سر ورق / ناول / بے رنگ پیا۔۔ امجدجاوید۔۔۔ قسط نمبر5

بے رنگ پیا۔۔ امجدجاوید۔۔۔ قسط نمبر5

قسط نمبر 5

سید ذیشان رسول صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ سارے آ نے والے لوگ جا چکے تھے۔ دوپہر بھی ہونے والی تھی ۔ وہ ایسے وقت میں اٹھ جایا کرتے تھے۔لیکن وہ پھر بھی بیٹھے تھے۔ وہ بار بار دروازے کی جانب دیکھ رہے تھے جیسے انہیںکسی کا انتظار ہو ۔ایسے میں ان کا خاص ملازم اندر آ گیا۔

”کوئی ہے باہر یا….“ شاہ صاحب نے پوچھا

”ایک نوجوان ہے ، وہ اندر آ نا چاہ رہا تھا، لیکن ایسے میں ایک ایم پی اے آ گیا آپ سے ملنے کے لئے۔ وہ نوجوان رُک گیا اور اس نے انہیںاندر آنے کے لئے کہہ دیا ہے ۔میں یہ اجازت لینے آیا تھا کہ ایم پی اے نے وقت نہیںلیا،اور آپ کے آرام کا وقت بھی ہو رہا ہے ، کیامیں اسے واپس ….“

” اسے اندر بھیج دو ۔“ شاہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا تو ملازم واپس پلٹ گیا۔ ایک منٹ بعد ہی طاہر باجوہ اندر آ گیا ۔ سلام ودعا کے بعد وہ سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا تو شاہ صاحب نے طاہر کی طرف دیکھ کر پوچھا

” آ پ ہو ایم پی اے؟“

” جی میں ہی ہوں ۔“ طاہر نے دھیمے سے کہاتو شاہ صاحب چند لمحے خاموش رہے پھربولے

” حکم کریں۔“

” نہیں، بس میں آپ سے ملناچاہتا تھا۔“ طاہر نے جلدی سے کہا

”پھر بھی کوئی حکم ؟“ انہوں نے پوچھا

” جی نہیں،میں آپ کی باتیں سننے آیا تھا، لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ لیکچر کا وقت ختم ہو گیا ہے۔“ طاہر نے کہنا چاہا ، جسے سن کر شاہ صاحب بولے

” اچھا، اگر باتیں ہی سننی ہیں تو بیٹھیں۔“ یہ کہہ کر انہوں نے گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔ ملازم بازگشت کی طرح اندر آ گیا۔ اسے دیکھتے ہی شاہ صاحب بولے،” اس نوجوان کو اندر بھیج دو ۔“

” جی اچھا۔“ یہ کہتے ہوئے ملازم پلٹ گیا۔

چند ثانئے بعد ہی وہ نوجوان اندر آ گیا ۔ وہ بڑے تپاک سے ملااور اشارہ پاتے ہیں ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ تب شاہ صاحب بولے

”حکم کریں ، کوئی نیا سوال ہے آ پ کے پاس ؟“

” جی ، میں ایک بات سمجھنا چاہ رہا ہوں۔“ اس نوجوان نے سکون سے کہا

” بولیں۔“ شاہ صاحب اس کی جانب پوری طرح متوجہ ہوتے ہوئے بولے تو اس نے پوچھا

” انسان میںاحساس اُجاگر کر نے کے بعد جو اس کی امری پیدائش ہو گی، یہی وہ مقام ہے جو انسان کے لئے مزید آ گے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔اب امری پیدائش کے بعد کیسی قوت بیدار ہوتی ہے ؟“

” اس کے اختیار کی قوت ۔اگر اسے مادی ترقی کی طرف لگا ئیں گے تو وہ لگ جائے گا۔ اگر روحانی ترقی کی طرف لگائیں گے تو وہ ادھر بھی لگ جائے گا ۔ اب ہم یہ کہیں گے کہ انسان میں جو صفات ہیںاگر انہیں اجاگر کر نے کے لئے ایک معیار پر لے آئیں،تو ویسا ہی کرے گا ۔ اب اسے مزید آسان لفظوں میں یوں سمجھو کہ جیسے ایک آ دمی کو یہ احساس ہو تا ہے کہ میرے اندر تخلیقی صلاحیتیں ہیں ۔میں نے اس کا کچھ بھی نہیںکیا۔تخلیقی قوت کے احساس کے ساتھ اس کے اندر سے یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ اس قوت کو استعمال کرے گا یا نہیں۔ اگر فیصلہ ہاں میں ہو جاتا ہے تو پھروہ کس سمت میں جاتا ہے ۔اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار وہ کیسے کرتا ہے ؟شاعری، نثر نگاری، مصوری، مجسمہ سازی وغیرہ۔“ شاہ صاحب نے دھیمے لہجے میں سمجھایا

” شاہ صاحب اب یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوگا؟“ اس نے نیا سوال کر دیا تو شاہ صاحب نے کہا

”سفر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ظاہر سے باطن کی طرف یا باطن سے ظاہر کی طرف۔کائنات ازل سے ابد کی طرف جا رہی یعنی باطن سے ظاہر کی طرف ، تو میرا خیال ہے یہی طریقہ انتہائی مناسب ہے ۔“

”اس عمل کو جب انسان اپنا لے گا تو آگے کیا ہوگا؟“ نوجوان نے پوچھا

”کیونکہ اس تمام کائنات کی بنیاد انسان ہے۔ اگر وہ ہی باصلاحیت نہیں تو وہ اس کائنات کے ساتھ ایڈ جسٹ نہیں کر پائے گا ۔اور اگر وہ انسان، وہی انسان ہے، جو احسن تقویم والا ہے ، تب یہ کائنات کا مرکز بن جائے گا، جیسے ہی اس کائنات کے ساتھ وہ برابر ہوگا، اس پر راز کُھلنا شروع ہو جائیں گے ۔“انہوں نے کہا

” ایک بندے کے پاس معلومات ہی نہیں ہیں۔بچے کے پاس کہاں سے معلومات ہوں گی۔“ نوجوان نے کسی قدر الجھتے ہوئے پوچھا

”ایک بچہ ، جو فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ۔وہ احسن تقویم پر ہے۔ اس میں علم بھی ہے اور تمام تر صلاحیتیں بھی ۔بجائے اس کے کہ اس میں سے کھوج لگائیں، ہم علم کے ٹوکرے اس میں انڈیلنا شروع کر دیں۔ تب وہ بچہ ہمارے جیسا ہی ہو جائے گا ۔میں کہتا ہوں کہ اس بچے میںجو فطری صلاحیتیں ہیں، جسے رَبّ تعالیٰ نے احسن تقویم پر پیدا کیا، اسی پر اس بچے کو کھڑا کر دیا جائے ۔اس میں سب کچھ ہے ۔اس کی فطری صلاحیتوں کو ابھارا جائے ۔“ شاہ صاحب نے بتایا

”بچہ کیا اتنی معلومات رکھتا ہے؟“اس نے پوچھا تو شاہ صاحب کہتے چلے گئے

” آپ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کاغذ کا ایک پر چہ ہے ۔وہ صاف ہے ۔ہم اس پر لکھ سکتے ہیں۔ لیکن جس پر چے پر پہلے ہی لکھا ہوا ہے اگر آپ اس پر لکھیں گے تو آپ اوور رائٹنگ کریں گے ۔ بچہ پیدا ہوتے ہی بے رنگ ہے ۔ اس نے بعد میں بے رنگ نہیںبننا، اگر بنے گا تو مشکل ہو گی ۔بچہ جیسے جیسے پیار بھری حرکتیں کرتا ہے اس کے پیچھے چل پڑیں۔ وہ خود کو بچا لے گا ۔ جو چیزیں ہم اسے دیتے ہیں، اس سے وہ ہمارے پیچھے لگ جائے گا۔اور پھر وہ ہمارے جیسا ہو جائے گا ۔ اسے اپنی بے رنگی کااحساس ہی ختم ہو جائے گا ۔اس بچے کاسارا علم کیا ہے ، اس کا پیار، عشق حقیقی کیاہے سچا پیار۔بے رنگی دل کی ۔وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ سچے دل سے سچے پیار سے چل رہا ہے ۔“

”سوال یہ ہے کہ اگر بچے کو فطر ت پر لے کر آئیں تو اس میں جہاں محبت ہے وہاں نفرت بھی ہے ۔“ نوجوان نے پوچھا تو شاہ صاحب نے فوراً ہی کہا

”یہ ایک غلط فہمی ہے۔معاشرتی عدم توازن بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے ۔بچے کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا گیا۔ وہ مثبت صلاحیتوں پر پیدا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ جو بھی منفی لے گا ، وہ دنیا ہی سے لے گا۔ ہم سمجھنے کے لئے مہاتما بدھ کی مثال لے سکتے ہیں۔ ہم ایک بچے کو محبت کے حصار میں رکھ کر باہر نکالیں گے تو وہ اپنی محبت ہی میں باہر آ ئے گا ۔ دشمنی کے ساتھ نہیں۔ اندھیر ا،دنیا کی طرف سے آ تا ہے ۔ بچے کی جبلت میں نفرت نہیں ۔بگاڑ باہر کی طرف سے ہے ۔رَبّ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتیں اجاگر ہوں گی تو وہ عطیہ کس حد تک طاقت ور ہوگا؟ جیسے بچے کو جو زبان دی جائے گی ، وہی بولے گا ۔ جرم سامنے نہیںہوگا تو جرم سے واقف بھی نہیںہوگا۔ ہر شے بدل جائے گی مگر اس کی محبت والی فطرت نہیںبدلے گی اور نہ اسے بدلا جا سکتا ہے ۔اس کے اندر جو عشق کی بنیاد پڑی ہے وہ عشق دراصل بے رنگ ہے۔ اس کے اندر پڑی محبت بر قرار ہے ۔ کیونکہ وہ بے رنگ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت از خود ہے۔نفرت پیدا کرنی پڑتی ہے ۔ دراصل وہ نفرت ظاہر کیوں ہوتی ہے ۔ وہ معاشرتی بد اعتدالی ہے ۔ باہر کا رد عمل ہے ۔“

” کیا وہ معیار یہی بچہ ہے یابچے کی بے رنگی؟“ نوجوان نے مسکراتے ہوئے سکون سے پوچھا

” انسان کو بھی اس بچے کی فطرت پرآنا ہوگا ۔جیسے یہ انسان اس دنیا میں آیا ہے ۔ ویسے ہی پلٹ جائے اس سے زیادہ کامیابی کوئی نہیں۔ اس پر دنیا کا رنگ نہ چڑھے۔ یہی حقیقی سپر مین ہے۔ یہی بے رنگ پّیا ہے ۔یہ ایک معیار ہے۔ جس کے ساتھ توازن کیا جا سکتا ہے۔اس بچے کی صلاحیتیں لافانی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کرتا کیاہے ۔ جو چاہا وہ ہو گیا۔“ شاہ صاحب نے بھی مسکراتے ہوئے بتایا

” بچے کی اس بے رنگی کی فطرت پر آ جانے کے بعد انسان پر کیا اثرات ہوں گے، باہر کے ساتھ وہ کیسا تعلق جوڑے گا۔“ نوجوان نے پوچھا

 ”انسان اس کائنات کے ساتھ تبھی برابر ہوتا ہے ، جب وہ خود اپنی ذات میں برابر ہو جائے گا۔ تب کائنات بھی اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔“

” اس کی روح چاہے جتنی آلودہ ہوجائے؟ یا پھر….“ نوجوان پوچھتے ہوئے رُک گیا

”روح تو آلودہ ہوتی ہی نہیں۔وہ روح ہی کیا جو آلودہ ہو جائے ۔ جو بندہ اثبات کو سامنے رکھ کر چلے گا ، وہ فنا و بقا کو پا لے گا ۔ جو نفی کو پہلے رکھتا ہے ۔ وہ اثبات تک نہیں پہنچ پاتا، بھٹک جائے گا ۔ خیر۔! یہ بات ہم پھر اگلی کسی نشست میں کریں گے ، فی الحال اتنا ہی سمجھ لیں کہ بچے کی جو فطرت سلیمہ ہے وہ بے رنگ ہے۔ یہی ہمارا مقصود ہے ۔“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے سمجھایا۔

” جی شاہ صاحب بہت مہربانی ، یہ موضوع آئندہ سہی۔ اجازت دیں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ نوجوان اٹھا اور ہاتھ ملا کر باہر چلا گیا۔ طاہر اٹھا، اس نے بھی ہاتھ ملایا تو شاہ صاحب بولے

” میاں ایم پی اے صاحب۔! خیال رکھا کریں۔ حکومتی ایوانوں اور فقیر کے حجرے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔“ یہ کہہ کر انہوں نے طاہر کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ طاہر انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔ شاہ صاحب نے بیٹھے بیٹھے آ نکھیں بند کر لیں۔ طاہر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

ز….ژ….ز

آیت نے ایک بڑے سے بنگلے کے باہر اپنی کار روکی ہی تھی کہ گیٹ پر موجود چوکیدار نے بڑی تیزی سے گیٹ کھول دیا۔وہ کار پورچ تک لے گئی ۔جیسے ہی اس نے کار روکی ، طاہر داخلی دروازے پر نمودار ہوا ۔ وہ تیزی سے آ گے بڑھا اورڈرائیونگ سیٹ کی طرف والا دروازہ کھولتے ہوئے انتہائی خوشگوار لہجے میں بولا

” خوش آ مدید ، میرے گھر کو رونق بخشنے پر، یقین جانو مجھے دلی خوشی ہو رہی ہے ۔“

” واہ بڑا پروٹو کول دے رہے ہو ۔“ آیت نے کار سے باہر نکل کر مسکراتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا ۔ طاہر نے کار کا دروازہ بند کیا اور اندر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا

” جو اہم ہوتے ہیں، انہیں پروٹوکول دینے کو دل چاہتا ہے اور تم میرے لئے بہت اہم ہو ۔“

” کب سے ہو گئی میں تمہارے لئے اہم ؟“ اس بار آیت نے بھی مذاق بھرے انداز میں کہا

” جب سے تم ملی ہو، تب سے ہی اہم ہو ۔“ طاہر نے کہا تو آیت نے اس کی طرف دیکھا، وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس نے لفظ ہونٹوں ہی میں دبا لئے۔وہ اندر کی جانب چل پڑا۔ تو آیت بھی اس کے ساتھ اندر بڑھ گئی ۔

لاﺅنج بہت خوبصورت انداز میں سجایا ہوا تھا، جس کا مجموعی تاثر وہی جاگیردرانہ اظہار تھا۔وہی تلواریں، پرانی بندوق، ہرن کا سر، جانوروں کی کھالیں، بزرگوں کی شان و تمکنت ساتھ بنوائی ہوئی تصویریں، جو مہنگے فریم میں جڑی ہوئی تھیں۔ پرانی طرز کی چیزیں، نوادرات، یہ سب دیکھتے ہوئے آیت ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔

” کیسا لگا میرا گھر ؟“طاہر نے اُسے چاروں طرف دیکھتے ہوئے پا کر اشتیاق سے پوچھا

” بس ایک کمی سی محسوس ہو رہی ہے۔“ وہ دکھ سے بولی

” وہ کیا؟“ طاہر نے تجسس سے پوچھا

”کسی انسان کی کھال، یا وہ انسانی آہیں،تڑپتی ہوئی انسانیت کی نشانی ، انسانی تذلیل کے نظام کا کوئی ایوارڈیہاں دیوار پر نہیں ٹنگا ہوا، جو تم لوگوں کے ہاں عام ہے۔“ آیت نے انتہائی دکھ سے کہا

یہ سن کر طاہر کی آ نکھیںذرا سی پھیلیں، پھران میں جیسے شرمندگی اتر آئی ۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا

” ٹھیک کہتی ہو تم ۔لیکن ایک بات کہوں؟“

” ہاں کہو ۔“ آیت متوجہ ہوئے بولی

”تمہارا جس طرف اشارہ ہے، میں اس سے انکار نہیںکرتااور نہ ہی میں ان کی وکالت کروں گا ، لیکن اتنا تو کہوں گا ، کیا لوگوں کو شعور نہیںہے کہ وہ ظلم برداشت کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہاتو آ یت سوچتے ہوئے انداز میں بولی

” تم بھی ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ظالم کے خلاف نفرت تو سب کے دل میں ہوتی ہے۔ لیکن اس نفرت کو عملی صورت نہیں دیتے ، ڈرتے ہیں اوریہی خوف ظالم کو شہ دیتا ہے۔خیر یہ ایک لمبی بحث ہے۔سناﺅ کیسے چل رہا ہے سب ۔“

” وہی پہلے جیسا۔اپنی موج اورمستی۔“طاہر نے اختصار سے کہا

” بڑی خاموشی ہے تمہارے ہاںبھی۔“ آیت نے کہا

” ہاں ، یہاں ایسے ہی رہنا ہے ۔ میری شادی بھی ہوگئی تو بھی میری بیوی آبائی گھر میں رہے گی ۔اسی لئے میں اسے گھر نہیں ڈیرہ کہتا ہوں۔“ اس نے خوشگوار لہجے میں کہا تو ان کے درمیان خاموشی درآ ئی۔ کتنے ہی لمحے یونہی گذر گئے ، تب آیت نے خاموشی توڑی ۔

” وہ تمہارے یونیورسٹی فیلو کہاں ہوتے ہیں؟ کوئی رابطہ ہے ان سے ۔ کہاں ہوتے ہیں؟“

”ساجد ، وہیں بہاول پور میں نام کا وکیل ہے لیکن اصل میںاپنابزنس کر رہا ہے ۔ اس کے ساتھ سیاست بھی چل رہی ہے ۔ بابا ہی کے گروپ میں ہے ۔ آئندہ اسے مقامی سیاست میں لے آئیں گے ۔ منیب کا باپ یہاں اخبار میں صحافی تھا، اس نے منیب کو بھی اپنے ساتھ ہی لگا لیا۔ کچھ دن پہلے آ یا تھا میرے پاس کوئی انفارمیشن آ فیسر کی جاب بارے بات کر رہا تھا۔“ طاہر نے عام سے لہجے میں کہا

”چلو اچھا ہے ، وہ سیٹ ہو گئے ۔“ آیت نے بھی سکون سے کہا تو طاہر مسکراتے ہوئے بولا

 ” ایک بات پوچھوں ؟“

” پوچھو۔“ وہ بولی

” جس دن ہم پہلے دن ملے تھے۔تم نے تجسس ہی نہیں کیا ،کبھی نہیںپوچھا کہ اس دن ہماری کیا شرط لگی تھی، کیوں لگی تھی؟“ طاہر نے کہا

”میںنے ضروری نہیں سمجھا، وہ تم لوگوں کی باتیں تھیں۔“ آیت نے کاندھے اُچکاتے ہوئے کہا

”اصل میں منیب اور ساجد دنوں ہی مخلص تھے۔انہیں بھی یہ بات پوچھنے پر مامور کیا گیا تھا۔“ طاہر نے کہا تو آ یت نے تجسس سے پوچھا

” کون سی بات؟“

” جس کی وجہ سے شرط لگی تھی۔“طاہر نے کہا

” کیا بات تھی وہ ؟“ اس نے پھر پوچھا

” میں شروع سے بتاتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ ایک ثانئے کے لئے خاموش ہوا ، پھر کہتا چلا گیا،”بابا کے ایک دوست کی بیٹی ہے جویریہ ، بہت بولڈ لیکن کردار کی بہت اچھی ہے ، خوبصورت ہے ، وہ مجھ میں دلچسپی رکھتی تھی۔ اس نے ان دونوں سے کہا تھا۔ اُس وقت میںنے یہ مذاق سمجھا تھا۔خیر ۔!بعض اوقات بات کرنے میں بڑی غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے ۔ سامنے کی حقیقت ہوتی کچھ ہوتی ہے ، بندہ سمجھ کچھ دوسرا رہا ہوتا ہے۔“

” ہاں ۔! بس ایسا ہی ۔سمجھ اس وقت آ تی ہے ، جب ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا۔“آیت نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا تو طاہر کا ملازم نمودار ہوا ، جسے دیکھتے ہی وہ بولا

 ” اُوہ۔! ہم باتوں ہی میں لگ گئے۔ آﺅ ، لنچ کریں۔“

وہ دونوں اٹھ گئے ۔

میز پر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کس قدر تکلف کیا گیا تھا۔اس پر آیت نے ایک لفظ بھی نہیںکہا۔طاہر نے اپنے خلوص کا اظہار کیا تھا۔ وہ کوئی لفظ کہہ کر اس کی خوشی کو ماند نہیں کر سکتی تھی۔ وہ لمبی میز کے کناروں پر آ منے سامنے بیٹھ گئے۔ کھانے کے دوران وہ ساجد اور منیب کی باتوں کو لے کر یونیورسٹی کے دنوں کی باتیں کر تا رہا۔ انہی باتوں کے دوران طاہر نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

” آیت ۔! ایک آ فر ہے تمہارے لئے۔“

” کون سی آ فر ۔“ اس نے عام سے انداز میں پوچھا

”میںتمہارے بزنس میں شامل ہونا چاہتا ہوں، جتنا سرمایہ کہو میں لگا دیتا ہوں ۔“ طاہر نے کہا تو آیت نے اگلے ہی لمحے صاف انداز میں کہا

” نہیںمیں تمہیں اپنے بزنس میں شامل نہیں کر سکتی۔“

” کیوں۔“ اس نے حیرت سے پوچھا

” مجھے شراکت پسند نہیں۔“ اس نے وجہ بتا دی

” یہ کیا بات ہوئی ۔“ وہ الجھتے ہوئے بولا

” یہی تو ایک بات ہے ۔ شراکت اگر ہونی بھی ہو تو برابری کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔میں اپنے فیصلوں میں کسی کو برداشت نہیںکر سکتی اس لئے برابری ہو نہیںپائے گی ۔ میں اپنے فیصلے کا اختیار خود اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں۔ تم بھی ایسا ہی کرو ۔“آیت نے مسکراتے ہوئے سمجھایا

” میں ایسا کیسے ، سمجھا نہیں؟“اس نے پوچھا

” خود اپنا بزنس شروع کرو ۔ میں تمہاری مدد کردوں گی ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی تو وہ دھیمے سے بولا

” میں شاید ایسا نہ کر سکوں ۔“

” کیوں ؟“ اس نے پوچھا

” چھوڑو ۔“ طاہر نے ایک دم سے کہا تو آیت کچھ سوچتے ہوئے بولی

” ایسا نہیں کہ یہ میں تمہارے لئے کہہ رہی ہو ۔ میں کسی کے ساتھ بھی شراکت داری پسند نہیںکرتی ہوں ، اور نہ میںنے کی ہے ۔“

” خیر ، چھوڑو اس موضوع کو۔“ اس نے سکون سے کہا تو آ یت نے بھی تجسس نہیںکیا۔طاہر پھر سے یونیورسٹی کی باتیں کرنے لگا ۔لیکن اس بار اس کے لہجے میں تازگی نہیں رہی تھی۔ یوں جیسے وہ مرجھا گیا ہو ۔

وہ دوبارہ لاﺅنج میں آ کر بیٹھ گئے ۔آیت نے احساس کرلیا تھا کہ اس کے شراکت داری نہ کرنے پر طاہر کو دکھ ہوا ہے لیکن اس نے پھر اس موضوع پر نہ بات کی نہ کوئی وضاحت دی۔ وہ کافی دیر تک بیٹھنے کے بعد وہ واپس چل دی ۔

طاہر کو نجانے کیوں دکھ سا ہو رہا تھا۔وہ ڈسٹرب ہو گیاتھا۔

شام اُتر رہی تھی۔آسمان پر سفید گالوں کے جیسے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج ابھی غروب نہیںہوا تھا لیکن بادلوں کی وجہ سے روشنی کم ہو گئی تھی۔ اس وقت طاہر باجوہ کے بنگلے کا گیٹ کھلا اور اس میں سفید چھوٹی کار داخل ہوئی۔ اسے اپنے بنگلے کے لان میں اکیلے بیٹھے ابھی تھوڑی دیر ہی ہو ئی تھی ۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے دھری کرسیوں کے درمیان میز پر کافی سارے لوازمات پڑے ہوئے تھے۔ کار پورچ میں رکی تو اس میں سے منیب باہر آ گیا۔ وہ پہلے سے کافی حد تک سوبر ہو گیا ہوا تھا۔ اس نے طاہر کو لان میں بیٹھا دیکھ لیا تھا ۔ اسی لئے سیدھا اس کی طرف بڑھتا چلا آیاتھا۔

”بڑی بات ہے آ ج گھر پر ہی ہو ۔“ منیب نے قریب آ کر پوچھا تو طاہر نے کھڑے ہو کر بانہیں پھیلا دیں۔ دونوں گلے ملنے کے بعد آ منے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

” ہاںیار، بہت کم شامیں یہاں گھر میں گذرتی ہیں ، وہ بھی جب کبھی میں خود شور شرابے اور رش والی زندگی سے تنگ آ جاﺅں ۔ تب اچھی لگتی ہے تنہائی، سکون ملتا ہے ۔“ طاہر نے کہا تو منیب نے ہنستے ہوئے پوچھا

” آج مجھے کیوں بلا لیا،ڈسٹرب ہونے کو؟“

” نہیں ، مجھے لگتا ہے میں خود ڈسٹرب ہوں۔میںتم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔“

” صرف باتیں؟ وہ تو کوئی بھی تم سے کر سکتا ہے؟“ منیب نے حیرت سے پوچھا

” نہیں جس کے متعلق کرنی ہیں، اسے تم جانتے ہو۔“ طاہر نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا

” کون ، کس کے بارے میں ؟“ منیب نے پوچھا

” تمہیں یاد ہے نا وہ لڑکی جوہمیں یونیورسٹی میں ملی تھی، جو شرط ….“

” تم آیت النساءکی بات کر رہے ہو نا؟“ منیب نے پوچھا

” ہاںوہی ۔“ طاہر نے دھیمے سے کہا

” ہاں یار، ان دنوں اس کے بارے میں بہت غلط قسم کی باتیں سوچی تھیں ہم نے، آج بھی جب میں سوچتا ہوں نا اپنی بدگمانی پر تو بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔“ اس نے شرمندگی بھرے لہجے میںکہا تو طاہر یوں بولا جیسے خیالوں میں بہت دور تک پہنچا ہوا ہو۔

” یہی بات تم سے کرنی ہے ۔ایک اتفاقیہ ملاقات کے بعد میں جب بھی اس سے ملتا ہوں، اس کے بارے میں ایک نئی بات معلوم ہو تی ہے ۔یہ ٹھیک ہے ہر بندے کی اپنی ایک کہانی ہو تی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دلچسپ ہے یا نہیں،لیکن کہانی بہرحال ہوتی ہے۔ جن دنوں آیت النساءکو پہلی بار دیکھا تھا، ان دنوں آیت کی حالت بڑی خستہ تھی۔شاید وہ اپنے آ پ میں نہیںتھی۔خود سے بیگانہ، دنیا سے کٹی ہوئی، ا پنے آپ میں گم ۔ اُسے کسی کی پراوہ نہیں تھی۔لیکن اب ….“

” ہاں وہ تو بہت دولت مند بزنس ویمن ہے ۔میں بھی اس سے ملنا چاہتا تھا لیکن بس اپنی شرمندگی کے باعث نہیںمل سکا ، کیا بتاﺅں گا میں اسے کہ میں کیا سوچتا رہا ہوں۔“ منیب پھر شرمندگی ہی میںبولا

”اگر تم اس سے ملو گے نا ، تمہارے بتانے کے باوجود اس کے لئے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس کا دولت مند ہونا بھی کوئی ایسی اہم بات نہیںہے۔بلکہ وہ ایسی چیز ہے یار جو مجھے سمجھ ہی نہیںآ رہی ۔“

” اب تمہاری بات میری سمجھ میں نہیںآ رہی ۔“ منیب نے اُلجھتے ہوئے کہا

” بس اتنا سمجھ لو کہ وہ دولت، شہرت اور عزت سے بھی ماورا ہو چکی ہے۔ اس کے لئے اس دنیا کی کسی شے میں اہمیت نہیں۔ اسی لئے وہ میری سوچ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔“ طاہر نے کھوجتے ہوئے لہجے میںکہا

” کہیں وہ درویش تو نہیں ہوگئی ۔“ منیب نے قہقہ لگاتے ہوئے طنزیہ کہا لیکن طاہر انتہائی سنجیدگی بولا

” شاید اس سے بھی کہیںآگے کی چیز۔“

” میں سمجھا نہیں؟“ منیب نے طاہر کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے خود بھی سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا

” دیکھو، میں تمہیں اس کی بات بتاتا ہوں ، سنو، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عشق کی بھی کوئی پہچان ہوتی ہے ؟تو اس نے پتہ ہے کیا جواب دیا کہ ہاں ہوتی ہے ، لیکن عشق کی سمجھ عشق ہی عطا کرتا ہے۔ انہیں تو عشق کی خوشبو تک میسر نہیںہوتی جنہیں عشق نہ ہو ۔ تم اپنی سیاست کی سناﺅ، یہ تمہارے اوپر کی باتیں ہیں انہیںچھوڑو۔“ طاہر نے آیت کی بات من و عن دہرا دی جیسے وہ اب بھی اس کی بات سن رہا ہے۔ تبھی منیب نے تیزی سے پوچھا

” کمال ہے ،اس کی سوچ ایسی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ تم کیوں ڈسٹرب ہو؟ اس کی اپنی زندگی ، تمہاری اپنی زندگی ، آیت نے ٹھیک ہی تو کہا۔“

”یہ عشق کیا ہوتا ہے؟مجھے کیوں سمجھ نہیں اس کی ، میں یہ تو مان گیا ہوںکہ عشق کا وجود ہے ۔“

” کیسے مان گئے ہو؟“ منیب نے پوچھا

” آیت ہی کو دیکھ کر ، تم اس کے بارے میں سنو گے ، تو حیران رہ جاﺅ گے ۔“طاہر پر وہی سنجیدگی برقرار تھی ۔ جیسے وہ ایک ٹرانس میں ہو ۔اسے کچھ سمجھ میں نہ آ رہا ہو کہ ہو کیا کہہ رہا ہے۔ جیسے کوئی شرابی نشے میں بس اپنی ہی کہے جا رہا ہو۔تب منیب نے بے چارگی سے کہا

” دیکھو۔! میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ جیسے آیت نے کہا کہ عشق کی سمجھ عشق ہی دیتا ہے ۔ اب اس عشق کا پتہ تو اسی سے چلے گا ، جس نے عشق کیا ہو ؟یا جسے خود عشق ہو جائے ۔ چونکہ یہ میرے بس کی بات نہیںکیا بتاسکتا ہوں۔ مجھے تو اس کے بارے میںکوئی پتہ نہیں۔“

” ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔“ طاہر سوچتے ہوئے بولا

” مگر یہ تم کن چکروں میں پڑ گئے ہو ۔ یہ جو عشق مشک ہوتے نا ، اس میںبندہ کہیںکا نہیں رہتا ۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے تمہارے بابا تمہیں وزیر بنانے کی گیم کر رہے ہیں۔اس طرف دھیان دو، کوئی وزارت لو ، ہم جیسے لوگوں کا بھی بھلا ہو جائے۔“ منیب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو طاہر بولا

” لیکن یار ،کتنا سکون ہے اس دنیا میں ، میں وزیر بھی بن جاﺅں گا تو کیا ہوگا،نہ بنوں تب بھی ، ہمارا اسٹیٹس تو وہی ہے نا۔“

” سکون ، اور اس دنیا میں ، کیا بات کرتے ہو ؟دنیا میں صرف شور شرابا ہے ، گہما گہمی ہے ، سکون تو سکوت میں ہوتا ہے ، اور ایسا یہاں دنیا میں نہیںہے۔“

” ہے ، میرا دل کہتا ہے کہ ہے ۔جہاں تک میں نے سوچا ہے ، یہاں اس دنیا میں بھی کسی شے کا انت نہیں،سکون بھی ہے ، اور وہ بھی لامحدود ہے ۔لا محدود کہہ کر میں پھر ایک حد کا تعین کر رہا ہوں ۔“ طاہر نے خیالوں میں کھوئے ہوئے لہجے میں کہا تو منیب اُکتا گیا، اس لئے اُلجھتے ہوئے بولا

” مجھے پتہ ہوتا نا کہ تم نے ایسی بہکی بہکی باتیں کرنی ہیں تو شاید نہ آ تا، ابھی تو شام ہو رہی ہے تم نے ابھی سے اتنی پی لی ہے کہ بات….“ اس نے کہنا چاہالیکن طاہر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” میں پینا کب سے چھوڑ دیا ہے۔میں اب نہیںپیتا ہوں، اب تو سوچ رہا ہوں سگریٹ بھی چھوڑ دو، کیونکہ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ سگریٹ پینا آیت کو پسند نہیں۔“

” اوہ تو اس کا مطلب ہے مجھے چلنا چاہئے، میں اس لئے بیٹھا تھا کہ محفل لگے گی ، تبھی تم نے اب تک چائے کا نہیںپوچھا۔“وہ بولا

” یہ جو تمہارے سامنے اتنی نعمتیں پڑی ہیں۔ یہ لو ، چائے بھی آ جاتی ہے۔“ طاہر نے کہا

” اوکے۔“ اس نے کہا اور پلیٹ میں پڑے ایک سیب کو اٹھا لیا۔ ایسے میں ایک ملازم چائے لے کر آتا ہوا دکھائی دیا۔

” لو یہ چائے بھی آ گئی ۔ چائے پی لو پھر چاہے چلے جانا۔“ طاہر نے کہا تو منیب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ملازم نے چائے بنا دی تو وہ دونوں پینے لگے۔ اس دوران وہ حالیہ سیاست پر باتیں کرتے رہے ۔

ز….ژ….ز

دن کا فی چڑھ آ یا تھا۔دھوپ میں ہر شے نکھری ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ آیت تیار ہو کرلاﺅنج میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے میرون کلر کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا۔ جس میں سے اس کا گورا رنگ مزید نکھرا ہوا لگ رہا تھا۔وہ صوفے پر بیٹھی ایک فائل پڑھنے میں مگن تھی۔ اس کے چہرے پر سکوت کے ساتھ سکون تھا۔ باہر اس کا ڈرائیور پورچ میں کار کھڑی کئے اس کا انتظار کر رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو ۔زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ باہر پورچ میں ایک کار آ ن رکی۔جس کے چند منٹ بعد ہی امبرین داخلی دروازے میں نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی آیت اٹھ گئی تو امبرین دور ہی سے کہنے لگی

” سوری سوری ۔ میں ٹریفک میں پھنس گئی تھی۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اس کے گلے لگ گئی۔

” کوئی بات نہیں۔ اتنی زیادہ دیر بھی نہیںہوئی ۔“آیت نے اسے گلے لگاتے ہوئے نرم سے لہجے میںکہا تو وہ الگ ہو کر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی

”ہاں بس ایویں، آ دھا گھنٹہ ہی لیٹ ہوئی ہوں۔“

” چلو کوئی بات نہیں ، کچھ کھائے پئے گی ۔“ آیت نے پوچھا

” نہیں، میں نے ڈٹ کر ناشتہ کیا ہے۔“ وہ بولی

” چلو چائے تو پیﺅ گی نا، ناشتہ کئے دو گھنٹے ہو گئے ہوں گے۔“ آیت نے اندرکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو امبرین صوفے پر بیٹھ گئی۔اتنے میں ملازمہ آ ئی تو آیت نے اسے چائے کا کہہ دیا۔ آیت نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل اسے تھماتے ہوئے کہا

”اس میں پوری تفصیل ہے کہ کس طرح سکول چلانا ہے ۔ مجھے یقین ہے تم بہت اچھی طرح سب سنبھال لو گی۔“

” یہ تمہیں اتنا یقین کیوں ہے ؟“ امبرین نے پوچھا تو وہ اس کے پاس بیٹھ کر بولی

” اس لئے کہ جس مقصد کے لئے میںنے یہ سکول بنایا ہے ، تم اس کے بارے میں پوری طرح جانتی ہو۔میںسمجھتی ہوں ،یہ میرے رَبّ کا مجھ پر کرم ہے ،تم مل گئی ہو اس کام کے لئے۔“

” میںبھی تنگ آ گئی ہوں یار گھر میںبیٹھ بیٹھ کر۔کیا فائدہ پڑھنے کا اگر کسی کام ہی نہیںآیا، کسی آفس میں کام کرنے سے تو میرا جی گھبراتا ہے ورنہ سیدھی تیرے آفس میںپاس چلی آتی ۔“ اس نے کہا

”ہاں یہ تو ہے ؟“ وہ بولی

” شادی کے بعد میاں تو چلے گئے ہیں کویت، اورمیں یہاں اکیلی ۔ ویسے ایک بات ہے۔تمہیں دیکھ کر لگتا ہے جیسے تم پر وقت گذرا ہی نہیں،اسی طرح فریش ہو جیسے پہلے دیکھا تھا۔“

” بس یار وقت وقت کی بات ہے۔“ اس نے خیالوں میں کھوئے ہوئے انداز میں کہا

” سچ پوچھو تو میرے ذہن میں پتہ ہے کیا تصور آ گیا تھا تمہارے بارے میں۔“ وہ شرارت سے بولی

” کیا؟“آیت نے تجسس سے پوچھا

” یہی کہ تم نے کالے پیلے کپڑے پہنے ہوں گے۔ گلے میں رنگ برنگی مالائیں ہوںگئیں۔بال تمہارے جٹاداری ہوں گے اور تم پوری ملنگنی ہوںگی۔“اس نے کہا اور زور دار قہقہہ لگا دیا۔

” ارے واہ ، یہ تصور کیوں تھا۔“ یہ کہتے ہوئے آیت بھی ہنس دی ۔

”اس لئے کہ آخری بار جب یونیورسٹی میں تم آ ئی تھی تو تمہیں دیکھ کر مجھے بڑی مایوسی ہوئی تھی ، کیا حال بنایا ہوا تھا تم نے، تمہیں پتہ ہے، اس کے بعد ہم آ ج ملے ہیں۔“

” ہاں ۔!لیکن فون پر تو رابطہ رہا، تب میں آواز سے فریش نہیںلگی۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”وہی تو میں حیران ہوں۔ تم ایک دم سے بدل گئی ہو ۔مجھے اچھا لگا کہ تم وقت کے ساتھ چل رہی ہو ۔ خیرمیں تمہارا پراجیکٹ بھی سمجھ گئی ہوں۔ویسے جو کچھ تم سر مد کے لئے کر رہی ہو، ایسا کوئی کرتا نہیں۔“ آخری لفظ کہتے ہوئے امبرین کا لہجہ اداس ہو گیا۔آیت نے اس کی بات کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے کہا

” ظاہر ہے شروع میں تعداد تھوڑی ہو گی۔لیکن ہمارا مقصد کمائی نہیں،ان بچوں کو بھی تعلیم دینا ہے، جو کسی وجہ سے تعلیم حاصل نہیںکر سکتے ہیں۔“

” ہاں میں جانتی ہوں ۔“ امبرین سنجیدگی سے بولی

” اچھا ، اسے اچھی طرح پڑھنا،پھر ہم اس پر بات کریں گے ۔کوشش کرنا کہ آ ج ہی جا کر سکول بھی دیکھ آنا۔اور اگر سرمد سے ملنا چاہو تو فارم ہاﺅس چلی جانا۔مجھے وقت ملا تو میںبھی آجاﺅں گی۔“ اس نے سمجھایا

” میں جاﺅں گی ۔ میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔“ امبرین نے فائل کو کھول کر دیکھتے ہوئے کہا۔ اتنے میںملازمہ چائے لے کر آ گئی ۔

چائے پیتے ہوئے وہ دونوں اسی موضوع پر باتیں کرتی رہیں۔چائے پی لینے کے بعد آ یت نے اُٹھتے ہوئے کہا

” اچھا ، اب میںنکلتی ہوں آ فس کے لئے ، تمہارے انتظار میںکافی دیر ہوگئی۔“

” ہاں میںبھی چلتی ہوں۔“ امبرین نے بھی اٹھ کر کہا

دونوں ایک ساتھ پورچ میںآ ئیں۔اپنی اپنی گاڑیوں میںبیٹھ کر چل دیں۔

آیت اپنے آفس میں جا کر بیٹھی ہی تھی کہ طاہر کا فون آ گیا۔سیل فون کی اسکرین پر اس کا نمبر روشن تھا۔وہ چند لمحے دیکھتی رہی پھر کال رسیو کرتے ہوئے بولی

”ہاںطاہر بولو۔“

”میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔“ وہ بولا

”کوئی خاص بات؟“ اس نے پوچھا

” خاص ہو بھی سکتی ہے اور خاص نہیںبھی۔تم مان لو گی تو خاص ہو جائے گی ،نہیںمانو گی تو خاص نہیںہوگی۔“ وہ دھیمے سے لہجے میں بولا

” طاہر ، میں اس وقت بہت مصروف ہوں ۔ میرے آفس کا اس وقت پیک ٹائم ہے۔اگر کوئی بہت اہم بات ہے تو آ جاﺅ ، ورنہ ہم پھر کسی وقت بات کر لیں گے۔“اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا

”میں آ رہا ہوں ، لنچ تمہارے ساتھ کروں گا ۔“ اس نے حتمی انداز میں کہا

” ٹھیک ہے آ جاﺅ ۔“ آیت نے کہا اور فون بند کر دیا۔

تقریباً دو گھنٹے بعد وہ اس کے آ فس میں اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہاں بیٹھ کر اس نے آیت کی مصروفیت دیکھی۔کافی دیر بعد اس نے کام نمٹا کر ایک طویل سانس لی ، اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔

” ہاں بتاﺅ ، کیا بات ہے؟“

”کیا میں وہ وجہ جان سکتا ہوں کہ تمہارے ساتھ شراکت داری کیوں نہیںہو سکتی؟“ طاہر نے سکون سے کہا لیکن اس کے لہجے میں شکوہ چھلک گیا تھا۔ اس پر آیت چند لمحے خاموش رہی ، پھر مسکراتے ہوئے بولی

” میںچاہوں تو سکون سے گھر بیٹھ جاﺅں ۔سوائے نگرانی کرنے کے اور کچھ بھی نہ کروں تو یہ سب چلتا رہے گا ۔کیونکہ ہمارا بزنس مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔ہم یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دوسری بات، کسی بھی کاروبار کے لئے سر مایہ خون کی سی حیثیت رکھتا ہے۔لوگ کریڈٹ کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔اب تمہاری بات کا جواب دے رہی ہوں کہ یہ بزنس میرے لئے محض بزنس نہیںہے، یہ میرا پیشن ہے ، مقصد ہے میرا،اور اس مقصد میں کسی کی بھی شراکت داری مجھے قبول نہیں۔میرا خیال ہے اب تمہارا یہ سوال فضول ہوگا کہ یہ بزنس میرے لئے مقصد کیوں ہے۔“

” اگر میں تمہارے ساتھ اس مقصد میں شامل ہو جاﺅں۔“ طاہر نے پوچھا

”نہیں ہو سکتے ،میرے دادو کے بارے میں جو میرے جذبات ہیں وہ تمہارے نہیںہو سکتے ۔اور تمہارے بابا کے بارے میں جو تمہارے جذبات ہیں وہ میرے نہیں ہو سکتے ہیں۔مقصد تو پھر کہیں آ گے کی چیز ہے۔اسے دل پر نہ لو ۔یہیں اسی عمارت میں تمہاری نئی بزنس ….“ آ یت نے کہنا چاہا تو وہ بات کاٹ کر بولا

” میں یہ کر سکتا ہوں۔ بزنس میرے لئے اجنبی شے نہیں ہے ۔وہاں بہاول پور میں بھی ہم بزنس کرتے ہیں۔“

” تو پھر میرے ساتھ ہی کیوں؟“ آ یت نے سکون سے پوچھا

” بس ایسے ہی ، ایک تعلق کی خاطر۔“ وہ اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولا

” طاہر تم ایسے کیوں سوچ رہے ہو، ہم میں انجانا ہی سہی لیکن ایک تعلق تو ہے ، جو بہت مضبوط ہے۔ میرے خیال میں یہ تعلق ایسے کسی سہارے کا محتاج نہیں۔میں تمہاری احسان مند ہوں کہ تم نے مجھے ان دنوں سہارا دیا ، جب کسی طرف سے کوئی امید نہیںتھی۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

” اور یہی بات میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ تم نے میری عزت رکھی اور ….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بات ٹوکتے ہوئے بولی

” او ہو، یہ تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو۔لگتا ہے تمہیں کسی قسم کا ڈیپریشن ہو گیا ہے۔خوش رہا کرو ۔ زندگی کو سمجھو ، اسے انجوائے کرو۔ “ وہ ہنستے ہوئے بولی

” نہ بھی سمجھیں تو زندگی گزارنی ہے۔“ طاہر بھی ہنس دیا۔

” ہر بات کو اَنا پر نہیں لے جاتے۔یہ جو” میں“ ہے نا، یہ جہاں بڑے کام کی چیز ہے ، وہاں تباہ بھی کر دیتی ہے۔ بالکل کسی زوردارقوت کی مانند۔اس قوت کو تسخیر کر لو تو بڑے کام کی، اگر اس کے زیر اثر آ جاﺅ تو کہیں کا نہیںچھوڑتی ۔“

”میں سمجھتا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔لیکن قوت کی تسخیر کے لئے بھی قوت چاہئے ہوتی ہے۔“

” یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی ۔“ آ یت نے کہا اور اس کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش ہو گیا جیسے کچھ سوچ رہا ہو ۔ اس نے آ یت کے چہرے پر دیکھا، کچھ کہنا چاہا ،لیکن نہیںکہا، پھر بڑے دھیمے سے انداز میںکہا

” مجھے ایک بات بتاﺅ ،کیا تمہیں اپنی دولت پر ، اپنے بزنس پر اور اپنی صلاحیتوں پر اتنا ہی گھمنڈ ہے،اتنا غرور ہے تمہیں کہ تم کسی کے ساتھ شراکت داری پسند نہیںکرتی ہو ؟“ طاہر نے وہ بات کہہ دی ، جسے کہنے کے لئے وہ اس کے پاس آ یا تھا۔ اس پر آیت نے اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکے سے مسکرا دی وہ سمجھ رہی تھی کہ طاہر کی انا پر چوٹ پڑی ہے اور یہ لفظ صرف اور صرف اَنا کو بچانے کے لئے کہہ رہا تھا۔ سو اس نے نظر انداز کرنے کے لئے پوچھا

” میں سمجھی نہیں تم کیاکہنا چاہ رہے ہو ؟“

”میں یہ بات تم سے اسی وقت بھی کہہ سکتا تھا ، جب تم میرے گھر میں تھی اور تم نے مجھے منع کر دیا تھا ، میںنے وہاں نہیں کہی ۔ مجھے زیب نہیں دیتا تھا کہ میں تمہیں اپنے گھر میں ایسی بات کہوں، جو تمہیں گراں گذرے اور….“ اس نے کہنا چاہا تو آ یت نے بڑے سکون سے ہاتھ کا اشارہ کر کے بولی

” سنو۔! میں تمہارے سوال کے جواب میں کہہ سکتی ہوں کہ میںنے تو دولت کما کر دکھا دی ، تم کیا ہو ؟ ابھی تک اپنے باپ کی دولت پر گھمنڈ کر رہے ہو ،تمہیں اگر اپنے کسی سٹیٹس کا غرور ہے تو وہ تیرے باپ کا دیا ہوا ، تم کیا ہو ، اور تم نے اب تک کیا صلاحیت دکھائی ہے سوائے لڑکیوں میں دلچسپی لینے کے۔“

” میں کہیں سے سرمایہ لاﺅں، شراکت دار تو میں ہوں نا؟“ وہ بولا

” نہیں، یہ غلط ہے، ہاں تمہارا کمایا ہوا سرمایہ ہے تو لاﺅ؟ “ اس نے پوچھا

” تم میری بات کو ….“ وہ کہنے لگا تو آیت نے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا

”مجھے نہ دولت کمانے کا لالچ ہے، اورنہ کوئی بزنس ٹائیکون بننے کا شوق ہے۔میں ان لوگوں میں سے ہوں ، جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔میرے پاس یہ بزنس نہ بھی ہو تو میں اپنی روٹی کما سکتی ہوں لیکن۔!“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکی، پھر کہتی چلی گئی ۔”جب وقار حسین اس دنیا میں نہیں رہا۔ تب سے لے کر سرمد کے ملنے تک میرے پاس ذاتی خرچ کے لئے بھی روپے نہیںہوتے تھے۔سرمد کا علاج تمہارے سامنے کی بات ہے۔ لیکن مجھے سرمد کو دنیا کی ہر خوشی دینا تھی۔رابعہ کو یوں کسمپرسی کی حالت میں نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔ اس کے لئے مجھے دولت چاہئے تھی۔ اور وہ میں نے کمائی اور خود کمائی ۔“

”کمائی مطلب، تمہارے پاپا کا بزنس ، دادا کا….“ طاہر نے تیزی سے پوچھا

” تم یقین کرو یا نہ کرو ، میںنے ان سے ایک روپیہ بھی نہیںلیا تھا۔ابھی کچھ تقسیم نہیںکیا تھا دادا نے، اورمجھے کچھ بھی نہیں دیا تھا۔ ہاں میرے بزنس کرنے والے خاندان کا بیک گراﺅنڈ تھا میرے پاس۔جب میری مارکیٹ ویلیو بنی تو مجھے میرے دادا نے مجھے وراثت میں ملنے والی رقم دی۔ جسے میں سرمد پر خرچ نہیںکرتی ۔ صرف اپنی کمائی دولت خرچ کرتی ہوں۔“آیت نے جذباتی لہجے میں اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” اتنے کم وقت میں، اتنا سب کچھ یقین نہیںآ تا۔“ طاہر نے الجھتے ہوئے کہا

”میں کہہ رہی ہوں ، تمہیں سمجھ نہیں آئے گی ، کیونکہ تم وہ زاویہ نگاہ ہی نہیں رکھتے ہو ، جس سے تم عشق کی قوت کو سمجھ سکو ۔سنو۔! مجھے عشق ہے اور میں اس سے گزر رہی ہوں۔ قوت کی آخری صورت عشق ہے ۔ اسے میں نے برت کر دیکھا ہے۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

” تمہیں عشق ہو گیا، کس سے ؟“ طاہر نے حیرت سے پوچھا

”وقار حسین سے ، اس نے خود کو وار کر مجھے سمجھا دیا ، عاشق کہتے کسے ہیں۔ اور میںنے خود سرمد کو ۔ “ اس نے سکون سے کہا تو اس نے الجھتے ہوئے آیت کے چہرے پر دیکھ کر کہا

”تم دونوں میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تھی شاید ۔ تم نے خود ہی بتایا تھا۔“

” ہاں۔! کوئی بات نہیںہوئی تھی ۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحوں کے لئے کہیں کھو گئی ، پھر بڑے جذباتی لہجے میں بولی،” سنو۔!عشق لفظوں کا محتاج نہیں ہے،یہ تو عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب میں جانتی ہوں، جو عشق کرتے ہیں ناوہ کسی کو ذلیل نہیں کرتے، یہاں تک کہ وہ خود کو بھی بے عزت نہیںہونے دیتے، یہی عشق کی معراج ہے۔“ آیت نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تووہ اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔پھر اس نے پوچھا

” تم اب سرمد سے عشق….؟“

”مجھے اب سرمد میں وقار حسین ہی دکھائی دیتا ہے۔وقار حسین کبھی میرا عاشق تھا، اب وہ میرا معشوق ہے،میں اور وقار حسین اب مقام عشق پر کھڑے ہیں۔ہمیں اس مقام پر کھڑا کرنے والا سرمد ہے۔سنو۔!عشق تبھی ہوتا ہے ، جب اپنے ہونے کا احساس ہو ۔عشق کی بنیاد انسانیت سے ہے ۔ “ آیت نے مسکرا تے ہوئے کہا

”میں تو تمہیں کچھ اور کہنے آ یا تھا، لیکن تم ….“

”میں جانتی ہوں ، تمہیں اب بھی میری کسی بات کی سمجھ نہیںآ ئی ہو گی، میری باتوںکو سمجھنے کے لئے ، پہلے خود کو انسان کی سطح پر لاﺅ،جو دوسرے انسانوں سے محبت کرتا ہے۔ تمہارے جیسے نہیں جو غریب لوگوں کا خون چوسنے میں ہی اپنی بقا سمجھتے ہیں۔“ اس بار اس کے لہجے میں طنز اتر آ یا تھا۔

طاہر یہ سن کر کافی دیر تک خاموش رہا۔ نجانے کیا سوچتا رہا۔ اس کا چہرہ بتا رہاتھا کہ جیسے وہ کسی اذیت سے گذر رہا ہے ۔کافی دیر بعد اس نے سر اٹھا کر پوچھا

” وقت ہے تو چلیں کہیں لنچ کے لئے؟“

” اچھا چلتے ہیں۔“ آیت نے کہا اور اپنی اسسٹنٹ کو بلا کر ہدایات دینے لگی۔

 ز….ژ….ز

اس دن شاہ صاحب کا لیکچر نہیں تھا۔ایسے دن وہ ان چند لوگوں کو وقت دیا کرتے تھے جو سیکھنے کی غرض سے کوئی نہ کوئی سوال کرتے تھے۔شاہ صاحب کے پاس پہلے ہی سوال آ جاتے تھے اور پھر اسی مناسبت سے گفتگو چلتی رہتی تھی۔ شاہ صاحب ابھی تک کمرے میں نہیں آئے تھے ۔ جبکہ کمرے میں وہی نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔اس کے ساتھ ہی ایک اور پختہ عمر کے صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایسے میں طاہر باجوہ بھی وہیں آ گیا ۔ اس بار جب وہ آ یا تو وقت لے کر آ یا تھا۔ علیک سلیک کے بعد وہ بھی ایک طرف پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔اسے آ ئے ہوئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ شاہ صاحب تشریف لے آئے ۔انہوں نے باری باری تینوں سے ہاتھ ملایا، سلام دعا کی اور ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد انہوں نے اس پختہ عمر سے کہا

” آ پ کا سوال کیا تھا؟“

” یہ جو ہم ایک جملہ سنتے ہیں کہ میں یہ جانتا ہوں کہ میںکچھ نہیںجانتا۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟اس میںاصل بات کیا ہے ؟“ پختہ عمر نے کہا تو شاہ صاحب نے فرمایا

”یہ دراصل سقراط نے کہا تھا اور اس کا مقصد علم کی حیثیت کا تعین کرنا تھا۔ سقراط کے نزدیک علم کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل کھوج ہے۔ حقیقت اور سچ وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔کل جس شے کو انسان سچ سمجھتا تھا آج وہ سچ نہیں ہے۔ اس طرح ماضی میں جن چیزوں کو نا ممکن سمجھا جاتا تھا وہ آج ممکن ہیں سقراط کا یہ قول دراصل انسان کو چیزوں کی فکسیشن[fixation] سے بچانے کے لئے ہے۔ اپنے آپ کو سچ کا سامنا کرنے اور اسے قبول کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا ، ایسا سچ جو پکے خیالات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔یونان وہ جگہ ہے جہاں سب سے پہلے عقیدے اور الہام پر مبنی زندگی، کائنات اور انسان سے متعلق تمام تشریحات کو شعوری کسوٹی پر پرکھنے کی روایت کا آغازہوا اور شعوری کنجی سے زندگی کے مخفی راز کھولنے والے مفکرین میں سقراط نمایاں ترین ہے ۔یہ سقراط تھا جس نے کہا تھا کہ زندگی کی باریک بین چھان پھٹک کیے بغیر زندہ رہنا بے کار ہے زندگی ساقط و جامد نہیں بلکہ متغیر و متحرک ہے ۔ یہ کثیر پرتی اور پیچیدہ ہے۔ اس کو سمجھ کر انسانی زندگی کو بہتر بنانا ایک کارِ مسلسل ہے۔ انسانی عمل ہرنئے تجربے کے بعد سیکھتا ہے اور زندگی کو آگے بڑھاتا ہے ۔زندگی کی جامد تشریح نے ہزاروں سالوں تک انسان کو پتھر کے زمانے میں مقید رکھا ۔سقراطی فکر کے بعد ہی انسان نے حجروں اور معبدوں سے باہر نکل کر مادی حقیقتوں کو عقلی طاقت کے ذریعے سمجھنا شروع کیا اور کائنات پر اپنا کنڑول بڑھایا۔ یورپ کی تمام تر مادی ترقی کا راز سقراطی فکرکے اسی بنیادی نکتے کو سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ہم ابھی کچھ نہیں جانتے پر عمل کرتے ہوئے مسلسل جاننے اور کھوج لگانے کی کوشش کرنا ہے اور اسی فکر نے فرد کو اپنے آپ پر بھروسا کرنے اور چیلنج قبول کرنے کی طاقت عطا کی اور اسے دوسروں پر انحصارکرنے کی ذلت سے نجات دلانے کی کوشش کی۔“

” کیامسلسل کھوج اور جاننے کے اس عمل میں انسان کی اپنی کھوج بھی ہوئی یا وہ مادیت ہی سے نبرد آزما رہا؟“ پختہ عمر نے بات کو آ گے بڑھایا۔شاہ صاحب نے فرمایا

” بات کو سمجھنے کے لئے اگر ہم اسی جملے کو دوسرے انداز سے دیکھیں تویہ جملہ اصل میں علم کی اساس جہالت پر قائم کر رہا ہے ۔کیا جہالت کی اساس پر علم قائم ہو سکتاہے ؟ یہ ممکن نہیں۔یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر میں کچھ نہیںجانتا تو پھر علم کا حصول ہوگا کیسے؟یہاں اثبات اور نفی آئے گی ۔“

” جی شاہ صاحب ۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جو بندہ اثبات کو سامنے رکھ کر چلے گا ، وہ فنا و بقا کو پا لے گا۔ جو نفی کو پہلے رکھتا ہے ۔ وہ اثبات تک نہیں پہنچ پاتا، بھٹک جائے گا ۔اس پر بات ہو جائے ۔“ نوجوان نے یاد دلا یا۔

”انسان کے وجود پر سب سے بڑی دلیل انسان خود آپ ہی ہے ۔ اب یہ لازم ہے کہ یہ اپنا اثبات کرے ۔ جیسے سورج کے لئے اس کی روشنی لازم ہے ۔سورج چمک رہا ہے۔ سب دیکھ رہے ہیں سب جانتے ہیں ، اب اس پر ہمارا اثبات یا ہماری نفی کوئی معنی نہیںرکھتی۔ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان پہلے اپنا اثبات کرے ، اپنے آ پ کو مانے ۔وہ خود کیا ہے ؟اپنے آ پ کو تسلیم کرے گا تو ہی بات بنے گی ۔ورنہ انکار تو پھر ہے ہی ،انکار کئے بغیر اپنی ہستی سے انکار کردے گا ۔ظاہر ہے اپنے آ پ کو جانچنے کا کوئی تو معیار لے جائے گا ۔ انسان اپنا اثبات کرکے اپنی تلاش کرے گا تو اسے پتہ چل جائے گا ۔وہ اعلی ترین معیار کیا ہوگا، جس سے انسانیت سے لے کر دنیا کے تمام معاملات ہوں گے ، وہ ذات اقدس نبی ﷺ کی ہے ۔ آپ کی بیعت ہی دراصل صحابہؓ کا اثبات ہے۔ آپ ﷺ کی اسی نسبت کے مطابق جب سالک اپنی مرشد کی بیعت کرتا ہے تو اثبات حقیقی حاصل کر لیتا ہے۔“ شاہ صاحب نے فرمایا تو پختہ عمر نے کہا

”جہاں تک میں سمجھا ہوں، انسان کے علم میں بھی ترقی ہوئی ہے اوردوسری چیزوں کی طرح علم کے حصول کے ذرائع نے بھی ترقی کی ہے ۔انسان جب تک خود کو نہیںجان پائے گا علم کے بنیادی ذریعہ تک نہیںپہنچ پائے گا۔ اب تلاش یہ کرنا ہے کہ حقیقی بنیاد کیا ہے ؟“

”سب سے پہلے انسان خود کو دیکھے کہ وہ ’ احسن تقویم “ کیسے ہے۔ کیسے بہترین معیار پر ہے ؟سب سے پہلی چیز انسان کا خالص پن ہے ۔اس کیaccuracy کیاہے؟ پھر ا س کے بعد اس کی بنیاد ہے ۔ اس کائنات کو کون تسخیر کر رہا ہے ؟اور انسان کیا ہے ؟ مادہ اور روح، اس کے دو زاویے ہیں، انہیںبرابر رکھنا ہے ۔علم کا تعلق باطن سے ہے وہ ظاہری شے نہیںہے۔حواس کا تعلق ظاہر سے ہے وہ ماہیت رکھتے ہیں۔ یہی خالص پن اس کی بنیاد ہے۔ایک ہوتی ہے ذات اور اس کی صفت ہوگی تو عمل ہوگا۔ صفت نہ ہوتو عمل سرزد نہیںہوسکتا۔علم کی حقیقی بنیاد انسان خود ہی ہے ۔کیونکہ اس میں تمام تر صفات موجود ہیں۔ یہی احسن تقویم ہے۔ اس لئے انسان ہی اپنے آپ کو تلاش کر سکتا ہے۔“ شاہ صاحب فرما کر خاموش ہو گئے تو چند لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی ۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ اب کوئی دوسرا سوال کرے ۔ طاہر نے نوجوان کو دیکھا ۔ وہ خاموش تھا۔ تب طاہر بولا

” شاہ صاحب ایک چھوٹی سے الجھن ہے ۔ کہتے ہیں کہ عشق کی سمجھ عشق ہی عطا کرتا ہے ، کیسے ؟“

اس کا سوال سن کر شاہ صاحب زیر لب مسکرائے اور پھر بولے

”جب انسان کسی بھی ٹریک پر آ تا ہے ۔اگر کوئی شخص کسی بھی شے کی سمجھ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس وقت تک اسے پوری طرح نہیں سمجھ پائے گا جب وہ اس پرعمل نہیںکرے گا یا اس تجربے سے نہیںگذرے گا۔جو ظاہری شے ہے، اس کو اپنے حواس کے ساتھ دیکھ اور برت لے گا جو باطنی شے ہے، اس کا احساس دوسرے کو کیسے ہوگا؟کسی بھی شے کا ذائقہ ہم کسی دوسرے کو کیسے بتا سکتے ہیں، جب تک وہ خود ذائقہ محسوس نہیںکرے گا ۔ ایسا ہی معاملہ عشق کا ہے ۔ یہ باطنی معاملہ ہے ۔ “

” اس کا حصول کیسے ممکن ہو پاتا ہے ، کیا کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ وہ عشق میں مکمل ہے؟ عشق کی تکمیل بھی ہے ؟ طاہر نے پوچھا

” اگرکوئی شخص عشق کی تسخیر چاہتا ہے، اس میںمکمل ہونا چاہتاہے تو اس کے لئے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پہلے وہ یہ دیکھے کہ وہ علم اور عمل میں کہاں کھڑا ہے۔جب تک ایک شے اپنے خالص پن پر نہیںآ جاتی ، ہم اسے ناقص کہتے ہیں۔ناقص چیز ، کامل جذبہ محبت کو لے کر چل ہی نہیںسکتا۔یہی وجہ ہے جو ہم دیکھتے ہیں ۔ نوے فیصد لو میرج کامیاب نہیںہوتیں۔ اس عشق و محبت پر جو لوگ کھڑے ہیں۔ وہ بذات خود عشق و محبت کو سمجھ نہیںپا رہے ہیں۔جتنی دیر تک اس کا اپنا علم ہی ناقص ہے ۔ اپنا ہی اندازہ غلط ہے تو پھر یہ عشق کر ہی نہیں سکتا ۔ اپنے عشق میںجھوٹا ہے ۔ کس بنیاد پر کھڑا ہو کر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ خالص ہے ۔عشق اور محبت کے لئے ایک بنیاد ہونا ضروری ہے ۔کسی بنیاد پر کھڑا ہو توaccuracy ۱آئے گی ۔اگر وہ معیار ہی درست نہیںہے تو آ گے کیسے چلے گا ؟“

” میرا سوال ابھی تک وہیں ہے، شاہ صاحب اسے مزید کھولیں پلیز۔“ طاہر نے عاجزی سے کہا

 ”جیسے ہی کوئی عشق کے خزانے تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ، یاپہنچتے ہیں، اس کا حفاظتی ناگ جو نفس ہے، اسے ڈس لیتا ہے ۔ اسے وہاں تک جانے ہی نہیںدیتا۔ وہ سب سے قیمتی خزانہ ہے ۔اندازے کی غلطی نفس کی غلطی ہے ۔ جو علم کی غلطی، وہ نفس کی غلطی ہے ۔ کیونکہ جو نفس ہے وہ آیا ہی شیطان کے رنگ پر ۔ نفرت کے رنگ پر اس کا تو کام ہے مار دینا، ختم کر دینا۔ دوسرا اس خزانے کی حفاظت کرنا۔ جب تک انسان اپنے بنیادی مسائل کو حل نہیںکرے گا ، اتنی دیر تک اس خزانے تک نہیںپہنچ سکتا۔“

”انسان کے بنیادی مسائل سے ہم کیا مراد لیں؟“ اس بار نوجوان نے پوچھا

 منزل کا تعین کرنے کے بعد یعنی میںنے فلا ں منزل کو پانا ہے تو ا س کے پاس صحت ، زاد ِراہ ، سواری ،یہ ساری سہولیات ہونے کے باوجوداگر ا س کے پاس پختہ نیت یا ارادہ نہیںہے تو پھر بھی منزل نہیںمل سکتی ۔پہلے خالص پن ہے ۔ پھر وہ کسی سفر پر نکل سکتا ہے ۔محب اور محبوب کا ایک تعلق چل پڑا۔اس میں انہیں مسائل آ ئے ۔ مسائل اس لئے آئے کہ انہیںمحبت کی سمجھ نہیں۔ یہاں ضرورت یہ ہے کہ خالص محبت کیاہے ؟ عشق خالص کیا ہے ؟ یہ جو مسائل اور الجھنیں آ رہی ہیں یہ کیوں ہیں؟ انہیںحل کیسے ہونا ہے ؟“

” شاہ صاحب میںنے اسے یوں سمجھا ہے کہ انہی مسائل اور الجھنوں کو دور کرتے ہوئے وہ نہ صرف خالص پن پر آ جائے گا بلکہ اسے عشق کی سمجھ بھی عطا ہو جائے گی ۔“ طاہر نے کہا تو شاہ صاحب بولے

”جن کا عشق سچا ہے ، وہ عاشق عین معشوق ہے اور جو معشوق ہے ، وہ عین عاشق ہے ۔ دراصل نہ عاشق رہ گیااور نہ معشوق رہ گیا۔ پیچھے بچتا ہے عشق ۔ جو بے رنگ ہے ۔ جس نے ان دونوں کو جوڑا۔عاشق ، عاشق نہیں، معشوق…. معشوق نہیں، دونوں عشق پر آ ئیں گے تو آپس میںملیں گے ۔ تب بے رنگی پر آ ئیں گے ۔عشق کی حقیقت بے رنگی ہے ۔جو ہر شے کو دکھا رہی ہے ۔“

 ” شاہ صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ عشق جب تک بے رنگ نہیںہوگا، وہ اپنی کاملیت کو نہیں پہنچے گا ، کیا عشق رنگین بھی ہوتا ہے ، یا اس کا اپنا کوئی خاص رنگ ہوتا ہے ؟“ نوجوان نے پوچھا

” جب عاشقی اورمعشوقی کی منزلوں سے گذر کر ان دونوں مقامات کے رنگوں کو چھوڑ دے گا تو مقام عشق پر ہو گا ۔ یہی مقام عشق ،بے رنگی ہے ۔ اسے بس عشق چاہئے ۔ یہی انسانیت کی روح ہے ۔ عشق کی بے رنگی یہاں عاشق اور معشوق کو بھی بے رنگ کر دیتی ہے۔ ایسا عشق کیسا ہے جس پر عاشق اور معشوق بے رنگ ہو جائیں۔یہاں ہر شے کی سمجھ عطا ہو جاتی ہے ۔“ شاہ صاحب نے کہا اورخاموش ہو گئے۔ کتنی دیر تک کوئی سوال نہیںہوا تو وہ بولے،” چلیں ، آ ج کے لئے اتنا ہی باقی پھر باتیں کریں گے ۔“

ان کے یوں کہنے پر وہ ایک ایک کرکے تینوں اٹھ گئے ۔شاہ صاحب نے آ نکھیں بند کر کے صوفے سے ٹیک لگا لی۔

ز….ژ….ز

اس صبح آیت جاگنگ کے بعد واپس آ چکی تھی۔اس نے دیکھ لیا تھا کہ دادو لان میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔وہ سیدھی اس طرف بڑھ گئی ۔ دادو نے اسے دیکھ کر اخبار سمیٹ دیا۔جب وہ سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی تو انہوں مسکراتے ہوئے پوچھا

”بہت مصروف ہو کئی دنوں سے ،دن رات ایک کر کے رکھ دئیے ہیں تم نے ؟“

”دادو آپ کو پتہ ہے ،میں نے سکول شروع کیا ہے،بس اسی کی شروعات میں تھوڑی مصروفیت رہی ۔ اب امبرین نے سنبھال لیا ہے تو میں فری ہوں۔“ آیت نے کہا دادو کھوئے ہوئے لہجے میںبولے

”سرمد کے لئے تمہاری محبت،اچھا لگا مجھے،اگر تم کہو تو میں بھی کبھی کبھی وہاں ہو آ یا کروں ،بچوں کے ساتھ وقت گذار کر بندہ بہت ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔“

” یہ تو بہت ہی اچھا ہوگا، یقین کریں میں پر سکون ہو جاﺅں گی۔“ وہ خوشی سے بولی

” اچھا، اب میری بات غور سے سنو ،آج آف ہے نا، تمہارا کوئی پروگرام تو نہیں؟“ انہوں نے پوچھا

” نہیں، میں آج گھر پر ہی ہوں۔“ اس نے بتایا تو دادا نے لمحہ بھر رُک کر کہا

” تو ٹھیک ہے ، آج لنچ پر کچھ لوگ آ رہے ہیں،ان کے ساتھ خواتین بھی ہوں گی ۔وہ تمہیں دیکھنے ، تم سے ملنے کے لئے آئیں گے ۔“

”مطلب آ ج کا دن میں سکون سے نہیںگزار سکوں گی ۔“آیت نے خفگی سے کہا

”میں اس وقت کسی بحث کے موڈ میں نہیںہوں ۔ہمیں اس دنیا کی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہے ۔ لہٰذا ، تمہاری شادی تو ہونا ہی ہے اور یہ میرا فرض ہے ۔“ دادا نے حتمی انداز میں کہا

” ٹھیک ہے دادو ، جیسا آ پ چاہیں۔“ آیت نے بے دلی سے کہا اور اٹھ گئی ۔ وہ سوچتے ہوئے پھر سے اخبار دیکھنے لگے ۔

دوپہر سے پہلے ہی وہ مہمان آ گئے ۔آیت فریش تو تھی لیکن اس نے تیار ہونے کے لئے کوئی خاص اہتمام نہیںکیا تھا۔وہ سب لاﺅنج میں تھے۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ پانچ لوگ ہیں، جن میںتین خواتین ہیں۔ کچھ دیر بعد وہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔ خواتین نے اُسے ستائشی نگاہوں سے دیکھا۔پھر باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ زیادہ وقت نہیںگذرا، وہ خواتین اپنے اصل موضوع پر آ گئیں ۔وہ اس کے بزنس کے بارے میں پوچھنے لگیں۔وہ یہ جاننا چاہ رہی تھیں کہ کس قدر دولت کی مالک ہے ۔آیت ان لالچی لوگوں کے بارے میںجانتی تھی کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کس طرح بات کرنی ہے ۔ وہ انہی کی سنتی رہی خود اس نے کوئی بات نہیںکی۔ جب وہ لوگ واپس لاﺅنج میں آ کر بیٹھے تو ان میں سے بڑی خاتون نے دادو سے مخاطب ہو تے ہوئے کہا

” ہمیں تو آ یت بیٹی بہت پسند ہے ۔اب آپ بھی ہمارے ہاں چکر لگا لیں۔“

” جی بالکل ، میں آ تا ہوں کسی دن آ پ کے ہاں۔“ انہوں نے کہا

”ہاں ہاں ضرور ، بلکہ جلدی تشریف لائیں ۔ تاکہ یہ معاملہ جلدی طے ہو جائے ۔“ ایک دوسری خاتون نے مسکراتے ہوئے رائے دی۔تو تیسری خاتون نے پوچھا

” اچھا ایک بات بتائیں بھائی صاحب ،شادی کے بعدیہ آپ کا بزنس کون دیکھے گا ؟ “

” آیت بیٹی ہی دیکھے گی ، یہ سارا بزنس اسی کا تو ہے۔“دادا نے کہا تو اس خاتون کی آنکھوں میں چمک آ گئی ۔اس پر آیت دل ہی دل میں مسکرا دی ۔ کچھ دیر مزید باتوں کے بعد وہ لوگ اُٹھ گئے۔ دادا انہیں وداع کرنے باہر تک چلے گئے ۔آیت اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درندہ۔۔ قسط نمبر 14۔۔خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 14 درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ راجو جب واپس وردا کے گھر پہنچا تو وردا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے