سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں ۔۔۔۔ مبشرہ انصاری ۔۔ قسط نمبر 1

ان لمحوں کے دامن میں ۔۔۔۔ مبشرہ انصاری ۔۔ قسط نمبر 1

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر 1

”اُجالے نے اندھیرے کی اوٹ سے جھانک کر وسیع آسمان کو سلا کیا تھا…. ابر کچھ دیر پہلے ہی تھما تھا…. دور، دور جاتی صاف ستھری سڑکیں گزری رات،آسمان سے بہے آنسوﺅں کا احوال بیان کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ خنک ہوائیں اس کی رگ و پے میں سرایت کرنے لگیں…. کتنا خوبصورت منظر تھا…. مگر وہ اردگرد کے نظارے سے انجان، بس چلتی چلی جا رہی تھی…. اس پر کربناک تنہائی کا عذاب نازل ہو چکا تھا….

کوئی کسی سے ہمدردی نہیں رکھتا…. کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا….

اس نے من ہی من میں سوچا…. اس کے پاﺅں گیلی سڑک کوپیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے…. وہ جان چکی تھی کہ اس دنیا میں بسے انسانوں کی بھیڑ میں ہر انسان اکیلا ہے…. ایسے ہی جیسے ایک وسیع سمندر میں بے شمار جزیرے…. ایک دوسرے کے آس پاس…. لیکن ایک دوسرے سے ناشناس….

ناشناسی اورناآشنائی کی وباءپھیل چکی ہے…. کوئی کسی کا پُرسان حال نہیں ہے…. دائیاں ہاتھ، بائیں ہاتھ سے بے خبر ہے….“

بپ ، بپ ، بپ…. ٹیبل پر رکھے موبائل کی وائبریشن نے کورے کاغذوں کی سطروں پر بکھرتے لفظوں کو مزید بکھرنے سے روک دیا تھا…. ہاتھ میں قید خوبصورت پین کو مٹھی میں دبوچتے ہی وہ غصے کے عالم میں، بلیک ماڈرن فریم والے نظر کے چشمے سے گھورتے ہوئے ٹیبل پر وائبریٹ کرتے موبائل کی جانب دیکھنے لگی…. موبائل سکرین پر کوئی اَن نون نمبر بلنک کیے چلا جا رہا تھا…. کتنے انہماک سے وہ اپنے نئے ناول کا المناک سین لکھ رہی تھی…. مگر اب کسی نے جانے انجانے میں اسے اس کے ناول کی دنیا سے انفکاک کر ڈالا تھا….

”ہیلو!“

کس قدر بیزاری کا مظاہرہ کیا گیا تھا…. اس وقت وہ شدید غصے کا شکار ہو چکی تھی…. اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ فون کرنے والے شخص کا منہ نوچ ڈالے…. مگر اگلے ہی پل اس کا سارا غصہ ایک لمحہ میں اُڑن چھو ہوتا محسوس ہوا…. نجانے فون کی دوسری جانب کون تھا اور کیا کہہ رہا تھا کہ اس کا خطرناک غصہ ایک خوبصورت مسکراہٹ میں تبدیل ہو گیا….

”رئیلی؟…. شیور…. میں ٹائم پر پہنچ جاﺅں گی…. تھینک یو….! بائے….“

موبائل واپس ٹیبل پر رکھتے ہی خوشی کی خوبصورت کرنیں چہرے پر سجائے وہ چمکتی آنکھوں سے موبائل کی بلیک سکرین کی جانب دیکھنے لگی تھی….

ض……..ض……..ض

”پیار….؟ ہونہہ…. پیار ایک بیکار سی چیز ہے…. مجھے کبھی کسی سے پیار نہیں ہو سکتا….Never!“

جوس کا آخری سپ لیتے ہی الحان ابراہیم نے کانچ کا نازک نفیس خوبصورت گلاس واپس ٹیبل پر رکھا اور اپنے بچپن کے ساتھی، اپنے ہمراز، اپنے بیسٹ فرینڈ کبیر کی جانب دیکھتے ہوئے پختہ یقین سے گویا ہوا….

سامنے والی چیئر پر بیٹھا کبیرخان معنی خیز نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے زیرلب مسکرا کر جواباً بولا….

”رئیلی؟…. یعنی تم کہنا چاہ رہے ہو کہ پیار صرف ٹائم پاس ہے؟ اور یہ ہمیشہ تمہارے لیے ٹائم پاس ہی رہے گا؟ رائٹ؟“

”Exactly میرے بھائی…. پیار ٹائم پاس کے سوا کچھ بھی نہیں….“ اس بار وہ خاصے پُرجوش انداز میں بولا تھا….

”ہوں…. اور اگر کبھی ایسا ہو گیا؟…. میرا مطلب، اگر کبھی تجھے پیار ہو گیا…. تو؟“

”امپوسیبل!“

وہ ٹیبل پرہاتھ مار کر بولا…. کبیر ایک بار پھر سے مسکرا دیا….

”ٹھیک ہے…. توپھر لگا شرط….“

”شرط؟“

الحان نے تیوری چڑھائی….

”ہاں….لگا شرط کہ تو زندگی میں کبھی پیار نہیں کرے گا….“

”کیا بے تکی بات کر رہا ہے کبیر! میں کہہ رہا ہوں ناں…. ایسا ممکن ہی نہیں….“

”تو پھر شرط لگانے میں کیا حرج ہے؟“

کبیر نے اس بار الحان کی آنکھوںمیں جھانکتے ہوئے کہا….

”کوئی حرج نہیں…. چل عیش کر…. لگائی شرط!“

”چل پھر ڈن ہوا…. میں ابھی عاشر زمان سے بات کرتا ہوں…. وہ ایک ریئلٹی شو ڈائریکٹ کرنے لگا ہے….“

”ابے کیسا رئیلٹی شو؟“

الحان نے ایک دم چونک کر دیکھا….

وہ دونوں اس وقت لندن کے ایک مشہور کیفے میں آمنے سامنے بیٹھے لنچ کے دوران ازلوں سے نہ ختم ہونے والی بحث، جو کہ اب ایک شرط کا رُوپ دھار چکی تھی، کو چھیڑے ہوئے تھے۔

”الگ الگ نیچر کی پچیس حسینائیں ہیں اس رئیلٹی شو میں…. عاشر زمان کو جانتا ہے ناں؟…. ٹاپ کا سیریل ڈائریکٹر ہے۔“

کبیر نے یاد دلانے کی کوشش کی تھی….

”ہاں ہاں جانتا ہوں…. اپنی یونیورسٹی کا وہ پپو بچہ…. اسے کیسے بھول سکتا ہوں؟….“

الحان نے یاد آتے ہی زیرلب مسکراتے ہوئے کہا….

”ان پچیس حسیناﺅں میں سے کسی ایک پر بھی تیرا دل آ گیا تو بھائی میرے، جو میں کہوں گا، وہ تو کرے گا…. اور اگر ایسا نہ ہوا تو جو تُو بولے گا، وہ میں کروں گا…. لگا شرط!“

”کیا؟…. ہا ہا ہا….“

کبیر کی شرط پر پہلے وہ چونکا اور پھر زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے بولا….

”دل تو میرا پچیس کی پچیس حسیناﺅں پرہی آ جائے گا یار!“

”میں پیار کی بات کر رہا ہوں….“

کبیر کی تیوری چڑھانے پر الحان سیدھا ہو بیٹھا تھا…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ شریر سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اپنے ہی انداز میں گویا ہوا….

”ٹھیک ہے…. مجھے منظور ہے…. لگی شرط!“

”سو چ لے!“

”ابے کہا ناں…. منظور ہے….“

”ایک بار پھر سوچ لے…. شاید اس بار تو واقعی اپنا دل ہار بیٹھے….“

”امپوسیبل کا مطلب جانتا ہے ناں؟…. میں الحان ابراہیم، پچیس لڑکیوں کو فلرٹ کروں گا…. اور پھر شو ختم ہونے کے بعد، ان میں سے کسی ایک کی بھی طرف کبھی پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گا…. اور یہ بات میں تجھے تو کیا…. پوری دنیا کو ثابت کر کے دکھاﺅں گا کہ پیار محض ٹائم پاس کے سوا کچھ بھی نہیں….“

الحان کافی سنجیدہ ہو گیا تھا، تبھی کبیر ٹیبل پر ہاتھ مار کر بولا….

”پیار کو چیلنج مت کر میرے بھائی…. پیار بڑی کتی چیز ہے…. نہ آﺅ دیکھتی ہے نہ تاﺅ…. نہ موقع دیکھتی ہے نہ جگہ…. جھٹ حملہ کرتی ہے یہ محبت…. اس لیے میری مان…. اور ہار مان لے شرافت سے….“

”چل بے!…. الحان ابراہیم نے ہار نا نہیں سیکھا…. یہ پیار ویار، عشق محبت سب بیکار، بکواس ہے…. مجھے کبھی کسی سے محبت نہیں ہو سکتی…. اور یہ بات میں پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں….“

”چلو! دیکھتے ہیں….“

کبیر معنی خیز نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

اور پھر یہ سب شروع ہوا ایک شرط سے…. ایک ایسی شرط جسے پایہ تکمیل تک پہنچانا الحان ابراہیم کے لیے بہت اسان تھا….

ض……..ض……..ض

کاریڈور میں چلتے ہوئے وہ بہت دھیرے سے آگے برھ رہی تھی…. کارپٹڈ فلور ہونے کے باعث اس کے ہر اٹھتے قدم کی چاپ کارپٹ میں ہی دبتی چلی جا رہی تھی…. دائیں ہاتھ میں ریڈ کلر کی فائل تھامے وہ ایک بند دروازے کے سامنے جا رُکی…. دروازے کی بائیں جانب دیوار پر ٹنگے چھوٹے سے نیم بورڈ پر (ڈائریکٹر) لکھا دیکھتے ہی اس نے گلا کھنگارتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ کو اٹھا کر دروازے پر ہلکی سی دستک دی….

”کم اِن!“

بھاری مردانہ آواز اُبھری تھی…. اس نے جلدی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی….

”السلام علیکم!“

وہ دھیمے سے گویا ہوئی….

”وعلیکم السلام!…. بیٹھیے….“

نہایت سنجیدگی سے جواب ملا…. حکم ملتے ہی وہ جلدی سے چیئر گھسیٹ کر اس پر براجمان ہو گئی….

”آپ نے سکرپٹ رائٹر کے لیے اپلائے کیا ہے؟“

نظر کا چشمہ لگائے بیٹھا وہ شخص بڑے مصروف انداز میں اس سے سوال پوچھنے لگا تھا…. اس کی ٹیبل پر جابجا پیپرز پھیلے ہوئے تھے…. لیپ ٹاپ پر ہاتھ چلاتا وہ شخص مسلسل سامنے رکھے ایک پیپر پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

”یس سر!“

”وہ برجستہ بولی….

”آپ ہمارے ٹی وی چینل کے لیے سیریز لکھنا چاہتی ہیں؟“

”یس سر!“

”آئی سی!…. آپ نے اس سے پہلے کبھی کسی چینل کے ساتھ کام کیا؟‘

”نو سر!“

اس کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وہ باآسانی یہ بات چھپا گئی تھی کہ وہ ایک پبلشڈ رائٹر ہے…. اور حال ہی میں اس کی کتاب نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے…. اپنی CV میں بھی اس نے اس بات کا ذکر ہرگز نہ کیا تھا…. نجانے کیوں وہ اپنے بارے میں کسی کو کچھ بھی بتانا نہ چاہتی تھی….

”آپ پروفیشنل رائٹر نہیں ہیں…. پھر آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ مجھے آپ کوہائیر کرنا چاہیے؟….“

اس نے مصروف انداز میں پوچھا….

”کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں اچھا لکھ سکتی ہوں…. اور ایک اچھی رائٹر ثابت ہو سکتی ہوں….“

وہ پختہ انداز میں جواباً بولی تھی…. اس دوران میں پہلی بار عاشرزمان نے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھی اس عجیب سی لڑکی کی جانب دیکھا…. عاشرزمان دیکھنے میں بڑا اور بوڑھا ہرگز نہ تھا، جیسا کہ وہ گھر سے سوچ کر نکلی تھی…. سامنے بیٹھا عاشرزمان، اچھی خاصی ہینڈسم پرسنالٹی کا مالک تھا…. ماتھے پر بکھرے گھنے براﺅن بال، گوری نکھری رنگت، چشمے کے پیچھے چھپی کالی آنکھیں، ہلکی بڑھی شیو سمیت وہ خود کسی ڈرامے کے ہیرو سے م نہ لگ رہا تھا…. عاشرزمان بنا پلکیں جھپکائے ٹکٹکی باندھے،سامنے بیٹھی اس عجیب سی لڑکی کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا…. اور وہ ایک دم گھبرا ہی تو گئی…. اپنے میسی ہیئراسٹائل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ گلا کھنگار کر سیدھی ہو بیٹھی تھی…. عاشرزمان مسلسل اسی کی جانب دیکھ رہا تھا….

”کیا میرے سر پر کچھ لگا ہے؟…. یا چہرے پر؟…. یہ مجھے ایسے کیوں گھور رہا ہے؟….“

اس لڑکی نے اپنے بلیک ماڈرن فریم والے نظر کے چشمے کو ہلاتے ہوئے، دل ہی دل میں سوچا…. اور پھر اپنی گرے آنکھوں کو جھپکاتے ہوئے وہ اپنے سراپے پر نظر دوڑانے لگی….

”کیا میرا حلیہ ٹھیک نہیں؟“

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی….

”آئی ایم سوری مس!….“

پیشانی پر شکنیں ڈالے بیٹھا وہ شخص اب اس سے اس کا نام پوچھ رہا تھا….

”مانہ!“

وہ برجستہ بولی….

”یس! آئی ایم سوری مس مانہ! ابھی فی الحال ہمیں کسی رائٹر کی ضرورت نہیں….“

عاشر کا جواب سنتے ہی وہ حیرانگی کا اظہار کرنے لگی….

”کیا؟…. تو پھر…. آپ کے اسٹاف نے مجھے کال کر کے یہاں کیوں بلایا؟ مجھے ایک ہفتہ پہلے اپنے انٹرویو کے لیے کال آئی تھی…. اور پھر آج صبح ایک بار پھر سے آپ کے آفس سے کال آئی کہ آج میرا جاب انٹرویو ہے….“

عاشر کچھ دیر خاموش رہا…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ دھیمے سے گویا ہوا….

”کیونکہ میرے پاس آپ کے لیے ایک اور آفر ہے….“

”آفر؟“

”ہوں…. آپ کی ایج کیا ہے؟“

”24….“

”لیکن آپ 24(چوبیس) سال کی لگتی نہیں….“

اس بار وہ تیوری چڑھا کر بولا….

”بہت سے لوگ یہی کہتے ہیں…. آپ میرا آئی ڈی کارڈ دیکھ سکتے ہیں….“

”نہیں، اس کی ضرورت نہیں…. آپ کہہ رہی ہیں تو یقینا ہوں گی….“

وہ اس باربھی سنجیدہ رہا….

”آپ کس آفر کی بات کر رہے تھے؟“

وہ دو ٹوک اندازمیں بولی…. عاشر زمان کرسی پیچھے کی جانب دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا…. کرسی کی پچھلی جانب جاتے ہی وہ ایک بار پھر سے گویا ہوا….

”ہم ایک رئیلٹی شو سٹارٹ کرنے جا رہے ہیں…. (ان لمحوں کے دامن میں) اور اس رئیلٹی شو کو میں خود ڈائریکٹ کر رہا ہوں…. آج سے ٹھیک دو دن بعد ہم لوگ شو کی شوٹنگ کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔“

”آپ کے اس شو سے میرا کیا تعلق؟“

وہ تذبذب کے عالم میں پوچھنے لگی۔….

ایکچوئلی مس مانہ! پچھلے ہفتے ہم نے اس شو کے لیے پچیس لڑکیاں منتخب کی تھیں…. آج صبح ان پچیس لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کی کال آئی۔ اس نے بتایا کہ کل رات ہی اس کی انگیج منٹ ہو گئی، جس کے باعث اب وہ اس شو کا حصہ نہیں بن سکتی….“

مانہ چند ثانیے خاموش بیٹھی عاشر کے مزید کچھ بھی کہنے کا انتظار کرتی رہی۔ وہ خاموش کھڑا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا….

”ویل! گڈ فور ہر!“

وہ ابھی بھی تذبذب کی شکار تھی….

”اینڈ ناﺅ! میرے اس شو میں ایک لڑکی کی کمی ہے…. دو دن بعد شوٹنگ ہے۔ اینڈ تھرڈ ڈے سے شو آن ایئر جانا ہے…. میرے پاس وقت کی بہت کمی ہے جس کے باعث میں مزید آڈیشنز ہرگز نہیں کر سکتا….“

مانہ اس کی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی….انکار اس کے لبوں پر آنے کو ہی تھا کہ عاشر کی آواز ایک بار پھر سے اس کی سماعت سے ٹکرائی….

”میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس رئیلٹی شو میں ایک کنٹسٹنٹ کے طور پرحصہ لیں…. بٹ ڈونٹ وری! ہم آپ کا زیادہ ٹائم نہیں لیں گے….“

’آئی ایم سوری سر! میںپردے کے پیچھے رہ کر کام کرنا چاہتی ہوں…. مجھے آپ کی اس آفر میں کوئی دلچسپی نہیں…. آئی ایم رئیلی سوری!“

”اس شو کے ختم ہوتے ہی میں ایک نیو سیریز ڈائریٹ کرنے والا ہوں۔ اگر آپ میری یہ آفر قبول کرتی ہیں…. تو میں اپنی نیکسٹ سیریز یقینی طور پر آپ سے ہی لکھواﺅں گا…. اور اس کے لیے مجھے آپ کا ٹیسٹ لینے کی بھی ضرورت نہیں….“

لب بھینچتے ہوئے وہ پریشانی کے عالم میں پوچھنے لگی….

”یہ شوہے کس قسم کا؟“

”اس شو میں ایک اہم اور رئیس شخصیت کا اکلوتا چشم و چراغ، جو اپنی رئیل لائف میں ایک پلے بوائے ہے، ان پچیس لڑکیوں میں سے کسی ایک کو اپنی لائف پارٹنر منتخب کرے گا…. اور اگر شو کے آخرتک اسے کوئی لڑکی امپریس نہ کر سکی تو وہ تمام لڑکیوں کو ریجیکٹ کرنے کا حقدار بھی ہے….“

شو کی ڈیٹیل سنتے ہی وہ غصے کے عالم میں خود پر کنٹرول کرتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”آئی ایم سوری مسٹر عاشر! میں کسی بگڑے ہوئے رئیس زادے کے لیے ایک آپشن بننا ہرگز گوارہ نہیں سمجھتی…. تھینکس فور یور آفر!“

”سوچ لیجیے مس میمانہ انان! سیریز لکھوانے کی بیسٹ آفر میرے سوا آپ کو اور کوئی نہیں دے گا….“

باہر کی جانب اٹھتے قدم اپنا پورانام لیے جانے پر ایک دم تھم سے گئے…. اس نے تو اپنا پورا نام اپنی CV میں بھی نہ لکھا تھا…. پھر عاشرزمان اس کے پورے نام سے کیسے واقف ہوا تھا…. آنکھوں میں بے پناہ حیرت سموئے وہ سراسیمہ حیران کھڑی عاشر کی جانب دیکھے چلی گئی….

”آپ…. میرا پورا نام کیسے جانتے ہیں؟“

وہ رُک رُک کر بولی…. عاشرزمان اس بار بالآخر مسکرا ہی دیا…. وہ پہلی بار زیرلب مسکرا رہا تھا جبکہ مانہ حیرانگی کا مجسمہ بنی اس کے مسکراتے چہرے کا طواف کرنے لگی….

”آپ کے نام سے کون واقف نہیں؟…. خاص کر ہم چینل والے لوگ؟ میں بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ آپ کتنی قابل رائٹر ہیں…. اور یہ بھی جانتا ہو ںکہ حال ہی میں آپ کی کتاب ”باوری پیا کی“ نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے…. پڑھا ہے میں نے آپ کا ناول…. خاصہ متاثر بھی ہوا ہوں…. اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ بنا ٹیسٹ لیے آپ سے سیریز لکھواﺅں گا…. اور ہر ایپی سوڈ پر آپ کو ایک مناسب اماﺅنٹ بھی دی جائے گی…. چینل پر کام کرنے کا آپ کا یہ پہلا ایکسپیرئنس ہے…. اور اتنی اچھی آفر کوئی بھی چینل آپ کو نہیں دینے والا…. سوچ لیجیے اس شو کے فوراً بعد آپ کو ایک سیریز لکھنے کا کانٹریکٹ مل سکتا ہے۔“

”لیکن میں نے تو آپ سے یا اس چینل کے کسی بھی اسٹاف سے اپنے پورے نام کا ذکر تک نہیں کیا…. پھر…. آپ؟“

وہ اپنے ہی نام پر آ ٹکی تھی….

”پہچاننے والے پہچان جاتے ہیں مس مانہ! میں نہیں جانتا کہ آپ اپنی آئی ڈینٹٹی چھپانا کیوں چاہتی ہیں…. پر آئی پرامس! میں کسی سے آپ کی اس آئی ڈینٹیٹی کاذکر نہیں کروں گا…. آپ بس ہاں بول دیں….“

”پر آپ مجھے ہی کیوں سلیکٹ کرنا چاہتے ہیں؟“

”کیونکہ میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں…. ٹائم کی کمی ہے…. آڈیشن لینے کا وقت نہیں…. اور سب سے بڑی بات کہ آپ ایک مسلمان اور پاکستانی خاتون ہیں…. ہمارے اس شو میں 4 مسلم لڑکیاں اور بھی ہیں لیکن ان کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے…. یور آر دی بیسٹ آپشن فور مائے شو! آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کسی اور کا آڈیشن لینے کی ضرورت نہیں…. تمام تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔ پرسوں کی روانگی ہے…. اور ویسے بھی مجھے یقین ہے کہ آپ اس شو سے جلد ہی رخصت ہو جائیں گی…. ہو سکتا ہے کہ اس شو کا Bachelor آپ کوٹاپ 15 کے لیے چن لے…. مگر مجھے زیادہ تر چانسز لگتے ہیں کہ وہ آپ کو ٹاپ 15 کے لیے بھی سلیکٹ نہیں کرے گا۔“

عاشر نے سر تا پا اس کے حلیے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا…. وہ لب بھینچے خاموش کھڑی رہی عاشر ایک بار پھر سے بولا۔

”یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہمارے شو میں صرف ایک دن کی مہمان ہیں…. صرف اور صرف اس ایک لڑکی کی جگہ فِل کرنے کے لیے…. ایک دن بعد آپ کو اس شو سے ایلیمنیٹ کر دیا جائے گا…. اور پھر میں آپ کو اپنے اپ کمنگ پروجیکٹ کے لیے باآسانی جگہ دے دوں گا…. ناﺅ آل اَپ ٹو یو مس مانہ!“

عاشر اب کی بار خاموش کھڑا مانہ کے چہرے کے اُتار چڑھاﺅ دیکھ رہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے…. اس لیے وہ فل کانفیڈنٹ تھا…. کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ پریشانی کے عالم میں گویا ہوئی۔

”میں جب چاہوں اپنے گھر واپس جا سکتی ہوں؟“

”نہیں…. آپ اپنے گھر تب ہی واپس جا سکتی ہیں، جب ہمارے شو کا Bachelor آپ کو ایلیمنیٹ کرے گا….“

عاشر نے کہتے ہی اپنے کندھے اُچکائے تھے…. جبکہ مانہ پریشانی کے عالم میں لب بھینچتے ہوئے پُرسوچ انداز میں جواباً بولی….

”میں فیصلہ نہیں کرپا رہی….“

”ڈونٹ وری مس مانہ! میں اپنے شو کے Bachelor کو پرسنلی بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں…. آپ اس کے ٹائپ کی بالکل نہیں ہیں…. اس لیے مجھے یقین ہے کہ وہ پہلے ہی دن آپ کو ایلیمنیٹ کر دے گا۔“

وہ اس کی باتوں سے ہرٹ ہرگز نہیں ہوئی تھی…. اسے اس بات کی پرواہ ہرگز نہ تھی کہ وہ کیسی دکھتی ہے…. وہ تو کسی اور ہی سوچ میں گم تھی۔ وہ چیزجو اس کے لیے بہت اہم تھی…. لب بھینچے وہ کارپیٹڈ فلور کو دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں ہمکلام ہوئی….

”اس میں کچھ نیا ہو سکتا ہے…. اگر میں یہ شو جوائن کروں تو مجھے میری نئی کتاب کے لیے کچھ آئیڈیاز مل سکتے ہیں…. اس شو سے نکلنا میرے لیے بہت آسان ہے…. اسپیشلی وہ رئیس خاندان کا پلے بوائے، مجھ جیسی لڑکی کو کبھی لائک نہیں کرے گا…. میری ڈریسنگ، میرا رویہ، میرا حلیہ…. کچھ بھی تو نہیں…. ایک ہی دن کی بات ہے…. پہلے ہی دن میں ایلیمنیٹ کر دی جاﺅں گی…. اور پھر…. مجھے میری من چاہی جاب بھی مل جائے گی…. وہ جاب جس کے لیے میں یہاں آئی ہوں….“ من ہی من میں فیصلہ کرتی وہ برجستہ بولی….

”مجھے آپ کی آفر قبول ہے مسٹر عاشر! مگر ایک شرط پر….“

عاشر تیوری چڑھائے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”پہلی بات…. آپ میری پوری شناخت کسی کے سامنے واضح نہیں کریں گے…. اور دوسری بات…. آپ اپنا کیا گیا وعدہ اپنے لیٹرہیڈ پر لکھ کر، اس پر سائن کر کے مجھے دیں گے….“

”یہ تو دو شرائط ہیں…. بہرحال…. ڈونٹ وری….“

عاشر زمان اپنے مخصوص انداز میں مسکرا دیا…. اور پھر اپنے مضبوط لہجے میں گویا ہوا….

"Consider it Done!”

ض……..ض……..ض

”تم نے انکارکر دیا ناں؟“

زرین، مانہ کی اکلوتی بیسٹ فرینڈاور ایڈیٹر سراسیمہ حیران بیٹھی، منہ کھولے مانہ کی جانب دیکھ رہی تھی۔

”آف کورس میں نے ہاں کر دی….“

وہ بیڈ پر بیٹھی، اپنا ہائی ہیل جوتا اُتارتے ہوئے سادگی سے گویا ہوئی۔

”تم مذاق کر رہی ہو؟“

”ہرگز نہیں زرین! آئی ایم سیریس! میں واقعی وہ شو جوائن کر رہی ہوں۔“

زرین سامنے پڑی کرسی پر آ بیٹھی…. تفکرانہ انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے وہ دونوں ہاتھ آپس میں جکڑ کر بولی….

”لیکن تم نے عاشرزمان کی یہ آفر قبول کی ہی کیوں؟…. تم اس رائٹنگ جاب کے لیے اتنے Desperate ہرگز نہیں کہ عاشرزمان کی فضول سی آفر قبول کر لو…. تمہاری کتاب نے اس قدر کامیابی حاصل کی ہے کہ تمہیں اگلے دو سال تک کسی بھی جاب کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے…. So!“

"So?”

وہ اسی کے اندازمیں بولی….

”ایک طرف تم دنیا سے چھپ کر رہنا چاہتی ہو…. کسی کو بتانا ضروری نہیں سمجھتیں کہ تم مشہور رائٹر میمانہ انان ہو…. اور دوسری طرف یہ ٹی وی شو؟….“

”مجھے کوئی شوق ووق نہیں ٹی وی میں آنے کا….“

”تو پھر؟“

”پھر کیا؟“

”تم نے عاشر زمان کی یہ غضبناک اور زبردستی کی آفر قبول کیوں کی؟“

”کیو نکہ میں واقعی ٹی وی کے لیے لکھنا چاہتی ہوں…. اور پھر یہ چینل اور ڈائریکٹر پاکستان کے ٹاپ چینل اینڈ ڈائریکٹرز میں سے ایک ہے…. میں یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی…. And yes I’m curious“

مانہ نے کندھے اُچکائے….

"Curious?”

”Yeah, I’m Curious!…. میں جاننا چاہتی ہوں کہ کیمرہ کے پیچھے کی لائف کیسی ہوتی ہے؟…. میں ان لڑکیوں کی فیلنگز بھی محسوس کرنا چاہتی ہوں جو اس طرح کے فضول شوز میںحصہ لیتی ہیں….“

”تم پاگل ہو گئی ہو؟“

”ہرگز نہیں….“

مانہ نے اپنی میسی ہیئراسٹائل کو چٹکی سے آزاد کراتے ہی اپنے نظر والے کالے چشمے کے پیچھے سے اسے گھور کر دیکھا….

”میں سیریس ہوں…. سو فیصد سیریس!“

زرین ٹکٹکی باندھے اسی کی جانب دیکھتی رہی…. مانہ اٹھی اور کچن کی جانب چلی آئی…. زرین اس کے پیچھے تھی….

”تم واقعی سیریس ہو؟“

”ہاں بابا….میں سیریس ہوں…. صرف ایک ہی دن کی بات ہے زرین! مجھے کچھ پوائنٹس چاہیے ہیں…. کہ وہاں کیا ہوتا ہے…. کیسے کام ہوتا ہے…. کیسی فیلنگز ہوتی ہیں بس!“

”پر تمہیں یہ سب جاننا کیوں ہے؟“

”میرے نیکسٹ ناول کے لیے پگلی!“

”او اگر اس شو کے Bachelor نے تمہیں ایلیمنیٹ نہ کیا تو؟“

وہ کس قدر فکرمند تھی اس کے لیے…. مانہ اس کے اس قدر تفکرانہ انداز پر دھیمے سے مسکرا دی….

”زرین! کیا تم جانتی نہیں کہ اس ٹائپ کے رئیس پلے بوائز ایک سے دوسری بار مجھ جیسی لڑکی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے…. پھر تم کیوں پریشان ہو رہی ہو؟“

”کیوں؟…. تم ماشاءاللہ سے خوبصورت ہو….“

”تھینک یو!“

”You are not just vain enough!…. خوامخواہ بہن جی ٹائپ بن کر رہتی ہو….“

”میں جیسی ہوں، ویسی ہی اچھی ہوں….“

”لیکن تم تب کرو گی کیا؟…. اگر Bachelor نے تمہیں ایلیمنیٹ نہ کیا تو؟“

”وہ مجھے پہلے ہی دن اس شو سے کِک آﺅٹ کر دے گا، اوکے….“

چائے کپ میں انڈیلتی وہ دو ٹوک انداز میں بولی…. جبکہ زرین لب بھینچتے ہوئے اسے گھور کر رہ گئی۔

ض……..ض……..ض

”اس بار تمہارے کیا گل کھلانے کے ارادے ہیں؟“

بارعب شخصیت کے مالک ابراہیم صاحب نیوز پیپر ٹیبل پر پٹختے ہی غصے سے پھنکار اٹھے…. وہ جو ڈائننگ ٹیبل پر پہلے سے موجود ناشتہ کرنے میں مصروف تھا، ڈیڈ کی اس قدر طوفانی آمد پر بوکھلا اٹھا…. ٹوس واپس پلیٹ میں رکھتے ہوئے اس نے ایک اچٹتی سی نگاہ نیوزپیپر پر دوڑائی تھی۔

”اٹس فور پبلسٹی ڈیڈ! یہ ہمارے بزنس کے لیے اچھا ہے…. ٹرسٹ می!“

اس نے بڑی مہارت سے جھوٹ گاڑھا…. وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے ڈیڈ بزنس سے کس حد تک ٹچی تھے….

”اور تم کب سے بزنس کے بارے میں سوچنے لگے؟“

ابراہیم صاحب نے گھورتے ہوئے پوچھا….

”دلچسپی تو شروع دن سے ہے ڈیڈ!“

دھیمے سے بولتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا….

”میں اگری کرتا ہوں کہ گزشتہ چندماہ میں، میں نے اپنے بزنس کے لیے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی…. انفیکٹ کئی بار میری وجہ سے ہماری کمپنی کو کافی نقصان بھی جھیلنا پڑا…. پر ڈیڈ! اب میں واقعی کچھ کرنا چاہتا ہوں…. ہماری کمپنی کے لیے….“

وہ چہرے اور لہجے میں بے پناہ معصومیت سموئے بولا تھا….

”اس طرح؟…. پوری دنیا کے سامنے لڑکیوں کے ساتھ افیئر چلا کر؟“

ابراہیم صاحب کی غصیلی نگاہیں اور غصیلہ لہجہ اسے مزید بوکھلا گیا تھا۔

”نن…. نہیں ڈیڈ! افیئر تھوڑی ہے…. آپ کے لیے ایک اچھی، سلجھی ہوئی شریف گھرانے کی بہو لاﺅں گا….“

”بہو؟“

ابراہیم صاحب بدستور اسی انداز میں بولے…. الحان ایک لمحہ کے لیے ہڑبڑایا اور پھر فل کانفیڈنٹ اندازمیں بولا….

”جی…. بہو! آپ میرے اس فیصلے کی برائٹ سائیڈ دیکھیں ڈیڈ! سوچیںکہ اگر مجھے اس شومیں کوئی لڑکی پسند آجاتی ہے، جو میری بیوی اور آپ کی بہو بننے کے لائق ہو…. تو آپ کی اور موم کی ڈھیروںدعاﺅں کے ساتھ میں پوری دنیا کے سامنے اس لڑکی سے شادی کر وں گا…. اور پھر سب کی زبان پر ایک ہی بات ہو گی کہ دیکھو…. ابراہیم انڈسٹریز کے مالک مسٹر ابراہیم خان کے اکلوتے وارث نے ایک معمولی شو میں پسندکی گئی ایک معمولی سی لڑکی سے شادی کر لی۔ دنیا والے داد دیں گے….اور پھر پبلسٹی کی پبلسٹی…. ابراہیم انڈسٹریز بگسٹ ترین فیملی اورینیٹڈ فوڈ انٹرپرائزز کہلائی جائے گی….“

ہاتھوں کو ہوا کے زور پر اٹھائے وہ اشارہ کرتے ہوئے خوابی ماحول بنائے ہوئے تھا…. کہیں نہ کہیں وہ یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ڈیڈ اس کے اس فیصلے پر خوش ہوتے ہوئے اسے داد، شاباشی دیں گے…. مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی…. ابراہیم صاحب کی گھورتی نگاہیں اسے اچھاخاصا سبق سکھا گئی تھیں…. وہ ایک دم خاموش ہو رہا….

”تم ایک دن میری موت کا سبب بنو گے الحان!…. اللہ کی قسم! اس بار اگر تم نے کچھ غلط کیا…. تو "You are out!“

اپنا فیصلہ باور کراتے ہی ابراہیم صاحب آندھی طوفان کی سی تیزی سے واپس ہو لیے….

”You are out?“ کیا مطلب ہوا اس بات کا؟“

وہ ان کے الفاظ دہراتے ہوئے انہیں سمجھنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتے ہوئے وہ مسلسل سمجھنے کی کوش کر رہا تھا….

”کہیں ان کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ مجھے اپنی تمام جائیداد سے عاق کر ڈالیں گے؟….“

اس نے سوچا اور پھر خود ہی اپنی سوچ کی تردید کر ڈالی۔

”نہیں نہیں، وہ ایسا نہیں کر سکتے…. آخرکار میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں…. اور میں کون سا کوئی گناہ کرنے جا رہا ہوں…. صرف ایک شو ہی تو ہے…. بس…. مجھ سے پہلے کتنے لوگوں نے ایسے شوزکیے ہیں…. میں اگر کرنے لگا تو کون سی قیامت آ گئی؟“

اس نے من ہی من میں سوچا اور پھر موبائل ٹیبل پر سے اٹھاتے ہی کبیر کا نمبر ڈائل کر ڈالا…. دوسری ہی بیل پرکال ریسیو کر لی گئی…. وہ اب موبائل کان سے لگائے ایک بار پھر سے منڈلانے لگا تھا….

”ہیلو کبیر! کہاں ہے یار؟…. ڈیڈ کو پتا چل گیا ہے…. ہاں…. آج نہیں تو کل…. آخر پتا چلنا ہی تھا…. خیر! تو بتا کہاں ہے؟…. چل جلدی سے آ جا…. آج خوب ہلہ گلہ کریں گے…. آفٹرآل…. فیمس ہونے سے پہلے آج کا آخر دن ہی تو ہے…. ہا ہا ہا ….“

اپنی ہی بات پر زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے اس نے اپنے قدم باہر جاتے راستے کی جانب دھر دئیے۔

ض……..ض……..ض

ابراہیم فوڈ انڈسٹریز لندن کی جانی مانی کمپنیوںمیں سے ایک تھی…. ابراہیم صاحب نے جوانی سے لے کر اب تک کتنی محنت کی تھی اپنی اس کمپنی کو پروان چڑھانے کے لیے…. مگر اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے…. ایک عدد ہارٹ اٹیک بھی آ چکا تھا…. اب وہ چاہتے تھے کہ ان کی اکلوتی اولاد الحان ابراہیم زندگی کے معاملے میں سنجیدگی اختیار کرکے کمپنی میں اپنی دلچسپی دکھائے…. مگر الحان ابراہیم اپنے نام کا ایک تھا…. مجال تھی جو اس پر موم یا ڈیڈ کی کسی بھی بات کا اثر ہو جاتا…. وہ تو بچپن سے ہی اپنی ضد کا غلام تھا…. حسیناﺅں کا دیوانہ…. مگر یہ تمام حسینائیں ایک مہینہ سے زیادہ اس کے دل پرراج نہیں کر سکی تھیں…. بہت مشکل قسم کا انسان تھا وہ…. اسے خود اپنی سمجھ نہ آتی کہ وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے…. ہاں، مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ اسے کبھی کسی سے پیار نہیں ہو سکتا…. وہ اپنی اس بات کا دعویدار تھا۔ اسے پختہ یقین تھا، تبھی تو کبیر سے شرط لگا بیٹھا تھا…. لڑکی ذات اس کے لیے محض ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی تھی…. ایک ایسا کھلونا جس سے جب جی بھر جائے، اسے دھتکار کر دور پھینک دیاجائے…. لڑکیاں اس کی شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوتیں، وہ تھا ہی اتنا ہینڈسم، اتنا ہینڈسم کہ ہالی ووڈ کے تمام ہیروز کو باآسانی مات دے سکتا تھا…. اسے اس بات کا احساس تھا، تبھی تواتنا اِتراتا پھرتا تھا…. اپنی ایک ہی قاتلانہ مسکراہٹ سے وہ اَن گنت لڑکیوں کے دل جیت لیا کرتا…. اپنی دولت کا بھی تو غرور تھا اسے…. اکلوتا بھی تھا…. موم کا لاڈلا بھی تھا…. ابراہیم صاحب بھی اس پر جان نچھاور کرتے تھے مگر اس کی ان بچکانہ حرکتوں سے اُکتاچکے تھے…. انہوں نے بارہا کوشش کی کہ الحان ان تمام فضولیات کو چھوڑ کرکمپنی میں دلچسپی لے…. مگر وہ آزاد پنچھی تھا…. اپنی مرضی کا مالک…. کہاں کسی کے ہاتھ آنے والا تھا…. آزاد پنچھی کہاں کسی کی قید میں آتے ہیں۔ انہیں تو صرف اپنی آزادی سے پیار ہوتا ہے….

ض……..ض……..ض

کوئی اطلاعی بیل پر ہاتھ رکھ کربھول گیا تھا…. مانہ کسمسائی، نیند سے بوجھل آنکھیں وا کیے وہ جھلائے ہوئے انداز میں اٹھ بیٹھی….

”کون بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا ہے؟“

ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہی اس نے اپنا چشمہ اٹھایا….

’Coming!…. صبر نام کی کوئی چیز نہیں لوگوں میں….“

منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی،بے ترتیبی سے بال چٹکی میں قید کیے وہ اٹھ کر جوتا پاﺅں میں اُڑستی، نڈھال قدموںسے چلتی بیرونی دروازے تک پہنچی۔

"Who is this?”

”ہم ٹی وی شو (ان لمحوں کے دامن میں) کی ٹیم سے ہیں میڈم! آپ کا انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے….“

دروازے کے اس پار سے ایک بھاری مردانہ آواز اُبھری تھی، جو انگلش میں اسے اپنی آمد کی وجہ بتا رہا تھا…. مانہ پیشانی پربل ڈالے منہ ہی منہ میں بڑبڑائی….

”انٹرویو؟“

دروازہ کھولتے ہی دو انگریز، دو مسلم لڑکوں اور دو مسلم لڑکیوں پر مشتمل گروپ کی جانب دیکھتی وہ حیرانی سے گویا ہوئی….

”کیسا انٹرویو؟“

”پروموشنل انٹرویو میڈم!“

گروپ کے لیڈر ایک مسلمان لڑکے نے آگے بڑھ کر جواباً کہا….

’میں نے کل رات آپ کے شو کی پروموشنل وڈیو دیکھی تھی…. مجھے نہیں لگتا کہ میرے انٹرویو کی کچھ خاص ضرورت ہے….“

”میڈم! اس شو کے پہلے ایپی سوڈ میں ہم نے تمام پچیس لڑکیوں کو انٹروڈیوس کرانا ہے، جس کے لیے ہمیں تمام پچیس لڑکیوں کے انٹرویوز درکار ہیں…. آپ پلیز ہمیں تھوڑا ٹائم دے دیجیے….“

گروپ لیڈر نے ڈیٹیل سمجھائی…. وہ لب بھینچے کچھ سوچنے لگی تھی…. ان تمام لوگوں کو راستہ دینے کی غرض سے وہ تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوئی…. تمام لوگ چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنا سیٹ اَپ لگانے میں مصروف ہو گئے…. گروپ لیڈر اس کی جانب مڑ کر بولا….

”آپ چینج کر لیجیے….“

وہ کچھ سوچتی ہوئی پیر پٹختی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی…. کچھ ہی دیر بعد وہ چینج کیے، کیمرے کے سامنے موجود تھی….

”میڈم! آپ اپنا چشمہ اُتار دیجیے….“

گروپ لیڈر کی ریکویسٹ پر اسنے بنا کچھ کہے اپنا چشمہ اُتار کر پاس کھڑی لڑکی کی جانب بڑھا دیا…. میک اَپ گرل آگے بڑھ کر اس کا میک اَپ کرنے کو تھی کہ وہ ایک دم جھلا اٹھی….

”مجھے میک اَپ نہیں کروانا….“

گروپ لیڈر کے اشارے پر میک اَپ گرل پیچھے جا کھڑی ہوئی….

”او کے مس مانہ! آپ نے یہ شو کیوں جوائن کیا؟“

"To explore my curious side!”

”کٹ!“

گروپ لیڈر نے اونچی آوازمیں کہا اور پھر مانہ کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمی آوازمیں بولا….

”کیا آپ اس سے بہتر جواب نہیں دے سکتیں؟“

اس قدر چکاچوندلائٹس کی بنا پر وہ ٹھیک سے کچھ دیکھ تک نہیں پا رہی تھی….

”کیا مجھے میرا چشمہ واپس مل سکتا ہے؟“

”بالکل نہیں…. کیمرہ میں چشمہ کا رزلٹ اچھانہیں آتا….“

”شو میں بھی مجھے چشمہ پہن کر ہی رکھنا ہے….“

”وہ آپ کی مرضی ہے…. انٹرویو کے دوران آپ چشمہ نہیں پہن سکتیں۔“

وہ جھلا ہی توگئی…. گروپ لیڈر کیمرہ مین کی جانب دیکھ کر بولا….

”اوکے رول!“

اب کے وہ ایک بار پھر سے مانہ کی جانب دیکھتے ہوئے اسے مخاطب کیے ہوئے تھا….

”آپ ہمیں اپنے بارے میںکچھ بتائیں….“

تیز چکاچوند روشنی اس کی آنکھوں میں چبھتی محسوس ہو رہی تھی…. لمبی سانس کھینچتے ہوئے اس نے اپنا گلا کھنگارا اور ایک بار پھر سے اپنا غصہ کنٹرول کرتی وہ نہایت خشک لہجے میں گویا ہوئی….

”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. پین نیم بتانا ضروری نہیں سمجھتی…. میری عمر چوبیں سال ہے…. سنگل ہوں…. اور یقینا پاکستانی بھی ہوں…. بس؟“

ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کرتی اب کے وہ گروپ لیڈر کی جانب دیکھنے لگی…. جو مسلسل اس کا روکھا رویہ اور بے وقوفیاں برداشت کیے اپنا غصہ کنٹرول کیے بیٹھا تھا….

”آپ ایک رائٹر ہیں؟ رائٹ؟“

وہ دانت پیستے ہوئے پوچھ رہا تھا….

”یس!“

بدستور اسی روکھے لہجے میں جواب دیا گیا….

”لیکن آپ کے لہجے اور حرکتوں سے لگتا نہیںکہ آپ ایک رائٹر ہیں….“

”کیا مطلب ہے آپ کا؟“

”آپ کو اتنا نہیں پتا کہ انٹرویو کس طرح دیا جاتا ہے؟“

”دے تو رہی ہوں انٹرویو!“

اس کی اس قدر زبان درازی پر وہ اپنا سر تھام کر رہ گیا…. شاید یہی وجہ تھی، وہ کسی سے اپنے رائٹر ہونے کی شناخت نہ کراتی…. کوئی اس پر یقین ہی نہ کرتا کہ وہ ایک رائٹر ہے اور اس قدر دلچسپ کہانیاں بھی لکھتی ہے…. سب لوگ اس کا مذاق اُڑاتے…. وہ کتنی بار دلبرداشتہ ہوئی تھی…. تبھی اس نے قسم کھائی کہ کبھی کسی کو اپنا مذاق اُڑانے کا موقع ہرگز نہ دے گی…. مگر انٹرویو میں یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ پروفیشنلی وہ کرتی کیا ہے….

”اگر آپ رائٹرہیں بھی تو خود کو امیجین کر کے مت بولیے…. کچھ…. کچھ ایسا سوچ کر بولیے…. کچھ ایسا کہ جس سے لگے کہ آپ ایک زندہ دل لڑکی ہیں….“

چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ اسے بچوں کی طرح سمجھانے لگا….

"OK!”

وہ بہت چڑچڑی سی ہو رہی تھی…. گروپ لیڈر کو جواب دیتے ہی وہ فوراً اپنے لب بھینچنے لگی….

”اوکے رول!“

کیمرہ مین کو اشارہ کرتا وہ ایک بار پھر سے اس سے مخاطب ہوا۔

”آپ اپنے بارے میںکچھ بتائیے؟“

”میرا نام مانہ ہے…. میں ایک لکھاری ہوں…. اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت یہاں اس چیئر پر بیٹھ کر ان تمام چبھتی لائٹس سے اپنا چہرہ جلانے کے بجائے مجھے کسی ایسی جگہ ہونا چاہیے تھاجہاں میں مکمل طور پر سکون کا سانس لے سکتی…. اور یہاں اس وقت اس چیئرپر بیٹھ کر یہ انٹرویو دیتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں اپنی زندگی کا یہ لمحہ بیکار میں بربادکر رہی ہوں…. مجھے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہنا….“

ایک ہی سانس میں تیزی سے بولتی وہ جمپ لگائے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میرا چشمہ پلیز!“

لڑکی کے ہاتھوں سے اپنا چشمہ جھپٹتے ہی اس نے غصے سے اُبلتے گروپ لیڈر کی جانب دیکھا….

”اس قسم کا انٹرویو دیکھنے کے بعد لوگ اگر آپ کو بیوقوف یا فنی سمجھیں تو اس کا ذمہ آپ ہمیں ہرگز نہیں دیں گی….“

کس قدر کنٹرول کیے ہوئے تھا وہ شخص…. مانہ بدستور اپنے ہٹ دھرم اور روکھے لہجے میں جواباً بولی….

”کوئی بات نہیں….“

اس کی ہٹ دھرمی پر گروپ لیڈرکا دل چاہا کہ وہ اپنا سر پیٹ ڈالے۔ مگر ضبط کے سوا کچھ کر بھی نہ سکا….

"Let’s wrap up!QQ”

غصے سے پھنکارتا وہ اٹھا اور بجلی کی سی تیزی سے باہر نکل گیا…. باقی تمام ٹیم نے بھی جلدی سے اپنا سامان سمیٹتے ہی باہر کی راہ لی….

جاتے جاتے ایک لڑکی اپنی فائل سے ایک پیپر نکال کر مانہ کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی….

”یہ ہمارے شو کے Bachelor کی پروفائل ہے…. آپ اپنا سامان پیک کر لیجیے…. کل صبح ہماری ٹیم کا ڈرائیور آپ کو پک کر لے گا۔“

”شیور!‘

وہ پیپر ہاتھ میں تھامتے ہی بے ساختہ بولی۔

تمام ٹیم جا چکی تھی…. مانہ نے سکون کی سانس لیتے ہوئے دروازہ اندر سے لاک کر دیا…. اب وہ دروازے سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے سکون کی گہری سانس لینے لگی تھی…. کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد وہ پیپر پر لکھی تحریر پر نظریں جمائے، اپنے قدم آگے کی جانب بڑھانے لگی۔

”الحان ابراہیم!“

پیپر کے ٹاپ پر لکھا نام منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ باقی کی تمام سطروں پر اپنی نظر دوڑاتی چلی گئی….

"The sole heir to Ibrahim Industries, the largest food enterprise in the country!”

تیوری چڑھائے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائے چلی جا رہی تھی….

”ایج 29، ہینڈسم پلے بوائے، مجھے ایک ایسی لڑکی کی تلاش ہے جو مجھے مکمل طور پر بدل ڈالے…. میری اچھی جیون ساتھی کی تلاش پوری دنیا کے سامنے….“

نفرت بھری آخری نگاہ پیپر پر دوڑاتی وہ زہرخند لہجے میں بولی….

”ہونہہ! بیکار، بکواس….“

رائٹر ہونے کے ناطے اسے لوگوں کو دیکھ کر انہیں پہچان لینے کی صلاحیت حاصل تھی….

”امیر لوگوں کی یہ لڑکی ذات کو ٹشو پیپر سمجھنے والی بگڑی اولادیں…. اب پوری دنیا کے سامنے، آن ایئر، لڑکی ذات کا تماشا بنائیں گی….“

زہرخند لہجے میں بولتی وہ پیپر کو مٹھی میں دبوچے، ڈسٹ بن کا نشانہ بناتی، پیر پٹختی، اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی….

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری…قسط نمبر 4

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 4 خوبصورت سفید یاٹ، اس طلسمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے