سر ورق / افسانہ / خاکی ء آدم ۔۔ روما رضوی "

خاکی ء آدم ۔۔ روما رضوی "

سڑک کے دونوں طرف گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کا بے پناہ رش تھا ۔۔۔ماحول میں شور کی آواز اس قدر تھی کہ ساتھ کھڑے دوست بھی اونچی آواز میں گفتگو کرنے پر مجبور تھے ۔۔۔ ٹریفک جبری روکا گیا تھا شاید کسی شاہی سواری کا وہاں سے گزر متوقع تھا بازار کے درمیان سے گزرتی یہ سڑک یوں بھی دن بھر مصروف رہتی تھی ۔۔۔ سڑک کے کنارے کھڑے ریڑھی والے ہر سمت میں پہئیے گھما کر ریڑھیوں کو آگے بڑھانے کی تگ و دو میں مصروف تھے ۔۔تو کچھ پھل فروش موٹر سائیکل سواروں کو زبردستی پھل بیچنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔

گرمی کی شدت اور مجمع میں کھڑے لوگوں کے جسم سے اٹھتی پسینے کی بو ۔۔۔اور گاڑیوں کا سیاہ دھواں ۔۔۔۔ گرم موسم کو اور گرما رہے تھے ۔۔۔نیلی وردیوں میں ملبوس ٹریفک کانسٹیبل بھی بت بنے کھڑے تھے ۔۔۔ لوگوں کے پوچھنے پر بھی وہ صرف ہاتھ سے رکنے کا اشارہ دکھا دیتے۔۔۔ آگے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں تھیں اور دونوں جانب کئی منٹوں سے منتظر دھواں اڑاتی گاڑیاں تھرا رہی تھیں۔۔۔۔۔ سفید دوپٹہ کاندھے پر ڈالے ایک خاتون اچانک ایک کار سے اتری اور بیرئیرز ہٹا کر آگے کی قطار میں کھڑی ایمبولنس اور اسکول وین کو جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ پولیس کانسٹیبل تیزی سے انکی طرف دوڑے ۔۔۔”بی بی چند منٹ صبر نہیں ہوتا ۔۔۔۔”

خاتون نے اپنا کام جاری رکھا یوں جیسے وہ کچھ نہ سن رہی ہوں۔۔۔ایمبولنس سائرن بجاتی گزری اور پھر ساتھ ہی بچوں سے بھری اسکول وین سڑک کے دوسری جانب پہنچ چکی تھیں ۔۔۔خاتون آرام سے اپنی کار میں واپس پہنچیں اور شور کرتے لوگوں کو صرف مسکرا کر دیکھا اور کانسٹیبل کی طرف نظر کرتے ہوئے بولیں سارجنٹ اب کسی کو نہ جانے دیجئے گا۔۔

اتنے میں سائرن بجاتی جھنڈے لہراتی چند سیاہ کاریں اور انکے ساتھ بیسیوں چھوٹی بڑی گاڑیاں انکا پیچھا کرتے اگلی شاہراہ پر برق رفتاری سے روانہ ہوگئیں تو عوامی ٹریفک کے لئے راستے کھول دئیے گئے ۔۔۔۔ میں تجسس سے اس سفید پوش خاتون کو دیکھتا رہ گیا جو مردوں کی طرح تیز رفتاری سے اپنی کار کو موڑ کاٹتے بقیہ ٹریفک سے بچاتی اپنی منزل کی جانب رواں ہوچکی تھیں۔۔۔موٹر سائیکل کے ٹینک کو تھپتھپا کر میں نے پیٹرول کا اندازہ لگایا اور ایکسیلیٹر پر پورا دباو ڈال دیا ۔۔ اس واقعے نے مجھے صنف نازک کی ایک دیدہ دلیر نمائندے سے متعارف کروا دیا تھا ۔۔۔میرے لئے خاتون کا یہ رویہ کسی صدمے سے کم نہ تھا ۔۔

میں اس بات کو بھول ہی چکا ہوتا کہ ملک میں انتخابات کی گھما گھمی کے دوران کسی جلسے میں شرکت کا موقع ملا ۔۔ حبس زدہ پنڈال میں ۔۔۔ گلے میں پڑا سفید دوپٹہ دائیں بائیں لہراتی وہ اسٹیج پر برا جمان نظر آئی۔۔

بے تکلفی سے ساتھی مقررین سے مخاطب اور گاہے بگاہے حاضرین کو ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کرتی۔۔۔کچھ مقررین کے بعد وہ بولنے کھڑی ہوئی تو ایسے اندازہ ہوا کہ زنانہ لب و لہجے اور نسوانی آواز میں کسی پرجوش نوجوان کو سن رہا ہوں۔۔۔۔۔ طالب علمی کے زمانے سے خواتین مقررین کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔یہاں کسی مرد نے آواز اونچی کی اور انکی آواز میں لرزش محسوس ہونے لگتی تھی مگر یہاں حالات یکسر مختلف تھے۔۔۔۔۔ہم جیسے عوام اپنی بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لئیے بھی عوامی نمائندوں سے امیدیں وابستہ رکھ لیتے ہیں ۔۔جانے کون سے جلسے میں ہماری تقدیر کا فیصلہ کردیا جائے۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔ روٹی کپڑا اور مکان کی آواز میں آواز ملانے لگتے ہیں ۔۔۔

اسٹیج پر بولنے والے کی تقریر کچھ ایسے موضوع پر تھی کہ حکومت کے ہرکارے نمائندہ پارٹی کے نعرے لگانے والوں پر ٹوٹ پڑے ۔۔۔ مجھے بھی وہاں سے بھاگنے میں عافیت نظر آئی ۔۔ چاروں جانب لگی قناتیں عوام کی کھینچا تانی سے زمین پر تقریبا ” ڈھے چکی تھیں۔۔۔ چند سنئیر ممبران کے سوا سب اپنے رہنماوں کو چھوڑ کر بھاگ چکے تھے۔۔

"ارے توبہ کرو ۔۔۔ اس کا مقابلہ تو مرد نہیں کرسکتے ۔۔۔یہ عورتوں کی سیٹ پر لڑے گی”۔۔۔

قریب سے آواز آئی ۔۔۔

میں بھی ایک عام سوچ رکھنے والا مرد ہوں ۔۔۔عورت کی بے جا آزادی کا مخالف ۔۔۔میرے مطابق عورت کی اصل جگہ اس کا محفوظ رشتوں کے درمیان رہنا ہے ۔۔۔سڑک پر کھڑے ہوکر لوگوں کو للکارنا زنانیوں کو ہر گز زیب نہیں دیتا ۔۔۔ ہونہہ ۔۔۔۔ یہ سب بہت ہی عجیب ہے۔۔میں اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہوئے خود سے ہی مخاطب تھا۔۔

"موٹر سائیکل راستے سے بٹائیں خواتین ونگ کی عورتیں آرہی ہیں”۔۔۔وہ میرے سامنے کھڑی تیزی سے بولی۔۔۔۔میں حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ دوبارہ مخاطب ہوئی ۔۔

"میاں صاحبزادے میں پردہ نہیں کرتی مگر میری پارٹی کی بہت سی عورتیں باپردہ رہتی ہیں ۔۔۔ان ہی کیلیئے راستہ بنا رہی ہوں”۔۔۔ میں اور باقی مرد معزرت کرتے خواتین کے لئے راستہ بناتے دائیں بائیں منتشر ہوگئے ۔۔۔

جیسا کے میں نے بتایا انتخابات نزدیک تھے شہر میں جھگڑا بحث نعرے بازی جیسی سرگرمیوں سے روز ہی واسطہ پڑ رہا تھا ۔۔۔

اب مجھے وہ اکثر خبروں یا مذاکروں میں انسانی حقوق پر بولتی نظر آتی۔۔۔ تیوریوں پر بل پڑے ہوئے شعلہ بیانی کرتے وہ دنیا کی عجیب ہی مخلوق لگتی تھی ۔۔۔۔

میں بھی دل ہی دل میں اس کے جرات مندانہ بیانات سنتے وااہ واہ کر رہا ہوتا ۔۔

"ارے ایسی عورتوں میں نسوانیت کہاں رہتی ہے زرا دیکھو تو چہرے پر اچھی بھلی سختی آچکی ہے "۔۔

ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے میری بیوی نے رائے دی۔۔۔

ایک ہی کمرے کے گھر میں کوئی بات اپنے بیوی بچے سے یا اپنے ماں باپ سے میں کس طرح چھپا سکتا تھا ۔۔۔۔ ابا نے بھی موضوع میں دلچسپی لی۔۔۔

"میں نے تو سنا ہے یہ بالکل لا مذہب ہے "

دور بیٹھی میری نابینا ماں نے سب کو رد کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"بیٹا !! دنیا سے جب جاتے ہیں تو اصل نقل سب کھل جاتا ہے کون پارسا ہے کون شیطان ۔۔۔ سب اسکی نظر میں ظاہر ہے۔۔۔۔وہی حاضر و ناضر ہے ہم تم کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے والے کون ہوئے بھلا؟

میں بھی ٹی وی دیکھتے دیکھتے ذرا جھینپ گیا ۔۔۔چینل بدلا اور کھانا کھانے لگا ۔۔۔

دن گزرتے گئے میں بھی موسموں کی طرح اپنے بدلتے خیالات کو نئے سرے سے آراستہ کرنے لگا ۔۔۔گھر میں میرے علاوہ چار جی جو تھے سب کی ضرورتیں پوری کرتے مہینے کے ہر گزرتے دن کو گنتے اپنے مہ و سال کو آگے سے آگے دھکیلتا رہا ۔۔۔۔کتنی ہی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں۔۔ ماہ و سال کی گردش سے میرے بالوں میں بھی سفیدی اتر آئی۔۔ سیاست میں دلچسپی اب پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی مگر جلسے جلوس والی گرمجوشی ماند پڑ چکی تھی

دفتر کی زمہ داریاں اور مصروفیات وقت نے بڑھا دیں تھیں ۔۔

۔۔ٹی وی کی خبریں بھی اب کبھی کبھار ہی نظر سے گزرتیں ۔۔۔

اخبار تو شاید پڑھنے کا وقت کبھی نہ ملتا مگر اسکی سفید لباس میں تصویر دیکھ کر رک گیا ۔۔ آنکھوں کے سامنے لہراتے اخبار کو ہاکر سے خریدا اور کچھ آگے جاکر تہہ کھول کر تفصیل پڑھی ۔۔۔وہ جا چکی تھی ۔۔۔۔ میں اسکی تصویر کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔

زندہ اور مردہ انسانوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔۔۔۔

بے تاثر چہرے ۔۔ خاموش لب ۔۔

شفاف ذہن ۔۔۔۔ایسے ہی جیسے بوجھ اتار کر ٹھنڈی سانس خود میں بھر لی ہو۔۔۔

ہلکا پھلکا دھلا دھلایا بدن۔۔۔ دھرتی کے شکم سے جدا ہونے  والی امانت پھر مٹی کے سپرد ہونے کو تیار نظر آرہی تھی ۔۔۔۔

جیسے اگلا جنم ایک تناور درخت کی صورت میں ہوگا ۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے