سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ قسط نمبر 12۔۔خورشید پیرزادہ

درندرہ۔۔ قسط نمبر 12۔۔خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 12

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

اگلی صبح وردا جلدی اٹھ گئی اور اپنے کمرے کا ٹی وی آن کیا- وہ درندے کی نیوز سننا چاہتی تھی- اسے پتہ تھا کہ ٹی وی پر یہ نیوز ضرور دکھائی جائے گی- جب اس نے ٹی وی پر خود یہ نیوز سنی تو اس کے دل کو یہ سن کرسکون سا مل گیا کہ درندہ مارا گیا- مگر جب ٹی وی پر وحید ملک کی تصویر دکھائی گئی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی- وہ حیرت زدہ سی وحید کی تصویر کو دیکھتی رہی- اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا- ایک رنگ جا رہا تھا- خوف اس کی آنکھوں سے چھلک رہا تھا- ہونٹ تھرا رہے تھے- اور پھر الفاظ نے ان تھراتے ہونٹوں کے بیچ جگہ بنائی-

”درندہ ابھی زندہ ہے-“ وردا بڑبڑائی-

اس نے فوراً کھڑکی کا پردہ ہٹا کر جھانکا- راجو جیپ میں بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا- وہ بھاگتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے اتری اور دروازہ کھول کر راجو کی جیپ کی طرف بڑھی-اور قریب آکر اس راجو کا کندھا پکڑ کر جھنجھوڑ دیا-

”کک کون ہے-“ راجو ہڑبڑا کر اٹھ گیا- ”ارے وردا جی آپ؟-“

”وہ جو مارا گیا ہے- وہ درندہ نہیں ہے-“ وردا نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا-

”کیا— آپ کو کیسے پتہ چلا؟-“

”میں نے ابھی ابھی ٹی وی پر نیوز دیکھی ہے- مرنے والا درندہ نہیں- کوئی اور ہے-“

”اوہ نو-“ یہ سنتے ہی راجو جیپ سے اتر آیا اور فوراً شہلا کا نمبر ملایا-

”میڈم- وحید ملک درندہ نہیں تھا- وردا جی نے ابھی نیوز دیکھ کر بتایا ہے کہ وحید درندہ نہیں ہے-“

ِ”کیا؟-“ یہ سن کر شہلا بھی حیران رہ گئی-”ریاض- ذرا وردا کو فون دینا-“

راجو نے فون وردا کی طرف بڑھا دیا- ”ڈی ایس پی صاحبہ بات کرنا چاہتی ہیں-“

”ہاں وردا- ریاض جو کہہ رہا ہے کیا وہ سچ ہے؟-“ شہلا نے پوچھا-

”جی میڈم— جسے مارا گیا ہے وہ درندہ نہیں ہے-“

”اوہ میرے خدا— ریاض کو فون دو-“

”راجو- یہ لو بات کرو-“ وردا نے فون راجو کو تھما دیا-

”ریاض- تم وہیں رکو- اور تمہاری باقی کی ٹیم کہاں ہے؟-“

”انہیں تو میں نے رات کو ہی واپس بھیج دیا تھا-آپ سے بات کرنے کے بعد-“ راجو نے بتایا-

”ٹھیک ہے- میں انہیں واپس بھیجتی ہوں- تم وہیں رکو اور ہوشیار رہو-“

”آپ فکر نہ کریں میڈم- میرے ہوتے ہوئے یہاں کچھ نہیں ہوگا-“ راجو نے دل سے کہا-

”گڈ-“ شہلا نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا-

”وردا جی آپ اندر جائیں- یہاں باہر خطرہ ہے-“

”ہاں جا رہی ہوں- تم بھی اپنا خیال رکھنا-“ وردا یہ کہتے ہوئے اندر چلی گئی اور راجو کے دل میں ہلچل مچ گئی کہ وردا اب اس کا کتنا خیال رکھنے لگی ہے-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو سے بات کرنے کے بعد شہلا نے فوراً رفیق کا نمبر ملایا-

”گڈ مارننگ میڈم-“

”مارننگ- کیسے ہو؟-“

”ٹھیک ہوں میڈم- آج ڈیوٹی پر نہیں آسکو ں گا میں-“ رفیق نے ادب سے کہا-

”تمہیں آنا ہی پڑے گا- کیونکہ وہ درندہ ابھی زندہ گھوم رہا ہے-“ شہلا کی اس بات نے رفیق کو بھی چونکا دیا-

”کیا- ایسے کیسے ہوسکتا ہے- اسے تو میں نے اپنے ہاتھ سے گولی ماری تھی- وہ بھی سیدھی سر میں-“

”جسے تم نے گولی ماری تھی- وہ درندہ نہیں تھا- کیونکہ ہماری واحد عینی شاہد وردا شمسی کا کہنا ہے کہ وحید ملک وہ درندہ نہیں تھا-میں نے ابھی اس سے بات کی ہے-“

”مگر یہ کیسے ؟-“

”ایسا ہی ہے- تم جلدی سے تھانے پہنچو- میں بھی پہنچ رہی ہوں- اب سب کچھ نئے سرے سے سوچنا پڑے گا-“ شہلا نے ہدایات دیتے ہوئے کہا-

”آرہا ہوں میڈم-“ رفیق کے لہجے میں مایوسی صاف محسوس کی جاسکتی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

”اچھا ہوا کہ میں رات کو یہیں رک گیا- اگر وحید درندہ نہیں تھا تو پھر کون ہے وہ درندہ- یہ معاملہ تو اور الجھتا جا رہا ہے- ٹی وی پی چلنے والی خبروں کی وجہ سے تو وہ درندہ اور بھی زیادہ چوکنا ہوجائے گا-“ راجو انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا-

اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے اور وردا کے امی ابو کسی کام سے باہر جا رہے تھے- وردا کے ابو نے راجو سے کہا- ”کسی اور کو ہی مار دیا تم لوگوں نے- کیا تم لوگ ایسے ہی کام کرتے ہو- عوام ٹھیک ہی کہتی ہے کہ تمہارا محکمہ کسی بھی بے گناہ کو مار کر اپنا کیس کلوز کر دیتی ہے- اصلی مجرم آزاد گھوم رہا ہے اور ایک بے قصور مار دیا گیا – واہ کیا انصاف ہے کیا قانون ہے- میرا تو پولیس پر سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے-“

”شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں- مگر ہم بھی انسان ہی ہیں- ہم لوگوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے-“ راجو نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا-

”اور تم لوگوں کی غلطی کی وجہ سے بے قصور مارا جاتا ہے اس کا کیا؟-“

راجو نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا- اب وہ بیچارہ وردا جی کے ابو جان سے کیا بحث کرتا-

”ذرا سوچو کہ اگر یہ جھوٹی بات سن کر وردا باہر نکلتی اور درندے کا شکار ہوجاتی تو کیا ہوتا— وہ تو شکر ہے اس نے ٹی وی پر دیکھ لیا- ورنہ مصیبت تو میری بیٹی کے گلے ہی پڑتی نا-“ وردا کے ابو دل کھول کر اپنے پھپھولے پھوڑ رہے تھے-

”میں سمجھ سکتا ہوں-“ راجو نے بس اتنا ہی کہا-

”اس وقت تم اکیلے ہی ہو- یہ کیسی حفاظت کی جارہی ہے میری بیٹی کی-“

”آپ فکر نہ کریں- باقی سپاہی بھی جلدہی واپس پہنچ رہے ہیں- میرے ہوتے ہوئے وردا جی کو کچھ نہیں ہوگا-“ راجو نے کہا-

”ہمیں ضروری کام سے باہر جانا پڑ رہا ہے- شام تک لوٹیں گے- کیا ہم تم پر بھروسہ کرکے جائیں؟-“ ابو نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”آپ بے فکر ہو کر جائیں-“ راجو بولا-

تھوڑی دیر بعد وردا کی امی اور ابو کار میں بیٹھ کر چلے گئے- ان کے جاتے ہی محکمے کے دو گن مین اور چار سپاہی بھی پہنچ گئے-

راجو نے تین تین کی ٹولی بنا کر ان کی گھر کے آگے اور پیچھے ڈیوٹی لگا دی- ”بالکل الرٹ رہنا تم لوگ-“ راجو نے کہا- اور سب نے گردن ہلا کر اس کی ہدایت مان لی-

سب کو ڈیوٹی پر لگا کر راجو پھر سوچ میں ڈوب گیا-

”رات کو کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی وردا جی- اچھا موقع ہے- ان کے امی ابو گھر پر نہیں ہیں- اب بات ہو سکتی ہے کھل کر-“ یہی سوچ کر راجو دروازے پر آیا اور بیل بجا دی- دروازہ وردا نے کھولا-

”ہاں بولو راجو کیا بات ہے-“ وردا نے گہری سانس لے کر کہا-

”وردا جی کل آپ کچھ کہنا چاہتی تھیں- اگر آپ کا دل کر رہا ہو تو اب بتا دیں-“

وردا نے راجو کو گھر کے اندر نہیں بلایا بلکہ خود ہی گھر کے باہر آکر دروازہ اپنے پیچھے بند کر لیا- وہ گھر میں اکیلی تھی اس لئے راجو کو اندر نہیں بلانا چاہتی تھی-

”راجو ایک بات بتاﺅ؟-“

”جی پوچھیں-“ راجو نے نہایت سعادت مندی سے کہا-

”تم نے کل دوسری بارمجھ سے کہا کہ ”میں محبت کرتا ہوں آپ سے – کوئی مذاق نہیں-“ کیا میں جان سکتی ہوں کہ اس بات کا کیا مطلب ہے-“ وردا کا لہجہ کچھ سخت تھا-

”میں اس کا مطلب نہیں بتا پاﺅں گا وردا جی-“ راجو نے دھیرے سے کہا-

”عجیب بات ہے— ایک جملہ اپنے منہ سے ادا کرتے ہو اور تم کو اس کا مطلب بھی پتہ نہیں ہوتا-“ وردا اسے گھورتی ہوئی بولی-

”میں بس اتنا جانتا ہوں کہ میں آپ کو چاہنے لگا ہوں- اب اس چاہت کا مطلب کیسے بتاﺅں آپ کو- میں خود کچھ نہیں جانتا-“

”مجھے بس اتنی ہی بات کرنی تھی- جاننا چاہتی تھی کہ تمہارے دل و دماغ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے— کل رات تم کھڑکی پر بھی آگئے- کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم نے ایسا کیوں کیا— تم نے ذرا بھی نہیں سوچا کہ کوئی دیکھ لیتا تو میرے بارے میں کیا سوچتا-“ وردا کی باتیں بھی کسی تھپڑ سے کم نہیں تھیں-

”سوری وردا جی- میں بس آپ کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا تھا کہ درندہ مر چکا ہے- میں بہت ایکسائیٹڈ ہو رہا تھا آپ تک یہ خبر پہنچانے کے لئے-“

”مجھے پتہ نہیں کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ تمہارے دل میں میرے لئے ہوس کے سوا کچھ نہیں اور تم دکھاوا محبت کا کر رہے ہو- تمہیں یاد ہے تم اس دن مراد کے گھر پر میرے بارے میں کیا کیا بول رہے تھے- اور مجھے وہ باتیں سن کر زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی- کیونکہ زیادہ تر مرد صرف میرے جسم کو دیکھتے ہیں- کسی نے میری روح میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی- آج تم محبت کی باتیں کر رہے ہو- تمہیں پتہ بھی ہے کہ محبت ہوتی کیا ہے- سچ سچ بتاﺅ اب تک کتنی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات قائم کر چکے ہو تم- اور کتنی لڑکیوں کو تم یہ ڈائیلاگ بول چکے ہو کہ میں محبت کرتا ہوں آپ سے کوئی مذاق نہیں- مجھے جھوٹ بالکل پسند نہیں ہے- جو کہنا بالکل سچ سچ کہنا-“ وردا نے اسے بری طرح سے گھیر لیا تھا-

”اگر آپ سیکس کو تعلق سمجھتی ہیں تو اب تک دس لڑکیوں کے ساتھ یہ تعلق رہ چکا ہے میرا-“ راجو نے سچ بتا دیا-

”دس لڑکیاں- اوہ مائی گاڈ— میں نے تو دو تین کا اندازہ لگایا تھا- تم تو میری امید سے بھی زیادہ آگے نکلے— دور ہو جاﺅ میری نظروں سے-“ شاید راجو کا یہ سچ وردا کو ہضم نہیں ہوا تھا-

”لیکن وردا جی میں نے کبھی کسی کے لئے ایسی محبت محسوس نہیں کی جیسی آپ کے لئے کر رہا ہوں- میرے دل میں آپ کے لئے کوئی ہوس نہیں ہے- آپ کو بیشک یقین نہ آئے – لیکن یہ سچ ہے کہ میں محبت کرتا ہوں آ پ سے کوئی مذاق نہیں-“ راجو نے اپنی محبت کا یقین دلانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے کہا-

”بند کرو اپنی یہ بکواس— دس دس لڑکیوں کے ساتھ تمہاری ہوس کی آگ نہیں بجھی کیا جو‘ اب میرے اوپر نظر رکھے ہوئے ہو- یہ محبت نہیں ہوس ہے- صرف ہوس— سب جانتی ہوں میں—میں بہت دنوں سے تم پر غور کر رہی ہوں- جاننا چاہتی تھی کہ تمہاری منشا کیا ہے- تم کسی سے محبت کر ہی نہیں سکتے— تم کو تو بس صرف جسم سے کھیلناآتا ہے— آئندہ مجھ سے بات بھی مت کرنا— دکھ ہو رہا مجھے تم سے بات کرکے—- مجھے نہیں پتہ تھا کہ اتنی لڑکیاں آچکی ہیں تمہاری زندگی میں-“ یہ سب کہتے کہتے وردا کی آنکھیں بھیگ گئیں- وہ گھر میں گھسی اور اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کر لیا-

راجو ویسے ہی حیران پریشان کھڑا رہا- پھر ہمت کرکے دروازے پر دستک دی-

”وردا جی- آپ نے کہا سچ بولنا- میں نے سچ بول دیا— آپ کے سامنے جھوٹ تو میں بول بھی نہیں سکتا- پلیز میری محبت کو ہوس کا نام مت دیں- بات بیشک نہ کریں لیکن مجھے غلط بھی مت سمجھیں-“ راجو بیچارے کو سچ بولنا بہت مہنگا پڑ رہا تھا-

”چلے جاﺅ تم— تم ایک نمبر کے مکار ہو— جھوٹ ہی بول دیتے مجھ سے— اتنا کڑوا سچ بولنے کی ضرورت کیا تھی— مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی- آئندہ میری طرف دیکھنا بھی مت ورنہ آنکھیں نوچ لوں گی تمہاری-“ وردا بہت زیادہ اکھڑی ہوئی لگ رہی تھی-

”سچ بولنے کی اتنی بڑی سزا تو نہ دیں وردا جی— مجھے ایک موقع تو دیں-“ راجو نے فریاد کرتے ہوئے کہا-

”میرا نمبر گیارہواں ہوگا- پر بارہواں بھی ہوگا کسی کا- یہ ہوس کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا- دور ہو جاﺅ مجھ سے— مجھے تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے- دفعہ ہوجاﺅ-“ اندر سے وردا نے چلا کر کہا-

”ٹھیک ہے وردا جی- آپ کی قسم میں آپ سے دوبارہ کچھ نہیں کہوں گا— مگر آپ یوں پریشان مت ہوں— جا رہا ہوں میں— اب آپ کو نہیں دیکھوں گا— نہ ہی کچھ کہوں گا— ہاں میں نہیں جانتا کہ محبت کیا ہوتی ہے— شاید ہوس کو ہی محبت کا نام دے رہا ہوں میں— مجھے سچ میں کچھ نہیں پتہ— اگر پتہ ہوتا تو زندگی میں یوں نہ بھٹکتا — آپ کے لائق نہیں تھا میں- پھر بھی آپ کو پانے کا خواب دیکھ رہا تھا— پاگل ہوگیا ہوں شاید— مجھے معاف کر دینا— آج کے بعد آپ کو کبھی پریشان نہیں کروں گا- خوش رہیںاپنی زندگی میں اور ہر بلا سے دور رہیں- میری یہی دعا ہے-“ راجو کو اپنی طبیعت بہت بوجھل بوجھل محسوس ہو رہی تھی-

”تم ایسے کیوں ہو راجو— کیوں ہو ایسے— میں تم سے محبت نہیں کر سکتی- نہیں کر سکتی-“ وردا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-

راجو نے سب سن لیا لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی- وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لئے وہاں سے ہٹ گیا-

”کاش آپ میرے دل کی بات سمجھ پاتیں— مگر آپ سے شکایت بھی کیا کروں– میں خود بھی اپنے آپ کو سمجھ نہیں پایا آج تک- بہت سمجھایا اپنے دل کو کہ محبت مت کرو— پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا— شاید میری قسمت میں محبت ہے ہی نہیں—اب کچھ نہیں کہوں گا— آپ کو بالکل پریشان نہیں کروں گا– مجھے آپ کی آنکھوں میں کچھ محسوس ہوتا تھا جس کی وجہ سے میری ہمت بڑھی تھی- ورنہ میری اتنی ہمت کہاں تھی کہ آپ کی کھڑکی تک پہنچ جاتا— بس آپ خوش رہیں- میری عمر بھی آپ کو لگ جائے-“ محبت کرنے والوں کے دل سے دعا کے علاوہ کچھ نکل ہی نہیں سکتا-

وردا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی- اس نے ایک بار بھی کھڑکی سے جھانک کر نہیں دیکھا- راجو بھی چپ چاپ آنکھیں میچے جیپ میں بیٹھا رہا-

شام کے سات بج رہے تھے جب ایک آدمی وہاں پہنچا اس کے ہاتھ میں دو ڈبے تھے- اس نے راجو سے پوچھا- ”وردا شمسی یہیں رہتی ہیں؟-“

”ہاں یہیں رہتی ہیں- کیا کام ہے؟-“ راجو نے کہا-

”ان کا کوریئر آیا ہے-“ آدمی نے کہا-

راجو نے ایک سپاہی سے کہا کہ اس کی تلاشی لے کر اس کے ساتھ جاﺅ- سپاہی نے اچھی طرح سے اس آدمی کی تلاشی لی اور اس کے ساتھ چل دیا-

بیل کے جواب میں وردا نے بڑی دیر کے بعد درازہ کھولا- اسے لگ رہا تھا کہ دروازے پر راجو ہی ہوگا- مگر جب اس آدمی نے چلا کر کہا کہ آپ کا کوریئر ہے- تب کہیں جاکر اس نے دروازہ کھولااور سائن کرکے دونوں ڈبے لے لئے-

ِِِ”کس نے بھیجے ہیں یہ ڈبے؟-“وہ بڑبڑائی اور جیسے ہی اس نے ایک ڈبہ کھولا اور اس نے ڈبے کے اندر جو دیکھا اسے دیکھ کر وہ اتنی زور سے چلائی کہ باہر بیٹھا راجو بھی بر ی طرح سے چونک اٹھا- — چیخنے کے بعد وردا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-

”ابو— نہیں-“

راجو فوراً پستول نکال کر گھر کی طرف بھاگا- دروازہ اندر سے بند تھا- راجو زور زور سے دستک دینے لگا- مگر وردا کو اتنا ہوش نہیں تھا کہ وہ دروازہ کھل پاتی- راجو نے بہت زور کا دھکا مارا لیکن دروازہ کافی مضبوط تھا- مگر راجو رکا نہیں- اس نے بار بار کوشش کی- گن مین اور سپاہیوں نے بھی اس کی مدد کی- آخرکار کار لاک ٹوٹ گیا اور دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا-راجو اندر گھسا تو اس نے دیکھا کہ وردا ڈبے کے پاس بیٹھی بے تحاشہ روئے جا رہی ہے-

راجو قریب آیا تو وہ بھی ایک بار جھانکنے کے بعد دوبارہ دیکھ نہیں پایا- ”اوہ مائی گاڈ—- نہیں— یہ سب کیسے— وردا جی-“

ڈبے میں وردا کے ابو کا کٹا ہوا سر تھا- ساتھ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی رکھا تھا- راجو نے کانپتے ہاتھوں سے وہ اٹھایا اور پڑھنے لگا-

”وردامیں تمہارے لئے یہ تحفہ بھیج رہا ہوں- امید ہے تمہیں بہت پسند آئے گا—- یہ سب دیکھ کر تمہارے چہرے پر جو ڈر آئے گا- میں محسوس کر رہا ہوں کہ وہ کتنا خوبصورت ہوگا— یہ ڈر اپنے چہرے پر قائم رکھنا- کیونکہ میں بہت جلد تم سے ملنے والا ہوں- اور یاد رکھنا- تم بھاگ تو سکتی ہو مگر چھپ نہیں سکتیں- جلد ہی ملتے ہیں-“

دوسرے ڈبے میں کیا ہوسکتا ہے- یہ سوچ کر ہی راجو کی روح تک کانپ گئی تھی- اس نے ہمت کرکے دوسرا ڈبہ کھولا- اور اس کے شک کے عین مطابق اس میں وردا کی امی کا سر تھا- وردا یہ بات شاید پہلے ہی سمجھ گئی تھی- اس لئے اس نے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا-ویسے اس وقت اس کی حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ دیکھ پاتی— مگر جتنا اس نے دیکھا تھا وہ اس کے ہوش چھین لینے کے لئے کافی تھا-

راجو نے موبائل نکال کر شہلا کو فون لگایا- ”میڈم قیامت ٹوٹ پڑی ہے-“

”اب کیا ہوا ریاض-“ شہلا نے دھڑکتے دل سے پوچھا- اتنی بری خبریں سنائی دے رہی تھیں کہ اب اچھی خبر کا شائبہ تک نہیں رہا تھا-

”کورئیر کے ذریعے وردا جی کے گھر دو بکس آئے ہیں- ان میں وردا کی امی اور ابو کے کٹے ہوئے سر رکھے ہیں- میری تو سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہے کہ ایسی صورتحال میں کیا کروں-“

”اوہ یہ تو واقعی اس نے قیامت ڈھا دی ہے-“ شہلا نے کہا-

شہلا کے سامنے اس وقت رفیق بیٹھا اس نے پوچھ لیا- ”کیا ہوا میڈم-“

”اس درندے نے دو بکسز میں وردا کی امی ابو کے کٹے ہوئے سر بھیجے ہیں-“ شہلا نے رفیق کو بتایا-

”اوہ نو-“ رفیق کو بھی جیسے گہرا صدمہ پہنچا تھا-

”راجو ہم ابھی وہاں پہنچتے ہیں- تم فکر مت کرو-“ شہلا نے کہا-

ابھی شہلا نے فون بند ہی کیا تھا کہ بھولو بھاگتا ہوا کمرے کے اندر آیا- اس کا سانس پھولا ہوا تھا- شہلا نے دل تھام لیا ایک اور بری خبر سننے کے لئے- ”کیا بات ہے- تم اس طرح بھاگتے ہوئے کیوں آرہے ہو؟-“

”وہ وہ میڈم وہ-“ بھولو سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا-

”کچھ بتاﺅ گے بھی کہ کیا ہوا؟-“ اس بار شہلا نے غصے سے کہا-

”میڈم تھانے کے سامنے کوئی دو لاشیں پھینک گیا ہے- اور ان دونوں لاشوں کے سر غائب ہیں-“

”کیا-“ شہلا اور رفیق ایک ساتھ چلائے اور فوراً باہر کی طرف بھاگے- تھانے کے بالکل سامنے دو لاشیں پڑی تھیں-

”وہ دن دھاڑے دو لاشیں پھینک کر چلا گیا اور کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں – واہ-“ شہلا طیش میں بولی-

رفیق کو ایک مردانہ لاش کی جیب میں کاغذ کا ٹکڑا دکھائی دیا- رفیق نے اسے نکالا اور پڑھنے لگا-

”مسٹر رفیق مغل- تم آج ہر چینل کی نیوز میں چھائے ہوئے تھے— مبارک ہو— تمہارے لئے بھی ایک فنکارانہ پلان تیار ہے- جلد ہی ملیں گے-“

”تم ملو تو سہی- وہ حال کروں گا کہ پھر کسی سے ملنے کے قابل ہی نہیں رہو گے-“ رفیق دانت پیستے ہوئے بولا-

”کیا لکھا ہے اس کاغذ میں؟-“ شہلا نے پوچھا-

ِ”میرے لئے بھی ایک فنکارانہ پلان بنایا ہے اس درندے نے- دھمکی دی ہے مجھے-“ رفیق نے کہا-

”یہ دھمکی اس نے تمہیں نہیں- پورے پولیس ڈپارٹمنٹ کو دی ہے- بہت بڑی چیز ہے وہ— ہمت تو دیکھو اس کی تھانے کے عین سامنے دو سرکٹی لاشیں پھینک گیا- اب وقت آگیا ہے کہ اسے اس کے کئے کی سزا دی جائے-کچھ بھی کرو رفیق- میں اس درندے کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں- جلد سے جلد-“ شہلا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس درندے کی گردن مروڑ کے رکھ دے جو انسانیت کے نام پر ایک دھبہ تھا-

”میں پوری کوشش کروں گا میڈم- کہ اس کا یہ بھیانک کھیل اب زیادہ دن نہ چل پائے-“

ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ کسی چینل کی تیز طرار رپورٹر وہاں آ دھمکی اور رفیق کے منہ سے مائیک لگا کر بولی- ”کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ پولیس اسٹیشن کے باہر یہ لاشیں کس کی ہیں-“

رفیق نے اسے ٹالنے کی غرض سے کہا – ”دیکھئے- ابھی ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے- تحقیقات چل رہی ہیں-“

”تحقیقات ہی کرتے رہیں آپ- ایک دن وہ درندہ ہم سب کو چیر پھاڑ کر رکھ دے گا اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تحقیقات ہی کرتے رہنا-“

”کیا نام ہے آپ کا؟-“ رفیق نے پوچھا-

”میرے نام سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے- مگر پھر بھی آپ کو بتا دیتی ہوں- میرا نام مونا ہے- میں بھی اس سیریل کلر کے کیس کو فالو کر رہی ہوں- کل آپ نے جسے گولی ماری وہ درندہ نہیں تھا- وہ زندہ ہے ابھی- اس کا ثبوت یہ دو لاشیں ہیں جو تھانے کے باہر پڑی ہیں-“

”کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو یہ سب باتیں کیسے پتہ چلیں؟-“ رفیق نے پوچھا-

”میں نیوز رپورٹر ہوں- اور معلومات اکٹھی کرنے کا میرا اپنا طریقہ ہے- آپ کو کیوں بتاﺅں-“ مونا نے کہا-

”دیکھئے ابھی تفتیش چل رہی ہے- اس لئے میرے لئے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہوگا-“ یہ کہہ کر رفیق اندر چلا گیا-

رفیق کے جانے کے بعد مونا نے شہلا کو گھیر لیا- ”کب تک کھیلا جاتا رہے گا درندگی کا یہ کھیل— آخر پولیس کچھ کر کیوں نہیں پا رہی-“

”ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں- پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھی- میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ وہ درندہ جلد ہی پکڑا جائے گا-“

شہلا سے بات کرنے کے بعد مونا مائیک لئے کیمرے کی طرف گھوم گئی- ”ابھی ہم نے آپ کو دکھایا کہ ہماری پولیس کا رویہ کیا ہے— پولیس اسٹیشن کے باہر کوئی دو لاشیں پھینک گیا اور انہیں کوئی خبر ہی نہیں ہوئی- اگر پولیس اسٹیشن کے باہر ہی پولیس الرٹ نہیں ہے تو باقی شہر کی سلامتی آپ خود سمجھ سکتے ہیں- وہ خون آشام درندہ شہر میں آزاد گھوم رہا ہے اور پولیس سو رہی ہے- اوور ٹو یو نازیہ—-“

تھوڑی دیر بعد رفیق اور شہلا وردا کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے- مونا بھی کیمرہ مین کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑی-

”اگر ہم میڈیا والے پولیس پر دباﺅ نہیں ڈالیں گے تو یہ کچھ بھی نہیں کریں گے- ایک نمبر کی نکمی پولیس ہے ہماری-“مونا نے اپنے کیمرہ مین سے کہا-

رفیق اور شہلا ایک ہی جیپ میں جا رہے تھے- شہلا کا موبائل بجنے لگا- شہلا نے فون ریسیو کرکے بات کی اور فون بند کرنے کے بعد بولی- ”رفیق- جنگل میں مجھ پر گولی چلانے والا بھی وحید ملک ہی تھا- جو گولی مجھ پہ چلائی گئی تھی وہ اس گولی سے میچ ہوگئی ہے جو کل وحید ملک کے پستول سے حاصل کی گئی تھی- پتہ نہیں وحید ایسا کیوں کر رہا تھا- اس نے تو سارا کیس ہی الجھا کے رکھ دیا ہے-“

”جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں میڈم- وہ بھی درندہ ہی تھا- ہوسکتا ہے وہ اصلی درندے سے متاثر ہوکر یہ سب کر رہا ہو- اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وحید اصلی سیریل کلر سے ملا ہوا ہو-“

”شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو— اس بات کی تحقیقات کرو- اور ہاں باقی تین لوگ جن کے پاس بلیک اسکارپیو ہے ان کے بارے میں بہت احتیاط سے چھان بین کرنی ہے تم نے-“

”جی میڈم- ایسا ہی کروں گا-“

رفیق نے اپنا موبائل نکالا اور ایک نمبر ملایا- ”ہیلو- شوکت بھائی- کیسے ہو؟-“

رفیق نے اپنے کالج کے دوست شوکت کو بھی وردا کے ماں باپ کی موت کی خبر سنا دی اور وہ بھی وردا کے گھر کی طرف نکل گیا-

”یہ شوکت کون ہے؟-“ شہلا نے پوچھ لیا-

”وردا کا کزن ہے- سکھر میں رہتا ہے- ویسے ہم اسے شوکی کہتے ہیں- مجھے لگا کہ اسے بھی اس کی اطلاع کر دوں- اب وردا اکیلی رہ گئی ہے- اس کے اپنے خاندان کے کسی فرد کا پاس ہونا وردا کی ہمت بڑھا سکتا ہے-“

”یہ تم نے اچھا کیا-“ شہلا نے تعریفی لہجے میں کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

کتنے بہائیں اشک ہم- اب انتہا ہوچکی ہے

وقت کی ایسی کروٹ سے زندگی تباہ ہوچکی ہے

کیا گناہ تھا میرا‘ جو یہ سزا ملی ہے

جینے کی چاہت بھی اب فنا ہوچکی ہے

راجو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ وردا کو کیسے سنبھالے- وہ پاگلوں کی طرح روئے جا رہی تھی- وہ ابھی تک اس بکس کے پاس ہی بیٹھی تھی جس میں اس کے ابو کا سر تھا— وردا کو ایسی حالت میں دیکھ کر راجو کا دل بھی بھر آیا تھا- وردا کی یہ حالت اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی- وہ اپنی محبت کی بے بسی کا تماشہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا-

جس سے ہم محبت کرتے ہیں اس کی تڑپ کو برداشت کرنا ہماری قوت سے باہر ہوتا ہے- اور جب یہ بھی پتہ ہو کہ آپ بس اسے تڑپتا ہوا دیکھ ہی سکتے ہیں اس کے لئے کچھ کر نہیں سکتے تو محبت کرنے والے دل پر کیا قیامت گزر جاتی ہے اسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے- اور اس وقت راجو بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار تھا- — وہ اپنی وردا کے لئے کچھ بھی تو نہیں کر پا رہا تھا- — وہ اسے سنبھالنا چاہتا تھا- مگر اسے ڈر بھی تھا کہ کہیں یہ بات وردا کو بری نہ لگ جائے—وہ اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا- — پھر بھی وہ سوچ رہا تھا کہ اسے کچھ تو کرنا چاہئے-

راجو نے دونوں ڈبے وہاں سے ہٹو دیئے اور سب کو باہر بھیج دیا- ”تم لوگ باہر انتظار کرو- کوئی بھی غیرمعمولی بات محسوس کرو تو فوراً مجھے بتانا-“

”جی سر-“

ان کے جانے کے بعد راجو ‘ وردا کے پاس بیٹھ گیا اور بولا- ”وردا جی- آپ کی قسم کھا کر کہتا ہوں- تڑپا تڑپا کر ماروں گا اس درندے کو- آپ پلیز چپ ہوجائیں- “

”کیسے چپ ہوجاﺅں— اپنے ماں باپ کو کھو دیا میں نے— دیکھو کتنی دردناک موت ملی ہے انہیں—- تم میرا غم نہیں سمجھ سکتے- چلے جاﺅ یہاں سے- مجھے اکیلا چھوڑ دو-“

”میں نے بچپن میں ہی اپنے ماں باپ کھو دیئے تھے- ا س وقت میں صرف سات سال کا بچہ تھا جب وہ ایک حادثے کا شکار ہوگئے تھے- تب سے یتیمی کی زندگی گزار رہا ہوں- ماں باپ کو کھونے کا غم کیا ہوتا ہے- یہ مجھ سے بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے- اور اسی ناطے میں آپ کے غم کا بھی اندازہ کر سکتا ہوں-“ راجو بہت زیادہ جذباتی ہو رہا تھا اپنے ماں باپ کی موت کو یاد کرکے-

 وردا نے اپنے آنسو پونچھے اور بولی – ”تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا-“ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک عجیب سی معصومیت تھی-

”بات ہی کہاں ہوتی ہے آپ سے- ویسے بھی میں یہ بات کسی کو بتاتا نہیں ہوں- آپ پلیز چپ ہوجائیں- مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا ہے-“ راجو کے لہجے میں ہمدردی ہی ہمدردی سمٹی ہوئی تھی-

”راجو میں خود کو روک نہیں پا رہی ہوں- تم نہیں سمجھ سکتے- یہ آنسو خود بہ خود میرے اندر سے امڈے چلے آرہے ہیں-“ وردا نے بے بسی سے کہا-

”میں سمجھ سکتا ہوں— میں بھی دو دن مسلسل روتا رہا تھا- آپ بھی اپنا دل ہلکا کرلیں- میں بس آپ کو اس حالت میں دیکھ نہیں پا رہا ہوں اس لئے چپ ہونے کا کہہ رہا ہوں- اور اب آپ میری طرف سے پریشان مت ہونا- میں اپنی غلطی سمجھ گیا ہوں-“ راجو نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا-

رفیق اور شہلا بھی اس دوران وہاں پہنچ گئے- رفیق تو وردا کو روتے دیکھ کر کچھ بول ہی نہیں سکا- شہلا اس کے پاس بیٹھ گئی اور بولی- ”یہ بہت ہی برا ہوا ہے- مجھے بہت دکھ ہے وردا- ہم کچھ بھی نہیں کر پائے- پورا پولیس ڈپارٹمنٹ تمہارا قصور وار ہے- لیکن میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ اسے اس پاپ کی سزا جلد ہی ملے گی-“

”مجھے اس کے حوالے کر دیں- یہ سب میری ہی وجہ سے ہو رہا ہے- اگر وہ مجھے مارنا چاہتا ہے تو یہی سہی- ویسے بھی اب میں نے جی کر کرنا ہی کیا ہے- میرے پاس اب کچھ نہیں بچا- میری موت سے اگر یہ سلسلہ رکتا جاتا ہے تو مجھے مرجانے دیں-“

اس سے پہلے کہ شہلا کچھ کہتی- راجو نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا- ”یہ کیا بول رہی ہیں آپ- میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا- اب مرنے کی باری اس درندے کی ہے-“

شہلا‘ وردا‘ اور رفیق تینوںنے راجو کی طرف دیکھا-

ِ”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں- آپ کیوں مریں گی- مرے گا اب وہ جس نے موت کو ایک کھیل بنا رکھا ہے-“

”ریاض حسین- تم ٹھیک کہہ رہے ہو- ہمیں پولیس میں یہی جذبہ چاہئے-“ رفیق نے کہا-

”تم خاموش رہو- غلط بات مت سکھاﺅ اسے- مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی-“ شہلا نے رفیق کو ڈانٹ دیا-

”سوری میڈم-“ رفیق نے مایوس انداز میں کہا-

”ریاض- تم جذبات کو قابو میں رکھنا سیکھو- اور دوبارہ ایسی بات مت کرنا میرے سامنے- ہاں سزا اس گنہگار کو ضرور ملے گی-“

”بالکل- اسے سزا ملے گی – مگر کئی سالوں تک کیس چلنے کے بعد- اور وہ آرام سے جیل میں مفت کی روٹیاں توڑتا رہے گا- اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا قابل وکیل کر لے جو قانونی داﺅ پیچ استعمال کرکے اسے صاف بچا لے-“ رفیق کو بھی اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا-

”بند کرو یہ بکواس-“ شہلا نے چلا کر کہا- رفیق نے کچھ نہیں کہا- بس خاموشی سے کھڑا رہا- راجو کی بھی کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی-

”فضول کی بک بک کرنے کی بجائے ان بکسز کا معائنہ کرو- اور دیکھو کہ کورئیر کہاں سے آیا تھا اور کس نے بھیجا تھا-“ شہلا غصے سے بولی-

”یس میڈم- ابھی دیکھتا ہوں-“ رفیق نے کہا- ”راجو وہ بکسز کہاں ہیں-“

”وردا جی کے سامنے سے ہٹوا دیئے تھے میں نے- دوسرے کمرے میں رکھے ہیں-“ راجو نے کہا-

”چلو دیکھتے ہیں-“ رفیق بولا اور راجو کے ساتھ اس کمرے میں آیا جہاں ڈبے رکھے تھے-

”یا خدا-“ رفیق سے دیکھا نہیں گیا اور اس نے آنکھیں بند کرلیں-

”سر یہ کوریئر فاسٹ لائن سے آیا تھا-“

”کون دے کر گیا تھا؟-“

”ایک آدمی تھا کوریئر کمپنی کا-“ راجو نے کہا-

”کیا نام تھا اس کا-“ رفیق نے پوچھا

”نام تو میں نے نہیں پوچھا تھا سر-“ راجو خجل ہوکر بولا-

”کوئی بات نہیں- فاسٹ لائن کے آفس سے سب پتہ چل جائے گا-“

جب رفیق باہر آیا تو شہلا نے پوچھا- ”کچھ پتہ چلا؟-“

”فاسٹ لائن کورئیر کمپنی سے ہی پتہ چلے گا سب-“

”تو فوراً جاکر پتہ کرو-“

وردا کو دلاسہ دے کر شہلا باہر جانے لگی- ”چلو رفیق-“

”میڈم ابھی آتا ہوں-وردا سے ذرا بات کرلوں-“ رفیق نے کہا-مگر راجو وہیں کھڑا رہا-

”ریاض تم گھر کے چاروں طرف راﺅنڈ لے کر آﺅ- دیکھو سب ٹھیک ہے یا نہیں-“ رفیق نے راجو سے کہا-

راجو کو عجیب تو لگا لیکن وہ سینئر کا حکم مان کر وہاں سے چلا گیا-راجو کے جانے کے بعد رفیق ‘ وردا کے پاس آگیا-وہ صوفے پر خاموش بیٹھی تھی-

”وردا- تمہارا سب سے بڑا گنہگار تو میں ہوں- میرے ہوتے ہوئے بھی یہ سب ہوگیا- میں خود کو معاف نہیں کر پا رہا ہوں- مگر میری بات کا یقین کرو- اب وہ درندہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہے گا- بس ایک بار میرے سامنے آجائے-“

وردا خاموشی سے فرش کو تکتی رہی-

”کیا تم زندگی بھر مجھ سے ناراض رہو گی- مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھتی ہو کہ میں تمہارا غم بانٹ سکوں- پلیز مجھے معاف کر دو- ہم کتنی پیاری پیاری باتیں کرتے تھے- پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہماری دوستی کو-“

”میں کچھ نہیں سننا چاہتی- میرا سر پھٹا جا رہا ہے- پلیز چلے جاﺅ— میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں-“ وہ پھر سے رونے لگی-

راجو نے یہ سن لیا مگر وہ سمجھ نہیں سکا کہ ماجرا کیا ہے- رفیق چپ چاپ وہاں سے چلا گیا- اس کی آنکھیں اشکوں سے تر تھیں- جیسے کسی اپنے کے غم میں ہوتی ہیں- یہ دیکھ کر راجو اور زیادہ الجھن میں پڑ گیا- لیکن وہ رفیق سے کچھ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں کر سکا-

راجو ‘ وردا کے پاس آیا اور بولا- ”کیا بات ہے وردا جی—- کیا آپ رفیق صاحب کو جانتی ہیں-“

”ہاں- بہت اچھے دوست تھے ہم- ایک ساتھ کالج میں پڑھتے تھے-“ وردا نے کہا-

”یہاں سے جاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے- اور اس بات سے مجھے الجھن ہو رہی ہے-“

”راجو پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو- ابھی میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ کچھ بول سکوں- پلیز-“

”سوری وردا جی— میں باہر ہی ہوں- کوئی بھی بات ہو تو بس ایک آواز دے دینا- بندہ حاضر ہوجائے گا“ یہ کہتے ہوئے راجو باہر نکل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

وردا کے گھر سے نکل کر رفیق سیدھا فاسٹ لائن کے آفس پہنچا مگر وہاں سے اسے کوئی سراغ نہیں ملا- بس اتنا ہی معلوم ہوسکا کہ ایک رکشہ والا دو ڈبے لایا تھا اور کورئیر کروا کے چلا گیا-

”کیا اس رکشہ والے کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو؟-“ رفیق نے بکنگ کلرک سے پوچھا-

”نہیں سر— یہاں تو روزانہ کتنے ہی لوگ آتے ہیں- کس کس کو یاد رکھوں-“

”وہ سیریل کلر بلا کا چالاک ہے- کسی رکشہ والے کو پکڑ کر دو ڈبے تھما دیئے اور وردا کے گھر کورئیر کروا دیئے- یہ تو ماننے کی بات ہے کہ وہ بہت شاطر دماغ ہے-“ رفیق نے خود سے کہا-

فاسٹ لائن کے آفس سے رفیق سیدھا وحید ملک کے گھر پہنچا- اس نے دستک دی تو نسرین نے دروازہ کھولا-

”میں انسپیکٹر رفیق مغل ہوں— آپ سے کچھ بات کرنی ہے-“

رفیق نے جملہ ختم ہی کیا تھا کہ نسرین نے اس کے منہ پر ایک تھپڑ دے مارا-

”تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں میں— تم نے ہی مارا ہے نا میرے شوہر کو-“

تھپڑ کھانے کے بعد ایک پل کے لئے تو رفیق سن سا ہو کر رہ گیا- مگر اس دوران نسرین کچھ نرم پڑ گئی تھی-

”اب بتائیں- میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں-“ نسرین بولی-

”ایک اور تھپڑ مار لیں- پھر آرام سے بات کریں گے— تھپڑ مارنے کے بعد لگتا ہے آپ کو کچھ سکون سا آگیا ہے- آپ ایک اور مار لیں- میں برا نہیں مانوں گا-“ رفیق نے کہا-

”آیئے اندر-“ نسرین نے راستہ چھوڑتے ہوئے کہا-

رفیق اندر آکر چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گیا- نسرین بھی اس کے سامنے بیٹھ گئی-

 ”میری آنکھوں کے سامنے وحید نے میری بہن کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی- آپ کو بتا نہیں سکتا کہ اس نے کیا کیا غلیظ حرکتیں کیں- اس کے انداز سے مجھے یہی لگا کہ وہی درندہ ہے- میں نے غصے میں اسے گولی مار دی- ویسے بھی اگر میں اسے نہ مارتا تو وہ ہمیں بے عزت کرنے کے بعد مجھے اور میری بہن کو مار دیتا- میں خود کو روک نہیں سکا – اس کے لئے سوری-“ رفیق نے افسردہ لہجے میں کہا-

”میں نے آپ کو تھپڑ ایک بیوی کی حیثیت سے مارا تھا- ایک عورت ہونے کے ناطے کہہ سکتی ہوں کہ آپ نے جو کیا ٹھیک کیا— انہوں نے میری آنکھو ں کے سامنے میری چھوٹی بہن کا ریپ کیا تھا- میں بھی انہیں مار دینا چاہتی تھی مگر مجازی خدا سمجھ کر معاف کر دیا تھا میں نے-“ نسرین بھی اپنے دل کا درد باہر لے آئی-

’آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے-“

ِِ”تین سال-“

مجھے شک ہے کہ آپ کا شوہر درندے کے ساتھ ملا ہوا تھا- اسی لئے یہاں آیا ہوں- آپ بھی جانتی ہیں کہ اس درندے نے شہر میں خوف کی کیسی فضا قائم کر رکھی ہے- ا س کو پکڑنا بہت ضروری ہے ورنہ وہ یونہی خون بہاتا رہے گا- کیا آپ کوئی ایسی بات جانتی ہیں جس سے درندے کی پہچان میں کوئی مدد مل سکے-“ رفیق امید بھری نظروں سے نسرین کو دیکھتے ہوئے بولا-

”کچھ دنوں سے وہ سارا سارا دن باہر رہنے لگے تھے- اور اکثر راتوں کو گھر کا رخ ہی نہیں کرتے تھے- کچھ پوچھتی تھی تو مجھے مارتے پیٹتے تھے- میں نے یہیں گھر پر ہی ان کا پیٹ آپریٹ کیا تھا- اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی- وہ میرے لئے ہمیشہ پراسرار ہی رہے-“

”میں نے بے وقت آپ کو تکلیف دی- اس کے لئے معذرت چاہتا ہوں- اب مجھے اجازت دیں-“ یہ کہہ کر رفیق جانے کے لئے صوفے سے کھڑا ہوگیا-

اچانک اس کی نظر ٹی وی پررکھی ایک انگلش فلم کی سی ڈی پر پڑی- فلم کا ٹائٹل تھا ”بورن ٹو کل“- رفیق نے سی ڈی اٹھا کر کہا- ”کیا وحید یہ فلم دیکھتا تھا-“

”ہاں-“ نسرین نے جواب دیا- ”وہ اکثر ایسی انگلش فلمیں دیکھتے تھے جن میں بلاوجہ خون بہاتے دکھایا جاتا ہو— اور ایک ایک فلم کو وہ کئی کئی بار دیکھتے تھے- ایک طرح سے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں ایسی فلمیں دیکھنے کی لت لگی ہوئی تھی— پتہ نہیں انہیں ایسی فلم دیکھ کر کیا مزا آتا تھا- میں تو کبھی نہیں دیکھ پائی-“

”ویسے یہ فلم دیکھی تو میں نے بھی نہیں ہے- لیکن نام بہت سنا ہے- اگر آپ کو برا نہ لگے تو کیا میں یہ سی ڈی لے سکتا ہوں- جلد لوٹا دوں گا-“ رفیق نے کہا-

”لے جائیں- میں نے کیا کرنا ہے اس فلم کا- اور واپس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے-“

”شکریہ- اب میں چلتا ہوں-“

رفیق جیسے ہی نسرین کے گھر سے باہر نکلا- مونا نے اسے گھیر لیا- ”کیا آپ وحید ملک کی بیوی سے معافی مانگنے آئے تھے- کیا اب آپ کو احساس ہو رہا ہے کہ آپ نے ایک بے گناہ آدمی کو مار دیا-“

”ہماری تحقیقات ابھی چل رہی ہیں- اس لئے میں اس کیس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا-“ رفیق نے اسے ٹالتے ہوئے کہا-

”ویسے انہوں نے آپ کے منہ پر تھپڑ کیوں مارا تھا- اس کے بارے میں تو بتا سکتے ہیں کچھ-“ مونا کی بات نے اسے چونکا دیا-

”تمہیں کیسے پتہ-“ اس نے حیران ہوکر پوچھا-

”میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے- اور کیمرے میں ریکارڈ بھی کر لیا ہے-“

”مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنا- جاﺅ جو کرنا چاہتی ہو وہ کرتی رہو-“ یہ بول کر رفیق نے اپنی جیپ اسٹارٹ کی اور وہاں سے آگے بڑھ گیا-

”آج ایک بیوی نے اپنے دل کی بھڑاس نکال لی- انسپیکٹر رفیق مغل کے چہرے پر ایک کرارا تھپڑ دے کر— شاید یہ تھپڑ انہیں جگا دے اور وہ زیادہ جانفشانی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دیں- اوور ٹو یو—–“ مونا اپنی رپورٹ کیمرے کے سامنے پیش کر رہی تھی-

رفیق سیدھا تھانے پہنچا تو اسے باہر ہی بھولو کھڑا مل گیا- وہ کچھ پریشان سا لگ رہا تھا-

”بھولو- ڈی ایس پی صاحبہ ہیں کیا؟-“ رفیق نے پوچھا-

”ایک گھنٹہ پہلے ہی نکلی ہیں وہ – اور ان کے جاتے ہی مصیبت کھڑی ہوگئی-“

”کیا ہوا بھولو- تم کس مصیبت کی بات کر رہے ہو-“ رفیق جلدی سے بولا-

”چوہان صاحب ایک عورت کو مجبور کرکے اس کے ساتھ—- اس کا شوہر ایک معمولی جرم میں قید ہے- درخواست کرنے آئی تھی وہ اپنے شوہر کے لئے- مگر چوہان صاحب موقع کا فائدہ اٹھا رہے ہیں-“ بھولو نے اپنی پریشانی بتاتے ہوئے کہا-

”میں ابھی اس چوہان کی خبر لیتا ہوں-“ رفیق غصے سے بولا-

”سر – بیچ میں میرا نام نہ آئے کہ میں نے چغلی کھائی ہے-“ بھولو بتا کر ڈرا ہوا بھی تھا-

”نہیں آئے گا تمہارا نام-“ رفیق سیدھا چوہان کے کمرے کی طرف بڑھا- رفیق نے اندر جھانک کر دیکھا- چوہان واقعی اس عورت کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا-

”مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی-“ رفیق نے کہا-

”تم-“ چوہان نے چونک کر کہا- ”میں کوئی زبردستی نہیں کر رہا ہوں- یہ خود راضی ہوئی ہے- بدلے میں اس کا شوہر آزاد بھی تو ہوجائے گا- اور کیا چاہئے اسے-“چوہان نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا-

”آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی یہ محکمہ بدنام ہو رہا ہے- چھوڑ دو اسے-“ رفیق نے غصے سے کہا-

 ”تم دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے- میرا مزا خراب مت کرو- یہ سب کچھ اس عورت کی مرضی سے ہو رہا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہو رہی ہے-“ عورت کے معاملے میں تو چوہان ہمیشہ سے ہی کمینہ رہا تھا-

رفیق نے اس عورت کی آنکھوں میں اور ان آنکھوں میں بھر آئے آنسوﺅں کو دیکھا- وہ آنکھیں جو شرم و بے عزتی کی وجہ سے اٹھ ہی نہیں پا رہی تھیں-

”اسے چھوڑ دو – ورنہ-“ رفیق نے حتمی لہجے میں کہا-

”ورنہ کیا؟— مجھے بھی وحید کی طرح گولی مار دو گے؟-“ چوہان پھر ہنسا-

”بالکل ماروں گا-“ یہ کہتے ہوئے رفیق نے پستول نکال کر چوہان پر تان لی-

”پاگل ہوگئے ہو کیا— نیچے کرو اسے-“ چوہان بوکھلا کر بولا-

”پستول بھی نیچے ہوجائے گی- پہلے جو کہا جا رہا ہے وہ کرو-“ رفیق نے کرخت لہجے میں کہا-

چوہان اس عورت کے پاس ہٹ گیا اور بولا- ”دیکھ لوں گا تجھے-“

اس عورت نے اپنی حالت ٹھیک کی اور بولی- ”شکریہ صاحب-“

”تمہارے شوہر کا نام کیا ہے اور وہ کس جرم میں قید ہے؟-“ رفیق نے عورت سے پوچھا-

”شاہد علی— انہیں چوری کے جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا ہے-“

”ٹھیک ہے- اب تم جاﺅ اور کل صبح دس بجے ملنا مجھ سے- دیکھتا ہوں کہ کیا ہو سکتا ہے-“ رفیق نے اس عورت کو تسلی دیتے ہوئے کہا-عورت کی آنکھوں میں تشکر کے ساتھ ساتھ حیرت کے تاثرات بھی بخوبی دیکھے جا سکتے تھے- اسے تو امید ہی نہیں تھی کہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں ایسے بھی بخشا جا سکتا ہے کسی کو- ورنہ یہاں تو سارے ہی اپنے پیٹی بھائی کے جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں- اور مفت ہاتھ آئی جوانی بھلا کون اپنے ہاتھ سے جانے دیتا ہے-

٭٭٭٭٭٭٭

شوکت جیسے ہی وردا کے گھر پہنچا ‘ اسے دیکھتے ہی وردا اس سے لپٹ گئی اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کر ررونے لگی-

”بھیا- سب ختم ہوگیا- کچھ بھی نہیں بچا-“

”بس اب چپ ہو جاﺅ- ایسے رونے سے کوئی فائدہ نہیں – الٹا اپنی طبیعت بھی خراب کر لو گی-“ شوکی نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا-

”مگر میں وہ منظر کیسے بھول سکتی ہوں بھیا- امی ابو کو بہت ہی دردناک موت ملی ہے-“

”مجھے رفیق نے سب کچھ بتا دیا ہے- تم تو فون ہی نہیں کرتی ہو کبھی- کم از کم ایسے نازک وقت میں تو اپنوں کو یاد کر لیا کرو-“ شوکی نے شکایت کرتے ہوئے کہا-

”میں نے رشتے داروں میں ابھی کسی کو بھی فون نہیں کیا ہے-“

”کوئی بات نہیں- اب کر دیں گے-تدفین میں تو سب کو بلانا ہی ہوگا-“

”چاچا چاچی نہیں آئے-“ وردا نے پوچھا-

”وہ بھی آرہے ہیں- وہ پرسوں سے ملتان گئے ہوئے ہیں- راستے میں ہی ہیں-“ شوکی نے بتایا- اپنوں کا ساتھ مل جانے پر وردا کو کچھ ڈھارس سی بندھی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق تھانے سے باہر نکل رہا تھا جب اس کے موبائل کی بیل بجنے لگی- اس نے ریسیو کیا-

”ہیلو جانِ من کہاں ہو؟-“ دوسری طرف سے آواز آئی-

”ہیلو ریما— کیسی ہو؟-“ رفیق نے آواز پہچانتے ہوئے کہا-

”اگر آپ کو میرا گھر یاد ہو تو کچھ کام ادھورے چھوڑ گئے ہیں آپ- کب آرہے ہو- میں تو تب سے تڑپ رہی ہوں-“ ریما کے لہجے میں بیقراری تھی-

”اف- تم اس انداز سے بلاﺅ گی تو کون کافر انکار کر سکے گا—- ویسے تم کو اپنے بھائی کا ڈر نہیں ہے کیا؟-“ رفیق نے شرارت سے کہا-

”ابھی ابھی بھیا کا فون آیا تھا- وہ آج رات نہیں آئیں گے-“

”اچھا – دیکھ لو کہیں مروا مت دینا-“

”تم آﺅ تو سہی جانِ بہار-“

”آرہا ہوں جی- تم خود کو میرے لئے سجا کے رکھو-“ رفیق نے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا-

”سجانے کی کیا ضرورت ہے- تم نے تو ویسے ہی سب الٹ پلٹ کر دینا ہے-“ ریما بھی ہنس کر بولی-

”ہا ہا ہا- بس تھوڑی دیر میں آرہا ہوں تمہاری تھکاوٹ دور کرنے-“رفیق قہقہہ لگاتا ہوا بولا-

”بڑی بے صبری سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں-“ ریما نے کہہ کر فون کاٹ دیا-

”لگتا ہے اس ریما کا دل آگیا ہے مجھ پہ-“ رفیق سوچ کر مسکرایا اور جیپ میں بیٹھ کر ریما کے گھر جانے والے راستے پر آگیا-

اگلے آدھے گھنٹے میں وہ دروازے پر بیل بجا رہا تھا- بیل بجتے ہی ریما نے دروازہ کھول دیا- ایسے لگا جیسے وہ دروازے کے ساتھ ہی لگ کر کھڑی تھی-

”بہت جلدی آگئے تم- میں تو سمجھی تمہیں آنے میں ایک دو گھنٹے لگ جائیں گے-“

”تم نے بلایا ہی اس انداز سے کہ میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا- اور کھچا چلا آیا تمہارے پاس-“

ریما ہلکا سا مسکرائی اور بولی- ”جلدی سے اندر آجاﺅ- کوئی دیکھ نہ لے-“

”اوہ ہاں بالکل-“

رفیق اندر داخل ہوا تو ریما نے مسکراتے ہوئے دروازہ بند کرلیا-

”یہ جو تمہارے ہونٹوں پر ہر وقت ہیجان انگیز مسکراہٹ رہتی ہے‘ یہ برا حال کر دیتی ہے میرا- ایسے نہ ستایا کرو-“

”تمہیں لڑکیوں کی تعریف کرنے کے فن خوب آتا ہے-“

”جو تعریف کے قابل ہوتا ہے اس کی تعریف ہی کی جاتی ہے-“

”اچھا یہ بتاﺅ جب میں فون کر رہی تھی تو اس وقت تم کہاں جا رہے تھے- کیاکسی اور لڑکی سے ملنے؟-“ ریما نے ایک آنکھ میچتے ہوئے کہا-

”ارے میں تو سیدھا گھر ہی جا رہا تھا- وہ تو راستے میں آپ کی آواز اچک کر مجھے یہاں لے آئی- ورنہ سچ مانو تو آج میرا دل بہت بے چین ہے-“

”وہ کیوں؟-“

”وردا کے ساتھ بہت برا ہوا ہے- اس کے ماں باپ کا سر کاٹ کر ڈبے میں سجا کر اس کے گھر بھیجا ہے اس درندے نے-“ رفیق دکھی لہجے میں بولا-

”اوہ مائی گاڈ—- بس آگے کچھ مت بتانا— میں سن نہیں پاﺅں گی- یہ تو درندگی کی حد ہی کردی ہے اس نے-“ ریما نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا-

”میں وردا کے لئے بہت پریشان ہوں—- مگر کچھ کر نہیں سکتا— اسے تو مجھ سے بات کرنا بھی گوارا نہیں ہے-“ رفیق بہت اداس ہو رہا تھا-

”اس کا مطلب ہے آج جناب کا پیار محبت کا موڈ نہیں ہے- کوئی بات نہیں- تم آئے میرے گھر کی رونق بڑھ گئی—- اچھا ایسا کرتے ہیں دونوں مل کر کوئی مووی دیکھتے ہیں- ہوسکتا ہے اس طرح تمہاری ٹینشن کچھ کم ہوجائے-“ ریما نے کہا-

”اوہ ہاں- میرے پاس ایک مووی ہے بورن ٹو کِل- وہ دیکھتے ہیں-“

”ارے وہ تو بہت فیمس مووی ہے- میں نے بہت کچھ سناہے اس مووی کے بارے میں-“ ریما نے خوش ہوکر کہا-

”سنا میں نے بھی ہے- لیکن دیکھی نہیں ہے-“

”ڈی وی ڈی کہاں ہے- چلا کر دیکھتے ہیں نا-“ریما بولی-

”ڈی وی ڈی جیپ میں پڑی ہے- ابھی لے کر آتا ہوں-“

”ٹھیک ہے تم لے آﺅ- تب تک میں پوپ کارن تیار کرتی ہوں-“ ریما نے کہا-

رفیق جیپ سے ڈی وی ڈی لے آیا- ”تمہارے روم میں ہی دیکھیں گے نا-“

”ہاں وہیں دیکھیں گے- تم چلو میں آرہی ہوں-“

تھوڑی ہی دیر میں ریما پاپ کارن او رکچھ اسنیکس لے کر آگئی- ”ڈی وی ڈی لگا دی؟-“

”نہیں- تم خود لگاﺅ- یہ لو-“ رفیق نے ڈی وی ڈی دیتے ہوئے کہا-

ریما نے ڈی وی ڈی پلیئر میں لگا دی اور خود رفیق کے برابر میں آکر بیٹھ گئی-

”عجیب بات ہے- کوئی ٹائٹل نہیں آیا اور مووی شروع ہوگئی- پکچر کوالٹی بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں لگ رہی ہے- یہ ہالی ووڈ کی مووی ہے یا ہمارے لالی ووڈ کی— پھر یہ مووی اتنی مشہور کیوں ہے-“ ریما نے بور ہوتے ہوئے کہا-

”ایک منٹ ریما- وہ فلم تو کچھ سال پہلے کی تھی- مگر اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حال ہی میں بنائی گئی ہے- تمہیں یہ سڑک کچھ جانی پہچانی نہیں لگ رہی-“ رفیق نے غور سے مووی دیکھتے ہوئے کہا-

مووی میں بس سڑک اور مارکیٹ دکھائی جا رہی تھی- آواز کوئی نہیں تھی- اچانک کیمرہ ایک سنسان جگہ پر گھوم گیا اور اب کیمرہ ایک لڑکی کو فالو کر رہا تھا-

”اوہ مائی گاڈ— یہ تو رضیہ ہے-“ ریمانے چونک کر کہا-

”رضیہ— کون رضیہ؟ -“ رفیق نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-

”ہمارے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی- درندے نے اس کا خون کر دیاتھا—- تم پولیس والے ہو- تمہیں تو یہ سب پتہ ہونا چاہئے-“

”اوہ ہاں – یاد آیا- آج دماغ اتنا گھوما ہوا ہے کہ پوچھو مت- بس اسی چکر میں بھول گیا شاید— کہیں درندے نے اس کے قتل کی مووی تو نہیں بنائی-“ رفیق نے ایک خیال کے تحت کہا-

تب ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اچانک کسی نے پیچھے آکر رضیہ کو دبوچ لیا اور اسے کچھ سونگھا دیا- چند ہی لمحوں میں رضیہ بے جان ہوکر اس کی بانہوں میں جھول گئی اور اس آدمی نے گھسیٹتے ہوئے اسے کسی کار کی ڈکی میں ڈال دیا-

”اف میرے خدا— یہ تو رضیہ کے قتل کی ہی ویڈیو ہے— رفیق پلیز بند کرو اسے- میں نہیں دیکھ سکتی-“ ریما نے خوفزدہ لہجے میں کہا-

”ریما مجھے یہ مووی دیکھنی پڑے گی- پلیز تم دوسرے کمرے میں چلی جاﺅ- جیسے ہی مووی ختم ہوگی میں تمہیں بلا لوں گا-“

”ہارر موویز مجھے اچھی لگتی ہیں- مگر رفیق یہ تو رئیل ہے-“

”میری بات مانو اور یہیں بیٹھی رہو- ہم مل کر اس مووی کا تجزیہ کرتے ہیں- کیا پتہ درندے کے خلاف کوئی ثبوت مل جائے-“ رفیق نے اسے سمجھایا-اور رفیق کی بات مان کر ریما وہیں بیٹھی رہی- لیکن اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں تیر رہی تھیں-فلم دیکھنا اور بات ہوتی ہے اور حقیقت میں قتل ہوتے دیکھنے کے لئے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے-

فلم میں اگلا سین ایک گھر کا تھا- رضیہ برہنہ حالت میں فرش پر پڑی گڑگڑا رہی تھی- ”پلیز مجھے جانے دو— پلیز-“

”ہا ہا ہا- یہاں سے تم کہیں نہیں جا سکتیں- یہاں سے اب تمہاری لاش ہی باہر جائے گی- گھبراﺅ مت – میں تمہیں اتنی حسین موت دوں گا کہ تمہیں مرتے ہوئے فخر محسوس ہوگا کہ تم میرے ہاتھوں ماری گئیں-“

فلم میں درندے کا چہرہ نہیں دکھایا جا رہا تھا- کیمرہ صرف رضیہ کو فوکس کر رہا تھا-

”تمہارے پاس دو چوائس ہیں—- یہ خنجر دیکھ رہی ہو— اسے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے دل میںاتار لو- اگر تم نے یہ خنجر اپنے دل میں اتار لیا تو میں تمہیں کچھ نہیں کروں گا اور جانے دوں گا— اور اگر ایسا نہیں کیا تو میں خود کوئی طریقہ استعمال کروں گا- اور ہوسکتا ہے میرا طریقہ ذرا دردناک ہو- اس لئے خود ہی یہ کام کرلو تو تم تکلیف سے بچ جاﺅ گی-“ کیا فلاسفی تھی درندے کی-

رضیہ روتے ہوئے بولی- ”میں یہ نہیں کر سکتی- پلیز مجھے جانے دو-“

”رفیق- یہ درندہ تو واقعی بہت خطرناک اور مکا ر- یعنی دونوں صورتوں میں رضیہ کو موت ہی ملنی ہے-“ ریما نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا-

”یہ گھر – جس میں یہ ویڈیو بنائی گئی ہے- اسی شہر میں کہیں ہوگا— کچھ عجیب سا نہیں ہے یہ کمرہ— ایسے کمرے کون بنواتا ہے آج کل- بہت ہی پرانا گھر لگتا ہے-“ رفیق غور سے دیکھا ہوا بولا-

”ہاں- ایسے گھر تو میں نے گاﺅں گوٹھوں میںہی دیکھے تھے- اب ایسی کنسٹریکشن کوئی نہیں کرواتا-“

اچانک مووی رک گئی-

”یہ کیا ہوا- — بس اتنی ہی تھی کیا-“ رفیق نے کہا-

”اچھا ہے جو اتنی ہی ہے- اس سے آگے اس نے رضیہ کا قتل ہی کیا ہوگا-“ریما جھرجھری لے بولی-

”میں سوچ رہا تھا کہ شاید اس میں آگے کہیں درندے کی شکل دیکھنے کو مل جائے گی— مگر یہ تو رک ہی گئی-“ رفیق مایوس ہو کر بولا-

انہوں نے کافی ٹرائی کی کہ شاید آگے بھی کچھ ہو لیکن مووی یہیں تک تھی-

”یہ ڈی وی ڈی تمہیں کہاں سے ملی؟-“ ریما نے پوچھا-

”یہ مجھے وحید ملک کے گھر سے ملی ہے- وحید ملک کو میں نے گولی مار دی تھی- کیونکہ صورتحال ایسی تھی کہ وہی درندہ لگ رہا تھا- مگر اب بات اور بھی الجھ گئی ہے- اس ڈی وی ڈی کا مطلب ہے کہ وحید ملک اصلی درندے سے ملا ہوا تھا-“ رفیق نے ریما کو اپنے گھر پر ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا-

”یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اسے یہ ڈی وی ڈی کہیں سے ملی ہو اور اس سے متاثر ہوکر ہی وہ بھی درندہ بننے کی کوشش کر رہا ہو- کیا وہ درندے جیسے نہیں بن سکتا تھا؟-“

”درندے جیسا تو وہ تھا— اس میں کوئی شک نہیں ہے مجھے- بس یہ پتہ لگانا ہے کہ کیا وہ اصلی درندے سے ملا ہوا تھا یا نہیں- یہ ڈی وی ڈی وحید ملک کے گھر سے ملی ہے اور اس سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں- جن کا جواب مجھے ڈھونڈنا ہی ہوگا— اب مجھے جانا ہوگا ریما- سوری آج تمہارے ساتھ انجوائے نہیں کر سکا-“ رفیق نے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا-

”میں سمجھ سکتی ہوں کہ اس وقت تم کن حالات کا شکار ہو-“

”شکر ہے-اور سچ تو یہ ہے کہ یہ ڈی وی ڈی دیکھ کر میرا دماغ اور بھی خراب ہوگیا ہے-“

”چلو پھر کبھی سہی- اب تم مجھ سے بھاگ کر جاﺅ گے بھی کہاں- “ ریما نے مسکراتے ہوئے کہا-

”تمہاری یہی باتیں تو مجھے مار ڈالتی ہیں— ٹرین میں بھی تمہاری انہی اداﺅں نے مجھے دیوانہ بنا دیا تھا-“ رفیق دل پر ہاتھ رکھ کر بولا-

”ٹرین میں میں نے کچھ نہیں کیا تھا- سب تمہارا کیا دھرا تھا-“ریما منہ بنا کر بولی-

”چلیں کوئی بات نہیں- میرا کیا دھرا ہی سہی- لیکن اس بہانے تم میرے یا میں تمہارے گلے کا ہار تو بن گیا نا-“ رفیق نے ریما کے بال بکھیرتے ہوئے کہا-

”ہاں یہ تو ہے-اب تم جاﺅ- پھر کبھی سکون سے ملیں گے-“

”اوکے جانِ من ہم چلتے ہیں-“ رفیق ڈی وی ڈی لے کر باہر آگیا اور واپس وحید ملک کے گھر کا راستہ لیا- ”کیا پتہ ایسی اور بھی ڈی وی ڈی ہوں وحید کے پاس— یہ دیکھنا ضروری ہے-“

راستے میں ایک سنسان سڑک پر رفیق نے ایک کار کھڑی ہوئی دیکھی- یہ تو کوئی عجیب بات نہیں تھی- مگر اس کی توجہ اس بات نے اپنی جانب مبذول کروائی کہ کار بری طرح سے ہل جل رہی تھی- جیسے اس کے اندر دھینگا مشتی چل رہی ہو- رفیق نے اپنی جیپ روکی اور کار کا شیشہ بجایا-“

”کیا ہے— کیا تکلیف ہے تمہیں-“ ایک لڑکا شیشہ کھول کر بولا-

”یہاں سنسان جگہ پر کیا کر رہے ہو- رات بھی ہو چکی ہے- کیاتمہیں درندے کا ڈر نہیں ہے-“

”تمہیںاس سے کیا- دفعہ ہوجاﺅ-“ لڑکے نے ڈانٹتے ہوئے کہا-

”بڑے باپ کی اولاد لگتا ہے- پولیس کی وردی کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے اسے-“ رفیق نے دل میں سوچا- پھر اس نے کار کے اندر جھانک کر دیکھا تو اسے ایک لڑکی روتی ہوئی نظر آئی- وہ اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہی تھی-

”کون ہے یہ لڑکی- اور کیوں رو رہی ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”تیری بہن ہے-“ لڑکے نے بدتمیزی سے کہا-“ اور کچھ سننا ہے کیا– – چلو دفعہ ہوجاﺅ- سنا نہیں تم نے-“

”اچھا- تو یہ میری بہن ہے—- تو بہنا چلو کار سے باہر آجاﺅ-“ رفیق نے کہا-

رفیق نے یہ کہا ہی تھا کہ لڑکے نے ریوالور نکال لیا اور رفیق پر تان لیا-

”ایک بار سمجھ میں نہیں آتا کیا تمہیں- چلو نکلو یہاں سے- ہمارے معاملے میں دخل مت دو-“

لڑکا یہ بول ہی رہا تھا کہ رفیق نے پھرتی سے اس کے ہاتھ سے ریوالور چھین کر اسی پر تان لیا-” ان کھلونوں سے کھیلنا خطرناک ہے منے- چلو چپ چاپ باہر نکلو ورنہ بھیجہ اڑا دوں گا- اور یہ سمجھ لو کہ میں تمہاری طرح اناڑی نہیں ہوں-“ رفیق نے جیسے پھنکارتے ہوئے کہا-

”رک- رکو- نکلتا ہوں— تم جانتے نہیں مجھے کہ میں کون ہوں—- میں اسلم شاہ کا بھائی ہوں- تمہارا پورا ڈپارٹمنٹ خرید سکتا ہوں-“

”اسلم شاہ— بہت خوب— تم سے تو جلد ہی ملاقات ہوگی منے- چلو اب یہ کار یہیں چھوڑو اور پیدل نکل لو- کوئیک-“ رفیق نے ریوالور کے زور پر حکم دیتے ہوئے کہا-

”دیکھ لوں گا تمہیں-“ وہ لڑکا جاتے ہوئے بولا-

”اوئے سن— تیرے بھائی کے پاس بلیک اسکارپیو ہے کیا؟-“

”ہاں ہے- کیوں؟-“

”مجھے رینٹ پر لینی تھی- کل آﺅں گا تمہارے گھر- سوچ لینا اچھی کمائی ہوجائے گی تم لوگوں کی-“ رفیق نے اسے تپاتے ہوئے کہا-

”اگر تم یہ بات میرے بھیا کے سامنے بولتے تو یہاں تمہاری لاش گری ہوئی ہوتی-“

”لاش تو تمہاری بھی گر سکتی ہے- اگر تم یہاں سے گئے نہیں تو-“ رفیق ریوالور نچاتا ہوا بولا-

وہ لڑکا کار چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گیا-

”باہر آﺅ- اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے-“ رفیق اس لڑکی سے مخاطب ہوا-

لڑکی ڈرتے ڈرتے باہر آئی-

”کیا نام ہے تمہارا؟-“

”ثمن-“

”چلو آﺅ تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں-“

ِِِ”میں ہوسٹل میں رہتی ہوں- وہیں چھوڑ دیں مجھے-“

”اوکے- آﺅ بیٹھو-“ رفیق نے جیپ میں بیٹھتے ہوئے کہا- ثمن چپ چاپ جیپ میں بیٹھ گئی-

”کیوں آئیں تھیں اس کے ساتھ- جبکہ تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ ایسے برگر بچے اچھا برتاﺅ نہیں کرتے-“رفیق نے جیپ اسٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی-

”یہ کچھ دنوں سے ہی بدلا بدلا ہے- پہلے تو ایسا نہیں تھا-“

”تو تم یہ کیوں نہیں سمجھ رہی ہو کہ اسے اب دوسری لڑکی مل گئی ہے-“

”مجھے پتہ ہے- اسی لئے میںاس کے ساتھ نہیں آنا چاہتی تھی- ریوالور دکھا کر زبردستی ساتھ لایا ہے-“ لڑکی نے کہا-

”اس کے خلاف شکایت لکھوا دو- سالے کو ابھی لاک اپ میں ڈال دیتا ہوں-“

”جانے دیں- بدنامی تو میری ہی ہوگی- اس کا کیا بگڑے گا-“

”کیا تم نے اس کے ساتھ تعلقات میں آخری حد بھی پار کرلی ہے؟-“ رفیق نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا-

”کیا مطلب؟-“

”بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا-“

”جی-“ لڑکی نے سر جھکاتے ہوئے مختصر سا جواب دیا-

”آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ سنبھل کر رہنا چاہئے- یہ امیر باپوں کے بگڑے ہوئے بچے کسی کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں- انہیں صرف اپنی غرض سے غرض ہوتی ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ سارے ہی ایسے ہوتے ہیں‘ مگر اکثریت ایسے ہی بگڑے ہوئے برگروں کی ہے-ویسے کیا تم بھی اس کے ساتھ انجوائے کرتی تھیں-“

”آپ میرے ساتھ ایسی باتیں نہ کریں پلیز- ابھی ایسی باتوں سے میرا ذہن الجھ رہا ہے-“

”واہ- اس کا مطلب ہے کہ کسی اور وقت کر سکتا ہوں- ٹھیک ہے کل ہی تم سے ملتا ہوں-“ رفیق نے خوش ہوکر کہا-

”کوئی فائدہ نہیں- پھر بھی ملنا چاہتے ہیں تو مل لینا-“ ثمن نے پہلی بار مسکراتے ہوئے کہا-

”ویسے کہیں تم یہ تو نہیں سمجھ رہیں کہ میں تم کو پٹانے کی کوشش کر رہا ہوں-“رفیق مسکراتے ہوئے بولا-

”اس میں سمجھنے والی کون سی بات ہے-“ اب ثمن بھی کھل باتیں کر رہی تھی-

”پتہ نہیں تم ایسا کیوں سمجھ ہی ہو- لو جی تمہارا ہوسٹل آگیا- ویسے اس لڑکے کا نام کیا تھا؟-“ رفیق نے پوچھا-

”انور شاہ-“

”انور شاہ- ٹھیک ہے- تم جاﺅ-“

”شکریہ آپ کا- آج وہ مجھے مار پیٹ رہا تھا- ایسا اس نے پہلی بار کیا ہے- بہت برا لگ رہا تھا مجھے- اس کے اس عمل سے میرے دل پر بہت گہری چوٹ پہنچی ہے-“

”میں سمجھ سکتا ہوں- تم جاﺅ- اور ہاں اب اس سے دور رہنے کی کوشش کرنا-“ رفیق نے ثمن کو اتارا اور نسرین کے گھر کی طرف چل دیا-”کہیں نسرین سو نہ گئی ہو-“ اس نے سوچا-

رفیق جب نسرین کے گھر پہنچا تو اس وقت رات کے گیارہ بج چکے تھے-

”گھر کی ساری لائٹس بند ہیں- لگتا ہے نسرین سوگئی ہے- انہیں اٹھانا مناسب نہیں ہوگا- صبح مل لوں گا اس سے- رفیق جیپ موڑ کر وہاں سے جانے ہی والا تھا کہ اسے ایک چیخ سنائی دی-چیخ کی آواز نسرین کے گھر سے ہی آئی تھی- رفیق نے فوراً اپنی پستول نکالی اور گھر کی طرف دوڑا- اس نے گھر کی بیل بجائی اور دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگا- مگر اندر سے کوئی جواب نہیں ملا- دوبارہ چیخ کی تو نہیں البتہ کچھ اور قسم کی آوازیں ہلکی ہلکی سنائی دے رہی تھیں-

رفیق نے تھانے فون کرکے فون نفری بھیجنے کا کہا- اور پھر دروازے کے پاس کھڑے ہوکر آواز لگائی- ”نسرین صاحبہ دروازہ کھولیں- میں ہوں انسپیکٹر رفیق مغل-“

مگر اس بات کا بھی کوئی جواب نہیں ملا-

’اب یہ دروازہ توڑنا ہی پڑے گا-“ یہ سوچ کر رفیق نے دروازے کے لاک پر فائر کیا اور دروازہ کھل گیا- رفیق پستول لئے گھر کے اندر گھس گیا- اندھیرا بہت اندھیرا تھا – وہ دیوار سے چپک کر ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کرنے لگالیکن اسے کچھ نظر نہیں آیا- اس نے دیوار پر ہاتھ پھرتے ہوئے سوئچ بورڈ تلاش کیا مگر سارے بٹن دبانے کے باوجود لائٹ نہیں جلی- ”شاید مین سوئچ ہی بند کر دیا ہے کسی نے-“ رفیق نے سوچا-

ابھی وہ اسی ادھیڑبن میں تھا کہ کوئی آکر اس سے ٹکراگیا-

”کک کون ہے—“ نسرین کی کپکپاتی ہوئی آواز سنائی دی-

”یہ میں ہوں- رفیق مغل-“

”آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟-“ نسرین نے پوچھا-

رفیق کی سمجھ میںنہیں آیا کہ اس کے کہنے کا مطلب کیا ہے- اس نے اپنا دماغ استعمال کیا اور جلدی سے نسرین کو دبوچ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کے کان میں بولا- ”شش- بالکل چپ رہیں- شاید کوئی آپ کے گھر میں گھسا ہے-“

تب انہیں گھر کی پچھلی طرف کوئی آواز سنائی دی-

”آپ کے پاس کوئی ٹارچ ہے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں‘ مگر وہ کچن میں رکھی ہے اور آواز وہیں سے آرہی ہے شاید-“

”آپ ڈریں مت – میں یہاں ہوں— کچھ سپاہی بھی منگوالئے ہیں میں نے-اس وقت جو کوئی بھی آپ کے گھر میںگھسا ہے بچ کر نہیں جائے گا-“ اور پچھلی طرف سے اس بار کچھ اور تیز آواز آئی-

”آپ یہیں رکیں- میں دیکھتا ہوں کون ہے-“ یہ کہہ کر رفیق آگے بڑھ گیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا گھر کے پچھواڑے آگیا- وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ ایک سایہ اس کے بالکل پیچھے دیوار سے لگ کر کھڑا ہے- اسے قدموں کی ہلکی سی آہٹ سنائی دی- وہ جلدی سے مڑا اور جب تک وہ کچھ سمجھ پاتا اس کے سر پر ایک زور کا وار ہوا اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا- اسی وقت پولیس کے سائرن کی آوازیں بھی گونجنے لگیں اور وہ سایہ رفیق کو چھوڑ کر بھاگ گیا-

رفیق کو اپنا سر چکرا ہوا محسوس ہو رہا تھا- اور اسے اپنے سر پر خون کی چپچپاہٹ بھی محسوس ہورہی تھی- گہری چوٹ کے باعث اس سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا- مگر پھر بھی وہ ہمت کرکے اٹھا اور پستول ہاتھ میںپکڑ کر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھا- پولیس نے گھر کو چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا- ہر طرف تلاشی لی گئی مگر وہ سایہ کہیں نہیں ملا-

”سالا نکل گیا ہاتھ سے- وہ ضرور درندہ ہی تھا- اس کمینے کو مارنے کے لئے میرا ہی سر ملا تھا— ابھی تک گھوم رہا ہے-“ رفیق نے کہا-

گھر کا مین سوئچ آن کر دیا گیا اور روشنی میں دوبارہ پوری تلاشی لی گئی- مگر کوئی ہوتا تو ملتا-

”کچن کی کھڑکی سے گھسا تھا وہ- اور شاید یہیں سے فرار بھی ہوا ہے-“ رفیق بولا-

رفیق ڈرائنگ روم میں نسرین کے پاس آیا- وہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی-

”نسرین صاحبہ- معافی چاہتا ہوں کہ آپ ایسی الجھن میں ہیں مگر ایک بات پوچھنی تھی آپ سے-“

”جی پوچھیں-“

”جو ڈی وی ڈی میں لے گیا تھا- کیا ویسی اور ڈی وی ڈی بھی موجود ہیں؟-“

”جی نہیں- وہ ایک ہی تھی-“

”کیا آپ کو یقین ہے-“

”ہاں میں یقین سے کہہ رہی ہوں-“ نسرین بولی-

”دیکھیں اگر آپ کچھ بھی جانتی ہیں تو بتا دیں- اس درندے کو پکڑنا بہت ضروری ہے-“

”مجھے کچھ پتہ نہیں ہے- میں اس معاملے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی-“

”اگر آپ کو برا نہ لگے تو آپ کی الماریوں کی تلاشی لینا چاہتا ہوں- کیا پتہ کچھ مل ہی جائے-“ رفیق نے نسرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”بیشک تلاشی لے لیں- مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے-“ نسرین نے اجازت دے دی-

”تھینک یو ویر ی مچ-“ رفیق نے مزید ڈی وی ڈی ملنے کی امید میں اچھی طرح تلاشی لی-مگر اسے مایوس ہی ہونا پڑا-

رفیق نے نسرین کی حفاظت کے لئے دو سپاہیو ں کو مامور کر دیا اور خود وہاں سے نکل گیا- ”تھوڑی مرہم پٹی کروا لیتا ہوں- پتہ نہیں کیا مارا ہے کم بخت نے-“

٭٭٭٭٭٭٭

صبح مراد اپنی ملازمت پر جا رہا تھا کہ بس اسٹاپ پر اسے سحرش نظر آئی اور اس کی آنکھیں چمک اٹھیں- اس نے لپک کر بائیک سحرش کے پاس روک دی- اسے دیکھ کر سحرش کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی-

”کیسی ہو؟-“

”میں ٹھیک ہوں- تم سناﺅ؟-“

”میں بھی بالکل ٹھیک ہوں- لگتا ہے کالج سے چھٹی لے رکھی ہے تم نے- روز دیکھتا تھا مگر تم نظر ہی نہیں آتی تھیں-“ مراد نے ایسے کہا جیسے شکایت کر رہا ہو-

”ہاں کالج جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا- لیکن کب تک گھر پر بیٹھی رہوں- اب جانا تو ہے نا-“ سحرش نے اپنی بس آتے دیکھ لی- ”میری بس آگئی ہے- اب میں جاﺅں-“

”اگر روکوں گا تو کیا تم رک جاﺅ گی-“ مراد نے اس کی آنکھوں میں جھانکا-

”تم کہو گے تو رک جاﺅں گی— مگر تم مجھے کیوں روکنا چاہتے ہو؟-“

مجھے تم سے محبت ہے— تم جانتی ہو نا— پھر بھی پوچھتی ہو کیوں— آﺅ بیٹھو تمہیں کہیں گھما کر لاتا ہوں-“

”میں بہت دنوں بعد کالج جا رہی ہوں مراد – آج نہیں-“

” تو پھر بعد میں کسی دن چلو گی؟-“ مراد نے سوالیہ نظروں سے دیکھا-

”ہاں یہ ہوسکتا ہے- اب تم جاﺅ ‘ ڈیوٹی پر لیٹ ہوجاﺅ گے-“

”یہ لو- ہماری باتوں میں تمہاری بس تو نکل گئی- آﺅ اب میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں-“

”بیس منٹ میں دوسری بس آجائے گی- تم جاﺅ لیٹ ہوجاﺅ گے-“

”بیٹھ جاﺅ نا پلیز-“ مراد نے پیار سے کہا-

سحرش کے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ بکھر گئی اور وہ مراد کے پیچھے بیٹھ گئی-

”کیا تمہیں لگتاہے کہ تم مجھ سے محبت کرنے لگی ہو؟-“ مراد نے پوچھا-

مجھے تو ایسا کچھ نہیں لگتا-“

”مگر مجھے لگتا ہے-“

”اچھا— تمہیں کیسے لگا یہ-“

”بس لگی گئی نایہ بات-“

سحرش نے اپنا سر مراد کے کندھے پر ٹکا دیا- ”شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو- میں کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ میرا دماغ الجھنوں میں جکڑا ہوا ہے-“

”ایک بار میری محبت کے سرور میں ڈوب کر تو دیکھو‘ ساری الجھنیں دور ہوجائیں گی-“مراد نے سچے دل سے کہا-

”تم مجھے گھمانے کے لئے کہاں لے جانا چاہتے تھے-“

”ہاکس بے لے چلتا—- چلیں؟-“ مراد نے پوچھا-

”کل چلیں گے- آج کالج کا چکر لگا لیتی ہوں- کسی سہیلی سے نوٹس بھی لے لوں گی-“

مراد نے بائیک ایک طرف روک کر پوچھا- ”تم صرف میری خاطر بول رہی ہو یا سچ میں جانا چاہتی ہو-“

”مجھے کچھ نہیں پتہ— تم بس مجھے لے چلنا- خوشی خوشی چلوں گی تمہارے ساتھ-“

”مجھے تو یہ خواب سا لگ رہا ہے-“ مراد خوش ہوکر بولا-

”چلوں گی میں—- مراد تمہارے ساتھ کہیں بھی چلنے کو تیار ہوں- مگر فی الحال تو کالج کے لئے لیٹ ہو رہی ہوں- جلدی سے پہنچا دو-“

”اوہ ہاں بالکل-“ مراد نے کہا اور اسپیڈ دکھاتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں سحرش کو کالج پہنچا دیا-

”بائے- پھر کل ملتے ہیں-“ سحرش نے اپنے ہونٹوں پر پیاری سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا-

”اپنا خیال رکھنا-“

”ارے ہاں بابا- اب تم جاﺅ- میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے تم مزید لیٹ ہوجاﺅ-“

”اوکے– بائے— باقی باتیں کل-“

٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

ناول کا اگلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں

قسط نمبر 13

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

رفیق نے رات کو ہی ایک کلینک سے بینڈیج کروالی تھی- اور سیدھا تھانے چلا گیا تھا- صبح جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوا تو پنکی اس کی مرہم پٹی دیکھ کر بے چین سی ہوگئی-“

”بھیا یہ کیا ہوا- یہ سر پر پٹی کیوں بندھی ہوئی ہے؟-“

سر پر پتہ نہیں کیا مار دیا تھا ظالم نے— پنکی ایک بات سنو— جب تک یہ درندہ پکڑا نہیں جاتا تم نوابشاہ چلی جاﺅ چاچا جان کے پاس- اماں ابا بھی وہیں ہیں- تم تینوں کچھ دنوں کے لئے وہیں رک جاﺅ-“ رفیق نے کچھ سوچ کر کہا-

”بھیا میرے کالج کا حرج ہوگا- میں نوابشاہ کیسے جا سکتی ہوں-“

”ارے چھٹی لے لو- مگر اب تم ایک دن کے لئے بھی یہاں نہیں رکو گی- درندے نے مجھے دھمکی دی ہے کہ اس نے میرے لئے کوئی پلان بنا رکھا ہے- اور میں نہیں چاہتا کہ تم لوگوں پر کوئی آنچ آئے-“

”بھیا میں آپ کی یہ بات نہیں مان سکتی-“

”ایک تھپڑ لگے گا اس معصوم سے گال پہ- جو کہا ہے وہ کرو- چلو جاﺅ سامان پیک کرو اپنا- میں تمہیں نوابشاہ والی بس میں بٹھا کر آﺅں گا- اور رہی بات کالج کی تو وہاں میں خود ہی اطلاع کر دوں گا- اور اب تمہاری کوئی بات نہیں سنوں گا-“

پنکی پاﺅں پٹختے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور اندر سے چٹخنی لگا لی- رفیق اس کے کمرے کے باہر آکر بولا- ” میں کوئی بہانہ نہیں چلے گا- ایک گھنٹے بعد تم مجھے تیار ہوکر ملو- اوہ ہاں- — تمہیں بس میں لمبے سفر سے الرجی ہے- سمجھ گیا— چلو ٹھیک ہے کار بک کروا دوں گا- اب تو خوش ہو نا-“

اگرچہ پنکی بالکل بھی جانا نہیں چاہتی تھی مگر رفیق کے آگے اس کی ایک نہیں چلی اور ایک گھنٹے بعد وہ ایک پرائیویٹ کار میں نوابشاہ کے لئے روانہ ہو رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

پنکی کو روانہ کرنے کے بعد رفیق ‘ وردا کے گھر آگیاجہاں اس کے ماں باپ کی تدفین ہو رہی تھی- تعزیت کرنے والوںمیں مراد کو دیکھ کر وردا اس کے پاس آئی اور بولی- ”دیکھو تمہارے اس دن کے کھیل نے کیا قہر ڈھا دیا ہے میری زندگی میں- یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے- چلے جاﺅ یہاں سے— نہ تم اس رات مجھے روکتے نہ آج میرے ساتھ یہ سب ہو رہا ہوتا- تمہاری ہی وجہ سے میں نے اپنے ماں باپ کھو دیئے— کیوں آئے ہو یہاں- کس نے بلایا ہے تم کو-“

مراد نے کچھ نہیں کہا- بس چپ چاپ نظریں جھکائے کھڑا رہا- وہ خود کو واقعی میں وردا کا مجرم محسوس کر رہا تھا-

”میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی-“ وردا پھر رونے لگی-

وردا کی چچی نے اسے روتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا-”بس وردا بس-“

بہت ہی غمناک ماحول تھا- وردا کے ماں باپ کے دفن ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ساری خوشیاں‘ خواب اور امیدیں بھی منوںمٹی تلے دفن ہوگئیں تھیں-اپنے کسی قریبی کی موت انسان کو اندر تک سے ہلا کر رکھ دیتی ہے- کچھ ایسا ہی وردا کے ساتھ بھی ہو رہا تھا- لیکن ایک دن تو اسے سنبھلنا تھا— مگر سنبھلتے سنبھلتے بھی اسے شاید کافی وقت کی ضرورت تھی-

وردا کی یہ حالت نہ راجو سے برداشت ہو رہی تھی نہ رفیق سے دیکھی جا رہی تھی- دونوں بس اسے تڑپتے ہوئے ہی دیکھ سکتے تھے- یہ بھی زندگی کی عجیب الجھنوں میں سے ایک الجھن تھی-

شہلا بھی وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ بالکل خاموش تھی- رفیق اس کے پاس آیا اور بولا- ”میڈم آج مجھے چھٹی چاہئے- میرا دل بہت اداس ہو رہا ہے- کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا-“

ِِ”ٹھیک ہے جاﺅ- مگر کل اور زیادہ محنت کرنی پڑے گی تمہیں-“ شہلا نے کہا-

”تھینک یو میڈم-“ یہ کہہ کر وہ ایک طرف ہوگیا-

شوکت اور اس کے ماں باپ نے بڑی مشکلوں سے وردا کو قابو کی ہوا تھا- اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دیواروں سے اپنا سر ٹکرا کر اپنی زندگی بھی ختم کرلے-جب اس کی حالت کچھ سدھری تو چچی نے اسے آرام کرنے کے لئے کمرے میں بھیج دیا- اور حسبِ معمول راجو اپنی جیپ میں بیٹھ کر اپنی محبوبہ کی چوکیداری کرنے لگا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق جب گھر پہنچا تو اسے ریما کا فون آیا- ”کیسے ہو رفیق؟-“

”میں ٹھیک ہوں- تم کیسی ہو-“

”میں بھی ٹھیک ہوں- مگر تمہیں بہت مس کر رہی ہوں-“

”میرے گھر آسکتی ہو-“

”کیوں نہیں آسکتی- تم بولو تو سہی-“ ریما نے خوش ہوکر کہا-

”تو آجاﺅ پھر-“

”میں اس وقت کالج میں ہوں- ابھی بیس منٹ میں تمہارے پاس پہنچ جاﺅں گی-“

”اوکے- میں انتظار کر رہا ہوں-“ یہ کہہ کر رفیق نے ریما کو اپنے گھر کا پتہ سمجھا دیا-

پھر رفیق کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑااور بیس منٹ سے پہلے ہی ریما اس کے سامنے تھی-

”ارے یہ تمہارے سر پر کیاہوا؟— کس نے سجا دیا یہ سہرا؟-“ ریماحیرانگی میں بھی شوخی سے بولی-

رفیق نے نسرین کے گھر پر ہونے والا واقعہ ریما کو سنا دیا-

”اوہ مائی گاڈ – تو کیا وہ درندہ تھا نسرین کے گھر میں-“

”ابھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا- میں نے اپنی چھوٹی بہن کو بھی نوابشاہ بھیج دیا ہے- میرے والدین تو پہلے سے ہی وہیں ہیں- میں نہیں چاہتا کہ مجھ سے دشمنی کرتے ہوئے درندہ انہیں کچھ نقصان پہنچائے-“

”میں اب تم سے دور نہیں رہ سکتی- اور تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بوائے فرینڈ سے بھی بریک اپ کر لیا ہے- ایسا لگتا ہے مجھے تمہاری لت لگ گئی ہے-“

”ارے میں نے ایسا کیا کر دیا ہے- قسم لے لو جو تم پر کسی بابا سے کوئی تعویز کروایا ہو-“

”یہ تو تم خود سے پوچھو کہ تم نے مجھ پر کیا کر دیا ہے-“ ریما آنکھیں نچاتی ہوئی بولی-

”آﺅ بیڈ روم میں چل کر باتیں کرتے ہیں-“ رفیق نے دعوت دینے والے انداز میں کہا-

”اوکے- ویسے آج تم گھر پر نظر آرہے ہو- خیر تو ہے نا-“

”یار قبرستان گیا تھا-وردا کے والدین کی تدفین تھی نا- وردا کی حالت دیکھ کر دل دکھی ہوگیا- کوئی بات اچھی نہیں لگ رہی تھی- اس لئے میں نے ایک دن کی چھٹی لے لی-“

”اچھا کیا تم نے- کبھی کبھار چھٹی تو تمہارا حق بھی بنتی ہے-“ ریما بولی-

رفیق اور ریما بیڈ روم میں آگئے-

”تم پہلی بار میرے گھر آئی ہو- بولو کیا خدمت کروں-“

”بس تم میرے پاس رہو- مجھے اور کچھ نہیں چاہئے- یہ کہہ کر ریما لٹک گئی رفیق کے گلے سے-

”کیا تم نے سچ میں میری خاطر اپنے بوائے فرینڈ کو چھوڑ دیا ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”میں کبھی جھوٹ نہیں بولتی-“

” مگر تم نے ایسا کیوں کیا؟-“

”مجھے نہیں پتہ– بس مجھے تمہارا ساتھ اچھا لگتا ہے-“ ریما اس کی آنکھوںمیں دیکھتے ہوئے بولی-

”تو کیا جنس زدہ ہوتی جا رہی ہو تم-“ رفیق نے شرارت سے پوچھا-

”نہیں- آج ہی میرے مخصوص دن شروع ہوئے ہیں- میں یہاں جنسی تسکین کے لئے نہیں آئی- بس یہی سوچ کر آئی ہوں کہ کچھ وقت تمہارے ساتھ گزاروں گی تو دل کو سکون ملے گا-“

”سوری اگر تم کو میری بات بری لگی ہو تو-“

ِِِ”آئی لو یو رفیق-“ ریما کی آنکھوں میں سچائی تھی-

”کیا— کیا کہا تم نے؟-“

”آئی لو یو-“

”ریما ہٹو یار- مذاق مت کرو- میں کچھ لاتا ہوں کھانے پینے کے لئے-“

ریما نے بڑی اداسی سے رفیق کی طرف دیکھا- ”کیا کوئی مذاق میں بھی کسی کو آئی لو یو کہتا ہے-“

رفیق نے آہستہ ریما کو خود سے الگ کیا- ”ریما بس اب بہت ہوگیا— ہم صرف اچھے دوست ہیں- دوست ہی رہیں گے- تم جانتی ہو کہ میں کسی اور محبت کرتا ہوں – پھر بھی-“

”یہ کیسی محبت ہے رفیق- وہ تو تم سے بات تک نہیں کرتی- کیا پتہ وہ کسی اور کو چاہتی ہو-“ ریما نے کہا-

”ریما پلیز- یہ سب کہنے کی تم کو ضرورت نہیں ہے- اگر تم سچ میں مجھ سے محبت کرتی ہو تو میں تمہارا شکرگزار ہوں -مگر میں بھی جھوٹ نہیں بولوں کہ میرے دل میں تمہارے لئے ایسا کوئی احساس نہیں ہے- میںتمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا- میں تمہیں بس ایک دوست کے روپ میں دیکھتا ہوں – اس سے زیادہ کچھ نہیں-“ رفیق نے بھی اپنے دل کی بات کہہ دی-

یہ سن کر ریما کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے- یہ دیکھ کر رفیق نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا-

”تم پاگل ہوگئی ہو کیا- رو کیوں رہی ہو- میں نے جو کہا سچ کہا- جھوٹ بولنے سے فائدہ بھی کیا- اگر زندگی کے کسی موڑ پر مجھے تم سے محبت ہوگئی تو ضرور بتاﺅں گا— ابھی وہ احساس میرے دل کے کسی گوشے میں پنپا ہی نہیں تو کیسے کہہ دوں-“

”کوئی بات نہیں رفیق- چلو جانے دو— کچھ کھانے کو لاﺅ مجھے بھوک لگ رہی ہے— ویسے سچ ہی کہا تم نے جو احساس دل میں جاگا ہی نہ ہو اس کا اقرار انسان کیسے کر سکتا ہے- جو محبت کرتے ہیں ان کی منزل صرف محبت ہی ہوتی ہے جبکہ ہماری گاڑی تو جنس کے اسٹیشن پر آکر ہی رک گئی ہے- جہاں ہم ایک دوسرے کے جسم سے کھیلے اور بائے بائے کہہ کر چلتے بنے-“ ریما کے لہجے میں اس کے دل کا درد جھلک رہا تھا-

”اب کیسے سمجھاﺅں تم کو-“ رفیق بے بسی سے بولا-

”کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے- چلو کچھ کھانے کو لاﺅ- کہا نا بھوک لگ رہی ہے مجھے-“ ریما زبردستی اپنے لہجے میں شوخی کا عنصر لاتے ہوئے بولی-

”یار کھانا تو بنانا پڑے گا- ایسا کرتا ہوں باہر سے کچھ لا دیتا ہوں-“

”نہیں- باہر سے کیوں لاﺅ گے— میں بنا دیتی ہوں-“

یہ کہتے ہوئے وہ رفیق کے ساتھ کچن میں آگئی اور اپنی پسند کا کھانا پکا کر رفیق کے آگے پروس دیا-

”واہ یار- تم تو بہت اچھا کھانا بناتی ہو- مزا آگیا کھا کے-“

کھانے کے بعد ریما نے کہا – ”رفیق مجھے کالج جانا ہوگا- ایک اسائمنٹ سبمنٹ کروانی ہے شام تک- وہ دے کر گھر چلی جاﺅں گی-“

”ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑ دوں گا- ابھی تو دو ہی بجے ہیں-“

”ابھی چھوڑ دو تو اچھا ہے- ابھی اسائمنٹ لکھنی بھی تو ہے- لائبریری میں بیٹھ کر لکھ لوں گی-“

”اوکے جیسی تمہاری مرضی-“

رفیق نے ریما کو کالج چھوڑا اور دوبارہ گھر آکر بستر پر ڈھیر ہوگیا- اس کے دماغ میں ریما کی کہی باتیں گھوم رہی تھیں- جب وہ اسے کالج چھوڑنے جا رہا تھا تو راستے بھر ریما نے ایک لفظ بھی نہیں کیا- جیسے اس نے اپنے لب سی لئے ہوں- کالج کے دروازے پر اس نے ایک درد بھری مسکراہٹ کے ساتھ رفیق کو بائے کہا تھا-

”اوہ ریما- مجھے کچھ وقت دو— جھوٹ نہیں بول سکتا تم سے— تم اچھی لڑکی ہو- خوبصورت ہو- کاش مجھے تم سے محبت ہوجائے- یہ محبت بھی بڑی عجیب چیز ہے- جہاں ڈھونڈتے ہیں وہاں ملتی نہیں اور جہاں پانے کی تمنا بھی نہیں ہوتی وہاں مل جاتی ہے- ریما میں تمہارے بارے میں سوچوں گا- بس تھوڑا وقت دو-“ انہی خیالوں میں کھوئے ہو رفیق کو نیند آگئی- بہت گہری نیند- آٹھ بجے دروازے پر بجنے والی بیل سے اس کی آنکھ کھلی-

”اس وقت کون ہو سکتا ہے-“ وہ بڑبڑایا-

رفیق نے دروازہ کھولا تو اسے دہلیز پر ایک لفافہ پڑا ہوا ملا- رفیق نے دائیں بائیں دیکھا مگر اسے کوئی دکھائی نہیں دیا-

رفیق نے لفافہ کھولا اور لفافے کے اندر اس نے جو دیکھا اس نے اس کا دل ہلا کر رکھ دیا- لفافے میں ریما کی تصویریں تھیں- اس کا بدن لباس کے نام پر ایک دھجی تک سے محروم تھا-اور ایک بیڈ سے بندھی ہوئی تھی-لفافے میں ایک چٹ بھی تھی- رفیق نے اسے کھول کر پڑھا-

”ہیلو مسٹر مغلِ اعظم— اب ملاقات کا وقت آگیا ہے- کسی ایسی ہستی کو ڈھونڈ رہا تھا میں جو آپ سے بہت قریب ہو— اس لڑکی کو تم کالج چھوڑ کر گئے اور میں اسے اٹھا لایا- اب تم ایسا کرو کہ چپ چاپ اسی کھنڈر میں آجاﺅ جہاں تمہیں نشاءاور شرفو کی خوبصورت لاشیں ملی تھیں- کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو ریما کا وہ برا حال کروں گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے- اور گھبرانا مت- میرے فن کا حصہ بننے جا رہے ہو تم- تم بھی اوروں کی طرح فخر کرو گے کہ تم میرے ہاتھوں مرے- جلدی آﺅ- تمہارے لئے ایک کھیل تیار رکھا ہے میں نے- تمہارے گھر سے بس آدھے گھنٹے کا تو راستہ ہے اس کھنڈر کا- فوراً پہنچو ورنہ انجام تو تم جانتے ہی ہو-“

رفیق کے پاس اتنا بھی وقت نہیں تھا کہ وہ سکون سے بیٹھ کر کچھ سوچ سکتا- اسے ہر حال میں وقت پر کھنڈر پہنچنا تھا- اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے پھنسانے کے لئے وہ درندہ ریما کو چارے کے طور پر استعمال کرے گا-

رفیق نے فوراًشہلا کو کال کرنے کے لئے فون نکالا- مگر اس کا اپنا موبائل بجنے لگا-

”ہیلو -“ رفیق نے کہا-

”کسے فون کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے مسٹر مغلِ اعظم– – تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی- یاد رکھو کہ تمہاری ہر حرکت پر نظر ہے میری-“

رفیق نے چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھا مگر اسے کوئی نظر نہیں آیا-

”ضرور اس کمینے نے کوئی اسپائی کیمرہ لگا رکھا ہے-“ رفیق نے سوچا-

”کیا سوچ رہے ہو مسٹر مغلِ اعظم— لگتا ہے ریما کی کوئی پرواہ نہیں ہے تمہیں- یہ موبائل ایک طرف پھینک دو اور کوئی چالاکی دکھائے بنا کھنڈر میں آجاﺅ— میں بڑی بے تابی سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں- کب تک تڑپاتے رہو گے مجھے-“

”اوکے- میں آرہا ہوں- میری جیپ کی چابی اندر پڑی ہے- وہ تو اٹھا سکتا ہوں نا-“

”ہاں اٹھا لو- مگر زیادہ جیمز بانڈ بننے کی کوشش مت کرنا- تمہاری ہر حرکت پر نظر ہے میری-“

رفیق گھر کے اندر گیا اور تھوڑی ہی دیر میں باہر آگیا- مگر باہر آتے ہی اس نے دیکھا چینل رپورٹر مونا اپنا مائیک لئے کھڑی ہے-

”انسپیکٹر رفیق مغل- کیا اب آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ درندہ کون ہوسکتا ہے-“ مونا نے مائیک آگے کرتے ہوئے پوچھا-

”دیکھیں اس وقت میں بہت جلدی میں ہوں- پلیز- ابھی مجھے ڈسٹرب مت کریں- “ یہ کہتا ہوا رفیق اپنی جیپ کی طرف بڑھا-

”دیکھیں لوگوں کو درندے کے بارے میں جاننے کا پوراحق ہے تاکہ وہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں-“ مونا بولی-

ایک پل کے ہزارویں حصے میں رفیق کے دماغ میں بجلی سے کوندی اور اس نے جھٹ سے مونا کو گلے سے لگا لیا اور سرگوشی کرتا ہوا بولا- ”میں تمہاری جیب میں ایک چٹ ڈال رہا ہوں-

فوراً ڈی ایس پی شہلا احمد سے رابطہ کرنا- یہاں پڑھنے کی کوشش مت کرنا-“

مونا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ رفیق کہنا کیا چاہتا ہے- اس سے پہلے کہ مونا مزید کوئی سوال کرتی رفیق جلدی سے جیپ میں سوار ہوا اور وہاں سے نکل گیا-

”اس نے ایسا کیوں کیا— کچھ گڑبڑ ہے-چٹ کہیں اور جاکر پڑھتی ہوں-“ مونا نے اپنے دل میں سوچا

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق پوری رفتار سے جیپ دوڑا رہا تھا اور وہ بیس منٹ میں ہی کھنڈر پہنچ گیا- وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا جیپ سے اترا اور پستول ہاتھ میں لے کر کھنڈر کے اندر داخل ہوگیا- وہاں اسے کوئی آواز- کوئی آہٹ سنائی نہیں دے رہی تھی- پورا کھنڈر بالکل سنسان اور ویران تھا-

رفیق پوری ہوشیاری سے آگے بڑھ رہا تھا- اور ایک ایک گوشے پر دھیان دے رہا تھا- جب وہ اسی کمرے میں پہنچا جہاں نشاءاور شرفو کی لاشیں ملی تھیں تو اس کے ہوش اڑ گئے-“

”ریما-“ رفیق زور سے چلایا-

مگر وہ ریما نہیں کوئی اور تھی- اسے پیٹھ میں خنجر گھونپ کر دیوار کے سہارے کھڑا کر رکھا تھا- اور اس کی پیٹھ رفیق کی طرف تھی- پہلی نظر میں وہ اسے ریما ہی سمجھا تھا-

رفیق دوڑ کر لاش کے پاس آیا- اس نے لڑکی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ سوئی اس کی گردن میں چبھنے لگی- اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک نقاب پوش اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا- اس سے زیادہ وہ کچھ دیکھ سکا اور بے ہوش ہوکر زمین پر گر گیا-

٭٭٭٭٭٭

مونا نے رفیق کے گھر سے کچھ دور آکر چٹ پڑھی- ”اوہ مائی گاڈ- درندے نے انسپیکٹر کی گرل فرینڈ کو کڈنیپ کر لیا ہے— اور انسپیکٹر کو بلایا ہے کھنڈر میں-“

مونا کے پاس شہلا کا نمبر نہیں تھا- وہ کیمرہ مین کے ساتھ فوراً تھانے پہنچی اور وہ چٹ شہلا کے ہاتھ پر رکھ دی-

”اوہ نو-“ یہ کہتے ہوئے شہلا نے بیل بجائی-ایک سپاہی اندر آیا-

”چوہان کو بھیجو- جلدی— اور سب کو اکٹھا ہونے کے لئے بول دو- ہمیں ایک آپریشن کے لئے نکلنا ہے-“

”اوکے میڈم-“

چوہان اندر آیا تو شہلا نے وہ چٹ اسے دکھائی-

”یہ ریما کون ہے میڈم-“ چوہان نے پوچھا-

”یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے- جلدی سے آپریشن کی تیاری کرو- دو منٹ میں نکلنا ہے ہمیں-“

چوہان نے کچھ سوچ کر اپنی بہن کا نمبر ملایا مگر فون سوئچ آف تھا-

”کہیں یہ میری بہن ریما تو نہیں— مگر اس کا رفیق سے کیا تعلق-“ چوہان سوچتا ہوا بولا-

”بے وقوف یہ سب سوچنے کا وقت نہیں ہے— جلدی سے سب کو آپریشن کے لئے ریڈی کرو- آج وہ درندہ بچ کر جانا نہیں چاہئے-“ شہلا نے تیز لہجے میں کہا-پھر وہ مونا سے مخاطب ہوئی- ”تھینک یو مونا- پلیز ابھی تم چینل پر کچھ مت دکھانا- اور ہمارے ساتھ بھی مت آنا- وہاں بہت خطرہ پیش آسکتا ہے-“

”خطرہ مول لینا ہی ہماری جاب ہے میڈم- آپ ہماری فکر نہ کریں-“

”اوکے ایز یو وش-“

پانچ منٹ کے اندر اندر شہلا ایک بڑی پولیس پارٹی کے ساتھ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئی- مگر جب وہ وہاں پہنچے تو پورے کھنڈر میں سوائے ایک لڑکی کی لاش کے انہیںکچھ نہیں ملا جس کی پیٹھ میں خنجر گڑا ہوا تھا-

”اوہ شکر ہے- یہ میری بہن نہیں ہے-“ چوہان لڑکی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا-

”مگر کسی تو بہن ہے نا— اور یہ رفیق کہاں ہے-“ شہلا نے کہا-

”ڈر کر بھاگ گیا ہوگا میڈم-“ چوہان نے استہزائیہ لہجے میں کہا-

”کیا تم پاگل ہوگئے ہو- بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہو- چاروں طرف تلاش کرو اچھی طرح-“ شہلا نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا-کھنڈر کی ہر طرح سے تلاشی لی گئی اور کھنڈر کے پیچھے جو جھاڑیوں کا جنگل تھا وہاں بھی ہر طرف دیکھا گیا- مگر رفیق کا کچھ پتہ نہیں چلا-

”ایسا کرو پورا جنگل چھان مارو- لگتا ہے ہمیں آنے میںدیر ہوگئی- مجھے کسی انہونی کا احساس ہو رہا ہے-“ شہلا بولی-

پولیس نے پورا جنگل چھان لیا مگر انہیں رفیق کا کوئی سراغ نہیں ملا- مگر پھر بھی پولیس کی تلاشی جاری رہی-

”اس نے رفیق کو کھنڈر میں بلایا- کھنڈر جنگل کے بالکل ساتھ ہے- سارا فساد اس جنگل میں ہی لگتا ہے- مگر کوئی سراغ کیوںنہیں مل رہا-“ شہلا پریشان ہو رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

جب رفیق کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک بند کمرے میں پایا- پھر اس کی نظر کمرے کے وسط میں پڑے بیڈ پر گئی جس پر ریما برہنہ حالت میں بندھی ہوئی تھی- اس کے کپڑے بستر پر ہی پڑے تھے-

”ریما-“ رفیق زور سے چیخا-

”پلیز رفیق- مجھے بچا لو- میں مرنا نہیں چاہتی–“ ریما روتے ہوئے بولی-

رفیق اٹھ کر ریما کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ پاﺅں کھول دیئے-”ریما تم بالکل فکر مت کرو- میں ہوں نا تمہارے ساتھ-“

”رفیق- مجھے یہ وہی کمرہ لگ رہا ہے جو ہم نے اس ڈی وی ڈی میں دیکھا تھا-“ ریما نے اسے دھیان دلاتے ہوئے کہا-

”ہاں وہی ہے- بالکل وہی ہے-“ رفیق نے جائزہ لینے کے بعد کہا-

”بہت خوب مسٹر مغلِ اعظم- تم نے تو میری ہدایت کے بغیر ہی کھیل شروع کر دیا- میں بھی تمہیں یہی کہنے والا تھا کہ ریما کے ہاتھ پاﺅں کھول دو-“ کمرے میں ایک آواز گونجی جو ایک چھوٹے سے اسپیکر سے آرہی تھی جو دیوار پر فٹ تھا-

”تم چاہتے کیا ہو؟-“ رفیق نے پوچھا-

”بہت ہی آسان سا کھیل— ریما کے ہاتھ تو تم نے کھول ہی دیئے ہیں- اب اس کی گردن کاٹ کر اس ڈبے میں رکھ دو جو بستر کے پاس رکھا ہے-“ درندے نے ہدایت دیتے ہوئے کہا-

رفیق کا چہرہ غصے سے سرخ بھبھوکا ہو رہا تھا- ”اچھا— مگر کیوں نہ تمہاری گردن کاٹ کر اس ڈبے میں رکھ دوں- اگر ہمت ہے تو سامنے آجاﺅ- کھنڈر میں بھی تم نے ایک ہیجڑے کی طرح پیچھے سے وار کیا تھا- سچ سچ بتانا – تم نامرد ہو نا؟-“ رفیق نے الٹا جواب دیتے ہوئے کہا-

”مسٹر مغلِ اعظم- میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں— تمہاری گرل فرینڈ کو اٹھا لایا ہوں میں- تو تمہارا غصے میں آنا فطری عمل ہے- لیکن میں ایک فنکار ہوں- سکون سے کام کرتا ہوں- ویسے میں یہ بتا دوں کہ تمہارے پاس اس کا سر کاٹنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہے بھی نہیں- ٹی وی آن کرکے دیکھو- سب سمجھ جاﺅ گے- ہا ہا ہا-“ کمرہ درندے کے قہقہوں کی باز گشت سے گونج اٹھا-

رفیق نے ٹی وی آن کیا تو اس کے رہے سہے حواس بھی ساتھ چھوڑنے لگے- ”پنکی— کمینے میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا-“

رفیق اور ریما نے دیکھا کہ پنکی ایک بند کمرے میں کھڑی ہے اور اس کے ساتھ ایک ہٹا کٹا آدمی بھی کھڑا ہے-“

”تمہاری بہن کے ساتھ جو آدمی کھڑ ا ہے وہ ایک ریپسٹ ہے- کئی لڑکیوں کا ریپ کر چکا ہے- وہ تو ہر وقت ہر ریپ کرنے کے لئے پاگل سا رہتا ہے- یوں سمجھو کہ ریپ کرنا اس کا نشہ ہے- اور یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ ایک نشئی کسی بھی طریقے سے اپنا نشہ پورا کرنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے— اور میرا خیال ہے ایک پولیس انسپیکٹر ہونے کی حیثیت سے تم اس مجرم کو اچھی طرح جانتے ہوگے- کیونکہ تمہارے محکمے میںاس کی اتنی موٹی فائل موجود ہے- کیوںکچھ یاد آیا کہ نہیں-“ درندہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے ہر لفظ سے حظ اٹھا رہا ہو-

رفیق اس آدمی کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا- اس پر ریپ کے چار کیس چل رہے تھے مگر ابھی تک وہ سزا سے بچا ہوا تھا- وجہ وہی کوئی نہ کوئی قانونی سقم-

”یہ آدمی تمہاری بہن کا ریپ کرے گا- اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بہن ریپ سے بچ جائے تو فوراً سے بیشتر ریما کا گلا کاٹ دو- اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو پانچ منٹ کے بعد یہ آدمی تمہاری بہن کا کیا حال کرے گا- وہ تم آرام سے بستر پربیٹھ کر دیکھ سکتے ہو- چوائس تمہاری ہے- تمہیں بہن کی عزت پیاری ہے یا گرل فرینڈ کی جان-“

”کمینے اسے تم کھیل کہتے ہو- تم انسان ہو یا جانور- یہاں میرے سامنے آکر بات کرو- تمہارا یہ گیم کھیلنے کا شوق نہ بھلا دیا تو میرا نام بھی رفیق مغل نہیں-“ غصے کے مارے رفیق کے منہ سے جھاگ بہنے لگا تھا-

”ہا ہا ہا- مزا آئے گا— بہت دلچسپ صورتحال ہے—- تم نے ایک منٹ برباد کر دیا ہے مسٹر مغل اعظم- جلدی سے کچھ کرو ورنہ بہن کی عزت لٹتی ہوئی دیکھو گے-“

”کمینے چھوڑ دو اسے-“ رفیق صرف چلا ہی سکتا تھا- جبکہ ریما اس دوران گم سم سی بیٹھی ہوئی تھی- اس کی اپنی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی-

پانچ منٹ گزرتے ہی اس آدمی نے پنکی کو دبوچ لیا-

”چھوڑ دو اسے چھوڑ دو-“ رفیق چلائے جا رہا تھا-

مگر اس کمرے تک رفیق کی آواز نہیں پہنچ سکتی تھی- ادھر درندے نے اس آدمی سے کہہ رکھا تھا کہ اگر تم اس لڑکی کا ریپ نہیں کر سکے تو پھر اس کمرے سے تمہاری لاش ہی باہر جائے گی- اور پنکی سے کہا تھا کہ اگر تم نے اپنا ریپ ہونے دیا تو تمہیں کاٹ ڈالوں گا-“ یعنی چت بھی درندے کی اور پت بھی درندے کی-بالکل وہی گیم جو اس نے نشاءکے ساتھ کھیلا تھا- ویسا ہی گیم وہ پنکی کے ساتھ کھیل رہا تھا-

ریما نے رفیق کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا- ”رفیق میرا سر کاٹ کر اپنی بہن کی عزت بچا لو- ریپ موت سے بھی زیادہ بھیانک ہوتا ہے-“

”چپ رہو تم— ایسا کچھ نہیں کروں گا میں-“ اچانک رفیق کی نظر کمرے کی دیوار پر لگے ایک کیمرے پر گئی جو کافی اوپر فٹ کیا ہوا تھا- رفیق نے میز سے ٹی وی اٹھا کر نیچے رکھا او رمیز پر چڑھ کر اس کیمرے کو اتار لیا اور فرش پر پٹخ کر توڑ دیا-

درندہ یہ دیکھ کر تلملا اٹھا اور اس کمرے کی طرف بڑھا جس میں رفیق اور ریما بند تھے- اس کے ایک ہاتھ میں بڑا سا خنجر اور دوسرے ہاتھ میں ریوالور تھا-

رفیق نے کیمرہ توڑنے کے بعد کمرے میں جلنے والا بلب بھی پھوڑ دیا-

”ریما تم کپڑے پہن لو اور اس بیڈ کے نیچے چھپ جاﺅ- وہ درندہ آتا ہی ہوگا- وہ کیمرے کو ٹوٹتا دیکھ کر پاگل سا ہوگیاہوگا-“

ریما کپڑے پہن کر بیڈ کے نیچے چھپ گئی- ٹی وی پر پنکی اس آدمی کے سامنے بھرپور مزاحمت کا اظہار کر رہی تھی- رفیق نے ٹی وی بھی بند کر دیا- دروازے کے باہر آہٹ سنتے ہی رفیق دروازے کے ساتھ دیوار سے چپک کر کھڑا ہوگیا- اگر دروازہ کھلتا تو وہ دروازے کے پیچھے رہتا- کمرے میں گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا-

دروازہ کھلا تو باہر سے ہلکی روشنی اندر آنے لگی- باہر بھی ایک بلب جل رہا تھا- درندہ جیسے ہی اندر آیا رفیق نے اسے دبوچ لیا- مگر درندے نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے خنجر سے رفیق کے پیٹ پر وار کیا-اس وار سے رفیق کے پیٹ پر ہلکا سا چرکا لگا- اس کے بعد درندے نے رفیق پر فائر کیا مگر رفیق نے جھک کر اس کی ٹانگ پکڑ کر کھینچی اور وہ فرش پر پھیل گیا- اس کے گرنے سے کافی آواز ابھری تھی- شاید درندے کا سر بھی فرش سے ٹکرایا تھا-

ریما بیڈ کے نیچے سے نکل آئی اور رفیق اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر آگیا- درندے نے فرش پر گرے گرے ہی رفیق پر فائر کیامگر گولی دروازے میںدھنس گئی- رفیق نے باہر آتے ہی دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی تھی تاکہ درندہ باہر نہ نکل سکے-

”رفیق- یہاں سے کیسے نکلیں گے-“ ریما نے پوچھا-

”پہلے تو پنکی کو ڈھونڈنا ہے-“ رفیق بولا-

وہ دونوںبات کر ہی رہے تھے کہ انہیںپنکی کی چیخ سنائی دی- رفیق اس کمرے کی طرف دوڑا جس سے پنکی کے چیخنے کی آواز آرہی تھی- وہ کمرہ بند تھا اور باہر سے تالا لگا ہوا تھااور اس کی چابی قریب ہی پڑی ایک میز پر رکھی تھی-میز پر ایک خنجر بھی رکھا ہوا تھا- رفیق نے تالا کھولا اور خنجر اٹھا لیا-

رفیق اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ آدمی پنکی کو بری طرح سے مار رہا تھا-رفیق نے اس کی گردن پکڑ کر اسے پنکی سے دور پھینک دیا اور کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر خنجر اس آدمی کے سینے میں پیوست کر دیا-

”ریپ کرنا تیرا مشغلہ— تیرا نشہ ہے – کیوں— آج تیرا کھیل ختم-“ رفیق نے غراتے ہوئے کہا-

”رفیق وقت ضائع مت کرو-جلدی یہاں سے نکلو-“ ریما اس کا کندھا ہلاتے ہوئے بولی-

پنکی نے جلدی سے اپنے کپڑے پہن لئے- بھائی کے سامنے اس کی یہ حالت دوسری مرتبہ کی گئی تھی-

”تم دونوں اسی کمرے میں رکو اور اندر سے کنڈی لگا لو- میں اس درندے کا کام تمام کرکے آتا ہوں-“

”رفیق اس کے پاس بھی گن ہے- پلیز ابھی اسے چھوڑو اور یہاں سے نکلنے کی کرو-“ ریما نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”نہیں ریما- آج میں اسے مار کر ہی یہاں سے جاﺅں گا- اب وہ بچے گا نہیں-“

رفیق ہاتھ میں خنجر لئے اس کمرے کی طرف بڑھا جس میں اس نے درندے کو بند کیا تھا- اس نے دروازہ کھولا اور احتیاط سے اندر جھانکا تو چونک گیا- کمرے کے اندر کوئی نہیں تھا-

”ایسا کیسے ہو سکتا ہے- وہ درندہ کہاں غائب ہوگیا- کمرہ بھی باہر سے بند تھا-“

پھر رفیق نے وقت گنوانا مناسب نہیں سمجھا- اس کے ساتھ دو جوان لڑکیاں بھی تھیں- اس نے واپس آکر کمرے کا دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا- ”جلدی کھولو ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا-“

دروازہ ریما نے کھولا- ”کیا ہوا؟-“

”وہ درندہ کمرے میں نہیںہے- چلو جلدی نکلتے ہیں یہاں سے-“ ابھی رفیق نے یہ کہا ہی تھا کہ انہیں کسی کے قدموںکی آہٹ سنائی دی-

”کون ہے وہاں- اپنے ہاتھ اوپر کرو-“ باہر سے آواز آئی-

”ارے یہ تو ڈی ایس پی صاحبہ کی آواز ہے-“ رفیق نے کہا- پھر چیخ کر بولا- ”میں ہوں رفیق-“

شہلا کے ساتھ پوری پولیس فورس تھی-

”رفیق – تم ٹھیک تو ہو نا-“ شہلا نے پوچھا-

”ہاںمیں ٹھیک ہوں- لیکن آج پھر وہ درندہ ہاتھ سے نکل گیا— سپاہیوں کو چاروں طرف پھیلا دیں- وہ ضرور آس پاس ہی ہوگا-“ رفیق نے کہا-

چوہان تھوڑا پیچھے تھا اس لئے اپنی بہن کو نہیں پہچان پایا- مگر جب اس نے کمرے کے اندر قدم رکھا تو حیرت سے ششدر رہ گیا”ریما تم- تم یہاں کیا کر رہی ہو-“

بھائی کو وہاں دیکھ کر ریما کی تو جیسے جان ہی اٹک گئی اور وہ کچھ بول ہی نہیں پائی-

”سر ریما کو وہ درندہ اٹھا لایا تھا- اس لئے یہ یہاں ہے-“ رفیق نے بات کو سنبھالنے کی کوشش کی-

”تم کیسے جانتے ہو ریما کو؟-“ چوہان نے شک بھرے لہجے میں پوچھا-

”ہماری ٹرین میں ملاقات ہوئی تھی- آپ گھبرائیں مت- ہم صرف اچھے دوست ہیں-“

”کیا یہ ان باتوں کا وقت ہے- موقع کی نزاکت کو بھی سمجھا کرو کبھی-“ شہلا نے دونوں کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا-

”سوری میڈم-“ رفیق بولا-

چوہان اپنے دانت بھینچ کر رہ گیا- اس نے ریما کو غصے سے گھور کر دیکھا اور ریما نے ڈر کے مارے اپنی نظریں جھکا لیں-

”چوہان تم ایک پارٹی لے کر جنگل کو کور کرو- وہ درندہ یہیں کہیں ہونا چاہئے-“ شہلا نے حکم دیتے ہوئے کہا-

”اوکے میڈم-“ چوہان نے کہا اور رفیق پر ایک غصے بھری نظر ڈال کر باہر نکل گیا-

”میڈم میں نے درندے کو کمرے میں بند کر دیا تھا- مگر وہ وہاں سے پتہ نہیں کیسے غائب ہوگیا- چلیں اس کمرے کے جائزہ لیتے ہیں- کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس کمرے میں کوئی چور دروازہ ضرور ہے-“

”ہاں بالکل چلو-“ شہلا نے دو سپاہی لڑکیوں کے پا س چھوڑے اور رفیق کے ساتھ اس کمرے کی طرف بڑھی جس میں درندہ بند کیا گیا تھا- ان کے ساتھ چار گن مین بھی تھے-

وہ اندر آئے تو کمرہ ویسے ہی خالی تھا- ”ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ بند کمرے سے غائب ہوجائے- رفیق تمہارا اندازہ درست ہے کہ یہاں ضرور کوئی خفیہ راستہ یا سرنگ ہے- “ شہلا نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے کہا-

”جی میڈم- اس کے اس طرح غائب ہونے سے تو یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے-“ رفیق بولا-

”یہ بیڈ ایک طرف سرکاﺅ-“ شہلا نے سپاہیوں سے کہا-

بیڈ ایک طرف سرکایا گیاتو انہیں ایک خفیہ راستے کے آثار نظر آئے- ”یہ پتھر ہٹاﺅ-“ شہلا نے کہا-

جب پتھر ہٹایا گیا تو ان کا شک یقین میں بدل گیا- ”یہ کوئی سرنگ لگ رہی ہے- یا کوئی تہہ خانہ بھی ہوسکتا ہے-“

”میڈم آپ اپنی پستول مجھے دیں- میں نیچے جاکر دیکھتا ہوں-“ رفیق نے کہا-

رفیق نے شہلا سے پستول لیا اور ٹارچ جلا کراس چھوٹے سے دروازے سے اندر اتر گیا اور چاروں طرف ٹارچ کی روشنی ڈال کر بولا- ”میڈم یہ تو بہت بڑی سرنگ لگتی ہے-“

رفیق کے پیچھے پیچھے دو سپاہی بھی اندر گھس آئے-ان کے بیچ میں شہلا خود تھی- وہ سرنگ میں کافی آگے تک گئے لیکن انہیں درندے کا کوئی سراغ نہیں ملا- چلتے ہوئے وہ جنگل میں گھنی جھاڑیوں کے بیچ سے باہر نکلے-

”بہت ہی کائیاں ہے و ہ درندہ- کیا ٹھکانہ بنا رکھا ہے- جنگل میں یہ گھر کب اور کس نے بنایا ہوگا اور یہ زمین دوز راستہ-“ رفیق نے سوچا اور پلٹ کر اس نے شہلا سے پوچھا-” وہ جگہ جہاں سے ہم آئے ہیں کیا وہ زمین دوز ہے-“

” وہ جگہ ہمیں بہت مشکل سے ملی تھی- گھنی جھاڑیوں کے بیچ ایک چھوٹے غار میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جہاں ہم سب وہاں پہنچے-“

”مطلب یہ کہ ہمارا شک صحیح تھا کہ اس جنگل میں ہی کہیں گڑبڑ ہے-“رفیق نے سر ہلاتے ہوئے کہا-

”ہاں مگر وہ درندہ تو پھر ہاتھ سے نکل گیا-“ شہلا افسوس سے بولی-

”مجھ سے غلطی ہوگئی- مگر میں بھی کیا کرتا-میرا پورا دھیان ریما اور پنکی کو محفوظ رکھنے پر مرکوز تھا-“

شہلا نے گہری سانس لے کر کہا-”چلو اب اس بات کو جانے دو-“

ًپھر وہ اسی سرنگ کے راستے واپس کمرے میں پہنچ گئے- ان کمروں سے انہیں کوئی ایسا سراغ نہیں ملا جو درندے کی تلاش میں مدد فراہم کرتا- شہلا نے اس جگہ پر سیل لگوا دی-

”وہ شاید پولیس کی نفری دیکھ کر بھاگ گیا ہوگا-“ رفیق نے کہا-

”ہاں ایسا ہی لگتا ہے-“ شہلا بولی- اور پولیس پارٹی کو واپسی کا سگنل دے دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

جب چوہان ریما کو لے کر گھر پہنچا تو اس وقت رات کے دو بج رہے تھے- راستے میں اس نے ریما سے کوئی بات نہیں کی تھی- لیکن گھر میں گھستے ہی اس نے ریما کے منہ پر زور کا تھپڑمارا-”بتاﺅ کیا رشتہ ہے تمہارا اس رفیق مغل کے ساتھ- وہ کیسے جانتا ہے تمہیں؟-“

”ہم صرف اچھے دوست ہیں بھیا-“ ریما روتے ہوئے بولی-

”تم دونوں کی دوستی کب ہوئی-“

”کچھ دن پہلے ٹرین میںملا تھا مجھ سے جب میں بوا کے گھر سے واپس آرہی تھی-“

”اور اتنی جلدی وہ تمہارا دوست بھی بن گیا- میں نے تم کو اتنی آزادی دے رکھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دو-“ چوہان نے سخت لہجے میں کہا-

ریما سسکتی رہی لیکن کچھ بولی نہیں-

”دفعہ ہوجاﺅ میری نظروں کے سامنے سے- اب جلدہی تمہاری شادی کرکے یہاں سے دفعہ کردوں گا- اگلے ہفتے لڑکے والے تمہیں دیکھنے آجائیں گے-سمجھیں تم-“ چوہان نے جیسے فیصلہ سناتے ہوئے کہا-

”مگر بھیا ابھی تو میری تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی-میری پڑھائی ادھوری رہ جائے گی-“

”میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کون سے سبق پڑھ رہی ہو- جاﺅ اپنے کمرے میں- ایک دو مہینے کے اندر ہی تمہاری شادی ہوجائے گی- اپنے ذہن میں رکھنا یہ بات-“

ریما سسکتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی اور بستر پر گر کر رونے لگی- شادی کے نام سے ہی اس کا دل گھبرا رہا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق بھی پنکی کو لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا- راستے میں پنکی بتانے لگی کہ وہ درندہ کس طرح اسے جنگل میں لے آیا تھا-

”جب ہماری کار نسبتاً ایک سنسان جگہ پر پہنچی تو ایک کار نے ہماری کار کے آگے آکر ہمیں رکنے پر مجبور کر دیا- اس نے نقاب پہن رکھا تھا- ایک منٹ میں اس نے ڈرائیور کو گولی مار کر قتل کر دیا اور مجھے کچھ سنگھا کر بے ہوش کر دیا اور اس جنگل میں لے آیا-“

”اسی لئے میں تم کو یہاں سے دور بھیج رہا تھا- چلو خیر- جو ہوا اسے بھول جاﺅ- کل میں خود تم کو نوابشاہ چھوڑ آﺅں گا- اب اکیلے بھیجنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں-“ رفیق نے کہا-

اگلے دن صبح آٹھ بجے ہی رفیق پنکی کے ساتھ نوابشاہ کے لئے روانہ ہوگیا- اس نے آنے جانے کے لئے رینٹ کی کار بک کی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

وردا کے چاچا چاچی صبح کی گاڑی سے واپس چلے گئے تھے- چاچا کا ہسپتال میں اپائنمنٹ تھا اس لئے ان کا جانا ضروری تھا اور شوکت کو بھی ان کے ساتھ رہنا تھا- اور صورتحال ایسی تھی کہ آپریشن کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا- انہوںنے وردا کو بہت سمجھایا کہ وہ ان کے ساتھ چلی چلے مگر اس نے منع کردیا-

”میں اس گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاﺅں گی- یہاںامی ابو کی یادیں بسی ہیں- اور ویسے بھی بھاگنے سے فائدہ ہی کیا ہے- موت جہاںلکھی ہوگی وہیں آنی ہے کبھی نہ کبھی-“

صبح جب وہ جانے کے لئے نکلے تو وردا دروازے کا باہر تک انہیں الوداع کہنے آئی- اور ان کے جانے کے بعد جیسے وہ اندر داخل ہونے لگی تو پیچھے سے راجو نے اسے آواز دے کر روک لیا-

”وردا جی-“

وردا رک گئی اور پیچھے مڑ کر دیکھا- راجو اسی کی طرف آرہا تھا- ”کیسی ہیں آپ؟-“

”ابھی تو زندہ ہوں-“

”سمجھ میں نہیںآرہا کہ آپ کے لئے کیا کروں-“ راجو سخت الجھن کا شکار تھا-

”تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے-“ وردا نے سخت لہجے میں کہا اور اندر جاکر کنڈی لگا کر بلکنے لگی- ”تم نے کون سی کثر چھوڑی ہے مجھے پریشان کرنے کی-“

راجو چپ چاپ کھڑ ارہا- کر بھی کیا سکتا تھا- ”میں بھی پاگل ہوں- جب پتہ ہے کہ میری بات سے وہ پریشان ہوجاتی ہے تو پھر کیوں انہیں مزید پریشان کرتا ہوں-“ راجو واپس آکر جیپ میں بیٹھ گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

آج مراد صبح نو بجے ہی تیار ہوگیا تھا- اسے آج سحرش کے ساتھ گھومنے جو جانا تھا-

”ملنا کہاں ہے- اس بارے میں تو میں نے سحرش سے پوچھا ہی نہیں- کیا اسے لینے سیدھا اس کے گھر چلا جاﺅں-“ مراد نے سوچا- ”نہیں نہیں- نغمہ کوئی پنگا نہ کر دے- شاید سحرش وہیں بس اسٹاپ پر ہی ملے گی-“

اور جیسا مراد نے سوچا تھا سحرش اسے بس اسٹاپ پر ہی کھڑی مل گئی-مراد کو بائیک پر آتا دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی- مگر اگلے ہی پل وہ اداس بھی ہوگئی-

مراد اس کے پاس آکر بائیک روکتے ہوئے بولا- ”کیا بات ہے- پہلے تم مسکرائیں پھر چہرہ لٹکا لیا- کوئی مسئلہ ہے کیا؟-“

”ہاں- ابا کی طبیعت کل شام سے بہت خراب ہے- باجی اکیلی پریشان ہو رہی ہے- ایسے میں تمہارے ساتھ گھومنے کیسے جاﺅں-“

”اوہ تو اس میںپریشان ہونے کی کون سی بات ہے- پھر کبھی چلے چلیں گے گھومنے کے لئے- تم گھر جاﺅ اور اپنے ابا کا خیال رکھو-“ مراد بولا-

”کالج میں آج ایک اہم لیکچر ہے- وہ اٹینڈ کرکے آجاﺅں گی-“

”گڈ- آﺅ بیٹھو- تمہیں کالج چھوڑ دیتا ہوں- “

”نہیں میں چلی جاﺅں گی- تم ڈیوٹی پر لیٹ ہوجاﺅ گے-“ سحرش نے کہا-

”ہوجانے دو لیٹ- تمہیں کالج چھوڑے بغیر تو نہیںجاﺅں گا- بیٹھ جاﺅ نا پلیز- آج پھر اپنا سر رکھ لینا میرے کندھے پر- بہت اچھا لگا تھا کل جب تم نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھا تھا- بہت رومانٹک محسوس ہو رہا تھامجھے-“

”اچھا- وہ تو یونہی رکھ دیا تھا میں نے- سر میں درد ہو رہا تھا کل-“سحرش اٹھلا کر بولی-

”آج پھر ہوجائے گا- تم بیٹھو تو-“ مراد نے مسکرا کر کہا-

سحرش بیٹھ گئی اور جیسے ہی مراد بائیک لے کر آگے بڑھا سحرش نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا-

”ہوگیا سر میں درد؟-“ مراد نے شوخی سے پوچھا-

”ہاں- تمہیں کیسے پتہ؟-“

”کیونکہ جیسے محسوس ہو رہا تھا مجھے‘ ویسا ہی آج بھی محسوس ہو رہا ہے- اب کالج تک اپنا سر ہٹانا مت-“

”مراد- تمہیں برا تو نہیں لگا کہ میں نے آج تمہارے ساتھ گھومنے سے منع کر دیا-“

”پاگل ہوکیا- برا کیوں لگے گا- ویسے میرا دل بھی بہت خراب ہو رہا ہے کل سے- کل قبرستان گیا تھا وردا کے والدین کی تدفین میں- انتہائی ظالمانہ انداز سے قتل کیا گیا ہے انہیں -“

”آخر یہ درندہ پکڑا کیوں نہیں جاتا؟-“ سحرش نے پوچھا-

”وہ درندہ بہت چالاک ہے- مگر ایک نہ ایک پکڑا تو جائے گا- آخر کب تک بچے گا-“

”ہاں وہ تو ہے-“

باتوںباتوںمیں کالج آگیا اور گیٹ کے باہر سحرش اتر گئی-

”اپنا خیال رکھنا— کبھی سنسان راستوںسے مت گزرنا– ہمیشہ گروپ میں رہنے کی کوشش کرنا- سمجھ گئیںنا- اپنے لئے بھی او رمیرے لئے بھی-“ مراد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا-

”تمہارے لئے کیوں؟-“

”کیونکہ تم اب میری زندگی بن چکی ہو-“

”اب تم جاﺅ-“ سحرش نے شرماتے ہوئے کہا-

”سچ کہہ رہا ہوں- تم سچ میں میری زندگی بن چکی ہو- اب میں تمہارے بنا نہیںجی سکوں گا-“

”اچھا اچھا- ابھی تو جاﺅ ورنہ لیٹ ہوجاﺅ گے- میرے بھی لیکچر کا ٹائم ہونے والا ہے-“

”اوہ ہاں- تم نکلو- بائے-ٹیک کیئر-“

سحرش کے گیٹ سے اندر جانے کے بعد مراد نے بھی بائیک اسٹارٹ کی اور اپنے آفس کی طرف چل دیا- جب وہ آفس پہنچا تو اس کے کمرے کے باہر ایک خاتون کرسی پر بیٹھی تھی-

”آپ کی تعریف؟-“ مراد نے پوچھا-

”میرا نام روبینہ شاہ ہے- مجھے آپ کے باس نے ملنے کو کہا ہے- میں اسلم شاہ کی بیوی ہوں-“

”اوہ ہاں یاد آیا- پلیز کم ان-“ مراد نے کہا-

مراد کے پیچھے پیچھے روبینہ بھی کمرے کے اندر آگئی- اور مراد کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی- اس نے جینز اور ٹاپ پہنا ہوا تھا- ٹاپ کا گریبان ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کھلا تھا- شایدہوا کھانے کے لئے-نہ چاہتے ہوئے بھی مراد کی نظر اس طرف اٹھ گئی تھی-

”ایک نمبر کی ٹھرکی خاتون لگتی ہے مجھے- جان بوجھ کر ایسا لباس پہنتی ہے شاید تاکہ لوگ اس کی طرف متوجہ رہیں- صبح صبح اسے ہی آنا تھا آفس میں‘ نیت خراب کرنے-“ مراد نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا-

”آپ کے باس نے تو آپ کو سب کچھ بتا ہی دیا ہوگا-“ روبینہ نے پوچھا-

”جی ہاں- بتا دیا ہے- توآپ کو شک ہے کہ آپ کے شوہر کے کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں- اور آپ کو ثبوت چاہئے تاکہ آپ طلاق کے لئے کورٹ میں جا سکیں- یہی نا-“

”جی ہاں-“

”ٹھیک ہے- آج سے آپ کا کام شروع ہوجائے گا-“ مراد نے کہا-

”مجھے ٹوٹل کتنی پیمنٹ کرنی ہوگی-“ روبینہ نے پوچھا-

”اس کے بارے میں آپ باس سے ہی بات کرلیں- وہ میرا مسئلہ نہیں ہے-“ مراد نے مسکراتے ہوئے کہا-

”تھینک یو ویری مچ- مجھے جلد سے جلد کچھ ثبوت چاہئیں- میں مزید اس وحشی کے ساتھ نہیں رہ سکتی- آپ میرا لباس دیکھ رہے ہیں- بہت ہیجان خیز ہے نا-“

مراد کی سمجھ میںنہیںآیا کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے- ”کیا مطلب؟-“

”میرا شوہر مجھے ایسے ہی ہیجان خیز لباس پہناتا ہے- جب لوگ مجھے ایسے لباس میں گھور گھور کر دیکھتے ہیں تو اسے بہت اچھا لگتا ہے- یہ ٹاپ جو آپ دیکھ رہے ہیں- کل ہی لے کر دیاہے انہوںنے- انہی کی چوائس کے مطابق لباس پہننا ہوتا ہے مجھے-“ روبینہ نے اپنے لباس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا-

”اوہ – ویری بیڈ اینڈ ویری سیڈ-“

”میں نے آپ کو یہ سب اس لئے بتایا ہے کہ میں محسوس کر رہی تھی کہ آپ کی نظریں کہاںگڑی ہوئی تھیں اور شاید میرے بارے میں الٹے سیدھے خیالات بھی سوچ رہے تھے- مگر میرے پاس ایسا لباس پہننے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا- مجھے ان سے طلاق چاہئے- اور بنا ثبوت کے طلاق نہیں ملے گی-یوں تو ان کے کئی عورتوں کے ساتھ تعلقات ہیں لیکن زیادہ تر وہ کومل کے ساتھ رہتے ہیں- آپ چھان بین کریں گے تو سب کچھ جان جائیں گے- اچھا اب میںچلتی ہوں-“ یہ کہہ کر روبینہ اٹھی اور باہر نکل گئی-

مراد تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا- ”کتنا عجیب کہہ گئی ہے- کیا ایسا ہوسکتا ہے- شاید ہو بھی سکتا ہے- ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہیں اس دنیا میں-“

مراد اپنے خفیہ آلات لے کر اس مشن پر نکل گیا- ایک تو بڑا کیمرہ تھا اس کے پاس جو گلے میں لٹکا ہوا تھا- ایک پین میں اسپائی کیمرہ تھا جو کسی کو نظر نہیں آتا تھا-

مراد نے جب معلومات حاصل کیں تو اسے پتہ چلا کہ روبینہ نے جو کہا بالکل صحیح تھا- اسلم شاہ بہت امیر کبیر آدمی تھا- اس کے پاس پیسے کی ریل پیل تھی- اور اس نے بہت سارے مشغلے پال رکھ تھے- وہ زیادہ تر کومل کے ساتھ ہی ملتا جلتا تھا- مراد نے کومل کا ایڈریس معلوم کیا اور سیدھا اس کے گھر پہنچ گیا- وہ ایک بڑے سے فلیٹ میں بالکل اکیلی رہتی تھی- اور یہ تو کوئی پوچھنے کی بات ہی نہیں تھی کہ یہ فلیٹ اسے اسلم شاہ نے گفٹ کیا تھا- دروازے پر پہنچ کر اس نے بیل بجانے سے پہلے کان لگا کر اندر کی سن گن لی تو اسے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں- آوازیں کچھ اس طرح کی تھیں جیسی مرد و عورت کے مخصوص لمحات میں ہوتی ہیں-

مراد تالے کھولنے کا ماہر تھا- اس نے آہستگی کے ساتھ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا-مراد دبے قدموں اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں سے آوازیں آرہی تھیں- کمرے کا دروازہ پورا بند نہیں تھا- شاید صدر دروازہ بند ہونے کی وجہ سے انہوں نے اسے بند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی-

مراد نے اندر جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گیا- اندر کومل کے ساتھ اسلم شاہ نہیں بلکہ اس کا چھوٹا بھائی انور شاہ تھا- روبینہ نے مراد کو اپنے خاندان کے افراد کی تصویریں فراہم کر دی تھیں جس کی وجہ سے اسے انور شاہ کو پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی-

”بھیا کی فیوریٹ داشتہ کے ساتھ وقت گزارنے کا مزا ہی کچھ اور ہے-“ انور شاہ نے کہا-

مراد وہاں سے جانے ہی والا تھا کہ اسے اپنے پیچھے کچھ آہٹ سنائی دی- اس نے مڑ کر دیکھا ایک لڑکی عریاںحالت میں اس کی طرف بڑھ رہی تھی- لڑکی نے اشارے سے پوچھا کون ہو تم؟-“

مراد کچھ گھبرا گیا پھر اس نے لڑکی کے پاس آکر کہا- ”کومل سے ملنے آیا تھا- مگر وہ ابھی مصروف ہیں- بعد میں آﺅں گا-“

”میں تو مصروف نہیں ہوں- مجھے بتا دیں- کیا بات ہے؟-“

”آپ کون ہیں؟-“ مراد نے اسے اوپر سے نیچے تک تاڑتے ہوئے کہا-

”میرا نام تبسم ہے-“ اس لڑکی نے کہا اور مراد سے لپٹ گئی-

”دیکھیں میں اس کام سے نہیں آیا تھا-“ مراد اس اچانک گلے پڑنے والی افتاد سے گھبرا گیا تھا-

”کوئی بات نہیں- اب آئے ہو تو یہ کام بھی ہوجائے-“

”مجھے تو معاف ہی رکھیں-“ مراد اسے جھٹک کر تیزی سے باہر آگیا-

”اف کیا مصیبت ہے- انویسٹی گیشن میں بھی کیسی کیسی مصیبتیں گلے پڑ جاتی ہیں- “مراد وہاں سے فوراً نکل گیا-

مراد کے جانے کے بعد تبسم اس بیڈ روم میں گھس گئی جس میں انور شاہ اور کومل موجود تھے-

”تبسم – تم کہاں گھوم رہی ہو- چلو آﺅ کومل کا ہاتھ بٹاﺅ-“ انور شاہ نے کہا-

”اگر تمہارے بھیا کو پتہ چل گیا نا تو وہ ہمارا خون پی لے گا-“ تبسم نے مسکراتے ہوئے کہا-

”بھیا تو آج کل اپنی ہی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں- انہیں کچھ پتہ نہیں چلے گا-“

تبسم مٹکتی ہوئی ان کے پاس آگئی اور کمرے میںطوفان مچنے لگا-

مراد لفٹ سے نکلا او رپارکنگ میں آکر اپنی بائیک اسٹارٹ ہی کر رہا تھا کہ اسے ایک بلیک اسکارپیو پارکنگ میں داخل ہوتی نظر آئی- اس میں سے اسلم شاہ اترا اور لفٹ کی طرف بڑھ گیا-

”آج تو پکا اس فلیٹ میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہونے ہی والی ہے-“ مراد نے دل میں سوچا-

اسلم شاہ کے پاس ماسٹر چابی تھی- وہ تالا کھول کر سیدھا بیڈ روم کی طرف بڑھا- جب وہ اندر داخل ہوا تو انور شاہ کے ساتھ کومل اور تبسم نڈھال پڑی تھیں-

”بہت خوب-“ اسلم شاہ نے کہا- اور اس کی آواز نے کمرے میں جیسے بم کا کام کیا-

”اسلم-“ کومل اور تبسم نے ایک ساتھ کہا اور اچھل کر رہ گئیں-

اسلم شاہ نے اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ریوالور نکال کے کومل پر تان لیا-

”اسلم پلیز— میری بات-“اس سے آگے وہ کچھ نہیں بول پائی کیونکہ گولی اس کی کھوپڑی کے پار ہوگئی تھی- ریوالور پر سائیلنسر لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے صرف کارک کھولنے جیسی آواز آئی تھی-اسلم شاہ غضب کا نشانے باز لگتا تھا-

”بھیا پلیز-“ انور شاہ گڑگڑایا-

اسلم شاہ نے کومل کو گولی مارنے کے بعد تبسم کا نشانہ لیا-

”نہیں اسلم- میری بات-“ اور بات اس کی بھی پوری نہ ہوسکی- اسلم شاہ نے اس کے سر میں بھی روشندان کھول دیا تھا-

”چل نکل یہاں سے- ورنہ تجھے بھی مار ڈالوں گا-“ اسلم شاہ نے کہا اور انور شاہ اپنے کپڑے لے کر چپ چاپ وہاں سے نکل گیا- اس کے بعد اسلم شاہ نے بھی فلیٹ لاک کیا اور لفٹ سے نیچے آگیا-

دونوں بھائیوں کے چلے جانے کے بعد مراد دوبارہ فلیٹ میں داخل ہوا- جب وہ بیڈ روم میں پہنچا تو اسے زیادہ حیرت نہیں ہوئی- کیونکہ وہ کسی ایسے ہی منظر کی توقع کر رہاتھا-

” دونوں کو مار دیا اس نے-تو پھر اپنے بھائی کو کیوں نہیں مارا-“ مراد نے سوچا- مراد نے زیادہ دیر وہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا اور فلیٹ لاک کر نیچے آگیا- اور موبائل نکال کر رفیق کو ساری بات بتا دی-

”دونوں لڑکیوں کو اس نے گولی مار دی ہے- اور اس کے پاس بلیک اسکارپیو بھی ہے-“

”مجھے پتہ ہے کہ اس کے پاس بھی بلیک اسکارپیو ہے- میں ابھی نوابشاہ سے نکل چکا ہوں- اپنی بہن کو یہاں چھوڑنے آیا تھا- ایک ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچ جاﺅں گا پھر دیکھتا ہوں کہ کیا ماجرا ہے-“ رفیق نے کہا-

دو گھنٹے بعد جب رفیق اس فلیٹ پر پہنچا تو اسے وہاں کوئی لاش نہیں ملی- مراد بھی اس کے ساتھ تھا-

”سر میں نے اپنی آنکھوں سے ان دونوں لڑکیوں کی لاشیں دیکھی تھیں- “

”اس کا مطلب ہے کہ اس نے اس عرصے میں دونوںلاشیں غائب کردیں- اس واردات کے بعد اسلم شاہ ہمارا مرکزی مہرہ بن گیا ہے-“

”بالکل سر- اور میں نے بتایا نا کہ اس کے پاس بلیک اسکارپیو بھی ہے-“اور مراد نے رفیق کو روبینہ کی کہی ہوئی باتیں بھی بتا دیں-

”یہ سب سن کر تو اسلم شاہ ہی وہ درندہ لگتا ہے-“ رفیق نے کہا-

رفیق کو اس فلیٹ میں قتل جیسی کسی واردات کا کوئی سراغ نہیں ملا-

”مراد- تمہارے پاس اسلم شاہ اور اس کے بھائی کی تصویریں ہیں نا؟-“

”جی ہاں ہیں-“

”ان کی ایک ایک کاپی بنوا کر مجھے دے دو- وردا سے شناخت کروالیتا ہوں- یہ دونوں بھائی مجھے سنکی لگتے ہیں-“

راستے میں مراد نے تصویروں کی ایک ایک کاپی کروا کر رفیق کو دے دی-

”اسلم شاہ سے بعد میں ملوں گا- پہلے یہ تصویریں وردا کو دکھا دوں-“

”اوکے- جیسا آپ بہتر سمجھیں-“ مراد نے کہا-

رفیق وہ تصویریں لے کر سیدھا وردا کے گھر پہنچا اور وہاں وہ تصویریں راجو کو دیتے ہوئے کہا- ”یہ تصویریں وردا کو دکھا دو اور پوچھو کہ کیا ان میں سے کوئی درندہ ہے-“

”سر وہ ابھی بہت پریشان ہیں- کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتیں-“ راجو بولا-

”میں اس کی حالت کو سمجھ رہا ہوں- مگر ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھ سکتے نا- تم کوشش تو کرو- ہوسکتا ہے وہ مان جائے- اسے بس یہ تصویریں دیکھ کر ہاں یا نا میں ہی جواب دینا ہے-“

راجو تصویریں لے کر گھر کے دروازے کی طرف بڑھا- اس وقت رات کے دس بج رہے تھے- راجو کو بیل بجاتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا تھا- مگر اس نے بیل بجا ہی دی- وردا نے دروازہ کھول کر پھاڑ کھانے والے لہجے میںپوچھا-

”اب کیا ہے؟-“

”رفیق صاحب کچھ تصویریں لائے ہیں- دیکھ لیں ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی درندہ ہو-“ راجو نے تصویریں وردا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا-

وردا نے تصویریں پکڑیں اور غور سے دیکھنے لگی- اسلم شاہ کی تصویر دیکھتے ہوئے وہ کچھ کنفیوز سی ہوگئی تھی- رفیق دور سے وردا کے ردعمل کو جانچ رہا تھا- وردا کو کنفیوز دیکھ کر وہ نزدیک آگیا-

”کیا ہوا وردا—کیا یہی درندہ ہے؟-“

”میں ٹھیک سے کچھ کہہ نہیں سکتی- مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے اب میں اس کا چہرہ بھول چکی ہوں-“

”کیا- ایسا کیسے ہوسکتا ہے-“ رفیق نے چونکتے ہوئے کہا-

”مجھے جو لگا میں نے بول دیا- ویسے بھی اس وقت سے میں سخت خوف کی حالت میں ہوں- پہلے اس کا چہرہ مجھے ہلکا ہلکا یاد تھا مگر اب سب دھندلا گیا ہے-“

”اوہ نو وردا- اگر ایسا ہے تو اب ہمارا کام او ربھی مشکل ہوجائے گا-“ رفیق اپنا ماتھا رگڑتا ہوا بولا-

”میرا ذہن میرے بس میں نہیں ہے- سب کھو گیا ہے- بکھرگیا ہے- اب انتظار ہے تو صرف اس بات کا کہ وہ درندہ آکر مجھے بھی مار کر اس زندگی سے چھٹکارا دلا دے-“ یہ کہہ کر وردا نے دھڑ سے دروازہ بند کر لیا-

راجو اور رفیق ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے-

”اب کیا ہوگا سر-“

”وردا اس وقت شدید ذہنی صدمے کی حالت میں ہے- ایسے میں یادداشت کا کمزور ہوجانا ممکن ہے- ویسے بھی اس نے درندے کی ایک جھلک ہی تو دیکھی تھی- کوئی بات نہیں- اب کچھ اور سوچنا پڑے گا-“

وہ دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک کار آکر رکی اور اس میں سے ایک آدمی اتر کر گھر کی طرف بڑھا ‘ مگر گن مین نے اسے روک لیا- راجو اور رفیق اس کے پاس آگئے-

”کس سے ملنا ہے آپ کو؟-“ رفیق نے پوچھا-

”مجھے وردا سے ملنا ہے-“

”کیوں ملنا ہے؟-“

ِِ”وہ میری بیوی ہے -اور آپ کو بتانا ضروری نہیں ہے کہ کیوں ملنا ہے-“

”کیا؟-“ وردا کے شوہر کو دیکھ کر راجو اور رفیق حیرت میں پڑ گئے تھے-دونوں دیکھتے رہ گئے اور وہ گھر کی طرف بڑھ گیا-

”ایک منٹ- تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم ہی وردا کے شوہر ہو-“ رفیق نے اسے روکتے ہوئے پوچھا-

”وردا خود ہی بتا دے گی- اس سے مل تو لینے دو-“

”ٹھیک ہے- آﺅ-“

سلیم‘ راجو اور رفیق کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھا- بیل رفیق نے بجائی-

”اب کیا ہے- کیوں پریشان کر رہے ہو مجھے-“ وردا نے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ کھولا-

”کیسی ہو وردا؟-“ سلیم نے پوچھا-

وردا نے کوئی جواب نہیں دیا-

”وردا کیا یہ تمہارا شوہر ہے-“ رفیق نے وردا سے پوچھا-

”شوہر ہے نہیں- شوہر تھا- چلو جاﺅ یہاں سے- مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے-“ یہ کہہ کر وردا نے دروازہ بند کر دیا-

”وردا رکو-“ سلیم چلا کر دروازہ پیٹنے لگا-

”بہت خوب- وردا کے والدین کی موت کے بعد اب ساری جائیداد کی تنہا مالک وردا ہے- اور تم نے سوچا کہ تمہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ مل سکتا ہے- ہے نا-شوکی ٹھیک ہی کہتا تھا کہ تم بہت خودغرض ہو- اور تمہاری ہر بات میں کوئی نہ کوئی غرض چھپی ہوتی ہے-“ رفیق نے طنزیہ لہجے میں کہا-

”ایسی کوئی بات نہیں ہے- میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں- ہمارے درمیان کچھ الجھاﺅ ہیں مگر ہم مل بیٹھ کر اسے سلجھا سکتے ہیں-“ سلیم نے کہا-

”سلجھا لینا- مگر ابھی تو یہاں سے دفعہ ہوجاﺅ- ہم سب یہاں وردا کو تحفظ دینے کے لئے موجود ہیں- میں یہاں کوئی تماشہ نہیں چاہتا- وہ ابھی تم سے بات نہیں کرنا چاہتی- تم اگر چاہو تو بعد میں ٹرائی کرسکتے ہو مسٹر خودغرض-“

ِِ”میرا نام سلیم ہے اور میں خودغرض نہیں ہوں-“

”مگر ابھی جو تم یہاں آئے ہو تو اس میں تمہاری غرض ہی جھلکتی ہے- واہ- وردا کے لئے اچانک تمہارے دل میں محبت جاگ اٹھی ہے-یہ وردا کی محبت ہے یا اس کو ملنے والی جائیداد کی محبت- بڑی دیر میں جاگی ہے تمہاری یہ محبت-“ رفیق کے لہجے میں طنز ہی طنز تھا- جبکہ راجو خاموش تماشائی کی طرح سب سن رہا تھا-

”میں یہاں کسی کی بکواس سننے نہیں آیا- چاہے وہ کوئی وردی والا ہی کیوں نہ ہو- میں بعد میں وردا سے مل لوں گا- یہ میرے اور وردا کے بیچ کی بات ہے تم اس میں اپنی ٹانگ اڑانے کی کوشش مت کرو-“ لگتا تھا سلیم پولیس کی وردی سے ذرا بھی مرعوب نہیں ہوا تھا-

”سر ٹھیک کہہ رہے ہیں- چلے جاﺅ یہاں سے ورنہ انکاﺅنٹر کرکے یہیں ختم کر دوں گا-“ راجو نے بھی بیچ میں اپنی ٹانگ اڑا ہی دی-

”دیکھ لوں گا تم دونوں کو-“ سلیم پاﺅں پٹختے ہوئے وہاں سے چلا گیا-

”راجو تمہیں پوری ہوشیاری کے ساتھ وردا کا تحفظ کرنا ہے- جب تک درندہ پکڑا نہیں جاتا ہمیں ہر پل چوکس رہنا ہوگا-“یہ کہہ کر رفیق چیپ میں بیٹھا اور تھانے کی طرف روانہ ہوگیا-

راستے میں رفیق نے موبائل نکالا اور اپنی بہن کا نمبر ملایا مگر لائن نہیں مل رہی تھی- ”یہ پنکی کا فون کیوں نہیں مل رہا-“ وہ بڑبڑایا- اس نے ایک بار پھر ٹرائی کی اور اس بار نمبر مل گیا-

”ہیلو پنکی – کیسی ہو میری گڑیا-“

”ٹھیک ہوں بھیا-“

”دیکھو آج کل کا ماحول ٹھیک نہیں ہے- تم زیادہ ادھر ادھر جانے سے پرہیز کرنا- گھر پر ہی رہا کرو-“ رفیق نے کہا-

”جی بھیا- میں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی ہوں- آپ بھی اپنا خیال رکھنا-“

پنکی کو فون کرنے کے بعد رفیق نے ریما کو فون ملایا-

”ہائے جان من کیسی ہو- اب تو تمہارے بھیا کو پتہ چل گیا ہے- اب ہم کیسے ملیں گے-“ رفیق نے شوخی سے کہا-

دوسری جانب ریما نہیں بلکہ چوہان نے فون ریسیو کیا تھا- یہ سنتے ہی وہ پاگل سا ہوگیا اور مغلظات بکنے لگا- ”سالے کتے- کمینے- رکھ فون- میں ابھی تھانے آرہا ہوں- آج تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا-“

چوہان کی آواز سن کر رفیق کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا- بات ہی کچھ ایسی تھی-

”اب تھانے جانا مناسب نہیں ہے- میری پرائیویٹ بات سن لی سالے نے- بہتر ہے کہ اسلم شاہ کی خبر لیتا ہوں-“ رفیق نے دل میں سوچتے ہوئے فیصلہ کیا-اور جیپ کا رخ اسلم شاہ کے گھر کی طرف موڑ دیا- بیل کے جواب میں ایک ملازم نے دروازہ کھولا-

”جی بولیں-“

”اسلم شاہ صاحب گھر پر ہیں؟-“

”جی ہاں- ہیں-“

”ان سے کہو کہ انسپیکٹر رفیق مغل آیا ہے- کچھ تفتیش کرنی ہے-“ رفیق نے کہا

”آپ نے پہلے سے اپائنٹمنٹ لی ہے کیا؟-“ ملازم نے پوچھا-

”کیا بکواس کر رہے ہو- میں پولیس انسپیکٹر ہوں- اس سے ملنے کے لئے مجھے کسی اپائنٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے- اس سے کہو کہ مجھ سے مل لے- ورنہ یہاں سے گھسیٹتا ہوا تھانے لے جاﺅں گا-“ رفیق کو غصہ آگیا تھا ملازم کی بات سن کر-ملازم چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد اسلم شاہ خود دروازے پر آیا- اس کے چہرے پر غصہ اور ناگواری کا تاثر تھا-

”تمہاری ہمت کیسے ہوئی بغیر اجازت میرے دروازے تک آنے کی-“

”زیادہ بکواس مت کرو- یہ بتاﺅ کہ کومل اور تبسم کہاں ہیں-“ رفیق نے چھوٹتے ہی پوچھا-

”کون کومل اور کون تبسم- میں انہیں نہیں جانتا-“

”اچھا- جب تھانے لے جا کر پولیس کی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کروں گا نا تو سب یا دآجائے گا-“ رفیق نے اپنی پولیس گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

اسلم شاہ نے اچانک ہی پستول نکال کر رفیق کے سر پر فائر کیا لیکن رفیق اس کے لئے پہلے سے ہی تیار تھا- وہ فوراً نیچے جھک گیا اور اسلم شاہ کو دبوچ کر اپنی پستول اس کے سر سے لگا دی-

”باقی کی باتیں تو ہوتی رہیں گی- فی الحال تو تمہیں ایک پولیس انسپیکٹر پر گولی چلانے کے جرم میں گرفتار کر رہا ہوں-“ رفیق نے دانت بھینچتے ہوئے کہا-اور اسے پکڑ کر تھانے لے آیا-

”انسپیکٹر- بہت بڑی غلطی کر رہے ہو تم— تمہیں برباد کرکے رکھ دوں گا میں-“

”ابھی تو تم میری نہیں اپنی فکر کرو – اور ہاں ڈرائنگ روم کی سیر کرنے کے لئے تیار ہوجاﺅ- ڈنڈا لے کر آرہا ہوں میں- پھر دیکھتا ہوں تم کتنی سخت چمڑی کے ہو-“

”تمہیں ایسی موت دوں گا کہ تم بھی یاد رکھو گے-“

”مرنے کے بعد کیا یاد رکھوں گا- ابھی تو اندر تمہارے ساتھ جو ہوگا تم وہ یاد رکھنا-“ رفیق نے اسلم شاہ کو لاک اپ میں ڈال کر تالا لگا دیا-

”بیس منٹ ہیں تمہارے پاس- یہ یاد کرنے کے لئے کہ کومل اور تبسم کون تھیں اور انہیں مار کر کہاں غائب کر دیا ہے تم نے- اگر بیس منٹ میں یاد نہیں کر پائے تو پھر مجھ سے شکایت مت کرنا کہ ڈنڈا کیوں مار رہا ہوں تمہاری پرائیویٹ بیٹھک پر-“ یہ کہہ کر رفیق وہاں سے ہٹ گیا- اور اسلم شاہ دانت پیستا رہا-

رفیق جیسے ہی اپنی کرسی پر بیٹھا- بھولو بھاگتا ہوا اندر آیا-

”سر – ابھی ابھی چوہان صاحب آئے تھے- آپ کا پوچھ رہے تھے- بہت غصے میں لگ رہے تھے-“

”ابھی بھی وہ تھانے میں ہے کیا؟-“ رفیق نے پوچھا-

”نہیں- وہ جا چکے ہیں-“

”چوہان سے تو میں بعد میں نمٹ لوں گا- تم ایسا کرو کہ پولیس ریکارڈ چیک کرو- اسلم شاہ کاکوئی نہ کوئی تو پولیس ریکارڈ ہوگا-“

”اوکے سر- ابھی چیک کرتا ہوں-“بھولو کمرے سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی-

”کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ نے اسلم شاہ کو کیوں گرفتار کیا ہے-“ خاتون نے پوچھا-

”آپ کون ہیں؟-“ رفیق نے پوچھا-

”میں شہناز مرزا ہوں- اسلم شاہ کی وکیل-“

”وہ قاتل ہے- اس نے ایک نہیں بلکہ دو دو خون کئے ہیں- یہ وجہ کافی ہے اسے گرفتار کرنے کی-“

”اس کا اریسٹ وارنٹ دکھائیں-“ وکیل تو پھر وکیل ہی ہوتے ہیں-

”اس نے مجھ پر فائر کیا تھا- اس لئے اٹھا لایا اسے-“

”یہ غیرقانونی عمل ہے انسپیکٹر-“

رفیق کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا- شہلا کا نمبر تھا-

”یس میڈم؟-“ رفیق ادب سے بولا-

”رفیق- کیا تم نے اسلم شاہ کو گرفتار کیا ہے؟-“

”یس میڈم-“

”کیوں- تم اریسٹ وارنٹ کے بغیر اسے کیسے گرفتار کر سکتے ہو-“ شہلا نے کہا-

”میڈم- اس نے مجھ پر فائر کیا تھا-“ رفیق نے بتایا-

”اوہ-“

”اس لئے مجھے اس کو اسی وقت گرفتار کرنا پڑا-“

”فی الحال اسے چھوڑ دو- ابھی چیف منسٹر صاحب نے مجھے فون کیا تھا- اسے دوبارہ پکڑ لینا مگر پورے قانونی عمل کے ساتھ-“

فون رکھنے کے بعد رفیق نے بھولو کو آواز دی-

”جی سر-“

”اسلم شاہ کو چھوڑ دو-“

”اوکے سر-“ ظاہر ہے وہ وجہ کیسے پوچھ سکتا تھا-

”وکیل صاحبہ اب تو خوش ہیں آپ- مگر امید ہے کہ جلد ہی دوبارہ ملاقات ہوگی- میں اسلم شاہ کو اس کے گھر سے گھسیٹتا ہوا لاﺅں گا – اور وہ بھی اریسٹ وارنٹ کے ساتھ-“

”تب کی تب دیکھی جائے گی-“ شہناز مرزا نے کہا-

اتنے میں بھولو ‘ اسلم شاہ کو اندر لے آیا-

”کیا ہوا مغل صاحب- نکل گئی ساری ہیکڑی- “ اسلم شاہ طنزیہ لہجے میں بولا-

”ہا ہا ہا ہا— ہیکڑی تو تمہاری نکلی ہے بیٹا- مجھے ثبوت مل جانے دو- گھسیٹتا ہوا واپس یہیں لاﺅں گا تمہیں-“ رفیق اسے گھورتا ہوا بولا-

”وہ بعد کی بات ہے- لیکن میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ اب تم ڈرائنگ روم کی سیر کس کو کراﺅ گے- میرا خیال ہے اکیلے ہی کر لینا- اپنا ڈنڈا‘ اپنی بیٹھک ہا ہا ہا-“ اسلم شاہ نے اسے چڑاتے ہوئے کہا اور رفیق تلملا کر رہ گیا-

”چلیں شاہ صاحب-“ وکیل نے کہا-

دونوں تھانے سے باہر آگئے-

”سالے نے سارا موڈ خراب کر دیا- اب تمہیں ہی میرا موڈ ٹھیک کرنا ہوگا-“

”سر مجھے تو ابھی کے ابھی ایک کیس کے سلسلے میں اسلام آباد کے لئے روانہ ہونا ہے- بس آپ کی وجہ سے رک گئی تھی-“

یہ سنتے ہی اسلم شاہ نے اس کے بال پکڑلئے- ”سالی بہانے بناتی ہے- تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میرا موڈ کبھی بھی ہوسکتا ہے اور تمہیں میرے لئے ہر وقت حاضر رہنا ہوگا-“

”آہ ہ ہ ہ – سوری سر- پلیز بال تو چھوڑیں-“ شہناز کراہتی ہوئی بولی-

”چلو بیٹھو اپنی کار میں- تمہارے ساتھ ہی چل رہا ہوں اور ڈرائیو میں خود کروں گا- آئندہ میرے سامنے بکواس کرنے سے پہلے سوچ لیا کرنا-“ اسلم شاہ نے اسے کار کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا-

شہناز خاموشی سے اپنی کار میں بیٹھ گئی اور اسلم شاہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے کار آگے بڑھا دی-

”تم نے آنے میں اتنی دیر کیوں کی- تم جانتی ہو نا کہ مجھے لاپرواہی بالکل پسند نہیں ہے-“ اسلم شاہ ابھی بھی غصے میں تھا-

”سر جیسے ہی میڈم نے فون کیا میں فوراً تھانے پہنچ گئی تھی-“

”وہ سالی تو چاہتی ہی یہ ہے کہ میں جیل چلا جاﺅں- مجھ سے چھٹکارا چاہتی ہے ہو- مگر مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے- یہ تو اب تم بھی اچھی طرح سمجھ گئی ہوگی-“ اسلم شاہ نے کہا-

”سر آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں-“

”اپنے گھر-“

”مگر گھر پر تو میڈم بھی موجود ہیں؟-“

”تو ہونے دو- آج اس کے سامنے ہی کھیلیں گے- دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے-“ تھوڑی ہی دیر میں کار اسلم شاہ کے شاندار بنگلے کے پورچ میں آکر رک رہی تھی-

اسلم شاہ کو دیکھتے ہی روبینہ اس کے پاس آئی اور بولی -”سب ٹھیک تو ہے نا-“

”اپنا یہ ڈرامہ رہنے دو اور جلدی سے بیڈ روم میں آجاﺅ-“ اسلم شاہ نے حکم دیتے ہوئے کہا اور شہناز کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ روم کی طرف لے جانے لگا- روبینہ حیرت سے یہ ماجرا دیکھتی رہی- جاتے جاتے شہناز نے مڑ کر دیکھا اور دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائیں- روبینہ سمجھ گئی کہ اسلم شاہ اسے زبردستی لایا ہے- یہی کچھ سوچتے ہوئے وہ بھی ان کے پیچھے بیڈ روم میں آگئی-

”آپ کیا کرنا چاہتے ہیں-“ روبینہ نے پوچھا-

”چپ چاپ صوفے پربیٹھ جاﺅ اور شہناز سے کچھ سبق حاصل کرو- اسے پتہ ہے کہ ایک مرد کو کیسے خوش کیا جاتا ہے- تم بھی سیکھ لو-“

شہناز چپ کھڑی رہی جبکہ یہ سن کر روبینہ کو اپنے کانوں کی لوئیں تپتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھیں-

”کھڑی کھڑی سوچ کیا رہی ہو-“ اسلم نے شہناز سے کہا- ”چلو آجاﺅ اور میری بیوی کو دکھا دو کہ تم میں کتنا ٹیلنٹ ہے مجھے خوش کرنے کا-“

”سر ان کے سامنے میں کیسے؟-“ شہناز نے جھجھکتے ہوئے کہا-

روبینہ وہاں سے جانے لگی تو اسلم نے اس کا بازو پکڑ لیا- ”شہناز کی مہارت دیکھے بنا تم یہاں سے نہیں جاﺅ گی-“ یہ کہہ کر اسلم نے روبینہ کو صوفے پر دھکیل دیا-”اگر تم یہاں سے ہلیں تو یہ تمہارا آخری دن ہوگا-“ اس کے لہجے کی گہرائی کو سمجھ کر روبینہ اندر تک تھرا کر رہ گئی-

روبینہ اور شہناز کی نظریں پھر ٹکرائیں- دونوں کی آنکھوں میں کئی سوالات تھے‘ جن کے جواب دونوں میں سے کسی پاس نہیں تھے-

پھر اپنی بیوی کے سامنے ہی اسلم شاہ نے شہناز مرزا کو استعمال کرنا شروع کر دیا – روبینہ یہ سب نہیں دیکھ پائی اور اپنی آنکھیں بند کرلیں- جب اسلم شاہ کے حیوانی جذبوں کو تسکین ملی تو اس نے شہناز کو دھکا دیتے ہوئے کہا-

”چلو اب دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے- تمہیں شرم نہیں آتی ایک بیوی کے سامنے اس کے شوہر کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے- جاﺅ جہاں جانا ہے- اسلام آباد جا رہی ہو نا- جاﺅ وہاں بھی تیرے بہت چاہنے والے موجود ہیں- میں سب جانتا ہوں-“

شہناز اپنا لباس درست کرتی ہوئی تیزی سے باہر نکل گئی- اور باہر آکر اس کے منہ سے اسلم شاہ کے لئے گالیوں کا پٹارہ کھل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے