سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 21 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 21 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 21
تحریر: سید انور فراز
خود کشی نمبر کا موضوع بڑا ہی غم زدہ کرنے والا تھا کیوں کہ ہر کہانی کا انجام بہر حال خود کشی تھا،اس موضوع کو قارئین کی اکثریت نے پسند نہیں کیا بہر حال اس حوالے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی ایک فہرست ہم نے مرتب کرلی تھی جس میں شعرا بھی تھے اور ادیب بھی، فلمی شخصیات بھی تھیں اور دیگر افراد بھی،اس حوالے سے خاصی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی، مشہور شخصیات کے حالات و واقعات کبھی کبھی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں، ایسی شخصیات پر جو کتابیں لکھی گئی ہوں وہ بھی بعض اوقات آسانی سے نہیں ملتیں، آج کے زمانے میں انٹرنیٹ کی سہولت نے بڑی آسانیاں پیدا کردی ہیں، دنیا کی کوئی بھی کتاب نیٹ پر دستیاب ہوجاتی ہے لیکن اس دور میں اتنی آسانیاں بہر حال نہیں تھیں، چناں چہ ہم ہفتے میں ایک بار اہم بک شاپس اور پرانی کتابوں کے اسٹالوں کا چکر ضرور لگایا کرتے تھے،اس طرح کبھی کبھی بڑی نادر کتابیں ہاتھ آجایا کرتی تھیں،ایسی ہی تلاش کے دوران میں ایک ایسی کتاب ہاتھ لگی جو خود کشی نمبر کے لیے لاجواب تھی،یہ ایک سچی روداد تھی جس میں ایک سفاک اور ظالم شخص نے بے شمار افراد کو خود کشی پر مجبور کردیا تھا، ہمارے خیال سے یہ خود کشی نمبر کی پہلی کہانی بن سکتی تھی مگر ان دنوں کوئی ایسا مصنف ہماری نظر میں نہیں تھا جو تیز رفتاری کے ساتھ یہ کام انجام دیتا مگر ہمارا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اگر لگن سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔
شرافت کا نمونہ
ابھی ہم اس ادھیڑ بند میں ہی تھے کہ یہ کتاب کسے دی جائے کہ ایک روز افسر آذر کمرے میں داخل ہوئے، ہم انھیں دیکھ کر حیران رہ گئے، افسر بھائی بلاسبب کہیں آنے جانے والے نہیں تھے، ان کا حلقہ ء احباب بھی ہمیشہ محدود رہا، وہ ایک طویل عرصے سے روزنامہ حریت میں کام کر رہے تھے،ان کے افسانے مشہور ادبی میگزین ’’سہ ماہی سیپ ‘‘ میں شائع ہوا کرتے تھے،ان کی گہری دوستی سیپ کے مدیر نسیم درانی سے تھی، اس کے علاوہ پارٹ ٹائم کے طور پر کہانیوں کے ترجمے کرکے اپنی آمدن میں کچھ اضافہ کرلیا کرتے تھے، اقبال پاریکھ انداز ڈائجسٹ کے لیے ان سے اکثر کام لیا کرتے تھے پھر انداز ڈائجسٹ بند ہوگیا تھا لہٰذا افسر بھائی کو دیکھ کر ہم چونک گئے، انھوں نے بتایا کہ وہ حریت اخبار سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور آج کل فارغ ہیں۔
ہم نے وہ کتاب جس کا نام اب ذہن میں نہیں ہے ، افسر بھائی کے سامنے رکھ دی اور انھیں بتادیا کہ یہ کام جلد از جلد ہونا چاہیے،افسر بھائی وعدے کے پابند اور نہایت ذمے دار انسان تھے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اگلی شرافتوں کے جن نمونوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ، افسر آذر ان میں سے ایک تھے ، انھوں نے کتاب اٹھاکر اس کے چند اوراق پر نظر ڈالی اور ہم سے پوچھا ’’آپ کو کب تک چاہیے ؟‘‘
ہم نے انھیں اپنا ٹارگٹ بتادیا ، اس کے بعد افسر بھائی نے کوئی دوسرا سوال نہیں کیا، چائے پی اور رخصت ہوگئے، یہ بھی نہ پوچھا کہ اس کام کا معاوضہ کیا ہوگا؟
وعدے کے مطابق انھوں نے یہ کہانی مکمل کرکے ہمیں پہنچادی جو خود کشی نمبر میں ’’جھوٹا مسیحا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی،یہ ایک ایسے جعلی راہب کی کہانی تھی جس نے اپنے پیروکاروں کو خود کشی کے ذریعے جنت میں پہنچنے کی بشارت دی تھی، بے شمار افراد نے اس کے حکم پر زہریلا مشروب پی کر خود کشی کرلی اور وہ خود بھی ختم ہوگیا ، نہایت لرزہ خیز داستان تھی جسے افسر آذر نے بڑے عمدہ انداز میں تحریر کیا تھا۔
افسر آذر کی صورت میں ایک بہترین مصنف ہمیں مل گیا تھا، اس کے بعد ان کی ادارے سے وابستگی مستقل ہوگئی اور انھوں نے سرگزشت کے علاوہ جاسوسی ڈائجسٹ کے لیے بھی کہانیاں لکھیں، ماہنامہ سرگزشت میں مشہور شاعر خیام کی سرگزشت بھی افسر آذر نے ہی تحریر کی تھی، وہ نہایت گوشہ نشین انسان تھے، گھر میں مچھلیاں پالنے کا خصوصی شوق رکھتے تھے، بہت اعلیٰ درجے کا اکیوریم ان کے گھر میں موجود تھا جس میں رنگ برنگی اور نہایت قیمتی مچھلیاں موجود تھیں، معراج رسول صاحب بھی ان کی تحریر سے بہت مطمئن رہتے، افسر بھائی نہایت خوش خط تھے ، عبدالقیوم شاد کے بعد وہ ایسے رائٹر تھے کہ کاغذ پر گویا لفظوں کے خوب صورت موتی بکھرے نظر آتے تھے،کراچی کے اعلیٰ ادبی حلقوں میں ان کی افسانہ نگاری کو ایک ادبی مقام حاصل تھا۔
ایچ اقبال کوچہ ء سیاست میں
اچانک ایک روز انھوں نے ہمیں اطلاع دی کہ وہ آئندہ ہمارے ادارے کے لیے مزیدکام نہیں کرسکیں گے، ہمیں بڑی حیرت ہوئی، وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ وہ ایچ اقبال صاحب کے سیاسی پرچے ’’پاکیشیا‘‘ سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہوگئے ہیں، یہ غالباً 1991 ء کی بات ہے، جناب ایچ اقبال کے دل و دماغ میں خدا معلوم کیا سمائی کہ وہ باقاعدہ طور پر ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے اور پاکیشیا کے نام سے ایک ہفت روزہ پاکیشیا نکالنا شروع کردیا۔
ہمارے لیے اور ایچ اقبال صاحب کے دیگر احباب کے لیے یہ بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز خبر تھی، سب جانتے تھے کہ وہ بنیادی طور پر ایک اعلیٰ درجے کے فکشن رائٹر ہیں، ماضی میں بھی کبھی کسی سیاسی جماعت سے ان کی وابستگی نہیں رہی تھی تو اب آخر ایسا کیا ہوگیا جو وہ کوچہ ء سیاست میں قدم رکھنے پر مجبور ہوگئے۔
الف لیلہ ڈائجسٹ تقریباً بند ہوچکا تھا، اکثر لوگوں کاخیال یہ تھا کہ شاید مالی پریشانیاں انھیں اس راستے پر لے گئی ہیں، ایم کیو ایم کی مدد سے پرچا نکالنا ان کے لیے آسان ہوگیا ہوگا لیکن اگر ایسا ہی تھا تو وہ ساتھ ساتھ الف لیلہ بھی نکال سکتے تھے، بہر حال یہ ایک مسٹری تھی، اس زمانے میں ایک بار ہم ان سے ملنے گئے ، وہ اپنے پرانے کرائے کے مکان میں ہی مقیم تھے اور اسی مکان میں پاکیشیا کا دفتر بھی قائم تھا، دروازے پر کئی مسلح گارڈ موجود تھے جنھوں نے خاصا اطمینان کرنے کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت دی، اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی تو ہم نے پوچھا ’’حضرت یہ انقلاب کیسے آگیا؟‘‘
جواب مختصر تھا ’’بس آگیا‘‘
شاید وہ اس وقت اس موضوع پر زیادہ گفتگو کرنانہیں چاہتے تھے، انہی دنوں ایک خبر یہ بھی عام ہوئی کہ الطاف بھائی کی شبیہ کسی پتے پر نمودار ہوئی ہے اور وہ پتّا بہ حفاظت کسی خاص جگہ پر عام ناظرین کے دیدار کے لیے رکھ دیا گیا ہے لہٰذا لوگوں کا ایک ہجوم اس پتّے کے دیدار کے لیے امڈ پڑا، ایچ اقبال صاحب کے تمام احباب کو جن میں ہم بھی شامل تھے ، اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ وہ بھی بطور خاص اس پتّے کے دیدار کے لیے تشریف لے گئے ہیں، یاد رہے کہ ایچ اقبال ایک روشن خیال ، جدید فکر کے حامل انسان ہیں، کسی بھی قسم کی توہّم پرستی کبھی ان کے قریب بھی نہیں آئی ہوگی اور آج بھی وہ ایسے ہی ہیں۔
جون ایلیا سے دست درازی
اسی زمانے میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ بھی پیش آیا، ایم کیو ایم کے زیر اہتمام ایک بڑا مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں مشہور شاعر جون ایلیا نے بھی شرکت کی، دوسرے روز یہ خبر ملی کہ اس مشاعرے میں ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے جون ایلیا پر حملہ کرکے انھیں زدوکوب کیا، یہ بڑی ہی افسوس ناک اور تکلیف دہ خبرتھی، ہمارے دفتر پہنچتے ہی جمال احسانی ہمارے پاس آئے اور یہ خبر سنائی ، ہم بھی سناٹے میں رہ گئے اور فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کیا جائے،واضح رہے کہ جون ایلیا ماہنامہ سسپنس میں انشائیہ ہر ماہ پابندی سے لکھ رہے تھے چناں چہ یہ فکر بھی ہوئی کہ اب یہ سلسلہ جاری رہ سکے گا یا بند کرنا پڑے کیوں کہ یہ وہ دور تھا جب ایم کیو ایم کی مرضی کے بغیر کراچی میں پتّا بھی نہیں ہلتا تھا۔
ہم نے فوراً ایچ اقبال صاحب کو فون کیا اور اس معاملے میں ان سے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی درخواست کی، انھوں نے بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ میں اپنے طور پر جو کچھ بھی کرسکتا ہوں ضرور کروں گا اور بالآخر یہ مسئلہ حل ہوگیا۔
اصل واقعہ کچھ یوں تھا کہ جون بھائی اپنی مستی میں مست تھے، انھوں نے دیکھا کہ جب بھی کوئی ایم کیو ایم کا اہم آدمی آتا ہے تو تمام شعرا کو اس کے احترام میں کھڑا ہونا پڑتا ہے،جون بھائی کی شاعرانہ انا کے لیے یہ ایک تازیانہ تھا کہ اہل علم و فن کسی سیاسی شخصیت کے احترام میں کھڑے ہوں چناں چہ وہ اس صورت حال سے نہایت عاجز اور پریشان تھے، ان کی بڑبڑاہٹ مستقل شروع ہوچکی تھی جس میں وہ ایم کیو ایم کے بعض قائدین پر لعنت ملامت کر رہے تھے ، بعض کارکنوں کے کانوں میں بھی ان کی بڑبڑاہٹ کی بھنک پڑ گئی تھی اور وہ انھیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہے تھے ، اسی دوران میں اچانک عظیم طارق مرحوم کی آمد ہوئی اور انھیں دیکھتے ہی جون بھائی کی زبان پر یہ الفاظ آگئے ’’آگیا، آگیا، میرے بھائی کا قاتل آگیا‘‘
قریب میں موجود کارکنوں نے بھی یہ الفاظ سن لیے اور انھوں نے حملہ کردیا، جون بھائی اسٹیج سے نیچے گر پڑے، پہلے ہی نہایت دھان پان سے تھے ، اگر ان جاہلوں کو موقع ملتا تو وہ اُن کی جان بھی لے سکتے تھے لیکن فوراً ہی مشہور شاعرہ فاطمہ حسن حرکت میں آئیں اور انھوں نے جون بھائی کو اپنے حصار میں لے لیا یعنی ان کے اوپر لیٹ گئیں تاکہ ایک خاتون کو دیکھ کر حملہ آور رُک جائیں، بہر حال پھر دیگر قائدین نے بھی مداخلت کی اور جون بھائی کو اس مصیبت سے نجات ملی، انھیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا اور پھر ان کے گھر پہنچادیا گیا لیکن ایک خوف کی فضا بدستور قائم تھی کہ اب آئندہ نامعلوم کیا سانحہ پیش آئے لیکن شکر الحمداللہ کہ بعد میں کوئی ناخوش گوار بات نہیں ہوئی۔
ایسا ہی ایک واقعہ ایم کیو ایم کے ایک اور مشاعرے میں مشہور شاعراجمل سراج کے ساتھ ہوا تھا، اسے اغوا کرلیا گیا تھا لیکن بروقت عبیداللہ علیم اور جمال احسانی وغیرہ کی مداخلت سے اس کی واپسی ہوسکی تھی، اس مشاعرے کی صدارت خود الطاف حسین صاحب کر رہے تھے اور اجمل سراج اس پر معترض تھے کہ ایک غیر شاعر مشاعرے کی صدارت کیوں کر رہا ہے؟
کراچی آپریشن
1992 ء میں ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں آپریشن شروع ہوا اور گویا اچانک دنیا ہی بدل گئی، ایک نئی ایم کیو ایم حقیقی وجود میں آگئی جب کہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم انڈرگراؤنڈ چلی گئی، زبردست پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی ، ایم کیو ایم سے متعلق افراد گرفتار ہورہے تھے یا مارے جارہے تھے، ان دنوں ہمیں بڑی فکر ہوئی کہ آخر ایچ اقبال صاحب پر کیا گزری اور وہ کس حال میں ہیں ، انھیں فون کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں کال ٹریس نہ ہوجائے اور ہم بھی کسی پکڑ دھکڑ کی لپیٹ میں نہ آجائیں لیکن پھر جب پاکیشیا کا نیا شمارہ بازار میں آیا تو اندازہ ہوا کہ وہ بہر حال خیروعافیت سے ہیں، ہم نے انھیں تو فون نہیں کیا البتہ افسر آذر کو فون کرکے ان کا حال احوال دریافت کیا ، معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف خیریت سے ہیں بلکہ نہایت مجاہدانہ جذبے کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں، پاکیشیا کا نیا شمارہ حکومت وقت کے سخت خلاف تھا اور بعض جگہ حکومت کے لیے ایسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے تھے جو تحریر نہیں کیے جاسکتے، اس زمانے میں پاکستان میں جناب نواز شریف وزیراعظم تھے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ اس زمانے میں ایچ اقبال صاحب کا رابطہ ایم کیو ایم کے کون سے اہم قائدین سے تھا کیوں کہ الطاف حسین تو لندن جاچکے تھے پھر افسر آذر کے ذریعے ہی معلوم ہوسکا کہ اشتیاق اظہر مرحوم ان سے قریبی رابطے میں ہیں، اشتیاق اظہر ایک بزرگ صحافی تھے اور جب ایم کیو ایم کی قیادت انڈر گراؤنڈ ہوگئی تھی تو انھوں نے آگے بڑھ کر ایم کیو ایم کی قیادت سنبھال لی تھی، بعد میں انھوں نے ہی مہاجر قومی موومنٹ کا نام متحدہ قومی موومنٹ کیا تھا۔
روزنامہ پرچم کراچی
ایک روزنامہ اخبار نکالنے کا پروگرام بھی بن رہا ہے اور پھر ایم کیوایم کے آرگن کے طور پر ’’روزنامہ پرچم کراچی‘‘ بازار میں آگیا، اس کا دفتر ہمارے آفس کی گلی میں ہی تھا، ہم اس گلی کا نام بہت پہلے ’’غیبت گلی‘‘ لکھ چکے ہیں، گلی میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پر ایک بلڈنگ کے شاید دوسرے یا تیسرے فلور پر روزنامہ پرچم کا آفس قائم کیا گیا تھا، اس طرح یہ سہولت ہوگئی تو ہم کسی وقت بھی پرچم کے دفتر جاکر ایچ اقبال ، افسر آذر یا دیگر واقف لوگوں سے مل سکتے تھے، روزنامہ پرچم میں ایچ اقبال صاحب نے ایک سلسلے وار ناول بھی شروع کیا تھا جس کا موضوع شاید کراچی آپریشن تھا، پرچم ہی میں ساجد امجد نے بھی ’’چوپال‘‘ کے نام سے کالم نگاری شروع کردی تھی اور بے شک طنزومزاح کے پیرائے میں ساجد نے بڑے ہی لاجواب کالم لکھے،اسے ساجد کی بدقسمتی کہنا صحیح ہوگا کہ ان کی جگہ چوپال کا کالم ڈاکٹر عامر لیاقت نے سنبھال لیا ورنہ ساجد امجد جیسا انشا پرداز اس کالم کے ذریعے اپنے قلم سے جو موتی بکھیر رہا تھا، وہ نایاب تھے، اسی مصروفیت کی وجہ سے سرگزشت کے لیے ان کا لکھنا بھی کم ہوگیا تھا۔
ایک روز افسر آذر دفتر آئے تو بڑے ملول اور افسردہ تھے، ہم نے ان سے پوچھا ’’خیریت تو ہے؟‘‘ تو وہ خاموش بیٹھے ہماری شکل دیکھتے رہے، شاید ہمت نہیں کرپارہے تھے کہ اپنا مدعا بیان کریں، ہم بھی ان کے چہرے پر نظریں جمائے اس انتظار میں تھے کہ وہ کچھ بولیں مگر چند لمحوں بعد ہمیں محسوس ہوا کہ ان کی آنکھیں نم ہورہی ہیں، ہم فوراً اٹھے اور کمرے کا دروازہ بند کرکے لاک کردیا اور ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر آہستگی سے کاندھے کو تھپ تھپایا، مزید کیا بیان کریں ، انھوں نے جو بھی واقعہ سنایا وہ نہایت تکلیف دہ تھا ، روزنامہ پرچم سے انھیں فارغ کردیا گیا تھا اور شاید کئی ماہ کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی تھی، شدید مفلسی کے سبب ان کے لیے گھر چلانا بھی مشکل تھا، ان دنوں روزنامہ پرچم کے دفتر میں کیا ہورہا تھا، یہ ایک الگ کہانی ہے، لندن سے تازہ تازہ ڈاکٹر عامر لیاقت کی آمد ہوئی تھی اور وہ روزنامہ پرچم میں اہم حیثیت کے حامل تھے۔
بہر حال ہم نے فوراً معراج صاحب سے ملاقات کی اور سارا ماجرا بیان کردیا، ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی کہ فوری طور پر بطور ایڈوانس انھیں کچھ رقم بھی دے دی جائے۔اس حوالے سے معراج صاحب بڑے کھلے دل کے انسان ہیں، انھوں نے فوری طور پر پانچ ہزار روپے دینے کی منظوری دی اور ہم سے کہا کہ آئندہ ماہ کا جاسوسی کا سرورق انھیں دے دیں، معراج صاحب کی اس مہربانی سے افسر بھائی کی بڑی اشک شوئی ہوئی اور پھر وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ادارے سے وابستہ رہے، ان کا انتقال شاید 1999 ء یا 2000 ء میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوا تھا، ہم نے ان کے جنازے میں شرکت کی تھی۔
افسر آذر جنھیں ہم نے ہمیشہ افسر بھائی کہا ہے، زبان و بیان پر مکمل عبور رکھنے والے ایک منفرد فکشن رائٹر تھے لیکن بنیادی طور پر مختصر افسانہ ان کی فیلڈ تھی، طویل کہانی میں اکثر وہ کچھ ڈگمگا جایا کرتے تھے اور کہانی ان کے کنٹرول سے نکل جاتی تھی، بعد میں ہم سے مشورہ کرتے اور کہتے کہ یہ کہانی طویل ہوتی جارہی ہے، اب کیا کیا جائے جب کہ ڈائجسٹ میں ہر کہانی کے لیے ایک حد بہر حال مقرر ہوتی ہے، انھوں نے اقبال پاریکھ کے لیے بے شمار ناول ترجمہ کیے، شاید کوئی سلسلے وار کہانی بھی لکھی ہو کیوں کہ اقبال پاریکھ کے انداز ڈائجسٹ میں بعض سلسلے وار کہانیاں ایک سے زائد مصنفین لکھتے رہے تھے لیکن ہمیں اس کی زیادہ تفصیل کاعلم نہیں ہے،ماہنامہ نئے اُفق میں بھی وہ ایک سلسلے وار کہانی لکھ چکے تھے۔
روزنامہ پرچم میں ایچ اقبال اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے درمیان معاملات بگڑتے چلے گئے اور بالآخر ایچ اقبال نے علیحدگی اختیار کرلی لیکن یہ علیحدگی بڑی پراسرار قسم کی تھی ، کچھ نہیں معلوم تھا کہ ایچ اقبال کہاں چلے گئے، انھوں نے اپنی دستگیر کی رہائش گاہ بھی شاید پہلے ہی چھوڑ دی تھی اور کہاں رہ رہے تھے، یہ بھی معلوم نہ تھا۔
ایچ اقبال کے انتہائی قریبی دوستوں میں اعجاز رسول صاحب تھے، یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ وہ تمام لوگ جو معراج صاحب کے ناپسندیدہ تھے، اعجاز رسول صاحب کے ہمیشہ قریب رہے بلکہ بہت ہی عزیز دوستوں میں شامل رہے، معراج صاحب اس بات کا شکوہ بھی کیا کرتے تھے کہ اعجاز ہر اس شخص کو اپنے قریب کرلیتا ہے جسے میں دور کرچکا ہوتا ہوں، اس اعتبار سے دونوں بھائیوں کے درمیان خاصا ذہنی اختلاف پایا جاتا تھا، چناں چہ ہم نے اعجاز صاحب سے اقبال صاحب کے بارے میں پوچھا کہ وہ آج کل کہاں ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ اقبال صاحب بھی گوشہ نشین یا عام الفاظ میں انڈر گراؤنڈ ہوچکے ہیں، انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے، فی الحال کچھ بھی نہیں کر رہے، دونوں میاں بیوی کسی خفیہ جگہ رہائش پذیر ہیں اور کہاں ہیں یہ ہمیں بھی نہیں معلوم، اس جواب کے بعد ہم خاموش ہوگئے ، شاید انھوں نے اپنا فون نمبر بھی بدل لیا تھا۔
ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ سرگزشت کے سلسلے میں بک اسٹالوں اور پرانے کتب و رسائل کے ٹھکانوں کی تلاش میں رہتے تھے، لاہور یا پنڈی جانا ہوتا تو انارکلی کا پرانی کتابوں کا بازار یا پنڈی کا صدر ہماری دلچسپی کا خصوصی مرکز ہوتا، اس حوالے سے عزیزم طاہر جاوید مغل ہمارے رہنما ہوتے،لاہور میں ہمارا قیام طاہر کے گھر پر ہی رہتا تھا،ان سے بھائیوں جیسے مراسم تھے اور وہ خود بھی ہمارا کسی ہوٹل وغیرہ میں ٹھہرنا پسند نہیں کرتے تھے،طاہر کی صاحب زادی صبا ہماری بیٹی کی ہم عمر تھی، نہایت شوخ و شریر، ہمیں پان کھاتا دیکھ کر نت نئے سوالات کرتی، اس نے شاید پہلے کبھی کسی کو پان کھاتے نہیں دیکھا تھا۔
طاہر جاوید نے ان دنوں نئی نئی سوزوکی خیبر لی تھی، ہمیں جہاں جانا ہوتا، طاہر ہمیں لے جاتے، لاہور کے مختلف علاقوں اور راستوں سے وہ خوب واقف تھے اور ہم گویا ان کی انگلی پکڑ کر پورا لاہور گھومتے، 17 جولائی کو حال ہی میں لاہور جانا ہوا تو 19جولائی کو طاہر کا فون موصول ہوا ، ہم انھیں پہلے بتاچکے تھے کہ 17 جولائی کو لاہور پہنچیں گے لیکن لاہور پہنچ کر کچھ دوسری مصروفیات میں ایسے الجھے کہ انھیں اطلاع بھی نہ دے سکے، فون پر جب انھیں بتایا کہ ہم لاہور میں ہیں اور کل 20 جولائی کو راولپنڈی روانگی ہے تو بہت حیران ہوئے کہ اتنی جلدی جانے کی کیا ضرورت ہے؟آپ تو ہمیشہ کم از کم پانچ روز کے لیے لاہور آتے ہیں ، ہم نے انھیں وجوہات بتائیں اور معذرت کی جو انھوں نے قبول نہیں کی اور کہا کہ آج شام کو گھر آجاؤ۔
زندگی کے اونچے نیچے راستے کبھی کبھی عجب تماشے دکھاتے ہیں اور ہمارے ساتھ تو اکثر ایسا ہوتا ہے، اس روز ہم ایک اور صاحب سے وعدہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے کہا ’’کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ تم آجاؤ، ہمارا قیام گلبرگ میں زنجانی صاحب کے گھر پر ہے جہاں تم پہلے بھی آچکے ہو‘‘
طاہر نے جواب دیا’’ میں گھر سے بہت کم نکلتا ہوں کیوں کہ اب مجھ سے گاڑی ڈرائیو نہیں کی جاتی، بہتر یہی ہے کہ آپ آجائیں اور رات کا کھانا بھی ہمارے ساتھ ہی کھائیں‘‘
طاہر جاوید مغل کی رہائش اسکیم موڑ کے قریب اقبال ٹاؤن میں ہے،برسوں پہلے ہمارا آنا جانا ان کے گھر رہا تھا، اب ان کا گھر ڈھونڈنا مشکل سا لگ رہا تھا، ہم نے بات بناتے ہوئے کہا ’’اتنے عرصے بعد ہمارے لیے مشکل ہوگا کہ اکیلے وہاں پہنچ کر تمھارا گھر ڈھونڈتے پھریں، ہمیشہ تمھاری انگلی پکڑ کر لاہور میں آوارہ گردی کی ہے‘‘ مگر طاہر بضد تھے کہ آپ کو آنا پڑے گا، چناں چہ ہم نے وعدہ کرلیا کہ جن صاحب سے ملاقات طے ہے ان سے فارغ ہوکر آپ کی طرف آنے کی کوشش کروں گا۔
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ پچھتاوا ہے کہ کاش ان صاحب سے ملاقات کے لیے نہ جاتے کیوں کہ ایک طویل سفر کرکے گلبرگ سے جب ہم رائیونڈ روڈ پر ان کے آفس پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ آج آفس نہیں آئے، کافی دیر کوشش کے بعد ان سے فون پر رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ میں وائف کو اسپتال لے کر آیا ہوں اور ہم سے بہت معذرت کی، ظاہر ہے کسی ایمرجنسی کی صورت میں ان سے کوئی شکوہ شکایت نہیں کیا جاسکتا تھا۔
اب ہمارا ارادہ تھا کہ طاہر کی طرف رُخ کیا جائے، رات کے 8 بجے کا ٹائم تھا، ہمارے ایک مہربان لاہور میں آج کل وہی کام کرتے ہیں جو برسوں پہلے طاہر جاوید کے ذمے تھا یعنی جب ہمیں کہیں جانا ہو تو وہ اپنی گاڑی لے کر آجاتے ہیں، اس روز بھی ہم ان کے ساتھ ہی رائیونڈ روڈ تک گئے تھے ، جب ہم نے انھیں بتایا کہ اب اسکیم موڑ جانے کا ارادہ ہے تو انھوں نے پہلے تو ہمیں یہ بتایا کہ اسکیم موڑ یہاں سے بہت دور ہے، کم از کم ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے پھر یہ بھی اطلاع دی کہ انھیں گھر پہنچ کر بیوی بچوں کے ہمراہ کسی تقریب میں جانا ہے،اس طرح دل کے ارماں دل ہی میں رہ گئے اور لاہور پہنچ کر بھی عزیز از جان طاہر جاوید مغل سے ملاقات نہ ہوسکی، ان شاء اللہ نومبر میں پھر لاہور جانے کا ارادہ ہے، یار زندہ ، صحبت باقی۔
طاہر جاوید مغل کی ادارے سے وابستگی کا واقعہ بھی خاصا دلچسپ ہے،طاہر سیروسیاحت کے ہمیشہ شوقین رہے ہیں، شاید گھومنے پھرنے کی نیت سے ہی ایک بار کراچی آئے تو ہمارے دفتر کا چکر بھی لگالیا، ارادہ یہی تھا کہ جاسوسی سسپنس کے لیے کہانیاں لکھی جائیں کیوں کہ وہ بہت پہلے سے لاہور کے رسائل میں لکھتے رہے تھے ، انھوں نے ایک کہانی بذریعہ ڈاک معراج صاحب کو بھی بھیجی تھی لیکن بدقسمتی سے وہ وصی بدایونی صاحب کے کمرے میں پہنچ گئے اور معراج صاحب سے ملاقات کا مدعا بیان کیا، وصی صاحب بھی اپنے موڈ مزاج کے اعتبار سے کچھ الگ ہی قسم کے آدمی تھے ، انھوں نے اس نوجوان اور بظاہر کم عمر نظر آنے والے لڑکے کے بارے میں شاید یہ سوچا ہو کہ اتنی کم عمری میں یہ کیا کہانی لکھیں گے، چناں چہ طاہر کو کوئی بہانہ کرکے چلتا کردیا، اس طرح کراچی آکر بھی ان کی ملاقات معراج صاحب سے نہ ہوسکی، یہ شاید ان دنوں کی بات ہے جب وہ ہمارے کمرے سے ایک دوسرے کمرے میں منتقل ہوچکے تھے اور ہم سے بھی ناراض تھے ۔
طاہر جاوید مغل کی کہانی معراج صاحب کو موصول ہوچکی تھی، انھوں نے کہانی پڑھی اور اسے پسند بھی کیا لیکن جواب دینے کے لیے طاہر نے اپنا کوئی پتا نہیں لکھا تھا لہٰذا سسپنس کے خطوط کے صفحات میں انھیں جواب دیا گیا اور اس طرح طاہر جاوید مغل کی قلم کاری کا سلسلہ سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ میں شروع ہوسکا۔
بات خود کشی نمبر سے شروع ہوئی تھی اور درمیان میں کسی اور طرف نکل گئی۔
شام بھی تھی دھواں دھواں دل بھی اداس اداس تھا
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
خود کشی نمبر وہ مقبولیت حاصل نہ کرسکا جو دوسری شادی نمبر نے حاصل کی تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ بڑا ہی افسردہ کرنے والا موضوع تھا ، حالاں کہ اس شمارے کی تیاری میں دوسری شادی نمبر سے زیادہ محنت کی گئی تھی، ان دنوں عزیزم عقیل عباس جعفری بھی ادارے سے وابستہ تھے اور ادارے کے لیے لطائف، کارٹون اور دیگر دلچسپ اقتباسات کی فراہمی ان کی ذمے داری تھی، عقیل نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے خود کشی نمبر کے لیے کام کیا تھا، اس نمبر کی تیاری کے دوران میں کچھ ایسٹرولوجیکل معلومات بھی ہمیں حاصل ہوئیں، اکثر خود کشی کرنے والے افراد کا تعلق برج عقرب یا برج حوت سے تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. ملکہ افروز روہیلہ

    قسط نمبر بیس اور اکیس ایک ساتھ پڑھی بہت دلچسپ آور مزیدار چونکہ سرگزشت کے مستقل قاری اور لکھاری بھی رہے ہیں تو کچھ ایسی ہی دلچسپی ہے جو آف دی ریکارڈ یا پس پردہ حقائق میں ہوتی ہے اللہ آپ کو صحت و تندرستی دےر زور قلم اور زیادہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے