سر ورق / شاعری / غزل سرائے۔۔ شین زاد

غزل سرائے۔۔ شین زاد

احمد جہاں گیر

غزل سرائے 1

یکتائی میں خواہش ابھری، جب پہچانے جانے کی
اس نے مٹّی چاک پہ رکھّی، ہستی کے ویرانے کی
صبح گلابِ ذکر کی خوش بو اک ہیکل کے چار طرف
رات زبورِ حمد سے روشن ایک تلاوت خانے کی
غائب کا فانوس فروزاں، ایک مبارک روغن سے
مشعل جو محتاج نہیں بتّی کو آگ دکھانے کی
اپنے سچّے رنگ میں تازہ، ہر فرقے کا پھول رہے
دنیا کی تصویر میں ابھرے، شکل جماعت خانے کی
سانس کا آتا جاتا مصرع، صرف شہادت پڑھتا ہو
نعمت کی تحدیث کا دن ہو، رات رہے شکرانے کی
پھلواری کے گھاٹ پہ اتروں، اور سچّوں کے ساتھ رہوں
سر پر اس کے ذکر کا نشّہ، مستی ہو دو گانے کی
نعمت کی تقطیع نہ کرنا، رحمت کی تشریح نہیں
خاموشی سے صرف زیارت، سارے تانے بانے کی
قالینوں کی راکھ اٹھا لے، میناروں کی خاک لپیٹ
حیرت کا ناقوس پکارا، ساعت ہے اٹھ جانے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حمیدہ شاہین


غزل سرائے1

کچھ نہ کچھ توڑتے رہتے ہیں بناتے ہوئے لوگ
کیا کریں حلقہءِ تعمیر میں آتے ہوئے لوگ

جیب میں صرف زرِ خوف ہے ، کیا خرچ کریں
قرض میں کٹتے ہوئے ، رنج کماتے ہوئے لوگ

کشتیاں مفت میسّر تھیں کہ معلوم ہوا
ایک گرداب ہیں یہ پار لگاتے ہوئے لوگ

میں نے تنہائی کے البم میں چھپا رکھے ہیں
رقص کرتے ہوئے اور شور مچاتے ہوئے لوگ

چھتریاں بیچنے آئیں گے یہی سود نفَس
آریاں تھامے ہوئے پیڑ گراتے ہوئے لوگ

اپنے ہاتھوں کو نہ پہچان سکیں گے اک دن
موت کے رقص میں کشکول بجاتے ہوئے لوگ

آ کسی خواب سے لے آتے ہیں منّت کر کے
گدگداتے ہوئے ، ہنستے ہوئے ، گاتے ہوئے لوگ

زاہد کلیم


غزل سرائے1

کتنے چپ چاپ ہیں یہ چاند ستارے سارے
جیسے دکھ جانتے ہوں میرے تمھارے سارے

ایک دو روگ تو ہر شخص لئے پھرتا ہے
کیا قیامت ہے بیاں تو کرو بارے سارے

آئینہ تک مری پہچان سے انکاری تھا
بارش غم نے خدوخال نکھارے سارے

سر پھری تیز ہوا تھی نہ کوئی دستِ شفیق
شبِ تنہا نے مرے بال سنوارے سارے

درد ہی اپنا مرض، درد ہی اپنا درماں
پھر کسے کھوجتے ہیں درد کے مارے سارے

وہ زرا سا بھی، زرا سا بھی ہمارا نہ ہوا
ہم اسی کے تھے اسی کے رہے سارے سارے

بارے احسان تو رہ جائے گا زاہد صاحب!
کوئی سینے سے بھلے بوجھ اتارے سارے

سرفراز زاھد


غزل سرائے 1

بھنور  میں  مشورے  پانی سے  لیتا  ہوں

میں ہر مشکل  کو  آسانی  سے  لیتا  ہوں

جہاں دانائی دیتی  ہے کوئی  موقع

وہاں  میں  کام  نادانی سے لیتا  ہوں

وہ منصوبے ہیں کچھ ،آباد ہونے کے

میں جن پر  رائے ویرانی سے لیتا ہوں

اب اپنے آبلوں کی  گھاٹیوں سے بھی

سمندر دیکھ آسانی سے لیتا ہوں

نہیں لیتا  مگر لینے پہ آؤں تو

میں بدلہ آگ کا پانی سے لیتا ہوں

نظر انداز کر دیتی ہے جب دُنیا

جنم خود اپنی حیرانی سے لیتا ہوں

وہاں مشکل میں پڑ جاتے ہیں گرد و پیش

جہاں میں سانس آسانی سے لیتا ہوں

لگاتا ہے مری بینائی پر تہمت

میں فتوے جس کی عریانی سے لیتا ہوں

شاہد جمیل احمد


غزل سرائے1
اِس دَیرکی بھی خیر ہو،اُس دَیر کی بھی خیر
اے ، اِذنِ تیقُن تِرے ہر بَیر کی بھی خیر
زُلفوں سے ٹپکتے ہوئے گوہر پہ میں قُرباں
بپتِسمہ اُڑاتی ہوئی، اُس خیر کی بھی خیر
پڑ جائے جہاں ، جشنِ بہاراں ہو وہیں پہ
ہر یالی اُگاتے ہوئے اُس پَیر کی بھی خیر
ہم لوگ ، فقیرانِ جہانِ تگ و دو ہیں
ہم لوگ کہ جو مانگتے ہیں ،غیر کی بھی خیر
جو تجھ کو عطا کرتی ہے ادراک کی صورت
اے شاہدِ یزدان ، تری سیر کی بھی خیر

عطاء تراب


اوّل عشق میں جذبے جوشیلے ہوں گے
آخر یہ سورج بھی برفیلے ہوں گے
روپ نگر کے سانپوں کی یہ خصلت ہے
جتنے سُندر اتنے زہریلے ہوں گے
میری آنکھوں سے گر بوسے ٹپکے ہیں
ہونٹ تو اس ناری کے بھی گیلے ہوں گے
زخم ہرے کرنے کی اپنی لذت ہے
موج میں آ کر تم نے بھی چھیلے ہوں گے
اک لمحے کو چار نہ ہو پائیں آنکھیں
اس کے نیناں اتنے شرمیلے ہوں گے
زہر کی صورت پھیل گیا ہر سمت خلا
موت کے جتنے رنگ ہیں سب نیلے ہوں گے
ڈوب گئے ہیں کتنے سورج ان کے بیچ
آنکھوں پار بھی غم کے کچھ ٹیلے ہوں گے
آنکھیں چندیا جائیں گی کب سوچا تھا
تیرے آنسو اتنے چمکیلے ہوں گے

 

علی زیرک


غزل سرائے 1

دستر خوان پہ ٹھنڈے سورج تھے اور بنجر تھے

یار محمد بخشا! مٹھی کھیر میں کنکر تھے

بچپن تھا اور جیب میں کیری اور غلیلیں تھیں

پیڑوں سے یاری تھی، سارے پنچھی ازبر تھے

کنچوں کے رنگین دلاسے ، انگوری سپنے

باغ میں کچے امرودوں کی تاک میں پتھر تھے

بھوت، چھلاوے: کچی آگ اور پکی نیندیں تھیں

آدھے خود سے باہر تھے ہم، آدھے اندر تھے

بھادوں جیسی جلد کے اندر مجبوری کا نم

حبس میں گیتوں کے کلکارے ۔۔یعنی نشتر تھے

چرخے پر اک رات چڑھی تھی ، سناٹا بھی تھا

ماں کے بوڑھے ہاتھ میں اجلے اجلے منظر تھے

تیکھے نقش تھے آوازوں کے ،شور کی شفقت تھی

روہی کے کھیتوں میں شیشم جیسے پیکر تھے

گلناز کوثر


غزل سرائے1

چلتی گاڑی سے وہ منظر ہونے لگا اک آن میں گم

لڑکا روپ کے جال میں الجھا لڑکی اپنے دھیان میں گم

ڈھلتی شام کا آخری ٹکڑارات کی جھیل میں ڈوب گیا

جیسے ہوا تھا صبح کا تارہ دھوپ کے کُھلتے تھان میں گم

کتنے زمانے باندھ لیے تھے دو نینوں کے جادو نے

کیسے کیسے رنج ہوئے تھے اک میٹھی مسکان میں گم

چلتے چلتے رہ گئی پیچھے گجروں کی مدھم خوشبو

رات کی رانی ہو گئی آخر بندھے ہوئے سامان میں گم

لمبی نیند کے سپنے جیسا وقت گزرتا رہتا ہے

گاہ کسی ارمان سے لپٹا گاہ کسی پیمان میں گم

نیل احمد


غزل سرائے1

وہ  دیکھو  آئے ہیں اب میری جاں کو

دکھاتے ہیں جو سپنے دو جہاں کو

جو آئے تھے تخیل کی گلی سے

نہ جانے چل پڑے ہیں اب کہاں کو

ہے آئینہ مکمل ایک ہستی

بس اک قدرت نہیں اس کی زباں کو

زمیں کا حوصلہ دیکھا ہے تم نے

چڑھا رکھا ہے سر پہ آسماں کو

تذبذب میں مکاں ڈوبا ہوا ہے

کہ حیرت تک رہی ہے لامکاں کو

سبھی کا ہے جہاں میں کوئی  وارث

یہ کشتی ہے سمندر کی اماں کو

ﯾﺎﺳﺮﺍﻗﺒﺎﻝ


غزل سرائے1

مستقبل کی آنکھ پہن کر غلط اندازہ روئے تھے
کہنے کو تو باسی جسم تھے پہ ہم تازہ روئے تھے
یادوں کی زنبیل کھلی تھی چوکھٹ کی گزران میں یوں
کچھ لمحے دیوار سے لپٹے کچھ دروازہ روئے تھے
برس رہی تھی باغِ عدن سے چھم چھم غم کی ہریالی
پیڑ فلک کے دروازے پر یک آوازہ روئے تھے
کاجل کاجل بہتی گئی تھی صبحِ جدائی والی آنکھ
آنکھ میں اندھے وصل کے چہرے غازہ غازہ روئے تھے
سبز کتاب کی ماتم خوانی اور سفیر شراکت کے
کچھ بکھرے اوراق پہ تڑپے کچھ شیرازہ روئے تھے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شام میری دلہن بنتی ہے …ریحانہ ستار ہاشمی

            ریحانہ ستار ہاشمی             فیصل آباد سے تعلق ہے              بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے