد سخن نے ایک لمبی دکھ بھری سانس لی اور پوچھا۔” چاچا ….اُدھر کھانے میں کیا کیا ہوگا؟ “

          چاچا نے اژدھے کی طرح زبان نکال کر سخن کو دیکھا۔ ”بہت کچھ ہوگا…. تیرے لئے تو الگ سے اسپیشل کھانا پکایا گیا ہوگا….گرم گرم دولتیاں …. بھنے ہوئے موچڑے…. مصالحے والے جوتے…. ابے حرام خور…. میرا بھائی مرا ہے۔ کوئی ہم اس کی سال گرہ میں جارہے ہیں …. پھر ایک ہی تو بھائی تھا…. وہ بھی مرگیا….پتا نہیں کیا موت آرہی تھی اسے ٹی وی دیکھنے کی…. ایک میں بھی تو ہوں …. آج تلک ٹی وی نہیں دیکھا…. جب بھی دیکھا ،سنیما دیکھا۔“

          ”کیوں جھوٹ بول رہے ہو چاچا۔“ سخن نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔” وہ پہلوان کے ہوٹل پر جاکر کون دیکھتا ہے فلمیں ٹی وی پر….دس مرتبہ دیکھا ہے میںنے تمہیں۔“

          ”اوئے تو بزرگوں کی جاسوسی کرتا ہے کم بخت۔“چاچا ڈھٹائی سے بولے۔

          سخن خاموش ہوگیا تھا۔ چاچا نے کپڑے کی پوٹلی کی ڈوریاں کھولیں اور اس میں سے تمباکو اور چھالیا نکال کر پھانک لی۔ پھر بڑی خار بھری نظروں سے گھوڑے کو دیکھنے لگے، جیسے اُن کے بھائی کے انتقال کا سبب یہی گھوڑا ہے۔شرفو کونسلر صاحب نے ایک نیک کام یہ کردیا تھا کہ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے چاچا اور سخن کی سیٹوں کی ایڈوانس بکنگ کروادی تھی۔ ریلوے اسٹیشن پر حسبِ معمول گہما گہمی تھی۔ چاچا اور سخن پلےٹ فارم پر چل رہے تھے۔ چاچا نے اپنی ٹین کی پیٹی سر پر رکھی ہوئی تھی۔ سخن اُن کی عظیم الشان کپڑے کی گٹھڑی لےے چلا آرہا تھا۔ جابجا پلےٹ فارم پر فقیر اور حالی موالی پڑے ہوئے تھے ۔ غلطی سے سخن ایک چادر اوڑھ کر سوئے ہوئے انسانی وجود پر پیر رکھتا ہوا آگے نکل گیا۔ فوراً ایک ایسی چیخ اُبھری، جیسے کسی بہت بڑے گناہ گار کو دوزخ کے تندور میں پھینک دیا گیا ہو۔ وہ کوئی ہیروئنچی تھا ،جو شاید وہ دو تین دن سے وہاں پڑا سورہا تھا۔ سخن اس سے بے آخبر آگے بڑھ رہا تھا کہ ہیروئنچی نے عقب سے لپک کر اس کا دور بین نما پاجامہ پکڑلیا۔

          ”ابے کدر جاریا اے…. ٹھہر تو ابھی تجھے بتاتا ہوں اندھے۔“ سخن کو جھٹکا اور وہ کچے دھاگے سے سرکار کی طرح بندھا ہیروئنچی کے پاس چلا آیا۔

          ”ابے …. ابے چاچا…. چاچا …. بچاﺅ۔“ سخن کا چہرہ مونگ پھلی کے دانے جیسا ہوگیا۔

          ”ابے تو کوئی پاگل ہے….؟اندھا ہے کیا….؟ خاما خائی مجھے لات کیوں ماری تھی تونے۔ابھی دوں تیرے کو بھی ایک لات۔“ ہیروئنچی سخن کو جھنجوڑرہا تھا۔”تو جانتا نہیں ہے میں کون ہوں؟“

          ”جانتا ہوں،تو ہیروئنچی ہے۔“ سخن بھی اب سنبھل گیا تھا ۔” یہ کوئی سونے کی جگہ ہے ؟اتنا شوق ہے سونے کا تو پٹڑیوں پر سوجا۔“

          ”ابے میرے منہ مت لگ…. دو منٹ میں اندر کروادوں گا۔“ ہیروئنچی نے ایک بار پھر سخن کا پاجامہ پکڑ کر” تڑنگ“ کرکے زور سے چھوڑا ۔سخن کی اَئی نکل گئی۔ اس کی مجبوری یہ تھی کہ اس نے دونوں ہاتھوں میں چاچا کی گٹھڑی پکڑ رکھی تھی۔

          ”ابے یہ کیا کررہا ہے …. ہیروئنچی کے بچے؟“

          یہ سن کر ہیروئنچی نے پھر سے تڑنگ کی اور دھمکی دی۔” اب کچھ بولا تو اچھا نہیں ہو گا۔“

          ”میاں یہ کیا کررہے ہو؟“ ایک بزرگ نے جج کے فرائض سنبھال لےے ۔ خواہ مخواہ اس غریب کا پاجامہ کھینچ رہے ہو۔“

           اس وقت تک چاچا بھی دور جاکر واپس آرہے تھے ۔ وہ لوگوں کی بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے آرہے تھے۔” ہٹو بھئی ہٹو…. سب ہٹ جاﺅ…. دور دور ہٹ جاﺅ۔“

          ”ہاں ہٹ جاﺅ…. دائرہ بنالو…. اب یہ یہاں ڈانس کریں گے۔“کسی آدمی نے کہا ۔

          چاچا نے گھوم کر دیکھا ،لیکن پتا نہ چل سکا کہ یہ جملہ کس نے کہا تھا۔ انتقاماً چاچا نے بھی اس نادیدہ دشمن کو سنانے کے لئے کہا۔”ہاں …. تیرا باپ ناچے گا ابھی ادھر…. پھر اپنے باپ کے ناچنے پر پیسے لوٹیو۔“

          یہ فساد مزید بڑھ سکتا تھا۔ اتفاق سے ٹرین آپہنچی، اس لئے لوگ جھگڑا بھول بھال کر ٹرین کی طرف لپکنے لگے۔ سفر کے شروع میں ہی بدشگونیاں ہوگئی تھیں۔ باقی سفر کیا خاک خوش گوار کٹتا۔ سخن اندر چڑھ گیا اور چاچا سے پیٹی لے کر اندر رکھ لی۔ابھی چاچا ڈبے پر چڑھنے ہی لگے تھے کہ ایک بونا آدمی اُن سے پہلے چڑھتا چلا گیا ۔چاچا دھکا لگنے سے گرتے گرتے بچے۔ انہوں نے فوراً ہی منہ کی چھلنی سے بونے کے پورے خاندان کو چھان ڈالا۔ بونا آدمی اندر چلاگیاتھا۔ چاچا اور سخن اپنی اپنی نشستوں پر جاکر بےٹھ گئے۔ اتفاق سے وہ بونا آدمی اُن کے سامنے ہی بیٹھا تھا۔ سخن برتھ پر چڑھ گیا ۔

          اسی وقت دو آدمی اور آکر وہاں بیٹھ گئے۔ انھےں دیکھتے ہی اچھل پڑا۔ ”چنا بھائی…. منا بھائی …. تم؟ “

          چنا بھائی اور منا بھائی نے بھی سخن کو دیکھ لیا ۔ منا بھائی نے سخن سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ ”ارے میاں کیسے ہو؟ کہاں جارہے ہو؟“

          ”بس ایسے ہی ذرا آب و ہوا تبدیل کرنے ایک انتقال میں جارہا ہوں …. اور آپ دونوں کہاں جارہے ہیں؟“

          ”ہم ایک ضروری کام سے جارہے ہیں۔تم سنا ¶؟کہانیاں لکھ رہے ہو؟“

          ”ہاں ابھی کچھ کہانیاں مکمل کی ہیں۔“سخن نے بتایا۔”ذرا الگ ہٹ کے لکھی ہیں۔“

          ”الگ ہٹ کے ؟….کیا مطلب؟“

          ”بھئی پہلے میں گھر میں بیٹھ کر لکھتا تھا ….اب گھر سے ہٹ کے قبرستان میں بیٹھ کر لکھتا ہوں۔“

          ” گڈ ….کون کون سی کہانیاں لکھی ہیں؟“

          ”کئی ایک لکھی ہے ….خوب صورت ڈھانچا….قبر کے پھول….آوارہ کتے….افیمی گورکن….تازہ جنازہ۔بس میں ماحول کے مطابق لکھتا ہوں ۔“سخن نے پھیلتے ہوئے کہا۔

          چاچا چراندی غور سے ان کی باتیں سن رہے تھے ۔درمیان میں بولے۔” ابے یہ سب کیا ہورہا ہے؟“

          ”چاچا ہم اپنی گفتگو کررہے ہیں؟ “چنا بھائی نے کہا۔

          ”گفتگو؟ “چاچا نے سرہلاکر کہا۔” مگر تمہاری اس بے تکی گفتگو میں گفت تو ہے ہی نہیں۔“

           سخن چپ ہوکر بےٹھ گیا تھا۔ چاچا نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ بونا آدمی ہر پانچ منٹ بعد باتھ روم چلا جارہا تھا۔ پتا نہیں اسے کیا مرض تھا، جو نچلا بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ چاچا گنتی کررہے تھے کہ وہ کتنی مرتبہ باتھ روم کی سیر کرنے جاچکا ہے۔

          جب بونا اٹھارویں مرتبہ باتھ روم سے واپس آیا تو چاچا نے ہمدردانہ لہجے میں اس سے کہا۔”میاں…. جب ایسی کوئی پریشانی تھی تو سیٹ کے بجائے باتھ روم بک کروالیا ہوتا…. اُدھر ہی پڑے رہتے آرام سے…. فالتو فنڈ میں چکر پہ چکر کاٹ رہے ہو۔“

          بونے نے منہ بگاڑ کر کہا۔” میری مرضی…. میں سو مرتبہ باتھ روم جاﺅں …. تمہیں کیا اس سے؟“

          ”ابے مجھے بھلا کیا ہونا ہے اس سے…. تو ایک لاکھ مرتبہ جا میری بلا سے…. میں تو مشورہ دے رہا تھا۔ “

          ٹرین کی حالت زار دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ہر شے بوسیدہ اور احتجاج کرتی نظر آرہی تھی۔ لکڑی کے تختوں کی سیٹیں وہی تھیں، جو انگریز بناگئے تھے۔ پنکھے بھی تقریباً لب گور ہی تھے ۔انہیں خودہوا کی ضرورت تھی۔ ڈبے میں زیادہ افراد نہیں تھے۔ جتنے بھی تھے، سب حالی موالی لگ رہے تھے۔ ایک مسافر تو پورے گھر کا سامان لے کر سفر کررہا تھا، حتیٰ کہ اس نے بکری کو بھی ڈبے میں سوار کرلیا تھا۔ ڈبے کے دروازے کے پاس ایک لنگڑا فقیر بیٹھا چوکس نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ ٹرین مر مر کے چل رہی تھی۔ ایک غیر معروف چھوٹے سے اسٹیشن سے دو انسان نما مخلوقیں ڈبے میں داخل ہوگئیں۔ اُن کے عجیب وغریب حلیے کی وجہ سے سب لوگ ان کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔ ایک آدمی نے ہارمونیم پکڑا ہوا تھا ۔ دوسرا طبلہ لےے ہوئے تھا۔ کپڑے بھی میراثیوں والے چمک دار قسم کے تھے۔آتے ہی انہوں نے ساز بجاتے ہوئے گانا شروع کردیا۔

          میری چیچی دا چھلا ماہی لالیا

          گھر جاکے شکایت لاواں گی

          چاچا زور سے چلائے ۔”ابے او …. چیچی کے چھلے۔ یہ آتے ہی تیرے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگئے…. یہ ٹرین کا ڈبا ہے، یہاں کوئی محفل موسیقی نہیں سجی ہوئی ہے۔“

          ”کیا بات کررہے ہو خالو۔ “چھوٹا میراثی برامان گیا۔ ہم فن کار لوگ ہیں۔“

          ”اور یہ بے کار لوگ ہیں ۔“ سخن نے چنا بھائی اور منا بھائی کی طرف اشارہ کیا۔

          ”تیرا باپ خالو…. ابے میں تجھے خالو نظر آرہا ہوں؟ پچکے ہوئے آلو۔ “چاچا تپ گئے۔

          ”بڑے میاں ہوش میں رہو۔“ میراثی بگڑنے لگا۔” میرے باپ تک مت پہنچنا…. ہاں پہلے ہی بتارہا ہوں ، ورنہ پھر سوچ لو۔“ بڑا میراثی چپ چاپ کھڑا تھا۔

          چاچا تو تھے بہادر ٹارزن ۔فوراً آستینیں چڑھالیں۔” ابے جا…. بڑا آیا کہیں سے…. مجھے دھمکی لگارہا ہے۔ چاچا چراندی کہتے ہیں مجھے …. تو کیا کرے گا میرا…. بہت دیکھے ہیں تیرے جیسے …. اصطبل میں بندھے ہوتے ہیں۔“

          بس پھر کیا تھا، میراثی نے اپنا طبلہ پھینک دیا۔ ادھر سے چاچا چھلانگ لگاکر میدان میں آگئے ۔پورا ڈبا” اوئے اوئے اوئے“ کی آوازوں سے گونجنے لگا۔

           بونا آدمی چلا رہا تھا۔” دے دو….دونوں کے ہاتھوں میں اینٹیں دے دو…. پھوڑ دو ایک دوسرے کے سر…. لڑو …. لڑو ،لڑلڑ کے مرو۔“ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا ۔بکری گھبراکر ”میں میں “کررہی تھی۔ چنا بھائی اور منا بھائی نے بیچ بچاﺅ کروایا۔ اتنی دیر میں چاچانے ریچھ کی طرح پنجے مار کر میراثی کی پوری قمیص پھاڑ دی تھی۔ اب وہ فقیروں کے ڈریس میں کھڑا تھا۔

          ”اوئے، ان کو دور دور بٹھاﺅ…. آتے ہی جھگڑا شروع کردیا۔ “چنا بھائی نے چاچا کو کونے والی سیٹ پر بٹھادیا۔

          دروازے کے پاس بےٹھے ہوئے لنگڑے فقیر نے میراثی کو بلایا۔” اور تو ادھر آجا میرے پاس…. ادھر بےٹھ جا۔ اب تو میرے جیسا ہی لگ رہا ہے…. دونوں بھائی مل کر دھندہ کریں گے۔“

           چاچا بےٹھے بیٹھے جھینگر کی طرح مسلسل جھائیں جھائیں کررہے تھے۔ “ابے ہاں نہیں تو…. میں اچھا خاصا خوشی خوشی اپنے بھائی کے انتقال پر جارہا ہوں …. اور یہ گویا آتے ہی گانے بجانے لگا۔ ابے کوئی غمگین بیٹھا ہو …. دکھ میں ڈوبا ہو…. تمہیں اپنے گانے بجانے کی پڑی ہے۔“

          ”اتنا ہی دکھ ہے تو جانوروں کے ڈبے میں سفر کرلیتے نا۔ “میراثی دروازے کے پاس سے ہی چلایا۔

          “ابے تو میں اور کہاں ہوں…. جانوروں کے ڈبے میں تو ہوں …. طبلے جیسی شکل کے۔“

          بہ مشکل لوگوں کے سمجھانے بجھانے پر دونوں توپیں خاموش ہوگئیں۔ بہت دیر تک تو ڈبے میں خاموشی چھائی رہی ۔ چنا بھائی اور منا بھائی رسالے پڑھ رہے تھے۔ سخن نے کئی مرتبہ اُن سے رسالے مانگے، مگر انہوں نے انکار کردیا۔

           چاچا نے سخن کے بار بار بھیک مانگنے پر تنگ آکر اس کا پاجامہ پکڑ کر کھینچا۔” ابے بےٹھ آرام سے …. جب وہ رسالہ نہیں دے رہے تو تجھے کیا ضرورت فالتو فنڈ میں…. کیوں تجھے مینگنیاں لگ رہی ہےں؟“

          ادھر چنا بھائی نے بڑے میراثی سے پوچھا۔” آپ لوگ گلوکار ہےں؟“

          چھوٹے میراثی نے جواب دیا ۔”ارے جناب…. یہ توبہت بڑے فن کار ہیں …. موسیقی کی دنیا مےں ان کا بڑا نام ہے …. استار سریلے …. یہ فن کا بہتا ہوا دریا ہیں۔“

          ”جبھی ان کی ناک بہہ رہی ہے۔“ منا بھائی نے تعریفی انداز میں ناک دیکھی۔

          ”ارے یہ جس محفل میں جاتے ہیں …. لوگ انہیں واپس جانے نہےں دیتے۔ “

          ”کیوں …. کیوں جانے نہےں دیتے ؟“ منا بھائی چونکے۔” کیا تہہ خانے میں بند کردیتے ہیں؟“

          ”یہ بات نہیں…. اصل میں یہ گاتے بہت اچھا ہیں۔ ان جیسے استاد تو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔“ چھوٹا میراثی اپنے استاد سریلے پر مکھن بازی کررہا تھا۔

          اچانک چاچا بول پڑے۔” ابے صدیوں میں نئیں …. ایسے سکڑے انسان تو سردیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔اس بے سرے سے تو اچھا میں گاسکتا ہوں ۔ یہ تو ایسے گارہا تھا ،جیسے مالک کی قبر پر کتارو رہا ہو۔“

          پہلی بار استاد سریلے کے تیور بگڑ گئے۔ اب تک تو ان کا شاگرد ہی جنگ کررہا تھا۔ اب وہ ہارمونیم سنبھال کرمیدان میں اُتر آئے اور آتے ہی ایک شعر پڑھا۔

          تنقید کررہے ہیں، جو میری اُڑان پر

          اُڑ کر دکھائیں مجھے ،ذرا آسمان پر

          شعر سن کر ادیب سخن اکبر آبادی کے اندر موجود شعر شاعری کا ازلی مینڈک بےدار ہوکر اُچھلنے لگا۔ اس نے بھی ایک شعر بک دیا۔

          دینا تو تھا جواب زمانے کی اینٹ کا

          ہم نے بھی اپنے ہاتھوں میں پتھر اُٹھالیا

          ”بس اب ہمارا اور تمہارا مقابلہ ہوگا گانے کا۔“ چاچا نے باضابطہ اعلان کیا اور ریل کے ڈبے میں بے چینی کا کرنٹ دوڑ گیا۔

          ”ابے یہ بونا آدمی کہاں گیا؟ “سخن نے چونک کر نظریں دوڑائیں۔

          ”ادھرہی ہوگا….باتھ روم میں۔“ چاچا نے منہ بنایا۔

          ”ہاں میں نے بھی دیکھا تھا اسے۔“ منا بھائی نے تائید کی ۔ ”بہت دیر ہوگئی اسے، باتھ روم گئے ۔“

          ”چاچا میں دیکھوں جاکے ؟“ سخن برتھ پر چڑھاہوا تھا ،وہیں سے بولا۔

          ” باتھ روم جاکے کیا دیکھے گا؟رین دے …. آجائے گا وہ خودی۔“ چاچا نے استاد سریلے کے شاگرد کو گھورتے ہوئے کہا۔

          اتنے میں بونا آدمی واپس آتا دکھائی دیا۔ اب وہ پہلے سے کافی ہلکا پھلکا لگ رہا تھا۔ چہرہ بھی تازہ گلاب کے پھول کی مانند کھلا ہوا تھا۔ صاف لگ رہا تھا ،وہ کوئی بہت بڑا تیر مار کر آرہا ہے۔ آتے ہی اس نے سکون بخش سانس لی اور سیٹ پر بےٹھ گیا۔

          ”ہاں بھئی …. نکل گئی بھڑاس…. اب تو چین مل گیا ہوگا؟“ سخن نے بونے سے دوستانہ انداز میں سوال کیا۔

          بونا تلملا کر بولا ۔”یار تم لوگ کیوں میرے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئے ہو؟“

          ”ابے تو کوئی تولیا ہے، جو ہم تیرے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑیں گے؟“چاچا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ان سے جملے بازی میں بھلا کون جیت سکتا تھا۔

           ناگہاں استاد سریلے نے منہ سے گدھے کی طرح پھر رررر کی آواز نکالی اور ہارمونیم بجاتے ہوئے گانا شروع کیا۔ان کے شاگرد نے طبلہ سنبھال لیا تھا۔”چل اڑجا…. رتے پنچھی کہ اب یہ …. دیس ہوا بیگانہ …. چل اڑ جارے پن…. چھی ی ی ی….“ انہوں نے پن چھی کے دو ٹکڑے کردیئے۔ دوسرا ٹکڑا خاصا طویل تھا۔ وہ بار بار یہی گائے جارہا تھا۔

          آخر چاچا چراندی کے صبر کی صراحی اوپرتک لبالب بھر گئی۔ وہ چلاتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔” ابے بند کر یہ چھی ی ی ی….“ ان کا چہرہ دھواں دے رہا تھا۔ ”یہ کیسا ڈھیٹ پنچھی ہے…. اُڑ ہی نہیں رہا ہے …. تمہیں پنچھی اُڑانا نہیں آتا…. لاﺅ مجھے دو یہ اپنا چمارمونیم۔“

          چاچا نے ہارمونیم تقریباً چھین ہی لیا تھا۔ سخن نے برتھ پر سے جھانک کر دیکھا تو چاچا نے سیٹی بجائی۔”کم آن بے …. ادھر مرجا آکے۔“ یہ انگریزی اور اردو کا انڈہ گھٹالا تھا۔

           سخن نے برتھ پر سے آرنلڈ شلوارنیکر کی طرح چھلانگ لگادی اور سیدھا بونے آدمی پر آن گرا۔بونا آدمی اتنی زوردار آواز میں چیخا کہ دروازے پر اونگھتا ہوا فقیر باہر گرتے گرتے رہ گیا۔ سخن اب تک سمجھ نہیں پایا تھا کہ ماجرا کیا ہوا ہے۔ وہ حیران حیران سا اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔بے چارہ بونا ابھی تک اس کے نیچے لال بیگ کی طرح کلبلا رہا تھا ۔

          ”ابھی شاید کوئی چیخا تھا؟“سخن نے خدشہ ظاہر کیا۔ ”کسی کی جان خطرے میں ہے۔“

          ”ابے وہ پپوپا دبا ہوا ہے تیرے نیچے۔“چنا بھائی چلائے۔” اس پر بیٹھ گیا ہے تو۔دیکھ غریب کی سانس رک گئی ہے۔ ابے اٹھ۔“

           چنا بھائی نے گونگھے کی سی سستی سے بڑھ کر سخن کو اُٹھایا۔ تب کہیں جاکر بونے کا دیدار نصیب ہوا ۔وہ گہرے گہرے سانس لیتا ہوا تازہ آکسیجن اپنے پھیپھڑوں میں بھر رہا تھا۔

          ”یہ کہاں سے آگیا؟“ سخن اچھی طرح چونکا۔

          ” تو کود گیا تھا اس پر فالتو فنڈ میں ۔ “چاچا اس آدمی کی بغلوں میں گدگدی کرکے اس کے جسم میں حرارت پیدا کررہے تھے۔

          حیرت انگیز طور پر بونا گدگدی کی وجہ سے مچل کر کھڑا ہوگیا،مگر بولا غصے میں ۔” میں …. میں دیکھ لوں گا تم لوگوں کو…. تم لوگ مجھے جانتے نہیں …. میں اپنے علاقے کے ناظم کا بھائی ہوں۔“

          ”ابے جا…. تیرا بھائی ناظم ہے تو میرا دوست بھی کاظم ہے…. کاظم الدین خان پٹواری…. لڑوالیو میرے کاظم سے اپنے ناظم کو۔“ چاچا نے چیلنج کردیا۔

          ”چاچا چھوڑو…. کہاں سرکھپا رہے ہو…. گانا شروع کرو۔ “ چنا بھائی کو بھی مزے آرہے تھے۔

          چاچا نے اپنا غصہ کھڑکی سے باہر تھوکا اور بےٹھ کر ہارمونیم بجاتے ہوئے گانے لگے۔” سر جو تیرا چکرائے…. اور دل جو ڈوبا جائے۔ آجا پیارے پاس ہمارے …. کاہے گھبرائے کاہے شرمائے…. مالش مالش۔ “چاچا نے جذباتی ہوکر قریب بیٹھے منا بھائی کا سربھنبھوڑڈالا اور زبردستی مالش کرنے لگے۔

           منا بھائی تو پاگل ہوگئے۔” کیا کررہے ہو چاچا…. چھوڑو ہمارا سر۔ “

          چاچا نے فخریہ انداز میں استاد سریلے سے پوچھا۔” بول بے …. استار بے سرے…. کیسا لگا میرا گانا؟“

          استاد سریلے نے دنیا کا سب سے غلیظ منہ بنایا۔” یہ تم گانا گارہے تھے ،ایسا لگ رہا تھا جیسے سبیل کا چندہ مانگ رہے ہو۔ “

          چاچا نے چمک کر کہا ۔” تو کون سا سُر میں گاتا ہے ….گاتے وقت تیری شکل ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی خبیث بڈھی بیوہ ہچکیوں سے میت پر رورہی ہو۔“

          ”یا خدایا۔ “بونے نے اوپر نظریں اٹھائیں۔” آج میں نے کون سا ایسا گناہ کیا تھا، جو اس ڈبے میں پھنس گیا ہوں۔“

          ”گناہ پہ گناہ کےے جارہا ہے بار بار…. اور پھراوپر سے شکایتیں کررہا ہے۔“ سخن نے فوراً جواب دیا۔

           ہارمونیم اور طبلہ دونوں واپس کردیئے گئے تھے۔ اچانک ٹرین رک گئی۔ لوگ کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے ،مگر ٹرین رکنے کی وجہ سمجھ میں نہ آسکی۔ ہوسکتا ہی آگے سگنل بند ہو۔

          ”ابے سخن…. کہیں ٹرین کا ٹائر پنکچر تو نہیں ہوگیا ؟“ چاچا نے پوچھا۔

          ”چاچا جی …. ٹرین میں کوئی سائیکل کے پہیے لگے ہوتے ہیں ،جو پنکچر ہوجائیں گے۔“ چنا بھائی نے جواب دیا تھا۔

           بہت سے لوگ ٹرین سے اُتر کر باہر ٹہلنے لگے۔ سخن ، چنابھائی اور منا بھائی بھی اُتر آئے۔ کچھ دیر بعد چاچا بھی یہ عجلت تمام اُترے اور ہنستے ہوئے ایک بڑے پتھر پر بےٹھ گئے۔چاچا اکیلے اکیلے ہنس رہے تھے۔ اتنے میں ٹرین نے بدمعاشوں کی طرح سیٹی ماری اور آگے بڑھنا شروع کیا۔ چنا بھائی،منا بھائی اور سخن دیگر لوگوں کے ساتھ ٹرین کی طرف دوڑے۔

          چاچا سے اتنی تیز کہاں بھاگا جاتا۔ گرتے پڑتے آرہے تھے۔” ابے رک…. روک ٹرین کو…. ابے کنڈیکٹر کو آواز مار۔“

          سب لوگ ٹرین میں سوار ہوگئے ماسوائے چاچا کے۔ وہ ہانپتے کانپتے ڈبے کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔ سخن کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے لنگڑے فقیر کا ڈنڈا چھینا اور آدھا باہر لٹکتے ہوئے چاچا کی طرف ڈنڈا بڑھایا۔ بالکل انگلش فلم کا سین لگ رہا تھا۔” یہ لو چاچا ڈنڈا پکڑلو۔“

          چاچا نے ہاتھ بڑھاکر ڈنڈا پکڑناچاہا، لیکن صرف دوچار ہاتھ لب بام رہ گئے۔ لمحہ بہ لمحہ ٹرین آگے اور چاچا پیچھے ہوتے جارہے تھے ۔ استاد سریلے اور ان کے شاگرد کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ سخن اور چنا بھائی ،منا بھائی کو زنجیر کھینچنے کا بھی خیال نہ رہا ۔وہ تینوں بری طرح بدحواس تھے۔ استاد شاگرد کے قہقہوں سے ڈبا گونج رہا تھا۔ ڈبے میں موجود بکری بھی میں میں کررہی تھی۔ فقیر اپنے ڈنڈے کے لےے سخن پر بگڑ رہا تھا۔ سخن نے طیش میں آکر وہ ڈنڈا فقیر کی تن درست ٹانگ پر زور سے دے مارا ۔فقیر پورے ڈبے میں لنگڑی پالا کھیلتے ہوئے ناچتا پھرنے لگا۔ ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا۔

          ” بہت اچھا ہو ا ….اس جہنم کے کیڑے سے نجات مل گئی۔سب کی ناک میں دم کردیا تھا اس نے۔“ شاگرد نے خوشی میں سچ مچ بغلیں بجا بجاکر دکھائیں۔

          ”میں شکرانے کے طور پر چار غریبوں کو کھانا کھلاﺅں گا۔“ استاد سریلے نے اعلان کیا ۔

          جیسے ہی اعلان مکمل ہوا، لنگڑا فقیر ”کھٹ دے نی“ سے استاد کے پیروں میں آبیٹھا اور مسمسی ہی شکل بناکر بولا۔” میں چار غریب ہوں۔“

          استاد نے اعلان میں اضافہ کیا۔”اور اس کھانے کا بل غریب ہی ادا کریں گے۔“

          فقیر کی شکل فرش تک لٹک گئی۔

          ” استاد اس خوشی میں وہی گانا ہوجائے ،جو تم اکثر گاتے ہو۔“ شاگرد نے آنکھ مارتے ہوئے طبلہ اٹھالیا۔

           استاد نے بھی ہارمونیم بجاتے ہوئے گانا شروع کردیا۔ “چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے…. کہنے کو جی کہتا رہے۔“

          اچا نک ایک فلک شگاف چیخ اُبھری ۔”یاہو….“اور چاچا چراندی کمانڈو کی طرح جمپ لگاکر اندر آگرے۔

           انہیں دیکھ کر سب لوگ ملی یکجہتی سے چیخے۔” آاااا….“

          سب سے تیز آواز فقیر کی تھی، کیوں کہ چاچا اس کے تندرست پیر پر گرے تھے۔ چاچا نے ستم بالائے ستم کے مصداق ایک لات فقیر کی ٹانگ پر دے ماری۔” ابے آتو گیا ہوں…. اورکیسے آ؟“

           سخن تیزی سے چاچا کے پاس پہنچا۔”چاچا تم؟ کک…. کیسے…. آگئے…. تمہارے پاس مرچیں تو نہیں تھیں جیب میں ؟“

          ”ابے کم بخت…. مرچیں کہاں سے آگئیں میرے پاس۔“ چاچا اپنی سانسیں درست کررہے تھے۔” میں توبہت پیچھے رہ گیا تھا ۔ وہ تو منحوس مارے چار پانچ خون خوار کتے کہیں سے آنکلے تھے…. اور لگ گئے پیچھے۔“ چاچا کی حیرت انگیز واپسی کا یہ راز تھا۔

          ”تمہارے پیچھے کتے لگ گئے تھے؟“ سخن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

          ”ابے تو میں لگوں گاکتوں کے پیچھے؟ “چاچا بھنائے۔

          ”وہ میں اس لئے حیران ہورہا ہوں کہ جب سے تم نے کالونی کے ایک کتے کی ٹانگ چبائی تھی ناں…. تب سے کتے تم سے دور دور ہی رہتے ہیں۔“ سخن نے وضاحت کرتے ہوئے ”پتا نہیں،تمہارے جسم سے اینٹی کتا بدبو پھوٹتی ہے شاید۔“

           ابھی چاچا کوئی جواب بالصواب دینے ہی والے تھے کہ ایک گھٹی گھٹی سی آواز آئی۔”ارے کھولو…. درواز کھولو۔“

          چاچا چراندی کے سوا سب چونک پڑے۔” ابے یہ تو بونے کی آواز ہے…. جبھی بولوںاتنی دیر سے یہ نظر نہیں آرہا ہے۔“منا بھائی کے منہ سے نکلا۔چیخ تو وہ بہت دیر سے رہا تھا، لیکن اتنے ہنگامے میں اس کی صدا بہ بہرہ ثابت ہوئی تھی۔

          چاچا نے چونک کر کہا۔”ابے یہ ابھی تک اندر ہی بند ہے۔“

          چنا بھائی‘ منا بھائی اور سخن چاچا کو مشکوک نظروں سے گھورنے لگا۔ استاد سریلے اور ان کا شاگرد باتھ روم کے دوازے پر پہنچے ۔

          ”یہاں تو تالا لگا ہوا ہے۔“ استاد کے منہ سے سُر میں نکلا۔

          ”چاچا یہ یقینا تمہاری کارستانی ہے ۔“ سخن کو یاد آگیاکہ جب چاچا رکی ہوئی ٹرین سے اُتررہے تھے تو فالتو فنڈ میں مسکرارہے تھے۔

          ”ہاں بے …. تالا تو میںنے لگایا تھا۔“ چاچا نے جیبوں میں ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔” چابی جیب میں ہی رکھی تھی۔ پتا نہیں کہاں چلی گئی۔“

          ”ابے میں اندر کھڑے کھڑے مرجاﺅں گا۔“ بونے رونا شروع کردیا۔

          ”توکھڑا کیوں ہے کم بخت…. بیٹھ جا ….اندربیٹھنے کانا معقول انتظام بھی ہے۔“ استاد سریلے نے باہر سے بونے کو ایک ڈانٹ پلاکر کہا۔

          ”لگتا ہے ،چابی گرگئی ہے بھاگتے میں ۔ “چاچا مایوسی سے بولے۔

          ”چاچا …. اب کیا ہوگا؟“ چنا بھائی فکر مند ہوئے۔

          ”وہ غریب تو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی سے مرجائے گا۔“ منا بھائی نے اپنے علم کے مطابق انہیں آگاہ کیا۔

          ”ہائے ہائے۔“ سخن افسوس کرنے لگا۔’ ’پھر اخباروں میں کیسی خبر آئے گی کہ ایک شخص باتھ روم میں بند ہوکر دم گھٹنے سے مرگیا۔“

          استاد سریلے نے اپنے شاگرد سے کہا۔ ”ابے ڈھولکی …. زنجیر کھینچ دے فوراً۔“

           پہلی مرتبہ شاگرد کا نام معلوم ہوا۔ اس نے زنجیر کھینچی تو تھوڑی ہی دیر میں ٹرین رکی۔ چند منٹ بعد وہاں ٹی ٹی اور ایک پولیس والا آن پہنچے۔

          ”ہاں بھئی زنجیر کس نے کھینچی ہے ؟“ ٹی ٹی نے آتے ہی سوال کیا۔

          ”میںنے جناب۔“ ڈھولکی م ¶دبانہ انداز میں آگے آیا۔

          ”وہ کس لئے؟“

          ’جناب ایک آدمی باتھ روم میں بند ہوگیا ہے۔ ان صاحب نے تالا لگاکر چابی گم کردی ہے۔“ استاد نے چاچا کی طرف اشارہ کیا۔

          ’ایں…. “ٹی ٹی اور پولیس والا حیران رہ گئے۔ ”لیکن تالا کیوں لگایا تھا یہاں؟“

          ”وہ …. میں ایسے ہی تالا چیک کرکے دیکھ رہا تھا کہ لگتا ہے کہ نہیں۔“ چاچا نے گڑبڑا کر عذرِنا معقول پیش کیا۔ ”مجھے شک تھا کہ تالا خراب ہے ،مگر وہ ٹھیک نکلا۔“

          ”اور میاں تم ٹھیک ہو نااندر؟ “منا بھائی نے دروازہ بجاتے ہوئے بونے سے پوچھا، لیکن اندر سے بونے کی آواز سنائی نہیں دی۔

          ”یقینامرگیاہوگا۔“ چاچا نے پورے یقین کے ساتھ کہا۔

          ”ٹھہرو…. میں آتا ہوں ابھی۔“ ٹی ٹی باہر چلا گیا اور تھوڑی دیر میں ایک ہتھوڑی لے آیا۔ بڑی مشکل سے تالا توڑا گیا۔ دروازہ کھلا اور سب کے منہ سے” ارے “نکل گیا۔ خالی باتھ روم سب کو منہ چڑا رہا تھا ۔سب کے سب چکرا رہ گئے۔

          ”ابے …. یہ …. یہ بونا کہاں گیا؟“ استاد سریلے نے ہارمونیم بجایا۔” مم…. مجھے تو لگتا ہے ،وہ کوئی بھوت تھا۔ دھواں بن کر غائب ہوگیا ہوگا۔“ ڈھولکی کی ہوا بھی خراب ہورہی تھی۔

          چاچا نے پولیس والے کوٹہوکامارا۔”ابے تو کیسا پولیس والا ہے …. اندر جاکر اس کو ڈھونڈ۔“

          ”اندر باتھ روم میں کیا دس پندرہ کمرے بنے ہوئے ہیں ،جو اندر جاکر ڈھونڈوں؟“ پولیس والا بھنا اٹھا۔

          ”میں بتاتا ہوں …. وہ کہاں سے نکلا ہوگا۔“ یہ آواز سن کر وہ سب لوگ مڑے ۔

          لنگڑ ا فقیراُن کے عقب میں کھڑ اتھا۔اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، جس کے سہارے اس نے ٹیک لگارکھی تھی۔ سب لوگ متجسسانہ نظروں سے اسے یوں دیکھ رہے تھے، جیسے وہ فقیر نہیں بلکہ شرلاک ہومز کا کزن ہو۔

           سپاہی نے ناک بھوں چڑھاکر پوچھا۔” ابے تو کیسے بتائے گا اوئے…. تیری تو ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے؟“

          ”توکیا یہ لنگڑا ٹانگ سے بولتا ہے؟“ہر بات میں تھوتھنی اَڑانا چاچا چراندی کی ہابی تھی۔” فالتو فنڈ میں غریب لنگڑے کو ٹوک دیا ہے ۔ کوئی ڈسکو ڈانس کرنے تھوڑی آیا ہے یہ۔“

          ”بھئی اس کو بتانے دو۔“ ٹی ٹی بھنا گیا ۔” ادھر آبھئی…. بتا …. ادھر آکے بتا۔“

          ”ایسے ہی بتاﺅں یا ایکشن کے ساتھ؟“ فقیر بھی اونچی فلم تھا۔

          ”ابے کیا جوڈو کراٹے کا مظاہرہ کرکے بتائے گا؟“ سخن کے منہ سے بھی ڈھکن ہٹ گیا۔” ایسے ہی بتادے…. انسانو ںکی طرح …. خواہ مخواہ اچھل کود میں دوسری ٹانگ سے بھی محروم رہ جائے گا۔“

          ”ابے تو تو خاموش ہی رہا کر۔“ استاد سریلے نے سخن کو جھڑک دیا۔” بولتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کتے کے حلق میں ہڈی اَٹک گئی ہے اور اس کے نرخرے سے پھنسی پھنسی آوازےں نکل رہی ہیں۔“

          سخن کے تیور بھی بگڑ گئے ہیں۔ اس نے دونوں پہلوﺅں پر ہاتھ رکھ کر جوابی اٹیک کیا۔”ابے بے سرے استاد…. تو مجھے کتے میں ملارہا ہے …. پہلے اپنی شکل تو دیکھ لے جاکے آئینے میں…. آئینہ بھی بولنے لگے گا …. رنگیلا رنگیلا۔ “

          ”خبردار۔“ ڈھولکی سے اپنے استاد کی بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ وہ چھلانگ لگاکر استاد سریلے اور سخن کے درمیان آگیا۔ ”میں اپنے استاد کو ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ تم میرے سامنے استاد کو ذلیل کررہے ہو؟“

          چاچا چراندی نے ڈھولکی کے کندھے پر تھپکی دی۔” تو چل تو دوسری طرف منہ کرلے …. پھر تجھے اپنے استاد کی بے عزتی دکھائی نہیں دے گی۔“

          چنا بھائی نے زور سے کہا۔” بھئی یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ ایک تویہ فقیر بتانے جارہا ہے کہ بونا آدمی کہاں گیا ہوگا…. اوپر سے تم لوگ آپس میں الجھ رہے ہو۔“

          ”ابے یہ تو گھور گھور کرکسے دیکھ رہا ہے ۔ فالتو فنڈ میں ؟ …. ہیں؟ “چاچا چراندی ڈھولکی پر بگڑنے لگے۔” بتاﺅں ابھی تیرے کو؟ بہت آنکھیں دکھانی آگئی ہیں تجھے۔ ابے آنکھیں نکال دوں گا تیری ،شکرے کی طرح۔ نیچی کر آنکھیں …. نیچی کر…. سنا نہیں کیا؟“

          ”استاد ،خدا کی قسم ….اس پاگل بڈھے کو میں آج جان سے مار ڈالوں گا۔ اس نے سمجھ کیا رکھا ہے خود کو۔“ ڈھولکی تو غصے سے چریا ہوگیا۔

           چاچا نے یہ سنا تو مارے اشتعال کے وہ” تاتا تھیا “کرنے لگے۔ اس سے پہلے کہ دونوں پہاڑی بکروں کی طرح ایک دوسرے کوبھینٹیاں مارتے۔ غرض شناس سپاہی ننجا ٹرٹل کی طرح اُچھل کر ان کے درمیان آگیا ،جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ سپاہی کے درمیان میں آتے ہی چاچا اور ڈھولکی نے ایک دوسرے کو پنچ مارے تھے، جو سپاہی کے اچانک درمیان میں آنے کی وجہ سے اس کے دونوں جبڑوں پر لگے۔ ماشاءاللہ کافی جان دار گھونسے تھے۔ نتیجے کے طور پر تیس دانت باہر آکر گرگئے۔ بس سامنے کے دو دانت زندہ بچ گئے تھے ایک اوپر کا اور ایک نیچے کا ۔

           سپاہی ریل گاڑی کی جیسی آواز میں زور سے چیخا۔ ”پوم…. پوم۔“

          ”ہائیں …. ابے مار ڈالا۔“ ٹی ٹی نے شور مچادیا ۔”ظالموں نے سپاہی کو مار ڈالا…. سارے دانت باہر کردیئے۔“

          ”ابے چوپ۔ “چاچا نے اس سنگین سچویشن میں بھی حواس برقرار رکھے ہوئے تھے ۔ ”اب چلایا تو اُٹھا کے کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا۔ یہ مرا نہیں ہے…. اتنی سی بات کے لئے فالتو فنڈ میں ٹر ٹر کررہا ہے۔ چلو میاں سخن …. سپاہی میاں کے دانت تو اندر ڈالنا ذرا۔“

          چاچا کی بات سن کر سخن ڈبے کے فرش پر گرے ہوئے دانت گن گن کر اٹھانے لگا۔

          ”نائیں…. “سپاہی پوپلے منہ سے چلایا۔

           اس کی چیخ سن کر ٹرین چلنا شروع ہوگئی ۔ شاید ٹرین کا ڈرائیو سمجھا تھا کہ آگے بڑھنے کا اشارہ مل گیا ہے۔سپاہی اُلٹے قدموں ڈبے سے باہر اُتر گیا۔ چاچا اسے روکتے رہ گئے۔ ٹی ٹی ہونقوں کی طرح کھڑا تھا۔

          ”میاں تم بتاﺅ…. کیا بتارہے تھے …. جلدی کرو ،ٹرین چلنا شروع ہوگئی ہے ۔“ منا بھائی نے فقیر سے کہا۔

          فقیر بولا۔” سیدھی سی بات ہے …. باتھ روم میں کوئی ایسا راستہ نہیں دیا گیا، جہاں سے کوئی باہر نکل سکے۔ صرف دراوزہ ہے یا پھر یہ سوراخ ہے۔“ اس کا اشارہ درمیان والے بڑے سوراخ کی جانب تھا۔

          ”اور…. اور دروازہ باہر سے بند تھا۔ “چنا بھائی پرجوش ہوکر اُچھلے۔” اس کا مطلب ہے کہ وہ بونا آدمی اس سوراخ سے باہر نکلا ہے۔“

          ” ابے ہاں …. ایسا ہی ہوا ہوگا۔“ سخن نے بھی حمایت کردی ۔

          ابھی ٹرین نے ٹھیک سے رفتار پکڑی بھی نہیں تھی کہ ٹی ٹی نے ددبارہ زنجیر کھینچ لی ۔ٹرین دوبارہ رک گئی۔ٹی ٹی بہ دقت تمام بولا ۔” تم …. تم لوگوں نے سپاہی کو زخمی کردیا اس کے دانت توڑ ڈالے ہیں ۔تمہیں اس کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔“

          ”دانتوں کا کیا ہے ٹی ٹی صاحب ۔“ استاد سریلے نے چاپلوسی سے کا م لیتے ٹی ٹی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کی۔ یہ الگ بات ہے کہ بال سنورنے کے بجائے مزید بگڑ گئے۔ ٹی ٹی اب جنگلی کی اولاد لگ رہا تھا۔”دانت تو اور نکل آئیں گے …. نہ بھی نکلیں تو کوئی بات نہیں …. ویسے بھی پولیس والوں کے تو دانت ہونے بھی نہیں چاہئیں۔“

          ”یہ لوٹی ٹی صاحب ۔“ سخن نے سپاہی کے دانت ٹی ٹی کی ہتھیلی پر رکھ دیئے ۔”گن لو…. پورے ہیں ۔ بس تین کم ہیں ۔ دو تو سپاہی کے منہ میں رہ گئے تھے ،ایک شایدکسی نے چھپا لیا ہے۔یہ کسی ڈاکٹر سے لگوالینا۔ ڈاکٹر نہ لگائے تو موچی چوبوں سے ٹھونک کر لگادے گا۔“

          ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ یک لخت دروازے سے وہی بونا آدمی چھم سے اُن کے سامنے آکر کھڑا ہوا، جس کے بارے میں ابھی ان لوگوں نے مفروضوں کے لڈو بنائے تھے ۔ اس غریب کی کنڈیشن ویری ویری پلید ہورہی تھی۔کیسے نہ ہوتی، اس نے سرنگ کا سفر جو کیا تھا۔ اس نے آتے ہی سب سے پہلے خونی نظروں سے چاچا چراندی کو گھورا۔”دیکھ لوں گا بڈھے تجھے میں…. اچھی طرح دیکھ لوں گا۔ میرے بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں …. دیکھ لوں گا‘ چھوڑوں گا نہیں ۔“

          ”ابے کیا دیکھے گا؟“ چاچا چڑچڑائے۔” ہیں ؟ دیکھ لے، ابھی دیکھ لے ۔ پورا کا پورا کھڑا ہوں۔“ چاچا رخ بدل بدل کر اپنی باڈی پھلا کر پہلوانوں کی طرح اسٹائل دینے لگے۔” اچھی طرح دیکھ لے…. ورنہ پھر میں اپنا اسٹیشن آتے کے ساتھ ہی اُتر کر چلا جاﺅں گا۔“

          ”چلو میاں چھوڑو…. دفع کرو…. ابھی کوئی نیا جھگڑا مت کرو۔ خاموشی سے اپنی اپنی جگہوں پر بےٹھ جاﺅ۔ اتنی دیر سے ریل گاڑی رکی ہوئی ہے۔“ چنا بھائی نے مفاہمتی ماموں کا کردار ادا کرتے ہوئے چاچا کو ٹھنڈ اکیا۔

          ”یار تم ادھر ہی بےٹھو…. باتھ روم کے پاس۔“ سخن نے بونے کو مشورہ دیا۔” خوا مخواہ پھر آنا جانا لگاکر باتھ روم کو ڈسٹرب کروگے۔“

          ٹی ٹی نے کہا۔” میں جارہا ہوں ۔ اگلے اسٹیشن پر دوبارہ آﺅں گا۔ اپنے ٹکٹ نکال کر رکھنا…. ذرا سپاہی کو بھی جاکر دیکھنا ہے۔“

          ”ابے اومیاں ٹی ٹی …. “چاچا نے اسے روکا ۔ ”اب کی بار کوئی اور سا پولیس والا لائیو….اچھا سا دیکھ بھال کے۔“

          ٹی ٹی بڑی عجلت میں وہاں سے رخصت ہوگیا ، ورنہ شاید اس کا دماغ دھواں بن کر اُڑ جاتا۔ سب افراد اپنی جگہوں پر واپس جا بےٹھے۔ لنگڑا فقیر دروازے کے پاس ہی بیٹھا تھا۔ چاچا اور بونے کو مشرق اور مغرب میں بٹھایا گیا تھا۔ استاد سریلے اور ڈھولکی دھیمے سروں میں کوئی گیت سناکر بونے آدمی کی دل جوئی کررہے تھے۔ چنا بھائی اور منا بھائی خاموش بےٹھے تھے۔ سخن کو فرصت تھی، لہٰذا وہ بڑی چاہ سے چاچا چراندی کے عقب میں جا بےٹھا او راُن کے سر میں سے جوئیں نکالنے لگا۔

          چاچا بولے۔” ابے جوئیں نکال کر کھا تو نہیں رہا ہے؟“

          سخن برا مان گیا۔”چاچا…. انسان کیا کوئی جوئیں بھی کھاتے ہیں …. یہ تو بندروں کے کام ہیں۔“

          ”ابے یہ تو مجھے بھی پتا ہے ، اس لئے تو تجھ سے پوچھاتھا ۔ “چاچا سرہلاکر بولے۔ پھر انہوں نے سرگوشی میں سخن سے کہا۔ ”ابے سخن…. تو ذرا…. میرے بارے میں زور زور سے لمبی لمبی ہانکنا شروع کردے،تاکہ اس بونے اور دوسروں پر اپنا کچھ رعب بھی پڑے۔ اِن کو تو معلوم ہے کہ ہم کوئی ایرے غیرے لوگ نہیں ہیں۔“

          سخن سمجھ گیا ۔پھر اس نے بلند آوا زمیں کہا۔ ”چاچا…. وہ جو تمہارے پاس ایک لمبی سی سائیکل تھی ۔ وہ بیچ دی یا ہے گی ؟“

          چاچا نے پلٹ کر سخن کو لعنت آمیز نظروں سے دیکھا۔” ابے یہ کیا بھونک رہا ہے فالتو فنڈ میں؟“

          ”تم نے تو کہا تھا لمبی لمبی چھوڑنے کا۔“ سخن بے چارہ سہم گیا۔

          ”تویہ لمبی سائیکل کہاں سے ٹپک پڑی بیچ میں ۔ ابے کوئی اور لمبی لمبی باتیں پھینک۔“

          سخن چند لمحات سوچ کر دوبارہ گویا ہوا۔” وہ چاچا…. اس ریل گاڑی میں سفر کرنے سے بہتر تھا کہ ہم تمہاری کارمیں چلے جاتے۔ وہ کار جو تم نے کباڑیئے سے ایک کروڑ میں خریدی تھی۔“ اس کی آواز خاصی اونچی تھی۔

          سب لوگ یہ سن کر ہمہ تن گوش ہوگئے۔ بونے نے خرگوش کی طرح کان کھڑے کرلےے تھے۔ لنگڑا فقیر بھی ہمہ ننگ گوش ہوگیاتھا۔

          ”کبھی کبھی ٹرینوں میں غریبوں کے ساتھ بھی سفر کرلینا چاہئے میاں سخن….گاڑیوں میں تو ہم بچپن سے سفر کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہمارے باپ دادا نے بھی ہمیشہ گاڑیوں میں ہی سفر کےے ہیں۔“

          ”ہاں…. تم نے بتایا تھا ،تمہارے باپ دادا کنڈیکٹر تھے۔“ سخن نے ایسی کی تیسی کرڈالی۔

          ”ابے…. کنڈیکٹر نہیں …. ڈائریکٹر بتایا تھا….“ چاچا نے اسے غضب ناک نظروں سے گھورتے ہوئے چپکے سے نوچا۔

          ” تو چاچا بسوں میں ڈائریکٹر کہاں ہوتے ہیں؟“ چنا بھائی نے دخل در معقولات کیا۔

          ”ابے ہوتے تھے پہلے زمانے میں ۔ “چاچا کا لہجہ ٹھوس‘ مائع اور گیس کا مرکب تھا۔ ”ڈائریکٹر بالکل ڈرائیور کے ساتھ بیٹھتا تھا اور وہ ڈرائیور کو بتایا جاتا تھا کہ اب یہاں گاڑی موڑو…. اب وہاں موڑو۔“

          ”چاچا…. وہ کل برونائی سے دنبے نائی کا فون آیا تھا۔“ سخن نے ایک اور پھینکی ۔

          ”آیا تھا…. پھر پھر…. کیا بول رہا تھا وہ ؟ “دونوں بلند آوازمیں گفتگو کررہے تھے۔

          ”وہ جو تم بال کٹوا کر گئے تھے نا…. اس کے پیسے منگوارہا تھا ….دو لاکھ روپے۔“

          ”اچھا ٹھیک ہے…. بھجوادیں گے۔“ چاچا نے بے پروائی سے ہاتھ چلائے۔

          ”اوراس نے کہا تھا کہ آپ اسے فوراً موبل آئل پر فون کرلیں۔ “

          ”ابے …. موبل آئل پر نہیں ،موبائل فون پر۔“ چنا بھائی نے تصحیح کرتے ہوئے کہا۔

          ”سخن میاں ہم بڑے بھائی صاحب کے گھر جارہے ہیں۔ بچوں کے لئے کچھ چیزیں …. کھانے اور کھیلنے کے لئے لے چلتے ہیں۔ فالتو فنڈ میں ضد کریں گے۔“

          ”ہاں، اسٹیشن سے اُتر کر لے لیں گے۔ دس لاکھ روپے کی گجگ لے لیں گے ، چھوٹے بچوں کے لئے ۔ پپو کے لئے کوئی گاڑی لے لیتے ہیں ۔ اسے گاڑیوںکا بڑا شوق ہے۔کوئی ٹرک خرید لیتے ہیں۔“سخن ایسی ایسی چھوڑ رہا تھا کہ خود چاچا کو چکر آنے لگے تھے۔

           اتنے میں ڈھولکی نے بھی بلند آواز میں استاد سریلے سے کہا۔”استاد…. کیا خیال ہے ۔ اسٹیشن پرہیلی کاپٹر کو بلوالیا جائے …. کہاں ہم کاروں میں خوار ہوتے پھریں گے۔کاروں میں تو بے چارے غریب غرباءآتے جاتے ہیں ۔“

          یہ سن کر چاچا اور سخن کے کان بڑے ہوگئے۔

          ”ہاں ایسا کرلو…. اور وہ ہیروں کو تو سنبھال کر رکھا ہے تو نے …. کہیں گرا مت دینا…. غریبوں میں تقسیم کرنا ہیں ۔“ استاد سریلے بھی مقابلے پر آگئے تھے۔

          ”ہاں وہ میں نے انٹی میں اُڑسے ہوئے ہیں ۔“ ڈھولکی نے اطمینان دلایا۔

          سخن سے بھلا کہاں برداشت ہوتا تھا ۔جو کچھ منہ میں آتا تھا ،فوراً لیک ہوجاتا تھا۔وہ فوراً بول پڑا۔” ابے کپڑے تو مانگے کے لگ رہے ہیں…. تو کہاں سے رکھے گاہیرے….پلپلے کھیرے ۔“

          ڈھولکی نے جواب میں دونوں ہاتھوں اور پیروں کی لعنت دی۔” لعنت تیری شکل پے۔“

          اس سے پہلے کہ ہنگامہ اسٹارٹ ہوتا کہ اچانک ہی ٹرین کی رفتار ایک مرتبہ پھر آہستہ ہونے لگی۔ معلوم ہوا کوئی اسٹیشن آگیا تھا۔ اُترنے والے اُتر گئے اور نئے مسافر چڑ ھ آئے۔ اسی وقت ایک ہٹا کٹا فقیر اُن کے ڈبے میں گھس آیا۔ وہ بے چارہ اندھا تھا، مگر ٹرینوں میںچڑھنے اُترنے کا پرانا کھلاڑی لگ رہا تھا۔ اس نے اندر آکر آنکھوں کے ڈیلے اوپر چڑھائے اور روح ٹھٹھرا دینے والی دل دوز آواز میں چلایا۔

          ”اے بابا…. اللہ کے نام پے بابا…. اندھے محتاج کی مدد کرو بابا …. انکھیاں بڑی نیامت ہیں بابا…. میں کوئی پیشہ ور بھکاری نہیں ہوں…. اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا…. مہنگائی اور ٹیکسوں نے مجھے فقیر کردیا ہے …. کیبل اورڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھ دیکھ کر میں اندھا ہوگیا ہوں …. دس دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا بابا…. میری مدد کریں نیک مسلمان بھائیوں۔“

          اس کی کھردری اور پھٹی پھٹی آواز میں ایسا درد تھا کہ سب لوگ آبدیدہ ہوگئے تھے۔ چاچاچراندی نے سب کی نظریں بچاکر اپنے آنسو صاف کےے اور جیب سے پانچ کا سکہ نکال کر فقیر کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔”یہ لے …. اور جاکر گلے کی خراش کی گولی کھالے …. کم بخت کی کیسی دل خراش آواز ہے…. فالتو فنڈ میں رلا کر رکھ دیا۔“

          ”یہ کتنے ہیں بابا؟“فقیر نے چاچا سے پوچھا۔

          ”بابا کے بچے…. میں چاچا ہوں۔“چاچا چراندی نے منہ بنایااور جواب دیا۔”پانچ روپے ہیں ۔لینا ہے تو لے ،ورنہ واپس کر ۔ “ چاچا نے پیسے جیب میں رکھ لےے۔

          اب فقیر نے سخن کی طرف ہاتھ پھیلایا،جو برتھ پر چڑھا ہوا تھا۔”اللہ کے نام پے بابا۔“

          ”ابے تجھے کیسے پتا ،اوپر کوئی ہے؟“سخن حیران ہو کر اُسے دیکھنے لگا۔”ڈراما تو نہیں کر رہا اندھا ہونے کا؟“

          ” مجھے بدبو آرہی تھی ،یہاں سے….مینڈھے جیسی۔“ فقیر نے سچ کہا۔”کچھ دے دے بابا۔“

          ”میں دعا دے سکتا ہوں۔“ سخن نے ہاتھ اُٹھائے۔

          فقیر منہ بنا کر استاد سریلے کے پاس پہنچا۔”ہاں بابا؟دے دے کچھ اندھے فقیر کو۔“

          ”معاف کرو بابا۔“استاد سریلے نے منہ پھیر لیا۔

          ”اندھے محتاج کو دھوپ کا چشمہ دلا دے بابا۔“فقیربھی میزائل کی طرح پیچھے پڑ گیا تھا۔

          ”بولا نا….معافی دو۔“استاد سریلے کا مغز گرم ہونے لگا۔

          ”ابے فقیر سے ٹافی مانگ رہا ہے۔“چاچا ہنسنے لگے۔

          اتنے میں سخن اوپر سے اُترا اور فقیر کا ہاتھ تھام کر اُسے باہر باہر لے جانے لگا۔”آ ¶ بابا….میں تمھےں کھانا کھلاتا ہوں….بولو کیا کھا ¶ گے؟“

          ”چکن بریانی۔“فقیر کی رال نکلنا شروع ہو گئی۔

          ”او تیری خیر….چکن بریانی….فقیری میں بادشاہت کے مزے….آجا ¶ پھر۔“سخن فقیر کو لے کر باہر نکل گیا۔تقریباً دس منٹ بعد سخن تیزی سے اندر آیااور چاچا کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

          ”ابے اسے کہاں پھینک آیا ….فقیر کو؟“چاچا نے پوچھا۔

          ”وہ بریانی والے کے پاس کرسی پر عزت سے بےٹھا بریانی کھارہا ہے۔“سخن نے خباثت سے دانت نکالے۔ ”میں نے اپنے لئے اور اس کے لئے بریانی منگوائی اور خود کھاکر وہاں سے خاموشی کے ساتھ نکل آیا …. بریانی کی پے منٹ وہ اندھا فقیر ہی کرے گا۔“

          چاچا نے اس کی چالاکی کی داد دی۔”ویسے تو لاکھو ںمیں ایک خبیث ہے ، جس دن تو پیدا ہوا ہوگا توپورے ٹا ¶ن میں طاعون کی بیماری پھیلی ہوگی۔“

          اتنے میں ٹرین چل پڑی۔ استاد سریلے اور ڈھولکی آپس میں باتیں کررہے تھے۔ چنا بھائی اور منا بھائی رسالے مطالعے میں غرق تھے۔ بونا آدمی سب سے بے زار ہوکر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، جب کہ لنگڑا فقیر بدستور درازے کے پاس آسن جمائے بیٹھا تھا۔ اسی وقت ٹی ٹی دوبارہ نمودار ہوا اور آتے ہی زور سے بولا۔”ہاں بھئی …. ٹکٹ…. چیک کراﺅ۔“

          ”سب سے پہلے لنگڑے فقیر سے ٹکٹ لو۔ “منا بھائی نے فقیر کو مروادیا۔ ”یہ دروازے سے پرچوکی دار بنا بےٹھا ہے۔“

          ٹی ٹی ‘منا بھائی کی پٹائی میں آگیا۔” چل بھئی …. ریس کے گھوڑے …. ٹکٹ نکال۔“

          ایک دم فقیربلکتا ہواٹی ٹی کی بے داغ سفید پتلون سے لپٹ گیا اور اس پراپنا منہ رگڑنے لگا۔” بابا…. میں تو فقیر ہوں …. میں تو اللہ کے نام پر سفر کررہا ہوں …. مجھے سسرال جانا ہے۔“

          ”ابے او…. پاگل ٹی ٹی ….“ چاچا نے ٹی ٹی کو بھی نہےں بخشا۔“یہ فقیر بہانے بہانے سے تیری پتلون سے منہ پونچھا رہا ہے۔ ابھی اس نے دس پندرہ کینو کھائے تھے…. تیری پتلون کینو کے کلر کی ہوجائے گی…. ایسا لگے گا ،تونے پتلون کینو کی پیٹی سے نکال کر پہنی ہے۔ ساری مکھیاں تیرے پیچھے لگ جائیں گے فالتو فنڈ میں۔“

          ”اوئے …. ابے ابے …. چھوڑ…. ابے چھوڑ….“ ٹی ٹی فقیر کو ہٹانے لگا ،مگر وہ تو چیونگم کی طرح اس کی پتلون سے چمٹ گیا تھا۔ یہ ایسا سین لگ رہا تھا کہ ہیرو ناراض ہوکر جانا چاہ رہا ہے اور ہیروئن اسے جانے سے روک رہی ہے۔ فقیر، ہیروئن کا کردار ادا کررہا تھا۔

          ”ابے چھوڑتا ہے یا بتاﺅں تجھے میں ؟“ٹی ٹی دھمکیوں پر اُتر آیا تھا۔” چھوڑ…. ورنہ تجھے میں سرکاری پتلون پکڑنے کے جرم میں اندر کرادوں گا۔ “

          لیکن فقیر اِن دھمکیوں سے ذرا بھی مرعوب نہیں ہوا ۔ و ہ بچپن ہی سے ڈھیٹ واقع ہوا تھا۔ ڈھیٹ پن میں تو اس نے ایک ٹانگ تڑوالی تھی ۔ بھلا یہ ٹی ٹی اس کے آگے کیا چیز تھی۔ اس نے ضد میں آکر اور مضبوطی سے ٹانگ پکڑلی۔”نہیں چھوڑوں گا۔ اب تو کسی کا باپ بھی مجھے اس ٹانگ سے جدا نہیں کرسکتا ہے۔“فقیر کے ارادے بلندوبالا تھے۔ ”اب یا تو میں نہیں …. یا پھر یہ ٹانگ نہیں۔“

          ”ابے …. تو…. تو مرے گا میرے ہاتھوں سے …. ابے چھوڑ دے منحوس کی شکل …. اوئے ڈھیلی ہے یہ …. پاگل فقیر…. ابے انسانی ڈھانچے۔“ٹی ٹی چیختا چلاتا رہا۔

           مجال ہے ،جو لنگڑا فقیر ٹس سے مس ہوا ہو۔ پھر ٹی ٹی بھی باقاعدہ خم ٹھونک کر مقابلے پر اُتر آیا۔ وہ بھی فقیر کے سامنے ہی فرش پربیٹھ گیا اور اسے خودسے الگ کرنے کی کوششیں کرنے لگا۔ دونوں کھلاڑی زبردست زور آزمائی کررہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پتلون کشی کا مقابلہ ہے۔ اگر کچھ دیر تک جاری رہا تو یقینا پتلون…. رومال کی طرح دونوں کھلاڑیوں کے درمیان آجائے گی ۔فی الوقت لنگڑے فقیر کا پلہ بھاری تھا۔ اس کی جیت کے امکان روشن تھے۔ لوگوں کو اُمید ہوچلی تھی کہ فقیر کی مہار ت اور محنت آخراورنج رنگ لے آئے گی اور وہ پتلون حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ایسے میں سخن تیزی سے کھلاڑیوںکے نزدیک آکھڑا ہوگیا اور کمنٹری کرنے کے ساتھ ریفری کے فرائض بھی سنبھال لےے۔ باقی لوگ خاموشی سے یہ دل چسپ میچ دیکھ رہے تھے، جو فقیر کی جیت کی صورت میں سنسنی خیز ہوسکتاتھا۔سخن میچ پر رواں تبصرہ پیش کررہاتھا۔

          ”ناظرین….مقابلہ بڑا سنسنی خیز چل رہا ہے۔ یہ میچ پاکستان ریلوے اور گدھا گرایسوسی ایشن کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جارہا ہے ۔ اور یہ گدھا گر نے پتلون کو زور دار جھٹکا دیا…. اور…. اور یہ …. لیکن …. پاکستان ریلوے کے کھلاڑی نے بڑی عجلت اور بوکھلاہٹ میں اپنی گرفت مضبوط کی ،ورنہ یہ میچ اُن کے پیروں سے نکل جاتا…. اس وقت گدھا گر کا پلہ بھاری ہے۔ کسی وقت بھی سارا کا سارا میچ اُن کے ہاتھوں مےںآ سکتا ہے …. اور تماشائی بھی اُن کے فیور میں ہیں ۔“

          ”گدھا گر نہیں …. گدا گر کہتے ہیں ۔“ چنا بھائی نے سخن پر اپنی علمیت کی گٹھلی ماری۔

          ”معلوم ہے ۔“ سخن نے مڑ کر چنا بھائی کو ایسی نظروں سے دیکھا، جیسے وہ کوئی نالی کا کیڑا ہیں۔” یہ گدا گر بہت چالاک ہے۔ اپنی فقیرانہ چالوں سے ٹی ٹی کو گدھا بنارہا ہے ، لہٰذا یہ گدھا گر کہلائے گا۔“

          اُدھر ٹی ٹی روہانسی آواز میں فقیر کے خوشامدیں کررہاتھا۔”ابے چھوڑ دے میرے باپ…. تجھے خدا کا واسطہ…. اب تو چھوڑ دے…. بھائی نہیں ہے میرا پیارا سا؟‘

          ”ابے یہ پیارا سا ہے ۔ “ڈھولکی اور استاد سریلے ہنسنے لگے ۔بونا آدمی بھی ٹی ٹی کی درگت بنتی دیکھ کر خوش ہورہاتھا۔

          ”پیارا سا کہاں…. یہ تو کم بخت مارا سا ہے۔“ چاچا نے اپنے مشاہدے کے اندھیرے میں کہا۔

          ”وعدہ کرو…. ٹی ٹی بھائی …. تم ٹکٹ تو نہیں مانگو گے ؟“ فقیر نے پتلون کو” ٹیاﺅں ٹیاﺅں“ کرکے دو جھٹکے دیئے۔

          ”میرا وعدہ…. پکا وعدہ….نہیں مانگو ں گا…. اب تو چھوڑ دے، دیکھ ساری پتلون کالی ہوگئی ہے۔“ ٹی ٹی کی آواز سیٹی میں بدل گئی تھی۔تب کہیں جاکر فقیر نے پتلون چھوڑی۔ ٹی ٹی پاگلوں کی مانند وہاں سے بدحواس ہوکر بھاگ گیا۔ اس نے باقی لوگوں کے ٹکٹ بھی چیک نہیںکےے تھے۔

          ”ابے آفرین ہے تجھ پر…. اے مردمجاہد۔ “چاچا نے خلوص نیت سے لنگڑے کی تعریف میں لفظوں کی میٹھی جلیبیاں نچھاور کیں ۔ ” کس ڈھٹائی اور بے شرمی سے تو نے اپنی بات منوائی ہے۔ تجھے تو کشمیر میں ہونا چاہےے۔ وہاں تو انڈیا کے فوجیوں کی پتلونیں پکڑ پکڑ کر اپنی بات منوا سکتا ہے۔“

          لنگڑ فقیر کسرِ نفسی اور شرما حضوری کا مظاہرہ کرنے لگا۔”بس جی …. میں کیا…. اورمیری اوقات کیا۔“

          ”چل اچھا ہوا، تو نے خود بتادیاکہ تیری کوئی اوقات نہیں ہے۔“بڑی دیر بعد بونا آدمی اچانک بول اٹھا۔ ”جاکر دوبارہ دروازے کے پاس بےٹھ جاﺅ۔“

          ”ابے یہ زندہ ہے ابھی ؟ “چاچا چونکے ۔” میں توسمجھ رہا رہا تھا کہ یہ بیٹھے بےٹھے مرمراگیا ہے۔“

          ”ابے بڑے میاں….“ بونا چاچا پر غرایا۔” خبردار جو مجھ سے بات کی …. میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیںہے۔“

          ”کیوں …. تیرے منہ پر پھنسیاں نکل آئیں گی؟“ سخن کی تھوتھنی گفتگو کے درمیان آپڑی۔

          ”تم…. تم دونوں پر میں ہتک عزت کا کیس کردوں گا۔“ بونے کا پارہ برتھ پر چڑھنے لگا۔

          ”ہم اس کیس کو حل کرنے کے لئے انسپکٹر جمشید اور انسپکٹر کامران مرزا کو بلوالیں گے۔ پھر تو کیا کرے گا بچو؟“سخن نے اسے ٹھینگا اور زبان دکھائی۔

          ”میں ایک اور کیس کردوں گا۔ “بونا بھی کتے کی دم ثابت ہورہا تھا۔

          ”ابے جا…. جاکے کیس کر یا گیس کر…. فالتو فنڈ میں دھمکیاں دے ریا ہے۔ تو سمجھتا ہے ،ہم ڈر کے بھاگ لیں گے ۔ ابے ہم مرد کے بچے ہیں ۔ بھاگنے والوں میںسے نہیں ہیں …. چھپ جائےں گے، مگر بھاگیں گے نہیں ہاں۔“ چاچا نے گریبان کے بٹن کھول کر سینہ تانا۔

          ”یہ بٹن بند کرلو…. ورنہ میری ہنسی نکل جائے گی۔“ استاد سریلے نے چچا کا پنکچر سینہ دیکھتے ہوئے کہا۔

          ”اگر ہنسا تو بتیسی بھی نکل جائے گی۔“ چاچا نے پہلے ہی الٹی میٹم دے دیا۔

          ”اللہ کے واسطے…. اب تو خاموش ہوجاﺅ سب….“ چنا بھای زور سے چلا کر بولے۔ ”سارا سفر خراب کرکے رکھ دیا ہے تم سب لوگوںنے …. سارے راستے لڑتے جھگڑے آئے ہو۔ کسی کا خیال بھی کرلو تھوڑا سا…. اگر کسی کے پاس تھوڑی سی بھی حیا اور غیرت ہے تو اب کوئی نہ بولے۔“

          ”ٹھیک ہے …. اب جو بولے گا گدھا ہوگا۔“ سخن نے یہ کہہ کر سب کے منہ پر تالے ڈال دیئے۔

          ظاہر ہے گدھا بننے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی شکل تاڑ رہا تھا کہ جس کی بھی معمولی سی آواز نکلے ،اسے گدھا قرار دے دیا جائے۔ ڈھولکی ‘ چاچا چراندی کو دیکھ کر بھنویں اُچکا رہا تھا۔ یہ حرکت دیکھ کر چاچا کا بلڈ پریشر ہائی ہونے لگا۔ ان کی ناک کے دونوں نتھنے پھڑکنے لگے، جو ان کے غصے کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ڈھولکی چاچا کو مشتعل کرکے کوئی بات ان کے منہ سے اگلوانا چاہتا تھا، تاکہ باضابطہ اور سرکاری طور پرآئین پاکستان کے مطابق چاچا کو گدھے کا خطاب دے دیا جائے، لیکن چاچا بھی ایک گھاگ بلکہ گھاگھرا تھے۔ انہوں نے اپنے سر کے بال بڑی مشکلوں سے دھوپ میں سفید کےے تھے۔انہوں نے جھک کر اپنی چپل اُتاری اور ڈھولکی پر کھینچ ماری۔ ڈھولکی نے بچنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کا سر استاد سریلے کی کھوپڑی سے” ٹن“ کرکے جالگا اور چپل عین منہ پر لگی تھی۔استاد سریلے اور ڈھولکی ایک زبان ہوکر چلائے۔ فوراً ہی استاد سریلے کے منہ سے گالیوں کے موتی نکل نکل کر ڈھولکی پر نچھاور ہونے لگے۔ انہوںنے ڈھولکی کے بال پکڑ کربندر کی طرح نوچ ڈالے۔

          ڈھولکی تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھا۔”اللہ اللہ …. اوئے …. آئے …. آئے میں مرا…. اوف ….میرے بال اللہ میاں مجھے بچالو…. آ …. ائی….“

          ”بول دیا بول۔“ سخن خوشی سے تالیاں بجانے لگا ۔”دونوں نے بول دیا…. یعنی اس کا مطلب ہے ،یہ دونوں گدھے ہیں۔“

          چاچا چراندی بھی اپنی فقید المثال کامیابی پر نازاں و فروزاں دکھائی دے رہے تھے۔ چنا بھائی اور منا بھائی باری باری ایک دوسرے کا سردبارہے تھے۔ اتنے میں ڈبے کے کونے میں بیٹھے دو آدمی اٹھ کر ان کے نزدیک آپہنچے۔ یہ کوئی نئے مسافر تھے اور پچھلے اسٹیشن سے ہی چڑھے تھے۔انہوں نے ایک لمحے میں پستول نکال کر ان سب پرتان لئے۔

          ”خبردار کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے …. اور کسی کی آواز نہیں نکلنی چاہےے ورنہ ….“ ایک ڈاکو نے دبنگ آواز میںکہا۔اچانک ہی ڈاکوﺅں کے آنے سے وہاں کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا۔ سب کے چہرے پیلی ٹیکسیوں جیسے ہوگئے تھے۔

          ”جس کے پاس جو کچھ ہے …. وہ سب نکال دو…. چلو۔“ دوسرے ڈاکو نے ان سب کو حکم دیا۔

          ”ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے ڈاکوبھائی۔“چاچا نے بیل کی طرح سرہلاکر ڈاکوﺅں کو مژدہ سنایا ۔

          ” اوئے ….“ایک ڈاکو نے زوردار بڑھک ماری اور اسے کھانسی آگئی۔ ”کھوں کھوں کھوں ….“ وہ اپنے ساتھی ڈاکو کے منہ پر پر ہی کھانس رہا تھا۔

          ”ہاں …. خوب کھائی ہوں گی مونگ پھلیاں؟“ چاچا ان کو ڈانٹنے لگے۔” اب لگی کھانسی…. آیا مزہ؟“

          ”اوئے بڑے میاں ۔“ اس ڈاکو نے چاچا کو گھورا۔” مجھے ڈانٹ رہے ہو…. تم جانتے نہیں…. ہم کون ہیں ؟”

          ”ایمان سے بالکل نہیں جانتے ۔“ چاچا نے مسکراکر کہا۔

          ”ہمارے نام سن کر تو بڑے بڑے تیس مار خاں لوٹے بھرتے نظر آتے ہیں ۔ پولیس ہمارے نام سے تھرتھر کانپنے لگتی ہے۔ مائیں ہمارے نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔“ ڈاکو لمبی چھوڑنے لگا۔

          ”کیوں …. تمہارا نام زباٹا دیو ہے ؟“ چاچا نے پوچھا اور کسی کی اتنی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ ڈاکوﺅں کے سامنے زبان کھولے صرف چاچا ہی چیں چیں کررہے تھے۔

          ”خبردار…. زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو۔“ دوسرے ڈاکو نے ان کو بری طرح لتاڑدیا۔ ”میرا نام بہرام ڈاکو ہے اور یہ میرا ساتھی سلطانہ ڈاکو ہے۔“

          ”سلطانہ؟“ سخن چونک اٹھا۔”سلطانہ تو میری پھوپھی کا نام ہے تو تمہارا ساتھی میری پھوپھی ہوا…. آداب پھوپھی جان ۔“

          پھوپی جان نے سخن کی کالی گردن دبوچ لی۔” ابھی بتاتا ہوں تجھے میں …. آداب کے بچے۔“

          ”ارے یہ مرجائے گا…. یہ تو بڑے کام کی چیز ہے ۔“استاد سریلے نے مداخلت کی۔

          ”یہ جنگل جلیبی کی شکل والا کس کام آئے گا؟ “سلطانہ ڈاکو نے سخن کی گردن میں تقریباً دو بل دے ڈالے، لیکن سخن بڑا ڈھیٹ تھا ،مرا نہیں ۔

          ”کئی کاموں میں استعمال کرسکتے ہو بھائی ڈاکو۔“ استاد سریلے نے ڈاکو کو معلومات کا خزانہ فراہم کیا۔” اگر آپ کے گٹر میں کچھ پھنس جائے تو اسے بانس کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر مچھلی کا شکار کرنے جائیں تو کانٹے میں کیچوے کی جگہ اِسے لگاسکتے ہیں اور گھر کی رکھوالی کے لئے رات کو اسے لان میں کھلا چھوڑا جاسکتا ہے ۔ پھر چور تودور کی بات …. رحمت کے فرشتے بھی نہیں آئیں گے۔“

          ”دفع کر یار اسے …. چھوڑ دے۔“ بہرا م ڈاکو نے اپنے ساتھی سے کہا۔تب اس نے سخن کی گردن چھوڑدی ۔ سخن کی کھوپڑی دو چکر کھاکر اصلی حالت میں سیدھی ہوگئی۔

          ”سب لوگ اپنے اپنے ہاتھ اوپر اٹھالیں۔ “بہرام ڈاکو نے تمام لوگوں کو ایئر ہوسٹس کی طرح ہدایت دیتے ہوئے کہا۔ ”موبائل آف کردیں۔کھڑکیوں سے باہر نہ جھانکیں اورمنہ بند کرلیں۔“ پھر اس نے لاتعلق سے انداز میں بےٹھے چنا بھائی اور منا بھائی سے مخاطب ہوکر کہا۔” اوئے چلو…. تم لوگ بھی ہاتھ اوپر کرلو….تم کیا چالیسویں میں پلا ¶ کھانے آئے ہو؟“

          تما م افراد نے ہاتھ بلند کرلےے۔ لنگڑا فقیر بڑے اطمینان سے بیٹھا تھا۔ سلطانہ ڈاکو نے آگے بڑھ کر اس کے پہلو میں لات ماری ۔ ”ابے لنگڑے …. تونے سنا نہیں کیا…. ؟ چل ہاتھ اوپر کر….“ لنگڑا فقیر بلبلا اُٹھا۔

          چاچا چراندی خوش ہو گئے ۔اُن کا چہرہ گلاب…. جامن کی طرح کِھل اُٹھا۔وہ سر ہلا کر بولے ۔” اچھا ہوا ….اچھا ہوا….بہت خوشی ہوئی۔“

          سلطانہ ڈاکو نے ان سب لوگوں کی فرداً فرداً تلاشی لینی شروع کردی۔ سب سے پہلے اس نے سخن کی جامہ تلاشی لی۔

           سخن نے اس سے کہا۔”مم…. میں ہاتھ نیچے کرلوں؟“

          ”خبردار…. ہاتھ نیچے کےے تو گولی ماردوں گا۔“

          ”توپھر ایک کام کردومیرا۔“

          ”کیا کام؟“

          ”میرے پیٹ پر کھجلی ہورہی ہے …. تم کھجلی مچادو؟“

          ”کوئی ضرورت نہیںہے، کھجلی مچانے کی ۔“ بہرام نے اپنے ساتھی کو منع کردیا۔

           سطانہ ڈاکو تلاشی لیتا رہا ۔جب چاچا چراندی کی باری آئی تو چاچا” ابے ابے“ کرکے بل کھانے لگے۔ ”ابے تلاشی لے رہا ہے یا گدگدی کررہا ہے…. فالتو فنڈ میں ۔“

          سلطانہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے چاچا کی پیٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو چاچا اُچھل کر کھڑے ہوگئے اور سلطانہ ڈاکو کے سامنے کھڑے ہوکر غرائے۔”اسے نہیں کھولنے دوں گا…. چاہے سخن کی جان چلی جائے۔“

          ”سامنے سے ہٹ جاﺅ بڑے میاں ۔ “سلطانہ نے پستول چاچا کے سینے پر رکھ دیا۔” ورنہ گولی چل جائے گی۔“

          ”چلا دے بھلے سے…. مگر میں وہ چیز پھر بھی نہیں لینے دوں گا، مرنے کے بعد بھی میری بدروح تیرا پیچھا کرے گی ۔“ چاچا چٹان بنے کھڑے تھے۔

          ”بدروح سے تو کم اب بھی نہیں ہو۔ “بونے نے عین موقع پر چوٹ کی۔

          ”ایسی کیا چیزہے وہ ؟“سلطانہ ڈاکواور بہرام ڈاکو تجسس کے اخروٹ کھارہے تھے ۔”جس کے لئے تم جان پر ٹورنامنٹ کھیلنے کو تیار ہو؟“

          ”پہلے وعدہ کرو…. اگر میں بتادوں گاتو تم وہ لوگے نہیں۔“ چاچا بولے۔

          ”چلو اچھا ….ٹھیک ہے، کیا یاد کروگے تم بھی …. اب بتاﺅ؟“

          بتانے کی بجائے چاچا نے خود اپنے دست ناپاک سے پیٹی کھولی اور ایک کاغذ کی بڑی سی پڑیا نکال کر دکھائی۔”یہ ہے وہ چیز، جس کے لئے میں دس قتل بھی کرسکتا ہوں۔“

          ”کیا ہے یہ ؟“ دونوں ڈاکو کو حےرت سے اسے دیکھنے لگے ۔” اس میں ہیرے موتی رکھے ہیں؟“

          ”اس میں آم چور ہے ،حکیم بڑے پیٹو کے ہاتھوں کا بنا ہوا …. اسے کھانے سے پیٹ کے تمام کیڑے مرجاتے ہیں۔ اگر تمہارے پیٹ میں کیڑے ہیں تو ایک چٹکی پھانک لو۔“

          دونوں ڈاکوﺅں کے منہ لال بلکہ لالٹین ہوگئے…. غصے کے مارے ۔خیر انہوں نے جان لیا تھا کہ اس خبطی بوڑھے سے فضول اُلجھنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے چنا بھائی اور منا بھائی کی تلاشی لی۔ ان کے پاس سے صرف رسالے ہی نکلے۔ باقی تھوڑے بہت پیسے تھے۔ سب سے تگڑی رقم لنگڑے فقیر کے لباس سے برآمد ہوئی۔ وہ غریب روتا رہ گیا۔بہرام نے استاد سریلے کی تلاشی لی تو استاد احتجاجاً بولے۔

          ”ہم …. ہم تو فن کار ہیں ۔تمہیں ہمارے پاس سے کچھ نہیں ملے گا۔ ہماری دولت تو ہمارا فن ہے۔ اگر کہو تو کوئی گیت سنادیں؟“

          ”یہ سازش کررہا ہے …. اس کا گیت سن کر تمہیں موت آجائے گی۔“ سخن نے جلدی سے ڈاکوﺅں کو خبردار کیا۔” اس سے اچھا تو چاچا گالیتے ہیں…. اور وہ بونا آدمی بہت اچھا ڈانس کرلیتا ہے۔“ اس نے بونے کو پھنسوادیا۔

          بونا یہ سن کر اچھل پڑا۔” کیا…. میں …. ڈانس کرلیتا ہوں ؟“

          ”اور کیا…. ابھی کون ناچ رہا تھا ایک ٹانگ اٹھاکے ؟“ سخن نے چالاکی سے کہا ۔

          ادھر چاچا کا دماغ تیزی سے بچاﺅ کی ترکیب سوچ رہا تھا۔ انہوں نے ہاتھ گرا کر ڈاکوﺅں کی پروا کےے بغیر دوبارہ پیٹی میں ہاتھ ڈالا اور ایک دوسری پڑیا نکال لی۔”ارے بھئی ڈاکوﺅں…. یہ لو…. یہ کھاکر دیکھو …. تمہاری چاچی نے بنایا ہے….یہ میں تمہارے لئے لایا تھا۔“ وہ ڈاکوﺅں سے اس طرح بول رہے تھے، جیسے وہ ان کے بھتیجے ہوں۔

          ”یہ کیا ہے؟“

          ”ابے تم کھاﺅ تو…. پنجیری ہے یہ …. یہ لو…. لاﺅ ہاتھ آگے کرو…. آرام سے …. صبر سے…. سب کو ملے گی…. ندیدہ پن مت کرو…. آﺅ سب آجاﺅ۔“

          پنجیری کا سن کر ڈاکو ‘ سخن‘ استاد سریلے ‘ بونا‘ ڈھولکی ‘ چنا اور منا بھائی اور حتیٰ کہ لنگڑا فقیر بھی چاچا کے پاس چلا آیا۔ سب پنجیری کے دیوانے ہورہے تھے۔چاچا سب کو تھوڑی تھوڑی پنجیری بانٹ رہے تھے۔ ڈاکوﺅں نے پستولیں ایک طرف رکھ دیں اور شوق سے پنجیری کھانے لگے۔ خود چاچا نے نہیں کھائی۔ تھوڑی ہی دیر بعد چاچا کی چال رنگ لے آئی۔ سب سے پہلے سخن اُٹھ کر باتھ روم کی جانب بھاگا۔ اس نے ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا ہوا تھا۔ ابھی وہ چند قدم ہی بھاگا تھا کہ لنگڑے فقیر نے اپنا ڈنڈا اس کے پیروں میں اَڑا دیا۔سخن زور سے گرا۔ لنگڑے فقیر نے باتھ روم میں گھسنے کی کوشش کی تو سلطانہ ڈاکو نے اسے پکڑلیا۔”کہاں جارہا ہے بے …. پہلے میں جاﺅں گا۔“

          لیکن بہرام ڈاکو نے سلطانہ سے پہلے باتھ روم میں قدم ڈال دیا۔”سب سے پہلے میں ….میں تمہارا سردار ہوں ۔“

          اتنے میں بونا‘ چنا بھائی اور منا بھائی بھی باتھ روم کے دروازے تک جا پہنچے اور اُن میں گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی تھی۔ڈھولکی اور استاد سریلے بھی اپنے اپنے محاذ پر جتے ہوئے تھے۔بات صرف اتنی تھی کہ پنجیری میں جمال گھوٹا ملا ہوا تھا۔ ذرا سے جمال گھوٹے نے اتنے آدمیوں کو لڑوا دیا تھا۔ باتھ روم کی قدروقیمت میں اچانک ہی اضافہ ہوگیا تھا۔ سب ایک دوسرے کو کھینچ رہے تھے۔دھکے دے رہے تھے۔ ایک موقع پربونا اندر گھسنے میں کامیاب ہوگیا تو منا بھائی نے اسے کر گود میں اٹھالیا اور باہر چھوڑ دیا۔ اتنے میں چنا بھائی کا موقع لگ گیا۔ تو سب لوگوں نے ڈنڈا ڈو لی کر کے انہیں باہر نکال دیا۔ سخن لوگوں کی ٹانگوں کے درمیان سے اندر گھسنے لگا تو بہرام ڈاکو نے اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ لیا۔چاچا چراندی بڑی دل چسپی سے آمچور پھانکتے ہوئے یہ ملاکھڑا دیکھ رہے تھے۔ سلطانہ ڈاکو نے لپک کر اپنا پستول اٹھالیا اور سب پر تان کر چیخا۔

          ”خبردار…. ایک ایک کو گولی ماردوں گا…. دور ہوجاﺅ …. سب دور ہٹ جاﺅ….مجھ سے دور ہو جا ¶۔“

          ” کیوں بھئی ….تم سے دور کیوں ہو جائےں…. سب خیریت تو ہے نا؟“ چاچا نے انجان خدشے کے تحت دریافت کیا۔

          ”کیا بکواس کررہا ہے ؟ “بہرام نے پیٹ تھامتے ہوئے اسے ڈانٹا۔” مجھے بھی کہہ رہا ہے؟“

          ”ہاں …. معاملہ ہی اتنا نازک اور سنگین ہے۔ اس معاملے میں کوئی کسی کا نہیں ہوتاپیارے۔“ سلطانہ کے چہرے کے تاثرات بری طرح بگڑے ہوئے تھے۔ اس نے پنجیری شاید زیادہ کھائی تھی ۔پھر وہ جلدی سے باتھ روم میں چلا گیا۔استاد سریلے اپنا دھیان پیٹ پر سے ہٹانے کے لےے ہارمونیم بجانے لگے۔سخن پورے ڈبے میں بے چین ریچھ کی طرح چکر کاٹ رہا تھا ۔

          چاچا آگے بڑھے اورا نہوں نے بہرام کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔”بس ابھی صبر کر…. دو منٹ…. اسٹیشن آنے والا ہے …. وہاں بہت سارے باتھ روم ہوتے ہیں….سب میں چلا جائیو، باری باری۔“

          بہرام تو اپنی ساری چوکڑی بھول گیا تھا۔ اس کا پیٹ اندرونِ خانہ جنگی کا شکار تھا۔ واقعی چند ہی منٹ بعد ٹرین ایک بڑے اسٹیشن پر جارکی۔ ٹرین کے رکتے ہی وہ ٹی ٹی پھر اندر آگیا ۔ اس مرتبہ وہ اپنے ساتھ ایک نیا پولیس والا لایا تھا، لیکن اندر کا منظر دیکھ کر وہ بھی ٹھٹک گیا۔

          ”یہ کیا ہوگیا ہے سب لوگوں کو؟“

          ”ابے ان سب کو پنجیریا ہوگیا ہے۔“ چاچا نے قہقہہ مارا۔” او بھائی ٹی ٹی…. اس کو گرفتار کرلے جا…. یہ ڈاکو ہے، ہمیں لوٹ رہا تھا…. اور اس کا ایک ساتھی باتھ روم کے مزے لوٹ رہا ہے …. اسے بھی نکال کر لے جاﺅ۔“

          سخن‘ ڈھولکی وغیرہ تو اسٹیشن پر اُتر کر ایک جانب دوڑ لگا گئے تھے ۔ سب سے آگے آگے لنگڑا فقیر بھاگ رہا تھا۔

          ”اوئے ، یہ تو بڑا مشہور ڈاکو ہے ۔“ ٹی ٹی ‘بہرام کو دیکھتے ہی اُچھل پڑا۔”سپاہی ،اسے جلدی سے گرفتار کرلواور لے چلو تھانے۔“

          ”تھانے نہیں….باتھ روم لے چلو۔ “بہرام ڈاکو سے بولا تک نہیں جارہا تھا۔

           سلطانہ ڈاکو کو بھی باتھ روم سے نکالا گیا۔ جب سپاہی اور ٹی ٹی پرجوش انداز میں ڈاکوﺅں کو گرفتار کرکے لے جارہے تھے تو چاچا نے تھوڑی تھوڑی پنجیری اُن دونوں کی ہتھیلیوں پر رکھ دی۔

          ”یہ لو…. ڈاکوﺅں کو پکڑنے کی خوشی میں منہ میٹھے کرلو ۔“دونوں نے منہ میٹھے کےے اور چلے گئے۔ رزلٹ کی اناﺅنسمنٹ تو تھوڑی دیر بعد ہونا تھی۔ٹی ٹی ٹکٹ چیک کرنے آیا تھا ،لیکن ڈاکوﺅں کو پکڑنے اور پنجیری کھانے کے بعد ٹکٹ چیک کرنا بھول گیا۔ تھوڑی دیر بعد سخن تو واپس آگیا۔ اس کا منہ ابھی تک بنا ہوا تھا۔

          ”چاچا…. تم نے تو مجھے بھی نہیں بخشا۔“ وہ برا مانتے ہوئے بولا تھا۔” کم از کم مجھے تو بتادیتے۔“

          ”کبھی کبھی گیہوںکے ساتھ گندبھی پس جاتا ہے ۔“ چاچا نے جو منہ میں آیا ،بک دیا۔” وہ سب کہاں گئے ؟ استاد بے سرے ،بونا

….اور وہ دونوں۔“

          ”پتا نہیں “سخن نے لاتعلقی سے کندھے اُچکائے۔ ”میں توا پنے ایمرجنسی کام سے گیا تھا۔ باقی باتھ روموں پر رش لگاہوا تھا۔ اُن سب لوگوں کو جھاڑیوں کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا ،آخری دفعہ۔“

          ”چل اچھا ہے ،غریبوں کا کام تو ہوگیا۔“ چاچا نے سر ہلا کر کہا۔”سچی بات ہے ،مجھ سے غریبوں کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔“

          ”چاچا…. ابھی وقت ہے، میرا خیال ہے، ہمیں ادھر ہی اتر جانا چاہئے ،وہ لوگ انتقامی طور پر ہمارے ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔“

          ”ابے ان سب کو اکیلا ہی سنبھال لوں گا…. آنے دے بھلے …. میں کوئی ڈرتا تھوڑی ہوں کسی کے باپ سے بھی۔“ چاچا نے کبڈی کی اندا ز میں رانوں پر ہاتھ مارے۔

          ”چاچا کبھی عقل سے بھی سوچ لیا کرو۔ تم تو ہر مسئلہ اپنی بدگوئی سے حل کرتے ہو۔“ سخن نے جلدی جلدی بولتے ہوئے چاچا کے آگے بین بجائی۔”ہاں اگر اپنے مرحوم بھائی چاچا چنگاری سے ملاقات کرنے کا شوق ہورہا ہے تو بھلے رک جاﺅ…. میرا کیا ہے …. مجھے تو سمجھانا تھا، سمجھادیا۔“

          چاچا نے غورکیا تو انہیں سخن کی بات اور گدھے کی لات میں ننانوے اعشاریہ نو کا فرق نظر آیا۔ بات معقول تھی۔ چناں چہ وقت کا زیاں کےے بغیر چاچا اور سخن نے اپنا سامان اُٹھایا اور پلےٹ فارم پر اتر گئے ۔دونوں تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسٹیشن سے دور ہونے لگے۔ یوں ابھی انہیں اگلے اسٹیشن پر اترنا تھا۔آخر کار چاچا چراندی اپنے بھائی کے گھر کے نزدیک پہنچ گئے۔ انہوں نے تانگا گلی کے کونے پر رکوالیا تھا۔ اب دونوں سامان اُٹھائے کھڑے تھے۔گلی میں ایک گھر کے آگے شامیانہ لگا ہواتھا۔

          سخن نے شامیانہ دیکھ کر کہا۔”لو بھئی چاچا…. ہم تو آگئے اپنی منزل پر…. گلی میں تمبو لگے ہوئے ہیں …. لیکن چاچا…. یہ قورمے ،بریانی اور کھیر کی دیگیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں …. شاید گھر کے اندر پک رہا ہوگا کھانا۔“

          چاچا کے ہاتھ میں پیٹی تھی، لہٰذا انہوں نے سخن کو لات دے ماری۔”موت سر پر کھڑی ہے اور تجھے کھانے کی پڑی ہے، ابھی تلک، مجھے اپنے بھائی کی موت کا غم کھائے جارہا ہے فالتو فنڈ میں۔“

          ”غم بھی فالتو فنڈ میں کھارہا ہے چاچا؟“ سخن لڑکھڑا کر سنبھل گیا۔ ”ویسے چاچا…. یہ اپنا منہ تو تھوڑا رونے جیسے بنالو…. ایسا لگ رہا ہے تم اپنے بھائی کے انتقال پر نہیں …. بلکہ اُن کے ولیمے پر آئے ہو۔ تھوڑا منہ پر غم زدگی پیدا کرو۔ لوگ دیکھیں تو بولیں کہ ہاں بھئی چاچا کو دکھ ہوا ہے۔“

          چاچا نے چروٹے جیسا منہ بنا لیا۔” یہ چلے گا؟“

          ”شابش…. یہ تو ایسا لگ رہا ہے، کوئی چوزہ ناراض ہو گیا ہے۔“

          چاچا نے بوڑھے بن مانس جیسی شکل بنا لی۔” اب بتا؟“

          ”یہ تو فٹے منہ بنالیا ہے تم نے …. اسے دیکھ کر تو یہاں وہ چار بندے اورلڑھک جائےں گے…. تمہیں غم زدہ منہ بنانا ہی نہیں آتا چاچا…. تمہارے خاندان میں شاید پہلی مرتبہ کوئی مرا ہے۔“ سخن نے اعتراض کردیا۔

          ”ابے تو …. تو بتادے ….پھر کیسی شکل بناﺅں؟“ چاچا عاجز آگئے۔

          ”دیکھو…. ایسی بنانی ہے۔“ یہ کہہ کر سخن نے ایسی رونی صورت بنائی کہ اسے دیکھ کر چاچا چراندی خود بہ خود آب دیدہ ہوگئے اور گلوگیر سی آواز میں بولے۔”بس سخن میاں ،بس کرو…. اپنا منہ ٹھیک کرلو، ورنہ میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑوں گا۔ تمہارا منہ دیکھ کر تو تمہیں خیرات ،زکواة دینے کو دل کررہا ہے۔“

          ”سمجھ گئے چاچا۔ “سخن نے سابقہ حالت میں لوٹ آیا۔” ایسا بناﺅ منہ۔“

          چاچا نے ویسا ہی منہ بنایا اور دونوں شامیانے کی طرف بڑھے۔ اندر داخل ہونے سے پہلے چاچا نے ایک دل دوز آواز منہ سے نکالی اور اندر داخل ہوگئے ۔”ارے چلا گیا…. میرا بھائی مجھے چھوڑ کر چلا گیا…. ارے کہاں چلا گیا وہ…. اکیلے اکیلے کرنٹ کھاکے چلا گیا ۔ یہ تک نہ سوچا کہ میرا بھائی دنیا میں اکیلا رہ جائے گا…. اوئے بتاﺅ لوگوں …. کہاں چلا گیا وہ؟“

          سخن نے سرگوشی میں چاچا کو بتایا۔ ”کہاں جائےں گے وہ…. سب جانتے ہیں ‘ دوزخ کے علاوہ اور بھلا کہاں جاسکتے ہیں …. تم کیا سمجھ رہے ہو ….وہ کیا کوئٹہ گئے ہیں خشک میوہ لینے؟“

          چاچا بدستور بین کےے جارہے تھے ۔” ارے مجھے بھی ساتھ لے لیا ہوتا…. میں اب کس کے سہارے زندہ رہوں گا؟“

          ”لاٹھی کے سہارے…. “سخن پھر بولا۔

          ”ارے اب میںکیا کروں گا۔اب بھلا میرے جینے کا کیا فائدہ…. بتاﺅ ،اب میں زندہ رہ کر کیا کروں؟“

          ”کوئی مرنے کا کام کرویا پھر چراند بازیاں کرتے رہو ۔“ سخن ہر جملے کا جواب بڑی بدصورتی سے دے رہا تھا۔

          ”ارے بھئی کیا ہوگیا ؟ “اسی دوران ان کے گرد بہت سے لوگ جمع ہوگئے تھے۔” ان کے پیٹ میں درد ہورہا تھا کیا؟“

          چاچاروتے روتے بریک لگاکر اس آدمی کو گھورنے لگے۔” ابے میں رو رہا ہوں …. میرا بھائی مرگیا ہے۔ تمہارے خاندان میں کوئی مرتا ہے تو کیا تم لوگ لطیفے سناتے ہو اس کی میت پر؟“

          ”ارے کون آیا ہے بھئی؟“ اتنے میں ایک خطرناک چاچا وہاں آپہنچے ۔

          چاچا چراندی نئے آنے والے کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔ وہ نئے چاچا کو دیکھ کر کھوئے کھوئے انداز میں بولے۔” مم…. میرے بھائی …. تم…. تم زندہ ہو فالتو فنڈ میں؟“

          ”ابے تو میں مرا کب تھا؟“نئے چاچا سوفیصد چاچا چنگاری تھے، اُن کے بڑے بھائی …. جن کے انتقال کی خبر خط میںسن کروہ یہاں چلے آئے تھے۔

          ”مگر چاچا کو تو خط ملا تھا کہ آپ انتقال فرما گئے ہیں ۔ ہم تو سمجھے تھے کہ یہاں آپ کا عرس ہورہا ہے۔ “سخن نے بتایا۔

          ”خاماخائی میں۔“ چاچا چنگاری بھڑک اٹھے۔” ابے یہ تو میری سالگرہ ہورہی ہے۔ اندرابھی کیک کاٹ کر آیا ہوں اور تو میرا عرس کروارہا ہے….بندر کے بچے۔“

          ”مگر بڑے بھائی، مجھے خط ملا تھا آپ کے انتقال کا۔“ چاچا نے ایک ایک لفظ کا نرخرہ دباتے ہوئے کہا۔

          ”سازش ہوگی خاماخائی کی ۔“ چاچا چنگاری نے وثوق سے کہا۔

          ”سارا موڈ خراب ہوگیا میرا فالتو فنڈ میں۔“ چاچا چراندی اپنے بھائی کو زندہ پاکر خاصے دل گرفتہ نظر آرہے تھے۔” اچھا خاصا رونے دھونے کا پوگرام بناکر آیا تھا۔ کیا کیا سوچا تھا کہ قبر پر اپنے ہاتھوں سے پھول ڈالوں گا….پیار سے اگربتیاں سلگا ¶ں گا….عرق گلاب اورپانی کا چھڑکا ¶ کروں گا…. سارے پوگرام کا بیڑہ غرق ہوگیا…. سارے دل کے ارمان آنسوﺅں میں بہہ گئے ….اس سے اچھا تو تم واقعی مرجاتے بڑے بھائی …. اب دیکھو اتنی دور سے آیا ہوں …. کچھ میرا خیال کرلیا ہوتا…. اتنا کرایہ بھاڑا الگ خرچ ہوگیا۔ راستے میں کھانے پینے اور اس سخن کے کُتر چارے کے پیسے الگ خرچ ہوگئے ۔“

          ”ابے تو تو چاہتا ہے میں مرجاﺅں ؟ “چاچا چنگاری ان سے پہلے کی پیدائش تھے، لہٰذا اُن کا دماغ دودھ پتی کی چائے کی مانند اُبل پڑا۔” اپنے بڑے بھائی کو مارنا چاہ رہا ہے خاماخائی میں ؟“

          ”ابے آج نہیں تو کل تمہیں مرنا ہی ہے۔روبوٹ تو نہیں ہو نا تم…. اس میں ایسی کون سی ایسی بات کردی میں نے …. جو تم فالتو فنڈ میں لنگور کی طرح اُچھل رہے ہو؟“

          ”یہ مت سمجھیو ….تو میرا بھائی ہے تو میں تجھے چھوڑدوں گا۔“ چاچا چنگاری غصے کے مارے کالے پیلے ہورہے تھے ۔ ”ابھی دو منٹ میں اوپر پہنچادوں گا۔“

          ”بس بس…. بھائی صاحب …. بلکہ چاچگان۔“ ایک آدمی ان دونوں چاچاﺅں کے بیچ میں آگیا اور مزید جھگڑنے سے انہیں باز رکھا۔” لڑو مت…. اس خوشی کے موقع پر جھگڑا کرنے سے کیا فائدہ۔“

          ”ابے تو اس کو سمجھالے …. اچھا خاصا میری سالگرہ ہورہی ہے اور یہ خاماخائی میں رو دھوکر رنگ میں بھنگ ڈال رہا ہے بھنگی۔ “ چاچا چنگاری غرائے۔

          ”ابے میں بھنگی ہوں تو تم کیا ہوئے …. بھنگی کے بھائی۔“ چاچاچراندی نے جملے بازی کے استاد تھے۔

          ”اوئے اوئے …. سوکھے پاپے۔“ چا چاچنگاری ‘سخن سے بولے ۔” روک لے اسے میرے بھائی کو…. ورنہ میں اس پلید کے بچے کو کچرے کے ساتھ جلاد وں گا۔“

          سخن چاچا چراندی کی طرف مڑا ۔”اچھا تو آپ پلید کے بچے ہیں…. بتایا تک نہیں ہمیں….شیطان۔“

          ”بکواس بند کر۔“ چاچا چراندی غرائے۔

          ”دونوں چاچا ¶ں کا مقابلہ خوش گفتاری برابر ہوا۔“ سخن نے چاچا کی پوٹلی نیچے رکھ کر ہاتھ اُٹھائے۔” دونوں بھائی غصے کا بلغم تھوک کر گلے مل لو۔“

          ”تھو …. تھو۔“ کی دو آوازیں آئیں۔

          دونوں چاچاﺅں نے سخن پر اس کے کہنے کے عین مطابق اُس پر تھوک دیا اور آپس میں گلے لگ گئے۔ سخن وہاں پڑی ہوئی جھاڑو سے منہ صاف کرنے لگا۔

          ”ایک بات سمجھ نہیںآ رہی ۔ وہ خط کس نے بھیجا تھا تمہیں ،جس میں میرے انتقال کی خبر تھی؟ “چاچا چنگاری تذبذب کا شکار تھے۔

          ”ارے یاد آیا…. وہ خط میںنے گلی میں پڑا دیکھا تھا۔“ چاچاچراندی دماغ پر زور دینے لگے۔” ڈاکیا سائیکل سمیت گرگیا تھا ۔ سارے خط گلی میں گرگئے تھے۔ پھر وہ خط سمیٹ کر چلا گیا۔ بس ایک خط پڑا رہ گیاتھا…. وہی اُٹھاکر میں نے پڑھوالیا ۔اس میں لکھا تھا کہ آپ کے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، فوراً آجائیں۔“

          ”لعنت ہو بھئی ۔“ سخن نے سرپیٹ لیا۔ ”مجھے پہلے تو بتادیتے۔ پتا نہیں وہ کس کا خط تھا جو تم نے اپناسمجھ کر پڑھ لیا۔ سلام ہے چاچا تمہاری عقل شریف کو۔“

          ”یار چھوٹے بھائی …. یہ چیز مجھے دے جا…. میں اسے پالوں گا۔“ چا چاچنگاری نے چاچا چراندی سے سخن کو مانگا۔

          ”اسے پال کر کیا کروگے؟“ چاچا چراندی نے حیر ت سے انہیں دیکھا۔

          ”بس اسے دیکھ کر مجھے اپنا موتی یاد آگیا ہے …. ہوبہو ایسی ہی شکل کاتھا وہ بے چارہ موتی…. ایسا لگتاہے مرنے کے بعد موتی دوسرا جنم لے کر میرے سامنے آگیا ہے ۔“ چاچا چنگاری بڑی محبت سے سخن کو دیکھ رہے تھے۔ سخن بوکھلا رہا تھا۔ اس سے پوچھے بغیر اس کی قسمت کا فیصلہ ہورہاتھا۔

          ”نہیں بڑے بھائی …. میں اسے نہیں دے سکتا۔“ چاچا چراندی نے صاف انکار کردیا۔” اگر میں نے اسے یہاں چھوڑ دیا تو ادھر کالونی میں راتوں کو چوریاں ہونے لگیں گی۔ آخر کالونی کی رکھوالی کا خیال بھی تو کرنا ہے….“

          سخن نے زور سے پیر پٹخا۔” حد ہوگئی ہے بے عزتی کی ۔میں جا رہا ہوں کالونی ۔“سخن تلملاتا ہوا تمبو سے باہر نکل گیا ۔ دونوں چاچا پھر سے گلے لگ کر ہنس پڑے۔                                                                     ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ یوگیش کناوا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے