سر ورق / کہانی / شعبدہ باز۔ وفا پرست ناگن۔ سید بدر سعید

شعبدہ باز۔ وفا پرست ناگن۔ سید بدر سعید

شعبدہ باز

                                ارشد کالیا مجھ سے کسی بھی روپ میں ملتا، میرے لئے حیرت کا باعث نہ تھا۔ میں تصور کئے بیٹھا تھا کہ وہ کسی ولی اللہ کی صورت میں بھی نظر آ سکتا ہے اور جیل کی کال کوٹھری میں کسی بدنام مجرم کے روپ میں بھی مل سکتا ہے۔ ہم دونوں نے ”میجک“ ایک ساتھ سیکھا تھا۔ یہاں میری مراد جادو ہرگز نہیں کیونکہ جادو سیکھنا یا کرنا اسلام میں حرام ہے۔ میجک کی اصطلاح ہاتھ کی صفائی سے ہے۔ آپ اسے شعبدہ بازی بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں نے اسے محض ایک فن کے طور پر سیکھا لیکن ارشد کالیا کی منصوبہ بندی کچھ اور تھی۔ اسے اتفاق کہیے یا کچھ اور کہ ہم دونوں بیک وقت ایک ہی استاد کے پاس یہ فن سیکھنے گئے۔ وہیں ہماری پہلی ملاقات ہوئی جو ”ہم جماعت“ ہونے کی وجہ سے دوستی میں بدل گئی۔ شعبدہ بازی کے بنیادی اصول زیادہ پیچیدہ نہیں ہوتے لیکن آگے چل کر اس میں انتہائی جدت پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہمارے استاد کا کہنا تھا کہ ایک ہی شعبدہ ایک سو طریقوں سے دکھایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سو طریقے شعبدہ باز یا دیگر الفاظ میں جادوگر نے خود دریافت کرنے ہوتے ہیں۔ جو تخلیقی سوچ رکھتا ہو وہ آگے نکل جاتا ہے باقی فٹ پاتھ پر جادو کے کھلونے بیچتے نظر آتے ہیں۔

                                یہ فن سیکھنے کے دوران ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ارشد کالیا اس فن کا درست استعمال نہیں کرے گا۔ وہ انتہائی ذہین نوجوان تھا لیکن اس کی سوچ پیسے سے پیسے تک تھی۔ اس سے پہلے وہ شہر کے ایک مشہور جیب کترے کی شاگردی اختیار کر چکا تھا۔ اس فن میں بھی اسے اتنی مہارت حاصل ہو گئی تھی کہ وہ پانی کے پیالے میں رکھا گیا بلیڈ دو انگلیوں سے اس طرح اُٹھا لیتا تھا کہ پانی میں ارتعاش پیدا نہ ہو۔ جیب کتروں کی دنیا میں اس حد تک مہارت رکھنے والے کو ”گرو“ یا ”اُستاد“ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ ارشد کالیا محض پانچ سال کی محنت کے بعد ہی اس فن پر عبور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے تربیت کے دوران کی جانے والی وارداتوں یا ٹریننگ کے سوا مزید کوئی واردات نہیں کی تھی۔ جس دن اس نے انتہائی مہارت کے ساتھ پانی سے بھرے پیالے سے بلیڈ نکالنے میں کامیابی حاصل کی اس سے اگلے ہی دن وہ نئے استاد کے پاس شعبدہ بازی سیکھنے چلا آیا۔ وہیں اس نے مجھے صاف صاف بتایا کہ وہ چھوٹی موٹی وارداتیں کرنے اور سڑک چھاپ اٹھائی گیر بننے کی بجائے کوئی بڑا منصوبہ بنا رہا ہے۔

                                ابتدا میں اس نے مجھے بھی اپنے منصوبے کی بھنک نہیں پڑنے دی لیکن بعد میں بتا دیا کہ وہ اونچے درجے کا پیر بننا چاہتا ہے۔ اپنی گدی جمانے کے بعد وہ سیاست میں آنے کا ارادہ بھی رکھتا تھا۔ اونچے درجے کا پیر بننے کے لئے ضروری تھا کہ اس کی ”کرامات“ کا بھانڈا کبھی نہ پھوٹے اس لئے وہ جعلی کرامات کے لئے ان سے جڑے تمام فنون سیکھ رہا تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا کہ وہ محض شوق کی تسکین کے لئے ایسے فن سیکھ رہا ہے کیونکہ جس لگن اور محنت کا مظاہرہ وہ کرتا تھا، ایسا وہی کر سکتا ہے جو جنون کی حد تک کسی کام میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ بہرحال اس کی باتیں سُن کر یہ سب جنون سے زیادہ ”مشن“ لگنے لگتا تھا۔ارشد کالیا اور میں لگ بھگ چھ ماہ اکٹھے یہ فن سیکھتے رہے۔ شعبدے بازی میں راز یا تکنیک سے زیادہ مہارت اور ہاتھ کی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس فن کے اسرار تو چند ہی دنوں میں ذہن نشین ہو جاتے ہیں لیکن مہارت میں کمی کسی بھی وقت شرمندگی سے دوچار کر سکتی ہے۔ ہم تقریباً ایک ماہ میں بیشتر رازوں اور تکنیک سے واقف ہو گئے تھے باقی پانچ ماہ مہارت حاصل کرنے میں لگے۔ اس کے بعد ہم نے اپنی اپنی راہ لی۔

                                شعبدہ بازی کا کورس مکمل ہونے کے بعد ہمیں ارشد کالیا کہیں نظر نہ آیا۔ اس نے اپنے تمام رابطہ نمبر بند کر دیئے تھے۔وہ جس مکان میں رہتا تھا وہ کرایہ کا تھا جہاں اب کوئی اور رہتا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے فرض کر لیا کہ وہ شہر یا ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ البتہ یہ دُکھ ضرور تھا کہ اس نے طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سب سے نظریں پھیر لی تھیں۔ بہرحال میں نے عملی صحافت میں قدم رکھا اور باقی ساتھیوں میں سے بھی کوئی میجک ماسٹر بن گیا، کوئی ملک سے باہر چلا گیا تو کوئی کسی اور شعبے سے منسلک ہو گیا۔ ایک دن میں ایک اہم شخصیت کا انٹرویو کرنے کے بعد واپس آیا تو لاہور ایئرپورٹ سے نکلتے وقت میری جیب کٹ گئی۔ کسی جیب کترے نے کمال مہارت سے میرے کوٹ کی جیب سے پرس نکال کر اس کی جگہ کٹا ہوا آلو رکھ دیا تھا۔ جیب کے بھاری پن کی وجہ سے یہ احساس ہی نہ ہوا کہ بٹوا جیب میں نہیں ہے۔ مجھے صورت حال کا علم اس وقت ہوا جب میں نے ایئرپورٹ سے ہی کچھ اشیا خریدیں اور رقم کی ادائیگی کے لئے بٹوا نکالنا چاہا تو آلو مجھے منہ چڑا رہا تھا۔ دکاندار بھی صورت حال بھانپ گیا۔ بہرحال میں اسے صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے خریدی ہوئی چیزیں واپس کرنے لگا تو میرے پاس کھڑے ایک باریش شخص نے نرم لہجے میں کہا: ”حضرت خریدی گئی اشیا واپس کرنا بدشگونی ہے۔ آپ کی ادائیگی میں کر دیتا ہوں۔ آپ گھر جا کر میری رقم لوٹا دیجئے گا۔ میں بھی لاہور میں ہی رہتا ہوں“۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے محسن کو گھر چلنے اور ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی۔ وہ بخوشی تیار ہو گیا۔

                                 وہ میری گاڑی میں بیٹھ گیا جبکہ اپنے ڈرائیور کو پیچھے پیچھے آنے کا اشارہ کر دیا۔ راستے میں موسم پر ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی۔ میں نے دو تین بار اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مجھ پر اعتبار کرتے ہوئے مجھے ایئر پورٹ پر شرمندگی سے بچا لیا۔ اسی دوران اچانک اس نے کہا: شاہ! اگر تم بھی پانی سے بلیڈ اٹھانے میں مہارت حاصل کرتے تو کم از کم آلو اور بٹوے کے وزن میں فرق سے آگاہ ہو جاتے۔ میں نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ میرا پرس ہاتھ میں تھامے مسکرا رہا تھا۔ کہنے لگا: خاکسار ارشد کالیا ہے۔ اجنبی کا حلیہ اس ارشد کالیا سے کافی مختلف تھا جو ہمارے ساتھ شعبدہ بازی سیکھتا تھا۔ میرے سامنے ایک معزز، شریف اور بارُعب شخصیت تھی لیکن اب میں اسے پہچان گیا۔ اس نے مجھے ایئرپورٹ پر ہی پہچان لیا تھا لیکن براہ راست تعارف کروانے کی بجائے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری توجہ حاصل کی۔

                                گھر پہنچنے تک ہمارے درمیان موجود تکلف اور وضع داری کی دھند چھٹ چکی تھی۔ وہیں گلے شکوے ہوئے اور ایک دوسرے کے بارے میں آگہی حاصل ہوئی۔ ارشد کالیا اب ”پیر اشرف سلطان دفینہ والے“ بن چکا تھا۔ شعبدہ بازی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نے ایک دو فنون مزید سیکھے اور پھر نواحی علاقے میں چلا گیا۔ وہاں وہ گھر پہلے ہی لے چکا تھا۔ اس علاقے کے لوگوں کو اس کے بارے میں یہی معلوم تھا کہ وہ شہر میں کوئی کام کرتا ہے اور ایک نیک شخص ہے۔ گا ¶ں میں اس نے کچھ جانور پال رکھے تھے جن کی دیکھ بھال کے لئے دو ملازم موجود تھے۔ وہ سال بعد قربانی کے لائق جانور بلامعاوضہ قصبے کی مسجد میں بھیج دیتا جہاں ان کو ذبح کرنے کے بعد گوشت علاقے میں تقسیم کر دیا جاتا۔ اس نے مشہور کر رکھا تھا کہ وہ اپنا گزارہ شہر کی نوکری سے کرتا ہے۔ جانور پالنے کا حکم اس کے پیر صاحب نے دیا تھا کیونکہ یہ انبیاءکرام کا کاروبار ہے۔ آہستہ آہستہ گا ¶ں میں اسے نیک شخص کے طور پر جانا جانے لگا۔ وہ لاہور شعبدہ بازی سیکھتا رہا لیکن گا ¶ں میں خبر پہنچا دی کہ عمرے پر گیا ہوا ہے۔ قصّہ مختصر اس نے پورا پلیٹ فارم تیار کر رکھا تھا البتہ وہ دم درود یا پیری مریدی کی جانب نہیں گیا۔

                گا ¶ں میں وہ بس ایک محنتی اور نیک انسان تھا۔ اس کی ولایت کی باتیں بھی گردش کرنے لگیں لیکن بظاہر وہ عاجزی سے ان کی تردید کرتا رہا۔ شعبدہ بازی میں مہارت کے کچھ عرصہ بعد جب وہ گا ¶ں گیا تو ایک گھر میں نقب لگی اور زیور چوری ہو گیا۔ لوگ بھاگ دوڑ کرتے رہے لیکن زیور یا چور کا کچھ پتا نہ چلا۔ ایک ہفتے بعد ارشد کالیا نے امام مسجد کو بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا ہے کہ زیور برگد کے پرانے درخت کی جڑوں میں ہے۔ وہ اس خواب کی وجہ سے پریشان تھا اور تعبیر جاننا چاہتا تھا۔ اس نے اس ڈر کا بھی اظہار کیا کہ کہیں زیور برآمد ہونے پر اسے چور نہ سمجھ لیا جائے یا ایسا نہ ہو کہ خواب اس کی ذہنی پریشانی کا نتیجہ ہو اور جن کا زیور چوری ہوا ہے وہ زیور نہ ملنے پرمایوس ہو کر اسے بُرا بھلا کہیں۔ امام مسجد نے کچھ نمازیوں کو بٹھا کر اعتماد میں لیا۔ جن کا زیور چوری ہوا تھا انہیں بھی بلا لیا اور ساری بات بتا کر سمجھایا کہ یہ محض ایک خواب ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک مرتبہ دیکھ لینا چاہئے۔ ارشد کالیا کی نیک نامی پر بھی لوگوں کو شک و شبہ نہ تھا۔ بہرحال زیور اسی درخت کی جڑوں کے پاس کھدائی کرنے سے مل گیا۔ دو ماہ بعد پھر ایک واقعہ ہوا تو ارشد کالیا کے خواب کی بدولت اسی درخت کی جڑوں سے مطلوبہ سامان مل گیا۔ ایک سال میں دو تین واقعات اسی درخت سے جڑ گئے تو وہ درخت بھی پُراسرار ہو گیا۔ چونکہ خواب ارشد کالیا دیکھتا تھا اس لئے اس نے امام مسجد سے مشورہ کر کے استخارہ کیا تاکہ کوئی رہنمائی مل سکے۔ اگلے دن اس نے بتایا کہ درخت کے پاس کوئی ولی اللہ دفن ہیں جو اپنی شناخت چاہتے ہیں۔ ارشد کالیا کی نشاندہی پر وہاں زمین کے اوپر ایک قبر بنا دی گئی اور پھر جلد ہی چار دیواری کر کے وہاں ایک احاطہ بنا دیا گیا۔ لوگوں کے اصرار کے باوجود اس نے اس مزار کا مجاور بننے سے انکار کر دیا اور یہ ذمّہ داری امام مسجد کو سونپ دی گئی۔

                                یہاں سے ایک نئی صورت حال شروع ہوئی۔ ارشد کالیا اس قبر کا مجاور نہیں بنا اور انتظامی ذمّہ داریاں امام مسجد کے سپرد رہیں لیکن اس نے امداد باہمی کے تحت چھوٹے سے لنگر کا سلسلہ شروع کروا دیا۔ اس کی نیک نامی کا ذکر ہونے لگا۔ وہ اس دوران شہر کام کے سلسلے میں بھی جاتا رہا۔ بظاہر امام مسجد ہی اس قبر کے مجاور یا منتظم تھے لیکن لوگوں کی اکثر گمشدہ چیزوں کی نشاندہی ارشد کالیا ہی کے خواب سے ہونے لگیں۔ آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے پیر یا ولی کا درجہ دینا شروع کر دیا جبکہ امام مسجد ”ڈمی“ مجاور کی حیثیت اختیار کر گئے۔ ارشد کالیا نے دم درود کا سلسلہ شروع نہ کیا۔ یہ ذمّہ داری امام مسجد کی ہی تھی لیکن کرامات ارشد کالیا کی جانب سے ظاہر ہوتی تھیں۔ اس کے گھر کی بیٹھک بھی مشہور ہو گئی جہاں باتوں کے دوران ہی کسی جن کی شرارت یا کوئی کرامت ظہور پذیر ہو جاتی۔

                                 ارشد کالیا کا یہی کہنا تھا کہ وہ ایک عاجز سا بندہ ہے لیکن لوگ اب اپنے مسائل کے لئے اس کی بیٹھک کا رُخ کرنے لگے تھے۔ وہ دُعا کر دیتا لیکن ساتھ ہی سختی سے کہہ دیتا کہ امام مسجد سے بھی دعا کروا لو اور مزار کے لنگر کے لئے ان سے تعاون بھی کر دینا۔ وہ مزار کے لئے آنے والی رقم کو آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ ان عادات کی وجہ سے امام مسجد اس کے احسانات کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ عملی طور پر اب مزار یا مسجد کی رقم اور انتظامی معاملات میں ارشد کالیا کی خواہش کو ہی ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ امام مسجد سمیت سارا علاقہ جانتا تھا کہ اس نے نہ تو کبھی امام مسجد کی گدی پر نظر ڈالی اور نہ مزار کے نذرانے کی جانب دیکھا۔ اس لئے اس کی نیک نامی کے چرچے پھیل چکے تھے۔ قصبے نما گا ¶ں میں وہ ”پیر اشرف سلطان دفینے والے“ کے نام سے جانا جاتا تھا جو شہر میں حلال رزق کما کر اپنا گزارہ کرتا تھا۔

                                اس روز میں نے اس کی کہانی سُنی اور کافی الجھن کے عالم میں کہا: تم تو کوئی لمبا ہاتھ مارنے نکلے تھے لیکن اب کہہ رہے ہو کہ مزار یا نذرانے سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ یہاں تک کہ ضرورت مندوں کی مدد کے لئے خود کہیں رقم دبا کر خود ہی خواب دیکھ لیتے ہو اور انہیں وہاں سے خزانہ برآمد کروا دیتے ہو۔ اس کا تمہیں کیا فائدہ؟ میری بات سن کر ارشد کالیا مسکرایا اور کہنے لگا: شاہ! اس ملک میں پیر بہت ہیں لیکن میرے جیسا پیر تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔ میں زیادہ جھنجٹ نہیں پالتا۔ دم درود اور جن نکالنے کا کام امام مسجد ہی کرتے ہیں۔ نذرانہ بھی ان کے پاس جاتا ہے البتہ اس کا استعمال وہ میری خواہش کے مطابق کرتے ہیں۔ اگر ڈنڈی مارتے ہیں تو بھائی ان کا روزگار لگا ہوا ہے، میںکیوں برباد کروں؟ اس سارے جھنجٹ سے میں نے صرف نیک نامی کمائی ہے۔ میں کراچی اور اسلام آباد سے لے کر پشاور تا لاہور ہر طرح کا فراڈ کرتا ہوں۔ اعلیٰ سطح پر ہاتھ کی صفائی دکھاتا ہوں اور قیمتی زیورات سے لے کر پیسوں سے بھرے پرس تک غائب کر دیتا ہوں۔ سکیورٹی کیمرہ تک کو دھوکہ دینا جانتا ہوں۔ جعلی کرنسی سے لے کر چوری شدہ گاڑیوں تک ہر دو نمبر کاروبار میں میرا حصّہ ہے۔ میں اعلیٰ افسروں اور سیاست دانوں کا ہاتھ بھی دیکھتا ہوں اور انہیں ہاتھ دکھا بھی دیتا ہوں۔ اعلیٰ کلبوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہوں۔ کبھی کبھی بیگمات کی کوئی انگوٹھی غائب کر کے کسی افسر کی جیب سے برآمد کر دیتا ہوں۔ اسی طرح ہنسی کھیل میں اپنے تعلقات مضبوط کرتا ہوں۔ وہ دم لینے کو رکا اور پھر کہنے لگا ۔ اعلی سوسائٹی کے سامنے میں دنیادار ہوتے ہوئے بھی روحانیت سے جڑا ہوا ہوں۔ یہ تعلقات دو نمبر دھندوں میں میرے کام آتے ہیں۔ میں آج تک نہیں پکڑا گیا۔ رئیل اسٹیٹ میں میری بھاری رقم لگی ہوئی ہے جو دوگنی ہوتی جا رہی ہے۔ بظاہر یہی میرا کاروبار ہے اس کے باوجود میں حقیقت پسند ہوں۔ میں جانتا ہوں کوئی چھوٹی سی غلطی مجھے اس سارے سیٹ اپ سے فرار ہونے پر مجبور کر دے گی۔ اس وقت میں اپنے اسی قصبے میں لوٹ جا ¶ں گا۔ وہاں میرے خزانے دفن ہیں۔ اگر کوئی وہاں مجھ تک پہنچ بھی جائے تو لوگ یہ ثابت کر دیں گے کہ آنے والوں کو غلط فہمی ہوئی ہے وہ جس ارشد کالیا کی تلاش میں ہیں، وہ کوئی اور ہے۔ اشرف اور ارشد کا معمولی سا فرق بھی کام آ جائے گا۔ وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا اور پھر کہنے لگا: مذہب میں اتنی طاقت ہے کہ وہ بڑے سے بڑے اہلکار کو روک سکتا ہے۔ عقیدت اندھی ہوتی ہے اور میں نے دنیادار رہتے ہوئے بھی لوگوں میں اپنے لئے اندھی عقیدت پیدا کر دی ہے۔ یہ میرا آخری شعبدہ ہے جو میرے کام آئے گا۔

                                ارشد کالیا مجھ سے مل کر واپس چلا گیا۔ میرے بار بار پوچھنے پر بھی اس نے اس گا ¶ں یا قصبے کا نہیں بتایا جہاں وہ ”پیر اشرف سلطان دفینہ والے“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا وہ علاقہ اس کا آخری سیف ہا ¶س ہے اور اپنی پناہ گاہ اس نے سب سے چھپا رکھی ہے۔ مزار کے ساتھ گدی نشین کے طور پر چونکہ امام مسجد کا نام جڑا ہے اس لئے کسی اجنبی کے لئے وہ مزار تلاش کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس کی عالی شان گاڑی، لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں فارم ہا ¶س اور دیگر باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ واقعی دو نمبر دھندوں میں پا ¶ں پھنسائے ہوئے ہے کیونکہ چند سال میں ککھ سے لکھ ہونا اتنا آسان نہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ مزار والی بات اس نے خود سے گھڑی تھی لیکن پھر خیال آتا ہے کہ اس نے اپنے بچا ¶ کے لئے ایسا کوئی قدم ضرور اٹھایا ہو گا، آخر ہے تو شعبدہ باز ہی۔

وفا پرست ناگن

زینب خان کا ڈیرہ نما گھر ہمارے دفتر کے پاس ہی تھا۔ اخبار کا یہ دفتر شہر کے مضافاتی علاقے میں تھا۔ دفتر گلی نما سڑک پر تھا جو مرکزی شاہراہ تک جاتی تھی۔ اس گلی کی دوسری نکڑ پر چاچا دینو کی چائے کی دکان تھی جسے وہ ہوٹل کہتا تھا۔ چونکہ یہاں درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے دفاتر اور دکانیں کافی تھیں۔ اس لئے چاچا دینو کے اس ہوٹل پر خوب رونق رہتی تھی۔ اخبار کا مالک کاروباری شخص تھا۔ اس کےلئے صحافت بھی کاروبار ہی تھی۔ اس علاقے میں دفتر کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ یہاں سے اخبار کو چھوٹے اشتہارات ملتے رہتے تھے جن میں دکانداروں کی تصاویر بھی شامل ہوتی تھیں۔مجھے زینب خان کے بارے میں سب سے پہلے چاچا دینو کے ہوٹل سے ہی معلوم ہوا تھا۔ اس کا تعلق جرائم کی دنیا سے تھا۔ کئی سال پہلے نصیب جٹ نے اسے بطور بیوی خرید لیا تھا۔ اس کے والدین کو بھاری رقم ادا کرنے کے بعد نکاح کے دو بول پڑھوائے اور یوں زینب خان ہمیشہ کےلئے نصیب جٹ کی ہوگئی۔ وہ اسے پنجاب لے آیا۔ اس کے بعد نہ کبھی زینب خان اپنے والدین سے ملنے گئی اور نہ ہی و ہاں سے کوئی اس طرف آیا۔ غالباً اس کے والدین کو یہ بھی علم نہ تھا کہ ان کی بیٹی کا گھر کہاں پر ہے۔                  آج بھی ہمارے معاشرے میں اس طرح کی شادیاں ہو رہی ہیں۔ نصیب جٹ جرائم پیشہ شخص تھا لیکن تھانیدار کو جیب میں رکھنے کے ہنر سے واقف تھا۔ کبھی چوری، ڈکیتیاں اور لڑائی بھڑائی کے حوالے سے بھی اس کی خاص پہچان ہوا کرتی تھی لیکن پھر اس نے شراب، چرس، اور دیگر نشہ آور اشیا کی خرید و فروخت کا دھندا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے گھر نما ڈیرے پر جوئے کی محفل بھی لگتی تھی۔ زینب خان جب یہاں آئی تو اس کی عمر اٹھارہ برس بھی نہ تھی۔ اس کی اصل تربیت نصیب جٹ نے ہی کی۔ اس کے گھر جوئے کی محفل سجتی تو جواریوں کے لئے چائے پانی کا انتظام زینب خان ہی کرتی تھی۔

                                جرائم کی دنیا سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس دنیا کے شاہ سواروں کی عمر مختصر ہوتی ہے۔ یہ کسی نہ کسی چکر میں جلد ہی مارے جاتے ہیں۔ نصیب خان کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ جوئے کی ایک محفل کے دوران وہ اپنے ہی ایک دوست کے ہاتھوں مارا گیا۔ نصیب جٹ کے قتل کے بعد زینب خان نے فوراً ہی معاملات پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ نصیب جٹ کے گروپ کے لوگ اس کا احترام کرتے تھے۔ لین دین کے اکثر معاملات نصیب جٹ کے ہاتھ میں تھے اور اس کے یہ راز صرف زینب خان کے علم میں تھے۔ وہ متعدد معاملات میں اپنے آپ کو منوا چکی تھی اور اب سب کے مفادات ہی اس کے ہاتھ میں تھے اس لئے یہ گینگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوا اور نصیب جٹ کی جگہ زینب خان نے سنبھال لی۔

                                جب میں نے اس اخبار کے دفتر میں ملازمت شروع کی تب تک معاملات زینب خان اپنے کنٹرول میں کر چکی تھی اور اس نے نصیب جٹ کو قتل کروانے والے کو بھی قتل کروا دیا تھا۔ اب اس گھر کے معاملات پہلے کی طرح چل رہے تھے کچھ ہی دن میں مجھے معلوم ہوگیا کہ ہمارے اخبار کے موٹے سیٹھ کا بھی زینب خان کے ڈیرے پر اُٹھنا بیٹھنا ہے۔ یہ زینب خان کی ایک اور طاقت تھی۔ اس نے علاقائی اخبار کو بھی اپنے قابو میں کر رکھا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ میں نے کرائم کے حوالے سے ایک فیچر بنایا تو اس میں زینب خان کے ڈیرے کا بھی ذکر کر دیا۔ چونکہ چھوٹے اخبارات میں زیادہ چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا اس لئے یہ فیچر ایسے ہی شائع ہوگیا۔ اگلے روز میری طلبی ہوگئی۔ موٹا سیٹھ غصّے سے بھرا بیٹھا تھا۔ میں کیبن میں داخل ہوا تو اس نے اخبار زور سے میز پر مارتے ہوئے کہا یہ زینب خان کے ڈیرے کا ذکر کس سے پوچھ کر کیا ہے؟ میں نے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا اس کے ذکر سے کسی نے منع بھی نہیں کیا تھا اور اس فیچر میں علاقے کے دیگر ڈیروں کا بھی ذکر ہے۔ سیٹھ کا چہرہ مزید سیاہ ہوگیا اس نے غصّے سے کہا، آئندہ اس ڈیرے کے بارے میں اس طرح سے کچھ لکھا تو دوبارہ دفتر کی سیڑھیاں نہ چڑھنا۔ میں خاموشی سے واپس آگیا لیکن مجھ پر واضح ہوگیا کہ ہمارا سیٹھ اس ڈیرے پر مہربان ہے۔

                                یہ واقعہ میرے اس ڈیرے سے تعلقات کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ میں وہاں گیا اور انہیں بتا دیا کہ اب میں چاہوں بھی تو ان کے خلاف اس اخبار میں کچھ نہیں لکھ سکتا لہٰذا وہ بھی اپنا دل صاف کر لیں۔ میرا ارادہ تھا کہ اس ڈیرے کو اپنا ”سورس“ بنا لوں جہاں سے مجھے کم از کم کرائم کی خبریں ملتی رہیں۔ زینب خان کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن اس نے انہیں رام کر لیا اور میرے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اس کے بعد میں چاچا دینو کے ٹی سٹال کی بجائے فارغ وقت اس ڈیرے پر گزارنے لگا۔ بعد میں یہاں سے مجھے متعدد ایسی خبریں ملیں جو صحافتی زبان میں ”ایسکلوزیو خبریں“ کہلائیں۔ زینب خان اور سیٹھ کے معاملات یونہی چلتے ر ہے۔ مجھے زینب خان سے ہی معلوم ہوا کہ اس کے بعض دھندوں میں سیٹھ نے بھی پیسہ لگا رکھا ہے۔ لگ بھگ ایک سال تک ان کی یہ پارٹنر شپ چلتی رہی اور سیٹھ کی دولت میں اضافہ ہوتا رہا۔ زندگی یونہی گزر رہی تھی کہ ایک روز علاقے میں بھونچال آگیا۔ مجھے اس واقعہ کی خبر صبح دس بجے دفتر پہنچ کر ہوئی۔ میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ علاقے کے ایس ایچ او کا فون آگیا وہ خود بھی کافی حد تک گھبرایا ہوا تھا ۔ہمارا سیٹھ قتل ہو چکا تھا۔

                                سیٹھ کی رسی سے بندھی لاش ز ینب خان کے ڈیرے سے ملی تھی۔ اس کا پیٹ چاک تھا اور جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔ زینب خان سمیت اس کے سبھی ساتھی مفرور تھے۔ علاقے کے تھانیدار نے فوراً مقدمہ درج کرلیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اب صحافتی تنظیمیں اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوں گی۔ اخبار اور باقی کاروبار وقتی طور پر سیٹھ کے بھائی نے سنبھال لےے لیکن وہ اخبار کے معاملے میں سیٹھ سے بھی گیا گزرا تھا۔ سٹاف اس حادثے کے بعد اخبار چھوڑ کر دوسرے اخبارات سے منسلک ہوگیا تھا۔ میں نے شہر کے دوسرے کنارے پر واقع ایک اور اخبار میں ملازمت شروع کر دی۔ وہیں مجھے ایک کوٹھی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں جرائم پیشہ افراد کی آمدورفت ہے اور وہ محدود پیمانے پر منشیات کا کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ اس کوٹھی کی مالکن کا نام علیشبہ مخدوم تھا۔ میں ایک سورس کی مدد سے چرس کا خریدار بن کر اس کوٹھی تک پہنچ گیا۔ ابتدائی طور پر بطور سیمپل میں نے چرس کے ایک ”چھتر“ کا آرڈر دیا تھا۔ مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک نقاب پوش خاتون وہاں آگئی۔ وہی علیشبہ مخدوم تھی۔ مجھے بھی یہی بتایا گیا تھا کہ وہ پردہ کرتی ہے۔ بہرحال اس نے آتے ہی میرے ساتھ آنے والے کو واپس بھیج دیا اور پھر نقاب ہٹا دیا۔ میں اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا وہ زینب خان تھی۔ وہی زینب خان جس پر ہمارے سیٹھ کے قتل کا الزام تھا۔

                                زینب خان نے مسکراتے ہوئے کہا : شاہ !تمہیں چرس کی کیا ضرورت آن پڑی۔ تم ویسے بھی آ سکتے تھے۔ سچ کہوں تو مےں مکمل طور پر بدحواس ہوچکا تھا۔کچھ سنبھلا تو اےک ساتھ متعدد سوال کردئےے۔ اب مےں سےٹھ کے قتل کی کہانی جاننا چاہتا تھا۔ زےنب خان نے بتاےا کہ اےک رات جوئے کی محفل ختم ہوئی تو سب واپس چلے گئے لےکن سےٹھ بےٹھا رہا۔ زےنب خان کو لگا کہ شاےد وہ کوئی کاروباری بات کرنا چاہتا ہے لےکن ےہ بات غلط ثابت ہوئی۔ عےاش سےٹھ شراب کے نشے مےں تھا اور اس کی نظر زےنب خان پر تھی۔ ےہی بات اس کی موت کا باعث بن گئی۔ زےنب خان اپنے پاس ہر وقت اسلحہ رکھتی تھی۔ اس نے سےٹھ پر پستول تان لےا تو سےٹھ کی عقل ٹھکانے آگئی۔ وہےں زےنب خان کے جانثار بھی موجود تھے۔ آواز سن کر وہ بھی کمرے مےں آگئے اور سےٹھ کی مشکےں کس دی گئےں۔                               اب زےنب خان کی آنکھوں مےں خون اُترا ہوا تھا۔ اس نے کڑکی میں پھنسے چوہے کو لوہے کے ڈبّے مےں ڈال کر اوپر ڈھکن لگادےا۔ ےہ ڈبّا اُلٹا کرکے سےٹھ کے پےٹ پر رکھ دےا اور پھر نےچے سے ڈھکن کھےنچ لےا گیا۔ اب چوہا براہ راست بندھے ہوئے سےٹھ کے موٹے پےٹ پر تھا اور اس کے اوپر ڈبّا اُلٹا رکھاہوا تھا۔ چوہے کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈبّے پر جُوتے برسانے شروع کردئےے۔ چوہے کو موت نظرآئی تو اس نے سےٹھ کا پےٹ کترنا شروع کردےا۔ ےہ انتہائی ظالمانہ طرےقہ تھا۔ چوہا زندہ انسان کا پےٹ کتر کر دوسری طرف سے فرار ہوگےا اور سےٹھ انتہائی اذےت کے عالم مےں مرگےا۔ زےنب خان کے بقول ےہ طرےقہ اُسے نصےب جٹ نے بتاےا تھا اور وہ ماضی مےں اس کا تجربہ کرچکا تھا۔ مےں ےہ داستان سن کر لرز اُٹھا۔ زےنب خان نے بتاےا کہ وہ نہ صرف پہلے علاقے کے تھانے دار کو اسی طرح ”حصّہ“ پہنچا رہی ہے بلکہ اس نئے علاقے کے تھانے دار کو بھی اس کا حصّہ مل رہا ہے۔جرائم کی دنےا کے اپنے ہی اُصول ہوتے ہےں۔ ےہ بات زےنب خان کو بھی معلوم تھی کہ مےں اس کے بارے مےں کسی کو نہےں بتاو ¿ں گا اور اگر بتاو ¿ں گا تو اس کی سزا بھی مجھے ہی ملے گی۔ اس کی داستان ختم ہوئی تو مےں جانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے اُٹھتا دےکھ کر وہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: شاہ! مجھے جرائم کی دنےا مےں نصےب جٹ لاےا تھا۔ مےں مجرم ہوں لےکن عورت بھی ہوں۔ مجھے نصےب جٹ سے محبت تھی اور آج بھی وہی مےرا سب کچھ ہے۔ وہ اس دنےا مےں نہےں لےکن مےری دنےا مےں صرف اور صرف وہی ہے۔ سےٹھ مجھ سے رقم کا مطالبہ کرتا ےا زےادہ منافع مانگ لےتا تو شاےد مےں اسے انکار نہ کرتی لےکن اس نے اےک عورت کی محبت اور وفا پر انگلی اٹھائی تھی۔ مےرے بس مےں ہوتا تو اسے اس سے بھی زےادہ اذےت ناک موت کا مزہ چکھاتی۔

                                 کچھ عرصہ بعد میں نے وہ شہر چھوڑدےا لےکن آج تک یہ فےصلہ نہےں کرپاےا کہ زےنب خان جرائم مےں زےادہ اونچی سطح پر تھی ےا وفاشعاری مےںزےادہ بلند مقام پر فائزتھی۔ وہ معاشرے کے لئے کسی ناگن سے کم نہ تھی لےکن نجی زندگی مےں اس کی اپنے مرحوم شوہر سے وفا پرستی بھی ایک مثال ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

                                                 کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھلوال پہلا حصہ COLD FEAR  میں نے آج تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے