سر ورق / ناول / ناول ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد ..  قسط نمبر5 ۔

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد ..  قسط نمبر5 ۔

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

 قسط نمبر5 ۔

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!

جو لفظ کہوں وہ ہو جائے۔۔

بس”اشک“ کہوں تو،

اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے۔۔

مَیں”آ“ لکھوں،

تُو آ جائے۔۔

میں ”بیٹھ“ لکھوں،

تُو آ بیٹھے۔۔

مرے شانے پر سر رکھے تو،

مَیں”نِیند“ کہوں،

تُو سو جائے۔۔

میں کاغذ پر”تِرے ہونٹ“ لکھوں،

تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے۔۔

میں”دِل“ لکھوں،

تُو دِل تھامے۔۔

میں”گُم“ لکھوں،

وہ کھو جائے۔۔

تِرے ہاتھ بنا¶ں پینسِل سے،

پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں۔۔

کُچھ”اُلٹا سِیدھا“فرض کروں،

کُچھ”سِیدھا اُلٹا“ہو جائے۔۔

میں”آہ“لِکھوں،

تُو ”ہائے“ کرے۔۔

”بے چین “ لکھوں

بے چین ہو تو۔۔

پھر میں بے چین کا ”ب“ کاٹوں

تجھے چین ذرا سا ہوجائے۔۔

ابھی ”ع“ لکھوں،

تو سوچے مجھے۔۔

پھر ”ش“ لکھوں،

تیری نیند اڑے۔۔

جب ”ق“ لکھوں ،

تجھے کچھ کچھ ہو۔۔

میں ”عشق“ لکھوں۔۔۔تجھے ہوجائے!!!!

صبح کی دھوپ نرم اور دل کو سکون دیتی تھی۔ گورنمنٹ کالج کی شکستہ عمارت کو گھیرے برسوں پرانے چوڑے تنوں والے بے شمار درختوں سے اوائل گرما کے سورج کی کرنیں چھن چھن کر آرہی تھیں۔ کالج کے اندر باہر اس پل بے چینی اور اضطراب نمایاں تھا۔ طالبات کے چہروں پہ لکھا خوف ان کے اندر دھڑکتی بے یقینی کو ظاہر کرتا تھا۔ لڑکیاں اس پل گروہوں کی شکل میں کھڑیں اپنے اپنے پرچے کے متعلق تبادلہِ خیال کر رہی تھیں۔ سر پہ سیاہ چادر اوڑھے اپنا سوالنامہ سلیقے سے تہہ کرتی وہ سبک رفتاری سے کالج کی عمارت سے باہر نکلی۔ نظر اٹھا کر عادتاََ اردگرد کا جائزہ لیا پر ایک مقام پہ جا کر نگاہ ٹھہر گئی۔شناسائی کی رمق کے بعد آنکھوں میں تحیر ابھرا اور اگلے ہی پل ہونٹوں کو دھیمی سی مسکراہٹ نے چھوا۔ سیاہ گاڑی سے ٹیک لگائے وہ اسی کی کو دیکھ رہا تھا۔ بلا توقف قدم اس کی جانب بڑھنے لگے۔

”آپ ۔یہاں۔اسوقت؟“ ایک بے ربط سا جملہ تھا جو اس بات کا غماز تھا کہ وہ اسے وہاں موجود پاکر متحیر و مضطرب ہے۔

”پیپر کیسا ہوا؟“ سیاہ پینٹ اور سفید قمیض میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح نکھرا نکھرا سا تھا۔ سینے پہ ہاتھ باندھے اس کے برعکس انتہائی پر اعتماد اور کمپوزڈ۔

”اچھا ہوگیا“۔ فاطمہ نے تیقن سے کہا۔

”گڈ۔“۔ اس کے ہاتھ سے سوالات کا پرچہ لیتے پوچھا گیا تھا۔

” آج آخری پرچہ تھا نا“۔ فاطمہ نے مزید کہا وہ سر جھکائے سوالات پڑھ رہا تھا۔

”گھر میں سب خیریت ہے“۔ پرچہ واپس لوٹاتے اس نے پوچھا۔ اس دن کے بعد آج پہلی بار فاطمہ کا ڈاکٹر زبیر سے سامنا ہورہا تھا۔ اس تمام عرصے میں کئی بار چاہ کر بھی وہ اس کا شکریہ ادا کرنے نہیں جا پائی تھی۔ ہمت ہی نہیں ہوتی تھی اسے فیس کرنے کی پر احسان کا بوجھ تھا کہ کندھے جھکائے جاتا تھا۔ آج اگر وہ عزت سے اپنے امتحانات دے رہی تھی تو فقط زبیر کی بدولت جسے اللہ نے ان دگرگوں حالات میں ان کا مسیحا بنا کر بھیجا تھا۔

”حالات تو بس ویسے ہی ہیں“۔ اس نے یاسیت سے کہا۔ تمام جہان کی شرمندگی ان چند لفظوں میں سمٹ گئی تھی۔

”آگے کیا ارادہ ہے اسٹڈی جاری رکھو گی یا پھربس حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دو گی؟“ وہ اپنے سامنے کھڑی اس معصوم لڑکی کو اس سے زیادہ اذیت میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا سو موضوع تبدیل کر دیا گیا۔

”میں پڑھنا چاہتی ہوں۔ بہت زیادہ پڑھنا چاہتی ہوں ڈاکٹر صاحب اور میں حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پہ تیار نہیں“۔اس کا لہجہ پرعزم تھا۔ پراعتماد اور دو ٹوک، ہوا کے مخالف چلنا مشکل ہے پر ناممکن نہیں اور وہ اس ناممکن کو ممکن بنانا چاہتی تھی۔

”یہ تو بہت اچھی بات ہے، میری تمام نیک خواہشات تمہارے ساتھ ہیں اور اگر کسی بھی قسم کی مدد درکار ہو تو بلا جھجک مجھ سے کہہ دینا“۔ جواب خوشدلی سے آیا تھا۔ اپنی شخصیت کی طرح اس کا لہجہ بھی توجہ بٹورتا تھا اور فاطمہ اس کی پرکشش شخصیت اور دلکش لب و لہجہ سے بری طرح متاثر ہورہی تھی۔

”آپ نے تو بناءکہے بھی میرے لئے وہ سب کردیا ہے کہ شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ بہت محنت کی تھی میں نے پچھلے دو سالوں میں۔ دن رات ایک کرکے امتحانات کی تیاری کی تھی اور اس طرح اچانک ۔۔۔وہ سب۔۔۔اگر آپ عین وقت پہ میرا داخلہ فارم جمع نہ کرواتے تو میری ساری محنت ساری کوشش رائیگاں چلی جاتی“۔اسے وہ وقت یاد آیا جب اپنا سگا باپ اس کے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر ساری جمع پونجی لے اڑا تھا۔ ماں کے زخموں پہ روتی وہ اپنے داخلے پہ تو فاتحہ پڑھ چکی تھی ۔ بس ایک یہی خواب دیکھنے کی جسارت کی تھی اس کی غریب آنکھوں نے کہ وہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پہ کھڑی ہوجائے اور کیا ستم کہ پہلی سیڑھی پہ قدم دھرتے ہی سیڑھی کھینچ لی گئی تھی ۔ آج اگر وہ خواب، یقین کا سفر کررہا تھا تو سامنے کھڑے اس فرشتہ صفت انسان کی بدولت تھا جس نے کوئی تعلق نہ ہوکر بھی انسانیت کا بھرم رکھا تھا ۔

”محنت اور کوشش کسی کی بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ لگن سچی ہو تو اللہ منزلیں آسان کردیتا ہے“۔دھوپ میں اس کا وجود سنہری لگ رہا تھا۔ گاڑی سے کمر ٹکائے وہ بغور ان بھوری آنکھوں کو دیکھ رہا تھا جہاں آج وحشت نہیں تھی۔ اس چاندی سے بنے مجسمے کے چہرے پہ خوف کے سایے نہیں تھے۔ وہ پہلی بار پرسکون تھی اور اسے فاطمہ کا سکون ایک انجانی سی فرحت دے رہا تھا۔

”پر اللہ نے آپ کو ہمارا مددگار بنا کر بھیجا، آپ کا احسان تاعمر رہے گا مجھ پر“۔ وہ اس کی زندگی میں آنے والا پہلا شخص تھا جس نے مردوں کے متعلق اس کی سوچ کو تبدیل کیا تھا۔ وہ جس معاشرے اور جس خاندان کا حصہ تھی وہاں مرد حکمران بن کر فقط استحصال کرتا رہا تھا۔ زبیر سے مل کر اسے احساس ہوا تھا مرد حکمران ہی نہیں ضامن بھی ہوتا ہے۔ ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ گھر کی چھت اور دروازہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کم عمری میں وہ اس کاپہلا کرش بن گیا تھا۔ وہ اسے بری طرح آئیڈئلائز کرنے لگی تھی ۔ جانے انجانے وہ اس کی سوچوں کا حصہ بنتا جارہا تھا۔

”میں نے کوئی احسان نہیں کیا ہاں اگر یہ تمہیں احسان لگتا ہے تو وقت آنے پر میری مدد کرکے اتار دینا“۔ زبیر نے بہت آسانی سے اسے اس بوجھ سے نجات دی تھی۔

”میں بھلا کہاں اس قابل ہوں کہ آپ کی مدد کرسکوں“۔وہ دھیما سا مسکرائی۔

”ان شاءاللہ وہ وقت بھی جلد آجائے گا پھر اس وقت ضرور مدد کرنا میری“۔ اس کا لہجہ عام سا تھا پر فاطمہ کو لگا جیسے وہ کوئی وعدہ مانگ رہا ہے۔ وہ کچھ بھی نہ کہہ پائی ۔ کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔ ویسے بھی کل کس نے دیکھا تھا جو تھا آج تھا اور ابھی تھا۔ جانے کل کا دن کس انداز میں طلوع ہو اور کبھی جو فاطمہ کا شمار کسی گنتی میں ہونے لگا تو کسے معلوم ڈاکٹر زبیر اس وقت کہاں ہو۔

”آج سے میری چھٹیاں شروع ہورہی ہیں ،سوچا گھر چکر لگا لوں۔بابا سے ملے بہت وقت ہوگیا ہے۔ “اسے سوچوں کے بھنور سے زبیر کی گھمبیر آواز نے نکالا تھا۔

”آپ جا رہے ہیں؟“وہ چونکی۔

”ہاںایک مہینے کے لئے، کل صبح نکلوں گا ۔گھر گیا تو وہاں کوئی نہیں تھا اسی لئے یہاں پوچھنے آگیا ایگزامز کا۔“ جانے کیوں دل بجھ سا گیا تھا اس بات کو سن کر۔ حالانکہ وہ کون سا ان سے ہر وقت ملتا تھا اب بھی یہ سامنا مہینوں بعد ہورہا تھا پر وہ اس شہر میں تھا تو ایک اطمینان سا تھا۔ امید کا دیا روشن تھا کہ کوئی ہے جسے وقت آنے پہ پکارا جاسکتا ہے۔اس نے اب تک ظلم دیکھا تھا کچھ عرصے سے اس کا واسطہ ایثار سے پڑ رہا تھا اور یہ سب اچھا لگنے لگا تھا۔

”امی کو میرا سلا م کہنا اور اپنا خیال رکھنا ۔ میں چلتا ہوںپھر واپس آکر تمہارے پاس ہونے کی خبر بمعہ مٹھائی وصول کروں گا“۔ فاطمہ مسکرائی۔زبیر نے بھی مسکرا کر الوداع کہا اور اپنی گاڑی دوڑاتا آن کی آن میں نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ فاطمہ نے بھی گھر کی راہ لی اور اس پل وہ دونوں ہی اس بات سے بے خبر تھے کہ آنے وا لے دنوں میں ان کی زندگی میں کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ یہ لمحے جو آج لبوں پہ مسکراہٹ بکھیرتے رخصت ہوئے ہیں پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ زندگی پھر کبھی پہلے جیسی نہ ہوپائے گی۔

٭….٭….٭

رات کی سیاہی میں ڈوبی انصاری ہاو ¿س کی پرشکوہ عمارت کا طلسم اس پل جوان تھا۔ کھانے کے بعد عادتاََ سب لاو ¿نج میں جمع تھے اور سمیر کی کمی کو بری طرح محسوس کیا جارہا تھا۔ وہی روزمرہ کی گفتگو، حالاتِ حاضرہ پر بات چیت ۔۔۔پرکہیں سے بھی شروع ہوتی گھوم پھر کر سمیر تک پہنچ جاتی۔ اس تمام گفتگو میں اگر کوئی خاموش تھا وہ علینہ تھی۔ ان سب سے لاپرواہ ، ان سب سے انجان وہ سن کر بھی ان سنا کر رہی تھی۔ پچھلے چند دنوں میں حالانکہ وہ اس گھر کے مکینوں سے مناسب تعلقات استوار کرچکی تھی اور پھر آج صبح نانی کے فون نے اس کی ساری پریشانی ختم کر دی تھی۔ اپنی ماں کی طبیعت میں بہتری کا سن کر جیسے اتنے دنوں کا رکا ہوا سانس بحال ہوگیا تھا پر اس وقت وہ تمام گفتگو اسے بور کر رہی تھی۔ فریحہ کی تان بس ایک بھائی پہ جا کر ٹوٹتی تھی تو وہ دونوں میاں بیوی گھنٹے گن رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا سارا خاندان اس ایک شخص کے لئے آنکھیں بچھائے بیٹھا ہے اور علینہ کو اس سے خوامخواہ کی چڑ ہوگئی تھی۔ (منہ بھی تو اتنے زور سے دبایا تھا اس بدتمیز نے اگر مر جاتی تو) اس نے تڑپ کر سوچا تھا۔ تقریباََ گیارہ بجے سب اپنے اپنے کمروں میں گئے تو اس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ پتا نہیں اس کی موجودگی میں یہ شو کیسا ہوگا جس کی غیر موجودگی میں بھی وہ اس قدر اہم تھا۔ ان تین دنوں میں اسے لگتا تھا وہ یقینناََ اس بندے پہ کتاب لکھ سکتی ہے ۔ سب کے ساتھ وہ بھی چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ گھر کے ہر فرد نے اس کی خاموشی اور سنجیدگی کو محسوس کیا تھا کہ یہ اگنور کرنے والی بات نہیں تھی پر یہ بھی سچ تھا دو تین دن میں کون کسی سے گھلتا ملتا ہے ۔ نور انصاری اس کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فکرمند تھیں۔ اس کی چپ، اس کا خوف، اس کی جھجک۔۔۔وہ ہجوم میں اجنبی تھی ۔وہ ان کی ذمہ داری تھی اور اس کے لئے ان کا تفکر فطری تھا ۔ کمرے میں آکر وہ خود کو اس ذکر سے روک نہ پائیں۔

”ایک مکمل خاندان بچوں کی شخصیت پہ کتنا مثبت اثر ڈالتا ہے اور ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کے بچے کتنے نامکمل اور غیر محفوظ ہوتے ہیں“۔وہ دونوں اسی کا ذکر کر رہے تھے۔

”اللہ اس بچی کے نصیب اچھے کرے لیکن بہت ڈپریس اور بجھی بجھی سی رہتی ہے۔ نہ زیادہ بات چیت کرتی ہے نہ ہی اسے مسکراتے دیکھاہے“۔ ڈاکٹر انصاری کو بھی علینہ کا رویہ الگ لگا تھا ۔ اس کے خالی پن کو انہوں نے بھی محسوس کیا تھا۔

”شاکرہ آنٹی تو کہہ رہیں تھیں بہت ضدی اور بدتمیز ہے لیکن مجھے تو وہ بہت معصوم لگی۔ پتا نہیں کیوں مجھے اس میں اپنا عکس نظر آتا ہے“۔جانے سے پہلے بھی شاکرہ نے ایک لمبا لیکچر دیا تھا جسے علینہ نے سر جھکا کر سنا تھا۔ ان پہ جو پہلا تاثر علینہ کا پڑا تھا وہ یہی تھا پر اس سب کے برعکس وہ انہیں بہت دھیمے مزاج اور سلیقے والی لگی۔ بلکہ وہ تو بات چیت ہی اتنی کم کرتی تھی اس نے بدتمیزی کیا کرنی تھی۔

”تم ہر بار وہیں کیوں پہنچ جاتی ہو جہاں سے میں تمہیں سالوں سے نکالنا چاہ رہا ہوں“۔ساری بات سن کر انصاری صاحب اس آخری جملے پہ اٹک گئے تھے۔ ان کا انداز شکوہ کناں تھا۔ ایک تنبیہہ تھی جو اس پل موضوعِ گفتگو بدل رہی تھی۔

”اپنی بنیاد کون بھولتا ہے بھلا۔ “بیگم انصاری یاسیت سے بولیں پر اگلے ہی پل سنبھل کر انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کی۔

”لیکن میرا وہ مطلب نہیں تھا، پتا نہیں کیوں اس کے پاس سے بہت اپنی سی مہک آتی ہے۔ جیسے اس سے گہرا تعلق ہے“۔وہ گہری سوچ کے حصار میں تھیں۔ بہت سے چہرے اس پل نگاہوں کے سامنے تھے۔ بھولی بسری یادوں کا ایک ہجوم تھا جو ماضی کے جھرونکوں سے سر نکالے جھانک رہا تھا۔ وہ ان دریچوں پہ کواڑ ڈالے سالوں سے بس اپنے حال میں جی رہی تھیں پر آج بھی موقع پاکر وہ کسی بھوت کی طرح سامنے آجاتے تھے اور ان کا چین سکون غارت کردیتے تھے۔ کیا تھا جو ماضی کی طرح یہ بھوت بھی پیچھا چھوڑ دیتا۔ وہ لمحے جو زندگی سے جاچکے تھے کیوں ڈرانے پلٹ آتے تھے جن پہ صبر آیا تھا چین نہیں۔

”کبھی ہمارے تعلق پہ بھی غور کرلیا کریں محترمہ“۔ڈاکٹر انصاری کی شوخ آواز پہ چونک کر وہ اس خوبصورت حال میں لوٹ آئی تھیں جہاں محبوب شوہر ، جان سے پیاری تابعدار اور لائق اولاد ، دولت ، شہرت اور عزت ان کی منتظر تھی۔

”کیا مطلب“۔وہ سمجھ نہیں پائیں تھیں جیولری اتارتے ان کا انداز سرسری تھا۔

”دیکھیں آپ کی تھوڑی سی بے پرواہی سے بیمار ہوگئے ہم“۔انصاری صاحب کے جملے سے وہ اچھی خاصی محظوظ ہوئی تھیں ۔

”وہ بیمار آپ اپنی بد پرہیزی کی وجہ سے ہوئے ہیں ۔ جو مجھ سے چھپ کر پچھلے دنوں میٹھا اڑایا جارہا تھا ۔ اب سے فریج کو لاک لگا کر رکھوں گی“۔لب دبائے شرارت سے کہا گیا تھا۔

”بڑی ظالم ہو یار“۔دوسری جانب احتجاج ہوا تھا۔

”اچھا اور آپ ظالم نہیں، جان نکال دی تھی میری آپ نے اس رات۔۔۔۔“اس بار آواز میں بے تحاشہ خوف تھا۔ اس شخص کی اہمیت کوئی ان سے پوچھتا ۔ دنیا کے لئے سائبان ایک لفظ تھا نور اس کا مفہوم جانتی تھیں۔اللہ کے بعد اس دنیا میں ان کا نگہبان اور دوست جس نے ان کی زندگی کے ہر کانٹے کو پلکوں سے چنا تھا۔ آج اگر راہوں میں پھول ہی پھول تھے تو یہ اس شخص کی بدولت تھا جس نے اپنے وعدے کی لاج رکھی تھی۔

”جان تو برسوں ہوئے آپ کی نذر کرچکے۔“ان کی سنجیدگی کو انصاری صاحب کی آواز نے توڑا ۔ وہ بس مسکرائی تھیں۔

”شرم کریں بچے بڑے ہوچکے ہیں“۔انہوں نے جتایا۔

”لیکن ہم تو بڑے نہیں ہوئے یار۔ ابھی تو ہمارے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں“۔وہ بے ساختہ ہنسیں۔

”جب آپ سے پہلی بار ملی تھی تو مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا آپ اتنے غیر سنجیدہ انسان ہیں“۔اس بار لہجہ شرارتی تھا۔

”اب سرورق سے کہاں پتا چلتا ہے کتاب کس نوعیت کی ہے۔ویسے اگر تمہیں معلوم ہوتا تو کیا کرتی؟“وہ بیڈ کراو ¿ن سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ نور ان کے پاس آبیٹھیں۔

”کرنا کیا تھا، میرے پاس دوسری کوئی آپشن تھی کہاں۔اور ہوتی بھی تو آپ میری پہلی اور آخری چوائس ہوتے“۔انداز دو ٹوک تھاجو انصاری صاحب کے لبوں پہ تادیبی مسکراہٹ بکھیر گیا۔

٭….٭….٭

”محبت“ ۔۔۔اس چار حرفی لفظ کو سن کر دل عجیب سے احساس میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو دل سے روح تک طوفان برپاءکر دیتا ہے۔ایک ایسا مرض جو لگ جائے تو لاعلاج ہے۔ ایک ایسی حقیقت جو ازل سے ہے اور ابد تک ہوگی۔ کسی کی تو خوشیوں سے جھولی بھر دے کہ دامن کم پڑ جائے اور کہیں دل کو اجاڑ کر روح کو بنجر کر ڈالے۔ جو خالق سے ہو تو جنت کا سفر آسان ہوجائے لیکن اگر مخلوق سے ہوجائے تو زندگی پل صراط بن جائے ۔بظاہر اس سادہ سے چار حرفی لفظ نے ایک عالم کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے ۔ ”م“ سے مجبور کر ڈالتی ہے ۔۔۔”ح“ سے حسرت بنا دیتی ہے۔۔۔”ب“ سے محبوب کا بت تراش لیتی ہے اور ”ت“ سے تلوار کی دھار پہ چلاتی ہے۔۔۔یہ سب کی جھولی میں پھول بن کر نہیں گرتی ہے۔ کسی کسی کو یہ آزمائش بن کر بھی ملتی ہے جہاں وقت و حالات جذبوں کی سچائی کا فیصلہ لکھتے ہیں کہ کہیں یہ نخلستان فریبِ نظر تو نہیں جو صحرا کی ریت پانیوں کا سراب لگ رہی ہے۔ وہ دونوں بھی تعلق کی اس ڈور میں الجھے تھے جسے زبانِ عام میں محبت کہا جاتا ہے۔ سالوں سے زندگی اس اعتراف کے ساتھ گزر رہی تھی لیکن بس ایک لمحے نے ان کے تعلق پہ سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔ بے چینی یک طرفہ تھی نا ہی بے قراری اور بدگمانی بھی ساتھ چل رہی تھی۔ اگر فریحہ کے دل پہ چوٹ لگی تھی تو سکون فارس کو بھی نہیں مل رہا تھا۔ اب تک وہ اس رشتے کو فقط ایک معنی سے دیکھتا رہا تھا۔۔۔مستقبل۔ اسے فریحہ کی اپنی زندگی میں شمولیت اور بہتر مستقبل دونوں درکار تھے ۔ وہ ملتی تو سب کچھ مل جاتا لیکن اب اسے ان دونوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا ۔

”فارس میری بات سنو“۔دو دن سے ان کی بات نہیں ہوئی تھی۔ ناراض اگر فارس تھا تو خفا فریحہ بھی تھی لیکن اب وہ خود پہ مزید بند نہیں باندھ پائی تھی۔

”اب مزید کچھ کہنا باقی ہے“۔وہ خفا تھا، انداز اکھڑا اکھڑا اور جتاتا ہوا تھا۔

”تم کہنے دو گے تو کہوں گی نا“۔فریحہ کو اس کی ناراضی تکلیف دے رہی تھی۔ کمرے کی خاموشی میں گونجتی اس کی آواز رات کے اس پہر خاموشی کی دیوار میں دراڑ ڈالتی تھی۔

”تم نے پیچھے کچھ چھوڑا ہے۔ سب تو خود سے طے کرچکی ہو“۔فارس نے شکوہ کیا۔

”فارس میں ہمارے تعلق کو اتنا کمزور نہیں سمجھتی تھی۔ تم نے تو میری ججمنٹ پہ سوالیہ انشان لگا دیا ہے“۔وہ کہے بغیر نہ رہ پائی۔

”سوالیہ نشان تو محبت پہ لگا ہے فری۔ تم وہ کر رہی جو تم چاہتی ہو لیکن مجھے وہ کرنے کا حق نہیں جو میں چاہتا ہوں۔ پھر بھی میں غلط ہوں میری محبت غلط ہے“۔لالچ کا پھندہ اچھے اچھوں کی سمجھ پہ قفل ڈال دیتا ہے وہ بھی کانچ کی چمک سے چندھیا یا ہوا ہیرے کی ناقدری کر رہا تھا۔

”فارس تم ضرورت سے زیادہ ڈیمانڈنگ ہو رہے ہو۔ سال دو سال تو ویسے بھی ہمارا شادی کا ارادہ نہیں تھا اس سچویشن میں اگر میں یہاں کام کر بھی لوں تو تمہیں کیا اعتراض ہے۔ تم نے بلاوجہ بات کو طول دے کر مجھے پریشان کیا ہوا ہے اور خود تو تم ڈسٹرب ہو ہی“۔ اسے فارس پہ شدید غصہ آرہا تھا۔ ذرا سی بات کو مسئلہ بنا دیا تھا۔ سب اس کے فیصلے سے کتنے خوش تھے۔ اس کے ممی ڈیڈی اور بھائی۔۔۔بہت سالوں بعد وہ سب ایک شہر، ایک گھر میں رہنے لگے تھے۔ وہ ایک فیملی لائف انجوائے کر رہی تھی لیکن فارس۔۔۔وہ دل کا روگ بن گیا تھا۔

”فری میں تمہیں اپنے قریب دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ڈیم اٹ۔۔۔۔اور اسے ڈیمانڈ نہیں چاہت کہتے ہیں“۔ وہ زچ ہوکر بولا۔

”تو تمہیں لگتا ہے فاصلے محض جسمانی ہوتے ہیں اور قریب رہنے سے دوریاں حائل نہیں ہوتی ہیں“؟فریحہ تیز لہجے میں بولی پر وہ خاموش رہا تھا۔ فریحہ مزید بولی لیکن اس بار انداز دھیما تھا۔

”ہم چھ سال سے ساتھ ہیں، چند ماہ دور رہیں گے تو کیا دلوں سے اتر جائیں گے۔ اگر ایسا ہے تو پھر مجھے یہ آزمانا ہے فارس کہ کیا دوررہ کر بھی یہ محبت قائم رہتی ہے یا پھرفاصلوں کی آندھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے“۔اس کا غصہ اگر فارس کو مطمعن نہیں کرپایا تھا تو التجا بھی اسے مجبور کرنے سے قاصر رہی تھی۔

”میں نے فلسفہ نہیں پڑھا فری میں سائنس سے واقف ہو۔ میں دو جمع دو چار کو مانتا ہوں ۔ سائنس کہتی ہے ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے اور دنیا کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پہ چلتی ہے۔ میں تمہاری طرح دل سے نہیں دماغ سے سوچتا ہوں اور میرا دماغ مجھے کہتا ہے تم ایک انتہائی احمقانہ فیصلہ کر رہی ہو“۔ وہ اپنی بات سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا تھا۔ فریحہ کو تاسف نے آگھیرا تھا۔ ان حالات میں جب دل کے کسی کونے میں درد ڈیرے ڈال لے تو کیسے نارمل رہا جاسکتا ہے۔ ایک عزم تھا دل میں جو پہلے ہی مرحلے پہ ڈگمگانے لگا تھا۔ ایک امید تھی جو پوری ہونے سے پہلے ٹوٹ رہی تھی۔ کتنا مشکل تھا اس وقت نارمل رہنا ، سب کے درمیان خوش اور مطمعن دکھائی دینا جب دل کے اندر وحشت برپاءہو۔

”تمہارے معاملے میں بھی اپنے دل کی سنی تھی میں نے اور آج بھی دل ہی کی بات سن رہی ہوں اس لئے جو طے کر چکی ہوں اس میں ردوبدل نہیں ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے تمہارے دل میں میرے لئے کتنی وسعت ہے یا یہاں بھی ” گیو اینڈ ٹیک“ کا اصول فالو کرو گے“۔وہ کوئی امیچور اور کمزور لڑکی نہیں تھی بس مریضِ عشق تھی۔ اس کی تربیت جن ہاتھوں میں ہوئی تھی انہوں نے اسے اعتماد دیا تھا۔ اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی دی تھی لیکن ساتھ ساتھ صحیح اور غلط کو پرکھنے کی سمجھ دی تھی۔ وہ غلط نہیں تھی اتنا وہ جانتی تھی، فارس کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطلب زندگی کے پہلے مرحلے میں ہی اپنی خودمختاری سے دستبردار ہونا تھا ۔ فارس نے محبت کو جنگ بنا ڈالا تھا اور اب اگر یہ جنگ تھی تو اسے بہرحال اپنی ہار منظور نہیں تھی۔

اتنے دن بعد بھی یہ بحث کسی حل کے بغیر اختتام پذیر ہوئی تھی۔ کال ڈسکنیکٹ کرتے وقت دونوں کے دلوں میں شکوے شکایات اور اداسی تھی۔ اس بناءچاند کی ا ندھیری رات کی طرح جو اس وقت کمرے کے باہر درو دیوار کو ڈھانپے ہوئی تھی لیکن ہر رات کی صبح ہوتی ہے۔امید کا اجالا، مایوسی کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔ بیڈ کراو ¿ن پہ سر ٹکائے، آنکھیں موندے فریحہ کا جسم ہی نہیں روح بھی تھکی ہوئی تھی ۔

٭….٭….٭

دن مطمعن اور شاد تھا کہ ایک اچھی خبر سے صبح کا آغاز ہوا تھا۔ نانی نے بتایا تھا اس کی ماما بالکل ٹھیک ہیں۔ وہ مطمعن ہوئی تھی لیکن آسیہ سے فون پر بات کرکے وہ پرسکون ہوگئی تھی۔ وہ نارمل انداز میں بات کر رہی تھی تو علینہ کے اندر بھی اطمینان اتر رہا تھا۔ اس گھر میں اس کی واپسی کے دن گنے ہوئے تھے اور یہ بھی سکون ساتھ ساتھ تھا کہ ہر گزرتا دن ان کی تعداد کم کرتا جارہا ہے۔ ویسے تو یہاں سب بہت اچھے تھے اور سب ہی اس کا خیال رکھ رہے تھے جیسے کسی چھوٹے بچے کا خیال رکھا جاتا ہے پر وہ اس محبت کے پیچھے چھپے احسان کے کانٹوں کو زیادہ محسوس کر رہی تھی۔ جس کی زندگی میں پیار سے زیادہ احسانات کا ڈیرہ ہو وہ بھلا کیسے خلوص کے فرق کو پرکھ سکتا ہے۔ یہ سب بہت اچھے تھے، اس سے بہت پیار سے پیش آتے تھے پر اسے تو بس جلد سے جلد اپنے گھر جانا تھا۔ دن کا زیادہ حصہ وہ اپنے کمرے میں ہی گزارتی تھی جس میں زیادہ وقت پڑھائی میں گزر جاتا۔ گھر میںویسے بھی ملازموں کے سوا دن بھر کوئی نہیں ہوتا تھا لیکن شام کو ان کی واپسی کے ساتھ گھر میں زندگی دکھائی دینے لگتی تھی۔ فریحہ کی چہکار، نور انصاری کی دھیمی ہنسی اور ڈاکٹر انصاری کی ہلکی پھلکی غیرسنجیدہ باتیں۔۔۔۔ان سب میں ایک قدر مشترک تھی۔ وہ سب مکمل لوگ تھے۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک سا تھا۔ ان کی سلجھی ہوئی طبیعت ان کی گفتگو میں جھلکتی تھی۔ ان کے پاس بات کرنے کو لاتعداد موضوع تھے ۔زندگی میں الجھاو ¿ نہیں تھا۔ مسائل تھے تو ان کا حل بھی تھا ۔علینہ کو پہلی بار ایک خوش و خرم مکمل خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا احساس ہوا تھا۔ ماں اور باپ کے درمیان مثالی تعلق کس طرح بچوں میں اعتماد اور خود شناسی کو متعارف کرواتا ہے انصاری ہاو ¿س میں اس کا عملی نمونہ نظر آتا تھا ۔ دن کی تمام آسودگی رات تک رخصت ہوچکی تھی جب وہ لاو ¿نج میں کسی ایلین کی طرح بیٹھی ان تینوں کی باتیں سن رہی تھی۔ بظاہر وہ اس گفتگو میں شامل نہیں تھی لیکن اس کے کان انہی کی طرف متوجہ تھے۔ وہ حرف حرف ان کی گفتگو سنتی درپردہ اپنی اور فریحہ کی زندگی کا موازانہ کرتی رہی تھی۔ وہ اپنے باپ سے کتنی اٹیچ تھی، ان دونوں میں بے پناہ ذہنی مطابقت تھی اس کے برعکس علینہ نے تو کبھی خاور سے بات بھی نہیں کی تھی۔ کچھ ہوتا ہی نہیں تھا کہنے کے لئے اور اس دن کے بعد تو وہ اس سے ہر امید ہر تعلق توڑ چکی تھی جب اس نے اپنی مجبوری کا رونا سنا کر علینہ کو اپنے ساتھ لے جانے سے منع کردیا تھا۔ کمرے میں پہنچ کر اس کا ضبط دم توڑ گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر اپنے خول سے نکل کر وہی پرانی علینہ تھی جو راتوں کو چھپ چھپ کر آنسوو ¿ں سے تکیے گیلے کرتی تھی۔

 بستر پہ لیٹی وہ اندھیرے میں ایک ٹک چھت کو گھور رہی تھی۔ اچانک کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس اسے خوفزدہ کر گیا تھا۔ وہ اسے پہچانتی تھی اور جب وہ اس کے بستر تک آیا علینہ کی گھگی بندھ چکی تھی۔ پتا نہیں وہ کیوں اس کے کمرے میں داخل ہوا تھا لیکن اتنا تو طے تھا وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ وہ بچھو کی طرح چادر پہ رینگتی ان انگلیوں کو نوچ کر پھینک دینا چاہتی تھی ۔ خوف اور دہشت کی سنسناہٹ اسے ریڑھ کی ہڈی میں محسوس ہورہی تھی۔ پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ وہ چادر کے کونے مضبوطی سے تھامے چت لیٹی تھی۔ جیسے اس پل یہی اس کا سب سے محفوظ حصار ہے پر یہ حصار اس کی درندگی کے آگے کمزور پڑ رہا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ یکدم ہوش میں آئی اور بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ آنکھوں میں ہوس لئے وہ اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔

 ایک دلخراش چیخ تھی جو اس کے حلق سے نکلی تھی۔

انصاری صاحب، نور اور فریحہ۔۔۔تینو ں ہی اس وقت اپنے اپنے کمروں میں جاگ رہے تھے اور علینہ کی چیخ سن کر وہ تینوں بھاگتے ہوئے اس کے کمرے تک پہنچے تھے۔ لاو ¿نج کی بتیاں گل تھیں لیکن ڈرائیو وے کے زرد بلب کی روشنی پردوں سے چھن چھن کر اندر آرہی تھی۔ اس مدہم روشنی میں علینہ کے کمرے کے باہر کھڑے دراز قامت شخص کو ان تینوں نے بہت آسانی سے پہچان لیا تھا۔

”بھائی آپ۔۔۔یہاں۔۔۔اسوقت؟“ لاو ¿نج کی لائٹیں روشن ہوئیں تو ہر راز سے پردہ اٹھ گیا ۔

”تم علینہ کے کمرے کے باہر کیا کر رہے ہو سمیر“۔ انصاری صاحب بلند آواز سے دھاڑے۔ اس کے ہاتھ میں پکڑے ریوالور پہ نور کی نظر سب سے پہلے گئی تھی۔

”ڈیڈ میں ۔۔۔وہ۔۔۔“ ان سب کے چہروں پہ لکھی بدگمانی اتنی واضح تھی کہ وہ چکرا سا گیا۔ اسے پرے دھکیلتے وہ تینوں آگے پیچھے علینہ کے کمرے میں داخل ہوئے۔سمیر حقہ بقہ انہیں دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر وہ بھی ان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا ۔

 علینہ بستر پہ گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھی زاروقطار رو رہی تھی۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا اور وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ کمرے کی بتیاں روشن ہوئیں، وہ چاروں اس کے کمرے میں داخل ہوئے اور تین لوگوں نے بیک وقت اس سے سوال کیا پر اس نے سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔

”کیا کہا ہے تم نے اسے سمیر؟“ یہ بیگم انصاری تھیں جو پلٹ کر اس تک پہنچی تھیں۔ سمیر ششدر رہ گیا۔ حیرانی سے وہ کبھی ماں کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور کبھی بیڈ پہ لرزتی علینہ کو جس نے پہلی بار بیگم انصاری کی آواز پہ سر اٹھایا تھا۔

”انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا آنٹی میں خواب میں ڈر گئی تھی“۔ ان تینوں کے سینے سے ایک ساتھ سکون کی سانس نکلی تھی لیکن سمیر کا ماتھا سلوٹوں سے بھر گیا تھا۔ اس سے پہلے کے بیگم انصاری اسے کچھ کہتیں اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور پیر پٹختا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

انصاری صاحب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے نکلے جبکہ فریحہ اور بیگم انصاری علینہ کو تسلیاں دیتی رہیں۔ اسے چپ کرواتی رہیں۔ وہ اتنی بری طرح ڈری ہوئی تھی کہ ان دونوں کو ہی سمجھ نہیں آیا اسے کیسے ہینڈل کیا جائے اور پھر بیگم انصاری کے کہنے پہ فریحہ اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔

٭….٭….٭

”سمیر پلیز میری بات سنو“۔انصاری صاحب اس کے پیچھے لپکے تھے لیکن وہ کمرے کا دروازہ لاک کرچکا تھا۔ چند بار دستک دینے پر بھی جب اس نے دروازہ نہیں کھولا تو وہ پلٹنے لگے تھے پر اسی وقت بیگم انصاری بھی وہاں پہنچ گئیں۔ پریشانی ان کے چہرے پہ صاف لکھی تھی۔

”ممی آپ ابھی یہاں سے چلی جائیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی“۔ وہ کسی کا سامنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ غصہ نہیں ذلت کا احساس تھا جو اس پل اسے بے پناہ طیش دلا رہا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس سے اپنوں کی دل آزاری ہو۔

”آئی نو آئی واز رونگ لیکن تم خود سوچو ان حالات میں کوئی اور ہوتا تو کیا سمجھتا“۔ماں کی آواز پر وہ کچھ دھیما پڑا تھا۔

”کسی اور کے سمجھنے میں اور میرے اپنوں کے سمجھنے میں زمین آسمان کا فرق ہے ممی“۔بہرحال اس نے دروازہ کھول دیا تھا۔

”آئی ایم سوری “۔وہ دونوں اندر داخل ہوئے پر وہ نروٹھے انداز میں ان کی طرف دیکھے بناءصوفے پہ جا کر بیٹھ گیا۔

”اسی لئے میں یہاں رہنا نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بدمزگی نہ ہوجائے“۔نور انصاری کی معذرت پہ وہ چٹخا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے بیٹھیں اس کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھ رہی تھیں جہاں اہانت کا احساس انہیں شرمندہ کر رہا تھا۔

”یار تم ہاتھ میں پسٹل تھامے وہاں کھڑے تھے میں بھی یہی سمجھا تم اسے ڈرا رہے ہو“۔انصاری صاحب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

”میں کوریڈور میں تھا جب اس بونگوں کی ملکہ کی چیخ و پکار سنی، میں سمجھا کوئی چور اچکا نہ گھس آیا ہو گھر میں۔ اس کی ہیلپ کرنے گیا تھا خود مشکوک ہوگیا“۔گھر پہنچتے پہنچتے بہت دیر ہوچکی تھی۔ کچھ دیر پہلے اس کی ماں سے فون پر بات ہوئی تھی اس لئے اسے اندازہ تھا کہ وہ دونوں اس کے انتظارمیں اب تک جاگ رہے ہیں۔ گاڑی پارک کرکے جب وہ لاو ¿نج میں پہنچا تو وہاں اندھیرا تھا۔ یقینناََ سب لوگ اپنے کمروں میں تھے۔ وہ بس ماں کو اطلاع دینا چاہتا تھا کہ وہ پہنچ چکا ہے اس لئے ان کے کمرے کی طرف جانے لگا پر علینہ کی چیخ نے قدموں کو جکڑ لیا۔ سمیرجانتا تھا وہ گیسٹ روم میں ہے اور آواز وہیں سے آئی تھی۔ یکدم کسی انہونی کا احساس ذہن میں بجلی کی طرح کوندا اور اس نے کمر پہ بندھے ہولڈر سے اپنا پرسنل ریوالر نکال کر ہاتھ میں تھام لیا۔ یہ پسٹل وہ دورانِ سفر اپنے ساتھ رکھتا تھا خاص طور پہ رات کے وقت ۔ وہ گیسٹ روم کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ گھر والے آگئے اور الٹا اسی کو چور بنا ڈالا۔

”سوری کر رہے ہیں نا ہم، اب کیا کان بھی پکڑیں؟“انصاری صاحب نے چھیڑا۔

”کان میں نے پکڑے ڈیڈ۔ کسی کی مدد کرنے سے اور پرائے مسئلے میں ٹانگ اڑانے سے۔ آج رات ہوں یہاں کل صبح ریسٹ ہاو ¿س شفٹ ہوجاو ¿ں گا“۔ چند ہفتوں میں تیسری بار تھا جب اس لڑکی کی وجہ سے اسے شرمندگی اٹھانا پڑی تھی۔ اتنا تو اسے اندازہ ہوچکا تھا یہ ایک اسپیشل کیس ہے پر اس کا تعلق اسپیشئل برانچ سے نہ تھا۔ وہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ تو کرسکتا تھا لیکن کسی نفسیاتی مریض کو ہینڈل کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ اسی لئے اپنا بوریا بستر باندھنے کا حتمی فیصلہ کرچکا تھا۔

”پھر وہی جذباتیت، تمہاری انہی باتوں کی وجہ سے آج ہمارے ذہن میں یہ خیال آیا ورنہ ہم اپنے بچوں کے متعلق ایسا سوچ بھی نہیں سکتے“۔ ماں کی ڈانٹ پہ سر جھٹکتا وہ خاموش ہوگیا۔ چند منٹ اسے سمجھا بجھا کر تسلیاں دینے کے بعد وہ دونوں اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ سمیر سر پکڑے بیٹھا گہری سوچ میں تھا اور اس وقت اس کی سوچ کا محور فقط علینہ تھی۔ موبائل اسکرین پہ جگمگاتا کشمالہ معین کا نام بھی اس ارتکاز کو توڑنے سے قاصر تھا کیونکہ سمیر کا فون سائلنٹ پہ تھا۔

٭….٭….٭

وہ رو بہ صحت تھی یہ بات شاکرہ کے لئے باعثِ تسکین تھی۔ کل رات گھر واپس آگئی تھی تو بچے بھی خوش و خرم تھے۔ عامر کی پریشانی کم ہوئی تھی پر اس کے ماتھے کی تیوریوں میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔ وہ بلا کا کینہ پرور تھا اور اسے علینہ کا واپس نہ آنا اپنی توہین محسوس ہورہی تھی ۔ اپنے گریبان میں کوئی نہیں جھانکتا کیونکہ اس کے لئے گردن جھکانا پرتی ہے۔ انگلی ہمیشہ سامنے کھڑے شخص پہ ہی اٹھائی جاتی ہے۔ شاکرہ کو رہ رہ کر اس پہ غصہ آرہا تھا۔ اتنے سالوں بعد اچھے داماد کا بھرم ٹوٹا تھا اور یہ بات اسے اذیت دے رہی تھی۔کافی دن بعد وہ اپنے دفتر اور بچے اسکول گئے تھے۔ آسیہ اور شاکرہ کو تنہائی میسر آئی تو ماضی و حال کے قصے لے کر بیٹھ گئیں۔

”خاور کو فقط میں نے اپنا شوہر نہیں مانا تھا ، اسے اپنے دل کا حکمران بنالیا تھا۔ میں ساری عمر اس کی محکوم بنی رہتی پر اس نے خود ہی مجھے اپنی زندگی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا“۔اتنے سالوں سے دل میں چبھی پھانس تھی جو نکالے نہ نکلتی تھی۔ وہ وقت یاد آتا تھا تو سر خودبخود شرم سے جھک جاتا تھا۔ خاور کے شادی سے انکار کے بعد وہ خود اس کے پاس چلی گئی تھی۔ بھکاری کشکول لئے خیر مانگتا ہے آسیہ نے جھولی محبت کے لئے پھیلائی تھی۔ وہ اس میں سرے سے دلچسپی نہیں رکھتا تھا اسی لئے صاف لفظوں میں انکار کردیا تھا پر آسیہ کے لئے وہ زندگی کی نوید تھا اور وہ اس کے در سے زندگی لے کر لوٹی تھی۔ خاور مانا تو شاکرہ نے انکار کردیا۔ اب ایسا کون سا پھنے خان تھا جو اس کی بیٹی کے رشتے سے انکار کر دیا تھا وہ بھی بغیر کسی وجہ کے۔ یہ تو اس کے حالات تھے کہ گھر میں مرد نہیں تھا ورنہ دوکانیں اور گھر کا تحفظ تھا اور کچھ بھی تھا کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب آسیہ ماں کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ وہ اس کی دیدہ دلیری پہ دنگ رہ گئی تھی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا جس اولاد کو بیوگی کی تکلیف سہہ کر مشقتوں سے پالا تھا وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوجائے گی۔ جیت اسی کی ہوئی تھی ۔ وہ ماں تھی اور مائیں اولاد کے معاملے میں بہت کمزور ہوتی ہیں۔ خاور سے شادی کے وقت آسیہ کے پاو ¿ں زمین پہ نہیں لگتے تھے وہ آسمان میں اڑتی تھی۔ وہ بس اسے اچھا لگتا تھا اور اسے پاکر زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں رہی تھی لیکن یہ یک طرفہ کھیل تھا۔ خاور کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نہ پہلے نہ بعد میں ۔ اس نے وقتی دباو ¿ میں آکر شادی کر تو لی تھی پر اس رشتے کی شروعات میں ہی آسیہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر یہ شادی قائم رہی تو فقط اس اکیلی کی کوششوں سے رہے گی۔ اسی لئے سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتی رہی پھر بھی ایک معمولی سی بات پہ بگڑ کر اس نے آسیہ کو طلاق دے دی۔

”میں کبھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی اس کے مسائل۔ اسے مجھ سے کیا شکایت تھی یہ بات آج بھی میری سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ ایک پہیلی تھا جو سالوں بعد بھی مجھ سے حل نہیں ہوسکی“۔ایک ساتھ بہت تھے غم تازہ ہوگئے تھے۔ ہر وہ پل یاد آنے لگا تھا جب اس کی محبت کو پیروں تلے روند دیا گیا۔

”مجھے تو لگتا اس پہ کسی نے جادو ٹونا کروا دیا تھا۔ کھاتا کماتا اکیلا لڑکا تھا جانے کس کی بری نگاہ ہو ورنہ تھا کوئی ظاہری عیب اس میں؟“ شاکرہ کو آج بھی یقین نہیں آتا تھا کہ خاور ان صفات کا مالک بھی ہوسکتا ہے۔ اسے کیا محلے کا کوئی فرد یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ بیوی کے ساتھ جانوروں سا سلوک کرتا ہوگا ۔ کوئی ایک بھی تو ظاہری عیب نہ تھا اس میں۔ وہ سالوں سے اپنی ایمانداری ، کم گوئی اور شرافت کے سبب ہر دلعزیز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بہت سے ملنے والے نہ تھے پر جن سے بھی تعلق تھا وہ اس کی اچھائیوں کی قسمیں کھاتے تھے۔

”معمولی معمولی بات پہ وہ مجھ پہ ہاتھ اٹھاتا تھا، علینہ کو بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ میں سارا دن اس کی غیر موجودگی میں بھی سانس اس ڈر سے لیتی کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے پر وہ خفا ہو ہی جاتا اور پھر ایک دن اسی غصے میں اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ صرف مجھے ہی نہیں اپنی چھوٹی سی بیٹی کو بھی“۔آج بھی اس کے نفرت بھرے جملے ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے تو آسیہ کا چین غارت ہوجاتا تھا۔ وہ اس سے اور علینہ سے شدید نفرت کرتا تھا اسی لئے تو انہیں اتنی آسانی سے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا تھا۔

”اللہ نے پھر غرور بھی کیسا توڑا، سر کے بل گرایا اسے۔ پورے محلے میں الگ ذلیل ہوا۔ جس کاروبار پہ اکڑا پھرتا تھا میرے دیکھتے ہی دیکھتے چوپٹ ہوگیا“۔شاکرہ کی بات پہ اس کے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ ابھری۔

”اس کے ساتھ جو بھی ہوا امی لیکن سزا تو میں نے اور میری بچی نے بھگتی“۔وہ یاسیت سے بولی۔

”کیسی سزا آسیہ۔ ماشاءاللہ اچھی جگہ بیٹھی ہو۔ وہ موٹر مکینک یہ بابو ۔۔۔اب خاور کا اور عامر کا کیا مقابلہ۔ بس ذرا مزاج کا مختلف ہے پر چلو دودھ دیتی گائے کی لاتیں بھی کھالیتا ہے انسان“۔حالانکہ عامر سے اسے خود بھی شکایت ہورہی تھی پر بیٹی کے گھر کا معاملہ تھا اس لئے مصلحت سے کام لیتے سمجھایا۔

”یہی سوچ کر زندگی گزار دی امی۔ دنیا کو ایک بار ہنسنے کا موقع دے چکی ہوں دوبارہ نہیں دینا چاہتی تھی اس لئے جو ہے جیسا ہے اس کو قبول کرچکی ہوں“۔وہ یہ سب نہ بھی کہتی پھر بھی آسیہ نے کبھی کوئی منفی بات نہیں سوچی تھی۔ وہ اپنے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر چکی تھی۔

”تو کیا عامر سچ میں تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا لیکن تم تو بہت خوش تھی اس کے ساتھ“۔شاکرہ نے تشویش سے پوچھا۔

”شروعات میں تو عامر کا رویہ بہت اچھا تھا۔ میرے ساتھ بھی اور علینہ کے ساتھ بھی۔ مجھے تو ایسا لگتا تھا جو زیادتی میرے ساتھ ہوئی اللہ نے اس کا متبادل دے دیا۔ خاور سے طلاق کے بعد اپنے غم اور ڈپریشن میں علینہ کو بہت بری طرح اگنور کیا تھا میں نے۔ پھر عامر سے شادی ہوگئی تو علینہ اور بھی دور چلی گئی۔ حالانکہ ہم دونوں ہی اس کا خیال رکھتے تھے پر وہ اندر ہی اندر احساسِ کمتری میں مبتلا ہورہی تھی“۔علینہ بہت چھوٹی تھی جب ان دونوں کی علیحدگی ہوئی۔ آسیہ تو سانسیں بھی بناءمرضی کے لے رہی تھی ایسے میں چھوٹی سی معصوم بچی کا ہوش کسے آتا۔ شاکرہ ہی اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتی۔ پھر جب چند سال بعد مجبوری میں ہی سہی مگر شاکرہ کی درخواست پر آسیہ نے دوسری شادی کر لی تو علینہ کو کچھ عرصے کے لئے شاکرہ نے ہی اپنے پاس رکھ لیا۔ چند ماہ بعد وہ بیٹی کو لے گئی پر اب اس کی زندگی میں علینہ تنہا نہیں تھی۔ اس کا نیا نیا گھر تھا۔ شوہر تھا اور پھر آنے والی اولاد۔ علینہ کے حصے میں وہ کبھی مکمل نہیں آئی تھی۔

”اس کی تو چھوڑ ہی دو۔ باپ نے کم عذاب دیا تھا جو باقی کی کمی وہ پوری کر رہی ہے۔ آخر کو خون تو ایک ہی ہے نا“۔شاکرہ کو کب اس پہ غصہ نہیں ہوتا تھا۔ دانت پیستے ہوئے بولی۔

”خون تو میرا بھی ہے امی“۔آسیہ دھیمے لہجے میں بولی تو وہ کچھ شرمندہ ہوئی۔

”بچوں کی پیدائش کے بعد علینہ کے لئے عامر کا رویہ بہت سخت ہوگیا تھا۔ وہ بات بے بات اسے جھڑکتے اور میں بھی بچاو ¿ نہ کرواتی کہ کہیں جھگڑا بڑھ نہ جائے ۔ یہی سوچ تھی کہ چلو بری بات پہ تو سگا باپ بھی ڈانٹ لیتا ہے ۔ پر بچے نہیں سمجھتے وہ اسے اپنی انسلٹ محسوس کرتے ہیں ۔

اور ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ عزت تو بس ہم بڑوں کی ہوتی بچوں کی نہیں“۔اس نے بتانا شروع کیا تو شاکرہ کو کچھ یاد آیا۔

”تم نے علینہ کو ایکدم پاکستان کیوں بھیجا؟“یہ وہ سوال تھا جو چند سال پہلے بھی شاکرہ پوچھنا چاہتی تھیں ۔ پوچھا بھی تھا لیکن اس وقت آسیہ نے گول مول جواب دیا تھا جو بہرحال مطمعن تو نہ کرسکا تھا پر وہ یہی سمجھیں تھیں کہ علینہ کے شائد اسکول کا کوئی مسئلہ تھا جس کی وجہ سے وہ پاکستان آگئی۔

”عامر کی وجہ سے امی“۔وہ چونکیں۔

”کیا وہ اسے یہاں رکھنے کو تیار نہیں تھا؟“آسیہ نے نفی میں سر ہلایا۔

”بچی تھی تو برداشت ہی نہیں کرتے تھے، بڑی ہوئی تو کھینچ کھینچ کر پاس بلانے لگے۔ میں بھی اسے پدرانہ شفقت سمجھتی رہی ۔ آئے دن گھر میں جو جنگ علینہ کو لے کر چلتی رہتی تھی اس سے جان چھوٹ گئی تھی تو سکون کا سانس لیا لیکن اس رات۔۔۔۔۔“وہ جیسے کسی خوف کے زیرِ اثر تھی۔ آواز اتنی دھیمی تھی کہ اسوقت خود بھی سنائی نہ دیتا تھا۔

”کیا ہوا تھا اس رات آسیہ۔۔۔“شاکرہ کے دل کو کچھ ہوا۔

”شکر ہے کہ کچھ نہیں ہوا تھا۔ اگر کچھ ہوجاتا تو میں تمام عمر خود کو کبھی معاف نہ کرپاتی۔ “علینہ کے ساتھ عامر کا بدلا ہوا رویہ آسیہ کے لئے اس لئے بھی حیرانی کا سبب نہ تھا کہ وہ پچھلے آٹھ سالوں سے اسے اپنی اولاد مانتا تھا۔ اسکول میں وہ علینہ خاور نہیں بلکہ علینہ عامر کے نام سے جانی جاتی تھی۔ بہن بھائیوں کی معمولی باتوں اور جھگڑوں پہ عتاب کا نشانہ اکیلی علینہ بنتی تھی یہ بات آسیہ کو اچھی نہیں لگتی تھی پر وہ عامر سے کہتی تو جھگڑا شروع ہوجاتا۔ کیا یہ میری اولاد نہیں میں اسے اچھے برے پہ ڈانٹنے کا حق بھی نہیں رکھتا جیسے جملے بول کر وہ آسیہ کو چپ کروا دیتا پر چند روز سے تو وہ اس کا بہت خیال رکھنے لگا تھا۔ ہر معاملے میں علینہ کی پسند نا پسند کو اہمیت دی جانے لگی تھی۔ بہت سی باتوں میں علینہ کی مرضی پوچھی جاتی اور اس کی خواہش کے مطابق سب کچھ ہوتا۔ اس رات بھی عامر ویک اینڈ پہ دوستوں کے ساتھ باہر جانے سے پہلے علینہ کے پاس بیٹھا اس سے لاڈ کر رہا تھا(کم سے کم آسیہ کو تو وہ لاڈ ہی لگا تھا) پر علینہ ایک جھٹکے سے پاس سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔ عامر کے جانے کے بعد آسیہ نے علینہ کو شدید ڈانٹا تھا کہ وہ پاپا کے ساتھ کس انداز میں بات کرتی ہے ۔ وہ اس کا خیال رکھتے ہیں اسے پیار کرتے ہیں اور بدلے میں وہ انہیں انسلت کرنے لگی ہے۔ علینہ روتی دھوتی کمرے میں چلی گئی تھی۔ عامر کی واپسی آدھی رات کے بعد ہوئی تھی اور وہ ہمیشہ کی طرح سو رہی ہوتی اگر اسے پیاس نہ ستاتی۔ لائٹ جلائے بغیر وہ کچن سے پانی کا گلاس لے کر پلٹی جب مین دروازہ کھول کر عامر اندر داخل ہوا۔ اس کی چال میں واضح لڑکھڑاہت تھی جو آسیہ پہ بناءبتائے بھی بہت کچھ واضح کر رہی تھی۔ اکثر نہیں پر مہینوں بعد وہ دوستوں کے ساتھ ایسے شغل کرتا تھا لیکن اس کی یہ عادت آسیہ کے لئے پریشانی کا باعث نہیں تھی تو اس نے کبھی احتجاج بھی نہیں کیا تھا۔ آسیہ کا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب عامر اپنے کمرے میں جانے کی بجائے علینہ کے کمرے میں جاگھسا۔ وہ خوفزدہ ہوئی تھی پر اس کا ذہن اب بھی اس طرف نہیں گیا تھا۔ اسے تو بس یہی ڈر تھا عامر اس انسلٹ پہ اسے ڈانٹے نہ پر وہاں جو کچھ دیکھا اس نے آسیہ کے پیروں تلے سے زمین نکال دی تھی۔ علینہ دم سادھے بستر پہ لیٹی تھی جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو پر وہ یہ سب برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھول کر اس نے لائٹ جلائی تھی۔ جہاں گھبرا کر عامر پلٹا تھا وہیں روتی ہوئی علینہ بھی ماںسے لپٹ گئی تھی۔

”یہ اتنا گر جائے گا میں تو سوچ بھی نہیں سکتی“۔شاکرہ کو یہ سب سن کر گھن آئی تھی۔ اس کے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اس شیطانیت کا سن کر۔

”وہ تو یہ کہتے ہیں میں نشے میں تھا اور مجھے تو کچھ خبر ہی نہیں پر میرا دل نہیں مانتا تھا امی۔ یہ آدھی رات کو علینہ کے کمرے میں نشے کی حالت میں گئے ہی کیوں“۔اس وقت تو آسیہ چپ چاپ علینہ کو اپنے ساتھ کمرے میں لے آئی تھی اور دروازہ اندر سے لاک کر دیا گیا پر صبح اس بات پہ کیا ہی واویلا مچا تھا۔ علینہ کمرے میں بند ان دونوں کی جنگ سنتی رہی۔ عامر معافی تلافی کرتا رہا پر آسیہ کو اب اپنی بیٹی کے معاملے میں کسی پر اعتبار نہ تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے جس کرب اور اذیت کا سامنا کیا تھا وہ تو بس وہی جانتی تھی پر آسیہ اپنی لاپرواہی پہ خود کو قصوروار ٹھہراتی اس سے نظریں بھی نہیں ملا پائی تھی۔ یہ جگہ، یہ گھر علینہ کے لئے محفوظ نہیں تھا۔ جو تحفظ اسے یہاں میسر نہیں تھا وہ شاکرہ کے پاس تھا اتنا تو اسے بخوبی علم تھا ۔ پھر اس کا باپ بھی وہاں تھا جو اب بہت بدل چکا تھا۔

”تو نشہ بھی کرتا ہے“ شاکرہ نے منہ پہ ہاتھ رکھے آنکھیں گھمائیں۔ اس پہ تو انکشاف در انکشاف ہورہے تھے۔

”کبھی کبھی“۔سر جھکائے آسیہ نے دھیمی آواز میں اعتراف کیا۔

”اللہ کی پناہ، ایسی مکروہ چیز کو پکڑ رکھا ہے تو حرکتیں بھی خبیثوں والی ہوں گی“۔اس نے منہ بنایا۔ بات تو سولہ آنے سچ تھی اللہ کی حدوں کو پار کرنے والے دنیاوی حدود و قیود کی پرواہ کہاں کرتے ہیں پر انسان اگر انجام سے خوف کھاتا تو اللہ کی حکم عدولی کرتا ہی کیوں۔ مشکلات و پریشانی، بے سکونی ، کاروباری معاملات۔۔۔آج کل ہم میں سے ہر کوئی ان چیزوں کو بدنظری ، جادو ٹونے اور آسیب سے نتھی کردیتا ہے پر کیا ہم میں سے ایک فیصد لوگ بھی یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم دن میں کتنی بار اللہ کو ناراض کرتے ہیں۔ کبیرہ و صغیرہ گناہوں کی ایک طویل فہرست ہے جو ہم سے جانے انجانے میں سرزد ہورہی ہیں پر ہم نادم و شرمندہ ہونے کی بجائے اللہ سے ہی شکوہ کناں ہیں ۔ اپنے اعمال پہ دھیان ہی نہیں۔

”مجھ سے لاکھ معافیاں مانگیں، عذر دئیے، قسمیں کھائیں کہ میں تو سگی بیٹی سمجھتا ہوں پر میں نے ایک نہیں سنی اور علینہ کو آپ کے پاس بھیج دیا“۔ آسیہ کی ایک ہی رٹ تھی کہ علینہ اب یہاں نہیں رہے گی ۔ عامر جو پہلے شرمندہ دکھائی دیتا تھا اب الٹا طیش کھانے لگا تھا۔ یہ پہلی بار تھا آسیہ نے اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا تھا، اس کی بات ماننا تو دور وہ کوئی وضاحت سننے پہ بھی آمادہ نہ تھی اور شائد یہ ایک طرح سے ٹھیک ہی تھا۔ بہرحال دو دن بعد علینہ پاکستان آگئی تھی اور اس کے ساتھ زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا۔ شروع میں اس نے خرچ دینے سے بھی صاف انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے کئی ماہ تک علینہ کا داخلہ نہ ہوسکا پر شائد اپنی نازیبا حرکت پہ احساسِ ندامت تھا جو خود ہی اس کی فیس وغیرہ کے پیسے دینے لگا۔ لیکن علینہ سے نہ ملنے کی شرط بدستور قائم رہی۔ اس دوران ان دونوں کا رشتہ بھی پہلے سا نہیں رہا تھا۔ آسیہ کے اندر علینہ کا غم سسکتا تھا تو عامر کی ندامت غصے میں بدلنے لگی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے خاور نے علینہ کا خرچہ دینا شروع کیا تو آسیہ کے سر پہ لٹکتی احسان کی تلوار بھی اتر گئی۔ وہ اب مکمل طور پہ اپنے باپ کی ذمہ داری تھی اور اس کے لئے یہی غنیمت تھا۔

”بہت اچھا کیا تم نے۔ لو بھلا میں یونہی اس معصوم کو کوستی رہتی تھی۔ “ شاکرہ کو تو اب علینہ کا دکھ مارے جا رہا تھا۔ کیسے منٹ منٹ طعنہ دیتی تھیں وہ اسے ، بات بے بات جتاتیں کہ اس کی خاطر ہر شخص کتنا کچھ کرتا ہے اور ایک وہ ہے جس کے مزاج ہی نہیں مل کر دیتے۔

”اس نے جتنا کچھ سہا ہے نا امی، کوئی اور لڑکی ہوتی تو پتا نہیں کیا کر لیتی۔ شکر کرتی ہوں وہ اپنا سارا دھیان تعلیم پہ رکھ کر کسی منفی سوچ میں نہیں پڑ گئی“۔ وہ پہلے بھی شاکرہ کی شکایات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیتی تھی الٹا اسے ہی سمجھایا کرتی تھی کہ علینہ کو مت ڈانٹیں پر ظاہر ہے وہ اندر کی بات نہیں جانتی تھیں تو ایسے میں ایک فطری ردِ عمل تھا ۔

”پر وہ تم سے کیوں چڑتی ہے، تم نے تو سب کچھ اس کی خاطر کیا۔ “

”اس کی خاطر تو کچھ بھی نہیں کرپائی امی۔ اب بھی عامر نے اسے پاکستان بھیجنے والی بات پہ اتنا واویلا مچایا اور یہ شرط رکھ دی کہ مجھ پہ الزام لگا کر اسے بھیجو گی تو دوبارہ کبھی یہاں واپس نہیں گھسنے دوں گا اور نہ ہی پاکستان جانے دوں گا“۔سالوں کے بھید تھے جو اس پل گرہ در گرہ کھلتے جارہے تھے۔

”اوہ میرے اللہ اور میں سمجھتی رہی تم بچوں میں الجھی اتنے سالوں سے پاکستان نہیں آئی۔ اس نے بھی تو کچھ نہیں بتایا“۔ شاکرہ نے سر پکڑ لیا۔ ان کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا ان سب باتوں کو سننے کے بعد۔

”اسے تو میں نے قسم دی تھی نانی کو کچھ مت بتانا۔ جانتی تھی آپ کا ردِ عمل کیا ہوگا۔ پر امی ایک علینہ کو مدار سے نکال کر جو سبق ملا ہے اس کے بعد ہمت نہیں پڑتی حارث اور قاسم کو دربدر کرنے کی۔ “اس نے وضاحت کی۔

”اللہ نہ کرے تاریخ دہرائی جائے۔ علینہ کی طرف سے بے فکر رہو۔ میں اور خاور ہیں اسے سنبھال لیں گے۔ تم بس اپنا گھر دیکھو۔ میری تو کوشش ہے جلد سے جلد کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر اس کے ہاتھ پیلے کردوں تاکہ اس کی ذمہ داری سے بھی جان چھوٹے“۔یہ ایک ماںکی تسلی تھی کیونکہ وہ بے اختیار تھیں۔ اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کر سکتی تھیں ۔

”آپ کو یہ سب اس لئے بتایا کیونکہ آپ علینہ سے خفا ہیں۔ میں جانتی ہوں آپ اس سے محبت کرتی ہیں لیکن اس کی باتوں پہ جیسے ردعمل کرتی ہیں تو وہ کبھی نارمل نہیں ہوپائے گی۔ اسے پیاراور محبت چاہیئے، اعتماد چاہیئے۔ میں اسے یہ سب نہیں دے سکی آپ دے دیں شائد وہ سنبھل جائے“۔ ماں کا ہاتھ تھام کر وہ سمجھانے والے انداز میں بولی ۔ شاکرہ نے اثبات میں سر ہلاتے اس کا کندھا تھپکا اور محبت سے ماتھے پہ بوسہ دیا لیکن ان کا سارا دھیان اب بس ایک ہی نقطے پہ مرکوز ہوگیا تھا ۔

٭….٭….٭

شاکرہ کے دوہا جانے کی خبر اگر بم تھی تو علینہ کا اکیلے پاکستان میں رہنا سمجھو بارودی سرنگ تھی جس کے دہانے پہ کھڑا مونس اپنے شیطانی دماغ میں پتا نہیں کون کون سے حساب کر رہا تھا۔ رخشندہ نے تو بس یونہی خیریت پتا کرنے کو کال ملائی تھی مگر باتوں باتوں میں وہ علینہ کا ذکر بھی لے آئی تھی۔ علینہ کا نام سن کر مونس کا ہاتھ خودبخود گال پہ جا ٹکا تھا پر یہ جان کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا کہ علینہ اپنی ماں کے پاس جانے کی بجائے پاکستان میں اکیلی رہ رہی ہے۔ گو رخشندہ نے اس سے کسی رشتے دار کا تذکرہ کیا تھا پر اس کے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اسے تو بس یہ سوچ کر ہی تسلی ہوگئی تھی علینہ شہر میں تنہا ہے اور اس حالت میں کم گو اور دبو سی لڑکی اس کے لئے تر نوالہ ہے۔ رخشندہ کو مونس کے دل کا حال معلوم تھا نہ دماغ کی شاطرانہ سوچ ۔۔۔وہ تو بس اپنی رو میں کہتی چلی گئی کیونکہ اسے اپنا آپ ہلکا کرنے کے لئے دیوار جیسا آسرا بھی کافی ہوتا تھا۔

”تم کب تک آو ¿گے؟“ بول بول کر دل کا بوجھ اور طبیعت دونوں ہلکے ہوگئے تو بالآخر اس نے مونس سے وہ سوال پوچھا جس کی خاطر وہ آدھے گھنٹے سے فون انگیج کرکے بیٹھی تھی۔

”کل نکلوں گا، رات تک پہنچ جاو ¿ں گا“۔ یہ پروگرام اس نے ابھی مرتب کیا تھا۔ سمیسٹر شروع ہونے میں تو ابھی بہت دن تھے اس دوران اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا گرمی کھانے کا اسی لئے دوستوں کے ساتھ پہاڑوں کا پلان کیا تھا۔ پیسے کی فکر تھی نہ کوئی ذمہ داری۔۔۔ماں اور باپ دونوں ہی جیبیں بھرتے رہتے تھے اور وہ مزے سے لٹاتا رہتا تھا۔ رخشندہ کو اس کی اتنی جلد واپسی نے بے پناہ خوش کردیا تھا اس لئے دعائیں دیتی جلدی جلدی کال بند کردی جیسے وہ ابھی بس پکڑ نے والا تھا ادھر مونس گہری سوچ میں ڈوبا اپنا سیل فون ہاتھ میں تھامے خاموش کھڑا تھا۔

”کوئی بری خبر ہے؟“ کامران نے خلافِ معمول سنجیدہ دیکھا تو پوچھ لیا۔

”بڑی خبر ہے“۔ اپنی ہلکی بڑھی شیو پہ کھجلی کرتا وہ ا بھی گہری سوچ میں تھا۔ کامران نے نا سمجھنے والے انداز میں کندھے اچکائے۔ بہرحال مونس کا انداز زیادہ دیر راز نہیں رہا تھا ۔ کامران کو اس بات میں دلچسپی تھی نہ ہی یہ بات اس کی موٹی عقل میں سمائی تھی کہ اگر علینہ شہر میں اکیلی ہے بھی تو اس سے ان کا کیا لینا دینا ہے لیکن مونس کے لئے یہ سنہری موقع تھا جو اتفاق سے ہی سہی اس کی جھولی میں آگرا تھا۔ وہ دونوں اگر علینہ کی بات سن کر متعجب ہوئے تھے تو مونس کی فی الفور واپسی نے انہیں جھٹکا دیا تھا۔ وہ تینوں ساتھ آئے تھے پر مونس اب ہر حالت میں کل واپس جانے پہ بضد تھا ۔ چاروناچار انہیں بھی ساتھ جانا ہی تھا کیونکہ اس کے بغیر مزا کیا خاک آنا تھا۔

٭….٭….٭

”ایک سگریٹ تو پلا استاد“۔شہباز نے عارف کے شانے پہ ہاتھ مارا۔

”آج کل تو فل کڑکی چل رہی ہے سگریٹ کہاں سے پلادوں“۔ہمیشہ کے برعکس اس کا لہجہ سرد اور سنجیدہ تھا۔

”کیا بات کرتا ہے عارف تو تو بادشاہ آدمی ہے“۔شہباز نے چاپلوسانہ انداز میں کہا۔ ان دنوں اس کے ستارے زوال میں تھے اور عارف کے مزاج آسمان پہ۔

”ارے یار بادشاہوں کے حالات بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ اور پھر ایک دوکان ہی ہے نا کون سا گنجِ قارون ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ بتایا تو تھا تجھے آجکل کاروبار مندا ہے“۔ایک ایک لفظ میں طنز بھرا تھا۔ شہباز نے کان کھجاتے نظریں چرائیں۔

”ویسے برا مت منانا لیکن تو ہے بڑا بے غیرت، کان لپیٹ کر پھر رہا سالے میرا صبر آزما رہا ہے۔ اب تو لاکھوں کا دیندار ہے تو میرا لاکھوں کا۔ پورے نا سہی آدھے ہی دے ڈال ۔ میں دوکان میں سامان ڈلوالوں“۔وہ تلخ ہوا تو شہباز کچھ اور دھیما پڑا۔

”تجھ سے کیا چھپا ہے عارف، اپنی خالی جیب تو ڈھول کا پول ہے۔ کتنے دن سے پیسے کی صورت نہیں دیکھی۔“ بہت دنوں سے وہ عارف کی منتیں کر رہا تھا پر وہ ہتھے سے اکھڑا ہوا تھا۔ جوا کھیلنے کے چکر میں اس وقت نہ نہ کرتے بھی عارف اسے پیسے دیتا رہتا تھا اور وہ بھی باپ کا مال سمجھ کر لے لیتا تھا لیکن اب چند ماہ سے معاملہ الٹ تھا۔ عارف نے آنکھیں ماتھے پہ رکھ لیں تھیں۔ ہزار پانچ سو نہیں تھے جو بیوی کو مار پیٹ کر لادیتا اور اپنی جان چھڑا لیتا حساب لمبا چوڑا تھا اور واپسی کی صورت کوئی نہیں تھی۔

”تو جو میرا یار نہ ہوتا تو ایک ہزار ایک طریقے تھے میرے پاس تجھ سے اپنی رقم نکلوانے کے، ابھی چند دن پہلے ہی میرے لڑکوں نے ہاتھ پاو ¿ں توڑے ہیں تیرے جیسے ایک مفت خور کے۔ باپ کا مال سمجھ کے کمینے پیسہ لے لیتے ہیں پھر واپس کرتے ان کی ماں مرتی ہے“۔ وہ بھی اوقات پہ آگیا تھا۔ جس کے سامنے غنڈے بدمعاش پانی بھریں بھلا وہ کہاں کا شریف ہوگا۔ اس جوے کا چسکا بھی اسے عارف نے لگایا تھا۔ شہباز او ر اس جیسے کئی لوگ اس کے دام میں پھنسے تھے۔ کوئی ہارتا یا جیتتا دونوں صورتوں میں فائدہ اسی کا ہوتا تھا۔

 ”اچھا تو ایک طرف یار کہتا دوسری طرف دھمکیاں دے رہا ہے۔ جا تو بھی پیسے کا میت نکلا“۔ اس کا انداز واضح دھمکی والا تھا اس لئے شہباز کا اندر ہی اندر سانس خشک ہورہا تھا۔

”شہباز یہ دنیا ہی پیسے کی میت ہے۔ تو کون سا میری محبت میں آتا ہے میرے پاس تجھے بھی تو پیسہ ہی کھینچ کر لاتا تھا نا“۔فریبی کو فریب دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس نے جوتا اتار کر منہ پہ دے مارا تھا۔

”بہرحال میں نے تجھے تین دن کا وقت دیا تھا۔ تو نے آنہ بھی واپس نہیں کیا تو اب خود ہی بتادے تیرے ساتھ کیا سلوک ہو۔ “ وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو شہباز کے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے۔

”میرے ہاتھ پاو ¿ں تڑوا کر پیسہ پورا ہوجائے گا تیرا“۔وہ طنزیہ ہنسا۔

”یہ جو لمڈے ہیں نا جانی، یہ بڑی صفائی سے لات بازو کاٹ کر پوائنٹ پہ بٹھا دیتے ہیں۔ بھیک منگوا کر سب کچھ وصول کرلیتے“۔ عارف نے کچھ اس انداز سے نقشہ کھینچا تھا کہ شہباز کا ہاتھ فوراََ اپنے بازو پہ گیا اور پھر اس نے یکدم عارف کے پیر پکڑ لئے۔ زندگی سب کو عزیز ہوتی ہے اور ایسی زندگی جو موت سے بدتر ہو اس کا خوف اس پل شہباز کی آنکھوں کی وحشت سے نمایاں تھا۔ دوسری طرف عارف سگریٹ ہاتھ میں دبائے کش پہ کش لگا رہا تھا۔

”دیکھ تو میرا بھائی ہے۔ کوئی درمیانی صورت نکال یار میں کہاں سے لاو ¿ں گا پیسہ، میری تو جیب میں کوڑی بھی نہیں جو ایک بازی ہی کھیل لوں۔ شائد اس بار قسمت کو رحم آجائے اور میں جیت ہی جاو ¿ں“۔اس نے کندھا دباتے منت سماجت کی تو عارف کی آنکھوں میں شیطانی چمک ابھری۔

”جیب خالی ہے پر تو ہے بڑی آسامی ۔چل ایسا کرتے ہیں آج ایک الگ بازی کھیلتے ہیں“۔ذو معنی انداز میں کہتے اس نے بھنویں اچکائیں۔ شہباز کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا اس بار وہ اپنی زندگی کی آخری بازی کھیلنے والا تھا۔ اس بار سب کچھ داو ¿ پہ لگنے والا تھا۔ زندگی سے بہت زیادہ موت سے کچھ کم۔

٭….٭….٭

صبح چمکدار اور روشن تھی۔ ہوا میں خنکی معمول سے زیادہ تھی اور کل کی نسبت گرمی آج کم تھی۔ ضلع کچہری میں معمول کی گہما گہمی تھی ۔ ہفتے کا پہلا دن تھا تو اسی مناسبت سے عوام الناس کا رش بھی کچھ زیادہ تھا۔ تمام دفاتر میں عملہ مستعد و مصروفِ عمل تھا اور اس کی سب سے بڑی وجہ آج ضلع میں نئے ڈسٹرکٹ کمشنر کا پہلا ورکنگ ڈے تھا۔

سبز وسفید جھنڈے والی گاڑی کچہری کے احاطے میں داخل ہوئی تو ایک ساتھ بہت سی نظریں اٹھیں۔ سیکورٹی عملہ کچھ اور اکڑ کر کھڑا ہوا جبکہ ڈرائیور نے مستعدی سے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔ سیاہ پینٹ ، گرے پن اسٹرائپ قمیض پہ گرے اور بلیک پرنٹڈ ٹائی لگائے وہ ہمیشہ کی طرح توجہ بٹوررہا تھا۔ کھلی راہداری سے اپنے کمرے تک جاتے بہت سی توصیفی نگاہیں نئے ڈی سی کو گھیرے ہوئے تھیں۔ راستے میںبہت سے جونئیر و سینئیر عملے کے سلام کا جواب دیتا راہداری کے آخر ی کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا جبکہ ڈرائیور اس کا لیپ ٹاپ اور بیگ اس سے پہلے ہی کمرے میں پہنچا چکا تھا۔

کمرہ وسیع تھا اور عمارت کے برعکس اندر سے اتنا شکستہ حال نہ تھا پر سمیر انصاری کی نگاہ اس وسیع کمرے کے بیچوں بیچ رکھی سیاہ میز کے وسط میں پڑے ایک خوبصورت بوکے پہ جاٹھہری تھی۔ متانت سے چلتا وہ میز تک آیا اور اپنی کرسی تک پہنچا۔ سرخ و سفید پھولوں سے بنے شاندار بوکے پہ لگا اسٹکی نوٹ دور سے بھی بآسانی پڑھا جاسکتا تھا۔

”ویلکم مسٹر ڈی سی“۔یہ پھول کہاں سے آئے تھے بھیجنے والے کی شناسا تحریر سے ظاہر تھا۔ نوٹ اتار کر تہہ کرتے اس نے انٹرکام پہ کسی کو بلایا ۔ نائب قاصد سے بوکے سائید ٹیبل پہ رکھوا کر اس نے پینٹ کی جیب سے اپنا سیل فون نکالا۔وہ اب کشمالہ کو کال ملا رہا تھا۔ سمیر دھیما سا مسکرایا اور پرسوں رات کے بعد یہ پہلا موقع تھا جو وہ مسکرایا تھا ۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا، اس سے ہونے والی چند منٹوں کی گفتگو، کوئی فارورڈ میسیج یا ماضی کی کسی بات کا حوالہ یونہی اس کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیرنے لگا تھا اور یہ سب کچھ فقط چند دن میں ہوا تھا۔

”آمد ہوگئی جناب کی“۔ فون پہلی ہی بیل پہ ریسیو کیا گیا تھا جیسے دوسری جانب بھی انتظار شدت کا تھا۔

”جیسے تمہیں تو خبر ہی نہیں“۔انداز جتاتا ہوا تھا۔ ائیر پیس سے کشمالہ کی کھنکتی ہنسی سنائی دی۔

”پھول کیسے لگے ، یقینناََ مجھے تھینکس کہنے کے لئے فون کیا ہوگا بٹ یو آر آلویز ویلکم“۔آواز اور لہجہ، دونوںاس کے بہترین موڈ کی چغلی کھا رہے تھے۔

”تم جانتی ہو مجھے فارمیلیٹیز پسند نہیں“۔ابرو اٹھائے اس نے سنجیدگی سے کہا۔

”لیکن مجھے بہت پسند ہیں۔ “کشمالہ نے کندھے اچکائے۔

”سیریسلی کشمالہ اس سب کی ضرورت نہیں تھی“۔ فون پہ بات کرتے وہ اب اپنا لیپ ٹاپ آن کر رہا تھا۔

”صبح صبح بحث کا موڈ نہیں میرا ویسے بھی دو گھنٹے بعد اپنے باس کو رپورٹ کرنی ہے۔ سنا ہے کافی سنجیدہ اور سخت گیر افسر ہے ۔ ضلع کچہری کا عملہ صبح سے ایک پاو ¿ں پر کھڑا ہے“۔ کشمالہ کی بات پہ وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔ وہ ساتھ والے کمرے میں تھی اور آج تینوں اسٹنٹ کمشنر وں کے ساتھ اس کی تعارفی میٹنگ تھی۔ اس کے ساتھ ضلع سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی اس کو پیش کی جانی تھی۔

”بحث مجھے بھی نہیں کرنی بس یونہی یہ سب شائد ورک ایتھیکس میں شامل نہیں۔ اسی لئے کہا“۔ویلکم میسیج تو صبح سے موصول ہورہے تھے ۔ کوئی دعوت پہ بلا رہا تھا کوئی دعوت مانگ رہا تھا پر کشمالہ کا انداز مختلف تھا اور شائد اس کی بات بھی۔ سمیر اس دوستی اور کام کی درمیانی حد کا تعین کرنا چاہتا تھا کیونکہ ایک ہی چھت کے نیچے کام کرنا تھا اور ایسی جگہوں پہ اسکینڈل بنتے دیر نہیں لگتی جو اپنے کرئیر کی اس اسٹیج پہ وہ دونوں ہی افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ بظاہر اس نے کشمالہ کو اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرکے محتاط کیا تھا لیکن درپردہ اسے بھی اس کا یہ انداز اچھا لگا تھا اور شائد وہ خود بھی بہت اچھی طرح جانتی تھی۔

”خوبصورت عورتوں سے بحث کرنی بھی نہیں چاہیئے“۔اس نے سمیر کے احتجاج کو سرے سے کوئی اہمیت دی ہی نہیں تھی۔

”ہاں ان کے پاس فقط حسن ہوتا ہے دلیل نہیں“۔ وہ ہنسا۔اس سے پہلے کشمالہ کی طرف سے کوئی جلا ہوا کمنٹ آتا اس نے بات ختم کردی۔

”اینی وے، پھر ملتے ہیں دو گھنٹے بعد آپ کے” سنجیدہ اور سخت گیر باس“ ٹل دین بائے“۔چند اسپرئیڈ شیٹس کھولتے وہ اب ان پہ سرسری نگاہ ڈال رہا تھا۔

”ہیو آ گڈ ڈے سر“۔کشمالہ نے خوش اسلوبی سے کہتے سر کو ہلکا سا خم دیااور رابطہ منقطع ہوگیا پر صرف فون پہ نا چاہتے ہوئے بھی سمیر کا دھیان اس وقت کشمالہ ہی کی طرف تھا۔ وہ محبت نہیں پر عادت بننے لگی تھی۔ محبت پہ صبر آجاتا ہے عادت فی الموت ہوتی ہے۔ ایک غیر ارادی سا کھنچاو ¿ تھا جو سوچوں کا رخ اس کی طرف موڑ دیتا تھا۔ کل کا پورا دن انتہائی خراب موڈ اور اسٹریس میں گزارنے کے بعد وہ اسوقت بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا ۔اگلے چند منٹوں میں وہ کام میں مصروف ہوچکا تھا ۔

٭….٭….٭

شام کے دھندلکے رات کی سیاہی میں بدلنے لگے تھے۔ فضا میں خاموشی کا راج تھا ان لبوں کی طرح جہاں ندامت نے چپ کا تالا ڈال رکھا تھا۔ بدتمیز، ہٹ دھرم، پھوہڑ کے بعد اب اس پہ ابنارمل ہونے کا ٹیگ بھی لگ رہا تھا۔ پہلی اوصاف اس کی نانی کے خطابات تھے یہ آخری صفت وہ اپنی اس رات والی حرکت کی بدولت اپنے نام لکھوا چکی تھی جس میں اس کا کوئی ایسا قصور بھی نہیں تھا۔ ماضی گم ہوا تھا بھولا نہیں تھا، وقت گزرا تھا بدلا نہیں تھا۔ علینہ آج بھی اس خوف میں مقید تھی ۔ وہ بھیانک سایہ اب بھی خوابوں میں اس کا پیچھا کرتا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا اس نے خواب میں خوفزدہ ہوکر چیخیں ماری تھیں بلکہ پچھلے چند سالوں میں ایسا کئی بار ہوچکا تھا ۔ شاکرہ کبھی پیار سے تو کبھی ڈانٹ کر اسے سنبھال لیتی تھیں لیکن وہ مسئلے کی جڑ تک پہنچی ہی نہیں تھی تو وہ ختم کیسے ہوتا۔ یہ سلسلہ جاری تھا اور اسے لگتا تھا شائد اس کی نجات مر کر ہی ممکن ہو گی۔ زندگی کی وحشتوں میں اذیت کے یہ پل ناخوشگوار اضافہ تھے ۔ وہ اس وقت کم عمر تھی لیکن کم عقل نہیں جو اس شخص کی بدلتی نگاہوں کو سمجھ نہ پاتی۔ انٹرنیشل لیول کے اسکول میں پڑھ کر جہاں سوچ وسیع ہوئی تھی وہاں اعتماد بھی ملا تھا ۔ وہ ایک ذہین اسٹوڈنٹ تھی جس کا کمرہ ٹرافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہمیشہ شاندار گریڈز میں پاس ہوکر وہ اسکول میں اپنے والدین ہی نہیں اسکول کے لئے بھی باعثِ افتخار رہی تھی ۔ عامر کی انفرادی ڈانٹ ڈپٹ پہ بھی وہ کبھی ردعمل نہیں دیتی تھی کیونکہ جو بھی تھا اسے اپنی ماں اور دونوں بھائی بہت عزیز تھے لیکن ایکدم کچھ تبدیلی آئی تھی اور یہ تبدیلی علینہ کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ احتجاج کرتی پر اپنا موقف واضح نہ کرپاتی اور ماںسے ڈانٹ کھاتی۔ اس دن بھی یہی ہوا تھا جب آسیہ سے ڈانٹ کھا کر اور گھر کا ماحول خراب کرنے کی موجب ہونے کا طعنہ سن کر وہ روتی ہوئی کمرے میں جاگھسی تھی ۔ بستر پہ سسکیاں لیتے وہ اداس تھی پر عامر کی آمد نے تو اس کی جان ہی نکال دی تھی۔ ماں نے وقت پہ پہنچ کر بات سنبھال لی پر اس کے حصے تو دربدری ہی آئی۔ باپ کی شفقت تو کبھی حصے آئی ہی نہیں تھی اور جسے باپ کا درجہ دیا اس نے رشتوں کے تقدس کو پامال کرنا چاہا ۔۔۔لیکن اب ماں کا دامن بھی چھٹ گیا۔ اسکول، دوست، گھر، بھائی، ماں، وہ ملک۔۔سب کچھ چھوڑ کر اس کمزور پودے کو اس کے مقام سے اکھاڑ کر ایک ایسی جگہ لگانے کی کوشش کی گئی جہاں کی آب و ہوا اس سے موافقت نہ رکھتی تھی۔ اس پہ ستم اسے زبان بندی کا حکم تھا۔ اندر ہی اندر گھٹ کر اب جو لاوا باہر نکل رہا تھا اور جس انداز میں نکل رہا وہ اس کے لئے کم دوسروں کے لئے زیادہ تکلیف کا باعث تھا۔ پھر وہ خاور ہو، آسیہ ہو یا شاکرہ۔۔۔سب کو ہی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

 انصاری ہاو ¿س میں اسے پیار، محبت اور توجہ سب میسر تھا نہیں تھا تو بس سکون۔۔۔۔۔خواب کیا تھا کسی کو بتایا نہیں جاسکتا تھا پر جو واویلا مچا اور اس کی بدولت سمیر ایک بار پھر مشکل میں پھنسا یہ بات اسے ان لوگوں کے سامنے سر نہیں اٹھانے دے رہی تھی۔ وہ خوفزدہ تھی پتا نہیں اب سب کا کیا ری ایکشن ہو پر اگلے دن سب نارمل تھے سوائے سمیر کے پر وہ تو اسے ویسے بھی منہ نہیں لگاتا تھا۔ جب جب علینہ نے اس کی طرف دیکھنے کی غلطی کی اسے ان آنکھوں میں اپنے لئے واضح ناپسندیدگی اور غصہ دکھائی دیا لیکن یہ بھی شکر وہ زیادہ دیر گھر میں ٹکتا ہی نہیں تھا۔ چھٹی کا دن تھا پر وہ غائب رہا اور آج بھی صبح کا گیا رات کو پلٹا تھا ۔ گھر والوں کی ہی زبانی اسے ہر بات کا علم ہورہا تھا کہ وہاں ان کی زندگی کھلی کتاب تھی ، کسی سے کوئی بھید نہ تھا۔ کھانے پہ جبراََ وہ وہاں بیٹھی لیکن کچھ کھایا نہیں جارہا تھا مگر وہ اسے مکمل نظر انداز کئے اپنے گھر والوں کے ساتھ مزے سے باتیں کرتا ڈنر اڑا رہا تھا (ظاہر ہے اس کے باپ کا گھر تھا) ۔ کھانے پہ اسے حسبِ معمول نور نے ٹوکا ، ان کے انداز میں محبت و تفکر تھا پھر بھی وہ بس چند لقمے ہی لے پائی اور پڑھائی کا بہانہ بنا کر کمرے میں گھس گئی۔

 افف وہ اور اس کی باتیں۔۔۔۔۔علینہ کو وہ آدمی کم مشین زیادہ لگ رہا تھا۔ جیسے کمپیوٹر تیزی سے معلومات اگل رہا ہو۔ ٹھیک ہی اس کے گھر والے اسے مِس کر رہے تھے اور بات بے بات اس کا تذکرہ کیا جاتا تھا۔ وہ اس کی ملازمت اور عہدہ جانتی تھی اور مان رہی تھی کہ وہ پوری طرح اس کا اہل ہے اوپر سے اس کی شاندار شخصیت، فارمل سے کیثول تک ہر لک متاثر کرتی تھی۔ صبح وہ اگر نک سک سا تیار نگاہ کھینچ رہا تھا تو ابھی گرے ٹراو ¿زر سفید پولو شرٹ میں بھی قابلِ دید تھا۔ چند روز پہلے کی چڑ خوامخواہ احساسِ کمتری میں بدل رہی تھی۔

 کھانے کی میز سے ہٹ کر وہ لوگ لاو ¿نج میں نشست جما چکے تھے۔ ان کی آوازیں علینہ تک پہنچ رہی تھیں جو اب گیسٹ روم کی بجائے فریحہ کے کمرے میں منتقل ہوچکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد فریحہ بھی چلی آئی تو اسے کچھ کچھ شرمندگی نے آگھیرا۔ ایک تو پہلے ہی ان کے گھر میں گھسی تھی اب کمرے کی پرائیویسی میں بھی مخل ہورہی تھی لیکن فریحہ کا انداز بہت دوستانہ تھا۔ پچھلی دو راتیں وہ بہت اچھے طریقے سے اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرچکی تھی ۔ حالانکہ وہ ان دنوں کچھ اسٹریس میں تھی پر اسے اپنی کیفیات چھپانی آتی تھیں اسی لئے علینہ کو ناخن برابر بھی شک نہ ہوا کہ وہ اداس ہے۔ دو دن پہلے فارس سے ہوئی گفتگو بے نتیجہ رہی تھی۔ وہ اسے اپنا موقف سمجھا نہیں پائی تھی وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا تو بات کسی نتیجے پہ پہنچتی ہی کیسے۔ فریحہ لیٹنے لگی تو علینہ بھی کتابیں چھوڑ کر بستر پہ آگئی۔ نیند کسی کو بھی نہیں آرہی تھی دونوں کے ذہن اس وقت الجھے ہوئے تھے۔

”تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے“۔بیڈ پہ چت لیٹے چھت پہ نگاہیں ٹکائے اندھیرے میںفریحہ کی ابھری۔

”نہیں“جواب مختصر اور فوراََ دیا گیا تھا۔

”کرنا بھی مت، بڑا خوار کرتی ہے“۔یہ مشورہ تھا یا تنبیہہ علینہ کی سمجھ میں نہیں آیا تھا اور اس کا سمجھنے کا موڈ بھی نہیں تھا۔

”مجھے تو معلوم ہی نہیں یہ کس بلا کا نام ہے جانے کسی کو ہوتی بھی ہے یا نہیں“۔اس نے ضرورت سے زیادہ سچائی سے جواب دیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ سچائی تلخ ہوتی ہے۔ زہر سے زیادہ کڑوی۔۔۔۔۔حلق تک تلخی اتر گئی تھی۔

”میرا خیال ہے” نہیں“۔فریحہ نے لب بھینچے۔

”لیکن آپ کو تو سب بہت چاہتے ہیں، آپ کی بہت اہمیت ہے گھر میں“۔علینہ کے لئے محبت کا مرکز و منبع فریحہ سے مختلف تھا۔ وہ اس پل رشتوں کو ٹٹول رہی تھی، فریحہ اسے ایک شخص سے نتھی کر رہی تھی۔ ”نہیں الو میں اس محبت کی بات نہیں کر رہی وہ تو سب ماں باپ بھائی بہن کرتے ہیں ایک دوسرے سے، خون کی کشش ، خونی رشتوں کا تقدس اور تحفظ تو سب کرتے ہیں۔ میں تو اس دوسری محبت کی بات کر رہی تھی۔۔۔۔“اس کا انداز کفیوژن بھرا تھا پر فریحہ نے ٹوکا۔ کروٹ لے کر ہاتھ کان کے نیچے دبائے وہ علینہ کی طرف رخ کئے بولی۔وہ دونوں ہی محبت کو دو الگ پیراو ¿ں میں جوڑ رہی تھیں اپنی جگہ دونوں ٹھیک تھیں پر سوچ غلط رہی تھیں۔

”سب نہیں کرتے، سب کے پاس یہ تحفظ نہیں ہوتا فریحہ باجی“۔اس نے نظریں گھما کر دیکھا اور اس پل ان آنکھوں میں اداسی اور بھی گہری تھی۔ فریحہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

”آئی ایم سوری علینہ۔۔۔میں سمجھ سکتی ہوں تمہاری کنڈیشن لیکن تم یہ مت سوچو کہ انہیں تم سے لگاو ¿ نہیں ہے۔ ماں باپ ساتھ رہیں یا نہ رہیں وہ ان کے دلوں میں اپنے بچوں کے لئے چاہت ہمیشہ ہوتی ہے“۔پیار سے اس کا ہاتھ تھام کر اس نے تسلی دی۔

”یہ سب کتابی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ رشتوں کی اہمیت بھی فقط اس وقت تک ہوتی ہے جب تک آپ ان کے ساتھ رہتے ہوں، آنکھوں سے دور ہوں تو دل سے بھی دور کر دیتے ہیں“۔ علینہ بے بسی سے مسکرائی ۔

”تم اپنے ڈیڈ کے پاس کیوں نہیں گئی، وہ تو پاس ہیں۔۔۔ان کے ساتھ رہتی تو انہیں اچھا لگتا“۔اسے اچانک شاکرہ نانی کی بات یاد آئی جب انہوں نے علینہ کے متعلق بتایا تھا کہ وہ اپنے باپ سے شدید چڑتی ہے۔

”لیکن مجھے اچھا نہ لگتا“۔ وہ لب بھینچے اٹھ بیٹھی کیونکہ آنکھیں نم ہونے لگی تھیں، اس سے پہلے کہ آنسو بہنے لگتے اسے ان پہ بند باندھنا تھا۔

”ایسی باتیں مت سوچا کرو، سب کی زندگی میں مسائل ہوتے ہیں ان کے بھی ہوں گے۔ پھر کیا ہوا جو وہ تمہاری ممی کے ساتھ نہیں تم سے تو ان کا تعلق ہے نا“۔ وہ کم عمر تھی اور شائد امیچور بھی اسے کاو ¿نسلنگ کی ضرورت تھی ، اس عمر میں ایسے حالات باغیانہ مزاج کا موجب بنتے ہیں۔

”ان کی زندگی میں میرے لئے جگہ کبھی نہیں بن سکتی ۔ میں وہ بوجھ ہوں جسے کوئی اٹھانا نہیں چاہتا۔آپ نہیں سمجھیں گیں اور شائد میں سمجھا بھی نہ سکوں “۔ہاتھ گھٹنوں پہ لپیٹے وہ سمٹ کر بیٹھی تھی۔ اداسی کی شدت اس پہ احساسِ شرمندگی کہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنا آپ کھول کر رکھنا پڑا تھا کیونکہ سامنے بیٹھے شخص کے لئے وہ راز نہ تھی اسے تکلیف دے رہا تھا۔

”اچھا ریلیکس ۔۔۔رونا نہیں پلیز کیونکہ مجھے چپ کروانا نہیں آتا ہے“۔فریحہ کو یقین تھا وہ زاروقطار رو نے لگے گی اور اس بات کے بعد علینہ روتی آنکھوں سے ہنس دی۔

”ویسے جب تمہاری شادی ہوجائے گی تو تم یہ سب شکوے شکایات بھول جاو ¿ گی۔ “فریحہ نے یونہی بات برائے بات کہا اور ایک بار پھر بستر پہ دراز ہوگئی ۔

(ایسا وقت میری زندگی میں کبھی نہیں آئے گا) علینہ نے انگلی کی پوروں سے آنکھوں کے نم گوشے صاف کرتے دل ہی دل میں تہیہ کیا ۔

٭….٭….٭

امتحان تو بس امتحان ہوتے ہیں پھر بھلے زندگی کی کسی بھی اسٹیج پر ہوں اور آپ نے بھلے ان کی تیاری میں دن رات ایک کیوں نہ کیا ہو پر یہی لگتا ہے سب پڑھا لکھا بھول چکے ہیں اس وقت تک جب تک کہ سوالنامہ سامنے نہ آجائے۔ چیونٹی کی طرح سرکتی زندگی میں لمحہ لمحہ گزرتے یہ پل کبھی لوٹ کر نہ آنے کے لئے گزرتے جارہے تھے اور اب ایف ایس کے فائنل ایگزامز کے بعد یوں لگتا تھا جیسے فراغت ہی فراغت ہے۔ صبح پیپر سے فارغ ہوکر اس نے خوشی خوشی گھر کا سارا کام نبٹا لیا تھا اور پھر لمبی تان کر سوگئی۔ ٹیپو اور سفینہ کی گھر واپسی ہوئی پر دونوں نے اسے جگایا نہیں۔ شہباز حسبِ معمول گھر پہ نہیں تھا اس لئے گھر میں سکون تھا۔ شام کو سفینہ نے اس کو دھر لیا اور لگی تیل کی مالش کرنے۔ اس کے مطابق پڑھ پڑھ کر بال روکھے ہورہے ہیں۔ ٹیپو اندر بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا۔ وہ دونوں باہر گپیں لگا رہی تھیں۔

”ڈاکٹر صاحب آج میرے کالج آئے تھے“۔اسے صبح کا خیال آیا۔ دن بھر کی مصروفیات میں وہ ماں کو بتانا بھول ہی گئی تھی۔

”کون زبیر؟“سفینہ تحیر سے بولی۔

”جی امی۔ پوچھ رہے تھے پیپر کیسے ہورہے ہیں اور یہ بھی کہ آگے کیا کرنے کاارادہ ہے“۔اس نے تفصیل بتائی۔ سفینہ مسکرائی۔

”پھر تم نے کیا کہا؟“اپنے گلابی لبوں کو بھینچے وہ سوچنے لگی۔

”میں نے کہا میں بہت زیادہ پڑھنا چاہتی ہوں۔ کچھ بننا چاہتی ہوں تو کہنے لگے کبھی میری مدد چاہئیے ہو تو ضرور بتانا“۔ٹھہر ٹھہر کر بتایا تو سفینہ کے لبوں کی مسکراہٹ سمٹی۔

”وہ تو بناءمانگے بھی مدد کر رہا ہے ہماری۔ داخلہ فیس اور فارم سب جمع کروا دیا۔ ہم تو شکریہ بھی نہیں کہہ سکے“۔اس بے عزتی کے پل کو وہ بھی کہاں بھولی تھی اور جس طرح اس نے مدد کی کہ ایک ہاتھ سے دوسرے کو بھی خبر نہ ہوئی تو دل میں اس کا مقام کچھ اور اونچا ہوا تھا۔

”میں نے بھی یہی کہا اور ان کا شکریہ بھی کر دیا تھا“۔فاطمہ چہک کر بولی۔

”بہت اچھا کیا“۔سفینہ ایک بار پھر اس کے سر میں تیل کی مالش کرنے لگی۔

”پتا ہے امی پہلے میں سوچتی تھی میں آپ کی طرح ٹیچر بنوں گی۔ ماسٹرز کے بعد کالج میں لیکچرار لگوں گی لیکن اب میرا دل کرتا ہے میں ڈاکٹر بنوں بالکل ڈاکٹر زبیر جیسی“۔اپنی عمر کی لڑکیوں کی طرح وہ بھی مستقبل کے خواب بنتی تھی پر کبھی زبان سے اس لئے نہیں نکالا کہ حالات موافق نہ تھے ۔ آج مشکل حالات میں ہی سہی کالج کے دو سالوں نے اسے اعتماد اور امید کی سیڑھی پہ لاکھڑا کیا تھا ۔ ایک روشن مستقبل کی تمنا سر اٹھانے کو بے چین تھی اور ان دنوں وہ ڈاکٹر زبیر کو بہت زیادہ آئیڈیالائز کر رہی تھی۔ اس کے متعلق جتنا سوچتی اس سے عقیدت بڑھتی جاتی۔

”وہ تو انسانوں میں فرشتہ ہے بیٹا اس جیسا کوئی دوسرا کہاں ہوگا“۔سفینہ کا ہاتھ رک گیا۔

”ہم بس اپنا سوچتے ہیں اپنے لئے جیتے ہیں لیکن وہ سب کا سوچتے ہیں سب کی فکر کرتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے میری فرینڈ بتا رہی تھی اس کی امی کا آپریشن انہوں نے مفت کروایا ہے“۔وہ پرجوش ہوئی پر اسی پل بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ دونوں چونکیں۔

”لگتا ہے تمہارے ابا آگئے، ان کے سامنے اس کا نام بھی مت لینا“۔سفینہ نے جلدی سے کہا اور فاطمہ نے ہونٹ بھینچ لئے۔ شہباز کی گھر آمد ان سب کو ہی ہراساں کردیا کرتی تھی۔جتنا وقت وہ گھر نہیں ہوتا تھا وہاں سکون اور زندگی نظر آتی تھی پر اس کے گھر آتے ہی سکون درہم برہم ہوجاتا تھا۔

”کیا باتیں ہورہی ہیں ماں بیٹی میں “۔ان دونوں کا خیال تھا وہ اپنے کمرے میں چلا جائے گاپر دروازے کو ٹھوکر سے بند کرتا وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ ہاتھ میں ماچس کی تیلی پکڑے وہ دانتوں میں خلال کر رہا تھا۔

”کچھ نہیں ہم تو بس ایسے ہی“۔سفینہ نے بات بنائی۔

”ہو تو رہے تھے کوئی راز و نیاز لیکن مجھے دیکھ کر چپ ہوگئی ہو۔ ہاں بھئی میں تو ویلا مسٹنڈا، ایک دم ناکارہ انسان ہوں۔ نہ کبھی گھر کا سوچا نہ اولاد کا۔ پھر کوئی مجھے کچھ کیوں بتائے گا“۔وہ منہ بنا کر بولا ۔

”ایسی کوئی بات نہیں شہباز ، فاطمہ اپنے پرچے کا بتا رہی تھی۔ آج اس کا آخری پیپر تھا “۔سفینہ بے بسی سے بولی۔

”چلو یہ معاملہ بھی ختم ہوا۔ جان چھوٹی اس پڑھائی سے“۔اسے کہاں ان باتوں کی خبر ہوتی تھی ۔ جو بچوں کی روٹی کی پرواہ نہیں کررہا تھا اسے ان کی پڑھائی کی فکر کہاں سے ہوتی۔

”نہیں ابا ابھی کہاں، ابھی تو مجھے آگے ایڈمیشین لینا ہے“۔فاطمہ ہمت کرکے بول پڑی۔ کالج میں داخلے پہ شہباز کے واویلا مچانے کے باوجود سفینہ نے منت سماجت کرکے اسے خاموش کروا دیا تھا۔ خوامخواہ کی حاکمیت تھی ورنہ حصہ تو اس کا دھیلے کا بھی نہیں تھا۔ نہ مالی اور نہ ہی اخلاقی۔ وہ تو الٹا ٹانگ کھینچنے والوں میں سے تھا لیکن کالج کے دو سالوں نے فاطمہ کو کافی حوصلہ دے دیا تھا ۔

”کوئی ضرورت نہیں مزید پڑھنے کی بس میں نے سوچ لیا ہے اب اس کی شادی کرنی ہے“۔وہ یکدم سیدھا ہوگیا۔ فاطمہ نے کچھ کہنا چاہا پر سفینہ نے آنکھ کے اشارے سے منع کیا۔

”شادی تو کرنی ہے لیکن رشتہ کون سا دروازے پہ کھڑا ہے۔ جب تک کوئی مناسب رشتہ نہیں مل جاتا یہ پڑھتی رہے“۔مصلحت کا تقاضہ یہ تھا کہ بات بڑھنے نہ دی جائے۔ وہ نہیں چاہتی تھی قبل از وقت کسی بات کو لے کر گھر میں جنگ و جدل شروع ہوجائے۔

”لو بھئی پھر داد دو مجھے تمہارا یہ مسئلہ اس نکھٹو نے حل کردیا۔ رشتہ میرے پاس ہے بلکہ میں تو ہاں بھی کر آیا ہوں۔ لڑکا دیکھا بھالا ہے اور جہیز میں ایک دمڑی نہیں چاہیئے بس دو کپڑوں میں بیاہ کر لے جائے گا ہماری شہزادی کو“۔اس نے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر شاطر انداز میں کہا اور پھر اپنی ہی بے تکی بات سے حظ اٹھاتا زور زور سے قہقہے لگانے لگا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔

”کون ہے وہ“؟سفینہ کی آواز خوف سے لرز رہی تھی جبکہ فاطمہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔

”ارے اپنا عارف، میرا جگری یار“۔ الفاظ تھے یا آتش فشاں، سفینہ کا دل ہاتھ میں آگیا تھا۔ فاطمہ سن سی رہ گئی جیسے پتھر ہوگئی ہو۔

”وہ جواری ۔۔۔۔اس سے تم فاطمہ کا رشتہ طے کرکے آئے ہو“۔یہ پہلی بار تھا سفینہ بولی نہیں دھاڑی تھی۔

”ہاں تو کیا کمی ہے اس میں ۔ لکھ پتی آدمی ہے۔ ساری زندگی عیش کرے گی عیش“۔شہباز پر تو جیسے کسی بھی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

”وہ بدقماش انسان جس کے اپنے پاو ¿ں اس وقت قبر میں لٹک رہے ہیں اور جس کی بدنامی اور بدمعاشی کے قصے گلی گلی بکھرے ہیں اس سے تم اپنی کم سن بیٹی کا بیاہ کرو گے؟“اس نے شرم دلانے کی ناکام کوشش کی پر وہ نہیں جانتی تھی شہباز شرم اور غیرت ہی جوے میں ہار نہیں آیا اس کے ساتھ وہ اپنی جوان بیٹی بھی بیچ آیا ہے جسے داو ¿ پہ لگا کر اس نے عارف سے اپنا قرض بخشوایا ہے۔

” تیری بیٹی کے لئے کون سا شہزادے کا رشتہ آئے گا۔ اسی شہر محلے کا ہی ہوگا نہ کوئی تو عارف کون سا برا ہے اور میری بات سن مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ سمجھی“۔وہ پرلے درجے کا بے غیرت تھا، جو مرد اپنی بیوی کی عزت نہیں کرتا، اسے تحفظ فراہم نہیں کرسکتا وہ اپنی اولاد کی کیا خاک پرواہ کرے گا۔

”سمجھ گئی۔۔۔ بہت اچھی طرح سمجھ گئی۔ یقینناََ پیسوں کے بعدآج بیٹی کو بھی جوئے میں ہار آئے ہو تم“۔ سفینہ کو آج پہلی بار اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ۔ اس نے خاموش ہوکر وقت گزارنا چاہا تھا۔ وہ یہی سمجھتی رہی کہ شہباز لاکھ برا سہی پر اس کے ہوتے کسی کی ہمت نہیں ان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کی پر وہ غلط تھی، اس کی قمار بازی کی بدولت آج اس کی اپنی اولاد سرِ بازار نیلام ہورہی تھی۔

”زیادہ ٹر ٹر مت کر، اپنی اوقات میں رہ ورنہ دو ہاتھ ماروں گا وہاں کھرے میں گری ہوگی۔ میں فیصلہ کرچکا ہوں اس جمعرات کو فاطمہ کا نکاح عارف سے ہوگا اب اگر تو نے بکواس کی تو تیرا منہ توڑ دوں گا“۔اس نے حسبِ سابق ہاتھ اٹھا کر ڈرانا چاہا پر سفینہ ہوش میں آئی تھی۔

”یہ میری بیٹی ہے، میں نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے پالا ہے اسے ، پڑھا یا لکھایا ہے۔ تمہاری عیاشیوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دں گی میں“۔وہ اس کا گریبان تھام کر بولی تو شہباز نے اسے ایک جھٹکے سے پرے دھکیلا۔ فاطمہ اب تک تپائی پہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کہ سر پہ کھڑے وہ دونوں لڑ جھگڑ رہے تھے پر اس کی آنکھوں میں فقط نمی تھی ۔ یہ آنسو نہیں وہ لہو تھا جو اس کے خوابوں کے قتلِ عام پہ بہہ رہا تھا۔

”ارے تو کیا جہیز میں لے کر آئی تھی۔ میری بھی تو کچھ لگتی ہے اور اولاد ہی تو باپ کے کندھوں کا بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ اب چل ہٹ سامنے سے میرا موڈ مت خراب کر سخت نیند آرہی ہے“۔ شہباز نے اپنی فطرت کے عین مطابق سفینہ کے دو ہاتھ جڑے ۔ وہ چارپائی پہ جاکر گری ۔ وہ خود انگڑائیاں لیتا کمرے میں جاگھسا پر اس پل ان دونوں کی نیند حرام کرگیا تھا ۔

ژ              ژ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

درندہ۔۔ قسط نمبر 13۔۔خورشید پیرزادہ

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ قسط نمبر 13 رفیق اپنے کیبن میںایک فائل کا مطالعہ کر رہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے