سر ورق / افسانہ / پرواہ … بلال شیخ

پرواہ … بلال شیخ

عرفان کا آج ایم اے کا رزلٹ آیا تو عرفان اپنے آپ کو مکمل محسوس کر رہا تھا ۔ نوکری کو چلاتے ہوئے ایم اے کا امتحان پاس کیا یہ اس کے لئے ایک معرکہ ہی تھا ۔ گھر کا وہ آخری بیٹا تھا ماں کچھ سالوں پہلے چل بسی اور باپ بڑھابے کی آخری سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔ بڑے دونوں بھائی اپنی زندگی میں مگن تھے اور عرفان بھی اپنی زندگی کے لئے بہت سے خواب سجائے بیٹھا تھا ۔ ارشد نے حالات کو دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کے لئے رشتے دیکھنا شروع کر دیے۔ ارشد خود مالی طور پر اتنی حیثیت نہیں رکھتا تھا ۔ اس لئے اس نے زیادہ اونچا نیچا دیکھے بغیر عرفان کا حلیمہ کے ساتھ رشتہ کر دیا۔  منگنی کے چکروں میں کوئی نہ پڑا  اور بات سیدھی شادی کی طرف چل دی اور ادھر حلیمہ شادی کر کے گھر آئی اور عرفان کی زندگی بھی بدل گئی اور ارشد اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو گیا۔

حلیمہ حسن میں ٹھیک تھی مگر  تعلیم میں وہ عرفان کے برابر نہ تھی اس نے میٹرک بھی نہیں کیا ہوا تھا ۔ حلیمہ تین بہنیں تھی اور یہ درمیان والی تھی بھائی تھا نہیں اور باپ کافی عرصہ پہلے چل بسا تھا ۔حلیمہ کی عرفان کے ساتھ بہت سادگی سے شادی ہو گئی اور دونوں نے اپنی نئی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ حلیمہ ذرا ڈرپوک اور وہمی لڑکی تھی مگر عرفان سمجھدار تھا اس نے اس کی بیوقوفیوں کو بھی سنبھال لیا تھا ۔حلیمہ ہر وقت عرفان کو خوش کرنے کے لئے عجیب عجیب حرکتیں کرتی ۔ کبھی تیار ہو گئی تو میک اپ بہت منہ پر لگا لیتی کہ عرفان پہلے سنجیدگی سے دیکھتا اور حلیمہ مسکراتے ہوئے  اور بعد میں عرفان کے دانت آب و تاب سے چمکتے اور حلیمہ سنجیدہ ہو جاتی بعد میں حلیمہ ناراض ہوتی تو عرفان کا کافی وقت اس کو منانے میں لگ جاتا ۔

” آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے آپ مجھے مذاق کرتے ہیں” حلیمہ نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔

” پیار کرتا ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں تم جو مرضی کر لو اور میں برداشت کر جاؤں مجھ سے برداشت ہوتا ہی نہیں” عرفان کہتا ہوا ایک دم ہنس پڑا کیونکہ عرفان کے لئے معاملہ بہت عجیب تھا۔

عرفان کو ایک دفعہ بخار ہو گیا اور حلیمہ کے جیسے جان پر بن آئی حلیمہ ہر وقت اُس کے سر پر بیٹھی رہتی کبھی اُس کے منہ میں تھرما پیٹر  ڈال کر بخار چیک کرتی تو کبھی ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی ۔

” بس کرو حلیمہ میں ٹھیک ہوں بس کچھ دیر آرام کروں گا ٹھیک ہو جاوں گا ” عرفان نے اس کا ہاتھ اپنے سر سے ہٹاتے ہوئے کہا۔

” کس نے کہا آپ ٹھیک ہے آپ کو پورا سو بخار ہے چپ کر کے لیٹے رہیں ” حلیمہ نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔اِن عجیب و غریب حرکتوں سے عرفان کبھی تنگ آجاتا تھا ۔ مگر وہ خوش اخلاق لڑکا تھا وہ ان سب کو مسکرا کر برداشت کر لیتا تھا۔

ایک دفعہ حلیمہ کی طبیعت بہت خراب ہو رہی تھی اس کے سر میں درد ہوئی اور اُلٹیاں شروع ہو گئیں عرفان اس دن دفتر سے لیٹ ہو گیا اس کے باس نے اس کے ذمے کئی کام سونپے ہوئے تھے ۔ حلیمہ نے محسوس کیا کہ طبیعت کافی خراب ہوگئی ہے تو اس نے ارشد کو کہنے کی بجائے عرفان کو فون کر دیا۔

” ہیلو سنے میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے آپ جلدی سے گھر آ جائے ” حلیمہ کی آواز بتا ری تھی کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں مگر عرفان کسی کام سے بازار میں تھا اور جلدی میں بھی تھا۔

” دیکھو  حلیمہ مجھے کافی دیر ہو جائے گی آنے میں تم ابو کے ساتھ چلی جاؤ” عرفان نے کہا۔

” آپ آ جائے میری طبیعت بہت خراب ہے میں آپ کے ساتھ ہی جاوں گی” حلیمہ نے اصرار کیا تو عرفان کو غصہ آگیا۔

” مین فارغ نہیں ہو میرے سے اتنی جلدی نہیں آیا جائے گا تم ابو کے ساتھ چلی جاؤ” عرفان نے کہ کر فون بند کر دیا۔ حلیمہ کو ایسا لگا جیسے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے عرفان اس سے محبت ہی نہیں کرتا وہ لمحہ حلیمہ کے دل پر بہت گہرا اثر کر گیا حلیمہ ارشد کو کہنے کی بجائے وہی لیٹ گئی ۔ عرفان آیا تو وہ سوئی ہوئی تھی عرفان نے اس کو اُٹھانا بہتر نہیں سمجھا اور سو گیا وہ بھی بہت تھکا ہوا تھا۔

اگلے دن حلیمہ کافی خاموش تھی اور عرفان سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی صبح اُٹھ کر عرفان نے اس کی طبیعت کی خیریت پوچھی تو حلیمہ عرفان کا چہرہ دیکھ کر رونے لگ گئی اور پوٹھ پوٹھ کر رونے لگ گئی عرفان اس کا چہرہ دیکھ کر پریشان ہو گیا۔

” کیا ہوا حلیمہ ؟ رو کیوں رہی ہو” عرفان نے پوچھا۔

” آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے ” حلیمہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی جیسے کوئی غم اس کے دل میں جگہ بنا رہا تھا۔

‘ میں محبت کرتا ہوں تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو” عرفان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا حلیمہ کے آنسو ہلکے ہوئے مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس دن کے بعد حلیمہ کو کوئی نہ کوئی مسٔلہ بنا رہتا تھا۔ کبھی سر میں درد کبھی معدے میں اور کبھی دل خراب ہو کر اُلٹیا آنے لگ جاتی تھی۔ اس کی بیماریاں دیکھ کر عرفان بہت پریشان ہو جاتا تھا۔ اس کے کئی کئی دن حلیمہ کو دیکھ کر گزر جاتے تھے۔ شادی کو ڈیڑھ سال گزرا تو ان کے گھر ایک مہمان کی آمد ہوئی جس کا نام انہوں نے صائم رکھا ۔ حلیمہ کا کافی وقت صائم کی دیکھ بھال میں گزر جاتا تھا مگر عرفان جب بھی سامنے آتا تو اس کو اپنے جسم کی کئی بیماریوں کے نام دریافت ہوتے اگر کبھی عرفان تھکا ہارا سو جاتا تو رات ساری واویلا ڈال کر گزر جاتا۔

” ہائے میرے سر میں درد میں کیا کروں مجھے ہی کیوں ساری بیماریاں لگ گئی عرفان مجھے لگتا ہے میں مر جاوں گی”حلہیمہ کتنی کتنی دیر بولتی رہتی۔

شہر کا کوئی ڈاکٹر ، کوئی حکیم، فقیر،درویش نہیں چھوڑا عرفان نے جس کو حلیمہ کو نہ دیکھایا ہو مگر حلیمہ کی طبیعت ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وقت اپنی رفتار دھوڑتا رہا اس دوران بشریٰ کی پیدائش اور اس کے دو سال بعد حسن ہوا ۔ عرفان کی ایک چھوٹی سی فیملی مکمل ہو گئی اور عرفان اپنی کاروباری دوڑ میں مصروف ہو گیا۔

ایک دفعہ حلیمہ کو ڈاکٹر کو چیک کرایا تو ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں لکھ دی گھر آکر پہلے حلیمہ نے دوائیاں دیکھی تو خاموش رہی مگر شاپر میں پڑے بل کو دیکھا تو بل صرف ساٹھ روپے کا بنا تھا حلیمہ نے بل دیکھ کر دوائیاںدور پھینکتے ہوئے کہا۔” اتنی سستی دوائیوں سے کیا بنے گا” حلیمہ کی بات سن کر عرفان پریشان ہو گیا۔

” تمہاری بیماریوں کی تو اب مجھے بھی سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں” عرفان نے غصہ کرتے ہوئے کہا کہ حلیمہ ادھر ہی رونا شروع ہو گئی بچے بھی ڈر جاتے تھے جب حلیمہ روتی تھی۔

بچے جوان ہو گے صائم کالج جانے لگ گیا تھا۔ بشریٰ میٹرک میں تھی اور حسن آٹھویں کلاس میں پڑھ رہا تھا جس طرح وقت بدل رہا تھا اسی طرح گھر کے حالات بھی تبدیل ہو رہے تھے عرفان نے ایک گاڑی خرید لی تھی گھر کے ایک کمرے میں اے سی لگ گیا تھا اور خرچا کافی اچھا چل رہا تھا۔حلیمہ کا بھی چہرہ بھی اب پہلے جیسا فریش نہیں رہا تھا مگر اس کے اندر کی بیماریوں نے ابھی بھی اس کی جان نہیں چھوڑی تھی اور وہ اکثر بستر پر لیٹی رہتی تھی اور گھر کو کافی حد تک بشریٰ نے سنبھالا ہوا تھا۔

ایک دن عرفان گھر آیا تو حلیمہ کو بستر پر لیٹا دیکھا تو اس کا دل پھٹنے کو کیا اور وہ کمرے سے باہر چلا گیا اس نے لاہور کے مشہور ڈاکٹرز سے رابطہ کرنا شروع کر دیا جس میں معدہ سپیشلسٹ،ہارٹ اور کئی ڈاکٹرز موجود تھے یہ سب معاملے اس کے بجٹ سے باہر تھے مگر وہ حلیمہ کو ٹھیک دیکھنا چاہتا تھا۔ ایک دو دن میں عرفان نے ڈاکٹرز کی تفصیل اکھٹی کی اور رات کو حلیمہ سے کہا ” میں صبح سے تمہارا علاج شروع کروا رہا ہوں اور اس دفعہ میں تمہیں ٹھیک دیکھنا چاہتا ہوں” حلیمہ نے سن کر کہا

” آپ اب میری فکر کرنا چھوڑ دیں میں ٹھیک نہیں ہو سکتی” حلیمہ کی بات سن کر عرفان نے کوئی جواب نہیں دیا جب کہ اس کو حلیمہ کی بات کا بہت افسوس بھی تھا۔اگلے دن سے حلیمہ کا چیک اپ کروانا شروع کر دیا وہ باری باری اس کو ہر اس سپیشلسٹ کے پاس لے کر گیا جس کا اس کو کبھی نہ کبھی مرض رہتا تھا ڈاکٹر نے مہنگی فیسیں لینے کے بعد مہنگے ٹیسٹ کروائے عرفان لکیر کا فقیر بنتے ہوئے سب کام کروائے حلیمہ اس سارے ماجرے کو دیکھ رہی تھی وہ اپنے علاج کی مہنگی فیسیں ادا کرتی بھی دیکھ رہی تھی کاروبار چھوڑ کر اپنا دن رات حلیمہ کو دیا ہوا تھا ۔

ایک ایک کر کے عرفان نے سارے ٹیسٹ اکھٹے کیے اور ان کو ڈاکٹرز کو دکھایا سارے ٹیسٹ نارمل تھے کسی ٹیسٹ میں  کوئی مسٔلہ نہیں آیا صرف بلڈ پریشر کے علاوہ اس کا عرفان اور حلیمہ کو پہلے سے پتہ تھا۔ ہر ڈاکٹر نے ایک آدھی دوائی لکھ کر اپنی فیسوں کوحلال کیا جب عرفان کا مشن مکمل ہو گیا تو اس نے حلیمہ سے کہا۔

” دیکھو میں جتنا کر سکتا تھا میں نے کیا جتنا پیسہ میں خرچ کر سکتا تھا اس سے زیادہ کیا اب اگر تمہیں کوئی ٹھیک کر سکتا ہے تو وہ تم خود ہو” عرفان کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ حلیمہ ادھر بیٹھے اپنے آپ سے شرمندہ ہو رہی تھی۔ وہ شرمندہ تھی کہ اس کی محبت پیسوں کی محتاج ہے ، وہ شرمندہ تھی ہر اس پل کے لئے جس نے آج اس کو اس شرمندگی کے مقام پر پہنچایا کتنی دیر وہ اپنے آپ کو مجرم ٹہراتی رہی اپنے آپ سے کئی سوال پوچھتی رہی کہ کیا حاصل ہوا مجھے۔

اگلے دن حلیمہ بالکل بدل چکی تھی اس کی ساری بیماریاں جھڑ چکی تھی جیسے اس کو کوئی بیماری کبھی تھی ہی نہیں اور وہ بہت تیزی سے سارے کاموں کو مکمل کر رہی تھی۔ صبح ناشتے کے وقت حلیمہ اور بشریٰ دونوں مل کر ناشتہ بنا رہیں تھی اور ٹیبل پر جگ رکھتے ہوئے بشریٰ نے پوچھا۔

” امی طبیعت کیسی ہے؟” بشریٰ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” ہاں شکر ہے مجھے کیا ہونا میں بیماریوں سے تھوڑا ڈرنے والی ہوں” حلیمہ نے با رعب لهجے میں کہا۔

عرفان ٹی وی دیکھ رہا تھا اور حلیمہ کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا ” تو پھر کل جانا ہے ڈاکٹر پر ” عرفان نے اونچی آواز میں کہا۔ حلیمہ آواز سن کر ایک دم چونکی ” ڈاکٹر پر کیا کرنے جانا ہے مجھے نہیں ضرورت اب ڈاکٹر شاکٹر کی” حلیمہ نے صاف انکار کر دیا۔

عرفان نے حلیمہ کی بات سنی تو ایک زور دار قہقہ لگایا ان سارے لمحات پر جو اس نے حلیمہ کے ساتھ گزارے تھے اور ذہن میں کئی سوچ کئی خیال جگہ بنا رہے تھے کاش وہ سمجھ جاتی گزرے لمحے واپس نہیں آتے ، محبت پیسوں کی محتاج نہیں ہوتی بیمار انسان اتنی ساری بیماریوں سے نہیں ہوتا بس ایک خیال ہی کافی ہے بیمار ہونے کے لئے۔ میں کئی دفعہ تم سے بات کرنا چاہتا تھا اپنے دل کا احوال بیان کرنا چاہتا تھا مگر تم تو مجھے آزمانہ چاہتی تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے