سر ورق / ناول / میرا عشق بھی تُو …. نزہت جبین ضیاء

میرا عشق بھی تُو …. نزہت جبین ضیاء

میرا عشق بھی تُو …. نزہت جبین ضیاء

پہلا حصہ

کبھی کبھی زندگی پر ایک جمود سا طاری ہوتا ہے‘ بالکل ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح۔ خاموش اور پُرسکون نظر آنے والی زندگی‘ اپنے اندر نہ جانے کتنے نشیب و فراز‘ کھٹنائیاں‘ دکھ‘ تکلیف‘ گھا¶ اور گہرے زخم چھپانے کے باوجود پُرسکون نظر آتی ہے پھر اچانک سے کوئی یاد کا کنکر۔ کوئی بھولا بسرا وجود‘ کوئی شناسا چہرہ‘ سامنے آکر اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔ شوریدہ جذبے سر اٹھانے لگتے ہیں‘ یادیں کسی آسیب کی مانند دل و دماغ کو اپنی گرفت میں کرلیتی ہیں۔ انسان بے بس ہوکر رہ جاتا ہے‘ بے چینیاں حد سے سوا ہوجاتی ہیں۔ بے قراریاں بامِ عروج پر پہنچنے لگتی ہیں‘ صدیوں کی تھکن لمحوں پر محیط ہوجاتی ہے۔

انشال ابرار بھی ایسا ہی ٹھہرا ہوا‘ بظاہر پُرسکون اور خاموش سمندر تھی جس کی خاموشی اور سنجیدگی میں بلاکے طوفان پوشیدہ تھے جس کے سکون کے پیچھے بے سکونی کا طلاطم برپا تھا۔ اس نے تو خود کو ان حالات کا عادی بنا لیا تھا‘ وہ تو اپنی زندگی سے مطمئن تھی کہ اچانک…. اچانک سے مصطفی حسام ایک بار پھر سامنے آگیا۔ مصطفی جو اس کی زندگی سے نکل چکا تھا‘ جس کو بھولنے میں وہ آج تک ناکام رہی مگر کسی حد تک وہ اپنی زندگی کو گزارنے کی عادی ہوگئی تھی۔ اس مقام تک آنے میں انشال ابرار نے بہت کٹھن سفر طے کیا تھا۔ بار بار ٹوٹی‘ بکھری‘ بار بار اپنے ریزہ ریزہ وجود کو سمیٹا‘ ماں کی گود میں سر رکھ کر۔ ماں کے سینے سے لگ کر اور ماں کے کمزور وجود کی پناہوں میں آکر وہ خود کو محفوظ سمجھنے لگی تھی کہ یوں اچانک مصطفی نے آکر اس کی ٹھہری ہوئی زندگی کو ایک بار پھر اضطراب‘ بے چینی اور بے کلی کی نذر کردیا تھا۔ وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگی تھی‘ اپنے اردگرد پھیلے یادوں کے بے شمار دائروں میں وہ پھنستی چلی گئی‘ جب بے چینی حد سے بڑھے لگی تو وہ اٹھ کر صحن کی طرف آگئی۔

سورج دھیرے دھیرے اپنا سفر طے کررہا تھا‘ دھوپ صحن عبور کرکے اب دیواروں تک آگئی تھی۔ صحن کے کونے میں نیم کا بڑا سا درخت تھا۔ یہ گھر ابرار صاحب کے والدین کا تھا پرانی طرز پر بنا ہوا جس کو وقت کے لحاظ سے تھوڑا بہت تبدیل کیا گیا تھا لیکن نیم کے اس گھنے درخت کو نہیں کاٹا گیا تھا۔ صحن سے گھر کے اندرونی حصے میں داخلے کے لیے برآمدے میں گول ستونوں کی سپورٹ تھی۔ بچپن میں انشال‘ مشعل‘ عماد ان ستونوں کے گرد گول گول گھوم کر کھیلا کرتے تھے‘ بہن بھائی یاد آئے تو ماضی کے اوراق پھڑپھڑانے لگے۔

ئ…./….ئ

ابرار صاحب اپنی بیوی رخسانہ اور چار بچوں کے ساتھ پُرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ پرانے طرز کے بنے ہوئے بڑے سے گھر میں رہائش پذیر تھے‘ سرکاری ملازم تھے۔ ان کے ایک بڑے بھائی حسام بھی تھے جو اپنی بیوی سفینہ بیگم اور ایک بیٹے کے ساتھ الگ گھر میں رہتے تھے دونوں بھائیوں اور ان کی بیویوں میں اچھے تعلقات تھے۔ ابرار احمد اور رخسانہ بیگم کی دلی خواہش تھی کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر نام بنائیں‘ اس لیے بچوں کو اچھے اسکولوں میں تعلیم دلوائی۔ انشال نے انٹر کرلیا‘ مشعل میٹرک میں‘ عماد آٹھویں اور نمل ساتویں کلاس میں تھی‘ حسام صاحب کا بیٹا مصطفی بھی پڑھ رہا تھا۔

انشال ویسے تو پڑھائی میں اچھی تھی مگر کبھی کبھی فزکس پڑھنے میں اسے مشکل ہوتی۔ مشعل‘ عماد اور نمل تو سینٹر جاتے تھے مگر انشال کو کوچنگ جانا پسند نہیں تھا وہ گھر میں ہی پڑھتی تھی۔ انشال کا فزکس کا ٹیسٹ تھا اس کی تو جان پر بنی ہوئی تھی کیونکہ پڑھائی کے معاملے میں وہ ہر چیز بھول جاتی‘ دوپہر کا وقت تھا۔ مشعل‘ عماد اور نمل اسکولوں و کالج سے واپس آئے سب نے کھانا کھایا پھر وہ لوگ کچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔ انشال اپنی کتابیں سنبھالنے صحن کی طرف آگئی‘ محراب کے ساتھ بنے سیمنٹ کے چھوٹے سے چبوترے پر بیٹھ کر وہ نومیرکلز اس کی جان کو آگئے تھے انہماک سے پڑھتے ہوئے اس کو وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔

”آپی…. امی بلا رہی ہیں‘ چائے تو پکادیں۔“ نمل کی آواز پر وہ چونکی۔

”اُف پانچ بجنے والے تھے‘ ابو بھی آنے والے ہوں گے۔“ کتابیں سمیٹ کر وہ سیدھا باورچی خانے کی سمت بھاگی۔ جلدی سے چولہا جلا کر چائے کا پانی رکھا اور پتی نکالنے کے لیے شیلف کی طرف بڑھی۔

”انشال اگر یہی حالت رہی تو تم تو پڑھائی مکمل ہونے سے پہلے پاگل ہوجاﺅ گی۔ حلیہ دیکھو اپنا ناصرہ پگلی کی کاپی لگ رہی ہو۔“ مصطفی کی آواز پر پتی کا جار نکالتے وہ چونک کر پلٹی مصطفی کو دیکھ کر جھینپ کر جلدی سے ہاتھ سے بکھرے بالوں کو سمیٹا دوپٹہ درست کیا۔ مصطفی اس کی بوکھلاہٹ پر بے ساختہ مسکرادیا۔

”واقعی یہ فزکس تو مجھے پاگل کرکے ہی چھوڑے گی۔“ معصومیت سے اعتراف کرتے ہوئے ابلتے پانی میں پتی ڈال کر وہ مصطفی کی جانب پلٹی۔

”کیا سمجھ نہیں آتی؟“ مصطفی اس کی بات پہ محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔

”ویسے تو سب کچھ مگر خاص طور پر نومیرکلز۔“ برا سا منہ بناکر جواب دیا۔

”ہاہاہا…. اتنا برا منہ تو مت بناﺅ اتنے اچھے اور معصوم سبجیکٹ کے لیے۔“

”ویسے آپ کب آئے مجھے تو پتا ہی نہیں چلا۔“ انشال نے موضوع بدلا۔

”میں…. اور میرے ساتھ امی بھی آئی ہیں آدھا گھنٹہ پہلے۔ آج دل کررہا تھا تمہارے ہاتھ کے پکوڑے کھانے کا مگر‘ یہاں آکر اور تمہیں اس حالت میں دیکھ کر پروگرام بدلنا پڑا۔“ مصطفی نے اس کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا۔

”ارے نہیں نہیں‘ آپ بیٹھیں میں ابھی پانچ منٹ میں لے لاتی ہوں۔“ وہ خوامخواہ شرمندہ ہوئی۔

”پہلے تائی امی کو سلام کرلوں پھر تلنا شروع کرتی ہوں گرما گرم پکوڑے۔“ چائے کا چولہا دھیما کرتے ہوئے وہ کچن سے کمرے کی سمت چل دی‘ پیچھے پیچھے مصطفی بھی تھا۔

”السلام علیکم تائی امی!“ سفینہ بیگم کے آگے جھکتے ہوئے گرم جوشی سے سلام کیا۔

”وعلیکم السلام! کہاں تھی میری بچی اتنی دیر سے؟“ سفینہ بیگم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔

”سوری تائی امی‘ میں صحن میں پڑھائی کررہی تھی مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ آپ لوگ آئے ہیں۔“ وہ شرمندگی سے بولی۔

”بھابی…. قسم سے یہ تو پڑھائی میں بالکل پاگل ہوکر رہ گئی ہے۔ سر پر سوار کر رکھا ہے اس نے پڑھائی کو نہ اپنا ہوش نہ گھر کا‘ نہ ٹائم کا پتا چلتا ہے اور نہ ہی کام کی فکر ہوتی ہے میں تو عاجز آگئی ہوں اس کی پڑھائی سے۔“

”ارے…. ارے بھئی‘ ایسے نہ کہو رخسانہ بیگم‘ پڑھائی کو لے کر یوں کوسنے نہ دو میرے بچوں کو بہت آگے تک جانا ہے اور سب بچوں میں انشال سے مجھے بہت سی امیدیں ہیں۔“ اسی وقت ابرار صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور بیوی کی بات کاٹ کر پُر امید لہجے میں کہا۔

”السلام علیکم چاچا!“ مصطفی نے اٹھ کر سلام کیا۔

”وعلیکم السلام! ارے واہ آج تو مصطفی بھی آئے ہیں۔“ ابرار صاحب نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

”جی بس چاچا جی‘ جاب کی وجہ سے بہت کم وقت نکال پاتا ہوں۔ آج امی نے ذرا کلاس لی تو آنا پڑا۔“ مصطفی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”جیتے رہو بیٹا‘ بہت ترقی کامیابی حاصل کرو‘ پتا چلا تھا تمہاری جاب کے بارے میں شکر الحمدللہ سیٹ ہوگئے ہو۔“ ابرار صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”جی بس آپ سب کی دعائیں ہیں ابرار میاں اور میرے بچے کی محنت۔“ سفینہ بیگم نے نم لہجے میں کہا‘ میاں کے انتقال کے بعد وہ حساس ہوگئی تھیں۔ مشعل‘ عماد اور نمل بھی کوچنگ سینٹر سے واپس آگئے تھے‘ تھوڑی دیر بعد انشال چائے کے ساتھ گرما گرم پکوڑے اور کیچپ لے آئی تھی۔ خوش گوارا ماحول میں چائے پی گئی‘ مصطفی‘ انشال اور بچوں سے پڑھائی کے حوالے سے بات کرتا رہا‘ کچھ دیر بیٹھ کر انشال کو فزکس میں درپیش الجھن بھی سلجھائی۔

”سچی آپ نے اتنا اچھا سمجھایا ہے کہ اچھی طرح سمجھ گئی کاش آپ مجھے یونہی پڑھا سکتے۔ میرا کتنا بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔“ انشال نے مصطفی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا‘ مصطفی چپ چپ اس کے منہ کے مختلف زاویے دیکھتا رہا۔

”پڑھائی کو لے کر یہ لڑکی کتنی ٹچی ہے۔“ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔ ”چلو میں کوشش کروں گا کہ تم کو تھوڑا سا ٹائم دے دیا کروں۔“ مصطفی کی بات پر انشال بچوں کی طرح خوش ہوگئی۔

”سچی آپ…. آپ مجھے پڑھا دیا کریں گے؟“ وہ غیر یقینی انداز میں پوچھ رہی تھی۔

”ہاں یار اور ایک بات یاد رکھو پڑھائی کو لے کر یا کسی بھی ایک سبجیکٹ کو لے کر کبھی پریشان نا ہوا کرو‘ پڑھائی کو کبھی بھی بوجھ مت بناﺅ پڑھائی کے لیے خود کو دنیا سے الگ مت کرو بلکہ ایک ٹائم بناکر ذہن اور خود کو فریش رکھ کر پڑھنے بیٹھوگی تو دیکھنا کتنی جلدی ہر چیز پک کرلوگی۔ ساری مشکلات آسان لگنے لگیں گی‘ ہر سوالات کے جوابات یاد ہوجائیں گے‘ نہ کوئی فار مولا مشکل لگے گا نہ کوئی نوٹس پریشان کریں گے۔“

”اور ہاں۔“ اتنی لمبی بات کرکے وہ جاتے جاتے ایک لمحے کو رکا اور پلٹ کر انشال کو غور سے دیکھا جو منہ کھولے مکمل طور پر اس کی باتوں پر دھیان رکھے ہوئے تھی۔

”جی….“ انشال نے سوالیہ نظریں اس پر ڈالیں۔

”میرے سامنے یوں‘ سر جھاڑ منہ پھاڑ مت آنا۔ مجھے صاف ستھری‘ فریش اسٹوڈنٹ چاہیے‘ تم جیسی اسٹوڈنٹ کو دیکھ کر ٹیچر بے چارے کو بھی جمائیاں آنا شروع ہوجائیں گی۔“ مصطفی کی بات پر سب کھلکھلا کر ہنس دیئے۔

”اوکے ٹےچر۔“ خلاف توقع انشال بھی مسکرائی‘ وہ بہت خوش تھی کہ اس کا مسئلہ یوں اچانک حل ہوگیا تھا۔

”ارے واہ مصطفی میاں‘ تم نے ہماری بہت بڑی الجھن دور کردی۔“ ابرار صاحب نے مصطفی کو ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو مصطفی مسکرادیا۔

مصطفی ہفتے میں کم از کم چار دن انشال کو پڑھانے آجاتا۔ انشال بہت مطمئن اور پُرسکون ہوگئی تھی‘ ذہین تھی ہر چیز فوراً سمجھ لیتی‘ وہ کلاس میں مزید نمایاں ہوگئی۔ ایگزامز بھی ہونے والے تھے وہ دل جمعی کے ساتھ پڑھائی میں مصروف ہوگئی‘ وہ اچھے گریڈ سے بی ایس سی پاس کرنا چاہ رہی تھی۔ دن پر دن گزرتے رہے‘ مصطفی بھی اس کی پڑھائی سے بہت مطمئن تھا اب اسے جب بھی ٹائم ملتا وہ آجاتا۔

اس روز موسم بہت خوب صورت تھا‘ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے‘ ہلکی بوندا باندی اور ٹھنڈی ہوا اور مٹی کی سوندھی خوشبو ماحول کو خوب صورت بنارہی تھی۔ مشعل‘ عماد اور نمل کوچنگ گئے ہوئے تھے۔ ابرار صاحب اور سفینہ بیگم گھر کا سودا سلف لینے بازار گئے ہوئے تھے۔ انشال نہاکر نکلی تب ہی مصطفی آگیا‘ گرین اور کاپر کلر کے کاٹن کے سادہ سے سوٹ میں لمبے گیلے بالوں میں کیچر لگائے وہ بہت نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔

”چچی جان نہیں ہیں کیا؟“ برآمدے کے کونے میں بچھے تخت پر اپنی مخصوص جگہ پر رخسانہ بیگم کو نہ پاکر مصطفی نے پوچھا۔

”نہیں خوب صورت موسم کو انجوائے کرنے امی اور ابو آج بڑے لمبے ٹور پر نکلے ہیں۔“ انشال مزاحیہ انداز سے بولی۔

”اوہ…. واہ جی۔“ مصطفی بھی ہنس دیا۔

”اچھا آپ بیٹھیں میں چائے لے آتی ہوں پھر پڑھائی اسٹارٹ کرتے ہیں۔“ انشال نے اٹھتے ہوئے کہا اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔ واپس آئی تو گرما گرم چائے کے ساتھ نمکو اور بسکٹ بھی تھے۔

”ارے واہ زبردست۔“ مصطفی خوش دلی سے بولا‘ دونوں برآمدے میں بیٹھ گئے۔ چائے کا کپ انشال کے ہاتھ سے لیتے لیتے مصطفی نے ایک گہری نظر انشال کے سراپے پر ڈالی‘ سانولی کھلتی ہوئی رنگت‘ دلکش نقوش‘ لمبے سیاہ سلکی شانوں پر بکھرے بال منتاسب جسم اور قد‘ بلاشبہ وہ جاذب نظر لڑکی تھی جو سامنے والے کو امپریس کرسکتی تھی آج پہلی بار مصطفی نے اتنی گہری نظروں سے انشال کو دیکھا تھا۔ وہ ایک لمحہ ہی تھا کہ جس کے حصار میں آکر مصطفی خود کو بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کے انجان دل میں پہلی گھنٹی بجی تھی اس پر یہ ادراک ہوا تھا کہ وہ معصوم‘ سیدھی سادی اور بظاہر لاابالی سی لڑکی اس کے دل پر اچھا خاصا قبضہ کیے بیٹھی ہے۔ چائے کے سپ لیتی ہوئی کتاب کھولے سر جھکائے وہ مسلسل مصطفی کی نظروں کے حصار میں تھی۔ ہوا کے جھونکوں سے اس کے خوب صورت سلکی بال بکھر کر شانوں تک آگئے تھے‘ مصطفی کے دل میں میٹھے جذبے سر اٹھانے لگے تب ہی مصطفی کے سیل کی ٹون بجی اور مصطفی کے ساتھ ساتھ انشال بھی چونکی۔

”وعلیکم السلام…. ارے یار ٹےنشن کیوں لے رہی ہو؟“

”ہائیں….“ لکھتے لکھتے انشال نے سر اٹھایا‘ مطلب وہ کسی لڑکی سے اتنی بے تکلفی سے بات کررہا تھا۔

”جی جی آجاﺅں گا ٹائم نکال لوں گا تمہارے لیے‘ فکر مت کرو۔“ مصطفی کے الفاظ اور اس کا لہجہ انشال کے دل پر لگا تھا‘ انشال کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا‘ نجانے کیوں اسے کسی سے اتنی بے تکلفی سے بات کرتا دیکھ کر انشال کو برا کیوں لگا تھا۔ مصطفی نے کال ختم کی تو انشال کی طرف دیکھا۔

”کس کی کال تھی؟“ نہ چاہتے ہوئے بھی بے اختیار وہ سوال کر بیٹھی حالانکہ یہ پوچھنے کا اسے کوئی حق تھا نہ ضرورت‘ مصطفی نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔

”میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی صباحت‘ اس کے بھائی کا پیپر رک گیا ہے تو کہہ رہی تھی کہ ٹائم نکال کر ذرا اسے گائیڈ کردوں۔“ مصطفی نے تفصیل بتائی۔

”اوہ….“ انشال نے ہونٹوں کو سکیڑا‘ مصطفی اس کے چہرے کے بدلتے اتار چڑھاﺅ کو غور سے دیکھتا رہا۔

”کیوں‘ کیا ہوا؟“ مصطفی کا لہجہ کریدنے والا ہوا۔

”کچھ نہیں۔“ سر ہلاکر وہ دوبارہ کاپی پر جھک گئی۔

”ارے یہ کیا جواب لکھا تم نے؟“ مصطفی نے جھک کر اس کی کاپی پر نظر ڈالتے ہوئے غلطی کی نشان دہی کی‘ غائب دماغی سے وہ غلط جواب لکھ گئی تھی۔

”اوہ سوری….“ انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے سر کو دباتے ہوئے وہ ہونٹ کاٹ کر بولی‘ مصطفی نے بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔

”انشال….“ مصطفی نے پکارا تو انشال نے جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا۔

”کیا ہوگیا ہے؟ تم کچھ اپ سیٹ سی لگ رہی ہو۔ خیر تو ہے یہ اچانک تمہیں کیا ہوگیا‘ اچھی بھلی تھیں جب سے میں نے کال پر بات….“

”نہیں نہیں‘ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میں ٹھیک ہوں بھلا آپ کی کال سے میرا کیا لینا دینا۔“ مصطفی کی بات کاٹ کر جلدی سے بولی۔

”مجھے تو ایسی ہی بات لگ رہی ہے‘ میں نے اس سے پہلے بھی یہ بات محسوس کی تھی تمہیں میرا یوں کسی سے بات کرنا شاید اچھا نہیں لگتا۔“ مصطفی کے لہجے میں بھرم تھا۔

”ارے یہ کیا بات کررہے ہیں آپ مجھے کیوں برا لگے گا بھلا‘ میں کون ہوں آپ کی ذاتیات میں دخل اندازی کرنے والی۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی لہجہ لڑکھڑا گیا تھا۔

”انشال اِدھر دیکھو میری طرف۔“ مصطفی نے اس کی جانب جھکتے ہوئے کہا۔

”جی….“ پلکیں اٹھائیں وہ جھینپی جھینپی سی پزل ہوتی ہوئی دل میں اتر رہی تھی۔

”انشال اگر تم چاہوں تو میں امی کو بھیجوں تمہارے رشتے کے حوالے سے۔“

”جی….!“ حیرت اور بے یقینی سے اس اچانک کیے جانے والے سوال پر وہ بوکھلا گئی۔

”یہ…. یہ…. آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

”ہاں یا نہ؟“ مصطفی نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا‘ لہجے میں تحکم تھا۔

”ارے واہ…. اتنی دھونس جمانے کی کیا ضرورت ہے‘ یہ بھرم کسی اور کو دکھایئے۔“ لہجے کو سخت بنانے کی ناکام کوشش کی۔

”ہاں کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اندر ہی اندر تم بھی ایسا ہی چاہتی ہو۔“

”ایوں…. فضول کے تُکے مت لگائیں۔“ نظریں چراتے ہوئے گویا ہوئی۔

”ہاں یا نہ….؟“ انشال کی بات کو نظر انداز کرکے اسی لہجے میں وہ دوبارہ گویا ہوا۔

”پھر وہی بات….“

”ہاں بات تو ایسی ہی ہے‘ چلو اچھا میرا اندازہ غلط تھا تو آئی ایم سوری…. تم نہیں چاہتی تو کوئی بات نہیں۔“

”ارے…. ارے‘ اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔“ مصطفی کی بات کاٹ کر جلدی سے بولی۔

”ہاہاہا….“ مصطفی زور دار قہقہہ لگا کر اس کو دیکھنے لگا‘ اسکائی بلو شلوار قمیص میں اپنے سانولے پُرکشش اور اسمارٹ سے سراپے کے ساتھ وہ انشال کے دل میں اتر رہا تھا۔ جانے کب سے انشال کے دل نے بھی مصطفی کے ساتھ کی خواہش کر رکھی تھی‘ وہ بھی اندر ہی اندر مصطفی میں دلچسپی لینے لگی تھی۔ آپس کے تعلقات‘ بے تکلفی اور ساتھ نے دونوں کو ذہنی طور پر ایک دوسرے کے قریب کردیا تھا اور یہ قربت دونوں کے اندر انسیت‘ محبت کا روپ دھار چکی تھی‘ وہ مصطفی کو دیکھتی رہ گئی۔

”اچھا میں چلتا ہوں امی کو لے کر آﺅں گا اب۔“ مصطفی اٹھتے ہوئے بولا اور وہ کھل کر مسکرادی۔ اس رشتے پر بھلا کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا‘ ابرار صاحب‘ رخسانہ بیگم کو مصطفی بہت پسند تھا۔ پڑھا لکھا‘ عزت کرنے والا‘ اچھی جاب اور سب سے بڑھ کر کہ بچپن سے آج تک سامنے تھا باکردار اور شریف خاندان کا بچہ تھا۔

”ارے واہ آپی…. مجھے تو مصطفی بھائی شروع سے ہی بہت اچھے لگتے تھے اب تو وہ ہمارے دولہا بھائی بھی بن جائیں گے۔“ نمل کو سب سے زیادہ خوشی تھی کیونکہ مصطفی نمل سے بہت پیار کرتا تھا‘ اس کا خاص خیال رکھتا بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح اس کو کچھ نہ کچھ ضرور لا کر دیتا تھا۔

مصطفی اور انشال بھی بہت خوش تھے‘ شادی انشال کے گریجویشن مکمل ہونے کے بعد طے پائی۔ انشال کا رشتہ پکا ہوا تو مشعل اور نمل کے لیے بھی رشتے آنے لگے۔ ابرار صاحب کے دوست کے بیٹے کا رشتہ مشعل کے لیے آیا‘ لڑکا ہر لحاظ سے اچھا لگا یوں اس کی بھی بات پکی کردی گئی۔ مشعل نے انٹر کرلیا تھا‘ شادی کے لیے تھوڑا وقت درکار تھا۔ ابرار صاحب نے آفس میں کمیٹیاں ڈال رکھی تھیں تاکہ بیٹیوں کی شادی میں آسانی ہو۔

ئ…./….ئ

انشال کے پیپرز ختم ہوئے تو شادی کی تیاریوں نے زور پکڑلیا‘ مشعل‘ عماد اور نمل خوشی خوشی شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہے تھے۔ اب مرحلہ تھا کہ بچوں کے کیسے کپڑے بنیں گے‘ مشعل اور نمل نے بہت سوچ بچار کے بعد فنکشنز کے لیے کپڑوں کی ڈیزائننگ سلیکٹ کی اس روز ابرار صاحب کو سب سے بڑی کمیٹی ملنے والی تھی۔ بچے دن سے ہی ان کا انتظار کررہے تھے‘ آج ان لوگوں نے شاپنگ کرنے جانا تھا۔ شام ہوگئی تھی‘ وقت دھیرے دھیرے گزرتا چلا جارہا تھا‘ بچوں نے کئی بار کال بھی کی مگر ان کا فون بھی مسلسل بند تھا۔ آفس بھی بند ہوچکا تھا‘ رخسانہ بیگم مضطرب تھیں‘ نہ جانے کیوں دل بہت گھبرا رہا تھا‘ ایک تو بھاری رقم لے کر آرہے تھے آج کل کے حالات کا بھی کچھ بھروسہ نہ تھا‘ خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔ مغرب کی نماز پڑھ کر انہوں نے خوب دعائیں مانگیں‘ اب تو چاروں بچے بھی پریشان ہورہے تھے‘ ابو نے کبھی بھی اتنی دیر نہ کی تھی اگر کوئی کام بھی ہوتا تو کال کرکے ضرور بتادیتے۔ سب سے بڑی ٹینشن یہ تھی کہ فون آف جارہا تھا‘ دل میں الٹے سیدھے خیالات آرہے تھے۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں‘ کس سے پتا کریں‘ کمیٹی کہاں سے لینی تھی؟ کس کس کے ساتھ مل کر ڈالی تھی‘ کچھ بھی کسی کو علم نہ تھا۔ انشال نے مصطفی کو کال کرکے بتایا۔

”فکر مت کرو چاچا جی یقینا کسی کام میں بزی ہوں گے‘ آجائیں گے تھوڑی دیر میں۔ چاچی جان سے کہو پریشان نہ ہوں میں امی کو لے کرتا ہوں۔“ مصطفی نے سمجھانے والے اندازمیں کہا تب ہی لینڈ لائن پر فون بج اٹھا‘ انشال نے لپک کر ریسیور اٹھایا۔

”جی ہاں…. ارے…. کب…. کیسے…. آپ کون….؟ اچھا اچھا ہم آتے ہیں۔“ انشال نہایت گھبرائے ہوئے لہجے میں فون پر بات کررہی تھی سب کی توجہ اس کی جانب مرکوز تھی۔

”کیا ہوا…. کس کی کال تھی خیریت….؟“ چاروں طرف سے سوال کیے گئے۔

”وہ…. وہ….“ انشال روتے ہوئے رخسانہ بیگم کی طرف لپکی۔

”کیا ہوا آپی…. کس کی کال تھی‘ ابو جی کیسے ہیں؟“ عماد پریشان ہوکر اسے دیکھ رہا تھا۔

”ابو جی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے وہ ہسپتال میں ہیں‘ کوئی صاحب تھے فون پر انہوں نے بتایا ہے۔“

”اُف میرے اﷲ….!“ رخسانہ بیگم نے سینے پر ہاتھ مارا۔

”ہائے اللہ ابو جی….“ مشعل اور نمل بھی رونے لگیں۔

”چلو ہم ہسپتال چلتے ہیں‘ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ لوگ ہمت کریں آپی‘ امی جی۔“ عماد نے پہلے اماں کو اور پھر بہنوں کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا اور فوراً مصطفی کو دوبارہ کال کی‘ سارے لوگ ہسپتال پہنچے۔ ابرار صاحب کی حالت کافی سیریس تھی‘ کافی زیادہ چوٹیں آئی تھیں‘ بلڈ بھی کافی بہہ چکا تھا۔

”ابوجی….“ انشال تڑپ کر آگے بڑھی‘ ابرار صاحب نے بمشکل اپنی آنکھیں کھول کر انشال کو قریب بلایا۔ زخموں اور تکلیف کی وجہ سے وہ کچھ کہنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔

”انشال…. میرے بچے‘ میرے بچے گھر تم…. تم نے سنبھا…. لنا ہے…. تم سے امید…. ہے تم…. میرے گھر…. میرے بچوں اور…. اپنی ماں کا خیال رکھو گی…. اب…. تم…. کو یہ ذمہ…. داری…. نبھانی ہے….“

”جی ابو…. ایسا مت کہیں‘ پلیز آپ…. آپ تو میری ہمت ہیں ابو‘ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ آپ ٹھیک ہوجائیں گے‘ ابو پلیز ایسی باتیں نہ کریں۔“ انشال جو پہلے ہی ان کی حالت دیکھ کر حواس باختہ ہوچکی تھی‘ بالکل بھی ہوش کھونے لگی۔

”ابو جی….“ انشال کی چیخ کی آواز سے سارے دوڑے چلے آئے‘ سب کچھ پل میں ختم ہوگیا تھا‘ نہ کوئی بات نہ کوئی نصیحت‘ نہ فرمائش۔ بہت بڑی ذمہ داری انشال کو سونپ کر ابرار صاحب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساتھ چھوڑ گئے تھے‘ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یوں آناً فاناً خوشیاں دکھوں میں بدل جائیں گی‘ رخسانہ بیگم تیورا کر گر پڑیں‘ مصطفی اور سفینہ بیگم بھی سیدھے ہسپتال ہی پہنچے تھے۔ بیوی کا تڑپنا‘ بچوں کی سسکیاں کوئی بھی ابرار صاحب کو واپس نہ لاسکیں۔

صبح کو ہنستے مسکراتے اپنے پیروں پر چل کر آفس جانے والے ابرار صاحب رات کو جب ایمبولینس میں گھر لائے گئے تو گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔

”ابو جی آپ…. ایسے کیسے جاسکتے ہیں؟ شادی کی ڈیٹ فکس کرکے…. مجھ پر اتنی بڑی ذمہ داری سونپ کر چلے گئے۔ ابو جی…. میں کیسے جی پاﺅں گی‘ مجھے قدم قدم پر آپ کی ضرورت ہے اور آپ نے ان بچوں کی‘ امی کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈال دی…. ابو جی میں بہت کمزور ہوں…. پلیز ابو….“ انشال ابرار صاحب کو دیکھ کر سوچ رہی تھی پلٹ کر بلکتی بہنوں اور بھائی کو سنبھالتی تو کبھی ماں کے گلے لگ کر بری طرح رو دیتی‘ یہ کس مقام پر آگئی تھی وہ۔

ابرار صاحب چار کاندھوں پر سوار اپنے ابدی سفر پر روانہ ہوگئے۔ انشال ضبط سے خود کو سنبھالے ہوئے ماں اور بہنوں کو سنبھال رہی تھی۔ اسے اپنے آپ کو مضبوط کرنا تھا‘ رخسانہ بیگم ساری زندگی میاں کے پیچھے پیچھے ہی رہیں‘ ان کو تو باہر کی کچھ خبر نہ تھی‘ بہت کڑی آزمائش کا وقت تھا یہ‘ اچانک سب کچھ بدل گیا تھا جس گھر میں قہقہے گونجا کرتے تھے وہاں سسکیاں اور اداسیوں نے ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ شادی کی تیاریوں کی جگہ اگربتی مہکنے لگی تھی‘ سپارے پڑھے جارہے تھے۔ عجیب سی ویرانی اور وحشت کا راج تھا‘ گھر کی در و دیوار پر وحشت رقصاں تھیں‘ اداسیاں براجمان تھیں‘ سفینہ بیگم مستقل رخسانہ بیگم کے ساتھ رہتیں‘ بچوں کی دلجوئی میں لگی رہتیں۔ مصطفی بھی آفس کے بعد زیادہ ٹائم یہیں گزارتا۔

انشال کا رزلٹ آیا تو وہ بہت روئی۔ ابو جی ہوتے تو کتنا خوش ہوتے‘ مشعل نے بھی انٹر کرلیا تھا‘ انشال نے ابو جی کے آفس کی طرف سے ملنے والی رقم کو مناسب جگہ پر فکسڈ کروا دیا تھا‘ اس کے سامنے بھائی بہنوں کا مستقبل اور ماں کی ضرورتیں تھیں‘ ابرار صاحب کی کمیٹی کا کچھ پیسہ ملا تھا۔ مشعل نے آگے پڑھنے سے انکار کردیا تھا کہ پڑھائی کے اخراجات اور گھر کے اخراجات چلانا آسان نہیں تھے‘ انشال نے سنا تو باقاعدہ اسے ڈانٹنے لگی۔

”مشعل پاگل ہوگئی ہو کیا؟ یہ کیا فضول بات کررہی ہو تم‘ پتا ہے ابو چاہتے تھے کہ ہم لوگ پڑھیں اس لیے پڑھنے کے معاملے میں کوئی منطق نہیں چلے گی۔“ انشال کی بات پر مشعل آزردہ ہوگئی۔

”کیا بات ہے بھئی‘ کس بات کو لے کر بحث کی جارہی ہے؟“ اسی وقت مصطفی بھی آگیا۔

”بس بھائی…. ابو جی ہمیں بہت یاد آتے ہیں‘ کتنی الجھنوں میں ڈال گئے ہیں۔“ مشعل نے بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا۔

”نہیں گڑےا…. ایسے نہیں کہتے‘ اللہ پاک نے ہر چیز کا ہر کام کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ آزمائشیں ہمیشہ ان پر آتی ہیں جو آزمائشوں پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر تم کیوں فکر کرتی ہو جب تمہاے بڑے موجود ہیں۔“ مصطفی نے مشعل کے سر پر ہاتھ کر محبت بھرے لہجے میں کہا تو انشال کی پلکیں بھی نم ہوگئیں۔

”اچھا چلو اٹھو‘ آج میرا موڈ ہورہا ہے کیرم کھیلنے کا‘ ہم لوگ کیرم کھیلتے ہیں اور تمہاری آپی ہمارے لیے چائے اور پکوڑے لاتی ہیں۔“ مصطفی نے ماحول کو بدلنے کے لےے کہا۔

”ارے واہ آپ لوگ کھیلیں اور میں کچن میں جاﺅں؟“ انشال نے بھی خود کو نارمل کرتے ہوئے مصطفی کو دیکھ کر منہ بنایا اور مسکراتی ہوئی کچن کی طرف چل دی۔ مصطفی کے آنے سے وہ لوگ وقتی طور پر بہل گئے تھے‘ مصطفی رخسانہ بیگم کے پاس بھی کافی وقت بیٹھا رہا اور رات دیر گئے وہ لوٹ گیا تھا۔ انشال کچن کی صفائی کے بعد سونے کے لیے کمرے میں جانے پہلے رخسانہ بیگم کے کمرے میں آئی تو ان کو فکرمند دیکھ کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔

”کیا ہوا امی جی…. نیند نہیں رہی آپ کو؟“

”ہاں آج نیند نہیں آرہی۔“ انہوں نے ایک نظر انشال کو دیکھا اور پھر گہری سانس لے کر بولیں۔ ”سوچتی ہوں جو ذمہ داری ابرار احمد میرے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں وہ کس طرح ادا کر پاﺅں گی‘ ان کے بنا اتنی بڑی ذمہ داریاں کیسے پوری ہوں گی۔“ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے‘ لہجہ بھیگ گیا تھا۔

”امی جی…. میں نے کہا تھا ناں کہ آپ نے بالکل نہیں رونا‘ اللہ پاک نے ہم پر آزمائش ڈالی ہے وہی ہمیں ہمت طاقت بھی عطا کرے گا‘ وہی ہمارے حوصلوں کو تقویت بخشتا ہے‘ وہی وسیلے بھی بناتا ہے‘ وہی مسائل کے حل بھی نکالنے والا ہے۔ ہمارے ایمان کی پختگی یہی ہے کہ ہم اپنے رب سے خیر مانگیں‘ اس سے ہی رجوع کریں‘ وہی رہنمائی کرنے والا ہے اس لیے آپ بھی بس اس پر بھروسہ رکھیں‘ وہی سارے مسائل حل کرکے ہماری مدد کرے گا۔“ انشال نے ان کے ہاتھ تھام کر دھیمے لہجے میں سمجھایا تو رخسانہ بیگم نے اس کو سینے سے لگا کر سر ہلایا۔

”دراصل بھابی صاحبہ چاہ رہی تھیں کہ اب تمہاری اور مصطفی کی شادی کردیں‘ اس لیے تھوڑی سی فکر مند ہوں۔“ رخسانہ بیگم نے فکر مند لہجے میں کہا۔

”امی…. ابھی فی الحال تو یہ ناممکن ہے میں ابھی شادی نہیں کرسکتی۔“ انشال نے صاف انکار کردیا۔

”ارے کیا ہوگیا ہے تمہیں‘ کیا مطلب ہے تمہارا؟ تمہاری شادی تو طے ہوچکی تھی اب ایسا کیا ہوگیا‘ اس لیے بھابی کہتی ہیں کہ سادگی سے ہی….“

”امی جی….“ اس نے ماں کی بات کاٹی۔ ”کم از کم تین سال تک ایسا ناممکن ہے‘ مشعل کا رشتہ طے ہوئے ایک سال ہوگیا ہے اب مزید ایک سال کا ٹائم باقی ہے اس کی شادی کرنی ہے‘ عماد کی پڑھائی مکمل ہوجائے وہ جاب پر لگ جائے تو مجھے نمل کی فکر نہیں ہوگی۔ وہ ذمہ داری عماد اٹھالے گا مگر مشعل اور عماد کے لیے مجھے سوچنا ہے اور اسی وجہ سے آپ تائی امی سے بات کرلیں کہ تھوڑا سا انتظار کرلیں۔“

”پاگل ہوگئی ہو کیا انشال تم؟ یہ سب کچھ بھابی یا مصطفی سے پوشیدہ نہیں وہ تمام حالات جانتے ہیں‘ وہ کون سے غیر ہیں۔ سارے کام چلتے رہیں گے اس لیے تم شادی کی تیاری کرو۔“ رخسانہ بیگم نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔

”امی جی آپ بات کو سمجھ نہیں رہی‘ آپ کو نہیں پتا کہ ابو جی نے آخری وقت مجھ سے وعدہ لیا تھا‘ انہوں نے مجھے بہت بڑی ذمہ داری سونپی ہے‘ ان کی آنکھوں میں ایک امید و بھروسہ دیکھا تھا میں نے اور میں وہ بھروسہ قائم رکھنا چاہتی ہوں اس لیے میں جب تک اپنی ذمہ داری پوری نہ کرلوں اس وقت تک میں اپنی ذات کے بارے میں کچھ سوچ بھی نہیں سکتی اور امی جی…. آپ کو اس معاملے میں میرا ساتھ دینا ہوگا۔“ پیار سے کہتے ہوئے رخسانہ بیگم کو ان کی جگہ پر لیٹاتی چادر پھیلا کر وہ لائٹ آف کرکے کمرے سے نکل گئی۔

ئ…./….ئ

انشال نے جاب کے لیے کوشش شروع کردی تھی‘ اس شام بھی وہ جاب کے سلسلے میں ابرار صاحب کے پرانے دوست سے مل کر آئی تھی منہ ہاتھ دھوکر فریش ہوئی اور چائے پکا کر لائی تو مصطفی آگیا۔

”انشال یہ کیا پاگل پن ہے‘ یہ کیسا فیصلہ کررہی ہو تم؟“ آتے ہی غصے سے سوال کیا۔

”کیوں کیا ہوا؟“ چائے کا کپ مصطفی کی جانب بڑھاتے ہوئے مطمئن انداز میں بولی‘ اسے ایسے ری ایکشن کی توقع تھی وہ ذہنی طور پر پہلے ہی تیار تھی۔

”میں تم سے ناراض ہوں‘ تم نے شادی سے انکار کیوں کردیا؟“

”مصطفی میں نے انکار نہیں کیا‘ صرف کچھ سال کی مہلت مانگی ہے۔ مشعل کی شادی ہوجائے‘ عماد کی جاب لگ جائے تب ہم شادی بھی کرلیں گے ناں تم کہیں بھاگے جارہے ہو نا میں۔ تین چار سال میں ہم بوڑھے تو نہیں ہوجائیں گے۔“

”واہ انشال…. تم نے تو ایک لمحے میں ہمیں غےر کر ڈالا بہت کمال بات کردی تم نے۔ تم کیا سمجھتی ہو کہ صرف تمہیں ہی اپنی فیملی کا خےال ہے مجھے اور امی کو کچھ خیال نہیں ہے۔ ہم تم لوگوں کے بارے میں نہیں سوچتے؟ ہمیں تم لوگوں کے بارے میں کوئی علم نہیں؟ جس طرح مشعل‘ عماد اور نمل تمہارے بھائی اور بہنیں ہیں میرے بھی ہیں اور جتنی فکر تمہیں ان لوگوں کی ہے‘ اتنی ہی مجھے بھی ہے۔ میں بھی ان لوگوں کے لیے سوچتا ہوں‘ فکر کرتا ہوں۔ میری بیمار امی کو بھی تمہاری ضرورت ہے ہم سب مل کر زندگی کو آسان بنائیں گے‘ ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ میرا بھی رشتہ ان سب سے بہت مضبوط ہے۔“

”مصطفی میں جانتی ہوں‘ تائی امی اور آپ ہی ہمارے سچے ہمدرد ہیں لیکن…. لیکن میں نے ابو جی سے وعدہ کیا ہے اور میں جانتی ہوں کہ شادی کے بعد عورت کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں‘ میں نہیں چاہتی کہ میں اپنے گھر والوں کی وجہ سے آپ کی یا تائی امی کی ذمہ داریوں سے ذرا بھی کوتاہی برتوں۔ میں چاہتی ہوں کہ جب میں آپ کی زندگی میں آﺅں تو مکمل طور پر آپ کے اور آپ کے گھر کے لیے سوچوں تو پلیز آپ تائی امی کو بھی سمجھائیں۔“ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے عاجزی سے کہا۔

”انشال تم خوامخواہ ہی ایموشنل ہورہی ہو جبکہ چچا جان بھی ہماری شادی کی تیاری کررہے تھے میں ہر حال میں تمہارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ امی جی کی بھی یہی خواہش ہے وہ کب تک انتظار کریں گی؟“ مصطفی کا لہجہ بھی نرم ہوا تھا۔

”اچھا مصطفی مجھے بس مشعل کی شادی تک کا ٹائم دے دو‘ کم از کم میں ایک ذمہ داری تو پوری کردوں۔“ انشال کی بات پر مصطفی نے اسے گہری اور چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھا‘ انشال کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی اور قطعیت دیکھ کر وہ اندر تک دکھی ہوگیا۔

”اوکے جیسے تمہاری مرضی۔“ وہ ہار مانتا ہوا بولا۔

”اوہ تھینک یو سو مچ مصطفی….“ وہ بچوں کی طرح خوش ہوکر تشکر بھرے لہجے میں گویا ہوئی‘ مصطفی یک دم ہی چپ ہوگیا تھا۔ وہ بہت بجھا بجھا سا لگ رہا تھا‘ اسے واقعی انشال کی بات سے دکھ ہوا تھا‘ انشال نے رتی برابر بھی اس پر بھروسہ نہیں کیا‘ وہ مصطفی کو اجنبی اور غےر بندے کی طرح سمجھ رہی تھی اور تمام مسائل کو صرف اور صرف اپنے ذاتی مسائل سمجھ کر نہ تائی کا خیال کیا اور نہ ہی مصطفی کے جذبات کی پروا کی۔ سفینہ بیگم کو بھی انشال کی بات سے صدمہ ہوا مگر مصطفی نے ان کو سمجھا کر خاموش کروادیا تھا۔

انشال کو ایک فرم میں جاب مل گئی تھی‘ ساتھ ساتھ وہ پڑھائی بھی کررہی تھی۔ وقت آگے سرکا تو مشعل نے گریجویشن کرلیا تو اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں گو کہ مصطفی مشعل کی شادی کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا مگر وہ چپ اور سنجیدہ ہوگیا تھا۔ خیر سے مشعل کی شادی ہوگئی وہ اپنے سسرال چلی گئی‘ اس روز رخسانہ بیگم بہت روئی تھیں ان کو ابرار صاحب کی شدت سے یاد آئی تھی۔ گھر کی پہلی خوشی تھی اور وہ ابرار صاحب کے بغےر انجام کو پہنچی۔ انشال بھی بہت اداس تھی مگر دوسری جانب مطمئن بھی تھی کہ اللہ پاک نے ایک بڑے فرض کو بخیر و خوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا تھا۔

عماد کا ایم بی اے بھی آخری مراحل میں تھا‘ پرائیوٹ ایم بی اے کرنا کچھ آسان نہ تھا مگر یہ ابرار صاحب کی خواہش تھی اس لیے انشال دن رات محنت کرکے اکلوتے بھائی کی تعلیم کے اخراجات پورے کررہی تھی۔ عماد نے کئی بار انشال سے کہا کہ میں بھی ٹےوشنز پڑھا سکتا ہوں مگر انشال نے ہر بار سختی سے منع کردیا۔

”نہیں تمہیں صرف اور صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دینا ہے‘ بس میری دلی تمنا ہے کہ تم جلد از جلد اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاﺅ اور میں ابو کے سامنے سرخرو ہوجاﺅ۔“ انشال کا لہجہ گلوگیر ہوجاتا تو عماد محبت بھری نظروں سے اپنی آپی کو دیکھتا رہ جاتا۔

مشعل کی شادی خیر سے ہوئی تو رخسانہ بیگم نے انشال کو بھی شادی کرنے کے لیے کہا۔

”جی امی…. جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔“ انشال کو مصطفی سے کیا گیا وعدہ یاد آگیا تو اس کو ہار ماننا پڑی۔

”اچھا میں کل ہی بھابی سے بات کرتی ہوں کہ اللہ پاک جلدی سے یہ فرض بھی پورا کروا دے۔“ رخسانہ بیگم نے آگے بڑھ کر انشال کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔

اسی رات سفینہ بیگم کا بی پی ایک دم شوٹ کر گیا‘ بیمار خاتون تھیں مصطفی بھی جاب میں مصروف رہتا تھا حالانکہ ایک کام والی ماسی رکھی تھی مگر وہ کون سا چوبیس گھنٹے ساتھ رہتی‘ کبھی کبھی وہ دوا لینا بھی بھول جاتی تھیں اس روز بھی ایسا ہی ہوا رات کو کھانا کھا کر وہ جلدی لیٹ گئیں‘ آنکھ لگ گئی تو دوا لینا بھول گئیں۔ بی پی نہ جانے کب شوٹ کر گیا طبیعت گھبرائی تو مصطفی کو آوازیں دیں‘ مصطفی بھاگا ہوا آیا اور رات کے چار بجے ان کو ہسپتال لے کر بھاگا مگر بی پی کی وجہ سے ان کو برین ہیمرج ہوگیا اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ مصطفی تو نیم پاگل سا ہوگیا‘ اس کو سنبھالنا مشکل ہورہا تھا ماں کی جدائی کا غم پہاڑ بن کر اس پر ٹوٹا تھا۔ وہ تو بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کی تیاری کررہی تھیں‘ کیسے کیسے خوب دیکھ رکھے تھے‘ انشال کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس وقت وہ کس طرح اور کن الفاظ میں مصطفی کو تسلی دے۔

مصطفی بالکل اکیلا رہ گیا تھا‘ دس سال کا تھا جب والد کا انتقال ہوگیا تھا تب ماں نے ہی اسے پالا پوسا تھا‘ اس کو لے کر سہانے خواب دیکھے تھے۔ ایک مصطفی ہی ان کی تمناﺅں کا مرکز تھا‘ بہت محنت مشقت کرکے انہوں نے مصطفی کو اچھی تعلیم دلوائی۔ اچھی پرورش کی اور جب ان کو آرام‘ سکون اور راحت کا وقت ملنا تھا وہ چپکے سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلی گئیں۔

عماد کی تعلیم مکمل ہوئی‘ اس کو جاب بھی مل گئی‘ سفینہ بیگم کے انتقال کو دو ماہ ہوگئے تب رخسانہ بیگم نے سوچا کہ سادگی سے انشال کی رخصتی کردیں کیوں کہ مصطفی بہت اکیلا ہوگیا تھا اس کے لیے کافی مشکلات پیدا ہوگئی تھیں اب اس کو مورل سپورٹ کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس طرح سے وہ سفینہ بیگم کے صدمے سے بھی تھوڑا باہر آسکتا تھا‘ انشال ساتھ ساتھ رہتی تو اس میں تبدیلی آسکتی تھی یہی سوچ کر انہوں نے انشال سے بات کی۔

”ٹھیک ہے امی جی…. میں کل آفس سے واپسی پر مصطفی سے مل کر آتی ہوں‘ بات بھی کرلوں گی۔“ انشال نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا تو رخسانہ بیگم سر ہلا کر رہ گئیں۔

زندگی کیسے عجیب عجیب سے امتحانات لیتی ہے ایک وقت وہ تھا کہ جب ابرار صاحب شادی کی تیاریاںکررہے تھے اور حالات نے پلٹا کھایا اور اب سفینہ بیگم کی موت نے حالات کو نیا رخ دے دیا تھا۔ وہ آفس سے سیدھا مصطفی کے پاس آگئی مصطفی بیڈ پر کاغذات پھیلائے کچھ مصروف تھا۔

”السلام علیکم! کیا ہورہا ہے؟ آپ آئے نہیں کافی دن سے امی یاد کررہی تھیں۔“ انشال نے کاغذات پر اچٹتی سی نظر ڈال کر کہا۔

”ہاں‘ مصروف ہوں کام میں‘ بیٹھو تم۔“ اس کا لہجہ سرد تھا۔

”چائے لاﺅں آپ کے لیے؟“ انشال نے لہجے کو بشاش بناتے ہوئے پوچھا۔

”نہیں‘ میں نے سیکھ لی ہے اب اچھی چائے پکا لیتا ہوں بالکل امی جیسی۔“ اس بار لہجے میں سرد مہری کے ساتھ ساتھ درد بھی تھا‘ انشال نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

”کیا ہوا مصطفی؟“ انشال نے اس کے سپاٹ چہرے کو غور سے دیکھا۔

”کچھ نہیں‘ ہونا کیا ہے‘ بس میں نے حالات سے کمپرومائز کرنا سیکھ لیا ہے۔ اس طرح رہنا‘ اپنے کام کرنا اور تنہا جینا۔“ لہجہ بدستور وہی تھا‘ انشال کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

”مصطفی آپ کی تنہائی اور اکیلے پن کا ہمیں بھی احساس ہے اس لیے امی نے کہا ہے کہ وہ سادگی سے ہماری شادی کرنا چاہتی ہیں۔“

”کیا؟“ مصطفی نے جھٹکے سے سر اٹھا کر تیکھے چتونوں سے اس کی جانب دیکھا۔

”جی مصطفی…. کیوں کہ اب آپ کو ضرورت ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں شادی….“

”نہیں انشال…. تمہیں سب غلط لگتا ہے کیوں کہ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ کاغذات سمیٹ کر فائل میں لگاتے ہوئے انتہائی روکھے لہجے میں بولا۔

”کیا…. کیا مطلب ہے آپ کا؟“ اس کی بات پر انشال کرسی سے اچھل پڑی۔

”ہاں…. ہاں مس انشال ابرار احمد…. کیوں کہ ساری باتیں میرے لیے فضول اور بے معنی ہیں کیونکہ جب مجھے اس کی ضرورت تھی‘ میری ماں کو یہ خواہش تھی تب تم مجبوریوں‘ ذمہ داریوں اور مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھیں اور تم نے ہمیں غیر اور ناکارہ سمجھ کر لوٹا دیا تھا۔ اپنی ماں کا میں اکلوتا بیٹا تھا اور مجھ کو لے کر میری ماں نے بہت سارے خواب دیکھے تھے‘ ان کو بھی مجھے دلہا بنے دیکھنے کی تمنا تھی ان کی بھی کچھ خواہشات تھیں۔ کچھ سپنے تھے جو انہوں نے میری ذات کے حوالے سے دیکھے تھے اب جب کہ میری ماں نہ رہیں تو میرے لیے یہ ساری باتیں‘ الفاظ‘ رسمیں سب بے معنی رہ جاتی ہیں۔ میرے لیے یہ سب بے کار ہے کیوں کہ میری خواہشات بھی میری ماںکے ساتھ دفن ہوگئی ہیں۔“ مصطفی کے الفاظ نشتر بنتے افشاں کے وجود میں پیوست ہو رہے تھے۔

”مصطفی….!“ انشال نے کرب سے اسے پکارا۔ ”آپ تو جانتے ہیں کہ میں اس وقت کن حالات سے دوچار تھی‘ مجھے ابو جی کے سامنے سرخرو ہونا تھا۔ آج تک میرے باپ کی پُرامید آنکھیں دکھائی دیتی ہیں‘ ان کے چہرے کی بے بسی میں بھول نہیں سکتی۔ میں نے ابو جی سے وعدہ کیا تھا کہ میں خےال رکھوں گی سب کا اور….“

”انشال….“ مصطفی نے درمیان سے اس کی بات کاٹی۔ ”یہاں پر ایک بیمار عورت کی مرنے تک یہ ہی خواہش تھی میں نے تمہیں ہر طرح سے سمجھانا چاہا‘ ہر ممکن تمہارا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انشال میں کوئی غیر نہیں تھا نہ ہی امی نئی تھیں کہ تمہارے حالات سے ناواقف ہوں۔ ہم مل جل کر حالات کا مقابلہ کرسکتے تھے‘ میں خود کو اپنی مرحومہ ماں کے سامنے شرمندہ اور مجرم سمجھنے لگا ہوں کہ تمہاری ضد نے مجھے اتنا مایوس کردیا تھا‘ تم نے کبھی بھی میری بات کو میرے نظریے اور میری ماں کے حوالے سے محسوس ہی نہیں کیا۔“

”مصطفی پلیز میں اس وقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھوچکی تھی‘ ہم بہت آزمائش اور کٹھن دور سے گزر رہے تھے۔“ انشال کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

”تم ایک بار مجھ پر بھروسہ کرکے دیکھتیں‘ میری بات پر غور کرتیں مگر…. تم….؟ بہرحال میں لمبی بحث نہیں کرنا چاہتا۔ امی جی کے بعد مجھے یہ گھر محلہ اور شہر سب کچھ ویران دکھائی دینے لگا ہے۔ میں اس طرح خود کو کبھی معاف نہیں کر پاﺅں گا‘ اس لیے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملک ہی چھوڑ کر جارہا ہوں۔ کبھی لوٹ کر نہ آنے کے لیے اور تمہیں اپنی طرف سے آزاد کررہا ہوں‘ میں تمہیں پابند نہیں کروں گا۔ تمہاری اپنی مرضی ہے‘ تمہاری اپنی زندگی ہے جس طرح چاہے گزارو۔“

”یہ…. آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“ شدت غم اور حیرانی سے انشال کی آنکھیں پھٹنے لگیں‘ منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز سسکی کی صورت نکلی اسے مصطفی سے ہرگز اس انتہائی ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

”اگر آپ میری مجبوریوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا رہے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ تائی امی کے ساتھ میں نے غلط کیا تو…. سوائے ہاتھ جوڑ کر اور گڑگڑا کے معافی مانگنے کے سوا کیا کرسکتی ہوں مگر…. اللہ کو گواہ بناکر صرف اتنا کہوں گی کہ شاید میری غلطی ہو مگر میں نے تو سب کی بھلائی اور اپنا فرض سمجھ کر وہ کیا جو مجھے سمجھ میں آیا ہاں شاید یہاں میری غلطی ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ اور تائی امی کے ساتھ غلط کیا کہ آپ کو اپنے مسائل کا حصہ نہیں بنایا بہرحال ایک بات ضرور کہوں گی کہ میرے دل میں صرف اور صرف آپ ہیں۔ میں نے صرف اور صرف آپ کے ساتھ کی خواہش کی اور اگر آپ نہیں تو زندگی میں کوئی اور آپ کی جگہ نہیں لے پائے گا۔“ انشال نے اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کی ناکام کوشش کی۔

”میرے لیے بھی تم پہلی اور آخری لڑکی ہو لیکن بس…. نہ جانے کیوں اب میں بھی یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ یہاں سے دور بہت دور چلا جاﺅں۔ چچی جان کو سلام کہنا اور اپنے گھر والوں کا ہمیشہ یونہی خیال رکھنا۔“ انشال کو اٹھتا ہوا دیکھ کر اس نے آخری جملے پر زور دے کر کہا۔ انشال نے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ایک نظر مصطفی کے سپاٹ چہرے پر ڈالی آخری بار گھر اور کمرے کو دیکھا ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی گھر سے نکل گئی۔ مغرب کی اذان ہونے والی تھی جب انشال گھر میں داخل ہوئی۔

”امی…. امی….“ وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی رخسانہ بیگم کے سینے سے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی‘ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔ ماں کے سینے سے لگ کر تو سارے دکھ‘ غم سب کچھ تازہ ہوجاتے ہیں۔ اپنوں کے آگے دکھ زیادہ شدید انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔

”انشال…. انشال….“ رخسانہ بیگم اس کی حالت دیکھ کر حواس باختہ ہوگئیں۔

”کیا ہوا؟ ارے کچھ بتاﺅ بھی‘ تم مصطفی سے ملنے گئی تھیں‘ وہ…. ٹھیک تو ہے ناں؟“ لیکن انشال ان کی بانہوں میں بے ہوش ہوگئی تھی۔

”عماد جلدی سے آﺅ۔“ رخسانہ بیگم پوری قوت سے چیخیں۔ آنکھ کھلی تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا۔

”انشال میری بچی….“ اس کی آنکھیں کھلی دیکھ کر نمل‘ عماد اور رخسانہ بیگم اس کے مزید قریب آگئے۔

”کیا ہوا میری بچی؟“ رخسانہ بیگم جو بدستور رو رہی تھیں‘ بے قرار لہجے میں سوال کیا۔

”کیا بتاﺅں؟“ اس نے بے بسی سے ہونٹ کاٹے۔

”آپی! کیا ہوا ہے…. کیا مصطفی بھائی نے کچھ کہا؟ میں نے کال کی لیکن ان کا سیل بھی بند تھا۔ بتاﺅ تو آخر ہوا کیا ہے؟“ عماد نے اس کے ہاتھ تھام کر ملائمت سے پوچھا۔

”امی جی…. عماد….“ اتنی دیر میں انشال نے خود پر کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

”بولو کیا ہوا…. میری بچی؟“ تب انشال نے دھیرے دھیرے مختصراً سارا احوال بتادیا۔

”ہائے میں مر گئی۔“ رخسانہ بیگم کرسی پر ڈھ گئیں۔

”ارے کیا مصطفی بھائی پاگل ہوگئے ہیں‘ اتنا بڑا فیصلہ وہ کس طرح کرسکتے ہیں جب اپنے ہیں‘ اپنا کہتے ہیں خود کو تو…. اپنوں کے ساتھ یوں برتاﺅ کیا جاتا ہے کیا؟ میں ابھی جاکر ان سے بات کرتا ہوں‘ حد کرتے ہیں وہ اگر…. آپی کو کچھ ہوجاتا تو….“ عماد غصے میں آپے سے باہر ہورہا تھا۔

”عماد…. یہ سب باتیں اب فضول اور بے مطلب ہیں کیوں کہ اس بات کو تین گھنٹے گزر چکے ہیں اور…. اور مصطفی اس وقت شاید پاکستان کی حدود سے باہر نکل چکے ہوں گے لہٰذا اس بات کو یہیں ختم کردو۔“

”ارے واہ…. ایسے کیسے ختم کردیں‘ کیا مجھے ریحانہ کی موت کا غم نہیں۔ وہ کس طرح ایک فضول بات کو لے کر اتنا سنگین فیصلہ کرگیا ہے۔“ اس بار رخسانہ بیگم بولیں۔

”امی جی…. آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ وہ جب یہاں نہیں ہیں تو آپ لوگ کیسے اور کہاں تلاش کریں گے؟ اور پھر کون سا آپی ان کے نکاح میں تھیں‘ چھوڑیں ان کو بس آپی کے لیے سوچیں اللہ کا کرم ہے کہ آپی ٹھیک ہیں اس لیے اب لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔“

”ہائے اللہ یہ کیا ہورہا ہے ہمارے ساتھ؟ کیوں بار بار ہمیں آزمائش میں ڈال رہا ہے‘ اللہ پاک ہم سے کون سا گناہ ہوگیا ہے؟ ہمیں معاف کردے میرے مولا…. ہم کمزور‘ ناتواں اور بے بس بندے ہیں۔ ہم پر رحم کرنا میرے رب‘ ہم پر مزید آزمائش مت ڈالنا‘ آمین۔“ رخسانہ بیگم باقاعدہ بین کرنے لگی تھیں۔

”بس کریں امی جی…. یہ گھر نہیں اسپتال ہے۔“ عماد نے تھوڑے سے تیز لہجے میں ماں سے کہا تو رخسانہ بیگم بے چارگی سے انشال کی طرف دیکھنے لگیں۔

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے