سر ورق / کہانی / شہکار…..مہتاب خان 

شہکار…..مہتاب خان 

 

اگر اداسی اور کسک کو کسی چہرے میں ڈھال کر بھیجا جاتا تو شاید وہ کسی بےبس انسان کا چہرہ ہوتا……..اس کی ویران آنکھیں دنیا جہاں کا درد سمیٹے آنے جانے خوش باش لوگوں کو بڑی حسرت سے تکا کرتیں ……. ایک ایسا  چہرہ اس سنگدل مصور کے سامنے شہکار بن کر آیا تو ………

           آذر جمال اس شہر کا ایک نامور مصور تھا………… زندگی کی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہوۓ رنگ اور برش اس کے ہاتھوں میں آ کر گویا باتیں کرتے تھے اور جب یہ شہکار منظر عام پر آتے تو فن شناس جوق در جوق انہیں دیکھنے آتے اور اس کے فن کو سراہتے تھے-وہ اپنے فن میں منفرد انداز کا حامل تھا، ملک میں اور ملک کے باہر بھی بار اس کی تصویروں کی کامیاب نمائش ہو چکی تھی-

           شہر کے ایک پوش ایریا میں اس کا وسیح و عریض بنگلہ تھا-اس سے ملحق اسکا اسٹوڈیو تھا جس کی تزئین و آرائش آذر نے خود کی تھی-یہ ایک مصور کی نازک خیالی کا بہترین عکاس تھا- اس کے ملکی اور غیر ملکی دوست جب کبھی یہاں آتے تو اس کی سجاوٹ دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے-

          اس بار آرٹسٹوں کی ایک انجمن نے تصاویر کی نمائش کا انقعاد کیا تھا اور ملک کے بڑے بڑے مصوروں کو اس مقابلے میں حصّہ لینے کی دعوت دی تھی- آذر عموما اس قسم کے مقابلوں سے گریز ہی کرتا تھا-مگر اس بار جانے اس کے دل میں کیا آئ کہ اس نے اس مقابلے میں حصّہ لے لیا – فن مصوری سے دلچسپی رکھنے والوں کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں- وہ سب اس کی فنکارانہ صلاحیتوں سے واقف تھے- وہ ایسا ہی با کمال مصور تھا جو زندگی کے نشیب و فراز کو بڑی باریک بینی سے جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور پھر رنگوں اور برش سے کسی بھی خیال کو زندہ جاوید کر دیتا تھا-

          ان دنوں وہ کسی اچھوتے خیال کی تلاش میں سرگرداں تھا-اس کی قیمتی کار سڑکوں، بازاروں اور ویرانوں میں بھٹکتی پھرتی تھی-وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اس مقابلے کے لیے وہ کس خیال کو موضوع بناۓ -اس کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی تخلیق، کوئی ایسا خیال ہو جو ہلچل مچا دے اور پھر اسے اسکا تصور مل گیا-

          اس کی توجہ کا مرکز سٹی کورٹ کے گیٹ کے باہر فٹ پاتھ پر لاٹھی کا سہارا لیے ہوۓ ایک بوڑھا اور لاغر شخص تھا- اس وقت آذر کی کار سٹی کورٹ کے سامنے ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھی- وہ کار کی پچھلی نشست پر بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اس بوڑھے شخص پر پڑی اور وہ چونک گیا-اس کی فنکارانہ نظریں اس شخص کا تنقیدی جائزہ لے رہی تھیں-

         اپنے حلیے اوروضائع قطع سے وہ کوئی دیہاتی لگتا تھا-بوسیدہ میلا  کچیلا لباس، مٹی سے اٹے ہوۓ بال دبلا پتلا لاغر بدن،جھریوں بھرا چہرہ،مٹیالا رنگ جسے زمانے کی سختیوں نے ماند کر دیا تھا- وہ بار بار امید بھری نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا تھا اور پھر مایوس ہو کر سر جھکا لیتا تھا-در حقیقت اس کی آنکھوں کی ویرانی اور بے بسی نے ہی اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا-اس نے اشارے سے اس شخص کو اپنے پاس بلایا لیکن شاید اس نے اس کا اشارہ نہیں سمجھا-آذر تیزی سے کار سے اترا اور اس کے پاس جا کھڑا ہوا-وہ حیران نظروں سے آذر کو دیکھ رہا تھا- آذر نے اس کی سوالیہ نظروں کو پڑھا پھر جلدی سے بولا-

       "بابا ……. آپ میرے ساتھ چلیں -مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں- "اس کی آنکھوں میں شبھات ابھر آے –

        ” فکر نہ کریں میں کچھ در بعد آپ کو واپس ادھر ہی چھوڑ دونگا – "

         "کیا بات کرنی ہے بیٹا؟” بابا نے بہترین سوٹ پہنے ہوۓ وجیہ اسمارٹ اور متمول نظر آنے والے شخص کی طرف حیران نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا –

          ” میں آپکو کچھ دینا چاہتا ہوں-” اس نے اپنی جب سے بٹوا نکالا اور پانچ سو کا نوٹ بوڑھے کی طرف بڑھا دیا –

          ” میں بھکاری نہیں ہوں-” اس نے ایک شان بے نیازی سے کہا –

           ” مجھے پتا ہے کہ آپ بھکاری نہیں ہیں-آپ میرے ساتھ چلیں تو سہی ………اس کے علاوہ بھی میں آپ کو بہت کچھ دے سکتا ہوں-” اس نے اپنے ارد گرد کھڑے لوگوں پر نظر دوڑائی جو دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے-

          "آپ یہاں کورٹ کے پاس بیٹھے ہیں تو یقیناً کسی مسلے  میں گرفتار ہوں گے- میں آپ کے تمام مسائل حل کر سکتا ہوں-آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی -"

           وہ کچھ در تذبذب کے عالم میں رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا-

           ” آئیں میرے ساتھ………وہ سامنے میری گاڑی ہے- اس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں-” اس دوران ٹریفک کچھ رواں ہوا تھا-ڈرائیور نے گاری اس کے نزدیک روکی-بوڑھا اب جھجک رہا تھا-

            "بے وقوف کہیں کا…..” آذر نے دل میں سوچا-اس کی جھجک پر آذر کو جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی-وہ جب اس کے ساتھ گاری میں بیٹھ گیا تو آذر کو قدرے سکوں ہوا-

         "چلو” اس نے ڈرائیور سے کہا –

گاڑی آگے بڑھی تو بوڑھا شخص کچھ گھبرا سا گیا-

        ” آپ اطمینان سے بیٹھیں میں کچھ دیر  بعد آپ کو واپس یہیں چھوڑ دوں  گا-…..آپ کا نام کیا ہے بابا ؟” آذر نے دریافت کیا-

         "الله وسایا ” بابا نے کہا

         ” یہاں کورٹ میں کس سسلے میں آئے تھے؟”

         "بس صاحب جی کیا بتاؤں ایک افتاد پڑ  گئی ہے ہم پر -میرا بیٹا دین محمد صدر میں ایک ہوٹل پر بیرے کا کام کرتا تھا-اس واقعے کو تقریباً دو مہینے ہو گئے ہیں-اس دن کچھ لڑکے دکانیں بند کروا رہے تھے کہ اچانک پولیس آ گئی اور اس نے آتے ہی پکڑ دھکڑ شروع کردی-میرا بیٹا بھی وہیں کھڑا تماشہ دیکھ رہا تھا-انہوں نے اسے بھی دھر لیا اور پولیس اسٹیشن لے گئے -وہ لڑکے تو رشوت دے دلا کر چھوٹ گئے،پر میرے بیٹے کو جیل ہو گئی-مجھے تو جی ایک مہینے بعد گاؤں میں اس کی خبر ملی تھی تو دوڑا چلا آیا -بڑی مشکل سے قرض ادھار  کر کے ایک وکیل کا بندوبست کیا تھا-اس نے صبح دس بجے مجھے کورٹ کے گیٹ پر ملنے کے لیے کہا تھا- اسی کا انتظار کر رہا تھا مگر ایک بج گیا،وہ ابھی تک نہیں آیا-” بابا مایوس لہجے میں بولا –

         "فکر  نہ کریں بابا…… آپ کے بیٹے کی ضمانت کا بندوبست ہو جائے گا-"

         اس کے مایوس چہرے پر امید کی کرن لہری-"آپ سچ کہ رہے  ہیں صاحب ؟”

         "جی بالکل سچ -"

         "لیکن آپ یہ مہربانی کیوں کریں گے؟ میں تو آپ کو کچھ نہیں دے سکتا-بہت غریب آدمی ہوں-گاؤں سے آیا ہوں -دین  محمد ہمارا واحد سہارا ہے-سال بھر ہی تو ہوا ہے اسے کراچی آیے ہوے -بڑی مشکل سے اسے یہ نوکری ملی تھی-"

         ” بابا جی مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے -میں مصور ہوں-آپ کی تصویر بنانا چاہتا ہوں، تصویر سمجھتے ہیں نا آپ؟”

         "ہاں  صاحب "

         "میں آپ کی تصویر بناؤں گا-روزانہ دو تین گھنٹے کے لیے آپ کو میرے گھر آنا ہو گا-جہاں آپ رہتے ہو وہاں سے میرا ڈرائیور آپ کو لے آیا کرے گا اور واپس چھوڑ اے گا-کم از کم ایک دو ہفتے کا کام ہو گا-میں آپ کو پانچ سو روپے روز دوں  گا-اس کے علاوہ آپ کے بیٹے کی ضمانت بھی کروا دوں گا-بولیے منظور ہے؟”

         "میرا بیٹا آزاد ہو جاتے گا؟” انہوں نے بے یقینی سے آذر کو دیکھا-

         "بلکل ھو جائے گا-میں آپ سے وعدہ کر رہا ہوں، مجھ پر بھروسہ کریں-آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی-بیٹا بھی چھوٹ جائے گا اور پیسے بھی اس کے علاوہ ملیں گے-"

          وہ کچھ سوچنے لگا-آذر اسے بغور دیکھ رہا تھا-"کس سوچ میں پر گئے بابا جی؟”

          "میرا بیٹا چھوٹ  تو جائے گا نا ؟”

          "ایک بار کہ تو دیا ہاں ……. میرا یقین کریں-” وہ کسی  قدر جھنجھلا کر بولا-

          ” ٹھیک ہے ،کہاں ہے تمہارا گھر؟”

          "بس پہنچنے ہی والے ہیں-"

          پھر پورے راستے اس نے کوئی بات نہیں کی اور آذر بھی خاموش رہا-ڈرائیور نے اس کے اسٹوڈیو کے سامنے کار روکی -وہ نیچے اتر گیا-بوڑھا شخص بھی جھجھکتا ہوا نیچے اتر آیا-

            "آ جائیں ………اس نے بوڑھے شخص کی طرف مڑ کر کہا -آذر کے ساتھ وہ آگے بڑھا اور اس طلسم کدے میں داخل ہو گیا جہاں بڑے بڑے  لوگ قدم رکھنا اپنی خوش نصیبی سمجھتے تھے-

            چاروں طرف حسین تصاویر  آویزاں تھیں اور آرٹ کے بہترین نمونے سجے ہوے تھے-ہر شے قابل دید تھی-بوڑھا حیرت زدہ سا چاروں جانب دیکھ رہا تھا-یہ طلسم کدہ اسے حیران کے دے رہا تھا-وہ کچھ خوفزدہ سا بھی نظر آ رہا تھا-

            "آپ یہاں اکیلے رہتے ہیں؟”کچھ در بعد بابا نے پوچھا –

             ” نہیں پوری فیملی ہے لیکن وہ عمارت کے دوسرے حصّے میں رہتے ہیں-یہ میرا اسٹوڈیو ہے جہاں میں کام کرتا ہوں-آپ ادھر بیٹھیں-” آذر نے ایک جانب پرے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا

              بابا سہمے ہسمے سے انداز میں وہاں بیٹھ گیا -آذر تیاریوں میں مصروف ہو گیا-وہ مصور  تھا اور اس کی نظریں اپنے شاہکار پر جمی ہوئی تھیں-وہ گہری نظروں سے اس شخص کا جائزہ لے رہا تھااور وہ اس کی نظروں میں بے چینی محسوس کر رہا تھا-پھر آذر نے کیمرا سنبھالا اور مختلف زاویوں سے اس کی تصویریں اتارنے لگا-

            اس نے بوڑھے کی درجنوں تصویریں اتاریں -اب وہ مطمئن نظر آ رہا تھا-آج کا کام بس اتنا ہی تھا-ان تصویروں میں سے اس نے کوئی ایک پوز منتخب کرنا تھااور اسی اینگل سے تصویر بنانی تھی-

           "یہ لیں بابا……آج کا بس اتنا ہی کام تھا-” اس نے پانچ سو کا نوٹ بابا کی طرف بڑھایا-"یہ رکھ  لیں،کل سے آپ کو یہاں اسی وقت آنا ہو گا-اور اتنے ہی روپے روزانہ ملیں گے-"

         "روزانہ …….”بابا کی آواز بھنچ گئی- "اور میرا بیٹا؟”

         "ہاں ایک منٹ ……. میں وکیل سے بات کرتا ہوں-” وہ اپنے موبائل پر تیزی سے نمبر ڈائل کرتے ہوے بولا-

           کچھ دیر  وہ وکیل سے بات کرتا رہا پھر فون بند کر کے اس نے کاغذ پر وکیل کا ایڈریس اور فون نمبر وغیرہ لکھ کر بوڑھے شخص کی طرف بڑھایا اور کہا –

           "آپ کل صبح اس ایڈریس پر چلے جایں اور وکیل صاحب سے مل لیں-انہیں میں نے سمجھا دیا ہے-آپ کا بیٹا چھوٹ جائے گا-ابھی آپ کو میرا ڈرائیور آپ کے ٹھکانے پر چھوڑ آئے گا اور کل اسی وقت آپ کو لینے آئے گا -"

            آذر نے ڈرائیور کو بلا کر اسے اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ وہ بابا کو اس کے گھر چھوڑ آئے اور اچھی طرح اطمینان کر کے اس کا ٹھکانہ دیکھ آئے کیونکہ اسے اس شخص کی اشد ضرورت تھی-جب تک اس کی پینٹنگ مکمل نہیں ہو جاتی-اس سسلے میں وہ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتا تھا-

            اس کے جانے کے بعد اس نے تصویر کے پرنٹس بنائے اور اس میں سب سے اچھا پوز کا انتخاب کرنے لگا -ہر تصویر لاجواب تھی-بہرحال اس نے کافی سوچ بچار کے بعد ایک تصویر منتخب کر لی اور اس پر کام شروع کر دیا-

           دوسرے دن مقررہ وقت پر ڈرائیور بابا جی کو لے کر آ گیا-آج وہ کسی قدر مطمئن نظر آ رہا تھا-

            "اسلام علیکم بابا جی کیسے ہیں آپ؟”

            "وعلیکم السلام ،بہت خوش ہوں بیٹا……….صبح آپ کے وکیل نے دن محمد کی ضمانت کروا دی تھی–وہ گھر آ گیا ہے ،آپ کا بڑا ا حسان ہے-میں پورے ایک مہینے سے خوار پھر رہا تھا-جو کام میں مہینے بھر میں نہیں کر سکا، وہ آپ کے ایک فون نے کر دیا-"

           "ٹھیک ہے، ٹھیک ہے بابا جی……… چلیں اپنا کام شروع کرتے ہیں-"

           بابا جی کی باتیں اس کے لیے قابل توجہ نہیں تھیں-اس نے انہیں  سامنے اسی پوز میں بٹھایا جو وہ پہلے منتخب کر چکا تھا اور کام شروع کر دیا-

           وہ بے خودی کے عالم میں کام کر رہا تھا-اس کی نظریں بابا جی کے جھریوں زدہ چہرے پر جمی ہوئی تھیں-ان نگاہوں میں پیار تھا ستائش تھی…….وہ نظریں ایک فنکار کی نظریں تھیں-وہ ان کے چہرے کو اپنی آنکھوں میں اتار رہا تھا اور اس کے ہاتھ اسے کینوس پر منتقل کر رہے تھے-

           کچھ دیر  گزری تھی-وہ اپنے کام میں منہمک تھا کہ بابا کچھ بے چین  سا ہوا-

            "کیا ہوا بابا؟”

            "تھک گیا ہوں بیٹا-"

             "چلیں تھوڑی دیر  آرام کر لیں پھر کام شروع کریں گے-"

             بابا آرام دہ صوفے پر آ کر بیٹھ گیا-آذر نے ملازم سے چائے منگوائی -وہ دونوں بیٹھے چائے پی رہے  تھے-جب بابا نے کہا –

            "مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئ کہ آپ کو میرے اس جھریوں بھرے بوڑھے چہرے میں کیا نظر آیا تھا؟”

            "ارے بابا جی ایک فنکار کی نظریں ہی ان لکیروں کو پڑھ سکتی ہیں جو آپ کے چہرے پر نمایاں ہیں-ان میں ایک داستان لکھی ہوئی ہے-"

             "بیٹا ……تیسرے دن بابا نے اسے مخاطب کیا تھا جب وہ انتہائی انہماک سے تصویر بنا رہا تھا-"

            "ہوں ………”

            "ایک ضروری بات کرنی تھی آپ سے-” وہ امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا-لیکن آذر کا ذہن تصویر میں الجھا ہوا تھا-اس نے بڑے سپاٹ انداز میں کہا –

            "کام ختم کر لیں پھر آپ کی بات سنوں گا-"وہ کچھ مایوس سا نظر  آیا ،اس کے کندھے جھک گئے –

            ” اب کیا ہوا؟” آذر جھلا کر بولا-

            ” تھک گیا  ہوں بیٹا ………بڑھاپے میں اتنی دیر  بیٹھا نہیں جاتا-"

            آذر نے گہری سانس لی-"ٹھیک ہے،چند منٹ آرام کر لیں -” اس نے پنسل رکھ دی اور خود اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا-

            "جی کیا ضروری بات کرنی تھی آپ کو؟ وہ کچھ دیر بعد بولا-

            ” میرے بیٹے کو تو وہ ہوٹل والا دوبارہ نوکری پر نہیں رکھ رہا ہے-کہتا ہے تجھے جیل ہو چکی ہے، اب تیرا اعتبار نہیں ہے-"

            ” تو پھر……؟” آذر کا ذہن تصویر میں الجھا ہوا تھا-

             ” آپ کے تو بہت سارے جاننے والے ہوں گے-اسے کہیں ملازمت دلوادیں -پوری دس جماعت پاس ہے-” بابا نے فخریہ انداز میں بتایا-"دین محمد میرا سب سے بڑا بیٹا ہے-اسی نے جی گھر سنبھالا  ہوا ہے -گاؤں میں تھوڑی سی زمین ہے-اس سے گزارا نہیں ہوتا-اسی لیے وہ یہاں آ گیا تھا-اچھا خاصا کام کر رہا تھا،ہمارے بھی دن بدلنے لگے تھے کہ یہ افتاد پڑ گئی -” بابا مسلسل بولے جا رہا تھا اور آذر اسے خالی الذہنی کی سی  کیفیت میں دیکھ رہا تھا-

           "کتنے بچے ہیں آپ کے؟” کچھ دیر بعد آذر نے پوچھا-

           ” پانچ ہیں…….. تین بیٹیاں اور دو بیٹے -بیٹی کی شادی کرنی ہے-ہم غریب لوگ ہیں-میں بیمار رہتا ہوں-پہلے کھیتی باڑی کر لیتا تھا مگر اب بیماری کی وجہ سے نہیں کر سکتا گھر کا پورا بوجھ دین محمد نے اٹھایا ہوا ہے اور اب وہ بھی بے روزگار ہو گیا ہے-"

          "اپنا علاج کیوں نہیں کرتے بابا جی-” آذر نے اکتائے ہوۓ لہجے میں کہا –

           "علاج کے لیے پیسے کہاں سے لاؤں ؟”

            ” میں جو پیسے دیتا ہوں آپ کو اس سے علاج کروائیں -"

            ” دوا سے زیادہ روٹی ضروری ہے بیٹا -میں نے تو سوچا تھا کہ بیوی بچوں کو یہاں لے آؤں  گا مگر دین محمد کی نوکری چلی گئی -اس کا کچھ انتظام ہو جائے تو…….”وہ امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگاکہ شاید وہ کچھ بولے گامگر آذر ایک برش اٹھا کر صاف کرنے لگا-

           "اچھا کچھ کرتے ہیں-” وہ کافی دیر بعد بولا” چلیں اب کام شروع کریں-"

           ” بابا خاموشی سے اسی پوزیشن میں آ کر بیٹھ گیا جیسا کہ آذر چاہتا تھا-ایک گھنٹہ ہو گیا اسے بیٹھے بیٹھے تب وہ اچانک بول پڑا -” جیسے ہی دین محمد کا کام لگے گا میں بیوی بچوں کو شہر لے آؤں گاپھر ہم یہیں رہ بس جائیں گے-"

          "ایں …….”آذر اسے خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگا-اس کا انہماک ٹوٹ گیا تھا-” چلیں جی آج کے لیے اتنا ہی ………باقی کام کل مکمل کریں گے-"

            "دوسرے دن بابا آیا تو آذر اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکا-آج اس نے بلیو رنگ کا صاف ستھرا لباس پہنا  ہوا تھا-اس کا حلیہ ہی بدل گیا تھا -وہ کچھ خوش بھی نظر آ رہا تھا-اسے خوش دیکھ کر آذر پریشان  ہو گیا-

           ” یہ کیا حلیہ بنا کر آئے ہیں آپ؟” وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولا-

           "کیوں کیا ہوا ؟ نہا کر کپڑے بدلے ہیں-” وہ معصومیت سے بولا-

           آذر سر پکڑ کر بیٹھ گیا-” یہ کیا کیا آپ نے………… اپنا حلیہ ہی بگاڑ لیا -آج کام نہیں ہو سکتا-"

           "میرا حلیہ بگڑ گیا ہے صاحب ……….. مگر کیسے؟” وہ حیرت زدہ لہجے میں بولا-

             ” ہاں …….تصویر کیسے بنے گی ، اس حلیے میں، جائیں وہی کپڑے پہن کر آئیں-میں انتظار کر رہا ہوں،جلدی کریں-"

             اس کے چہرے کی چمک ماند پڑ  گئی تھی -وہ سکتے کے عالم میں اسے دیکھتا رہا پھر واپس لوٹ گیا-اس دن کا کام کافی دیر سے شروع ہوا تھا-وہ واپس آیا تو بہت اداس اور خاموش تھا اور یہی اداسی آذر کو چاہیے تھی- وہ پورا وقت اداس اور خاموش بیٹھا رہا اور رات گئے پیسے لے کر چلا گیا-

           "دین محمد کہ رہا تھا کہ اسے کہیں نہ کہیں نوکری مل ہی جائے گی-اور یہ بھی کہ رہا تھا کہ میں گاؤں لوٹ جاؤں-"دوسرے دن کام کے دوران اس نے کہا –

            "ہوں……….”آذر نے ہنکارا بھرا-

            "سوچ رہا ہوں چلا جاؤں -"

             "ٹھیک ہے-” اس نے جواب دیا-وہ حیران نظروں سے آذر کو دیکھنے لگا پھر خاموش ہو گیا –

             ” چلے جائے گا مگر کام مکمل ہونے کے بعد…….. جب میں اجازت دوں  اس وقت-"

             ” دوسرے اور تیسرے دن بھی مکمل خاموشی میں کام ہوتا رہا اور اس نے کچھ نہیں کہا لیکن اب اس کے چہرے پر مایوسی ،اداسی اور ویرانی نے ڈیرے جما لیے تھے-

            آذر نے اس کے چہرے کے سارے تاثرات تصویر میں سمو دیے تھے-تصویر مکمل ہو گئی تھی-

             "بس بابا جی، آپ کا کام ختم-” اس کی نظریں اس خاکے پر جمی ہوئی تھیں جس میں بس اب رنگ بھرنا باقی تھا-

             "میں جاؤں-"وہ جھجھکتے ہوئے بولا-

              ” ہاں،یہ پیسے رکھ لیں-” اس نے پانچ سو کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا پھر کچھ سوچ کر اپنے بٹوے سے کچھ اور نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائے -” یہ بھی رکھیں-"

             ” صاحب میرے بیٹے کے کام کا کیا ہو گا؟”

             ” آپ گاؤں سے ہو کر آ جائیں پھر دیکھتے ہیں-” وہ تصویر کو دیکھتے ہوئے بولا-

             ” بیوی بچوں کو بھی لے آؤں نا ؟” وہ امید بھری آواز میں بولا- خوشی سے اس کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں-

            ” ہاں -” وہ تصویر کو ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے بے دھیانی سے بولا-

            وہ پیسے لے کر چلا گیا-تصویر مکمل ہو گئی تھی-حسرت و یاس کی تصویر-اس تصویر میں آذر نے انسان کی بے بسی پیش کی تھی-دل میں چھپے  ارمانوں کو اس تصویر میں سمو دیا تھا-

           وہ تصویر نمائش میں رکھتے ہی لاکھوں نگاہوں کا مرکز بن گئی-مقابلے میں حصّہ لینے والوں کے دلوں پر پہلے ہی دن اوس پڑ  گئی-وہ اس تصویر کو دیکھ کر دم بخود رہ گئے تھے-آذر جمال نے ایک بار پھر شاہکار تخلیق کر دیا تھا-

           پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں اس کے فن پر تبصرے ہو رہی تھے-اس کے انٹرویوز ہو  رہے تھے-کسی نے لکھا فنکار معاشرے کا عکاس ہوتا ہے-آذر ایک عظیم فن کار ہے-دولت کی چمک نے انہیں  اندھا نہیں کیا جس کا ثبوت یہ تصویر ہے-دولت مند ہونے کے با وجود وہ ایک کے  ہم درد دل رکهتے ہیں -وہ لوگوں کے درد،اس کی مایوسیوں اور حسرتوں کو دل سے محسوس کرتے ہیں-آذر نے اس درد کو محسوس کیا اور خوں دل سے اس شاہکار کو تخلیق کیا اور اپنے آپ کو  منوا لیا-

             فیصلہ ہو گیا تھا.اس کی تصویر کو اول قرار دیا گیا تھا-آذر کو چاروں طرف سے الٹرا ماڈرن لڑکیوں،فن مصوری سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں،تی وی اور اخبار کے رپورٹروں نے گھیرا ہوا تھا-لڑکیاں اس کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں-اسی وقت ایک ٹیوی رپورٹر اس کے قریب آیا اور کہا –

          ” پلیز مسٹر آذر مجھے اپنے چینل کے لیے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں-"

          ” جی فرمایئے -” وہ پر وقار لہجے میں بولا-

          ” آپ کو یہ خیال کہاں سے آیا؟ میرا مطلب ہے یہ تصویر خیالی ہے یا حقیقت؟”

          ” یہ ایک حقیقت ہے -"

          ” یعنی آپ نے کسی کو ماڈل بنایا تھا؟” رپورٹر نے پوچھا-

          ” ہاں "

          ” کون ہے یہ اور اب کہاں  ہے؟”

          ” بھائی ہمارے وطن کا ہر شہر اور گاؤں ایسے ماڈلز سے بھرا پڑا ہے-اسے غربت اور افلاس نے یہ روپ بخشا تھا-آپ اسے تلاش کریں-کسی سڑک یا گلی میں ضرور مل جائے گا-"

           ” آپ نے صرف ان بابا جی کی تصویر ہی بنائی ہے یا ان کی غربت بھی دور کی ہے- آپ خاصے دولت مند بھی ہیں-” رپورٹر نے ایک تند و تیز سوال کیا-

          ” ایکسکیوز می ……… آذر صاحب ،آپ اس تصویر کو فروخت کریں گے؟” سیٹھ رزاق باتلی والا اس کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں-میں ان کا مینجر ہوں-"

           اسی وقت ایک وجیہ نوجوان نے اسے اس نازک سوال سے بچا لیا-

           ” جی نہیں ، میرا اسے فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں-” اس نے ایک شان سے کہا اور آگے بڑھ گیا-

            نمائش ختم ہوئے دو ہفتے گزر چکے تھے–وہ اس تصویر کی بڑی سے بڑی آفر ٹھکرا چکا تھا-ان میں سیٹھ رزاق باتلی والا کی شاندار آفر بھی شامل تھی لیکن سیٹھ  صاحب نے ہار نہیں مانی تھی-وہ تو اس کے سر ہی ہو گئے تھے-اور آج بھی وہ اسی سلسلے میں اس کے گھر آئے تھے-اور اس وقت اس کے سامنے اس کے اسٹوڈیو میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ملازم اندر آیا اور کہا –

            ” صاحب وہ بابا آیا ہے-اس سے پہلے بھی دو تین بار آ چکا ہے-آپ سے ملنا چاہتا ہے -صبح سے گیٹ پر بیٹھا ہے-"

            ” میں نے انہیں بتا تو دیا تھا کہ اب ان کی ضرورت نہیں ہے-ان کا کام ختم ہو گیا ہے-جاؤ ان سے کہ دو کہ اب ان کی ضرورت نہیں ہے-"

            ” کچھ دیر بعد ملازم پھر واپس آ گیا اور بولا-” وہ کہ رہے ہیں کہ انہوں نے  اپنے جس بیٹے کی نوکری کی بات کی  تھی،کل رات اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے-اس کے علاج کے لیے…….. اہوں نے آپ کو گاڑی  میں آتے دیکھ لیا ہے-وہ آپ سے ملنے کے لیے بضد ہیں،ایک بار مل لیں-"

            "وہ ملازم کو خونخوار نظروں سے گھورنے لگا "اب تم مجھے بتاؤ گے کہ مجھے کیا کرنا ہے-"

            "نہیں سرکار-” ملازم گھبرا گیا-

            ” میں نے کسی کا تھکا نہیں لیا تمام عمر کا-دوبارہ مجھے ان کے بارے میں کوئی اطلاعا نہیں ملنا چاہیے -” اس نے غراتی ہوئی آواز میں کہا –

            سیٹھ رزاق اپنی شاندار گاڑی  کے پاس مایوس کھڑے مینجر سے کہ رہے  تھے-

           ” کسی طرح اسے تیار کرو یعقوب ……. مجھے ہر صورت میں یہ تصویر چاہیے -کم بخت نے کیا چیز بنائی  ہے کہ لوگ دیوانے ہوئے جا رہے  ہیں-مجھے تو خیر آرٹ کی کوئی سمجھ نہیں مگر اپنے اسٹیٹس کے لیے یہ چاہیے -"

           ” وہ تصویر بیچنے  کے لیے تیار نہیں ہے سر، آپ نے بھی بات کر کے دیکھ لی-"

           ” ارے بابا اسی لیے تو تمہیں کیہ  رہا ہوں کوئی چکر چلاؤ ،اسے راضی  کرو کچھ بھی کر کے…….یہ تصویر مجھے چاہے بس……..یہ ڈرائیور کہاں  مر گیا؟”

           "ابھی دیکھتا ہوں سر-” یعقوب آگے بڑھ گیا –

            ڈرائیور گیٹ کے پاس کھڑا تھا جہاں ملازم بابا جی سے بات کر رہا تھا-

           یعقوب نے ڈرائیور کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا -” تم یہاں کھرے ہو اور سیٹھ صاحب اتنی دیر سے گاری کے قریب کھڑے تمہارا انتظار کر رہے  ہیں-"

            اسی وقت اچانک اس کی نظر بابا پر پڑی  اور وہ سکتے میں رہ گیا-

            ” ارے یہ تو وہی تصویر والا بابا ………..بلکل وہی ہے-” یعقوب بابا کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا-

            ڈرائیور جا چکا تھا-یعقوب بھی دوڑتا ہوا گاڑی  کی سمت بھاگا – "سر…..وہی ہے……وہی تصویر والا بابا ادھر گیٹ پر……… آج تو وہ کچھ زیادہ اداس ہے……..جانے اسے کیا دکھ ہے-"وہ سیٹھ صاحب کے قریب پہنچ کر بولا پھر ان کی گھورتی ہوئی نظروں کو دیکھ کر سنبھل گیا-ڈرائیور نے جلدی سے دروازہ کھولا سیٹھ رزاق گاری میں بیٹھ گئے اور یعقوب کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کہا –

           ” تم نرے گاؤدی ہو- مجھے تصویر چاہیے تصویر والا بابا نہیں-اس بابا کو تو دیوار پر نہیں لٹکا سکتا نہ-گدھا کہیں کا-چلو ڈرائیور-"

          "سیٹھ صاحب کی سیاہ مرسڈیز تیزی سے بوڑھے شخص کے سامنے سے گزر گئی اور وہ شاہکار ……جس نے ایک تصویر کو زندگی دی آج گویا بے جان سی شے بن چکا تھا-

               ……………………………………………………………..

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے