سر ورق / سعادت حسن منٹو / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔ نوید ظفر کیانی

گر ہمیں فرصت ہو تو کاموں میں گڑنا چاہئیے

فیس بُک سے بور ہو کر گھر میں لڑنا چاہئیے

امتحاں میں فیل ہو کر اپنے ابا جی کے ساتھ

اپنی کوتاہی چھپانے کو اکڑنا چاہئیے

بیٹیوں کے گھر میں بھی اپنی حکومت کے لئے

کچھ بہانہ کر کے سمبدھن سے جھگڑنا چاہئیے

لاکھ کوشش سے جو بن پائے نہ رائی کا پہاڑ

چغلیوں کی سِل پہ باتوں کو رگڑنا چاہئیے

انکساری سے چھڑا لیں جان تگڑا دیکھ کر

ہاں مگر کمزور بندے پر بگڑنا چاہئیے

رازداں کہہ کر جو ظالم سب سے کہہ دے راز کو

ایسے ظالم کو تو دوزخ میں ہی سڑنا چاہئیے

دوسروں کی تھی لڑائی پڑ گئی میرے گلے

راہ چلتی یوں لڑائی میں نہ پڑنا چاہئیے

سرجری کے بعد بڑھیا بن کے آئی نوجواں

کہہ رہی تھی عمرِ رفتہ کو پکڑنا چاہئیے

ہر گلی میں کھل گئے دس بیس بیوٹی پارلر

شوہروں کی یوں کمائی کو اُجڑنا چاہئیے

منزّہ سید

اُس نے جب ہم سے کہا اھلاً و سہلاً مرحبا

ذرہ ذرہ گا اٹھا اھلاً و سہلاً مرحبا

بے ادب کچھ لوگ بھی بزمِ ادب میں آ گئے

اور یہی کہنا پڑا اھلاً و سہلاً مرحبا

مانگ کر قرضہ مجھے نادم نہ کرنا تم مگر

جان و دل تم پر فدا اھلاً و سہلاً مرحبا

میرے گھر آتے ہی بچوں نے سُنائی یہ خبر

کچھ نہیں گھر میں پکا اھلاً و سہلاً مرحبا

دیکھ کر صدقے کا اک بکرا ہمارے ہاتھ میں

پیر و مرشد نے کہا اھلاً و سہلاً مرحبا

در پہ لیلیٰ کے میاں مجنوں کے استقبال کو

تھا سگِ لیلٰی کھڑا اھلاً و سہلاً مرحبا

دشمنوں نے کس طرح شوکت کو گھیرا دیکھئے

بابِ مقتل پر لکھا اھلاً و سہلاً مرحبا

شوکت جمال

لگتی ہے مجھے صاحبِ مغرور کی گردن

بجو کے بدن پر کسی لنگور کی گردن

حاضر ہے ہمہ وقت ترے ناز کی خاطر

ہر بوجھ اُٹھائے ترے مزدور کی گردن

چوروں کے ہیں ساتھی یہ گرہ کٹ (یہ مچھندر)

اب کون دبوچے کسی مفرور کی گردن

دیکھی تو ہوا شوقِ گلوبند مجھے بھی

کمخواب میں مستور کسی حور کی گردن

جب حُسن کے ہتھیار سے میں قتل ہوا ہوں

پکڑی نہ گئی کیوں بُتِ مغرور کی گردن

پھندہ کسی گردن میں اگر فِٹ نہیں ہوتا

دبتی ہے ہمیشہ ترے مقہور کی گردن

بھینسے کو کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے

ہر کوئی دباتا ہے سقنقور کی گردن

پھولی رہیں لیڈر کے مفادات کی توندیں

کٹتی ہے تو کٹتی رہے دستور کی گردن

لکھیں گے غزلیات چرائے ہوئے فن سے

ناپیں گے کسی شاعرِ مشہور کی گردن

نویدظفرکیانی

کھا لی ہے جو بھولے سے دوا اور طرح کی

ہے پیٹ میں گُڑ گُڑ کی صدا اور طرح کی

دھڑکا ہے جو دل اب کے ذرا اور طرح سے

ڈالی ہے نظر اُس نے ذرا اور طرح کی

محبوبہ کو منکوحہ بنا بیٹھے تو جانا

جرم اور طرح کا ہے سزا اور طرح کی

تھی جس پہ نظر میری، اُڑا لے گیا ہم زلف

آئی میرے حصے میں بلا اور طرح کی

اِک اور بھی مانگوں گا ترے جیسی خدا سے

میں تجھ سے نبھاﺅں گا وفا اور طرح کی

یہ دال تو گلتی نظر آتی نہیں خالد

ہنڈیا کوئی چولہے پہ چڑھا اور طرح کی

خالد محمود

آپ کی نظروں نے سمجھا ووٹ کے قابل مجھے

ڈاکوﺅں اور رہزنوں میں کر دیا شامل مجھے

ماشاءاللہ آج تو تعلیم کا ہوں میں وزیر

کم از کم اب تو نہ کہئیے ان پڑھ و جاہل مجھے

توڑ دی ہیں میری ٹانگیں اُس کے ابا جان نے

اب بھی محبوبہ سمجھتی ہے مری کامل مجھے

دل بدلنے کے لئے مجھ کو ملے ہیں دس کروڑ

دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے

کل میں ڈرتا تھا پولس سے اب ڈرے مجھ سے پولس

زندگی کی ساری خوشیاں ہو گئیں حاصل مجھے

پھر تو کر سکتا ہوں میں بھی چار سے چھ شادیاں

ساتھ میں بیوی کے مل جائیں اگر دو مِل مجھے

احمد علوی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آم ۔۔۔سعادت حسن منٹو

آم سعادت حسن منٹو خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے