سر ورق / ناول / چاند کو گل کریں…. عشناءکوثرسردار

چاند کو گل کریں…. عشناءکوثرسردار

چاند کو گل کریں

عشناءکوثرسردار

ہر اک سوال کا اس کو جواب کیا دیتا

اپنی ذات کا اس کو حساب کیا دیتا

جو ایک لفظ کی خوشبو نہ کر سکا محفوظ

میں اس کے ہاتھ پوری کتاب کیا دیتا

محبت کے اسرار و رموز ناسمجھ میں آنے والے ہیں۔ وہ اچانک میرے سامنے آ گئی تو میں سمجھ نہیں پایا تھا یہ محبت کا کون کا وصف ہے یا کون سا موڑ ہے۔ محبت میرے لیے ایک الجھی ہوئی پہیلی رہی جو مجھے عزیز تھی حد سے زیادہ…. مگر پھر دل جیسے اوب گیا تھا اور میں سب کچھ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں نے رشتے منقطع کرتے ہوئے سوچا نہیں تھا کہ کہاں کیا بکھرا اور ٹوٹا ہے۔ میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا، اور جب پلٹا تو میں حیران کھڑا تھا، وہ مکمل اعتماد سے میرے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے انداز سے کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا کہ میرا اس سے کوئی واسطہ کبھی رہا تھا۔ وہ نگاہ انجان تھی، یکسر لاتعلق، جیسے ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے۔ وہ بہت اعتماد سے مسکراتی ہوئی میرے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں کی روشنی میری آنکھ کو خیرہ کر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے کیا احساس ہوا، میں سمجھ نہیں پایا تھا۔

”کیا ہوا….! آپ اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟“ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور میں سنبھل کر نگاہ اس پر سے ہٹا گیا تھا۔

”اریج مصطفی کے اندر کتنے بدلاﺅ آئے ہیں، بالکل بدلی ہوئی لڑکی لگتی ہے۔“ میرے قریب بیٹھی فاطمہ جانے مجھے کیا جتانے کو مسکرائی۔

”اریج! تم اور خوبصورت ہو گئی ہو یار، کیا راز ہے، سنا ہے محبت انسان کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔ کہیں تم بھی محبت میں مبتلا تو نہیں….؟“ ثانیہ نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا اور کھلکھلا کر ہنس دی۔ اس کی ہنسی کی جلترنگ خوشنمائی لیے ہوئے تھی۔ ان میں موسموں کی تمازت نہیں تھی، اور میں اس کی سمت دیکھے بنا نہیں رہا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی دھوپ بھی نہیں تھی۔ وہ رنگ دہک رہا تھا آنکھوں کی چمک اتنی تھی کہ میرے اطراف روشنیا ںپھیلنے لگی تھیں۔ وہ کسی سے بھی عام نہیں لگ رہی تھی اور میں اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے شاید وہ خاص تاثر اس کے چہرے پر ڈھونڈنے لگا تھا۔

”ایشال حق! میں نوٹس کر رہی ہوں تم مسلسل اریج مصطفی کو گھورتے جا رہے ہو، ارادہ کیا ہے؟“ فاطمہ نے مجھے ٹہوکا مارا اور میں بدحواس سا اس پر سے نگاہ ہٹا گیا تھا۔

”شاید ایشال حق کوئی کھوئی ہوئی شے تلاش کر رہے ہیں۔“ ثانیہ کو شرارت سوجھی تو وہ مسکراتے ہوئے بولی اور میں نے ساری توجہ موبائل پر مرکوز کر دی۔ وہ میرے سامنے بیٹھی تھی میرے لیے اسے اگنور کرنا ممکن نہیں تھا۔ میں حیران تھا ایسا کیوں تھا، اس چہرے میں ایسا کیا تھا…. کیا تھا جو مجھے باندھ رہا تھا۔ میں جو رشتہ کل اپنے ہاتھوں سے توڑ گیا تھا…. آج اس میں یہ کیسی کشش تھی جو مجھے چونکا رہی تھی۔

”باقیات میں جو بچ جاتا ہے اسے محبت کہتے ہیں۔ ایشال حق! کہیں تمہیں محبت تو نہیں ہوگئی اریج مصطفی سے؟“ حمزہ مجھے چھیڑنے لگا اور میں اٹھ کر باہر نکل آیاتھا۔ جانے مجھے وہاں کھڑے کتنی دیر گزری تھی کہ کسی کی آہٹ سنائی دی، میں نے پلٹ کر دیکھا، وہ کافی کا مگ لیے کھڑی تھی۔

”مہمان نوازی کا تقاضا تھا آپ وہاں سے اٹھ آئے تو سب کو کافی سرو کی جا رہی تھی اور مجھے لگا آپ کو اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔“ اس نے اعتماد سے مسکراتے ہوئے کافی کا کپ میری طرف بڑھایا۔ میرے لیے اس کی طرف دیکھنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

”تھینکس! اگر تمہیں یاد ہو تو میں کافی زیادہ نہیں پیتا۔ اگر تم نہ بھی آتیں تو گزارا ہو جاتا۔“ میں بولنے میں کسی قدر کھردرا واقع ہوا تھا، مگر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔

”میرے آنے یا نہ آنے کا ذکر کیونکر لے کر بیٹھ گئے آپ؟ بات کافی کی کریں، کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ آپ انجوائے کریں۔ ویسے بھی مجھے یاد نہیں کہ آپ کو کیا پسند رہا ہے اور کیا نہیں۔ مجھے اماں کے رشتے داروں کو مہمان نوازی سے فیضیاب کرنا ہے، ان کو بُرا لگے گا اگر کسی کو نہ پوچھا تو….؟“ اریج مصطفی مسکرائی، اس کا لہجہ پُراعتماد تھا اور میں اسے خاموشی سے دیکھتا رہا تھا۔

ایسا کبھی ہوتا ہے کہ جس موڑ کو آپ کبھی پیچھے چھوڑ آئے ہوں غیر اہم جان کر وہی موڑ آپ کے سامنے آن کھڑا ہو اور آپ کو حیران کر کے آپ کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لے؟ میں نہیں جانتا کہ ایسا کسی اور کے ساتھ کبھی ہوا تھا کہ نہیں، مگر مجھے وہ لڑکی حیران کن لگ رہی تھی۔ وہ میرا گزرا موڑ تھی، میرا گزرا ہوا ایک غیراہم لمحہ اور میں اس لمحے کو آج اپنے سامنے کھڑا حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

ہوا تیز تھی اور اس کے بال اُڑتے ہوئے چہرے پر آ رہے تھے۔ وہ ہاتھ سے ان کو سمیٹتی ہوئی بے خبری سے پیچھے کرتے ہوئے مُڑنے لگی تھی جب میں نے بلاارادہ اسے پکارا۔

”اریج مصطفی….!“ اور وہ پلٹتے ہوئے یکدم رکی اور میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔ میں نے اسے روک تو لیا تھا مگر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں اس سے کیا کہوں۔ میں بدحواس سا اس کی جانب دیکھنے لگا جب وہ پُراعتمادی سے میری طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی۔

”کیا ہوا، کسی شے کی ضرورت ہے آپ کو؟“ وہ مجھ سے معمول کے مطابق ایسے بات کر رہی تھی جیسے اس کو میرے کسی فعل سے کوئی فرق کبھی نہیں پڑا ہو۔ میں نے جو رشتہ گزرتے لمحوں میں کبھی غیراہم جان کر توڑ دیا تھا وہ اس کے لیے جیسے اب معنی نہیں رکھتا تھا۔ مجھے آخری بار اس کی فون پر سنائی دینے والی آواز یاد تھی۔

”ایشال حق! آپ ایسا مت کریں۔ یہ رشتہ ختم مت کریں۔ بابا کو بہت تکلف ہو گی۔ وہ آپ سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں۔ میں جانتی ہوں بابا آپ کے لیے اہم نہیں جتنے میرے لیے ہیں، مگر ایک رشتہ احساس اور اُنسیت کا بھی ہوتا ہے۔ ان کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے ایسے میں اس رشتے کا ختم ہو جانا انہیں مزید توڑ ڈالے گا۔“ وہ اپنے بابا کو لے کر بہت فکرمند ہو رہی تھی۔ مگر میں نے کچھ کہے بنا کال منقطع کر دی تھی۔میں نے چاچی کو فون کیا اور اس رشتے کو ختم کرنے کی اطلاع دے دی تھی۔ میں نہیں جانتا تھا اس کے بعد اس رشتے کے ٹوٹنے کے کیا اثرات اس فیملی پر مرتب ہوئے، مگر میں نے سنا تھا کہ چاچا کی حالت بگڑ گئی تھی اور کچھ ہی دنوں بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ میں نے چاچا کی موت پر کوئی افسوس نہیں کیا تھا۔ اریج مصطفی سے بات کر کے کوئی معذرت نہیں کی تھی، میں جیسے اس نقصان کے لیے خود کو قصوروار نہیں سمجھتا تھا، بے حسی کی حد تھی۔ مگر میں نے ایسا کیا تھا، میں نے پلٹ کر دیکھنا مناسب نہیں جانا تھا۔ میرے لیے وہ بچپن کا طے کیا گیا رشتہ اسی قدر بے وقعت تھا، اتنا غیراہم کہ میں اس کے اثرات کے بارے میں کوئی غرض نہیں رکھتا تھا۔

میں آگے بڑھ چکا تھا۔ شکاگو میں میری زندگی تھی، میں تعلیم مکمل کر کے اپنے بزنس کا آغاز کر چکا تھا۔میری گرل فرینڈ ایلا میرے ساتھ تھی۔ میں نئے زمانوں کے رنگ ڈھنگ سیکھ کر پرانے طور طریقے بھول چکا تھا۔ ابا کی کال آئی تھی، انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا، مگر وہ جوان اولاد پر زبردستی کے قائل نہیں تھے۔ میں ابا کی ناراضگی کی خاص پروا نہیں کر رہا تھا۔ مجھے علم تھا میں لوٹوں گا تو ان کو منا لوں گا اور تمام چیزیں پھر سے معمول پر آ جائیں گے۔ مصطفی چاچا نہیں رہے تھے مگر میں ان کی موت کو اپنی غلطی نہیں سمجھتا تھا۔ میں وہ الزام اپنے سر لینے کو تیار نہیں تھا۔ مجھے ایلا سے محبت تھی۔ یہ محبت کتنی خودغرض تھی، میں نہیں سوچنا چاہتا تھا۔ مگر اس محبت کے لیے میں نے بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا تھا اور اس محبت سے زیادہ میرے لیے اس جگہ قدم جمانا ضروری تھا۔ میں وہیں یو ایس میں سیٹل ہونا چاہتا تھا تو میں نے ایلا کو شادی کی آفر کی، مگر وہ ماڈلنگ کیرئیر میں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی سو اس نے میری آفر کو یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیا کہ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو شادی ضروری نہیں۔ وہ آزاد فضاﺅں میں سانس لینے کی عادی تھی۔ اس کے والدین میں اس کے بچپن میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی مگر جیسے ہی اسے ماڈلنگ میں بریک ملا، وہ وہاں سے اس رشتے کو کہیں پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ آئی تھی۔ مجھ میں اور اس میں شاید یہی کامن تھا۔ وہ بھی اپنے رشتوں کو غیراہم جان کر آگے بڑھی تھی اور کہیں میں نے بھی رشتوں کی قدر نہیں کی تھی۔ میں ایلا کے ساتھ پانچ سال ریلیشن شپ میں رہا تھا مگر اس نے میری شادی کی آفر کو ہر بار سہولت سے ٹال دیا تھا۔ میرے جن دوستوں نے میرے ساتھ اسٹڈی ختم کی تھی ان کی زندگیاں آگے بڑھ چکی تھیں۔ ہر کسی کے چہرے پر خوشی اور اطمینان تھا اور میں ایلا کے ساتھ ایک غیرمتوازن زندگی گزار رہا تھا۔ شروع میں سب بہت دلکش و پُرکشش تھا۔ میں ایلا کا دیوانہ تھا، اس کے لیے پاگل تھا،میں نے گزشتہ رشتے کا کوئی بوجھ کاندھوں یا دل پر نہیں رکھا تھا مگر پھر اچانک مجھے سب بُرا لگنے لگا۔ کہیں کوئی خالی پن کھٹکنے لگا تھا۔ میں خود کو جتانا نہیں چاہتا تھا کہ ایک رشتے سے اوب کرمیںآج ایک دوسرے رشتے سے بھی اُکتا گیا تھا۔ مگر گزشتہ رشتے کو جس طرح میں نے خیرباد کہہ دیا تھا، اب ایلانے اس طرح اس رشتے کا اختتام کیا تھا اس سے قبل کہ میںاس سے کہتا کہ میں تھک گیا یا اُکتا گیا ہوں، ایک صبح وہ مجھ سے ناشتے کی ٹیبل پر بولی تھی۔

”مجھے لگتا ہے اس رشتے میں ایسا کچھ باقی نہیں رہا جس کو لے کر ہم آگے بڑھ سکیں، بہتر ہو گا ہم یہ رشتہ ختم کر دیں۔“ ایلا نے کہا تھا اور میری سنے بنا اٹھ کر وہاں سے چلی گئی تھی اور اس سے اگلے دن وہ نیویارک موو کر چکی تھی۔ جس رشتے کے لیے میں نے گزشتہ رشتہ پس پشت ڈالا تھا۔

مجھے یہ نہیں سوچنا تھا، میں نے سوچ لیا تھا کہ پلٹ کر نہیں دیکھنا۔ اس زمین پر پلٹ کر واپس نہیں جانا اور اس گزشتہ رشتے کی کوئی بات نہیں کرنی اور ایسا ہی ہوا تھا۔ ایلا کے جانے کے بعد میں نے ساری توجہ بزنس پر مرکوز کر دی تھی، مگر تبھی مجھے ایک دن واپس اس زمین پر لوٹنا پڑا تھا۔

فاطمہ کی شادی تھی اور اماں کا اصرار تھا میری اکلوتی بہن تھی اور میں اس بارے میں تعرض نہیں کر سکتا تھا، تبھی میں شادی میں شرکت کرنے واپس چلا آیا اور مجھے نہیں خبر تھی یہاں اس محاذ کا سامنا ہو گا۔ میں نے رشتہ ختم کر کے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا تھا کیونکہ مجھے غرض نہیں تھی کہ کیا ہوا یا اریج مصطفی کی زندگی پر کیا اثرات آئے یا آیا وہ آگے بڑھی یا اب بھی وہیں ہے۔ مجھے جیسے اس سے کوئی غرض نہیں رہی تھی، ایسا نہیں تھا کہ میں ہمیشہ اس رشتے سے اس قدر لاتعلق رہا تھا۔ اول اول مجھے ایک فطری کشش محسوس ہوئی تھی اس میں جب خبر ہوئی کہ وہ مجھ سے منسوب ہے میں کسی قدر اس کے قریب بھی گیا تھا، اسے جتایا بھی کہ وہ میرے لیے اہم ہے اور میں لوٹ کر اس کے پاس آﺅں گا۔ وہ عمر ان باتوں کے لیے وقف ہوتی ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ میں نے کئی وعدے اسے سونپے تھے مگر مجھے ان وعدوں کی وقعت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ جب میں اسٹڈی کے لیے بیرون ملک گیا تو تبھی سب کچھ سردخانے میں ڈال دیا تھا۔ مجھے غرض نہیں تھی کہ اریج مجھ سے یا اس رشتے سے کیا توقع رکھتی ہے۔ میں اس کی توقعات کے بارے میں سرے سے سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے اس لڑکی کے خوابوں اور اس کی خواہشوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ میں نے اسے کہیں پیچھے چھوڑ کر واپسی کا ہر دروازہ بند کر دیا تھا۔ مجھے خبرنہیں تھی ایک دن اس سے پھر سامنا ہو گا اور وہ مجھے اس طرح چونکا دینے والے انداز میں ملے گی۔ وہ کوئی کمزور لڑکی نہیں تھی، پڑھی لکھی، اپنے قدموں پر کھڑی تھی۔ اپنا کلینک تھا اس کا جہاں وہ پریکٹس کر رہی تھی۔ اس کی زندگی میں کوئی تھا کہ نہیں، میں اس سے غرض نہیں رکھتا تھا، مگر مجھے یقین تھا اس کے ساتھ کوئی نہیں۔ اگر اس کے ساتھ کوئی ہوتا تو وہ تنہا نہیں ہوتی۔ اگر وہ پُراعتماد دکھائی دے رہی تھی یا میرے سامنے اس درجہ اعتماد کا مظاہرہ کر رہی تھی تو صرف اس لیے کہ وہ خود کو کمزور یا تھکا ہوا ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھی۔

وہ اس ہار کو اپنی جیت بنانا چاہتی تھی اس کا اعتماد اس کی قلعی کھول رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا یہ محض مجھے دکھانے کے لیے ہے، مگر شاید ایسا نہیں تھا۔ وہ زندگی میں شاید پیچھے پلٹ کر دیکھنا نہیں چاہتی تھی یا گزرے ادوار کو ڈسکس کرنا نہیں چاہتی تھی، کیونکہ جب میں نے مصطفی چاچا کے بارے میں بات کرنا چاہی تبھی اس نے ہاتھ اٹھا کر مجھے بات کرنے سے روک دیا تھا۔

”میں اس بارے میں کوئی بات کرنا نہیں چاہتی، نہ اس بارے میں نہ ہی کسی گزشتہ وقت کے بارے میں۔ بہتر ہو گا آپ ماضی کی کوئی بات نہ کریں۔“ ا س نے میری طرف اس اعتماد سے دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا تھا اور میں کچھ مزید نہیں بول سکا۔

میں تھکا ماندہ، ٹوٹا بکھرا لوٹا تھا یا وجہ کوئی اور تھی، میں کیوں اس چہرے میں اس قدر دلچسپی لے رہا تھا؟ کیوں اس کا ذکر سن کر میرے قدم رک رہے تھے، اگر آج میں ایلا کے ساتھ شادی کر چکا ہوتا تو شاید میں اس طرح اس رشتے کو اہمیت نہیں دینا چاہتا، میرے لیے اریج مصطفی کسی قدر غیراہم ہوتی، اور غیراہم تو وہ اب بھی تھی۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا تھا یا اس کا ذکر سن کر چونک رہا تھا؟ میں نے قدم ٹیرس کی سمت بڑھائے، تبھی اس کے کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔

وہ فاطمہ کے ساتھ کھڑی کسی بات پر ہنس رہی تھی۔ اس کا چہرہ ایک عجیب دلکشی لیے ہوئے تھا اور میں جانے کیوں اس کی سمت تکتا رہا تھا، یہ کیا ہو رہا تھا، میری زندگی ناکامی کا باعث بن رہی تھی یا اس چہرے میں کوئی واقعی خاص بات تھی کہ میں ازسرنو اسے نہ چاہتے ہوئے بھی سوچ رہا تھا، اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلے اتنی متاثرکن تھی کہ نہیں، میں نہیں جانتا تھا،میں نے اسے غور سے نہیں دیکھا تھا۔ جو رشتہ ہم میں تھا اگرچہ وہ کشش کا باعث رہا تھا مگر مجھے ماننا پڑا کہ میں نے چیزوں کو وقتی طور پر لیا تھا، استعمال کیا اور جذبات کا سہارا لیا تھا۔ کوئی خوبصورت بات اگر کبھی اسے کہی بھی تھی تو اس کے رنگ گہرے نہیں تھے،جیسے کچے رنگ اس رشتے کے تھے اس سے کہیں زیادہ کچے رنگ میری باتوں کے تھے۔ اسے بارہا کہا تھا کہ اس سے مجھے محبت ہے، مگر وہ محبت کیسے اُڑن چھو ہوئی تھی اس کی حقیقت میں بھی جانتا تھا اور وہ بھی۔

کئی دلکش باتیں جو بے خبر لمحوں میں بے خبری سے کہی تھیں ان کی وقعت کچھ نہیں تھی۔ اریج مصطفی جانتی تھی کہ میں نے وقت کے ساتھ کھیل کھیلا تھا، سو اس نے پلٹ کر کوئی شکایت مجھ سے نہیں کی تھی، کوئی الزام مجھے نہیں دیا تھا اور کوئی تذکرہ برملا اس بارے میں دوبارہ نہیں کیا تھا۔ ہمارے درمیان شاید ایسا کچھ نہیں تھا کہ گزرے کل کی کوئی بات ہوتی۔ میں پشیمان نہیں تھا۔ مجھے کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں تھا اور وہ بھی شاید آگے بڑھ چکی تھی۔ اگر محبت ہوتی تو شاید وہ شکوہ کرنا چاہتی۔ میں نے جانے کیوں سوچا تھا، ٹیرس پر ایک طرف کھڑی وہ کھلکھلاتی ہنستی لڑکی کیا اسباب رکھتی تھی اپنے اندر؟ کیا وصف تھے جو خاص تھے؟ جو میں پہلے نہیں جان پایا تھا، بہت کچھ نیا کیوں لگ رہا تھا، اس میں جو باعث توجہ اور باعث حیرت میں اس رشتے کو لے کر کوئی احساس جاگتا میں اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔ یہ کوئی احساس ندامت یا پھر کوئی پچھتاوا تھا؟ میں نہیں سمجھ پایا، مگر اس شام جب میں اپنے کمرے میں تھا تو تادیر اس کے بارے میں سوچتا رہا تھا، شب بھر جاگتا رہا تھا اور نتیجتاً اگلے دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور اریج مصطفی میرے کمرے میں میرا حال پوچھنے کے ساتھ طبی معائنہ کرتی ہوئی مسکرائی تھی۔

”ایشال حق! اتنے کمزور ہو رہے ہیں آپ…. آپ کو متوازن غذا کی سخت ضرورت ہے۔ آپ کا بی پی خاصا لو ہے، اگر ایسے ہی کیئرلیس رہے تو آپ بیمار پڑ جائیں گے۔“ وہ نسخہ لکھتی ہوئی خاصی پروفیشنل اندازمیں مسکرائی اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب بٹھا لیا….وہ حیران ہوئی اور حیران تو میں خود بھی ہوا تھا میں نے ایسے کیسے کر دیا تھا؟ میرے دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا،میں خود نہیں جانتا تھا۔ وہ میری طرف حیرت سے دیکھنے لگی اور میں خود نہیں جانتا تھا میں اس سے کیا کہنا چاہتاتھا، تبھی سر جھٹکتے ہوئے بولا۔

”کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے ڈاکٹر اریج مصطفی؟“ میں نے پوچھا اور اس نے مجھے دیکھتے ہوئے سر انکار میں ہلا دیا۔

”نہیں مسٹر حق! پریشانی کی کوئی بات نہیں، شاید کچھ تھکاوٹ ہے آپ کو، میں کچھ دوائیں لکھ دیتی ہوں آپ شادی کی رسومات شروع ہونے تک چاق و چوبند ہو جائیں گے۔“ وہ مسکرائی۔

”مسزاریج مصطفی حق!“ میں نے بلاارادہ پکارا تھا اسے اور وہ پلٹ کر میری طرف دیکھنے لگی…. اس کی آنکھوں میں کوئی حیرت نہیں تھی، نہ وہ چونکی تھی۔ میں اسے دیکھ کر کچھ ندامت محسوس کرنے لگا تھا۔

”آئی ایم سوری! میں نے جو بھی دکھ یا تکلیف تمہیں دی۔“ میں نے کہنے کا قصد کیا تھا جب اس نے ہاتھ اٹھا کر مجھے روک دیا اور پُراعتمادلہجے میں بولی۔

”مسٹر حق! میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔“ اس کا لہجہ اتنا قطعی تھا کہ میں کچھ مزید نہیں کہہ پایا۔ وہ پلٹ کر کمرے سے نکل گئی اور جانے کیوں ایک نامعلوم بے چینی میرے اندر پھیلنے لگی تھی۔ یہ احساس کیا تھا، میں جان نہیں پایا تھا۔

محبت…. ندامت…. پچھتاوا یا کچھ اور، کچھ خبر نہیں تھی مگر جیسے میں اس کی طرف کھنچنے لگا تھا۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، رشتے داروں کی آمد سے ہجوم بڑھنے لگا تھا اور میں ان تمام کی پروا کیے بنا ایک دن اس کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔

”میں نہیں جانتا جو باقیات بچ جاتی ہیں وہ محبت ہوتی ہے یا نہیں، مگر اریج مصطفی میرے اندر ایک بے چینی پھیلنے لگی ہے اور اس کی وجہ تم ہو۔“ میں نے کسی کی پروا کیے بنا کہا…. سب اپنے معمول کے کاموں اور باتوں میں اس قدر مصروف تھے کہ کسی نے ہماری طرف دھیان تک نہیں دیا تھا۔

مگر اریج مصطفی گردن موڑ کر ان سب کی طرف دیکھنے لگی تھی جیسے اس سب کی بہت پروا ہو، پھر میری طرف دیکھتی ہوئی مدھم لہجے میں بولی۔

”میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ایشال حق! پلیز گزرے کل کی کوئی بات مت کرو۔ میں کچھ یاد رکھنا نہیں چاہتی۔“ وہ بہت مضبوط لہجے میں میری طرف دیکھتی ہوئی کہہ رہی تھی مگر میری بے چینی بڑھنے لگی تھی۔

”میرے اند عجیب محسوسات سر اٹھا رہے ہیں اریج، میں ان کو کوئی نام نہیں دے پا رہا۔ مجھے اندازہ نہیں ہوا اور نہ ہی کیا، مگر جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا۔ میں تمہارا مجرم ہوں اور….“ میں نے بولنے کا قصد کیا تھا جب وہ میری بات کاٹتی ہوئی بولی۔

”ہم میں کوئی رشتہ نہیں ہے ایشال حق! سو کسی باقیات کا سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ باقیات وہاں بچتی ہیں جہاں کوئی رشتہ استوار ہوتا ہے۔ تم آزاد تھے، آزاد ہو اور اپنی مرضی سے اپنے چنے گئے رشتوں کے ساتھ آرام سے آگے بڑھ سکتے ہو۔ یہ پچھتاوا نہیں ہے۔ اگر کوئی پچھتاوا ہوتا تو بہت عرصہ قبل تم اس کے لیے معذرت طلب کر چکے ہوتے۔ تمہیں کوئی احساس ندامت نہیں تھا، سو آج کے سب تذکرے فضول لگتے ہیں۔میں تمہیں ملامت کرنا نہیں چاہتی، کوئی الزام دینا نہیں چاہتی، سو تم کسی سزا کے حقدار بھی نہیں ٹھہرتے۔ لیکن پلیز یہ سب دوبارہ شروع مت کرو۔“ وہ قطعی لہجے میں بولی۔

”مگر کیوں نہیں…. مجھے پچھتاوا ہے تو میں پچھتاوے کی بات کر رہا ہوں اریج مصطفی! پلیز لسن می! ایک بار سکون سے میری بات سنو، میں یہ نہیں کہتا مجھے تم سے کوئی طوفانی قسم کا عشق ہوا تھا۔ اب بھی جو ہے وہ کوئی طوفانی قسم کا عشق نہیں ہے، مگر….“ میں کہتا ہوا ایک الجھن کے ساتھ رکا پھر روانی سے بولا۔

”کیا مجھ سے پھر رشتہ استوار کرو گی؟“ اور وہ مجھے شدید حیرت سے دیکھتی رہی۔

”وہاٹ….!“ جیسے اس کے لیے یہ سوال غیرمتوقع تھا اور میں اس کی پروا کیے بنا بولا۔

”میں تم سے معذرت کرنا چاہتا تھا اریج…. مجھے ان گزرے لمحوں میں واقعی پچھتاوے نے آن گھیرا تھا۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی…. اب میں ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ پلیز مجھے ایک موقع دو۔“ میں مدہم لہجے میں بولا اور اس نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے سر انکار میں ہلا دیا…. میں نے بے چین ہو کر اس کاہاتھ تھام لیا۔ میں خود اپنے رویے پر حیران تھا مگر جیسے میں اسے کھونا نہیں چاہتا تھا، میں ایک موقع چاہتا تھا، اس کے ساتھ کے لیے اور اپنے کیے گئے تمام رویوں کا ازالہ کرنے کے لیے، مگر وہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی اور پھر مدہم لہجے میں بولی۔

”وقت آگے بڑھ جائے تو لوٹ کر واپس پیچھے نہیں آتا ایشال حق! تم جس موڑ سے آگے بڑھ گئے تھے اس موڑ سے آگے کئی راستے تھے اور انہی راستوں پر چلتے ہوئے میں آگے بڑھ گئی تھی اور انہی گزرتے دنوں میںحمزہ نے مجھے احساس دلایا تھا کہ میں کس قدر اہم ہوں۔ تمہیں حیرت ہو گی تمہارا چھوٹا بھائی حمزہ تم سے کہیں زیادہ مختلف اور سمجھدار ہے۔مجھے اس پر اعتبار نہیں کرنا تھا، مگر گزرے وقت کے ساتھ اس نے میرا اعتماد جیت لیا اور کل شام جب اس نے مجھے پروپوز کیا میں اسے انکار نہیں کر سکی، میں وقت کے بہاﺅ کے ساتھ بہتے ہوئے دانشمندی سے چلنے والوں میں سے ہوں۔ مجھے یقین ہے میں نے حمزہ پر اعتبار کر کے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا۔“ وہ ایک حقیقت کا انکشاف کرتی ہوئی بولی اور میں شدید حیرت سے اسے دیکھتا رہا۔

”تمہیں حمزہ سے محبت کیسے ہو سکتی ہے….؟“ تمہیں مجھ سے محبت تھی نا؟“ میں نے جانے کیا سوچ کر کہا اور وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔

”مجھے تم سے محبت نہیں تھی اور اس کا احساس تم نے مجھ کرا دیا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ مجھے حمزہ سے محبت ہے، مگر میں اس پر اعتبار کر سکتی ہوں۔ مجھے یقین ہے وہ مجھے کسی موڑ پر دھوکہ نہیں دے گا۔“ اس کے لہجے میں یقین بول رہا تھا اور میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے آہستگی سے میرے ہاتھ کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالا اور آگے بڑھ گئی۔ میں اس لمحے بت بنا کھڑا تھا۔ یہ کیا ہوا تھا، میرے لیے حیران کن تھا۔ میں نے ایسا نہیں قیاس کیا تھا، کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک بار میں اس رشتے کو منسوخ کر کے آگے بڑھ جاﺅں گا تو دوبارہ اس رشتے سے اپنی زندگی کا ناطہ پوری شدت کے ساتھ جوڑنا چاہوں گا، ایسا میری خواہشوں میں کیا اُبال آیا تھا کہ میں ایسی خواہش کرنے لگا تھا، اس رشتے کو بنانا اس رشتے کو دوبارہ شروع کرنا میری خواہشوں میں کیوں در آیا تھا؟ میں نہیں جانتا تھا مگر اس کے آگے بڑھ جانے سے میرے اندر ایک سناٹا پھیل رہا تھا۔ اردگرد کا منظر تاریکی میں لپٹا دکھائی دیا تھا۔ میں نے کیا، کیا تھا اس لمحے کا اظہار کیا معنی رکھتا تھا؟

اور اظہار کر کے کیا ملا تھا؟ اب جو ندامت در آئی تھی وہ اس ندامت سے کہیں زیادہ تھی جو کبھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ میری پابند نہیں تھی۔ اسے میرا انتظار کرنا واجب نہیں تھا، یا اس کو میرے دوبارہ پروپوز کرنے پرقبول کرنا جائز تھا۔ اس کی زندگی تھی،اس کے فیصلے تھے، مگر اس طرح کیوں محسوس کر رہا تھا کہ میں ہار گیا ہوں؟ کل جب میں نے اس رشتے کو کہیں پیچھے چھوڑ ا تھا تو میرے اندر ایسے محسوسات کیوں نہیں تھے؟ وہ اپنی زندگی کے فیصلے لینے میں حق بجانب تھی مگر حمزہ کو چننا؟میرے چھوٹے بھائی کو، مجھے یہ اپنی مردانہ اَنا پر تازیانہ بن کر لگتی محسوس ہوئی تھی۔ مگر میں یہ ڈیزرو کرتا تھا، جب میرے اطراف رونقیں تھیں، رنگارنگی تھی تو میں نے چمکتے چاند کو گل کیا تھا، میں نے نہیں دیکھا تھا کسی کے دل پر کیا گزری یا کسی کو کتنا ملال ہوا، رنج ہوا،میں نے وصال کی جلتی شمعوں کو گل کیا تھا۔

امید کی ہر روشنی بجھا دی تھی۔ اگر آج چاند گل ہو گیا تھا تو میں اتنا نڈھال کیوں تھا؟ مجھے مان لینا چاہیے تھا کہ جب وصل میسر تھا تو میں خودی کے زعم میں تھا۔ مجھے گمان نہیں تھا کہ یہ وصل نہیں رہے گا تو صرف تاریکی ہو گی۔ مگر آج میری مردانہ اَنا اس بُری طرح ہرٹ ہوئی تھی کہ مجھے اس تاریکی میں وحشت ہو رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف نگاہ کی تھی۔

وہ دور کھڑی حمزہ کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔ جانے کیا سوچ کر اس نے میری طرف دیکھا…. اس کی نگاہ میں میرے لیے ملال صاف دکھائی دیا تھا۔ وہ میرے لیے ہمدردی رکھتی تھی۔ میرا ہرٹ ہونا اسے بُرا لگا تھ۔ وہ افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔

اس کی آنکھیں میرے لیے اُداس تھیں۔

کیسی عجیب لڑکی تھی وہ….

اتنا سہہ کر بھی مجھے ہمدردی کی خیرات دے رہی تھی۔ مجھ سے اسے نفرت کرنا چاہیے تھی مگر وہ میرے لیے اُداس دکھائی دی تھی، جیسے اس کی آنکھیں کہہ رہی تھیں آگے بڑھو، لوٹ جاﺅ نیا راستہ تلاشو، نئی منزل کی طرف گامزن ہو جاﺅ، یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں۔ مگر میرے قدم زمین چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ محبت کی باقیات اثرپذیر تھیں۔ میں آگے نہیں بڑھ سکا تھا ور وہ پلٹ کر چلتی ہوئی حمزہ کے ساتھ آگے بڑھ گئی تھی۔

اسے آگے بڑھ جانا چاہیے تھا۔ میں اس کے لیے خوش ہونا چاہتا تھا مگر میں ایسا کوئی احساس اپنے اندر محسوس نہیں کر رہا تھا۔

ض……..ض……..ض

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے