سر ورق / افسانہ / طلب۔۔ شمسہ نجم

طلب۔۔ شمسہ نجم

      سب چمچے کرچھے شور مچانے لگے۔ بندر بانٹ شروع ہو گئی۔ ان چمچوں اور کرچھوں کی پلیٹوں میں کھانے کی اسی شد و مد سے ترسیل جاری تھی جیسے کہ پچھلی دو بار ان کو نصیب رہی تھی۔ کھانا ان کی پلیٹوں میں تواتر سے گر رہا تھا۔ خوراک بقیہ دنیا کو برآمد کی جائے یا نہ کی جائے ان چمچوں اور کرچھوں پر کسی بھی صورت میں کوئی بندش نہیں تھی۔

    کچن کے ہوادار اور نسبتا بلند مقام پر ایک بہت بڑی دیگ نصب تھی اس دیگ کا منہ بہت بڑا تھا اور اس کے پیٹ کا گھیر بھی کافی زیادہ تھا جو کہ چوتھائی باورچی خانے کو گھیرے ہوئے تھا۔ اسے بنانے کے لیے ہزاروں کیا لاکھوں آدمیوں نے دن رات ایک کر دیا تھا۔ دراصل لوگوں کو یہ یقین تھا کہ اس بڑی دیگ سے باقی دیگوں کو سپلائی ہوتی رہے گی اور گھر کے سب باشندوں کو بر وقت کھانا تیار ملے گا۔

یہ بڑی دیگ باورچی خانے میں موجود باقی چار دیگوں سے مختلف تھی۔ اس کے نیچے آگ نہیں جلائی جاتی تھی یہ بڑی دیگ کچھ اس طرح نصب کی گئی تھی کہ خوراک کی رسد آسان رہے۔ باہر اور اندرون خانہ بلکہ کہیں سے بھی آنے والی خوراک ایک بڑے چھاج نما آلے کے ذریعے بڑی دیگ کے منہ میں انڈیل دی جاتی تھی۔ یہ بڑی دیگ بظاہر تو لبالب بھری نظر آتی تھی لیکن لگتا تھا نمائش کے لیے صرف اوپر سے بھری ہوئی تھی۔ سب دکھاوے کی شان و شوکت تھی۔ اس کی سپلائی کی قوت دیکھ کر اس کی اندرونی حالت مخدوش دکھائی دیتی تھی۔ طلب زیادہ تھی مگر طلب کے بالمقابل سپلائی کم  تھی۔

       بڑی دیگ کا گھیر کافی وسیع تھا اور اس کے بڑے گھیر کے انتہائی سرے ہر چار پائپ لگے تھے۔ ان پائپوں کے ذریعےکھانے کا سامان چاروں چھوٹی دیگوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ لیکن اب نا دیدہ وجوہات کے سبب ان دیگوں کو خوراک کی ترسیل بند تھی ان چاروں پائپوں سے نیچے بھی ایک بڑا پائپ تھا لیکن یہ پائپ ذرا مختلف نوعیت تھا اس پائپ کے آگے ایک ایسا طویل پائپ لگا تھا جس میں جگہ جگہ ٹونٹیاں لگی ہوئی تھیں جن کے منہ کھلے تھے اور ان میں سے خوراک فرش پر رکھی پلیٹوں میں گر رہی تھی۔ لیکن عجیب بات تھی وہاں کوئی انسان نہیں تھا !!!  لیکن پھر بھی باورچی خانے میں بہت شور شرابا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دراصل پلیٹوں میں چمچے اور کانٹے تھے یہ شور اور ہنگامہ انہوں نے مچا رکھا تھا۔ ان کی پلیٹوں میں کھانا گرتا تو وہ اس پر ٹوٹ پڑتے اور وہ اپنے نادیدہ پیٹوں کو بھرتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،

باورچی خانے کی کھڑکی کے نیچے چھید تھے جو کم از کم اتنے ضرور تھے کہ کوئی بھی باہر کا آدمی وہاں سے اندر جھانکے تو باورچی خانے کا پورا منظر نظر آتا تھا خاص کر پلیٹیں جس جگہ رکھی تھیں وہ باہر سے صاف نظر آتی تھیں۔ بڑی دیگ کا پیٹ بہت بڑا تھا اس میں  پہلے تو کھانا بھی لبالب بھرا رہتا تھا لیکن اب دیگ کے پیٹ میں دانستہ سوراخ کیا گیا تھا اور یہ اندر سے کھوکھلے پن کی شکایت بھی جب ہی سے ہونا شروع ہوئی تھی۔ کیونکہ ایک بہت بڑا پائپ کچھ عرصہ پہلے ہی ویلڈنگ کے ذریعے اس جگہ جوڑ دیا گیا تھا جہاں کہ سوراخ بنایا گیا تھا۔ جو پائپ سوراخ سے جوڑا گیا تھا اس پائپ کی لمبائی بہت زیادہ تھی۔ وہ پائپ باورچی خانے کی دیوار کو  پار  کرکے دور مغرب کی سمت چلا گیا تھا۔ جس کے ذریعے خوراک کا اخراج شد ومد سے جاری تھا اور ذاتی بہی کھاتوں میں جمع ہو رہا تھا۔ خوراک کے اتنے وسیع پیمانے پر انخلاء نے دیگ کو اندر سے کھوکھلا تو کیا ہی تھا لیکن اس کے باعث چھوٹی چاروں دیگوں کی سپلائی میں بھی رخنہ پڑ چکا تھا۔ ذخیرہ اندوزی اور لالچ کی انتہا کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس صورتحال کے بعد اگرچہ باورچی خانے کی دیواروں پر آنکھیں اگ آئی تھیں۔ لیکن ان پر مصلحتوں کے چشمے لگے تھے۔ مفاد پرست کبھی حقیقت کو سچ کے آئینے میں نہیں دیکھتے۔ مفاد پرستوں کی آنکھیں اندھی تو نہیں ہوتیں لیکن ان پر خود غرضی کا پردہ اور مصلحت کی عینک لگی ہوتی ہے۔

    پلیٹوں میں کھانے سے برسرپیکار چمچے کرچھے خوراک کے مغربی پائپ کے ذریعے ہونے والے انخلاء سے متاثر نہیں ہو رہے تھے کیونکہ ان کا ٹونٹیوں والا پائپ دیگ میں سب پائپوں سے نیچے لگا ہوا تھا۔ اس میں مفاد پرستوں کی دور اندیشی کو دخل حاصل تھا تاکہ چمچے کرچھے خوش رہیں اور تعریف و توصیف کے پل باندھتے رہیں۔ جس سے ایوانوں میں شہرت ہو اور نیک نامی کا ڈنکا بجتا رہے اور دیگ کی اندرونی کیفیت سے کسی کو بھی آگاہی نہ ہو۔ لیکن آگہی بھی کس کو ہوتی انسان تو باورچی خانے کی حدود میں تھے ہی نہیں۔ باورچی خانے کے افعال کے اثرات کا دائرہ کار صرف اس چار دیواری تک محدود نہیں تھا لوگوں کو دیوار سے لگایا جا چکا تھا۔

   باورچی خانے کی دیوار کے باہر افلاس اور بھوک دو معصوم بچوں کی صورت میں دیوار سے چپکے کھڑے تھے اور دیوار کا لازمی اور شکستہ حصہ لگ رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی عمر تقریبا سات سال ہوگی، اور دوسری لڑکی تھی جس کی عمر شاید چھ سال ہو گی۔ دونوں بچے ننگے پیر تھے اور کپڑے بہت پرانے اور کئی جگہ سے پھٹے ہوئے تھے بلکہ لگتا تھا دھجیوں کی صورت ان کے بدن پر لٹکے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کے کمزور بدن، اندر دھنسے ہوئے پیٹ اور آنکھوں کے گرد سیاہ بڑے بڑے حلقے دیکھ کر ان کے فاقہ زدہ ہونے کا ایک نظر میں ہی اندازہ ہوتا تھا۔ انہیں اردگرد موجود کتوں اور بھیڑیوں کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ ان کی ساری توجہ اس اشتہا انگیز خوشبو کی طرف تھی جو کچن کے سوراخوں اور کھڑکی کی ریخوں سے نکل کر ان کے نتھنوں میں گھسی چلی آ رہی تھی۔ وہ باورچی خانے کی کھڑکیوں کے نیچے بنے ہوئے سوراخوں سے باورچی خانے کے اندر جھانک رہے تھے۔ یہ دو جمع دو چار نہیں بلکہ کروڑوں آنکھیں تھیں جو سوراخ سے جھانکنا چاہتی تھیں۔ باورچی خانے سے آتی اشتہا انگیز خوشبو اور چمچوں کی لبالب بھری پلیٹیں ان کی بھوک مزید بڑھا رہی تھیں وہ سوراخ سے دیکھتے ہوئے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر رہے تھے۔ باورچی خانے کی دیوار میں بنے چھید ان بچوں کے قد سے اونچے تھے لیکن وہ پنجوں پر کھڑے ہو کر ان چھیدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پچھلے ہی ہفتے ان دونوں بچوں کا باپ بم کے دھماکے میں اڑ کر آنجہانی ہو چکا تھا اور ماں غربت اور بچوں کی بھوک سے تنگ آ کر اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ خودکشی کر چکی تھی۔ ان دونوں بچوں کو اپنے اوپر گزرنے والی اس قیامت کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔ ہاں انہیں اس کا رنج ضرور تھا۔ لیکن ان بچوں کو اس وقت اس غم نے نہیں بھوک نے نڈھال کر رکھا تھا۔ پیٹ کی آگ جہنم کی آگ کو بھلا دیتی ہے۔ وہ اشتہا انگیز خوشبو اور گرم ہوا دیتے چھیدوں سے مستقل اندر جھانک کر دیکھ رہے تھے کہ کب چمچوں اور کرچھوں کا پیٹ بھرے اور کب وہ کھانا بچا کھچا سمجھ کر  یا خیرات کے نام پر باہر پھینک دیں۔ تو زمین پر کچرے کے ڈھیر پر پھینکے ہوئے اس بچے کھچے کھانے سے وہ تھوڑا سا کھانا اٹھا کر کھا سکیں۔ بہن نے بھائی سے پوچھا” بہت بھوک لگی ہے بھائی یہ لوگ بچا ہوا کھانا کب پھینکیں گے۔ ان لوگوں کا پیٹ کب بھرے گا۔” بھائی اپنی عمر سے کہیں بڑی سوچ لیے رندھی ہوئی آواز میں بولا "ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا کبھی نہیں”۔

ختم شد ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ولن۔۔ علی زیرک

اوئے۔۔۔۔ روہی میں آسمان کے کنگرے توڑتے  گنے کے  کھیت ہیں اورمیرے میں بھربھری مٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے