سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 20 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 20 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 20
تحریر: سید انور فراز

ابتدا ہی سے معراج صاحب کا اور ہمارا بھی یہی خیال تھا کہ کوئی بھی نیا پرچا اس وقت تک لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتا جب تک اس میں کوئی نئی اور چونکا دینے والی بات نہ ہو، لوگ جو میگزین پڑھ رہے ہوتے ہیں انھیں کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور کسی نئے پرچے میں دلچپسی لے کر اپنے اخراجات میں مزید اضافہ کیوں کریں؟
اسی نظریے کے تحت معراج صاحب چاہتے تھے کہ سرگزشت میں ایسے لوگوں کی کہانیاں شائع کی جائیں جو مشہور و مقبول ہونے کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں بستے ہوں،اس سلسلے میں محی الدین نواب صاحب کو بھی آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرگزشت لکھیں، انھوں نے اپنی دوسری شادی کا قصہ لکھا جو سرگزشت میں شائع ہوا ، حبیب جالب سے ایک طویل بائیوگرافیکل انٹرویو کا پروگرام بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔
جالب صاحب خوشی خوشی کراچی آگئے، ہم اور جمال احسانی معراج صاحب کی ہنڈا ایکارڈ میں انھیں ائرپورٹ لینے گئے، ان کی رہائش کے لیے صدر کے ایک ہوٹل میں کمرہ بک تھا، اپنے کمرے میں پہنچتے ہی جالب صاحب کو جس چیز کی سب سے زیادہ فکر تھی وہ مجاہد بریلوی تھے۔
کمرے میں بیٹھتے ہی انھوں نے جمال سے کہا ’’مجاہد بریلوی کا پتا کریں اور انھیں فوراً میرا پیغام دیں کہ میں کراچی آگیا ہوں، جمال نے مجاہد صاحب کا فون نمبر ان سے لیا اور فوراً ہی انھیں فون کرکے اطلاع دے دی، ہوٹل کا کمرہ نمبر وغیرہ بھی بتادیا گیا،مجاہد بریلوی پرانے صحافی ہیں اور ان کا تعلق کراچی سے ہے،جالب صاحب نے بھی زندگی کا کچھ حصہ کراچی میں گزارا تھا، دونوں کے درمیان حد درجہ محبت اور عقیدت ہم نے دیکھی، بعد میں بھی ہم نے دیکھا کہ جالب صاحب کراچی میں ہوتے تو مجاہد بریلوی روزانہ ان کے پاس حاضری دیتے اور جالب صاحب کی ضروریات کا پوری طرح خیال رکھتے ہیں، گویا وہ کراچی میں جالب صاحب کے نمائندۂ خصوصی کے طور پر مصروف عمل رہتے تھے، اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آگیا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب جالب صاحب بہت زیادہ بیمار ہوئے اور علاج کے لیے انھیں لندن جانا پڑا، اقلیم علیم صاحب کی بہن کی شادی تھی، ہم معراج صاحب کے ساتھ اس تقریب میں شریک تھے، اتفاق سے طاہر جاوید مغل بھی کراچی آئے ہوئے تھے اور معراج صاحب نے انھیں بھی ساتھ لے لیا، ایک ہی ٹیبل پر ہم تینوں کے علاوہ جمال احسانی بھی موجود تھے، معراج صاحب نے جالب صاحب کی طبیعت کی خرابی کا ذکر چھیڑ دیا اور بتایا کہ لندن سے خبر آئی ہے کہ جالب صاحب کے پھیپھڑے شدید متاثر ہیں اور پھیپھڑوں کی تبدیلی ضروری ہوگئی ہے،یہ سن کر جمال احسانی کی رگِ ظرافت پھڑکی اور برجستہ کہا ’’معراج صاحب! پھیپھڑے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، میرا مشورہ تو یہ ہے کہ ان کا مجاہد بریلوی بدلوادیں‘‘
طے یہ ہوا کہ شام تک جالب صاحب آرام کریں اور معراج صاحب کے ساتھ ہم لوگ رات میں آئیں گے۔
حبیب جالب صاحب پاکستان میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، انھوں نے ابتدا میں ایک رومانی شاعر کے طور پر شعر گوئی کا آغاز کیا تھا لیکن جنرل ایوب خان کے دور میں اور خاص طور پر محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں ان کی انقلابی شاعری بہت مقبول ہوئی،اس جرم میں انھیں گرفتار بھی کیا گیا، وہ جیل بھی گئے اور قید و بند کی سختیاں برداشت کیں، ایوب خان کے دور میں ان کی مشہور نظم ؂ ایسے دستور کو، صبح بے نور کو ، میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا، بہت مقبول ہوئی۔
ہمیں اپنے لڑک پن کا وہ دور یاد ہے جب کہیں ڈھونڈنے سے بھی ان کا مجموعہ ء کلام ’’سرمقتل‘‘ نہیں ملتا تھا، حکومت پاکستان کی طرف سے اس کی اشاعات اور خریدوفروخت پر پابندی تھی۔
جالب صاحب کا پہلا مجموعہ ء کلام ’’برگِ آوارہ‘‘ نومبر 1968 ء میں شائع ہوا تھا، اس میں اگرچہ رومانی شاعری خاصی ہے لیکن مزاحمتی شاعری بھی شامل ہے،مثلاً اس مجموعے میں ایک نظم بہ عنوان ’’ یہ وزیران کرام‘‘ایسی ہے جو آج کے حالات پر بھی صادق آتی ہے ؂
کوئی ممنون فرنگی، کوئی ڈالر کا غلام
دھڑکنیں محکوم ان کی، لب پہ آزادی کا نام
ان کو کیا معلوم کس عالم میں رہتے ہیں عوام
یہ وزیرانِ کرام
سرِ مقتل کی ضبطی پر کہا گیا جالب صاحب کا مشہور قطع بھی اس میں شامل ہے۔
مرے ہاتھ میں قلم ہے، مرے ذہن میں اجالا
مجھے کیا دباسکے گا، کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امنِ عالم ، تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہورہا ہوں، تو غروب ہونے والا
ایک اور چھوٹی سی نظم دیکھیے ؂
اس کو شاید کھلونا لگی ہتھکڑی
مری بچی مجھے دیکھ کر ہنس پڑی
یہ ہنسی تھی سحر کی بشارت مجھے
یہ ہنسی دے گئی کتنی طاقت مجھے
کس قدر زندگی کو سہارا ملا
ایک تابندہ کل کا اشارہ ملا
جنرل ایوب خان کے دور سے ایک رومانی شاعر کی مزاحمتی شاعری کا آغاز ہوا اور پھر یہ رنگ ایسا چڑھا کہ کبھی نہ اترسکا، جالب صاحب ہر دور میں حکمرانوں کے نقاد رہے، انھوں نے کبھی اپنے جذبہ ء حرّیت پر سمجھوتا نہیں کیا، وہ اس کے قائل ہی نہیں تھے، محترمہ فاطمہ جناح کے بعد انھوں نے خان عبدالولی خان کی پارٹی جوائن کرلی تھی،چناں چہ جب اس پارٹی پر پابندی لگی اور خان عبدالولی خان کے ساتھ ان کے تمام رفقا کوگرفتار کیا گیا تو اس میں حبیب جالب بھی شامل تھے اور یہ سب کچھ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا، جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا لگا تو دیگر گرفتار شدگان کے ساتھ جالب صاحب کو بھی رہائی ملی لیکن انھوں نے جنرل ضیا سے بھی کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔
اس روز دفتر سے فارغ ہوکر تقریباً شام سات بجے ہم اور جمال احسانی معراج صاحب کے ہمراہ جالب صاحب کے ہوٹل پر پہنچ گئے، معراج صاحب ان کے مداح تھے، دونوں کی یہ پہلی ملاقات تھی، مجاہد بریلوی بھی کمرے میں موجود تھے، رات تقریباًگیارہ بجے تک یہ نشست جاری رہی، سیاست ، شعر و ادب وغیرہ کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہے پھر طے یہ ہوا کہ دوسرے دن سے باضابطہ طور پر انٹرویو ریکارڈ کیا جائے گا۔
ہم لوگ دوسرے دن آنے کا پروگرام بناکر کمرے سے نکلنے لگے تو جالب صاحب نے ہمیں آواز دی اور کہا ’’ہوٹل کا کھانا مجھے پسند نہیں ہے اور میں پرہیزی بھی کھاتا ہوں، جمال نے بتایا تھا کہ تمھاری بیوی دلی والی ہے، میں بھی دلی میں بہت رہا ہوں، تم اس سے کہنا کہ بکرے کے گوشت کا ’’قلیہ‘‘ بنادے، وہ سمجھ جائے گی، کل میرے لیے وہی لے آنا‘‘
ہم مسکرائے اور جالب صاحب سے کہا ’’میرے والدین بھی دلی والے ہی تھے اس لیے میں جانتا ہوں کہ قلیہ کیا ہوتا ہے، آپ فکر نہ کریں، میں کل آپ کے لیے قلیہ بنواکر لے آؤں گا‘‘
دہلی والے قلیہ اس سالن کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ کوئی سبزی نہیں ڈالی جاتی اور دہی ڈال کر اس کا شوربہ تھوڑا سا گاڑھا رکھا جاتا ہے۔
دوسرے روز سے ہم اور جمال احسانی ایک ٹیپ ریکارڈر کے ساتھ جالب صاحب کے پاس پہنچ گئے، جمال کو ٹیپ ریکارڈر سے ریکارڈنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا، یہ ذمے داری ہم نے سنبھالی اور ایسا ہی اس وقت بھی ہوا تھا جب ہم اور علی سفیان آفاقی، محترم الیاس رشیدی صاحب کا انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے کیوں کہ آفاقی صاحب بھی ٹیپ ریکارڈر کے استعمال سے ناواقف تھے۔
جالب صاحب کے انٹرویو کی ریکارڈنگ مختلف نشستوں میں کئی روز جاری رہی، اس دوران میں معراج رسول صاحب نے جالب صاحب کی ایک دعوت اپنے گھر پر بھی کی، اس دعوت میں جالب صاحب کے پسندیدہ مشروب کی ایک نہایت قیمتی اور نادر قسم بھی پیش کی گئی تھی جس سے جالب صاحب بہت خوش ہوئے، اسی نشست میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔
کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر جمال احسانی نے کہا کہ تھوڑی سی ریکارڈنگ بھی کرلی جائے، جالب صاحب موڈمیں تھے، راضی ہوگئے اور ریکارڈنگ شروع ہوگئی، جمال نے برصغیر کے حوالے سے پوچھا ’’آپ کی نظر میں اپنے نظریے سے کمنٹمنٹ رکھنے والے لوگ کون کون ہیں؟‘‘جواب دینے سے پہلے جالب صاحب نے کہا کہ اگر صحیح جواب چاہتے ہو تو ریکارڈنگ بند کردو، ہم نے ایسا ہی کیا۔
’’میرے علاوہ کوئی نہیں‘‘جالب صاحب نے جواب دیا۔
جواباً جمال نے کہا ’’اقبال بھی نہیں؟‘‘
’’نہیں‘‘اور پھر کہا ’’وہ نواب بھوپال سے وظیفہ لیتے رہے گویا اسٹیبلشمنٹ کا اثر ان پر بھی تھا۔
اس کے بعد دوسرے موضوعات بھی گفتگو میں آتے رہے لیکن دوسرے روز صبح جب ہم دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ جالب صاحب کے کئی فون آچکے ہیں اور وہ فوری طور پر ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں ، ہم نے فوراً جالب صاحب کو فون کیا تو وہ خاصے مضطرب نظر آئے ، انھوں نے ہم سے کہا ’’فراز! رات جو اقبال کے حوالے سے بات ہوئی تھی اسے انٹرویو میں سے نکال دو ورنہ میرے لیے لاہور میں زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا‘‘
ہم نے عرض کیا ’’جالب صاحب ! وہ تو ریکارڈ ہی نہیں ہوئی کیوں کہ آپ نے پہلے ہی ریکارڈنگ بند کرنے کا کہہ دیا تھا‘‘ مگر جالب صاحب کی تسلی نہیں ہورہی تھی، ان کے ذہن میں یہی بات تھی کہ وہ گفتگو بھی ریکارڈ ہوگئی ہے،آخر وہ دفتر آگئے اور ہم نے انھیں ریکارڈنگ سنوائی، تب ان کی تسلی ہوئی۔
اس انٹرویو کے دوران میں ادبی اور سیاسی نوعیت کے سوالات جمال احسانی کر رہے تھے اور پھر جالب صاحب کی فلموں میں گیت نگاری کے موضوع پر سوالات ہم نے کیے، بعد ازاں اس انٹرویو کو جمال احسانی نے لکھا اور شاید سرگزشت کے مارچ 1991 ء کے شمارے میں شائع ہوا۔
معراج صاحب نے جالب صاحب کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس سے وہ بہت خوش ہوئے (اس وقت اس انٹرویو پر تقریباً پچاس ہزار روپے خرچ ہوئے تھے) اور پھر یہ تعلقات اتنے مضبوط ہوگئے کہ جالب صاحب جب بھی کراچی آتے تو یہ ممکن نہیں تھا کہ معراج صاحب ان کی آمد کو نظرانداز کریں اور ان کی خدمت کا خیال نہ رکھیں، ایک بار وہ خاصے بیماری کی حالت میں کراچی آئے تو ہمیں یاد ہے کہ معراج صاحب خود انھیں حکیم سعید صاحب کے پاس لے گئے، ہم بھی ساتھ تھے اور ہم نے دیکھا کہ حکیم صاحب نے جالب صاحب سے بڑی شفقت اور محبت کا مظاہرہ کیا، جالب صاحب ہی کی وجہ سے مجاہد بریلوی سے بھی رابطہ ہوا اور ماہنامہ سرگزشت کے لیے سیاسی شخصیات کے انٹرویوز کا ہدف انھیں دیا گیا، انھوں نے پہلا انٹرویو جناب اجمل خٹک کا کیا جو سرگزشت میں شائع ہوا لیکن اس کے بعد وہ کوئی اور انٹرویو نہیں کرسکے، گزشتہ دنوں شاید عالمی اردو کانفرنس کے موقع پر آرٹس کونسل میں برسوں بعد ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے ’’بھائی آپ کہاں ہیں؟ میں تو آپ کو کب سے ڈھونڈ رہا ہوں؟‘‘
ہم نے انھیں بتایا کہ ہم نے گوشہ نشینی اختیار کی ہوئی ہے، بہر حال وہ اپنے کسی انٹرویو کے سلسلے میں پریشان تھے، ان کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، انھوں نے بتایا کہ دفتر جاسوسی ڈائجسٹ سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن انھوں نے بھی اس حوالے سے کوئی مدد نہیں کی اور کہا کہ ہمارے پاس پرانا ریکارڈ نہیں ہے، ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ ہم اپنے سرگزشت کے ریکارڈ سے انھیں اس انٹرویو کی فوٹو کاپی مہیا کردیں گے۔
سرگزشت کی اشاعت
سرگزشت میں خاصی معرکے کی چیزیں شائع ہورہی تھیں، صدام حسین کی سرگزشت، محمدعلی کلے کی سرگزشت، محی الدین نواب کی کہانی، حبیب جالب کی سرگزشت اور بھی دیگر خاصا معیاری مواد پرچے میں دیا جارہا تھا لیکن پرچے کی اشاعت نہیں بڑھ رہی تھی اور یہ بات معراج صاحب کے لیے تشویش کا باعث تھی، وہ اپنی اس تشویش کا ہم سے اظہار کرچکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ شاید لوگ سسپنس فل اور سنسنی خیز کہانیاں زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں، مشہور و معروف لوگوں کی سرگزشت میں زیادہ سنسنی خیزی نہیں ہوتی، شاید اس وجہ سے فکشن پڑھنے والے اس طرف متوجہ نہیں ہورہے لیکن ساتھ ہی وہ مطمئن تھے کہ جیسا پرچا وہ نکالنا چاہتے تھے وہ نکل رہا ہے،ایک روز ہم نے ان سے کہا ’’اگر سرگزشت کا کوئی خاص نمبر نکالا جائے تو یقیناً مقبولیت حاصل کرسکتا ہے، ماضی میں بھی خاص نمبر نکالنے کی روایت رہی ہے‘‘
معراج صاحب نے جواب دیا کہ ہر قسم کے نمبر آچکے ہیں پھر سرگزشت میں موضوعات کی ورائٹی بہت زیادہ ہے،کسی ایک موضوع پر خاص نمبر نکالنا مشکل ہوجائے گا، ہمارے ذہن میں ایک خیال تھا ، ہم نے کہا ’’دوسری شادی ہمارے معاشرے میں خاصا دلچسپ اور متنازع موضوع ہے اور مرد حضرات کے علاوہ خواتین کی بھی دلچسپی اس موضوع سے کم نہیں ہے،اگر ’’دوسری شادی نمبر‘‘ نکالا جائے تو کیسا رہے گا؟‘‘
حیرت انگیز طور پر معراج صاحب کی آنکھیں چمک اٹھیں، کہنے لگے ’’آئیڈیا اچھا ہے اور اس طرح ہم پہلی بار مشہور اور نامور افراد کی ایک یا ایک سے زیادہ شادیوں کی دلچسپ کہانی پیش کرسکیں گے‘‘
دوسری شادی نمبر پر اتفاق ہوگیا اور فوری طور پر اس کے لیے کام شروع کردیا گیا۔
تیکھا لکھاری غلام قادر
ماہنامہ سرگزشت، ڈائجسٹ پڑھنے والے عام قارئین سے زیادہ ایسے لوگوں میں مقبول ہورہا تھا جو اپنا ایک خاص مزاج رکھتے تھے یعنی ادبی ، سیاسی، فلمی، اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے لوگ، ایسے ہی لوگوں میں جمال احسانی کے دوستوں میں غلام قادر بھی تھے جو سرگزشت کو ایک غیر معمولی اضافہ قرار دے رہے تھے، ایک روز جمال نے ان سے ہماری ملاقات کرائی ، وہ سسپنس کے لیے کچھ کہانیاں لکھ چکے تھے، ہم نے سرگزشت کے لیے سچ بیانیاں لکھنے کی فرمائش کی تو وہ راضی ہوگئے اور ان کا آنا جانا ہمارے کمرے میں بھی شروع ہوگیا۔
غلام قادر بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے سیاسی کارکن تھے، پیپلز پارٹی کی قیادت اور دیگر نمایاں لوگوں سے ان کے قریبی مراسم جب ہمارے علم میں آئے تو ہم نے ان سے پوچھا ’’مشہور ٹی وی آرٹسٹ خالدہ ریاست کے بارے میں سنا ہے کہ اس کی شادی پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل صالح حیات سے ہوئی تھی، کیا یہ بات درست ہے؟‘‘
قادر نے اثبات میں گردن ہلائی اور کہا ’’سو فیصد درست ہے اور میں اس شادی اور پھر طلاق کے حوالے سے ہر بات سے پوری طرح آگاہ ہوں‘‘
ہم نے فرمائش کی کہ پھر دیر کس بات کی ہے، یہ کہانی بھی لکھیں، چناں چہ خالدہ ریاست کی کہانی غلام قادر نے لکھی اور سرگزشت میں شائع بھی ہوئی۔
غلام قادر سے تعلقات بڑھنا شروع ہوئے تو غیر محسوس طریقے پر اتنے بڑھ گئے کے درمیان کے تمام تکلفات ختم ہوگئے، تقریباً ہر دوسرے تیسرے دن قادر ہمارے کمرے میں ہوتے اور لمبی بیٹھک رہتی، سیاسی، غیر سیاسی، ہر طرح کی باتیں جاری رہتیں، وہ ہمیں بتاتے کہ محترمہ کی حکومت 6 اگست 1990 ء کو کیوں ختم ہوئی اور تازہ سیاسی صورت حال کیا ہے؟
اس زمانے میں سندھ پر جام صادق علی حکمران تھے اور انھوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں پر ظلم و زیادتی کی انتہا کر رکھی تھی، غلام قادر بھی ایک طرح سے انڈر گراؤنڈ تھے،ہر وقت گرفتاری کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔
سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا ان دنوں کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں،انھیں بھی ایک قتل کے کیس میں گرفتار کیا گیا اور سی آئی اے سینٹر کراچی میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ہمیں نہیں معلوم کہ کس طرح انھیں اس مصیبت سے نجات ملی اور شاید وہ ضمانت پر رہا ہوئیں، فوری طور پر انھیں 70 کلفٹن پہنچادیا گیا جہاں بیگم نصرت بھٹو کی نگرانی میں ان کا نکاح غلام قادر سے ہوا، اس نکاح میں عبیداللہ علیم بھی شریک تھے لیکن اس نکاح کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
غلام قادر دفتر آکر ٹیلی فون سے چپک کر بیٹھ جاتے، انھوں نے شہلا کو ہمارا فون نمبر دیا ہوا تھا، جب بھی شہلا کو موقع ملتا، وہ فون کرلیتی اور قادر سے بات ہوجاتی، ابھی تک رخصتی کی نوبت نہیں آئی تھی کیوں کہ اول تو قادر بے روز گار تھے ، ہمارے ہاں کہانیاں لکھ کر کچھ گزر اوقات ہوجاتی تھی ، دوسرے یہ کہ وزیراعلیٰ سندھ جام صادق علی بھی ان کی تلاش میں تھے اور وہ چھپ چھپاکر زندگی گزار رہے تھے۔
ایک روز قادر دفتر آئے اور یہ اطلاع دے کرہمیں اور جمال احسانی کو چونکا دیا کہ آج رات مسجد آل عبا سے رخصتی ہوگی،آپ دونوں کی دعوت ہے اور فوراً ہی روانہ ہوگئے، ہم نے جمال سے پوچھا ’’کیا ارادہ ہے؟‘‘
جمال نے کہا ’’چھاپہ پڑسکتا ہے‘‘
ہم نے جواب دیا ’’چھاپہ پڑا تو صرف دولہا پکڑا جائے گا، دلہن تو ضمانت پر ہے، باقی ہم باراتیوں کو کوئی کیوں پکڑے گا؟‘‘
جمال نے جواب دیا’’یہ بھی درست ہے‘‘ پھر پوچھنے لگے ’’تم کیسے جاؤگے؟‘‘
ہم نے انھیں بتایا کہ اپنے دوست گوہر اصطفا کو بلالیں گے، ان کے پاس گاڑی ہے، ان کے ساتھ ہی جائیں گے‘‘
’’بس تو ٹھیک ہے‘‘ جمال نے کہا ’’ تم مجھے گھر سے لے لینا‘‘
جمال احسانی ان دنوں گلشن اقبال کے مومن اسکوائر میں رہائش پذیر تھے ، ہم نے گوہر کو فون کیا وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے ہیڈ آفس میں کام کرتے تھے جو حبیب بینک پلازہ کے قریب ہے، ہمارا دفتر آئی آئی چند ریگر روڈ پر ان کے راستے میں پڑتا تھا، وہ ڈائجسٹوں کے پرانے قاری اور ادب و موسیقی کا اعلیٰ ذوق رکھنے والے لکھنو کے شرفا میں سے ہیں، آج کل سخت بیمار ہیں، اس زمانے میں ہم اپنی بھاگ دوڑ کے سلسلے میں اکثر ان سے مدد طلب کیا کرتے تھے اور جہاں بھی جانا ہو، گوہر ہمارے ساتھ ہوتے۔
ہم گوہر کے ساتھ دفتر سے نکلے اور سیدھے جمال کے گھر پہنچ گئے، اندر داخل ہوئے تو بھابھی نے بتایا کہ وہ تو بخار میں پڑے ہیں، ہمارا ماتھا ٹھنکا، اندازہ ہوگیا کہ جمال رخصتی کے اس پروگرام میں شرکت سے بچنا چاہتے ہیں، جمال کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ رضائی اوڑھے لیٹے تھے، ہم نے آواز دی تو منہ رضائی سے باہر نکالے بغیر ہی بولے ’’فراز! مجھے بہت تیز بخار ہے، تم چلے جاؤ اور میری طرف سے قادر سے معذرت کرلینا‘‘
اس کے بعد کوئی گنجائش نہیں رہی تھی لہٰذا ہم گوہر کے ہمراہ مسجد آل عبا کے لیے روانہ ہوگئے، ہمارے دوست گوہر کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہے لہٰذا انھیں معلوم تھا کہ یہ امام بارگاہ کہاں واقع ہے،انھوں نے باآسانی ہمیں وہاں پہنچادیا، اب صورت حال یہ تھی کے قادر کے علاوہ وہاں ہمارا کوئی واقف ہی نہیں تھا، شہلا کے گھر والوں میں ان کے چھوٹے بھائی شباہت سے ہماری تھوڑی سی سلام دعا تھی کہ وہ کبھی کبھی غلام قادر کے ساتھ دفتر آجاتے تھے لیکن اس روز وہ بھی نظر نہیں آرہے تھے،قادر کو ان کے گھر والوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا، ہم سلام دعا کرکے ایک طرف بیٹھ گئے ، اس کے بعد کھانے کا اہتمام تھا،چناں چہ کھانا کھایا گیا اور ایسی اعلیٰ درجے کی بریانی کھائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھائی تھی، یہ بات ہمارے دوست گوہر نے بھی تسلیم کی،کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہم باہر نکلے تو شباہت سے مڈ بھیڑ ہوگئی،وہ کہیں باہر سے آرہے تھے، ہم نے سلام کیا تو انھوں نے کچھ بے رخی سے جواب دیا، پھر پوچھا کہ آپ نے کھانا کھالیا تو ہم نے بتایا کہ یقیناً کھالیا ہے اور بریانی کا کوئی جواب نہیں، یہ کہاں سے بنوائی ہے؟ لیکن انھیں خود نہیں معلوم تھا،بہر حال ان کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ بے زار بے زار سے ہیں اور جیسے بہن کی شادی کی انھیں کوئی خوشی نہیں ہے۔
جن لوگوں نے غلام قادر کی ’’کشتہ ء سیاست‘‘ پڑھی ہے ، وہ قادر کی شادی کا منظر نامہ اس کہانی کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں، اس کہانی کے ہیرو کی شادی کے مسائل تقریباً قادر کی شادی کے مسائل سے ملتے جلتے ہیں۔
اب صورت حال یہ تھی کہ دولہا اپنے اور دلہن کے رشتے داروں میں پھنسے ہوئے تھے اور ہمارے واحد واقف صرف وہی تھے لہٰذا ہم دور کھڑے صرف تماشا دیکھنے والوں میں سے تھے، بہر حال خیر خیریت کے ساتھ رخصتی ہوگئی ، کوئی چھاپا نہیں پڑا، کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، دونوں میاں بیوی کسی نامعلوم خفیہ ٹھکانے کی طرف روانہ ہوگئے اور ہم بھی اپنے گھر آگئے۔
کئی روز تک قادر کی کوئی خیر خبر نہیں ملی، واضح رہے کہ اس زمانے میں موبائل کی سہولت دستیاب نہیں تھی اور اکثر گھروں میں ٹیلی فون بھی نہیں ہوتا تھا، بہر حال کئی روز بعد غلام قادر نمودار ہوئے اور چند کہانیاں ہمارے حوالے کیں، ہم نے پوچھا کہ نیا ٹھکانا کہاں ہے، انھوں نے ہمیں تفصیل سے پتا سمجھادیا۔
دوسری شادی نمبر
ماہنامہ سرگزشت کا دوسری شادی نمبر اگست 1991 ء کا شمارہ تھا، اس نمبر کی تیاری میں خاصی محنت کی گئی تھی، دلیپ کمار کی دوسری شادی کے حوالے سے ہم نے خان آصف سے رابطہ کیا، وہ معراج رسول صاحب سے ناراض تھے مگر ہمیں انکار نہیں کیا، بہر حال یہ نمبر نہایت کامیاب رہا، پرچے کی اشاعت تیزی سے بڑھی جس سے معراج صاحب بہت خوش ہوئے اور فوری طور پر کسی دوسرے نمبر کی تیاری کا حکم جاری کردیا اور ہم نے ’’خودکشی نمبر‘‘ کا پروگرام بنالیا جو نومبر 1991 ء میں شائع ہوا۔
دوسری شادی نمبر میں رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کی دو شادیوں کا قصہ بہت پسند کیا گیا تھا لہٰذا یہ خیال ذہن میں آیا کہ شاعر حضرات ہمیشہ خاصی مشکل اور پیچیدہ زندگی گزارتے ہیں، ایسے لوگوں کے ہاں غیر معمولی کہانیاں ہوتی ہیں لہٰذا اس سلسلے کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے، جمال احسانی نے اس حوالے سے اپنے عزیز دوست ساجد امجد کا نام پیش کیا، اس طرح ساجد امجد سے ہماری ملاقات ہوئی اور ہم نے انھیں خود کشی نمبر کے لیے مصطفی زیدی کی کہانی لکھنے کا مشورہ دیا، ساجد اس وقت تک کہانی کاری کے داؤ پیچ سے زیادہ آشنا نہ تھے، وہ جو کہانی لکھ کرلائے، ہمیں پسند نہیں آئی، اس کا اندازکہانی سے زیادہ مضمون کا سا تھا، پھر ہم نے انھیں گائیڈ کیا، انھوں نے کہانی کو ری رائٹ کیا تو ایک شاہکار وجود میں آگیا۔
ساجد نے اردو میں پی ایچ ڈی کیا ہے، اعلیٰ درجے کے شعرا میں ان کا شمار ہے، صاحب دیوان ہیں، زبان و بیان پر جو قدرت انھیں حاصل ہے، وہ کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے،پھر جب وہ کہانی کاری پر آجائیں تو کیا تماشا ہو! چناں چہ بعدازاں اس میدان میں انھوں نے جو کشتوں کے کشتے لگائے وہ سب نے دیکھے۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 27۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے