سر ورق / مضامین / ہم ، چائے اور لکھاری۔۔۔ صباحت رفیق

ہم ، چائے اور لکھاری۔۔۔ صباحت رفیق

    ہم،چائے اور لکھاری

      صباحت رفیق

ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو چائے نہیں پیتے ۔ اور ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چائے بہت شوق سے پیتے ہیں ۔بلکہ وہ چائے کا نشہ کرتے ہیں ۔اُن کے مطابق جب تک وہ دن میں ایک سے دو کپ چائے نہ پی لیں اُن کو سکون نہیں ملتا۔کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہے؟

حال ہی میں سائنسدانوں نے suggestکیاہے کہ چائے تخلیقی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔چائے میں مناسب مقدار میں Caffeine پائی جاتی ہے۔ لیکن جو حقیقت میں ہماری تخلیقی صلاحیت کو اُجاگر کرتی ہے اُسے L-Theanine کہتے ہیں ۔یہ قدرتی طور پر پایا جانے والا امائنوایسڈ (Amino Acid) ہے۔ یہ خاص طور پر چائے میں پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ پُر سکون کرنے کا کام بھی سر انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ وہ چائے کیوں پیتے ہیں تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کیوں کہ چائے اُن کو پسند ہے۔ اُن کی پسند کے پیچھے دراصل یہ حقیقت ہے کہ اُن کو چائے پینے سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ Caffeine اور L-Theanine مل کے ہمارے ذہن سے باقی ساری باتوں کو ڈسکنیکٹ کر دیتے ہیں ۔ اور ہماری ساری سوچنے کی صلاحیت صرف اُس بات پہ لگا دیتے ہیں جس پر ہم اُس وقت سوچ رہے ہوتے ہیں ۔

اس بات کی حقیقت کا اندازہ آپ درج ذیل دئیے گئے اشعار سے لگا سکتے ہیں۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چائے پیتے وقت اپنے محبوب کے بارے میں سوچنے لگ جاتے ہیں ۔ اُن کا Main Focus اُس وقت صرف اُن کے ’محبوب جی‘ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے محبوب جی کو سوچنے میں اتنا غرق ہو جاتے ہیں کہ چائے کا کپ ہاتھوں میں تھامے تھامے ہی ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ جب پھر وہاں سے امی کا گُزر ہو جائے اور اُنہیں خیالوں میں کھویا دیکھ کر پھر امی کا جوتا ہی حال میں واپس لا تا ہے۔یہ شعر کسی ایسے ہی شاعر کے ہاتھوں لکھا گیا معلوم ہوتا ہے۔

  تیری یاد کی بھول بھلیوں میں گُم ہو کر

 مجھ کو اکثر چائے ٹھنڈی پینی پڑتی ہے

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو امی کے جوتے سے بہت ڈر لگتا ہے۔اس شعرکا شاعر بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جس نے لکھا ہے کہ

   اب میں تجھے نہیں سوچتا

  اب میں چائے گرم ہی پیتا ہوں

اب اگر پُھپھو کی بیٹی چائے بنا کے لا دے تو وہ ہواﺅں میں اُڑنے لگتا ہے ۔ ایسی ہی ہواﺅں میں اُڑتے کسی شاعر نے یہ شعر کہا ہے

   اپنے ہاتھوں سے بنی چائے دیتی ہے

   اس قدر اس کا لاڈلا ہوں میں

اب کیا پتہ کہ امی نے اُسے اندر جا کے یہ کہا ہو۔ بھائی کے لیے چائے بنا کے لاﺅ۔ ظاہر ہے پھر بھائی تو سب بہنوں کے لاڈلے ہوتے ہیں ۔

اور یہ شعر بھی غالبا ً کسی پھُپھو کی بیٹی کے لیے کہا گیا معلوم ہوتا ہے۔ جسے پُھپھو کی بیٹی کے ہاتھ کی بنی چائے اتنی پسند آ گئی ہے کہ وہ صرف چائے کے لیے اُس سے شادی کر کے روز کا سر درد لینے کے لیے بھی تیار ہے۔

  ہمیں قبول ہے روز کا سر درد بھی

  بس تیرے ہاتھ کی چائے میسر ہو

یہ کسی ہڈ حرام نے اپنی ’ہڈ حرامی ‘ کو یو ں لفظوں میں بیان کیا ہے

   کوئی اینج دا جادو دس ڈھولا

  میں چائے لکھا تے آ جاوے

بھلا بتاﺅ ایسی بھی کیا ہڈ حرامی کہ بندہ پانچ منٹ اپنی محبوب چیز ’چائے‘ کے لیے ہی نہ نکال سکے۔

ایک چائے والی اپنے منہ آپ یوں میاں مٹھو بن رہی ہیں ۔

 میرے رشکِ قمر میں نے چائے بٹر

 آج ایسی بنائی ۔۔۔مزا آ گیا

باجی جس چائے کی تعریف ہی خود کرنی پڑے اُس چائے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیسی بنی ہو گی۔

چائے تو چائے ، چائے کی خوشبو کے بھی لوگ دیوانے ہیں جیسے کسی نے لکھا ہے

  پوچھا کسی نے کون سی خوشبو پسند ہے

  میں نے چائے کا ذکر چھیڑ دیا

اب کسی کو چائے ذیادہ پینے سے کسی نے یہ کہہ دیا ہو گا کہ باجی کیوں اتنی چائے پیتی ہیں ۔ اُس باجی نے جواب میں کچھ یوں کہا ہے۔

  مانتی ہوں جناب پیتی ہوں

  ٹھیک ہے بے حساب پیتی ہوں

  لوگ لوگوں کا خون پیتے ہیں

 میں تو پھر صرف چائے پیتی ہوں

ؓؓبس بہت ہو گئی کامیڈی اب ذرا بات ہو جائے کام کی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ کئی مشہور لکھاریوں (writers) کے لیے چائے اُن کی روزمرہ روٹین اور رائیٹنگ پروسیس کا ایک ضروری حصہ ہے۔جی ہاں لکھاری ہو اور چائے نہ ہو؟ ایسا ممکن ہی نہیں ۔ جیسے کہ Stephen King نے اپنے ایک انٹرویو میں لکھا ہے

’جب میں لکھنے کے لیے بیٹھتا ہوں تو اُس سے پہلے جو کام میں ضرور کرتا ہوں وہ یہ کہ ایک پانی کا گلاس اور ایک چائے کا کپ اپنے سامنے ضرور رکھتا ہوں ۔‘

C.S Lewis نے Surprised by Joy میں اپنی روزمرہ کی روٹین یوں بیان کی ہے۔

’میں ہمیشہ اپنا ناشتہ آٹھ بجے کر لیتا ہوں ۔ نو بجے میں اپنے ڈیسک پر ہوتا ہوں اور ایک بجے تک لکھتا اور پڑھتا ہوں ۔ اگر ایک اچھی چائے یا کافی کا کپ گیارہ بجے لے لوں تو یہ بہت بہتر رہتا ہے۔ایک بجے میرا لنچ میرے ٹیبل پہ ہوتا ہے اور دو بجے میں روڈ پہ ہوتا ہوں ۔ واک سے واپس آنے کے بعد چار بجے تک چائے پر پہنچتا ہوں ۔ اُ ن کا کہنا ہے کہ میں ذیادہ تر چائے تنہائی میں لیتا ہوں ۔پانچ بجے دوبارہ اپنے کام پر پہنچتا ہوں ۔ اور سات بجے تک وہیں رہتا ہوں ۔‘

ذیادہ تر لوگ اپنے کلچرل ٹریڈیشن کی وجہ سے آفٹر نون چائے( چار سے پانچ بجے کے دوران) انجوائے کرتے ہیں ۔ Creative لوگوں اور جاب کرنے والے لوگوں کے لیے چائے بہت مفید ہے۔کئی لوگ چائے اس وجہ سے نہیں پیتے کہ اُن کے مطابق چائے صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ نقصان دہ صرف اُس صورت میں ہے جب ہم چائے کی ذیادہ مقدار لینا شروع کر دیں ۔ دن میں ایک سے دو کپ پینے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

اب جاتے جاتے تھوڑی سی کامیڈی اور ہو جائے۔

کسی نے پاکستان اور چائے کے بارے میں یوں لکھا ہے

مہمان آ رہے ہیں ۔۔۔چائے بنا لو

سر میں درد ہے۔۔۔۔۔ چائے بنا لو

تھکاوٹ ہو رہی ہے۔۔چائے بنا لو

موت آ رہی ہے۔۔۔۔چائے بنا لو

کسی نے لکھا ہے۔۔۔

  چائے کا احترام کیا کرو

 یہ تمام مشروبات کی مُر شد ہے

واہ رے شاعروں کیا کہنے تمہارے ۔انسانوں کا احترام کرنے کا سُنا تھا لیکن یہ نہیں سُنا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب چائے کا احترام بھی واجب ہو جائے گا۔

ذرا یہ اشعار ملاحظہ کیجئیے۔

  اُس نے کہا چائے چھوڑ دو

 میں نے کہا تمہیں چھوڑ دوں گی

     اُس نے کہا میں یا چائے؟

    میں نے چائے کا کپ اُٹھا لیا

ہمیشہ سے یہی دیکھا اور سُنا ہے کہ لوگ محبوب پر مرتے مٹتے آئے ہیں ۔ محبوب کے لیے ساری دُنیا چھوڑتے آئے ہیں ۔ لیکن کیا خبر تھی کہ لوگ چائے کے لیے اپنا محبوب چھوڑنے پہ راضی ہو جائیں گے۔

لیکن کوئی جو بھی کہہ لے ’چائے‘ تو پھر ’چائے‘ ہے!

         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ا                ختم شُد!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن ..احمد مد سہیل

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن احمد مد سہیل تاریخ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے