سر ورق / افسانہ / دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر .. امین صدرالدین بھایانی

دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا منظر .. امین صدرالدین بھایانی

 

وہ تیرہ چودہ سالہ بچہ نجانے کب سے اُن اندھیری اور ویران تنگ گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ کچھ تلاش کر رہا ہو۔ کبھی وہ ایک گلی میں جاتا اور سر اٹھا کر اُن تنگ و تاریک گلیوں میں بھُوت کی طرح سے سر اٹھائے کھڑی عمارتوں کو غور سے دیکھتا۔ جیسے وہ کچھ پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ جب مایوس ہوجاتا تو تیزی سے دوڑتا ہوا اگلی گلی میں داخل ہوجاتا اور سر اٹھا کر اردگرد کھڑی عمارتوں کو اندھیرے میں پہنچاننے کی کوشش کرتا۔ ناکامی پر اُس کا چہرہ روہانسا ہو جاتا اور پھر وہ بے اختیار آگے دوڑ پڑتا۔

اُس کی سمجھ میں تو جیسے کچھ آ ہی نہ رہا تھا۔ آخر وہ سب گلیاں اُس کی ہر روز کی گزرگاہیں ہی تو تھیں۔ جہاں وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شام دیر گئے تک کھیلا کودا کرتا۔ لیکن آج اُسے کھیلتے کھیلتے وقت کا کچھ ہوش ہی نہ رہا۔ کب سورج ڈھل گیا اور رات کی سیاہی نے اُس کے اردگر اپنا جال بُن لیا۔ نہ جانے کھیلتے کھیلتے وہ گھر سے کتنی دور نکل آیا تھا۔ اُس کے سنگی ساتھی بھی کہیں پیچھے رہ گئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رات بہت بیت گئی ہو۔  پہلے تو ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔ آج اُسے وہ سارے راستے اور وہ ساری گلیاں انجان اور اجنبی سی لگ رہی تھیں۔

جاڑوں کا موسم تھا۔ لوگ باگ اپنے کاموں کو نمٹا کر گھروں کو روانہ ہو چکے تھے۔  وہ جس بھی گلی میں جاتا اُسے کوئی زی روح دکھائی نہ دیتا۔ انسان تو انسان کتے یا بلی کا بچہ تک نظر نہ آ رہا تھا۔ میونسیپلٹی کے تمام تر کھمبے بھی تاریک پڑے ہوئے تھے۔ ہلکے ہلکے کہرے نے تنگ و تاریک گلیوں میں کھڑی چھوٹی بڑی عمارتوں کو لپیٹ رکھا تھا۔ عمارتوں کی کھڑکیاں بند اور اندر سے دبیز پردے اُنہیں یوں ڈھانپے ہوئے تھے کہ بمشکل تمام ہی کہیں کہیں درزوں سے اندر کمروں میں جلتے زرد بلبوں کی روشنی کہرے کی چادر سے جھانکتی دکھائی دیتی۔ وہ کہرے میں لپٹی روشنی کی اُنہی مدھم مدھم کرنوں کے سہارے اُس عمارت کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا جہاں اُس کا گھر تھا۔ وہ بے حد فکرمند تھا کیونکہ امی ابو اُس کہ اتنی دیر گئے تک گھر واپس نہ آنے کے سبب بے حد پریشان ہوں گے۔ یہ فکر اُس کی بوکھلاہٹ میں اضافہ کئے دے رہی تھی۔

سردی کی شدت سے اُس کا سارا جسم کپکپا رہا تھا۔ حالانکہ  اُس نے گرم سوئیڑ بھی پہن رکھا تھا مگر وہ اُس کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نا تھا۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھ بغلوں میں دے رکھے تھے اور اِسی حالت میں تیزی کے ساتھ  اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا اپنے گھر والی عمارت تلاش کر رہا تھا۔

اچانک کہرے میں لپٹی ہوئی ایک چار منزلہ چھوٹی سی عمارت نظر آئی۔ اُسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اِسی عمارت میں اِس کا گھر ہے۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا عمارت کے قریب پہنچا۔ عجب ہو کا سا عالم تھا۔ آدم نہ آدم زاد۔ تاریکی اور کہرے کی چارد چہار سو تنی ہوئی تھی۔ عمارت کی کھڑکیوں کے پیچھے لگے پردوں کی درزوں سے چھن کر آتی ہوئی روشنی اُس چارد میں شگاف ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ قریب آ کر لڑکا عمارت کے داخلی راستے پر بنے  قدمچے چڑھ کر ایک چھوٹے سے چبوترے پر آ گیا اور زرا آگے بڑھکر داخلی راہداری پر نصب آھنی جالیوں کو اندر کی جانب دھکیلا۔ رات کے سناٹے اور تاریکی میں جالیاں ایک سماع خراش سی چوووووووں  کی آواز نکالتی ہوئی اندھیری راہداری میں گم ہوگئی۔

لڑکا اُس چھوٹی سی تاریک سرنگ نما راہداری میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوا۔ اُس چھتی ہوئی راہداری میں گھپ اندھیرا تھا البتہ دیوار کے ایک طرف لگے بجلی کے میٹروں میں ہلکی سی سُرخ روشنی ہو رہی تھی۔ راہداری عبور کرکے وہ عمارت کے کھلی چھت والے کمپاوؑند میں داخل ہو گیا۔ کمپاوؑنڈ کا پتھریلا فرش طے کر کے وہ آگے بڑھکر سمینٹ کے بنے زینوں پر چڑھنے لگا۔  تیزی کے ساتھ دوڑ کر زینے  طے کرتا دوسری منزل پر آن پہنچا۔ وہاں چالی نما برآمدے میں کل تین گھر تھے اور عین بیچ والا گھر اُس کا تھا۔ وہ گھر کے دروازے کے قریب آیا جہاں انگریزی میں لکھے نمبر 5 کو دیکھ کر اُسے اطمینان ہو گیا کہ یہ گھر اُسی کا ہے۔لیکن اُسے یہ سوچ کر پھر حیرت ہونے لگی کہ اتنی رات گئے وہ گھر سے باہر ہے لیکن اُس کے گھر والے اطمینان سے گھر کا دروازہ بند کئے بیٹھے ہیں۔ آس پڑوس کے دونوں گھروں کے دروازے بھی بند تھے۔  دروازوں کے عین اوپر اندھے شیشے کے روشن دان نصب تھے اور تعجب کی بات تو یہ تھی کہ اُن تمام شیشوں سے بھی سیاہ تاریکی ہی جھلک رہی تھی۔

اُس نے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے دروازے پر مارنا شروع کردیا۔  کافی دیر تک دروازہ مسلسل دھڑ دھڑانے کے باوجود بھی نہ تو دروازہ ہی کھلا اور نہ ہی روشندان کے شیشوں سے اندر گھر میں روشنی ہی ہوتی نظر آئی۔ ایک بار پھر اُس کے حواس اُس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ اب اُس نے دروازہ دھڑ دھڑانے کے ساتھ ساتھ زور زور سے صدائیں بھی لگانا شروع کردیں۔

۔”امی، امی، دروازہ کھولیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ کھولیں امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ کھولیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امی۔ ۔ ۔  امی میں ہوں آپ کا بیٹا عرفان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔امی پلیز دروازہ کھولیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امی دروازہ کھولیں! پیلیز مجھے بہت سردی لگ رہی ہے اور مجھے بہت بُھوک بھی لگ رہی ہے اور نیند بھی آ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!”۔ یہ کہتے کہتے وہ شدتِ خوف سے  رو پڑا اور روتے روتے اُس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

بُھوک اور تھکن سے وہ پہلے ہی نڈھال سا ہورہا تھا۔ اب یوں رو رو کرچیخ و پکار کرنے کے سبب اُس پر غشی سی طاری ہونے ہی کو تھی کہ اچانک دروازے کے اوپر لگے روشندان میں سے روشنی ہوتی نظر آئی۔ روشنی ہوتے دیکھ کر کسی حد تک اُس کے ہوش ٹھکانے آئے۔ پھر دروازے کی دوسری طرف کسی کے قدموں کی آواز دور سے بتدریج قریب آتی سنائی دی۔ پھر دروازے کی کنڈی کھلنے کی آواز کے ساتھ یکدم دروازہ کھل گیا۔ لیکن یہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! سامنے کھڑی عورت کا چہرہ تو یکسر اجنبی تھا۔۔ ۔ ۔ ۔!!! وہ اُس عورت کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر گبھرا سا گیا اور لڑکھڑاتے لہجہ میں بولا۔

۔”مم م م میری امی کہاں ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو میرا گھر ہے۔ آپ کون ہیں؟ میرے امی ابو کہاں ہیں؟”۔اتنا کہہ کر اُس نے عورت کے جواب کا انتظار کئے بغیر ہی گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن درمیان میں حائل عورت کے سبب جب وہ اندر داخل نہ ہوسکا تو وہیں کھڑے کھڑے گھر کے اندر جھانکتے ہوئے اُس نے روتے ہوئے زور زور صدائیں لگانا شروع کردیں۔

۔”امی۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ابو۔ ۔ ۔ ۔ آپ لوگ کہاں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ دیکھیں میں آپ کا بیٹا عرفان آ گیا ہوں۔ یہ عورت نہ جانے کون ہے، مجھے اندر آنے نہیں دے رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!!”۔

۔”کون عرفان، یہاں کوئی عرفان نہیں رہتا اور تمھارے امی ابو بھی یہاں نہیں رہتے۔ جاؤ بھاگ جاؤ۔ چلو نکلو یہاں سے۔ ۔ ۔ ۔  ۔ !!!”۔اتنا کہہ کر اُس عورت نے لڑکے کو دھکا دے کر زور سے دروازہ بند کردیا۔

لڑکا اس عورت کے دھکے سے فرس پر گر پڑا اور چوٹ لگنے کی وجہ سے سارے بدن میں درد کی لہر سی دوڑ گئی۔

۔”نہیں، نہیں، یہ میرا گھر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ! تم کون ہوتی ہو مجھے دھکا دینے والی۔ ۔ ۔ ۔ ۔! میرے امی ابو کہاں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔! بلاؤ اُنہیں۔ ۔ ۔۔ ۔! اُن سے کہو اُن کا بیٹا عرفان آیا ہے۔ ۔ ۔ ۔  !!!”۔لڑکا زمین پر گرا اپنے ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے زور زور سے چلایا۔

عرفان ہوش کرو، کیا ہوگیا ہے تمھیں، کہیں کوئی ڈراونا خواب تو نہیں دیکھ رہے۔ اٹھو ہوش کرو۔ رات کے تین بج رہے ہیں۔ تم اِس قدر زور زور سے کیوں چلا رہے ہو؟”۔

عرفان تیزی سے اپنے بستر سے اٹھ بیٹھا۔ اُس کا سارا جسم پسینے سے بھیگ رہا تھا اور ماتھے پر پسینے کے موٹے موٹے قطرے رواں تھے۔ کچھ دیر وہ خالی خالی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھتا رہا۔ اُس کی بیوی سدرا نے اُسے پانی کا گلاس پکڑایا جسے ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔ پانی کا خالی گلاس سدرا کو واپس کرتے ہوئے اُس نے اپنے بند ہونٹوں کو ایک ہلکی سی تشکر آمیز مسکراہٹ کے ساتھ پھیلاتے ہوئے اُسے دیکھا اور بولا۔

۔”ہاں وہ میں شاید خواب میں ڈر گیا تھا لیکن اب ٹھیک ہوں۔ تم اطمینان سے سو جاؤ”۔اتنا کہہ کر وہ  تکیئے پر سر رکھ کر سیدھا لیٹ گیا اور سدرا کے سائیڈ لیمپ بجھا دینے کی وجہ سے کمرے میں پھیل جانے والے اندھیرے کو گھورنے لگا۔

۔”یہ تو بالکل وہی خواب تھا جو میں نے آج سے تیس برس پہلے اُس وقت دیکھا تھا جب ہم لوگ اپنے اُس محلے، جہاں میں اپنی پیدائش سے لیکر کوئی چودہ برس کی عمر تک رہا تھا سے نکل کر ایک دوسرے محلہ میں آباد ہو گئے تھے۔  نئے گھر میں پہلی رات جب میں امی کے پہلو میں سو رہا تھا تو یہ خواب آیا اور میں زور سے چیخ مار کر اٹھ بیٹھا تھا۔ امی نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر کہا تھا۔

۔”ہائے ماں واری، ماں صدقے، کیا ہوا میرے پتر، خواب میں ڈر گیا تھا”۔  پھر انہوں نے بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے درود شریف اور نادِ علی پڑھ کر میرے چہرے پر پُھونک ماری تھی۔

حالانکہ وہ خُواب اُس دن کے بعد پھر اُسے کبھی نظر نہ آیا تھا لیکن اُس خواب کی ایک ایک بات اُسے آج بھی روزِ اول ہی کی طرح سے یاد تھی۔ خواب میں نظر آنے والی گلیاں، عمارتیں اور وہ 5 نمبر کا گھر سب دراصل وہی پرانے محلے والے ہی تو تھے جہاں اُس نے اپنے بچپن کے اولین چودہ سال گزارے تھے۔ وہ خاموش پڑا مسلسل سوچے چلا جارہا تھا کہ آخر اتنے برسوں بعد پینتالیس سال کی عمر میں اُسے وہ چودہ سال کی عمر والا خُواب اب پھر دوبارہ کیوں نظر آیا تھا؟

وہ رات کو کافی دیر سے سویا تھا لیکن اُس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ سدرا تو نہ جانے کب کی دوبارہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔ دیر گئے تک وہ اپنے دوست مسعود جو کہ اُس کے لڑکپن کا دوست اور کلاس فیلو تھا کے گھر جو کہ ساتھ والی گلی ہی میں تھا میں بیٹھا باتیں کرتا رہا تھا۔ اگلے روز اتوار کا دن تھا لہٰذا وہ دونوں ساتھ ہی تھے جو کہ اُن کا معمول تھا۔

۔”یار عرفان آخر یہ تم نے کیا روز روز کی بے مقصد سی رٹ لگا رکھی ہے کہ مجھے پاکستان واپس جانا ہے”۔

۔”نہیں مسعود یہ بے مقصد کی رٹ نہیں”۔

۔”اچھا اگر یہ بے مقصد کی رٹ نہیں تو پھر کیا ہے بھلا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ وہاں پاکستان میں لوگ امریکہ آنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور تم ہو کہ گرین کارڈ ہولڈر ہوتے ہوئے بھی ہر وقت واپس جانے کی باتیں کرتے  ہو۔ ناں تم مجھے یہ تو بتاؤ کہ تم وہاں جا کر کرو کے کیا؟”۔

۔”یہ تو خود مجھے نہیں پتہ کہ میں کیا کروں گا”۔

۔”ویسے اب پندرہ برس یہاں امریکہ میں رھ کر تم اِس لائق بھی نہیں رہے کہ وہاں جا کر کچھ بھی کر سکو اور ویسے بھی میں تمھارے مزاج سے بخوبی واقف ہوں۔ تمھارا گزارا تو وہاں اُس وقت بھی مشکل تھا جب تم امریکہ نہیں آئے تھے اور اب آج کے حالات میں تم وہاں کسی طرح سے بھی نہیں رھ سکتے”۔

۔”ناں کیوں نہیں رھ سکتا میں پاکستان میں”، عرفان تنک کر مسعود کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ” میں وہاں پیدا ہوا ہوں، وہیں پلا بڑا ہوں اور یہاں تو میں اُس وقت آیا جب میری عمر تیس اکتیس برس تھی”۔

۔”ہاں یہ سب باتیں میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں”، مسعود کی آواز میں طنز عیاں تھا۔ "تم تو اِس وقت بھی جب تمھارے پاس وہاں کچھ نہیں تھا وہاں کے سسٹم، طریقہ کار کے سخت خلاف تھے۔ اپنے جائز کام کے لیے بھی تم سے رشوت نہ دی جاتی تھی۔ کوئی خلافِ قانون کام تم سے نہ ہوتا تھا۔ سفارش تھمارے پاس نہ تھی، بینک بیلنس، جائیداد تمھارے پلے نہ تھی۔ ہاں ایک بڑی پرائیویٹ فرم میں تم امپورٹ ایکسپورٹ ڈیپارمینٹ کے منجیر ضرور تھے لیکن اپنی غیر ضروری ایمانداری کے سبب اُس پوسٹ پر جہاں یار لوگ کسٹم کے کرتا دھرتاوں کے ساتھ  ساز باز کر کے لاکھوں کی اُوپر کی آمدنی بنا لیا کرتے ہیں تم محض اپنی سوکھی سڑی سی تنخواہ میں گزارا کیا کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ تمھارے پاس نہ اپنا گھر تھا نہ اپنی گاڑی۔ کرائے کا گھر اور دفتر کی گاڑی ہی وہاں ہمیشہ تمھارا مقدر رہی”۔

۔”یہ سب باتیں میرے مزاج کے خلاف ہیں۔ میری نظر میں رشوت دینے اور لینے والے دوںوں ہی جہنمی ہیں۔ سفارش کسی حقدار کا حق لوٹنے کا دوسرا نام ہے۔ بدعنوانی کر کے کمایا ہوا پیسہ اور اُس پیسہ سے خریدا گیا رزق اولاد میں فساد کا سبب بنتا ہے”۔

۔”تو پھر میرے بھائی تم خود ہی بتاؤ، وہاں اِن سب باتوں کے بغیر تم جی سکتے ہو؟ کیا رشوت دئے بغیر وہاں تمھارا کوئی معمولی سا کام بھی ہوسکتا ہے؟ کیا سفارش کروائے بناء تم کوئی اچھی جاب حاصل کر سکتے ہو۔ کیا کرپشن کیئے بناء تم اتنا  کما سکتے ہو کہ اپنے گھر والوں کو خوشی خوشی رکھ سکو؟”۔

۔”تو میں کوئی کاروبار وغیرہ کرلوں گا۔ ۔ ۔ ۔ !”۔

۔”کاروبار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !” مسعود کے لہجے میں بلا کا ظنز تھا۔ "اول تو تم میں کاروباری حس سرے سے ہے ہی نہیں اور اب تو ویسے بھی وہاں کاروبار کرنے کا  سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہر دوسرے روز تمھیں بھتے کی پرچیاں ملیں گی اور جو اگر بھتہ نہ دیا نا میرے یار، تو آدھ چھٹانک کی ایک گولی کسی نہ معلوم شخص کے پستول سے نکل کر تمھارے سینے میں پیوست ہوجائے گی۔ اگلے دن کے اخبار میں دیگر درجنوں مقتولین کے ہمراہ کسی کونے میں تمھارا نام بھی لکھا ہوا ہوگا جسے کوئی پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کریگا۔ اگر گولی سے بچ گئے تو  کسی ایسے خُود کش حملہ آور کا شکار ہو جاؤ گے جو ستر حوروں کے چکر میں تمھیں تمھاری اکلوتی زمینی حور سے بھی محروم کردیگا”۔

۔”ہاں یہ سب باتیں میں بخوبی جانتا ہوں، اِسی لئے تو تذبذب کو شکار ہوں کہ کیا کروں اور کیا نا کروں”۔

۔”تم نے کبھی سدرا بھابی سے اِس موضوع پر کوئی بات کی؟”۔

۔”ہاں وہ تو روز ہی ہوتی ہے”۔

۔”تو وہ تمھیں کچھ کہتی نہیں تمھاری ان احمقانہ باتوں پر”۔

۔” ویسے وہ میری توجہ وہاں کے دگرگوں حالات کی طرف دلواتی تو ضرور ہے لیکن ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ اگر تم پھر بھی واپس جانے پر بضد ہی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ تم جانتے ہی ہو کہ ہم نے اپنی شادی کے یہ گذشتہ اٹھارہ انیس برس ایک دوسرے کے مشورے کے ساتھ ہی گزراے ہیں۔”۔

۔”ہاں میں سدرا بھابھی کو اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ اُن عورتوں میں سے ہیں ہر قدم ہر اپنے شوہروں کا ساتھ دیتی ہیں”۔

۔”ہاں یار یہ بات تو سولہ آنے سچ ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ میں شادی اور اُس کے پہلے پانچ سالوں تک تو کچھ بھی نہ تھا۔ لیکن میری بیوی نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا اور ہم باہمی اتفاق اور جدوجہد سے آج یہاں تک پہنچ سکے ہیں۔

۔”ہاں یہ بات تو ہے۔  اللہ نے تمھیں ماشاءاللہ اچھی بیوی اور اچھی اولاد سے نوازا ہے”۔

 ۔ "ہاں شکر المحداللہ اور تم جانتے تو ہو ہی کہ میری خواہش تھی کہ اللہ مجھے پہلی بار اولاد کی نعمت سے نوازے تو وہ ایک بیٹی ہو کیونکہ میری کوئی بہن نہ تھی۔

۔”ہاں مجھے معلوم ہے کہ تمھیں بہن کی کتنی چاہ تھی تبھی تو تم نے میری بہن شہناز کو اپنی منہ بولی بہن بنا رکھا تھا”۔

۔”ہاں بس یہی وجہ تھی کہ میں چاہتا تھا کہ میری پہلی اولاد بیٹی ہو اور خدا نے میری سُن لی۔ لیکن بیٹی کا باپ بن جانے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ جو میرے معاشی حالات ہیں اُس میں رہتے ہوئے میں اپنی بیٹی کے لیے کیا کر سکوں گا اور پھر ایک روز میں نے امریکا جانے کی ٹھان لی”۔

۔”اور آج اِسی امریکا نے تمھیں کسی قابل بنا دیا ہے  تو تم پھر اُنہی مسائل کا شکار ہونا چاہتے ہو جن سے بچ کر یہاں آئے تھے؟”۔

۔”ہاں تو میں نے کب انکار کیا ہے اِن سب باتوں سے۔ میں تو خود ہی ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ پاکستان نے ماں کی طرح سے مجھے اپنی کوکھ سے جنم دیا، پال پوس کر بڑا کیا اور امریکہ نے ایک شفیق باپ کی طرح سے اپنے پاوؑں پر کھڑا ہونا سکھایا۔ لیکن اُس ماں کا بھی تو مجھ پر کچھ حق ہے یا نہیں جس نے مجھے جنم یاد اور جس دیار کے گلی کوچوں میں، میں نے اپنی زندگی کی تیس سے ذائد بہاریں دیکھیں، اُن درو دیوار سے جو میرا رشتہ ہے یہاں آ جانے سے ختم تو نہیں ہو سکتا نا”۔

۔”عرفان، عرفان، عرفان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! یہ سب جذباتی باتیں ہیں اور اِن میں کچھ نہیں رکھا۔ تمھارا پیٹ بھرا ہوا ہے، سر پر اپنی چھت ہے۔ چلانے کو گاڑی ہے۔ بچے دنیا کے سب سے بڑے ملک کی سب سے بہترین اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ تم سمیت اُن کو یہ خُوف نہیں کہ کوئی انہیں اغوا کر کے لے جائیگا، کوئی خُود کش مجاہد اپنے سمیت اُن کے جسموں کے ٹکڑے اڑا دیگا۔  اِسی لیئے اب تمھارے دل و دماغ میں وطن کی محبت کے مروڑ اٹھ رہے ہیں”۔

۔”نہیں مسعود یہ بات نہیں ہے”۔

۔”تو پھر اور کیا بات ہوسکتی ہے؟”۔

۔”تم تو جانتے ہی ہو کہ جب میں یہاں یہ ارادہ باندھ کر آیا تھا کہ خود کو معاشی طور پر مضبوط کر کے پھر اپنی دھرتی ماں کی طرف واپس لوٹ جاؤں گا۔ جب ہم  یہاں آئے تھے تو وہاں وہ صورتحال تو ہرگز نہ تھی جو آج ہے۔ میں تمھیں آج ایک بات بتاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "۔

۔”ہاں بولو ، بولتے بولتے رک کیوں گئے؟”۔

۔”جانتے ہو کہ میری امی اور ابو دونوں ہی اپنے خاندان کے وہ پہلے فرد تھے جو کہ پیدائشی مسلمان تھے”۔

۔”کیا مطلب”، مسعود کے چہرے اور لہجے میں زمانے بھر کی حیرت تھی۔

۔”دراصل میرے دادا اور نانا دونوں ہی پیدائشی ہندو تھے اور پھر اسلام قبول کیا۔ میرے دادا کے بڑے بھائی بعنیٰ میرے والد صاحب کے تایا ابا سوامی نرائن مندر کے پروہت تھے۔ میری امی اور ابو دونوں اُن کے سلام قبول کرنے کے بعد پیدا ہوئے تو وہ اپنے خاندان کے اولین پیدائشی مسلمان ہوئے کہ نہیں”۔

۔”یار اِس بات کا تم نے پہلے کبھی زکر نہیں کیا”۔

۔”ہاں ویسے ہی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی”۔

۔”پھر”۔ مسعود نے جو کہ اِس سارے قصے میں کھو سا گیا تھا لطف لیتے ہوئے پوچھا۔

۔”پھر جب پاکستان بنا تو اُس وقت میرے دادا اور نانا دونوں ہی بھارتی ریاست گجرات میں کاروبار کیا کرتے تھے اور بڑی متمول زندگیاں بسر کر رہے تھے۔ وہ وہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے تھے  اِس کے باوجود انہوں نے پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ میری امی اور ابو دونوں کی پیدائش قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستانی ریاست گجرات کی تھی اور میں امی ابو کے خاندان کا وہ پہلا فرد ہوں جو پیدائشی پاکستانی ہے”۔

۔”تو دیکھ لو نا، تمھارے دادا، نانا، امی اور ابو سب اپنی جنم بھومیاں تیاگ کر اپنے بہتر مستقبل کی خاطر پاکستان چلے گئے تھے نا، تو اسی طرح سے تم بھی اپنے اور اپنی آئیندہ نسل کے بہتر مستقبل ہی کی خاطر یہاں منتقل ہوئے ہو تو پھر آخر اس میں برائی ہی کیا ہے۔ ویسے بھی یہ ساری زمین یہ سارا جہاں اللہ ہی کا تو ہے اور اُسی نے کہا ہے کہ تم میرے فضل کی تلاش میں زمین پر پھیل جاؤ”۔ مسعود سمجھانے والے انداز میں بولا۔

۔”تم باکل درست کہہ رہے ہو۔ لیکن اُن میں اور مجھ میں بہت فرق ہے”۔

۔”کوئی فرق نہیں، انہوں نے بھی اپنے بہتر مستقبل کے لِے ہجرت کی اور تم نے بھی "۔

۔” نہیں ایسا نہیے ہے۔ انہوں نے نظریات کی خاطر اپنی جنم بھومی تیاگ کر ہجرت کی تھی اور میں نے اپنے معاشی حالات بدلنے کے لیے”۔

۔” میرے بھائی یہ تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو۔ کچھ معلوم بھی ہے جب تک معاشیات درست رہتی ہے اُس وقت تک نظریات بھی درست رہتے ہیں اور جہاں معاشیات بگڑی وہاں نظریات دماغ کی کسی کھلی کھڑکی سے یوں راہِ فرار اختیار کرلیتے ہیں کہ اُن کا  پتہ نشان بھی نہیں ملتا”۔

۔”تم نہیں سمجھ سکتے یہ سب باتیں”۔ یہ کہہ کر عرفان نے آنکھیں بند کر کے اپنی انگلیوں سے پیشانی کو رگڑنا شروع کردیا۔

۔”چلو تو پھر تم ہی مجھے کچھ سمجھا دو”۔۔”مسعود کی بات سن کر عرفان نے آنکھیں کھول کر اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔ اُس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ تھی۔

۔”جیسے یہ بھی ایک شہر ہے نا جہاں ہم اور تم رہتے ہیں۔ ویسا ہی ایک شہر ہمارے دلوں میں بھی تو آباد ہوتا ہے۔ اب میں کیا کروں کہ میرے شہرِدل میں جو میلہ لگا ہے اُس کی ہر آواز ہر صدا، ہر نغمہ، ہر گیت، ہر ساز، ہر لے، اُس میں بستا ہر مکین، پر پُھول، ہر خُوشو، ہر پرندہ، ہر کُوک،  ہر درخت،ہر پتہ، ہر ڈالی، ہر بوٹا، ہر نہر، ہر ندی، ہر سمندر، ہر کنارہ ہر ساحل، ہر گلی، ہر راستہ اور ہر پگذنڈی کا رُخ اُسی طرف ہے جسے ہم تم سوہنی دھرتی کہتے ہیں”۔

۔”لیکن اب وہ تمھاری سوھنی دھرتی، اتنی سوھنی نہیں رہی جتنی کہ تم چھوڑ آئے تھے۔ برا نا منانا اب تم  اُس سوھنی دھرتی کے لیے اور تمھاری وہ سوھنی دھرتی ایک دوسرے کے لیے مس فٹ ہوچکے ہیں”۔ مسعود قدرے کھردرے لہجے میں بولا.

۔”میں بھی یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہوں”۔ عرفان کی آواز دور کہیں کسی گہرے اور تاریک کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

 ۔”اور یہی بات تو مجھے بےکل رکھتی ہے۔ مجھ سے دل ایسے شہر کے پامال ہوجانے کا یہ منظر دیکھا نہیں جاتا۔ تم کیا جانو جب دل کا شہر پامال ہوتا ہے تو کتنا درد، کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ اپنے ہی خوابوں کی کرچیاں اپنے ہی دل کے گوشے گوشے میں جب کھُب جاتی ہیں تو اُس کا درد اور وہ بھی ایسا کہ دل چاہیے کہ کوئی دل ہی کاٹ کر پھینک دے۔ مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے خوابوں ہی کی یہ کرچیاں درد کا سبب ہیں، سدا اُن کرچیوں کو یونہی دل میں  پیوست ہی رہنے دیتے ہیں”۔

۔”یار عرفان یہ سب شاعرانہ باتیں ہیں اور شاعری ہی میں اچھی لگتی ہیں”۔

۔” نہیں مسعود یہ شاعرانہ باتیں نہیں یہ سب سچ یے۔ ۔ ۔ !  ایک  کڑوا سچ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !۔ میرے ابو مجھ سے کہا کرتے تھے کہ جب وہ اپنے ابو کی انگلی پکڑ کر پاکستان آئے تو اُن کے ابو نے اُن سے کہا تھا کہ دیکھنا بیٹا ایک دن ہمارا یہ پاکستان کتنا آگے جائے گا، بہت  ترقی کریگا اور پھر یہی بات میرے ابو مجھے ساری زندگی کہتے رہے لیکن آج میرے دادا اور ابو دونوں ہی کی ساری امیدیں، اُن کے خواب، اُ ن کا دل ایسا شہر پامال ہو رہا ہے اور کوئی اِس پامالی کو روکنے والا تک نہیں۔ شاید اچھا ہی ہے کہ اب وہ دونوں ہی اِس دنیا میں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!!”۔

عرفان کی سرُخ ہوتی آنکھوں سے آنسو یوں بہے چلے جارہے تھے جسے آنسو نہ ہوں شہرِ دل کے پامال ہوجانے کا ماتم ہو جو اُس کی آنکھیں آنسوؤں کی شکل میں کررہی ہوں۔

اتنا کہہ کر وہ مذید کچھ کہے بغیر ہی وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکل آیا۔ رات کے ساڑھے بارہ کے قریب کا عمل رہا ہوگا۔ ماہ اکتوبر کے وسط کی گلابی سردی اور ہلکے ہلکے کہرے نے گلیوں اور اُس کے دونوں اطراف بنے ہوئے ایک سے مکانات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ کجھ ہی دنوں میں ہالووین (HALLOWEEN) کا تہوار آنے والا تھا۔ لوگوں کے مکانات کے دروازوں پر نارنجی پمکین (کدو) جنھیں اندر سے کھوکھلا کر کے اندر چھوٹے چھوٹے بلب نصب کردیئے گئے تھے، کی روشنی چاقوں کی مدد سے بنائی گئ آنکھوں، ناک اور منہ سے چھن چھن کر باہر آرہی تھی، عجب ھیبتناک  سا ماحول پیش کر رہی تھیں۔

یہ سب دیکھ کر اُسے اپنے بچپن کا وہی خواب یاد آنے لگا جس میں وہ ایسی ہی کہرے میں لپٹی ایک تاریک اور ویران رات میں گلیوں میں دوڑ دوڑ کر اپنا گھر تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ اُسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے خُواب میں تو وہ صرف اپنے بچھڑے ہوئے محلے میں کھو گیا تھا لیکن اب کی بار تو وہ زندگی کے وسیع و عریض محلے کی پُرپیچ گلیوں اور اُن کی بھلبھلیوں میں کچھ ایسا کھو گیا ہے کہ اُسے معلوم بھی ہے کہ اُس کا گھر کہاں ہے لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی وہاں جا نہیں سکتا۔

عرفان تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے گھر پہنچا۔ اندر داخل ہونے کے بعد وہ اپنی اسٹڈی کی طرف چلا پڑا۔ اُس کی آنکھوں میں نیند کا کوئی سائبہ تک نہ تھا۔ اسٹڈی میں جا کر کتابوں والی الماری میں سے اُس نے ایک کتاب نکالی اور اُس کے صفحات پلٹنے لگا۔ پھر ایک جگہ پر رک  کر اپنی آرام کرسی پر ڈھیر ہوگیا۔ کتاب کے اُس صفحے پر اُس کی نظریں افتخار عارف کی نظم پر جمی ہوئی تھی۔

ابھی کچھ دن لگیں گے

ابھی کچھ دن لگیں گے

دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

جہان رنگ کے سارے خس و خاشاک

سب سرو صنوبر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر

کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر بنتے بنتے رہ گیا ہے

وہ اک گھر بھولنے میں

ابھی کچھ دن لگیں گے

اُسے نظم کی آخری چار سطور تو بہت ہی اچھی لگتی تھیں۔ کیونکہ خُود اُس نے اور اُس کی بیوی سدرا نے بھی تو بڑی مجبت بھری آس سے اپنے آبائی شہر کے سب سے خوبصورت علاقے میں جو اُنہیں اپنے خُوابوں کا ساحل ہی تو لگتا تھا،  اِس امید پر ایک چھوٹا سے گھر بنایا اور خوُد اُسے اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا کہ ایک روز اپنی حسین امیدوں کے اِس گھر میں  ہنسی، خوشی، سکھ اور اطمینان کے ساتھ رہیں گے۔ لیکن اُن کی امیدوں کا وہ حسین گھر بن کر بھی بن نا سکا اور اُس گھر کے ہوتے ہوئے بھی وہ کبھی اُس میں رھنے کے لیے واپس نہ جا سکے۔

کچھ دیر وہ یونہی اپنی نظریں کتاب پر جمائے آرام کرسی پر پڑا سوچتا رہا۔ پھر کتاب کو وہیں زمین پر چھوڑ کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے بیڈ روم تک آیا جہاں اُس کی بیوی سدرا گہری نیند میں ڈوبی سو رہی تھی۔ شبِ خوابی کا لباس پہن کر وہ لیٹا تو اُسے نیند آ گئی اور پھر سدرا نے ہی اُسے خواب میں چِیختے چلاتے ہوئے جگایا تھا۔

اب وہ پچھلے ایک گھنٹے سے یونہی لیٹا اپنی اور مسعود کے درمیان ہونے والی باتوں کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔

اُس نے سوچا کہ اِسے اپنی امیدوں کا وہ چھوٹا سا گھر جو بنتے بنتے رھ گیا تھا بُھولنے میں کتنے کچھ دن لگیں گے۔ ۔ ۔؟ شاید ابھی کچھ اور دن لگیں گے۔ ۔ ۔!!!۔

اُس کے چہرے پر ایک اداس  دھیمی سی مسکراہٹ جھلملائی کیونکہ شاید اُسے اِس بات کا کچھ کچھ اندازہ ہورہا تھا کہ واقعی اُسے وہ ایک گھر جو بنتے بنتے رہ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! بھولنے میں کچھ دن تو ضرور لگیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ! اب یہ اور بات ہے کہ وہ کچھ دن آتے آتے شاید اُس کی زندگی کا آخری دن آ جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!۔
*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.*.

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بلی کی موت…. ناصر صدیقی

              بلی کی موت ناصر صدیقی                 جب بھی اسے یہ اطلاع ملتی کہ کہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے