سر ورق / کہانی / ست رنگی چڑیا بی مرالی/عامر صدیقی

ست رنگی چڑیا بی مرالی/عامر صدیقی

ست رنگی چڑیا

بی مرالی/عامر صدیقی

ملیالم کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پوی ترن نے سر اٹھا کر دیکھا تو کھڑکی کی جالی پر ایک چڑیا آ بیٹھی ہے۔ اس کے پر ست رنگی ہیں اور پلکیں بھی، ایک ردھم سے بہتی ہوا چڑیا کے پروں کو جس وقت کھولتی اور سمیٹتی ہے۔ اس وقت کھڑکی کی جالی پر ایک ننھا سا قوس وقزح بنتا ہے۔ ہوا بالکل خشک ہے۔چڑیا بیچ بیچ میں ہوا کے جھونکے سے الٹ کر پوی ترن کے بستر پر گرنا چاہتی ہے۔ ایک خوبصورت چڑیا کیلئے اڑنا مشکل ہوگا۔ ننھے پر اپنی تمام تر خوبصورتی لئے ہوئے کیسے اڑ سکیں گے، ہائے ۔۔ کھڑکی کا پلہ اور ایک بار ہوا میں جھوم کر آئے اور اسے اچھال دے تو؟ پوی ترن نے بجلی کی تیزی سے کھڑکی کا پلہ چٹخنی لگا کر بند کر دیا۔ چادر ہٹائی تو پورے بدن پر مانو ایک سرد کمبل آن پڑا ہو۔ باہر گھنی دھندلی سفید چادر جو کل تک نہیں تھی۔

پوی ترن کی کسی بھی حرکت نے چڑیا میں کوئی ہل جل پیدا نہیں کی۔ وہ آنکھ موندے بیٹھی رہی۔ دھند سے گھر کے اندر آئے پوی ترن نے اس چڑیا سے آج کا حال احوال پوچھا۔ مگرچڑیا تو آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی۔

پوی ترن اب چولہے میں چائے تیار کر رہا ہے۔ موسم سرما کا اثر چولہے کی آواز میں بھی ملتا ہے۔ گاڑھے نیلے رنگ کے شعلے سرد ہیں۔ کل صبح کھڑکی کے باہر کا سویرا زرد تھا ۔ ہوا کی ہلکی سی لہر کھڑکی کے پردے کو ہٹاتی ہوئی پوی ترن کو چومتی ہے۔ جب پردہ ہٹا، تب کچن کی کھڑکی کی جالی پر بھی ایک چڑیا تھی۔ اتنی ہی خوبصورت۔ وہی سات رنگ ۔ چولہے کا شعلہ جب تیز ہوتا ہے تب چڑیا آنکھ کھولتی ہے۔ وہ ایک دم مست ہے۔ پوی ترن نے بستر کے قریب کی کھڑکی کی طرف نظر دوڑائی۔ آنکھیں موندے بیٹھی چڑیا ادھر نہیں۔ وہ میرے قریب آکر بیٹھ گئی ہے۔ ’’وہی چڑیا! دھند سے آئی مہمان۔‘‘ پوی ترن نے سوچا۔

سست شعلے کے چولہے پر چائے چھوڑ کر پوی ترن دانت برش کرنے لگتا ہے۔ چڑیانے سرمزید کچھ اندر داخل کر ایسی آواز نکالی، جو آسمان سے آتی ہوئی سی محسوس ہوئی۔ پوی ترن ہنس پڑا۔ جھاگ بھرے منہ سے بولا،’’ایرے میزبان یہاں نہیں ہیں۔ تو چاہے اس ملک کی نہ ہو؟ تو بھی اُس کے لیے تو ایک ہیروئن سے کم نہیں۔‘‘

چڑیا نے چوں تک نہیں کی۔ پھر پوی ترن آملیٹ تیار کرنے لگا تو چڑیا باہر اڑ گئی۔ کس لمحے چڑیا اڑی، یہ پوی ترن نے نہیں دیکھا۔انڈے توڑنے پر شاید چڑیا نے اپنا اعتراض ظاہر کیاہو، مگر پوی ترن کو لگا کہ و ہ چڑیا دوسرے دن صبح بھی آئے گی۔

’’دھت! ‘‘آملیٹ کی تیاری شروع کر چکے پوی ترن نے سوچا۔ اب اس میں کوئی مزہ نہیں۔ انڈے کا پیلا حصہ دوسری چیزوں پر جمنے لگا۔

پرندوں کایہ مادہ تولیدگھر میں سب کو برا لگتا تھا۔ پوی ترن کو یاد آیا۔ سنندا شور مچاتی۔ ’’کاہلی چھوڑ کر مکسی چلانی چاہیے۔ اچھی ورزش بھی ہو جائے گی۔ انڈے توڑکر کھانا بھوک نہیں مٹاتا۔‘‘ سنندا کہتی ۔

’’تمہیں رخصت کرنے کے بعد ہی کچھ انڈے خریدنے کا انتظام کرنا ہے۔‘‘ پوی ترن اسے کو چڑاتا۔

گذشتہ ہفتے سویرے آٹھ بجے کی دھوپ کی طرف دیکھتے ہوئے سنندابولی،’’بتائیں پوی ترن، اگلے ہفتے چلوں؟ مقالہ پورا کرنا ہے۔ اس دسمبر میں بھی نہ دوں تو بعد میں بڑی دیر ہو جائے گی۔‘‘ اس نے باتیں جاری رکھیں،’’باز آئی تمہارے شہر سے۔اپنے ہل اسٹیشن کی گاڑی پکڑوں گی۔ ایک کام کرو، ایک مہینے کے لئے فرار ہو جاؤ۔ وہاں سردیاں شروع ہو رہی ہیں۔‘‘

پوی ترن نے کہا،’’تم اکیلے جا سکتی ہو۔ ایک کام کریں گے۔ آج جاکر ٹکٹ کی بکنگ کروا لیتے ہیں۔ نہیں تو تمہیں سفر میں تکلیف ہو گی۔ تمہارے بعد مجھے کچھ پروجیکٹ پورے کرنے ہیں۔ تمہارے بنجر ٹیلے پر میری ا سکیمیں نہیں چلیں گی۔‘‘

ریلوے اسٹیشن جاتے وقت موٹر سائیکل کے آگے میونسپل لاری سرک رہی تھی۔ کسی طرح اس سے کتراکر آگے پہنچا تو ایک آٹو رکشہ راستہ روک رہا تھا۔ دھول، کوئلے کے ٹکڑوں اور سیاہ دھوئیں سے بھرا آسمان۔ آسمان۔۔ پوی ترن کے دماغ میں دخول کر گیا۔ پوی ترن مڑ کر سنندا کو دیکھنے سے ڈرتا تھا۔ جب پسینے کے قطرے پلکوں کو بھگونے لگے، تب اس نے آئس کریم کی دکان کے سامنے موٹر سائیکل روکی۔ ایک کوے کو جوٹھن کترکر کھاتے دیکھ کر سنندا رو پڑی۔ کہیں چشمہ نہ لگانے سے تو ایسا نہیں لگا؟ باہر پان والے سے پوی ترن نے سگریٹ خریدی۔ سنندانے پوچھا ،’’کیا کاربن مونو آکسائیڈ سے جی نہیں بھرا؟‘‘

آئس کریم پارلر میں ایک پنجرہ، توتا اور ایکوریم۔ مگر پوی ترن کو فوری باہر نکلنا تھا۔ سنندا کو ایک تامل فلم۔ پھرپوری شام آفس کا معاملہ۔ رات تک ڈسکشن چلے گا ۔ اسٹیبلشمنٹ میں کچھ باگڑ بلے ہیں۔ ان کا گھمنڈ چور کرنا ہوگا۔ اس کے بعد پارٹی۔

سنندا کا ریلوے ٹکٹ، تامل فلم، بحث، بدلہ، پارٹی۔

تب تک پوی ترن نادانستہ ہی آملیٹ ہضم کر چکا تھا۔ چائے ہاتھ میں اٹھانے لگا تو دیوار کی گھڑی کی گھنٹی بجی۔ صبح سویرے سے بجنے کا پروگرام کرکے رکھا تھا۔ وہ چھ دفعہ بجی، چھ بجے۔

پوی ترن دنگ رہ گیا۔ صبح سویرے کا مطلب اس کے لغت میں آٹھ بجے ہے۔ یہ چھ بجے کا راز کیا ہے،۔ اچانک پوی ترن کو یاد آیا۔ ایک دھندلے خواب میں ایک سرد چادر آ پڑی اور ڈھنڈک لائی۔ باہر کی طرف دیکھا۔ دیکھا کہ وہاں کہیں قوس وقزح کا عکس تو نہیں۔ پھر آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور سگریٹ کا دھواں باہر اڑاتے ہوئے ،ایک سرد ہل اسٹیشن کے بارے میں سوچنے لگا۔

اس دن آنے والے سارے اخبارات، بائیں ہاتھ سے ایک طرف ہٹا دیے۔ پھر ایک اسپائرل پیڈ لے کر پہلا صفحہ پھاڑ کر پھینک دیا اور ایک اچھا صاف صفحہ نکالا۔ پھر اٹیچی سے ڈائری نکالی۔ کافی دیر تک جمع تفریق کرنے کے بعد اس نے اپنے دفتر کے منصوبہ ساز کو فون پر بلایا۔ ٹھیک ایک ماہ کی چھٹی کا انتظام کیا۔ سب کچھ ٹھیک آدھے گھنٹے میں ختم۔

پھر سگریٹ کا ٹوٹا ایش ٹرے میں بجھانے کے بعد پوی ترن نے دھند لے رنگ کے ڈونالڈ ڈک کی تصاویر والے پیڈ میں، ایک نیا شیڈول لکھنا شروع کیا۔ ہل اسٹیشن کا ٹکٹ آج ہی خریدنا۔ سفر ڈیڑھ دن کا۔ وہاں سے سنندا کے برڈ ریسرچ کیمپ کو۔ اسی دسمبر میں اس مقالہ کو مکمل کرنا کوئی ضروری بات نہیں ہے۔ دو تین دن اس کی چڑیوں کے ساتھ، اس کے بعد اس کے آگے صرف برف والے اُس صحت کے مرکز میں ۔ پورا دن ہم برف پر چلنے کا مزہ لیں گے، کیمپ فائر سے دمکتی رات۔ پہاڑی پر چڑھیں گے۔ ایکو فیمنسٹ کی غیر ملکی نمائندہ سنندا ۔ اعتراض نہ کرنا تمہاری جیسی کیلئے یہ دونام خوبصورت لگتے ہیں۔ چڑیوں کے ساتھ جتنا وقت چاہو، اڑیں گے۔

آدھا گھنٹہ اور گزرا ۔ پوی ترن رسالے پڑھنے لگا۔ پہلے دونوں اخبار سرسری نگاہ سے دیکھے۔ ماڈل پر ایک پٹاخے دار پیج بعد میں پڑھنے کے لیے الماری کے اندر گھسیڑ دیا۔ کانگریس میں مسئلہ بڑا ٹیڑھا ہے۔ انگلینڈ کے ٹور سے سچن اور ۔۔۔ سب سے نیچے آج کی ڈاک ہے۔ پوی ترن کو یاد آیا، آج ڈاک کھولنے کی فرصت نہیں ملی تھی۔ ایل آئی سی، پالیسی کی وصولی، مدراس کے کلائنٹ کا بھدی البموں والاایک خط، کوریئرز سے تین خط موٹے لفافے میں، بزنس ایڈمنسٹریشن کی نئی ڈلیوری ہوں گی۔

پوی ترن کی توجہ کھینچتے ہوئے درمیان میں سنندا کا خط گرا،’’اے بھگوان کل میں نے یہ خط نہیں دیکھا۔‘‘

پوی ترن نے پڑھنا شروع کیا،’’آپ کے یہاں برف گرنا شروع نہیں ہوئی ہوگی نہ؟ یہاں برف خوب گرنے لگی ہے۔ کل ہوا کے جھونکے نے ہماری کھڑکی کا پردہ پھاڑ ڈالا۔ یہاں دسمبر میں اولے برستے رہیں گے۔ سب پتوں پر دوپہر تک سفید جھاگ رہے گا۔‘‘

’’سوری، یہاں دوپہر ہی نہیں ہوتی، بات کچھ اور ہے۔ میں مقالہ بڑھا رہی ہوں، پوی ترن ہم ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہاں سے قریب پچاس کلومیٹر دور ہمارا ا یڈویچر اسپاٹ ہے۔ پچاس موسمی پرندے ہماری تلاش میں وہاں کی سینچری میں آئے ہیں،بہت سے نایاب پرندوں اور بھی ہیں۔ ہمارے اپنے سلیم علی بڑے ہی پرجوش ہیں۔ میرا مقالے کا لے آؤٹ ہی شاید بدل جائے۔ پوی ترن،آپ جانتے ہیں کہ ہمارے دیہات میں فون نہیں ملے گا۔ لکھنے پر بھی پیغام ملنے میں تاخیر ہوگی۔ تو ایک ماہ کے بعد اس پہاڑی سے اتر کر آؤں گی، تب ملیں گے۔‘‘

’’پراجیکٹ کا کیا حال ہے، گڈ لک‘‘

پوی ترن ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چادرکے اندر گھس گیا۔ باہر آسمان میں جمی ہوئی برف کے پگھلنے میں دوپہر تک کا وقت ہے۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق پہلا حصہ خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے