سر ورق / کالم / دوائی کے الگ سے پینتیس سو چالیس۔بابا جیونہ۔۔

دوائی کے الگ سے پینتیس سو چالیس۔بابا جیونہ۔۔

کافی دنوں سے ٹانگ میں شدید درد تھا ۔کوئی بتائے شیاٹیکا ہے، کوئی بتائے آپ کو چُک پڑ گئی ہے کسی نے کہا آج کل انسانی مشین کی معیاد تیس بتیس سال ہی ہے اور آپ تو جناب چوتیس سال کے ہورہے ہو ،کسی نے بابا غلام فرید سرکار کا مشہور جملہ دہرایا کہ ”غلام فریدا اندروں گئی اے مُک“کسی نے کہا مہرے کھسک گئے ہیں ۔جب دوستوں نے طرح طرح کے جملے کسنے شروع کیے درد بھی برداشت سے باہرہوااور نیم حکیم جو ہر سرکاری اداروں میں خاص طور پہ اور گلی محلوںعام طور پہ باآسانی دستیاب ہوتے ہیں ،سب کے ٹوٹکے جیسے کہ کھجور کا حلوہ ،حب تنکار گولیاں ،زیتوں کا سالن ،دیسی گھی اور انڈہ دودھ میں ملا کے پینا ،دیسی مرغ کی یخنی ،دھوپ میں الٹا لیٹ کے کمر تاپنا ،مالشی کی خدمات ،وغیرہ وغیرہ سب ناکام ہوئے تو ایک انتہائی جہان شناس افسر کے مشورے پہ ہومیو پیتھک کلینک کا رخ کیا ،ہومیو ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا اوہو آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں ؟یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ،یہ قطرے اور گولیا ں لے جائیں دو خوراکوں سے آپ گھوڑے جیسے ہو جائیں گے، احتیاطاََ آپ کو پندرہ دن کی میڈیسن دے رہا ہوں تاکہ آپ کو سفر کی تکلیف دوبارہ نہ اٹھانی پڑے ،کہاں دو خوراکیں اور کہاں پندرہ دن کی دوائی ،شش وپنج میں تو میں اسی وقت پڑگیا تھا لیکن ”مرتا کیانہ کرتا“درد سے جان نکلی جارہی تھی ،دس دن سے اپنے پیروں پہ چل کر بھی نہیں دیکھا تھا ،ہومیوڈاکٹر صاحب نے کوئی چار قسم کے سفید رنگ کے چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں قطرے ڈال دیے اور بوری نما خاکی تھیلیوں میں کوئی سو کے قریب چھوٹی چھوٹی گولیاں ڈال دیں جن پہ اوقات کار دوائی درج تھے ایک تھیلی ایسی تھی جس پہ درج تھا رات کو اور ایک پہ درج تھا شام کو کھائیںاور اب ڈاکٹر صاحب کی رات کب ہوتی ہے اور شام کا نسخہ کتنے بجے لینا ہے یہ میں بھی پوچھنا بھول گیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بتانا شاید مناسب نہ سمجھا میں تو اس لیے پوچھنا بھول گیا کیوں کہ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہ اس قدر شدید درد صرف دوخوراکوں میں ٹھیک ہوجائے گا ڈاکٹر صاحب شاید اگلامریض بلانے کے چکر میں تھے اور جلدی میں تھے،میں بھی جلدی جلدی وہ دوخوراکیں کھانا چاہتا تو جنھوں نے جادو جیسا اثر کرنا تھا ،میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا سوچا شکرہے بڑے ہسپتالوں کے چکر اور بھاری فیسوں کے بوجھ سے بچ گیا ہوں ۔ ایک صاحب نے تو میری حالت دیکھ کر ایک خطرناک قسم کے آپریشن کی بھیانک تصویر کشی بھی کر دی تھی، اپنے ناجانے کتنے ہی رشتہ داروں کا یہ آپریشن صاحب موصوف نے اپنے ہتھیں کروایا تھا ،آپریشن کروانے کے بعد چند ایک لاٹھی کے سہارے چل بھی رہے تھے ،اور شاید اس لیے چل رہے تھے کیوں کہ میں اس کی باتیں سن کر کچھ زیادہ ہی ڈر گیا تھا ، میری کیفیت کو دیکھتے ہوئے اس نے چند ایک کو لاٹھی کے سہارے چلوا بھی دیا تھا ورنہ جس طرح وہ آپریشن کے بعد کی صورتحال بتا رہا تھا شاید میں بھی اسی وقت ہی بیٹھ جاتا ،خیر ہومیو پیتھک دوائی سات دن کھانے کے بعد جب مجھے پکا یقین ہوگیا کہ دو خوراکوں سے ٹھیک ہونے والا مرض سات دن کی مسلسل خوراک کشی سے بھی ٹھیک نہیں ہو ا تو پھر میں نے ریڑھ کی ہڈی کے سپیشلسٹ کے پاس جانے کا پکا ارادہ کر لیا ،اب درد کے ساتھ ساتھ میری کمر بھی جھک رہی تھی ،ہسپتال پہنچنے سے پہلے ایک بندہ ڈھونڈا جو ہسپتال میں کلاس فور کا ملازم تھا ،اس کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اس نے میری بات ایسے سنی جیسے کوئی ایم بی بی ایس ،بڑے غورسے مریض کا مسئلہ سنتا ہے ،ساری بات سننے کے بعد اس نے کہا ،بابا جی فکر ہی نہ کرو،آپ آجاﺅ ہسپتال سب سے بڑے ڈاکٹر کو چیک کروادیتا ہوں ،مسئلہ ای کوئی نئیں ،میں ہسپتال پہنچا تو وہ جوان پہلے سے پرچی والے کاﺅنٹر پہ موجود کھڑا تھا ،میری پرچی بنو ا کر مجھے ایک گیلری میں لے گیا جہاں مریضوں کا رش تھا اور ہائے ہائے کی صدائیں ماحول کو افسردہ کیے ہوئے تھیں،کسی کی ٹانگ پہ پلستر تھا ،کسی کے کندھے پہ ،کوئی بیساکھیوں سے چل رہا تھا توکوئی وہیل چیئر پہ ،لیکن کسی کو ڈاکٹر کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں مل رہی تھی ،ڈاکٹر صاحب کے دروازے میں بیٹے اردلی یا آفس بوائے کے کان میں ،میرے والے جوان نے کچھ کہا ،تو سب مریضوں سے پہلے میرا نمبر لگ گیا ،کان میں کہی گئی منطق مجھے دو سو روپے کے عوض بتادی گئی تھی ،جب میں ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہو ا تو جناب من ،موبائل میں اس قدر کھوئے ہوئے تھے کہ انھوں نے سر اٹھا کے میری طرف دیکھے بغیر ہی ،فرمایا جی کہیے کیا مسئلہ ہے ،ڈاکٹر کا رویہ دیکھ کے مجھے لگا شاید میرے درد میں کچھ اضافہ ہوا ہے ،ڈاکٹر کے کمرے کے باہر مریض اللہ جانے کتنے پریشان اور تکلیف میں کھڑے تھے اور ڈاکٹر صاحب اندر کمرے میں ٹھنڈے ماحول میںموبائل میں مصروف ،بہر حال ڈاکٹر صاحب نے موبائل کی سکرین پہ انگلیاں مارتے مارتے ہی میری بات سنی اور میری پرچی پہ نہ پڑھی جانے والی تحریر لکھ کے کہا سات دن دوائی کھاﺅ اور پھر دکھانا ،میں نے سہمے انداز میں کہا سر کوئی احتیاطی تدابیر ،تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا پہلے سات دن دوائی کھاﺅ پھر آنا ،اور کموڈ استعمال کرو،سیڑھیاں مت چڑھنا،شاید ڈاکٹر صاحب موبائل سکرین پہ کوئی ریحام خان کے بارے خبر پڑھ رہے تھے میں بس ریحام خان کی تصویر ہی دیکھ پایا تھا ،ڈاکٹر صاحب نے جس انداز اور دلچسپی سے میرا معائنہ کیا تھا یا نسخہ لکھا تھا ،میرا دل بالکل مطمعن نہ ہوا ، میں نے پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ،پرائیویٹ کلینک کا نام صیغہ راز ہے ،ٹائم لیا ،تو مبلغ پچیس سو روپے کاﺅنٹر پہ جمع کروائے ،کوئی پانچ گھنٹے انتطار کے بعد میرا نمبر آیا ،پانچ گھنٹے کوئی زیادہ ٹائم نہیں تھا کیوں کہ ڈاکٹر صاحب ایک مریض پہ ہی تقریباََ پندرہ سے بیس منٹ لگا رہے تھے ،میرا نمبر آیا تو بڑے احترام سے میرا نام پکارا گیا ،اب میں کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا ،مجھے لگ رہا تھا کہ میں سچ مچ ایک باعزت شہری اور مریض ہوں ،کیوں کہ مجھ سے چلا نہیں جاتاتھا اس لیے ہسپتال کے عملے کے ایک لڑکے نے بڑے ادب سے اور احتیاط سے مجھے بازو سے پکڑ کر سہارا دیا،اور میں سزائے موت کے قیدی کی طرح جو پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہو،رینگنے کے سے انداز میں پاﺅں گھسیٹتا ہوالڑکے کے پیچھے چل کر انتہائی عالیشان کمرے میں داخل ہوا کمرے میں چلتے اے سی کی ٹھنڈی ہوا سے شاید کچھ وقت کے لیے میرے باقی ماندہ پٹھے بھی سن ہوگئے ہوں گے ،ڈاکٹر صاحب جو ایک ادھیڑ عمر شخص تھے اس عمر میں شیر بھی کعبے کی طرف منہ کر کے بیٹھنا شروع کردیتاہے ،کیوں کہ اسے بھی موت کا فرشتہ دکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے ،لیکن جس طرح ڈاکٹر صاحب لوٹ مار کر رہے تھے مجال ہے ڈاکٹر صاحب کو موت یاد بھی ہو،ڈاکٹر صاحب نے ایک صاف شفاف نرم بستر پہ مجھے لیٹنے کو کہا ،جب انھوں نے دیکھا کہ درد اور کھچاﺅ کی وجہ سے میں لیٹ نہیں پا رہا ہوں تو وہ خود اپنی کرسی سے اٹھ کر میرے قریب تشریف لے آئے ،لیٹنے میں میری مدد کی ،میری جرابیں ڈاکٹر صاحب نے اپنے دست شفقت سے خود اتاریں ،اتنا باریک بینی سے میرا معائینہ کیا کہ شاید کوئی مالشی بھی ان رگوں اور پٹھوں کو اتنی بے تکلفی سے نہ چھیڑتا ہو جن کو ڈاکٹر صاحب ٹوہ ٹوہ کر چیک کر رہے تھے درد میری ٹانگ میں تھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے میرے ہاتھوں کی اور پاﺅں کی انگلیوں پہ بھی مساج کر دیا تھا،میرے گھٹنوں پہ ایک چھوٹی سی ہتھوڑی سے اس طرح ضربیں لگائیں جیسے چپڑاسی سکول کی گھنٹی بجاتاہے،ڈاکٹر صاحب میرا چیک اپ کر رہے تھے اور میرے دل میں یہ وسوسے جوش مار رہے تھے کہیں ڈاکٹر صاحب اور پیسے نہ مانگ لیں ،اب میری آنکھوں کے سامنے وہ سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر بھی آرہا تھا جس کی موبائل سکرین پہ رقصاں انگلیوں نے میری نبض پکڑنا بھی گوارا نہ کیاتھا ، جس نے موبائل سکرین سے آنکھیں تک نہ ہٹائیں تھیں ،جس کی زبان سے دلاسے کے دولفظ بھی نہ نکل سکے تھے ،جسے دیکھ کر ایسا لگا تھا شاید کسی نے اسے زبردستی پکڑ کر اس ٹھنڈے کمرے میں قید کردیا ہو،جسے سسکتے چلاتے مریضوں کی ہائے ہائے بھی سنائی نہیں دے رہی تھی ،جب پرائیویٹ ڈاکٹر صاحب میرا معائینہ کر چکے تو ایک لمبا چوڑا پرچہ انھوں نے میرے ہاتھوںمیں تھما دیا اور فرمایا کاﺅنٹر سے دوائی لے لیں ،فیس تو آپ نے جمع کرواہی دی ہوگی ،میرا گلا خشک ہوگیا اے سی والے کمرے میں میرے پسینے چھوٹ گئے ،کیو ں کہ میرا خیا ل تھا کہ جو پچیس سو میں نے آتے ہی کاﺅنٹر پہ جمع کروائے ہیں ، وہ فیس اور میڈیسن کے لیے کافی ہوں گے لیکن یہاں صوتحال کچھ اور تھی ،کاﺅنٹر سے جب دوائی لی اور بل پوچھا تو پتہ چلا کہ جو پہلے آپ نے پیسے دیے تھے وہ چیک اپ فیس تھی اوراب دوائی کے الگ سے پینتیس سو چالیس روپے مجھے دینے تھے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی دوستو!!! کئی روز قبل صبا ممتاز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے