سر ورق / کہانی / مسیحا۔شیطان کی بھینٹ۔۔۔ سید بدر سعید

مسیحا۔شیطان کی بھینٹ۔۔۔ سید بدر سعید

مسیحا

                                ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں یہاں بعض قتل محض اس لیے بھی ہوتے ہیں کہ مقتول اپنے قتل سے قبل زندہ اور صحت مند انسان تھا ۔ ایسے شخص کی نہ تو قاتل سے کوئی دشمنی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے قاتل سے واقف ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو قاتل اور مقتول پہلی بار ملتے ہیں لیکن پھر بھی قاتل اسے قتل کردیتا ہے۔ بظاہر یہ عجیب بات ہے لیکن کرائم رپورٹنگ کے دوران میں نے ایسے قاتلوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر قتل، بھوک، غیرت، رقابت، چودھراہٹ، جائیداد، عشق اور کسی کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔ بھوک انسان کو اس حد تک مجبور کردیتی ہے کہ مائیں اپنے ہی بچوں کو مار کر خودکشی کرلیتی ہیں۔ عاشق اپنے محبوب کے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے یا پھر محبوب کا بھائی عاشق کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ زمین پر قبضے کے جھگڑے میں بھی لوگ قتل ہوتے ہیں۔ علاقے میں چودھراہٹ قائم رکھنے کے چکر میں بھی قتل کئے جاتے ہیں ۔کرائم رپورٹنگ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ قتل صرف انہی وجوہات کی بنا پر نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں قتل کے لیے مقتول کا قاتل سے یا قاتل کا مقتول سے واقف ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ میں نے ایسے قتل کی سٹوری بھی فائل کی ہے جس میں مقتول کا تندرست اور صحت مند ہونا ہی اس کے قتل کی وجہ بن گیا۔ وہ اپنے قاتل سے واقف نہ تھا اور نہ ہی قاتل اسے جانتا تھا۔ دونوں پہلی بار ملے اور اسی وقت قاتل نے اس کا توانا جسم دیکھ کر اسے اپنے اگلے شکار کے طور پر پسند کرلیا۔ ایسی کہانی کے مرکزی کردار بظاہر معاشرے کے معزز افراد میں شمار ہوتے ہیں او رلوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ ان کا اصل چہرہ اس قدر بھیانک ہے کہ جب لوگوں کو اس کا علم ہو تو پھر وہ پوری شدت سے ان سے نفرت کرنے لگیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم غریب اور عام درجے کے جرائم پیشہ افراد سے تو دُور بھاگتے ہیں لیکن وائٹ کالر مجرموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان کی دوستی کا دم بھرنے میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں کرتے۔

                                کاشف لاہور کا ہی رہائشی تھا۔ اس کی عمر لگ بھگ 18 سال تھی لیکن ورزشی جسم اور نکلتا ہوا قد اسے اپنی عمر سے بڑا ظاہر کرتا تھا۔ شہر کے پوش علاقے میں رہنے والوں کو عموماً روپے پیسے کی زیادہ تنگی نہیں ہوتی۔ ان کا معاشرتی حلقہ اور کاروبار یا نوکری مستحکم ہوتی ہے اور بہت زیادہ عیش پرستی کی زندگی نہ گزاریں تو بھی انہیں کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہی حال کاشف کے گھر والوں کا بھی تھا۔ گھر میں نوکر چاکر تو نہیں تھے لیکن اچھی گاڑی ضرور تھی۔ کاشف شہر کے اچھے کالج میں زیر تعلیم تھا۔ کالج میں داخلہ ملتے ہی اس کے گھر والوں نے اسے نئی موٹرسائیکل بھی لے دی تھی تاکہ آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ بہت زیادہ ذہین نہ ہونے کے باوجود پڑھائی میں اچھے نمبروں سے پاس ہوجاتا تھا اور شام کو دوستوں کے ساتھ گھر کے پاس ہی کرکٹ کھیلنا اس کے معمول کا حصّہ تھا۔ دیگر الفاظ میں وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھا اور فکر معاش سے آزاد رہ کر زندگی سے خوشیاں کشید کررہا تھا۔ اس کے گھر کے حالات بھی ایسے تھے کہ سب اپنے محدود دائرے میں رہتے ہوئے بہت سو سے اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ گھر میں نہ تو جائیداد کا کوئی جھگڑا تھا اور نہ ہی یہ لوگ دشمنیاں پالنا پسند کرتے تھے۔ یہ مختصر سا گھرانہ اپنے آپ میں ہی مگن تھا۔ گلی محلّے میں ان کی عزت تھی اور یہ بھی دوسروں کو عزت سے نوازتے تھے۔ اگر کہیں چھوٹا موٹا اختلاف ہو بھی جاتا تو اسے تحمل مزاجی سے حل کرلیتے اور بات آئی گئی ہوجاتی۔

                                ایک دن کاشف دہی لینے بازار گیا تو لوٹ کر نہ آیا۔ گھر والے کچھ دیر تو انتظار کرتے رہے پھر اس کی تلاش شروع ہوگئی۔ جس کسی کو کاشف کی گمشدگی کا علم ہوا وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی کوئی خبر نہ ملی تو اس کے پریشان حال والد نے تھانے میں اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادی۔ وہ مجھ سے بھی اسی سلسلے میں ملنے آئے کہ میں اپنے طورپر علاقے کے تھانیدار پر دباﺅ ڈالوں تاکہ وہ جلد ازجلد ان کے بیٹے کو تلاش کرے۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی اعلیٰ افسر سے اس بارے میں بات کرسکتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بیٹے کی گمشدگی کے بارے میں خبر بھی لگوانا چاہتے تھے۔ میں نے کاشف کی گمشدگی کی سٹوری فائل کردی تھی۔ کافی دن گزر گئے لیکن لاپتہ کاشف کہیں نہ ملا۔ اس کا موبائل فون بند تھا۔ گھر سے وہ شلوار قمیص اور ایک چپل میں گیا تھا۔ اس کی جیب میں دو تین سو روپے اور ایک موبائل فون تھا۔ وہ سب کے سامنے گھر سے نکلا تھا اس لیے یہ خیال زیادہ پائیدار نہیں تھا کہ وہ خود کہیں بھاگ گیا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ لازماً نقدی اور ضروری دستاویز بھی ساتھ لے جاتا۔ اسی طرح وہ چوری چھپے نکلتا اور چند جوڑے کپڑے بھی پاس رکھتا ۔ اسے کسی نے تاوان کے لیے بھی اغوا نہیں کیا تھا کیونکہ لگ بھگ دو ماہ گزر جانے کے باوجود کسی نے اس کے حوالے سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ کاشف کی کسی سے دشمنی کا بھی کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اسی طرح اس کے قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ اس کا کسی لڑکی سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ کسی حادثے میں بھی نہیں مارا گیاتھا کیونکہ ایسی صورت میں کسی ہسپتال یا مُردہ خانے سے وہ زخمی یا مُردہ حالت میں ضرور مل جاتا ۔ اس کے والد نے ”تلاش گمشدگی“ کے متعدد اشتہارات شائع کروائے اور مختلف جگہ پر پوسٹر لگوائے لیکن کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ کسی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے جتنے مفروضات تھے اس کیس پر ان میں سے کوئی بھی پورا نہ اُتر رہا تھا۔

                                ایک دن مجھے ایک پولیس افسر کا فون آیا۔ اس نے جرائم پیشہ افراد کے ایک گروہ کا سراغ لگایا تھا اور گرفتار ملزم کے ساتھ پریس کانفرنس کرنا چاہتا تھا۔ وہ اسی پریس کانفرنس کے لیے بلارہا تھا۔ مقررہ وقت پر دیگر صحافیوں کے ساتھ میں بھی پہنچ گیا۔ اسی پریس کانفرنس اور ملزم کے اقبالی بیان سے معلوم ہوا کہ میں جس کاشف کی تلاش میں تھا ،وہ قتل ہوچکا ہے۔ پولیس نے کاشف کا موبائل ٹریس کرکے ہی ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ مختلف مراحل اور انٹرویوز کے بعد جو کہانی سامنے آئی اس کے مطابق جب کاشف دہی لینے کے لیے آخری بار گھر سے نکلاتو ایک جگہ اس کے سامنے ایک کار آرُکی۔ کار سوار نے ساتھ والے علاقہ کا پتہ پوچھا جو کاشف نے بتادیا۔ اس نے کاشف سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ کاشف نے کچھ دُور بازار کا بتایا جس پر کار سوار نے اسے کہا کہ بازار تک وہ کار میں آجائے۔ اس کے بعد بازار سے دوبارہ آگے کا راستہ سمجھا دے۔ کاشف اس کی کار میں بیٹھا تو پیچھے بیٹھے شخص نے اسے کلوروفام سنگھا دیا۔ اسے بے ہوشی کے عالم میں ایک کوٹھی میں لے جایا گیا۔ وہاں ایک سرجن پہلے سے موجود تھا جس نے بے ہوشی کے عالم میں کاشف کے دونوں گُردے نکال لیے۔ دونوں گُردے نکالنے کے اس عمل میں کاشف زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

                                کاشف کی موت کے بعد اس کی لاش ٹھکانے لگانے کا مسئلہ تھا۔ اس کے گُردے نکالنے والا شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال کا سرجن تھا۔ جسے ہوس زر نے اندھا کردیا تھا۔ اسے زندگی بچانے کا فرض سونپا گیا تھا لیکن اس ڈاکٹر چڈھر نے اسی پیشے کو موت بانٹنے کا سبب بنالیا۔ کاشف کی موت کے بعد اس نے عاطف نامی ایک وارداتیے کو دو لاکھ روپے دئیے اور اس لاوارث لاش کو ٹھکانے لگانے کا حکم دیا۔ یہ شخص اس گروہ کا مستقل رکن نہ تھا بلکہ ڈاکٹر چدھڑ نے اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ وہ ڈاکٹر تھا لیکن انسانی اعضا کی فروخت کے گھناﺅنے کاروبار میں ملوث ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد سے بھی واقف تھا۔ عاطف نے لاش گاڑی میں رکھی اور اپنے آبائی گاﺅں چلا گیا۔ وہاں اس نے قبرستان میں گڑھا کھودا اور کاشف کی لاش اس میں پھینک کر یہ گڑھا بند کردیا۔ یہ سارا عمل رات کے وقت ہوا جس کی وجہ سے وہاں بھی کسی کو اس کی خبر نہ ہوسکی۔ دو لاکھ روپے اور کاشف کا موبائل ملنے کی وجہ سے عاطف اپنے آبائی گاﺅں ہی رہنے لگا۔ اس کے لیے دو لاکھ بہت بڑی رقم تھی اور وہ ان سے کم ازکم ایک سال تک گزارہ کرسکتا تھا۔ دوسری جانب کاشف کے گھر والوں نے موبائل کمپنی سے رابطہ کیا تو انہوں نے موبائل کی موجودہ لوکیشن بتادی۔ پولیس ٹیم نے اس کی روشنی میں چھاپہ مار کر عاطف کو گرفتار کرلیا اور پھر روایتی تفتیش شروع ہوئی تو انسانی اعضا کا گھناﺅنا کاروبار کرنے والے ڈاکٹر چدھڑ کا نام سامنے آگیا۔

                                ڈاکٹر چدھڑ اور اس کے ایک کزن کا نام اس سے پہلے بھی گُردہ فروشی کے ایک اسکینڈل میں منظر عام پر آیا تھا لیکن وہ ملی بھگت کرکے سزا سے بچ گیا تھا۔ اس اسکینڈل کے باوجود وہ سرکاری ہسپتال میں سرجن کے طور پر کام کرتا رہا۔ اس کے خلاف ایسی کوئی کارروائی نہ ہوپائی جس کی وجہ سے اس کی نوکری ختم ہوتی۔ اس کیس کا المیہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر چدھڑ فرار ہوگیا اور اسے گرفتار نہ کیا جاسکا۔ پولیس اس کی تلاش میں روایتی انداز سے چھاپے مارتی رہی۔ وہ اب سرکاری سرجن نہ رہا لیکن جو گھناﺅنا ہنر اس کے ہاتھ لگ چکا ہے اس کے بعد اس کے لیے سرکاری نوکری اتنی اہم نہیں رہی۔ وہ اب بھی جانے کس شہر میں لوگوں کے بچّے اغوا کرکے ان کے گُردے بیچ رہا ہوگا۔ پولیس نے صرف لاش ٹھکانے لگانے والے کو گرفتار کیا جبکہ اصل گروہ آزاد ہے۔

شیطان کی بھینٹ

ہمارے ہاں ڈائجسٹ میں لکھنے والوں کو لکھاری تسلیم نہ کرنے کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ بہت سے نامور ادیبوں نے ڈائجسٹ کی دنیا سے ہی اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا۔ اسی طرح بہت سے نامور صحافیوں کا صحافتی سفر کسی مقامی اخبار سے ہی شروع ہوا۔ میں نے بھی لکھنے کی ابتدا ڈائجسٹ رسالوں سے کی۔ لکھتے لکھتے باقاعدہ صحافی بننے کا شوق چڑھا تو میں ایک مقامی اخبار سے منسلک ہوگیا۔ یہ اخبار دو کمروں پر مشتمل تھا جبکہ اس کا پریس کسی اور کی ملکیت تھا۔ اخبار کا مالک دوسرے مقامی اخبارات کی طرح نجی پریس سے چند سو کاپیاں چھپواتا تھا۔ اپنے پہلے اخبار میں مَیں نے لگ بھگ آٹھ ماہ کام کیا۔ مالکان کی حالت پتلی تھی لہٰذا دیگر صحافیوں کی طرح مجھے بھی ایک پریس کارڈ اور شاباش ملتی رہی۔ لگ بھگ آٹھ ماہ بعد میں ایک اور مقامی اخبار سے منسلک ہوگیا۔ آوارگی کے دن تھے لہٰذا مالی معاملات اتنے پیچیدہ نہ تھے کہ میری صحافت کی راہ میں حائل ہوپاتے۔ نئے اخبار کی حالت بھی پرانے اخبار جیسی ہی تھی لیکن یہاں مجھے کرائم بیٹ مل گئی۔ 8 ماہ میں سٹاف رپورٹر سے کرائم رپورٹر بننا میری پہلی صحافتی ترقی تھی جس پر یار دوستوں کو باقاعدہ سموسے کھلانے پڑے۔ مالی حوالے سے یہاں بھی پریس کارڈ اور شاباش دی جاتی تھی۔ ہمارے ہاں عام طور پر چھوٹے اخبارات کے مالکان کا یہی نظریہ ہے کہ رپورٹر ”باہر“ سے کافی کما لیتے ہیں لہٰذا ان کے لیے تنخواہ کی بجائے اخبار کا رپورٹر ہونا ہی کافی ہے۔ میرے ساتھ چونکہ مالی مسائل والا کوئی جھنجھٹ نہ تھا اس لیے مجھے ”باہر“ کی ہوا نہ لگ سکی۔ گھر سے آنے والے پیسے اتنے ہوتے تھے کہ یونیورسٹی کے اخراجات، کھانے اور فلیٹ کے بل کی ادائیگی کے بعد مہینے میں ایک آدھ بار سینما کی ٹکٹ کا خرچہ باآسانی نکل آتا تھا۔ بعد میں یہ اضافی پیسے کُتب کی خریداری پر خرچ ہونے لگے کیونکہ نعمان نے ہمارے سینما اور تھیٹر کی ذمہ داری اٹھا لی تھی۔وہ اسی اخبار میں شوبز رپورٹر تھا۔ ہنس مکھ اور شرارتی پن اس کی خاص پہچان تھی۔ میری طرح اسے بھی مالی معاملات میں پریشانی کا سامنا نہ تھا۔ لہٰذا وہ بھی دل لگا کر صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتا اور بدلے میں شاباشی وصول کرکے خوش ہوتا تھا۔ اس کا تعلق اسی شہر سے تھا اور اس کے بڑے بھائی دوبئی میں کسی کمپنی سے بطور انجینئر منسلک تھے۔ گھر کے اخراجات اٹھانا انہی کی ذمہ داری تھی۔ نعمان نے بی اے کیا تھا اور اب پرائیویٹ ایم اے کی تیاری کررہا تھا۔ وہ ٹی وی یا فلم سٹار بننا چاہتا تھا۔ بی اے کے دوران اس نے متعدد نگار خانوں کے چکر لگائے اس کی شامیں شہر کے بڑے فلم سٹوڈیو میں پروڈیوسرز کے دفاتر میں گزرتیں۔ آغاز میں اس کا خیال تھا کہ بھرپور اٹھان اور کھلتی رنگت کی وجہ سے اسے کسی فلم یا ڈرامے میں ہیرو کا کردار مل جائے گا ۔ اسی شو ق کی تکمیل میں اس نے چند ڈبّہ فلموں میں ایکسٹرا رول بھی نبھائے لیکن جلد ہی وہ فلم انڈسٹری کا بھیدی ہوگیا۔ اس نے اخبار میں نوکری شروع کردی اور شوبز رپورٹر بن بیٹھا۔ مقامی اخبارات کا یہ بھی المیہ ہے کہ یہاں سٹاف نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اس لیے انسان کو باآسانی مرضی کی رپورٹنگ بیٹ مل جاتی ہے۔ مالک کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ اس کے اخبار میں رپورٹر بھی کام کرتے ہیں۔

                                جلد ہی میری اور نعمان کی گہری دوستی ہوگئی۔ ہم صبح رپورٹنگ روم میں میٹنگ کے بعد اکٹھے فیلڈ میں نکلتے اور پھر ساتھ والی گلی میں بھاءرفیق کے ٹی سٹال پر جابیٹھتے۔ وہاں چائے پی جاتی اور دنیا جہان کے مسائل پر گفتگو ہوتی۔ اس کے بعد پہلے وہ میرے ہمراہ کسی تھانے یا بدمعاش کے ڈیرے پر چلتا جہاں سے ہم دو تین جرائم کی خبریں حاصل کرتے۔ پھر سرکاری ہسپتال کے مُردہ خانے چلے جاتے اور نئی لاشوں کا معائنہ کرنے کے بعد توبہ استغفار کرتے ہوئے کسی فلمی سٹوڈیو جاگھستے۔ ہمارے روزمرہ کے اس معمول میں نہ تو کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی اختلاف پیدا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلمی دنیا شام 4 بجے سے پہلے جاگتی ہی نہیں تھی۔ اخبار چونکہ 5 بجے پریس میں چلا جاتا تھا اس لیے کرائم نیوز اکٹھی کرنے کے بعد ہم راستے میں پہلے اخبار کے دفتر خبریں جمع کرواتے تھے۔ میری خبر اسی دن کی صورت حال پر ہوتی جبکہ نعمان گزشتہ شب کی خبریں دیتا۔ اخبار میں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی ایسا نظام نہ تھا کہ مس ہونے والی خبروں پر باز پرس ہوتی۔ مالک کو کسی بھی صورت اخبار کا پیٹ بھرنا ہوتا تھا لہٰذا ہم نے ایک مخصوص تعداد میں خبریں اور مختصر انٹرویو فائل کرنا ہوتے تھے ۔ یہ کام ہم پوری باقاعدگی سے کررہے تھے لہٰذا ہمارے خلاف کوئی خاص شکایت نہیں تھی۔ اخبار میں خبریں رپورٹ کرنے کے بعد ہم فلمی سٹوڈیوز کی جانب نکل جاتے۔ وہاں نعمان کسی اداکارہ کا مختصر انٹرویو کرلیتا اور آنےو الی فلموں کی ریکارڈنگ کے حوالے سے کوئی خبر بنا لیتا، بعض اوقات کوئی چٹ پٹا سکینڈل بھی ہاتھ لگ جاتا تھا جسے وہ اخبار میں چھاپنے کی بجائے ”کیش“ کروالیا کرتا تھا۔ اس طرح وہ مختلف فلمی ستاروں اور پروڈیوسرز کو اپنا احسان مند بناتا جارہا تھا۔ اس کا اصل مقصد فلموں میں اچھے کردار حاصل کرنا تھا اس لیے فلمی دنیا سے اچھے تعلقات اس کی مجبوری تھی۔

                                نعمان اور میرا ایک ساتھ مختلف شعبوں کی خبرےں تلاش کرنے کے لےے جانا دلچسپ امر تھا لیکن ہماری مجبوری یہ تھی کہ ہم دونوں کے پاس ایک ہی موٹرسائیکل تھی۔ اس موٹرسائیکل پر ہم اکٹھے پہلے کرائم رپورٹنگ کے لیے نکلتے اور پھر شوبز رپورٹنگ پر چلے جاتے۔ اسی لیے نعمان پورا کرائم رپورٹر بن چکا تھا اور میں بھی آدھا شوبز رپورٹر بن گیا تھا۔ دونوں حلقوں میں ہماری خاصی جان پہچان ہوگئی تھی۔ آج صف اول میں شمار ہونے والی بعض اداکارائیں اس وقت نعمان کو نومی یا سوہنو کے نام سے بلایا کرتی تھیں۔ کرائم اور شوبز رپورٹنگ کا ہمارا یہ معمول کافی عرصہ تک جاری رہا۔ پھر ایک دن نعمان اخبار کے دفتر نہ آیا۔ دو تین دن تو اس کی غیر حاضری کو معمول کی غیرحاضری سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا رہا لیکن جب ہفتہ بھر کے بعد بھی وہ کہیں نظر نہ آیا تو سبھی دوستوں کو فکر لاحق ہوگئی۔ ہم اس کے گھر گئے تو اس کی بوڑھی والدہ آنکھوں میں آنسو لیے ملیں۔ انہیں یہ ہی نہیں معلوم تھا کہ نعمان کا اخبار کہاں پر ہے۔ گھر میں نعمان اور اس کی والدہ ہی رہتی تھیں لہٰذا وہ نعمان کی لااُبالی طبیعت کا علم ہونے کے باوجود بے حد پریشان تھیں۔ نعمان چونکہ دفتری اوقات کے بعد رات گئے تک فلمی حلقوں میں بیٹھا رہتا تھا اس لیے محلّے میں بھی کسی کو اس کی حالیہ مصروفیات کے حوالے سے کوئی خاص بات معلوم نہ تھی۔ وہ لوگ بھی اپنے علاقے کی حد تک اسے تلاش کرتے رہے اور پھر انہوں نے متفقہ طور پر فرض کرلیا کہ اپنے لاابالی پن کی وجہ سے وہ بنا بتائے کسی فلمی یونٹ کے ہمراہ شہر سے باہر چلا گیا ہوگا۔

                                ان دنوں ہر شخص کے پاس موبائل نہیں تھا۔نعمان موبائل لینے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن ابھی اس نے موبائل فون نہیں خریدا تھا۔ صورت حال کا علم ہونے پر ہم بھی پریشان ہوگئے۔ میں جانتا تھا کہ ان دنوں کوئی فلمی یونٹ شہر سے باہر نہیں گیا اور نہ ہی فلمی حلقوں میں کسی کو نعمان کی خبر تھی۔ ہم نے فوراً علاقے کے تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادی۔ میں نے ذاتی طور پر اس کے سبھی دوستوں اور جاننے والوں سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے اس کی کوئی خبر نہ ملی ، چونکہ رپورٹنگ کے دوران وہ فیلڈ میں اپنی پہچان بنا چکا تھا اس لیے اس کے دوست رپورٹر بھی اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔ہم نے علاقے کے تھانیدار پر افسروں کا دباﺅ ڈلوایا اور پھر یہ کیس سپیشل برانچ کی جانب منتقل کروادیا۔ پولیس کے اہم افسروں اور صحافیوں کی ذاتی دلچسپی کے بعد صورت حال پہلے سے بدل گئی اور پھر ایک ماہ کے طویل تفتیشی عمل کے بعد ایک دن پولیس نے اعلان کردیا کہ نعمان قتل ہوچکا ہے۔نعمان کے قتل کا الزام ایک درمیان درجے کی اداکارہ پر لگایا گیا تھا۔ پولیس کڑی سے کڑی ملاتی ہوئی اس اداکارہ تک پہنچی اور پھر اسے باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے تو اس نے الزامات کی تردید کی لیکن پولیس کے تفتیشی عمل سے گزرنے کے بعد اس واردات کا اعتراف کرلیا۔اس نے اس حوالے سے ایک اور ہی کہانی سنائی۔

                                یہ اداکارہ بھی ہیروئن بننے کا خواب لے کر فلمی دنیا پہنچی تھی لیکن چار پانچ سال گزر جانے کے باوجود اسے قابل ذکر کردار نہ مل سکا۔ وہ ایکسٹرا کے طور پر فلموں میں کام کرتی رہی۔ اس دوران اس نے ڈانس میں بھی مہارت حاصل کرلی اور پھر پروڈیوسرز کو دام میں لینے کے لیے انتہائی سطح تک چلی گئی۔ اس کے باوجود اسے چھوٹے موٹے کردار تو ملتے رہے لیکن کوئی اہم کردار اس کے ہاتھ نہ آیا۔ اسی دوران اس کی کسی ساتھی نے اسے کہہ دیا کہ تمہاری ناکامی کے پیچھے حاسدوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ یہی ساتھی ایکسٹرا اسے ایک عامل کے پاس لے گئی جو کالے علم کے حوالے سے مشہور تھا۔ اس عامل نے بھی اس پر سفلی عملیات کا اثر بتایا اور اس کا توڑ کرنے کا وعدہ بھی کرلیا۔ اداکارہ کچھ عرصہ اس عامل کی بھی جائز ناجائز بات مانتی رہی لیکن اسے پھر بھی کوئی اہم کردار نہ مل سکا۔ اب کسی بھی طرح بڑا کردار حاصل کرنا اس کے لیے چیلنج بن گیا اور وہ اس حوالے سے کسی حد تک نفسیاتی اُلجھنوں کا بھی شکار ہوتی چلی گئی۔ ایک روز زیادہ زور دینے پر اس عامل نے سفلی عملیات کے توڑ کے لیے اسے کسی انسان کی بلی چڑھانے کا حکم دیا۔ غالباً عامل کا خیال تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکے گی یا پھر اس میں کالا جادوکرنے والے عامل کا کوئی خاص عمل چھپا تھا۔ عامل نے بلی چڑھانے کے لیے جو شرائط بتائیں ان کے مطابق دیوی کی بھینٹ چڑھانے والا کوئی خوبصورت نوجوان ہو جو کسی جسمانی عارضے میں مبتلا نہ ہو۔ عامل کے مطابق اس نوجوان کا تعلق شوبز سے ہونا بھی ضروری تھا۔ اداکارہ نے اپنے اردگرد دیکھا تو اس کی نگاہ انتخاب نعمان پر جاٹھہری۔ اس نے ایک رات شوٹنگ کے بعد نعمان کو کسی کام سے اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔ اس شام مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا اس لیے نعمان کو سٹوڈیو اُتار کر واپس جاچکا تھا۔ نعمان اس اداکارہ کے ساتھ چلا گیا۔ اس نے گھر لے جاکر شربت میں نشہ آور گولیاں ملائےں اورشربت نعمان کو پلادیں اور پھر رات گئے تیز دھار چھری سے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ اداکارہ کے مطابق عامل کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس نے شہ رگ کاٹنے کے بعد اپنے ہونٹ نعمان کے گلے پر رکھ دئیے اور اس کا خون پینا شروع کردیا۔ انسان ہی نہیں جانور کا خون پینا بھی کراہت کا باعث ہے لیکن شہرت کے اندھے لالچ میں وہ اس مرحلے سے بھی گزر گئی ۔ اس دن اس نے دیوی کے نام پر صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور رات کو نعمان کے خون سے اپنی پیاس بجھائی۔ خون پینے کے بعد اس نے عامل کے بتائے چند جنتر منتر پڑھے اور پھر لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ یہ ٹکڑے وہ مختلف اوقات میں نہر کے مختلف حصّوں میں بہا آئی۔

                                ایک خوبصورت صحافی ٹکڑوں میں بٹ کر بکھر چکا تھا۔ پولیس کو نہ تو نعمان کی لاش کا کوئی ٹکڑا ملا اور نہ ہی آلہ قتل مل سکا۔ محض پولیس کی تحویل میں دیا جانے والا اداکارہ کا اعترافی بیان اسے پھانسی کے تختے تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔ بہرحال اس اعتراف جرم کے بعد پولیس پر اعلیٰ افسروں اور صحافیوں کی جانب سے دباﺅ کم ہوگیا اور اداکارہ کا کیس عدالت میں چلنے لگا۔ کرائم رپورٹنگ کے تجربے کی وجہ سے کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ پولیس نے دباﺅ سے بچنے کے لیے اسے اس مقدمے میں پھنسایا ہے۔ آلہ قتل اور لاش برآمد نہ ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف انتہائی کمزور چالان پیش کیا گیا تھا۔ یہ کیس روایتی انداز میں چلتا رہا لیکن میں نے چند روز بعد وہ اخبار چھوڑ دیا کیونکہ وہاں اب بھی ساتھ والی کرسی سے مجھے اکثر دھیمے لہجے میں کوئی کہتا تھا۔ ”آج نئی فلم لگنی ہے، رات 10 بجے والا شو دیکھیں گے۔“ حالانکہ وہاں پڑی خالی کرسی ہمیں احساس دلاتی تھی کہ ہمارا دوست شیطان کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق پہلا حصہ خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے