سر ورق / کہانی / دلہن اروند گوکھلے/عامر صدیقی

دلہن اروند گوکھلے/عامر صدیقی

  دلہن

اروند گوکھلے/عامر صدیقی

مراٹھی کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’امریکہ میں دس سال تک اوورسیز، لیکن اب بھارت میں مستقل طور پر رہنے اور اپنی چھوٹی سی فیکٹری چلانے کے خواہاں، پینتیس سال کے امیرکبیر، صحت مند، خوبصورت اور بہادر نوجوان کیلئے سلیقہ مند دلہن درکار ہے۔ روپے پیسے اور ذات پات کی کوئی قید نہیں، لیکن خط کتابت لڑکی خود کرے۔ پی او باکس۳۵۸۔‘‘

مادھو دلچسپی سے خودکا لکھا ہوا اشتہار پڑھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھاکہ اس جیسے امریکہ سے آئے لوگوں کی جانب سے دیے گئے اس اشتہار کا اچھا جواب ملے گا۔ ذات پات کی قید نہ ہونے کی وجہ سے کافی خطوط آنے کی اسے امید تھی۔ اس میں سے دو تین کو منتخب کرنے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ لینے کی بات اس کے دل میں بار بار آ رہی تھی۔

کون ہوگی وہ ایک؟

مادھو نے ان دو سالوں میں کافی لڑکیوں دیکھی تھیں۔ کچھ تو رشتے داروں نے دکھائیں تو کچھ منڈلوں میں دیکھیں۔ کوئی بھی اچھی نہیں لگی۔ کوئی دیکھنے میں خاص نہیں، کوئی عام سے ذہن کی، کوئی پیسوں پر نظر رکھنے والی، تو کوئی روپ رنگ میں دبتی ہوئی۔ ہر کسی میں کوئی ایک نہ ایک خا می۔ اسے لگنے لگا تھا کہ شادی ہی نہ کروں۔ امریکہ جانے سے پہلے اگر شادی کر لیتا یا ادھر ہی کہیں رشتہ ہو جاتا تو اچھا ہوتا۔

لیکن پہلے پیسہ نہ تھا اور پردیس جانے کی آرزو میں وہ کچھ نہ کر سکا۔ امریکہ میں اسے دوستیں تو ملیں پر بیوی نہ مل سکی۔ سوزن کے ساتھ تھوڑا سا دل تو لگ گیا تھا، لیکن دوستی ٹک نہ سکی۔ اسے پارٹنر کی ضرورت تو محسوس ہوتی ہے۔ لیکن عمر بڑھنے سے اور سوچوں پر تھوڑا سا پردیسی اثر ہونے سے کوئی دل کو بھاتی ہی نہ تھی۔ اسی لئے اب یہ آخری بار کی کوشش کرنے جا رہا تھا۔ اگر اب بھی کامیابی نہیں ملی تو وہ خالی ہاتھ اکیلا ہی امریکہ چلا جائے گا۔

لیکن ویسے اس کا دل اکیلے واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔ ہندوستان میں رہ کر اسے امریکہ کی عورتوں جیسی نڈر اور صحت مند بیوی چاہیے تھی۔ بہت لڑکیوں نے تو اس وجہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ امریکہ واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔بلکہ یہیں مستقل طور پر رہنا چاہتا تھا پھر ’’ خود لڑکی خط لکھے۔‘‘ ایسا کہنے والے سے کون شادی کرے گا؟

ایک ہفتے میں صرف پانچ خط آئے۔ اس میں سے دو کو وہ پہلے بھی انکار کرچکا تھا۔ باقی تین اسے تھوڑی کام کی لگ رہی تھیں۔ تینوں کی عمریں تیس سال کے قریب تھیں۔ تینوں خطوط مادھو بار بار پڑھتا رہا۔ وہ شریف اور نڈر لگ رہی تھیں۔ خوبصورت، مضبوط اور آزاد ہونے کے اشارے انکے خط عیاں کر رہے تھے۔ لیکن ویسے تھوڑی تھوڑی خامیاں تینوں میں تھیں۔ ملنے سے پہلے ہی سوچ سمجھ سکتے ہیں اور دل کو تیار بھی کرنا پڑے گا ایسی خامیوں کے لئے۔ اگر ایسے تینوں کو ابھی سے بغیر دیکھے انکار کر دے تو پھر توسب طرف ہی اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ اکیلے ہی زندگی کی نیا پار لگانی پڑے گی۔ کسی کو بھی ہاں کرنا جرات کا کام تھا۔ مادھو نے دل میں یہ جرات کر ہی لی۔

’’سوپنا‘‘ریستوران شہر کے باہر اور بہت شاندار تھا۔ کالج کے لڑکے لڑکیوں کا یہ پسندیدہ مقام تھا۔بڑا سا ہال، خوب گپیں ہانکنے کیلئے، کسی کو اپنے دل کا حال سنانے کیلئے، پہلا تعارف کرانے کے لئے یہ ’’محل وقوع‘‘ بالکل صحیح سمجھا جاتا تھا۔

اوپری منزل پر ایک کونے میں لسی کے گلاس سامنے رکھ کر مادھو اور انجلی ،چپ شاہ کا روزہ رکھے بیٹھے تھے۔ انجلی نے جذباتی ہو کر ایک لمبا چوڑا ساخط مادھو کو لکھا تھا۔ اس لئے اس نے انجلی سے سب سے پہلے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ویسے دیکھا جائے تو انجلی میں عیب بھی کچھ نہیں تھا۔ تینوں میں وہی سب سے اچھی تھی۔ ابھی ابھی اس نے پی ایچ ڈی کی تھی۔ اچھے گھرانے کی تھی اور اس پرکنواری بھی تھی۔

اس کوجب دیکھا ،تب تیس سال کی انجلی مرجھائی ہوئی سی اور اداس لگ رہی تھی۔ اس کی طرف دیکھ کرمادھو سوچنے لگا کہ اتنے خوبصورت چہرے پر یہ اداسی کیوں؟ کیا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی؟ اور یہ کہ اس کی محبت کسی سے ختم ہو چکی ہے؟ کتنے ہی سوال مادھو کے دل میں اٹھے۔

’’میں نے اپنے بارے میں سب کچھ بتایا ہے، آپ کے بارے میں اور کچھ؟‘‘مادھو نے سوال کیا۔

اس پر انجلی نے جواب دیا ،’’ اپنا بھی سب کچھ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ میری اب تک کی زندگی بالکل سادہ ہے۔‘‘

مادھو نے کہا،’’جیسا میں نے کہا کہ میری زندگی میں ایک امریکی لڑکی آئی تھی، ویسے آپ کا کوئی ماضی؟‘‘

’’میری زندگی میں ایسے کسی کے آنے کاکوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ میں آج تک کسی مختلف چیز کی تلاش میں تھی۔ محبت، شادی اس سے کچھ مختلف اور مجھے وہ راستہ مل گیا۔ سچ سائیں بابا نے وہ روشنی مجھے دکھائی۔ تب سے جیسے مجھے نجات مل گئی، محبت مل گئی ایسا لگنے لگا ہے۔‘‘ انجلی کے منہ پر خوشی چھلک رہی تھی۔

مادھو ایکدم سٹپٹا گیا۔ انجلی کے بارے میں مادھو کے دل میں کیا تھا اور اسے کیا سننا پڑا۔

’’تو کیا آپ سائیں بابا کی بھگت ہیں؟‘‘

’’ہاں سال میں کم از کم ایک مہینہ میں بابا کے ساتھ رہتی ہوں۔ وہ جب یہاں آتے ہیں، تب میں انکا پروچن ضرور سننے جاتی ہوں۔ ان کے مجھ پر کافی اثرات ہے۔ یہ دیکھئے انکا دیا ہوا لاکٹ۔‘‘انجلی نے کہا ۔

اس لاکٹ میں سائیں بابا کی تصویر دیکھ کر تو مادھومزید جھنجھنا اٹھا۔ ایک سادھو نے اس عورت کی زندگی کو جکڑ رکھا ہے۔ ا س کی یاد سے اسے شانتی نصیب ہوتی ہے۔ یہ تو کوئی ذہنی مریضہ لگتی ہے۔

سائیں بابا کی تعریف کرتے انجلی رکے نہیں رک رہی تھی۔ ان کی دیویا شکتی کے بارے میں بتا رہی تھی اور آخر میں اس نے کہا کہ سائیں بابا کی بدولت مجھے مادھو جیسا شوہر مل رہاہے۔

انجلی اس کی بیوی بن سکتی ہے یا نہیں ،وہ اسی کشمکش میں تھا۔ انجلی میں شاید شادی کے بعد تبدیلی آجائے، وہ سائیں بابا کو من سے نکال کر میرے بارے میں سوچنے لگے۔ لیکن یہ تو ساری ’’شاید‘‘ والی باتیں تھیں۔ جب وہ اپنی سوچ سے باہر آئے، تب مادھو نے محسوس کیا کہ انجلی اکیلی ہی وہاں سے جا چکی تھی۔ مادھو وہیں پر سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہا۔

’’سوپنا‘‘ میں بیٹھ کر مادھو گوری کو اپنے بارے میں بتا رہا تھا۔ خاندان رشتے دار، تعلیم، پسند ناپسند، اپنا کاروبار، اور امریکہ میں سوزن کے ساتھ تعلقات۔ سوچ سوچ کر اس نے سب کچھ بتا دیا اور اس کے بعد گوری کے دل کو ٹٹولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اب اس کی رائے اپنے بارے میں کیا ہو سکتی ہے۔ مادھو کو گوری کے خط کا ایک جملہ بار بار یاد آ رہا تھا کہ وہ بیوہ ہے۔

مادھو کی سب باتیں سن لینے کے بعد اس نے ایک ہی سوال کیا جو کہ مادھو سے اور بہت ساری لڑکیوں نے کیا تھا ،’’آپ نے سوزن سے شادی کیوں نہیں کی؟‘‘

’’وہ میری دوست تھی، اس کے ساتھ شادی کا میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ ہم کچھ الگ ہی حالات میں ایک دوسرے کے قریب آئے اور اتنی ہی جلدی دور بھی ہو گئے۔‘‘

اس نے یہ سن فقط اپنی گردن ہلائی، ایسا ظاہر ہوا کہ اسے اتنا جواب کافی تھا۔

گوری ، خوبصورت،اسمارٹ تو تھی لیکن بیوہ ہونے کے سبب ذرابڑی سی لگتی تھی۔ لیکن پھر بھی اس میں کچھ کشش تو ضرورتھی۔ اس میں ایک خاندانی مٹھاس تھی۔ انجلی جتنی ،گوری پڑھی لکھی تونہیں تھی، لیکن بہرحال ذہین لگتی تھی۔ چھ سال اپنے شوہر کے ساتھ اس نے گزارے تھے۔ بعد میں بیوہ ہوئی تھی۔

گوری نے آگے کہنا شروع کیا، ’’میں نے خط میں سب کچھ لکھ ہی دیا ہے۔ میرے شوہر نے میرے لئے گھراور کافی ساراپیسہ چھوڑا ہے، لیکن مجھے گھر گرہستی کا اوربال بچوں کا شوق ہیں اور مجھے کسی کا سہارا بھی چاہئے ۔جو مجھے سنبھالے، سایہ دے۔‘‘

ایسا کہتے کہتے درمیان میں ہی گوری نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ جیسے اسکو سہارا دینے والا، سنبھالنے والا سامنے ہی بیٹھا ہو۔

گوری مجھ سے سہارا مانگ رہی ہے۔ اس لئے مادھو کی گردن ذرا اونچی ہو گئی۔ اس تصور سے کہ یہ خوبصورت اوربیوہ عورت مجھے اپنا سہارا مان رہی ہے۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس کے دل میں آیاکہ آج کل تو پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے، پھر اس کے شوہر نے اس کیلئے پیسہ چھوڑا ہی ہے،اپنے بعدبیوی کو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، ذہن میں شک نے گھر کر ہی لیا۔

’’کیا آپ کی اپنے شوہر کے ساتھ محبت کی شادی ہوئی تھی؟‘‘

’’نہیں شادی کے بعد محبت۔‘‘ کتنا اطمینان بھرا جواب دیا تھا گوری نے،’’صرف چھ سال ہی ساتھ رہے تھے، ایک رات نیند میں ہی ان کی موت ہو گئی۔‘‘

گوری اپنے شوہر کے بارے میں اس طرح سے بات کر رہی تھی کہ لگتا تھا بیتی باتیں بھول پانا اسکے بس کا نہیں۔ تھوڑی دیر پہلے اپنے شوہر کی یاد میں کھوئی گوری اب مادھو سے جس عمدگی سے بات کر رہی تھی کہ مادھو اس موہ میں آئے بغیر نہیں رہ پایا۔

شام ہونے کو تھی، دونوں وہاں سے اٹھے، گوری رکشے سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گئی۔ لیکن مادھو اب بھی وہیں کھڑا گوری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

’’سوپنا‘‘ میں شام کے وقت کافی کے کپ ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے ۔۔۔ مادھو اور وسمتی۔

’’اپنی طلاق کا ذکر میں پہلے ہی کر چکی ہوں، اس سے آگے اگر آپ کچھ پوچھنا چاہیں تو ۔۔۔‘‘

وسمتی شاید کوئی واضح جواب مادھو سے چاہتی تھی۔ اس نے خط میں بھی لکھا تھا ،’’میں نے تین سال اپنے شوہر کے ساتھ گزارا کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن بات بگڑتی ہی گئی۔ جب ساری باتیں برداشت سے باہر ہونے لگیں۔ تب طلاق کی نوبت آ گئی۔ اس بات کو بھی اب پانچ سال گزر چکے ہیں۔ آج تک کسی سہارے کی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔‘‘ لیکن آج وسمتی نے ساری کہانی مادھو کے سامنے رکھی اور اب وہ کس لئے شادی کرنا چاہتی ہے یہ بھی واضح طور پر بتا دیا۔ عمر بڑھتی جا رہی تھی، وہ تھوڑی سمجھدار بھی ہو گئی تھی۔ اکیلے جینا ذرا مشکل اور کٹھن لگنے لگا تھا۔ کسی کو ساتھ لے کر وہ سماجی کام کرنا چاہتی تھی۔

وسمتی دیکھنے میں بری نہیں تھی۔ زندگی کے بارے میں اس کی یقیناً کچھ امنگیں اور خواہشیں تھیں۔ اسکی محبت کی شادی ہوئی تھی۔ اس سے زیادہ اور کچھ اس کی بیتی زندگی کے بارے میں پوچھتا ہوں تو شاید اسے اچھا نہ لگے۔ لیکن اسی نے پہل کرتے ہوئے کہا،’’اگر ہم ایک دوسرے کے قریب آنے یا شادی کے بندھن میں بندھنے کی جانب قدم بڑھانا چاہتے ہیں تو سب باتیں کھل کر سامنے رکھنی ضروری ہیں۔ وہ میرے ایک دور کے رشتہ دار کا دوست تھا۔ ایک پکنک میں ملاقات ہو گئی۔ یونیورسٹی میں میں کام کرتی تھی۔ وہاں کے الیکشن کے وقت ہم زیادہ قریب آئے۔ اس کی میٹھی باتیں میرا دل موہ لیتی تھیں۔ سوتیلی ماں سے پریشان، میرے دل میں اس وقت شادی کی بات آتی ہی تھی، اس لئے ہم نے شادی کا سوچا اور جلد ہی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ لیکن جلد بازی میں کی ہوئی شادی راس نہیں آئی۔ لیکچرار ہونے کے باوجود وہ ذہنی طور پرناخواندہ تھا، جنگلیوں جیسا برتاؤ کرتا تھا۔ میرے شوہر نے میری ہر بات میں میری نفی کی تھی۔ میں نے بہت دکھ جھیلے ہیں۔ ان یادوں کو میں کبھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی لیکن آپکو ۔۔۔‘‘

’’نہیں نہیں میں سمجھ سکتا ہوں۔‘‘ مادھو نے درمیان میں اسے ٹوک کر کہا۔

جسم اوردل سے وہ جب مکمل طور تھک گئی، تبھی اس نے آزادی لینے کی سوچی تھی۔اب وہ دوبارہ اپنی گرہستی شروع کرنا چاہتی تھی۔ کسی مرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتی تھی۔ لیکن کیا وہ دوبارہ مادھو کے ساتھ مخلص ہو پائے گی؟ اسے اس پروفیسر کی یاد ستانے لگی تو؟

دونوں ہی اپنے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔

جب کہنے سننے کیلئے کچھ نہیں بچا ،تب دونوں اپنے اپنے راستے چلے گئے۔

مادھو نے کچھ دن اور دیکھا لیکن چھٹا خط نہیں آیا۔ اور کہیں اورسے کوئی رشتہ آنے کی امید بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہی تین لڑکیاں مادھو کے سامنے تھیں۔ تینوں اس سے شادی کرنے کے لئے تیار تھیں۔مادھو کو لگا، جب اس نے شادی کرنے کا سوچا تھا۔ اس وقت کاخالی پن آج اس گھڑی میں بھی برقرار ہے۔ لگتا ہے، کہیں سے بھی رشتہ آیا ہو، ان لڑکیوں کو دیکھنے میں ہی اور ان کے بارے میں سوچنے میں ہی عمر گزر جائے گی، ایسے ہی جیون ساتھی کے بغیر۔

اسے لگنے لگا، جو بھی کمی ہے وہ اسی میں ہی ہے۔ آج تک کے سارے رشتوں میں وہ عیب ہی نکالتا رہا۔ ان تین رشتوں میں تو اپنے آپ میں ایک مسئلہ مول لینے والی بات لگتی ہے۔ انجلی، گوری یا وسمتی کے ساتھ شادی کرنے کے فیصلے کو قبول کرنے کے لئے اسکا دل تیار نہیں تھا۔

سائیں بابا سے مکمل طور گھری ہوئی انجلی، شوہر کی یادوں کو اب بھی زندہ رکھنے والی گوری یا شادی کر کے بعد میں طلاق لینے والی وسمتی، ان میں سے کون ہوگی، یہ فیصلہ مادھو کیلئے ایک پہیلی سا بن گیا تھا۔

انجلی، گوری اور وسمتی اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ انجلی اسے اچھی لگی تھی اس کا سیدھاپن، کسی پر بھی دل لگانے کی عادت والی گوری، اسے ٹھیک لگ رہی تھی کیوں کہ وہ اچھی گرہستی سنبھالنے والی تھی، اور وسمتی کا ضدی مزاج مادھو کو اس کی طرف کھینچ رہا تھا۔

انجلی جیسی لڑکی جو سائیں بابا کے چنگل میں پھنس کر ذہنی مریض بنتی جا رہی ہے، اسے میری مدد کی ضرورت ہے۔ وہ کسی کے ساتھ بھی دل لگا سکتی ہے تو میری طرف بھی اس کی محبت کا جھکاؤ ہونا، کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔

گوری کو بھی تو بنیاد چاہئے۔ اسے ضرورت ہے ایسے آئیڈیل مرد کی، جس کے سہارے وہ زندگی میں پھل پھول سکے۔ وہی ایک مثالی بیوی اور ماں بن سکتی ہے۔ لیکن میں تو وسمتی جیسی آزاد خیالوں والی اور پر کشش بیوی چاہتا ہوں۔

وسمتی طلاق یافتہ ہے ،لیکن اس کا شوہر ابھی زندہ ہے۔ اس سے تو اچھی گوری ہے، جسکا شوہر اب اس دنیا میں ہے ہی نہیں۔ پھر تو گوری ہی ٹھیک رہے گی۔ لیکن وسمتی کو اپنے شوہر سے بڑی نفرت ہے، سو وہ تو اس کیلئے مر ہی چکا ہے۔گوری کو اپنے شوہر سے زیادہ محبت تھی، اس لئے وہ اس کی یاد میں کھوئی رہتی ہے۔ پھر تو ان سب میں انجلی بہترین ہوئی ،کیوں کہ اس کی پہلے شادی ہی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ایسے سادھو کے چمتکاروں سے متاثر لڑکی کواپنی بیوی بنانے کے قابل نہیں سمجھتا۔ یہ کیسی الجھنیں ہیں۔

انہیں الجھنوں میں پھنسا ہوا مادھو دن رات سوچ سوچ کر اور الجھتا چلا گیا۔ انہیں الجھنوں میں ڈوب کر وہ سوچتے سوچتے کنارے پر آ گیا تھا۔ پھر اس نے فیصلہ کیا۔ انہی تینوں میں سے ایک۔ ایسی جس میں کچھ عیب ہو، لیکن میری جیسی کچھ الگ بھی ہو۔ ایسی الگ کون ہے؟ اس نے دل و دماغ داؤ پر لگا کر فیصلہ لے ہی ڈالا۔

بس اب اس کا فیصلہ ہو گیا۔ جو کچھ عیب تھا وہ اب عیب نہیں رہا اور راستہ صاف نظر آنے لگا۔’’محل وقوع‘‘ کی طرف جانے وا لا راستہ۔ ’’سوپنا‘‘ میں کھانے کیلئے اور مستقبل کی زندگی کے خواب سجانے کیلئے دعوت دینے والا خط وہ اپنی مستقبل کی دلہن کو لکھنے لگا۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق پہلا حصہ خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے