سر ورق / مکالمہ / جناب عارف محمود سے ملاقات!  یاسین صدیق

جناب عارف محمود سے ملاقات!  یاسین صدیق

محترم جناب عارف محمود (ایڈیٹر ماہنامہ حکایت لاہور ) سے

ملاقات!

 یاسین صدیق

ماہنامہ حکایت سے کون واقف نہیں ہے۔ایک منفرد، مخصوص حلقہ احباب میں پسند کیا جانے والاپاکستان کا معتبر ماہنامہ ہے۔ جس کا مرکز اسلام و پاکستان ہے۔ سچ بیانیاں و اصلاحی ناولز،کہانیاں،مضامین زیادہ تر شائع ہوتے ہیں۔یہ ماہنامہ اردو ادب میں اپنا ایک خاص مقام قائم رکھے ہوئے ہے۔اس ماہنامہ میں وہ ہی تحریر شائع ہوتی ہے جو ادب برائے زندگی ہو۔ماہنامہ حکایت کا آغاز ستر کی دہائی میں ہوا۔بانی عنائت اللہ صاحب تھے۔انہوں نے ادب کو ایک نئی جہت عطا فرمائی۔ آج کل ماہنامہ حکایت کے ایڈیٹرجناب عارف محمود صاحب ہیں ۔ان سے لیا جانے والا انٹرویوز پیش خدمت ہے ۔

انٹرویوز پینل ( امجد جاوید،سید بدر سعید،خرم شہزاد،شبیر علوی،ظفر اقبال ہاشمی، )

سوال ۔ السلام علیکم سر آپ کا نام کس نے رکھا تھا ؟

جواب ۔میرے والد صاحب مرحوم و مغفور نے۔

سوال ۔آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے ۔اصل تاریخ پیدائش بتائیے گا؟

جواب۔8 اگست 1962ئ۔ (عمر چھپانے کا شوق عورتوں کو ہوتا ہے، مرد تنخواہ چھپاتے ہیں)۔

سوال ۔آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟مطلب کس سکول سے ؟وہ سکول گھر سے کتنی دور تھا ؟جب آپ کو سکول میں داخل کروایا گیاآپ کی عمر کیا تھی ؟

جواب ۔میں نے ابتدائی تعلیم رحمن پورہ لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول سے حاصل کی۔ یہ سکول اب بھی موجود ہے اور ہمارے گھر سے 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ مجھے چار سال کی عمر میں داخل کرایا گیا تھا۔ آج کل تو اڑھائی تین سال کے بچے کو سکول داخل کرا دیتے ہیں۔ پہلے گروپ، پریپ اور نرسری میں تین سال تک فیسیں بٹورتے ہیں۔

سوال ۔پرائمری کس سن میں پاس کیا ؟پرائمری تک کے ان اساتذہ کا مختصر تعارف جنہوں نے آپ کے علم و ادب کے شوق کی بنیاد رکھی حروف شناسی سیکھائی ؟

جواب ۔ٹھیک سے یاد نہیں غالباً 70ءیا 71ءکا زمانہ تھا۔ ہمارے سکول میں خواتین ٹیچرز تھیں جو سب ہی بچوں کو بڑی شفقت اور لگن سے پڑھاتی تھیں لیکن میں مسز سردار، مس رضیہ اور سکول کی پرنسپل مسز انوری بیگم جو سکول کی مالک بھی تھیں، ان سے بے حد متاثر تھا۔ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت اور صحت کا خاص خیال رکھتی تھیں۔ ہر بچے کے لئے ایک گلاس دودھ فراہم کیا جاتا تھا۔ اس عمر میں علم و ادب کے شوق کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی، ہاں حروف شناسی سے آگاہی ضرور حاصل کی

سوال ۔سر بچوں کی بہتر تربیت کے لیے جن بھوتوں کی کہانیاں سنائی جانی چاہیے یا محمد بن قاسم ، سلطان محمود غزنوی طارق بن زیاد ، کے مختصر واقعات یا عادل بادشاہوں کی کہانیاں ؟

جواب ۔وہ وقت چلا گیا جب بچے جنوں بھوتوں کی کہانیوں سے بہل جاتے تھے بلکہ خوفزدہ بھی ہو جاتے تھے۔ آج کل کے بچے ہر چیز کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور ان کے پاس بہت سارے ”کیا؟، کیوں؟ اور کیسے؟“ موجود ہیں۔ محمد بن قاسم، سلطان غزنوی اور طارق بن زیاد ہماری تاریخ کا سنہرا باب ہیں بلکہ اس سے بھی پیچھے جا کر صحابہ کرامؓ کے دور کے واقعات ان کو گھٹی کی طرح پلانے چاہئیں۔ یہ تمام ہستیاں عادل بھی تھیں اور شجاع بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے آگاہی ضروری ہے۔

سوال ۔میٹرک آپ نے کس سکول سے کیا ؟میٹرک میں کتنے نمبر آئے تھے ؟اس دور کا کوئی ناقابل فراموش واقعہ ؟

جواب ۔میٹرک میں گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول وحدت کالونی لاہور سے کیا۔ امتحان سے پہلے میری اپنڈکس پھٹ گئی تھی اور جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ بہرحال ایک طویل آپریشن کے بعد میں صحت یاب ہوا۔ جس دن میرا آپریشن تھا اسی دن ساتھ والے آپریشن تھیٹر میں مشہور کلاسیکل گلوکار امانت علی کا بھی آپریشن تھا۔ ان کی بھی اپنڈکس پھٹ گئی تھی اور ان کا وہاں انتقال ہو گیا تھا۔ ابھی میں ہسپتال میں ہی تھا اور میرے ٹانکے نہیں کھلے تھے کہ میٹرک کے امتحانات شروع ہو گئےں میرے گھر والوں اور میرے کلاس انچارج محترم نواب دین صاحب نے کہا کہ کوئی بات نہیں اگلے سال پیپر دے دینا، جان بچ گئی یہی کافی ہے۔ مگر میں نے ضد کی کہ میں پیپر ضرور دوں گا۔ میں چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھا، میرے بڑے بھائی مجھے امتحانی سینٹر میں بٹھا آتے تھے اور پیپر ختم ہونے کے بعد اٹھا کر لے آتے تھے۔ میں نے اسی حالت میں تمام پیپرز دیئے اور میری سکینڈ ڈویژن آئی۔

سوال ۔آپ کے خاندان میں آپ کے علاوہ اس وقت کون کون علم و ادب یاصحافت سے وابستہ ہیں ؟

جواب ۔میرے والد صاحب کو دو ہی شوق تھے۔ ایک باڈی بلڈنگ کا اور دوسرا مطالعے کا۔ مطالعے کا شوق ان سے ہم تمام بھائی بہنوں کو وراثت میں ملا۔ ہمارے گھر میں نونہال، اردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ اور نوائے وقت اخبار پڑھا جاتا تھا۔ دودھیال کی طرف سے زمیندارہ تھا اور ننھیال میں سپہ گری پیشہ تھا۔ بعد اگلی نسل سرکاری ملازمتوں کی طرف چلی گئی۔ مجھ سے چھوٹا بھائی آصف بول چینل میں ہے۔ اس سے پہلے وہ ”روزنامہ انصاف“، ”پاکستان“، ”ایکسپریس“ اور ”نوائے وقت“ میں رہ چکا ہے جبکہ ایک بھتیجا ”سٹی42“ میں کام کر رہا ہے۔ میری بڑی بیٹی ماس کمیونیکیشن کے تیسرے سال میں ہے۔

سوال ۔سب سے پہلی کون سی تحریر(کوئی بھی ) جو کہیں شائع ہوئی ہو ؟لکھنے کی ابتدا کیسے ہوئی اور کیا لکھنا شروع کیا تھا۔

جواب ۔میں نے پہلی تحریر اپنے استاد محترم عنایت اللہ کے کہنے پر لکھی۔ یہ ایک افسانہ ”سرکنڈا“ کے عنوان سے تھا جس میں انہوں نے میری حوصلہ افزائی کے لئے بغیر کسی کاٹ چھانٹ کے شائع کر دیا۔ اس کے علاوہ میں نے کہیں نہیں لکھا کیونکہ میرا سارا وقت دوسروں کی کہانیاں، مضامین ”مرمت“ کرنے میں گزر جاتا ہے

سوال ۔ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ ماں کے اوپر لکھا بھی گیا ،گایا بھی گیا،علماءحضرات بھی ماں کی محبت،اہمیت اجاگر کرتے نظر آتے ہیں ،قرآن و حدیث میں والدین کا ذکر ہے ۔اس بارے آپ کیا کہتے ہیں ؟۔

جواب ۔میں اسے زیادتی سمجھتا ہوں کہ ماں پر زیادہ لکھا گیا ہے جبکہ باپ کی ہستی بھی کسی طرح کم لائق احترام نہیں ہے۔ عام طور پر صرف اتنا ہی کہا اور لکھا جاتا ہے کہ ”جنت ماں کے قدموں تلے ہے“۔ حالانکہ مکمل یہ ہے کہ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس کا دروازہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کا ذکر کیا ہے صرف ماں یا باپ کا نہیں کیا۔ اس کے باوجود ماں جیسی ہستی کا مقام باپ سے اونچا ہی ہے۔ اس کی وجہ ماں کا بچے کو نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھنا اور پیدائش کے جان لیوا مرحلے سے گزر کر اس کی پرورش کرنا، ماں ہی کا کام ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے کہ لکھنے لگو تو سینکڑوں صفحات میں بھی احاطہ نہیں ہو سکے گا۔

سوال ۔آپ کی شادی کب ہوگئی ؟

جواب ۔میری شادی 3 جنوری 1998ءمیں ہوئی اور یہ میری محبت کی شادی ہے جو نہایت کامیاب ہے۔

سوال ۔آپ کی سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت کون سی ہے ؟

جواب ۔جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ نہ کوئی ان جیسا پیدا ہوا ہے اور نہ قیامت تک ہو گا۔ ان پر لاکھوں کروڑوں سلام۔

سوال۔آ پ کی ذاتی زندگی کتنی کامیاب ہے ؟کیا آپ موجودہ زندگی سے مطمئن ہیں ؟

جواب۔کامیابی کا ہر ایک کا اپنا معیار اور پیمانہ ہے۔ دنیاوی لحاظ سے یا مادی لحاظ سے مجھے کامیاب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ”حکایت“ جیسے نظریاتی پرچے میں رہ کر میں نے بہت قربانی دی ہے اور نہایت کم تنخواہ میں بھی کام کیا ہے۔ دوسری طرف میں ذہنی اور روحانی لحاظ سے مطمئن ہوں، میرا ضمیر مطمئن ہے۔ یہی کامیابی ہے۔

سوال۔سکون کہاں جا کر محسوس کرتے ہیں ۔اور کیوں ؟

جواب ۔مسجد میں جا کر میں دنیا کے سارے غم و فکر بھول جاتا ہوں۔ بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے تو پھر اللہ کے گھر میں سکون کیوں نہ ملے گا۔

سوال ۔آپ کی منزل یا مقصد کیا ہے ؟

جواب ۔ہم سب کی منزل آخرت ہے اور مقصد میرا یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کے مقرر کردہ راستے پر چلنے کی کوشش کرنا اور دوسروں کے لئے نفع بخش ثابت ہونا ہے۔ دوسروں کے کام آنا۔ مجھے اللہ نے تین بیٹیاں عطا فرمائی ہیں، اللہ ان کے نیک نصیب کرے، مجھے اپنے لئے کوئی خواہش نہیں ہے

سوال ۔مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے موجودہ کہانی نویس کو کیا لکھنا چاہیے کہ وہ جائز آمدن بھی حاصل کرسکے اور ضمیر بھی مجروح نا ہو ۔

جواب ۔ہمارے کہانی نویسوں کے لئے بہت وسیع میدان ہے لکھنے کے لئے۔ ہمارا معاشرہ کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ لکھنے والوں کو میں یہی کہوں گا کہ جو بھی لکھیں، کسی فرقے کو نہ چھیڑیں، فحش نگاری سے بچیں اور جو بھی لکھیں اس کا بامقصد ہونا ضروری ہے۔ یہ یاد رکھیں حقیقت افسانے سے زیادہ دلچسپ ہوتی ہے۔

سوال ۔معاشرے میں جرائم کا کیسے خاتمہ ممکن ہے ؟

جواب ۔اسلام ایک کامل دین ہے اور دین فطرت ہے۔ اگر اسلامی قوانین اور سزاﺅں کا نفاذ کر دیا جائے تو معاشرے سے جرائم کا خاتمہ یقینی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اسلام کے نام پر وطن حاصل کر کے آج تک انگریزوں کا دیا قانون چلا رہے ہیں جبکہ انگلینڈ والے تو ”عمر لاز“ کے نامس ے حضرت عمرؓ کے نافذ کردہ قوانین چلا رہے ہیں۔

سوال ۔ہماری نوجوان نسل میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں انہیں بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ان کی اصلاح کیسے ممکن ہے ؟

جواب ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے اور وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی صلاحیتوں کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے ادارے قائم کرے جو ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں ان سے متعلقہ اداروں میں نوکریاں فراہم کریں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ذہین و فطین نوجوانوں کی صلاحیتوں سے اغیار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سوال ۔محبت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

جواب ۔محبت ایک منہ زور جذبہ ہے۔ کسی بھی عمر اور کسی بھی وقت کہیں بھی غالب آ سکتا ہے۔ عام طور پر صرف عورت مرد کی چاہت کو ہی محبت سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کے اندر بڑی وسعت ہےں محبت اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور وطن سے بھی ہو سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی ایمان ہے

سوال ۔اپنی زندگی کے ایک دو یاد گار واقعات ؟

جواب ۔یوں بے شمار واقعات ناقابل فراموش ہیں لیکن میری زندگی کا حاصل وہ لمحات تھے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے خانہ کعبہ کا دیدار کیا اور روضہ ¿ رسول پر حاضری دی۔ میں اپنی خوش بختی پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے۔ مجھے فٹ بال کھیلنے کا جنون تھا اور میں نے کلب لیول تک کھیلا ہے۔ ایک بار میرا بازو ٹوٹ گیا اور چند سال بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے میری داہنی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

سوال ۔پاکستان میں ادب اور مخلص ادیبوں کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں آپ؟

جواب ۔اب دور بدل چکا ہے۔ خلوص کو کوئی نہیں دیکھتا۔ کوئی بندہ جتنا چاپلوس ہو، خوشامد کر سکتا ہو، متعلقہ افراد کی جی حضوری کر سکتا ہو وہ اتنا ہی کامیاب ہےں اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے استعمال میں مہارت ضروری ہے۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو بھی لکھتے اور چھپتے دیکھا ہے جن کو اردو لکھنا نہیں آتی۔ جب ادیبوں کا پیٹ نہیں بھرے گا تو ادب کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس کے لئے ادیب کا زندہ رہنا ضروری ہے۔

سوال ۔سر مختصر بتائیں کہ ناول ،کہانی اورافسانہ میں کیا فرق ہے ؟ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ یہ ناول ہے ۔یہ کہانی ہے۔ یہ افسانہ ہے ۔اسی طرح ڈرامے اور فلمی کہانی میں کیا فرق ہوتا ہے؟

جواب ۔ناول میں کہانی طویل ہوتی ہے اور کئی کہانیوں کا مجموعہ بھی ہوتا ہے جبکہ کہانی میں زندگی کا کوئی ایک پہلو سامنے رکھا جاتا ہے۔ یہ طویل بھی ہو سکتا ہے اور مختصر بھی۔ افسانے میں بات مختصر کی جاتی ہے اور اکثر بات کو درمیان میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کوئی سوالیہ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ میرے ایک عزیز دوست کہتے ہیں کہ افسانہ مختصر جھوٹ، کہانی ذرا لمبا جھوٹ اور ناول طویل جھوٹ کو کہتے ہیں۔ فلمی کہانی ایک فارمولے کے مطابق لکھی جاتی ہے اور مختلف سچویشن میں گانوں کا سہارا بھی لیا جاتا ہے جبکہ ڈرامے میں آزادی ہے۔ یہ ایک بار مکمل ہو سکتا ہے۔ دس قسطوں میں بھی اور بہت طویل بھی۔ انڈیا کے ڈرامے شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے

سوال ۔سوشل میڈیا کا اژدھا پرنٹ ادبی رسائل کو کھا جائے گا ۔آپ کیا کہتے ہیں ؟

جواب ۔سوشل میڈیا نے پرنٹ میڈیا کو خاصا نقصان پہنچایا ہے اور نئی نسل سوشل میڈیا کی رنگینیوں کی اسیر ہو جانے کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کو پسند نہیں کرتی لیکن یہ بات غلط ہے کہ سوشل میڈیا کا اژدھا پرنٹ میڈیا کو کھا جائے گا۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اتنے ڈھیر سارے چینل پر گھنٹے بعد تازہ ترین خبریں پیش کرتے ہیں۔ بریکنگ نیو اس کے علاوہ ہیں لیکن اس کے باوجود اخبارات بند نہیں ہوئے۔ اخبار پڑھنے کا ایک اپنا مزہ ہے بلکہ نشہ ہے۔ اسی طرح ڈھیروں ڈراموں کے ہوتے ہوئے ناولوں اور کتابوں کی مانگ جاری ہے اور رہے گی۔

سوال ۔نئے لکھاریوں کو کس چیز کی سب ے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ؟نام وپیسے کمانے کے لیے؟

جواب ۔اپنی شناخت، اپنا نام اور اپنی پہچان بنانے کی ضرورت ہوتی ہےں اس کے لئے کوئی چونکا دینے والی تخلیق جو پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔ بعض اوقات کوئی متنازعہ تحریر بھی لکھنے والے کا نام بنا دیتی ہے۔ع…. بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا!

سوال۔انگریزی ادب کی کسی شخصیت سے متاثر ہوں تو اسکا نام اور وجہ تحریر فرما دیں؟

جواب ۔انگریزی ادب میں نہیں پڑھتا اس لئے متاثر بھی نہیں ہوں۔ متاثرہونے کے لئے اردو ادب میں کیا کمی ہے؟ ہر صنف میں بڑے بڑے قابل نام موجود ہیں۔

سوال ۔ کیا آپ نے زندگی کے کسی لمحہ میں موت کا حقیقی خوف محسوس کیا ؟ اس وقت آپ کے احساسات کیا تھے ؟

جواب ۔میری زندگی میں ایسا کوئی لمحہ نہیں آیا جب میرا پنڈکس پھٹ جانے کے بعد آپریشن تھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ بچنے کے چانس تیس چالیس فیصد ہیں۔ میں نے آپریشن ٹیبل پر اپنے والد صاحب کو کہا کہ مجھے کچھ نہیں ہو گا اور میں صحیح سلامت باہر آﺅں گا۔ بعد میں 13 دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اللہ نے مجھے زندگی بخش دی۔ میں اللہ سے ہمیشہ خاتمہ بالایمان اور آسان موت کی دعا کرتا ہوں۔

سوال۔لکھاری جب تک شہر ت کی بلندیوں کو نہ چھوئے پپلیشر ا ±س کی کتاب شائع کرنے کو تیارنہیں ہوتے نئے لکھاری کتاب شائع کروانےکے چکر میں اپنی جمع پونجی سے ہاتھ صاف کر بیٹھے ہیں ،اس بارے کچھ کہیں گے

جواب۔پبلشرز کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کوئی بھی نوآموز اور اجنبی نام پر سرمایہ کاری کیسے کر سکتا ہے؟ یہی نوآموز جب اپنی محنت اور قسمت کی مہربانی سے اپنا نام اور مقام بنا لیتے ہیں تو پبلشرز ان کے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں۔ یہ نئے لکھاریوں کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنی پہچان اور نام بنانے کے لئے اپنی جیب سے پیسہ لگاتے ہیں، ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

سوال۔آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو پہلا قانون کونسا سا پاس کروائیں گے ،پہلا حکم کیا صاددر فرمائیں گے

جواب۔وطن عزیز میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کر دیا جائے گا اور پہلا حکم یہی ہو گا کہ آج سے مانگے تانگے کے سارے قوانین منسوخ کئے جاتے ہیں۔ جو اللہ اور رسول اللہ کے قوانین کو نہیں مانتا وہ پاکستان چھوڑ دے۔

سوال۔کیسا ادب وقت کی ضرورت ہے ۔

جواب۔ تعمیری ادب اور کلاسیکل ادب وقت کی ضرورت ہے لیکن اس کے بالکل الف پاپولر ادب کا راج ہے۔ خواتین لکھاری اس میدان میں چھائی ہوئی ہیں۔ قارئین کو خصوصاً خواتین کو خوابوں اور خیالوں کی حسین دنیا میں لے گئی ہیں۔

سوال۔کمرشل ادیب بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟

جواب ۔کمرشل ادیب بننے کے لئے ضروری ہے کہ لکھاری انسانی نفسیات کو سمجھتا ہو۔ اس کی محرومیوں اور خواہشات سے واقف ہو اور عوام کے جذبات سے کھیلنا جانتا ہو۔ لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کر سکتا ہو۔ گویا کہ وہ بات کہہ دے جو قاری کہنا چاہتا ہے لیکن اظہار نہیں کر سکتا۔

سوال ۔ایک پسندیدہ قول سنائیں ؟

جواب۔جب تک تُو پتھر کھا کے دعا دینے والی سنت پوری نہیں کرے گا تب تک سوہنے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ سچا ثابت نہیں ہو گا۔

سوال ۔اپنی پسند کا کوئی ایک شعر سنائیں ؟

جواب۔

سیکھ نہیں پا رہا ہوں میٹھے جھوٹ بولنے کا ہنر

کڑوے سچ نے پتہ نہیں کتنے لوگ چھین لئے مجھ سے

سوال۔آپ اپنی دس پسندیدہ ترین بکس بتائیں ۔ان میں اسلامی بکس شامل نہیں ہیں ؟

جواب۔(1)شمشیر بے نیام، (2)دروازہ کھلتا ہے (3)لوحِ ایام (4)داستان ایمان فروشوں کی (5)شہاب نامہ (6)لبیک (7)عشق کا عین (8)چاہ بابل (9)راجہ گدھ (10)خدا کی بستی

سوال۔آپ اپنا ایک دن کا ٹائم ٹیبل بتائیں ؟معمولات زندگی کب بیدار ہوتے ہیں کب سوتے ہیں ؟یہ بیداری کا وقفہ کیسے گزارتے ہیں؟

جواب۔صبح فجر کی نماز ادا کر کے لیٹ جاتا ہوں۔ پھر سات بجے ناشتے اور دوپہر کھانا پکانے کے لوازمات بازار سے لے آتا ہوں۔ دودھ والے سے دودھ لے کر ابال کر رکھ دیتا ہوں۔ فریج سے رات کا رکھا ہوا آٹا، دودھ اور سالن وغیرہ کچن میں پہنچا کر نہانے کے بعد بیگم کو ناشتہ تیار کرنے کے لئے اٹھا دیتا ہوں۔ ناشتہ بننے تک چھوٹی بیٹی کو سکول چھوڑ آتا ہوں۔ ناشتہ کر کے 9 بجے گھر سے آفس کے لئے نکلتا ہوں۔ 5 بجے واپس گھر کے لئے نکلتا ہوں اور 6 بجے کے قریب گھر پہنچ جاتا ہوں۔ کچھ دیر آرام کے بعد اردو بازار کے دو اداروں کے لئے بک ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ پھر مغرب کی نماز کے لئے مسجد جاتا ہوں۔ واپسی پر پھر کام…. اس دوران گھر کے کام بھی چلتے رہتے ہیں۔ 9 بجے رات کا کھانا اور پھر کام کے لئے بیٹھ جاتا ہوں۔ 11 بجے کام چھوڑ کر بیگم بچوں سے گپ شپ اور ٹی وی دیکھتا ہوں۔ بارہ بجے سونے کے لئے لیٹ جاتا ہوں۔

سوال ۔ترقی کیسے ممکن ہے؟مراد مادی ترقی ہے ؟

جواب۔موجودہ دور میں مادی ترقی کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ ہو گی تو اچھی جاب بھی ملے گی اور آگے بڑھنے کے راستے بھی کھلیں گے۔ جدید علوم سے آگاہی بھی ملے گی جس سے انسان کسی بھی پلیٹ فارم پر ترقی کے راستے خود کھول سکتا ہے۔ اگر بندہ ہمارے سیاستدانوں کی طرح بے ضمیر ہے تو پھر ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کر کے دولت حاصل کر سکتا ہے۔

سوال۔لکھنے میں آخر ایسی کیا چس ہے کہ منہ کو لگی یہ نہ چھوڑی جائے ؟ ہر ایک کاروباری اور شوقین شخص برے حالات میں اپنا کاروبار بدل لیتا ہے اور بہت سوں نے شوق سے منہ موڑ لیا مگر ادیب واحد قوم ہے جو برسوں نہیں بلکہ عمر بھر خود بھی بھوکے مرتے ہیں اور ساتھ رشتہ داروں کو بھی مارتے ہیں مگر لکھنا نہیں چھوڑتے ۔

جواب۔یہ اس لئے ہے کہ لکھنے والے بہت حساس لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد اور معاشرے کو دیکھتے ہیں تو دنیا کو بتانا چاہتے ہیں، معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ ان کے پاس اظہار کا کوئی راستہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مفت بھی لکھتے رہتے ہیں۔ آپ کو بہت سارے بڑے نام ایسے ملیں گے جنہوں نے بڑی کسمپرسی کی زندگی گزاری لیکن لکھنا نہیں چھوڑا۔ اس میں ان کو روحانی تسکین ملتی ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہے۔

سوال ۔حکایت بارے تفصیل سے بتائیں ،اس کا مقصد ،ابتدا ،موجودہ مقام ۔اور آپ اسے کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔

جواب۔”حکایت“ کے اجراءسے پہلے عنایت اللہ مرحوم ”سیارہ ڈائجسٹ“ میں لکھتے تھے لیکن کچھ اصولی اختلافات کی وجہ سے عنایت اللہ صاحب نے ”سیارہ ڈائجسٹ“ کو چھوڑ کر ستمبر 1970ءمیں ”حکایت“ کا اجراءکیا۔ مقصد یہ تھا کہ نوجوان نسل کو نظریہ ¿ پاکستان سے روشناس کرانا۔ قیام پاکستان کے لئے دی گئی جانی مالی اور عصمتوں کی قربانیوں سے آگاہ کرنا۔ اس کے لئے تحریک تکمیل پاکستان بھی شروع کی گئی۔ ”حکایت“ میں ترجمہ کہانیوں اور سرحد پار سے ہندومت سے وابستہ لذت انگیز اور خمشیں کہانیوں کی بجائے اپنے معاشرے کی سچی آب بیتیاں، جگ بیتیاں، چاردیواری کی کہانیاں، اسلامی تاریخی ناول اور پاک فوج کی شجاعت کے واقعات پیش کئے گئے۔ نوجوان نسل کو اخلاقی بگاڑ سے بچانے کے لئے نفسیاتی مضامین کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ شعبہ طب و نفسیات قائم کیا گیا۔ اس شعبے کی کتابوں ”نئی زندگی نئی توانائی“، ”زندہ رہو جوان رہو“، ”روحانی مسرت جسمانی قوت“، ”مایوسی کیوں؟“ اور ”مقناطیسی شخصیت“ نے بھٹکے ہوئے اور تباہ حال نوجوانوں کو نئی زندگی عطا کی۔ اسلامی تاریخی ناول پیش کئے گئے۔ ”حکایت“ کے ساتھ ڈائجسٹ کا لفظ نہیں لگایا گیا۔ یہ ایسا پرچہ ہے جسے الماری میں چھپانے کی ضرورت نہیں بلکہ گھر کا ہر فرد اسے پڑھ سکتا ہے۔ ”حکایت“ کا موجودہ مقام کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ جس طرح کا یہ پرچہ ہے اس کو سب سے اوپر نظر آنا چاہئے لیکن سرمائے کی کمی اور افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال ایسا ممکن نہیں۔

 سوال ۔جس طرح کتاب کی عمر زیادہ سو سال نہیں اور یہ علم کی جدید شکل ہے جبکہ اس سافٹ دور میں کتاب اک قدیم رسم ہے تو صاحب علم اس کی جدید شکل پر اعتراضات کیوں باندھتے ہیں؟

جواب ۔    بالکل نہیں کر رہا۔ آپ معاشرے کا حال دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔ معاشرتی لحاظ سے ہم تباہ حال لوگ ہیں، معاشرے کے ادب آداب اور رہن سہن کے اصولوں سے کوسوں دور۔ ہمارے معاشرتی رویے منافقانہ اور مجرمانہ ہیں اور ان میں سدھار کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ یہ سب دین سے دوری کی وجہ سے ہے۔

سوال ۔محترم عنائت اللہ کو اردو فکشن میں وہ مقام حاصل ہے جو کسی دوسرے کو نہ مل سکا۔ مقابل ہی کوئی نہین۔ آپ ان کے شاگرد ہیں۔ ان کے سکھانے کا انداز کیا تھا،اپ نے کیسے سیکھا، کس طرح آپ ان کے پاس گئے۔ ان کی یادیں؟

جواب ۔میں نے جب سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھا تو گھر میں ”اردو ڈائجسٹ“، ”سیارہ ڈائجسٹ“ اور ”حکایت“ ہر ماہ آتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ والد محترم نے ”اردو“ اور ”سیارہ ڈائجسٹ“ بند کروا دیئے۔ ہم بہن بھائی پہلے ”حکایت“ پڑھنے کے لئے لڑا کرتے تھے۔ یہ 1985ءکی بات ہے۔ میرے والد محروم نے عنایت اللہ صاحب سے ملاقات کا پروگرام بنایا اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ ان سے ملاقات ہوئی، بڑے اخلاق اور پیار سے ملے۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے مجھے اپنے لئے ایک اسسٹنٹ کی ضرورت ہے۔ میں نے بہت سے نوجوانوں کو آزمایا ہے لیکن کوئی میرے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ میرے والد نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو آزما کر دیکھ لیں، شاید یہ آپ کی ضرورت پوری کر دے۔ بس اسی دن سے میں ”حکایت“ میں ہوں۔ وہ مجھے کہانی کا ون پیج آئیڈیا دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہی لکھنا ہے، اس سے باہر نکلے تو کہانی خراب ہو جائے گی۔ وہ کہتے تھے جو بھی لکھو، ایکسٹریم پر نہ جانا۔ جتنی چاہے ناقابل یقین بات ہو لکھو لیکن ساتھ اس کی توجیہہ ضرور پیش کرو۔ کسی بھی چیز کے بارے لکھنے کے لئے مشاہدہ ضروری ہے۔ اگر آپ نے مشین گن یا ٹینک نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں کیسے لکھو گے؟ …. آج میں نے ان کی شاگردی کا حق ادا کر دیا ہے اور ”حکایت“ کو اسی ٹریک پر چلا رہا ہوں جس پر انہوں نے ڈالا تھا۔ پٹڑی سے اترنے نہیں دیا۔

سوال ۔کام کی زیادتی اور تھکا دینے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟

جواب ۔اکثر میں کام کی زیادتی سے تھک جاتا ہوں تو کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی اونگھ لیتا ہوں۔ جس پر میری بیگم کو بہت اعتراض ہوتا ہے۔ میں ٹی وی پر سپورٹس چینل دیکھتا ہوں۔ ریسلنگ بہت پسند ہے۔ اس طرح تازہ دم ہو جاتا ہوں۔

سوال ۔آپ کے اب تک کے کرئیر کی اہم کامیابیاں کون سی ہیں؟

جواب ۔میرے کیریئر میں بہت سارے زینے یا منزل نہیں ہیں۔ اسی کو اہم کامیابی سمجھ لیں کہ اس وقت میں ”حکایت“ کا اینکر پرسن ہوں اور میرے بغیر یہ چل نہیں سکتا۔ جس دن میں اس کے نیچے سے نکل گیا، یہ دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔ میں اپنی بڑائی نہیں بیان کر رہا یہ حقیقت ہے۔

سوال ۔آپ کے خیال میں آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟

جواب ۔دوسروں پر بہت جلد اعتبار کر لیتا ہوں، بہت نرم دل ہوں اور اس وجہ سے کئی بار نقصان بھی اٹھایا ہے لیکن یہ میری فطرت ہے جو بدل نہیں سکتی ویسے میں بدلنا بھی نہیں چاہتا۔

سوال ۔محبت اور عشق کس حد تک ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں؟؟ کیا ان دونوں کا براہ راست تعلق ہے کوئی؟؟ رہنمائی کیجئیے

جواب ۔جی نہیں، یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ محبت ایک بڑا لطیف اور خوشبودار احساس ہے اور یہ ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ عشق محبت کا اگلا درجہ ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ دانشور کہتے ہیں عشق ہر کوئی اختیار نہیں کر سکتا۔ یہ نبیوں، پیغمبروں، ولیوں اور صوفیاءکا شیوہ ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام آگ میں گر گئے۔ حضرت اویس قرنیؒ نے عشق رسول میں سارے دانت توڑ لئے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو ہر کسی پر وارد نہیں ہو سکتی۔

سوال ۔عصر حاضر میں ڈائجسٹ کی ریڈر شپ کم ہوتی جا رہی ہے…اس کی اہم وجہ کیا ہے؟؟

جواب ۔پرانے پڑھنے والے دنیا سے گزرتے جا رہے ہیں اور نئی ریڈرشپ مل نہیں رہی۔ نوجوان نسل الیکٹرانک میڈیا کی رنگینیوں میں گم ہو گئی ہے۔ انٹرنینٹ اور موبائل نے بچوں کو کتابوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ جب ایک بٹن دبانے پر دنیا کے کسی بھی موضوع پر معلومات حاضر ہو جائیں تو بچے کتاب پڑھنے جیسی مشقت کیوں کریں گے؟ پھر ہر قسم کی کتابیں، ناول، افسانے، شاعری، نیٹ پر موجود ہے تو اتنی مہنگی کتابیں کون خریدے؟ اس میں کتابوں کی روز روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بھی عمل دخل ہے۔

سوال ۔آپ حکایت کے ایڈیٹر ہیں ۔آپ ہر ماہ متعدد کہانیاں پڑھ کر سلیکٹ کرتے ہوں۔کوئی ایسی کہانی جسے پڑھ کر آپ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہوں..؟

جواب ۔مجھے جس کہانی نے متاثر کیا وہ ڈاک سے موصول ہوئی تھی۔ لکھنے والے سیّد سعید احمد اختر تھے۔ یہ تقسیم ہند اور اس کے بعد کے واقعات تھے۔ اس کا عنوان لکھا تھا۔ ”کنجر، دلّے نہ ہوں تے“۔ اس کو بعد میں ”لہو جو ہم بہا کے آئے“ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ یہ اب کتابی شکل میں دستیاب ہے

سوال ۔حکایت میں موجودہ لکھنے والے کس لکھاری کی کہانی آپ خود بھی شوق سے پڑھتے ہیں؟؟

جواب ۔”حکایت “ کے لکھاریوں میں یوں تو سب ہی اپنی بساط کے مطابق اچھا لکھ رہے ہیں لیکن ان میں ڈاکٹر مبشر حسن ملک، ریاض عاقب کوہلر، محمد افضل رحمانی، سیدہ شاہدہ نشاہ نمایاں ہیں۔ میں ابدال بیلا صاحب کو بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔

 سوال ۔آپ اپنا پس منظر بتائیے؟ اپکو ادب کے شعبے میں آنے کا شوق کیونکر ہوا؟

جواب ۔پاکستان کے کروڑوں لوگوں کی طرح میرا کوئی خاص پس منظر نہیں ہے۔ والد سرکاری ملازم تھے اور ایماندار بھی تھے۔ بس کسی نہ کسی طرح سب بچوں کو تعلیم دلوا دی۔ ہم 9 بہن بھائی تھے۔ مجھے ادب کے شعبے میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ میں اچانک اور حادثاتی طور پر اس طرف نکل آیا ہوں اور خود کو ادیب نہیں سمجھتا، دوسروں کی کہانیاں اور مضامین مرمت کرنے والا مستری سمجھتا ہوں۔

سوال ۔کیا آج کا لکھاری ہمارے معاشرے کی اصلاح میں کوئی خاص کردار ادا کر رہا ہے؟

جواب ۔بالکل نہیں کر رہا۔ آپ معاشرے کا حال دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔ معاشرتی لحاظ سے ہم تباہ حال لوگ ہیں، معاشرے کے ادب آداب اور رہن سہن کے اصولوں سے کوسوں دور۔ ہمارے معاشرتی رویے منافقانہ اور مجرمانہ ہیں اور ان میں سدھار کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ یہ سب دین سے دوری کی وجہ سے ہے۔

سوال ۔آپ کے پسندیدہ لکھاری کون ہیں اور کونسی ایسی کتاب ہے جو اپکو بہت پسند ہے جسے پڑھنا اپکو پسند ہے؟

جواب ۔میرے پسندیدہ لکھاری میرے استاد محترم عنایت اللہ ہیں اور ان کا تاریخی ناول ”شمشیر بے نیام“ میں پانچ چھ مرتبہ پڑھ چکا ہوں۔

سوال ۔ہمارے ہاں ایک رواج بنتا جا رہا ہے کہ آجکل میگزینز خود تو بہت اچھا کما لیتے ہیں لیکن لکھاریوں کو کچھ نہیں دیتے، بس اعزازیہ کے نام پر میگزین بھیج دیا مجبوراً لکھاری کو بس مشہور ہونے کے لیے میگزینز کے لیے فری میں لکھنا پڑھتا ہے.جسکی وجہ سے ہم لوگ معیاری ادب سے دور ہوتے جا رہے ہیں، لکھاری کو نام سے غرض ہے اور ایڈیٹر کو کہانی سے، ایسا کیوں ہے؟

جواب ۔بالکل ٹھیک ہے یہ بات، ایسا ہی ہوتا ہے اور میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔ نئے لکھاری کو معاوضہ دینا خاصا مشکل کام ہوتا ہے۔ میگزینز اسے نام اور پہچان دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آگے چل کر کامیابیاں حاصل کرتا ہے۔ اگر پیسے دے کر ہی لکھوانا ہے تو پروفیشنل لکھاری سے اپنی ضرورت اور مرضی کا کیوں نہ لکھوائیں۔ نئے لکھاری کی تحریر کو پالش بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ورکشاپوں پر ”چھوٹے“ ہوتے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ بغیر معاوضے کے کام کرتے اور سیکھتے ہیں۔ چند سال بعد جب کام سیکھ لیتے ہیں تو کسی نئی ورکشاپ میں معقول معاوضے پر کام کرنے لگتے ہیں۔ میں کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن بہت سارے نئے لوگ ”حکایت“ سے سیکھ کر آج کامیاب ہیں۔

 سوال ۔کیا آپ کہانی میرٹ کی بنیاد پر چھاپتے ہیں؟

جواب ۔جی ہاں میری کوشش ہوتی ہے اعلی ادب کا انتخاب کروں، اگر کہانی کمزور ہو لیکن بنیادی خیال اچھا ہو تو میں بعض اوقات ساری کہانی دوبارہ لکھ دیتا ہوں۔

سوال ۔اپکو سیاست سے دلچسپی ہے؟ اور کیا آگے آپ کیسا دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ کوئی ہے آپکی نظر میں کوئی ایسا لیڈر ہے جو صحیح معنوں میں پاکستان کو جناح کا پاکستان بنا سکتا ہے؟

جواب ۔جی نہیں، مجھے سیاست سے بالکل دلچسپی نہیں ہے اور جس قسم کی سیاست آج کل ہو رہی ہے، اس کو دیکھ کے شرم آتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کے مستقبل کی بات ہے تو یہ روشن ہے۔ یہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا وطن ہے اور اس کی جڑیں مدینہ میں ہیں۔ فی الحال ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے جو پاکستان کو جناح کا پاکستان بنا سکے لیکن قدرت اس کے لئے کوئی ایسا لیڈر ضرور عطا فرما دے گی، یہ میرا یقین ہے۔

سوال ۔اپنے پسندیدہ کھانے، موسم اور رنگ کے بارے میں بتائیے؟ اور کپڑوں میں کیا پہننا پسند ہے؟ کونسا پھل اور سبزی پسند ہے

جواب ۔میں ہر چیز خوش ہو کر کھا لیتا ہوں بس مرچ مصالحے تیز نہ ہوں۔ بکرے کے گوشت کا پلاﺅ زیادہ پسند ہے۔ موسم سردیوں کا ہی اچھا لگتا ہے۔ مجھے کیمل کلر اور گولڈن کلر پسند ہے۔ جینز کی پینٹ اور شرٹ میں بہت بہتر محسوس کرتا ہوں۔ شلوار قمیص صرف عید کی نماز کے لئے پہنتا ہوں۔ پھلوں میں آم اور سبزیوں میں بھنڈی گوشت کے ساتھ۔

سوال ۔اردو ادب کے ٹھیکداروں نے اردو فکشن کو وہ مقام نہیں دیا جو اردو فکشن کا حق بنتا ہے .آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہے ..کیا فکشن کا معیار ہی اس پائے کا نہیں تھا کہ کسی نوٹس میں آتا یا پھر کوئی اور وجہ ہے ؟

جواب۔بھائی پہلے ادرو زبان کو تو اس کا مقام دلائیں، اردو فکشن کی باری بہت بعد میں آئے گی۔ یہاں میٹرک کے بعد اردو ختم ہو جاتی ہے پھر آگے چل سو چل ہر کام انگلش۔ جس کی انگلش کمزور ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ انگلش فکشن لکھنے والے راتوں رات دولت میں کھیلنے لگ جاتے ہیں اورایک کتاب ہی عمر بھر کی روٹیوں کے لئے کافی ثابت ہو جاتی ہے۔ پہلے اردو کو اس کا آفیشل مقام دلائیں پھر اردو فکشن کے مقام کی بات کریں۔ یہاں تو اردو بولنے والے کو پسماندہ اور بیک ورڈ سمجھا جاتا ہے۔

سوال ۔ڈائجسٹس کا آج کل وہ معیار نہیں رہا جو آج سے پانچ سات سال پہلے ہوتا تھا.آپ کی نگاہ میں ڈائجسٹ مالکان کو اپنے اس رویہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

۔آپ نے بالکل ٹھیک کہا اور اس کی وجہ بھی آپ نے بیان کر دی یعنی ڈائجسٹ مالکان کا رویہ۔ ڈائجسٹ مالکان کو اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہےں جب تک وہ لکھنے والے کا پیٹ نہیں بھرے گا، خالی پیٹ لکھاری کیسے اس کے لئے اچھا کام کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لکھاری ڈائجسٹ کو چھور کر فلم اور ڈرامہ لکھنے لگ گئے ہیں۔ صاف بات ہے جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہو گا۔ کراچی کے ڈائجسٹ پرچے لکھاریوں کو اچھا معاوضہ دیتے ہیں اس لئے وہ مارکیٹ میں زیادہ کامیاب بھی ہیں

(سوال)میری کافی عرصہ سے خواہش تھی کہ آپ کاانٹریو کرنے کی ۔اللہ کا شکر ہے پوری ہوئی۔میں آپ کا بے حد مشکور ہوں جو آپ نے اتنا قیمتی وقت نکالا ۔کڑوے کسیلے سوالات سنے اور ان کے جواب دئیے ۔آپ کی قدر ہمارے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ۔اللہ آپ کو خوش رکھے اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے ۔آپ یوں ادب کی خدمت کرتے رہیں۔

جواب۔

آپ کا بھی شکریہ ۔آپ کی محبتوں کامشکور رہوں گا ۔ ، اللہ آپ سب کو خوش رکھے (آمین)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی ۔۔۔ یاسین صدیق

   ڈاکٹر عبد الرب بھٹی  یاسین صدیق ٭٭٭ ڈاکٹر عبد الرب بھٹی صاحب کسی تعارف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے