سر ورق / کہانی / محبتوں کی راہ گزر۔ مہتاب خان

محبتوں کی راہ گزر۔ مہتاب خان

محبتوں کی راہ گزر 

               دادا جان یوں تو  گھر سے بہت کم باہر نکلتے تھے مگر اس روز مرزا صاحب نے انہیں بطور خاص فون کر کے بلایا تھا-موقع تھا ان کی پوتی رمشہ  کے رشتے کے طے کیے جانے کا اور دادا مرزا صاحب کے دیرینہ دوست تھے- لنگوٹیے یار کہا جاۓ تو بے جا نہ ہو گا اور اتفاق سے اس دن مہرمہ بھی چھٹتی لے کر چلی گئی تھی اس کے کچھ رشتے دار گاؤں سے آئے ہوۓ تھے-یوں علیزہ گھر میں اکیلی تھی -ہاں ایک اطمینان اسے تھا کہ گیٹ پر چوکیدار موجود تھا-

            دادا کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر تو ٹی  وی دیکھتی  رہی پھر جب بوریت ہونے لگی تو وہ اٹھی اور ٹی وی بند کر دیا -اسی وقت اچانک ایک زوردار آواز سے وہ چونک گئی -یہ بادل کے گرجنے کی آواز تھی-اس نے کھلی ہوئی کھڑکی سے باہر جھانکا تو دیکھا موسلا دھار بارش ہو رہی تھی-

            ابھی شام کے پانچ ہی بجے تھے مگر بارش کی وجہ سے چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تھا- اسے چاۓ کی طلب ہو رہی تھی -وہ کچن میں چلی آئی پھر سوچا کہ کیوں نہ پکوڑے بھی بنا لیے جایں -اس نے جلدی جلدی پکوڑے  تلے اچانک اسے دادا جان کی ہدایت یاد آئ کہ کچھ بنایا کرو تو سرمد کو ضرور بھیج دیا کرو پتا نہیں بے چارہ کیا کھاتا پیتا ہو گا – اکیلا رہتا ہے ہوٹل کا کھانا کھا کھا کر اکتا جاتا ہو گا – یہ خیال آتے ہی اس نے فریزر سے سموسے اور شامی کباب بھی نکال کر فرائی کر لئے -چائے وہ پہلے ہی بنانے کے لئے رکھ چکی تھی –

            تمام چیزیں قرینے سے ٹرے میں سجا کر وہ باہر نکل آئ -باہر گھن گرج کے ساتھ بارش جاری تھی -تیز تیز قدم اٹھاتی وہ اپنے گھر کے اس پورشن میں آ گئی جو دادا نے سرمد کو کرائے پر دیا ہوا تھا –

            وہ پورا پورشن اس وقت اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا -سرمد نے لائٹس آن کیوں نہیں کیں -شاید وہ گھر پر نہیں ہے -” یہ سوچ کر وہ واپسی کے لئے پلٹنے ہی والی تھی کہ اس کے کمرے سے آتی مدھم روشنی دیکھ کر وہ اس کے کمرے کی طرف آئ – کمرے کا دروازہ کھلا  ہوا تھا اور تمام لائٹس آف تھیں صرف سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا لیمپ روشن تھا اور سرمد بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھا تھا -اس کی پشت دروازے کی طرف تھی وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا –

             اس کی آواز سن کر علیزہ کا دستک دیتا ہاتھ بے ساختہ رک گیا –

             "یار خرم تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ مجھے کتنی بڑی کامیابی ملی ہے – بس یہ  کہ میں ملک الموت بن کر اس کے قریب پہنچ گیا ہوں -جب چاہوں گا اس خبیث کی گردن مروڑ دوں گا – کچھ دیر  سرمد دوسری طرف کی بات سنتا رہا پھر گویا ہوا – ” نہیں یار کسی اور کے ہاتھوں اسے قتل کروانے میں مجھے وہ خوشی نہیں ملے گی جو اپنے ہاتھوں اسے تڑپا تڑپا کر مارنے میں ملے گی -میرا انتقام اسی وقت پورا ہوگا جب وہ میرے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچے گا -"

          پھر کچھ دیر  وہ خرم کی بات سنتا رہا اور کچھ توقف کے بعد بولا-

          ” نہیں یار تم بے فکر رہو مجھے کوئی خطرہ نہیں میرا پورا منصوبہ بے داغ ہے – اسی لئے میں ہوٹل میں نہیں ٹہرا -اس کے گھر کے قریب ہی مجھے ایک گھر کراۓ پر مل گیا ہے -ایک بے وقوف سے بڑے میاں ہیں اور ان کی ایک پوتی ہے -” یہ سنتے ہی علیزہ کے ہاتھ کانپنے لگے -پھر سرمد کی آواز آئ -” میں نے ان دونوں کو شیشے میں اتار لیا ہے -بس میں اس کا کام تمام کرتے ہی یہاں سے رفو چکر ہو جاؤں گا اور کوئی مجھ پر شک بھی نہیں کرے گا-"

          اتنی خوفناک باتیں سن کر اور سرمد کا یہ سفاک روپ دیکھ کر علیزہ تھر تھر کانپنے لگی -ٹرے اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ایک چھناکے کے ساتھ زمین پر گر پڑی  – سرمد نے ایک دم گردن موڑی وہ تیزی سے پلٹی مگر ایک قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ سرمد اس کے سر پر پہنچ گیا – اس نے پیچھے سے علیزہ کا کندھا پکڑ کر اسے اندر گھسیٹ لیا -اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی – بارش کی آواز اور بادلوں کی گھن گرج میں علیزہ کی آواز دب کر رہ گئی –

         وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھتا گھسیٹتا ہوا اندر لے آیا اور ایک زوردار جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا -وہ زمین پر گر پڑی – ا سے اچھی خاصی چوٹیں آئ تھیں -سرمد نے دروازہ لاک کر کے کھڑکی بھی بند کر دی-اسے کھڑکی اور دروازے لاک کرتے دیکھ کر وہ تڑپ کر اٹھی –

        اسے اپنی جانب قدم بڑھاتے دیکھ کر علیزہ دل خوف سے لرزنے لگا – یہ وہ سرمد تو نہیں تھا جو نرم اور شیریں لہجے میں گفتگو کیا کرتا تھا- اور جس کی آنکھوں میں اس کے لیے پیار ہوتا تھا- یہ تو کوئی اور شخص تھا – ہر قسم کے جذبات سے عاری -اس کی آنکھوں میں اس وقت شعلے لپک رہے تھے – اس کا یہ روپ علیزہ نے پہلی بار دیکھا تھا وہ تھر تھر کانپ رہی تھی -وہ بے اختیار پیچھے کی جانب کھسکنے لگی –

         ” سرمد پلیز مجھے جانے دیں -” پیچھے کھسکتے کھسکتے اس کی کمر دیوار سے ٹکرائی تھی -وہ ایک ایک قدم بڑھاتا اس کے بہت قریب اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا –

          ” کیا سنا ہے تم نے؟” سرمد نے سفاک لہجے میں کہا –

          ” کک ………کچھ نہیں سنا میں نے مجھے جانے دیں -” وہ روتے ہوۓ کہ رہی تھی –

          "اسے قتل کرنے کے ساتھ ساتھ میں تمہیں بھی قتل کر سکتا ہوں میرے لیے کچھ مشکل نہیں ہے -” وہ اس کا چہرہ  ہاتھ میں بھینچ کر غرایا – اس کے ہاتھ کی آہنی گرفت سے علیزہ کے چہرے پر درد کی شدید لہر دوڑی –

           علیزہ نے زور سے چلانے کے لیے منہ کھولا مگ وہ اس کا ارادہ پہلے ہی بھانپ چکا  تھا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا -وہ بری طرح مچلی اور خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی -اس ہاتھا پائی میں اس کا دوپٹہ سرمد کے قدموں میں گر گیا –

            سرمد نے جھنجھلا کر ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا اور بولا-

            ” اگر اب چلانے کی کوشش کی تو  گلا  دبا دوں گا-"علیزہ جیسی نازک سی لڑکی کو کانٹوں پر گھسیٹا جا رہا تھا -وہ زار و قطار رو رہی تھی-

           ” سنوں اس وقت تو میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں اور جانے دے رہا ہوں مگر کان کھول کر سن لو اگر تم نے کسی کو بھی اس بارے میں بتایا تو میں تمہاری اور تمہارے دادا جان کی جان لے لوں گا -میں تم لوگوں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتا تھا بس اپنا کام ختم کر کے چپ چاپ یہاں سے رخصت ہو جانا چاہتا تھا لیکن تم نے میرا سارا کھل بگاڑ دیا -” کافی دیر بعد وو بولا تھا -"ایک بات اور اگر تم نے میرے راستے میں آنے کی کوشش کی تو میں تمہیں ختم کر دوں  گا……… جاؤ اب یہاں سے -” وہ دھاڑا –

           وہ ساری تکلیفیں بھلا کے دیوانہ وار بھاگتی ہوئی دروازے کی طرف گئی-سرمد کھڑا اسے جاتے ھوۓ دیکھتا رہا -دروازے کا لاک کھول کر وہ اندھا دھند باہر بھاگی-

           گھر آ کر وہ لاونج کے صوفے پر ڈھے سی گئی -پورے گھر پر سناٹا طاری تھا -دادا ابھی تک نہیں آئے تھے-سرمد سے وابستہ کئی باتیں اسے یاد آنے لگیں –

                                                                                           …………………………………………………………………………………………………

            "آج کل کسی کا کوئی بھروسہ ہے دادا………… ایسے کسی پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہیں کرنا چاہے -ایک سے ایک مکار اور چالباز لوگ دنیا میں پڑے ہیں -پتا نہیں کون ہے یہ اور کہاں سے آیا ہے ؟ آپ سب کو اپنا جیسا سیدھا سادہ ،سچا اور مخلص سمجھتے ہیں ،پتا نہیں اس کے کیا ارادے ہیں کیا پتا ہمیں اکیلا سمجھ کر بری نیت سے آیا ہو-” وہ دادا کے  بیٹھی پر تشویش انداز میں بولے جا رہی تھی-

            ” ہم اکیلے کہاں ہیں ہم دو ہیں اور وہ ایک ہے -” دادا نے مسکراتے ہوئے کہا -"اور پھر تم ہی نے تو کہا تھا دادا جان جلدی کرایے دار ڈھونڈھیں خالی گھر عجیب سا لگ رہا ہے -"

           ” ہاں تو میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ کسی بلکل انجان اور اکیلے آدمی کو کرایے پر دے دیں – ہم کسی جان پہچان والی فیملی کو بھی دے سکتے تھے-"

           "وہ با اخلاق ،پڑھا لکھا اور اچھی فیملی سے تعلق رکھتا ہے- میں نے ایک دنیا دیکھی ہے -اس عمر میں اگر میں اس قابل نہیں کہ لوگوں کو پرکھ سکوں تو سوایے افسوس کے کیا کیا جا سکتا ہے-"

          ” اس نے میٹھی میٹھی باتیں کی ہوں گی اور آپ پگھل گئے ہو گے-” وہ جھنجھلا کر بولیی تھی-

         ” اسے کوئی مجبوری نہیں جو مجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا- وہ لاہور کا ایک کامیاب بزنس مین ہے اور اب یہاں کراچی میں اپنے بزنس کو بڑھانا چاہتا ہے -اس کے لیے دفتر وغیرہ دیکھنے آیا ہے -” وہ پر سکون لہجے میں بولے-

        ” آپ کو یہ ملا کہاں ؟”

        ” میں نے تمہیں بتایا تو تھا -میں اسٹیٹ ایجنٹ سے کرایے دار کے لیے کہنے گیا تھا وہاں سرمد سے ملاقات ہو گئی جسے کرایے کے لیے دو ماہ کے لیے ایک گھر چاہیے تھا- اس نے مجھ سے یہاں رہنے کی خواھش کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ میں نے ہی اسے آفر کی تھی اور سچی بات تو یہ ہے کے وہ مجھے بہت اچھا لگا تھا-"

         ” آپ کے کام آپ جانیں مجھے تو یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا -” علیزہ نے کہا تھا-

         ” تم فضول باتیں سوچ رہی ہو علیزے …….. وہ یہاں مہمان ہے کراچی میں اس کا کوئی عزیز یا رشتےدار نہیں ہے -پھر مہینے دو مہینے کی تو بات ہے-وہ بہت ویل منرڈ اور خاصا امیر ہے-اسے نہ تو ہم سے کوئی لالچ ہے نہ دشمنی -تم نے ابھی تک اسے دیکھا نہیں ہے- اس لیے اس قسم کے خیالات کا اظہار کر رہی ہو-"

          دادا کے سمجھانے پر وہ خاموش تو ہو گئی تھی مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہوا تھا-یہاں ان دونوں کے علاوہ صرف دو ملازم تھے جو بابا کے زمانے کے اور بہت قابل  بھروسہ تھے-بابا نے بڑے دل سے یہ کوٹھی بنوائی تھی اور اس میں ایک الگ پورشن بھی بنوایا تھا-کیونکہ بابا کا حلقہ احباب بڑا وسیح تھا اور وہ بڑے دوست نواز تھے اپنے شہر کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی ان کے کی دوست آیا کرتے تھے تو ان کا قیام ان کے گھر کے اسی پورشن میں ہوا کرتا تھا-

         علیزہ کی والدہ کا انتقال اس کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا-یوں وہ دادا اور بابا کے پر شفقت سائے میں پروان چڑھتی رہی-لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا ابھی وہ میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہی ہوئی تھی کہ ایک دن اچانک بابا کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور اسپتال لے جاتے ہوۓ راستے میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا-

         جوان بیٹے کی اچانک موت سے علیزہ کے دادا واحدی صاحب کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی تھی لیکن جب انہوں نے علیزہ کو تڑپ تڑپ کر روتے ہوئے اور بے حال ہوتے ہوئے دیکھا تو خود کو سنبھالا- اس عمر میں ان پر دہری ذمہ داری پڑ گئی تھی -ایک اس گھر کو چلانے کی اور دوسری علیزہ کی پرورش کی-انہوں نے ہمت سے کام لیا اور اب تک تمام معاملات انہوں نے الله کے حکم سے خوش اسلوبی سے سنبھالے ہوئے تھے-

          زندگی بڑی پر سکوں گزر رہی تھی کہ دادا جان نے وہ پورشن ایک اکیلے شخص کو جس کا تعلق اس شہر سے بھی نہیں تھا کرائے پر اٹھا دیا تھا وہ خود بھی کرائے داروں کے جانے کے بعد سے یہی چاہ  رہی تھی مگر اس طرح نہیں-

          ان کا گھر کافی بڑا تھا جو ان دادا پوتی کی ضرورت سے بھی بہت زیادہ تھا-پورشن کی تو بات ہی کیا -یہ پورشن گھر سے الگ تھلگ حصے پر بنایا گیا تھا-بعد میں کرائے پر دینے کے خیال سے کچھ تبدیلیاں دادا نے بھی کروائی تھیں-تین کمروں،اٹیچڈ باتھ رومز اور ایک کچن پر مشتمل یہ پورشن پوری طرح آراستہ تھا اور گھر سے جدا تھا بس میں گیٹ ہی مشترک تھا-

         الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کرائے پر دینے کے لیے پرائیوسی وغیرہ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا- اسے دادا کے ہر کسی پر جلدی اعتبار کر لینے کی عادت سے شدید اختلاف تھا – بہرحال  جو بھی تھا اب تو وہ آ گیا تھا- اس کی نا پسندیدگی کے با وجود –

           اگلے روز وہ تبل پر دوپہر کا کھانا لگواتے ہوئے مہرو (ملازمہ) مہرو سے بولی-

       "دادا جان کو بلا لاؤ -"

          ” وہ تو کرائے دار کی طرف گئے ہیں-کافی دیر ہو گئی-” ملازمہ نے جواب دیا- ابھی وہ مہرو سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ دادا جان چھڑی ٹیکتے ہوئے بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوئے-

          ” کیا دادا آپ بھی وہاں جا کر بیٹھ ہی گئے اتنی بھوک لگی ہے-” انہیں اندر آتا دیکھ کر علیزہ بولی-

          ” گیا تو جلدی آنے کے لیے ہی تھا کہ چلو پوچھ آؤں اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں-مگر اس نے بٹھا لیا باتوں میں وقت کا پتا ہی نہیں لگا-"وہ مسکراتے ہوئے بولے-

           علیزہ نے ان کی باتوں پر کوئی تبصرہ کئے بغیر کھانا شروع کر دیا- لیکن اس نے سوچا ضرور تھا کہ دادا خود بہت اچھے اور مخلص ہیں اسی لیے وہ دنیا کو بھی مخلص اور ایماندار سمجھتے ہیں-

            رات کے کھانے  پر دادا جان نے مہرو کے ساتھ مل کر کھانے  پر بڑا اہتمام کروایا تھا-وہ کرسی ڈالے کچن میں ہی بیٹھے رہے  تھے اور بار بار مہرو کو ہدایت دے رہے  تھے-وہ دادا کو یہ اہتمام کرتے خاموشی سے دیکھتی رہی اور تی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی -تمام چیزیں تیار ہو گئیں تو  وہ بھی علیزہ کے پاس آ کر بیٹھ گئے-

            ” خیریت تو ہے دادا کیا کوئی خاص مہمان آ رہا ہے؟”

            ” ہاں ” انہوں نے مختصر جواب دیا اور گھڑی کی طرف نظر دوڑائی تھی-

            ٹی وی دیکھنے کے دوران بھی انہوں نے کئی  بار دروازے کی طرف اور کی کئی  مرتبہ گھڑی کی طرف دیکھا تھا –

            ” دادا جان  آپ کے مہمان تو ابھی تک نہیں آئے دس بج گئے ہیں-"

            ” ہاں مجھے بھی حیرت ہے وہ آیا کیوں نہیں؟” اسے جواب دیتے ہی انہوں نے مہرو کو آواز دی-

             ” جاؤ سرمد کو دیکھو جاکر …………. ان سے کہنا ہم لوگ کھانے پر ان کا انتظار کر رہے ہیں-"ان کا پیغام سنتے ہی مہرو چلی گئی تھی-

             تقریباً دس منٹ بعد مہرو کی واپسی ہوئی تھی-اسے اکیلا آتے دیکھ کر دادا جان کو حیرت ہوئی تھی-

             ” میں نے اتنی زور زور سے دروازہ پیٹا مگر انہوں نے دروازہ نہیں کھولا شاید وہ گھر پر نہیں ہیں تمام بتیاں بھی بند ہیں -ویسے گاڑی تو ان کی کھڑی تھی شاید پیدل ہی کہیں گئے ہیں-"

             ” تم نے چوکیدار سے پوچھا؟” دادا نے کہا –

             ” نہیں اس سے تو نہیں پوچھا-"

             ” بے وقوف ” وہ جھنجھلا کر بولے تھے-اور ایک دم افسردہ ہو گئے تھے-کتنے اہتمام سے انھیں نے تمام چیزیں تیار کروائی تھیں -اور وہ جو پہلے ہی دادا کو اداس دیکھ کر اور مہرو کا جواب سن کر غصے میں آ گئی تھی تلملا کر بولی-

             ” آپ کو بڑا شوق ہے ہر ایرے غیرے کو انوائٹ کرنے کا ……….ٹھیک ہے پورشن کرائے پر دیا ہے اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے کوئی رشتہ بھی استوار کر لیا جائے -بس ایک ملک مکان اور کرائے دار کے جیسے تعلقات رکھنے چاہئے تھے آپ کو، دیکھ لیا نا آپ نے اپنے خلوص کا انجام- اس نے آنا تو در کنار معزرت کرنا بھی گوارہ نہیں کیا-” وہ نان اسٹاپ بولے جا رہی تھی-جبکہ دادا مسلسل اسے اشاروں میں پیچھے دیکھنے کو کہ رہے تھے–لیکن وہ اپنی بات مکمل کر کے ہی چپ ہوئی تھی-اور مہرو کھکھلا کر ہنس رہی تھی-

             "السلام علیکم ” اپنے پیچھے سے ابھرتی ہوئی اس مردانہ آواز کو سن کر وہ بے ساختہ مڑی تھی-

             دادا اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے صوفے پر سے اٹھ گئے تھے اور اس کا مصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ تھام چکے تھے-مہرو آتے ہوئے دروازہ بند کر کے نہیں ای تھی اور وہ کھلے دروازے سے سیدھا اندر آ گیا تھا-ان دونوں نے اسے دیکھ لیا تھا مگر علیزہ کی پشت دروازے کی جانب ہونے کی وجہ سے وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی-

            ” آئ ایم سوری آپ لوگوں کو میری وجہ سے اتنی زحمت ہوئی-پتا نہیں کیسے اچانک آنکھ لگ گئی-ابھی دروازہ بجنے کی آواز سے ہی اٹھا ہوں-"وہ دادا جان سے مخاطب تھا-

             اور دادا جان کچھ دیر پہلے کی کوفت بھلا کر مسکرا رہی تھے-

             ” کوئی بات نہیں بیٹا زحمت کسی……..آؤ  اب مزید دیر کے بغیر کھانا کھا لیتے ہیں-” وہ پر خلوص انداز میں اس سے کہ رہی تھے-پھر کچھ خیال آتے ہی وہ آگے بڑھتے بڑھتے رک گئے اور کہا –

            ” ارے میں تم لوگوں کا تعارف کروانا تو بھول ہو گیا-یہ علیزہ ہے میری پوتی ،اسی سال گریجویشن کیا ہے اس نے اور علیزے یہ سرمد صاحب ہیں باقی اپنا تفصیلی تعارف یہ خود کروائیں گے-

           وہ جو کچھ دیر پہلے کی باتوں پر شرمندہ تھی سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھ بھی نہیں سکی-لیکن اپنی اس حرکت پر اسے بعد میں دادا جان سے ایک طویل لیکچر سننا پڑا تھا-

          وہ نہ تو بدتمیز تھی نہ منہ پھٹ مگر اس شخص پر وہ اپنا کچھ ایسا ہی ایمپریشن ڈال چکی تھی-کھانے  کی میز پر دادا جان اور سرمد ہی باتیں کر رہی تھے-جبکہ وہ چپ چاپ بیٹھی تھی–اس نے ایک آدھ مرتبہ چپکے سے اس کی طرف دیکھا-گورے کھلتے ہوئے رنگ پر گہری آنکھیں لیے وہ ایک بے حد وجیہ نوجوان تھا-وہ بڑے مطمئن انداز میں دادا سے باتیں کر رہا تھا-ایسا لگ تو نہیں رہا تھا کہ اس نے کوئی بات مائنڈ کی ہے-شاید اسے اپنے چہرے کے تاثرات دوسروں سے چھپانے کا ہنر آتا تھا- کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی-اس کے ساتھ مزید بیٹھنا اور باتیں کرنا اسے اچھا نہیں لگا تھا-

           صبح ناشتے کی میز پر دادا جان نے اسے ایک طویل لیکچر دے ڈالا تھا-وہ اسے اخلاقیات کا سبق پڑھا رہے  تھے -مہمان خدا کی رحمت ہوتے ہیں سے شروع  لیکچر بابا کی  مہمان نوازی پر ختم ہوا تھا- اس نے بڑے صبر سے ان کی باتیں سنی تھیں –

           رات وہ ساری کھڑکیاں دروازے چیک کرتی رہی کہ ٹھیک سے بند ہیں پھر بیرونی گیٹ دیکھنے کے لیے باہر نکل آئ -بابا کی وفات کے بعد وہ بہت ڈرپوک اور عدم تحفظ کا شکار ہو گئی تھی-وہ بیرونی گیٹ دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر پورشن کی طرف اٹھ گئی جہاں لائٹس روشن تھیں اور وہ باہر ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اور نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا-وہ اپنے گرد و پیش سے بے نیاز نظر آ رہا تھا-اس نے علیزہ کو نہیں دیکھا تھا-کل تو شرمندگی میں وہ اسے سرسری طور پر ہی دیکھ سکی تھی آج جو بغور اسے دیکھا تو احساس ہوا کہ وو بہت خوش شکل اور ہنڈسم تھا-

          سرمد کی شخصیت میں سب سے خاص چیز اس کی آنکھیں تھیں-کل کھانے  کی میز پر جب ایک لمحے کے لیے ان کی نظریں ٹکرائی تھیں تو اس نے سوچا تھا کہ اس کی شہد رنگ والی آنکھیں کس قدر منفرد اور مقناطیسی کشش رکھتی ہیں-اسے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اسرار چھپا نظر آیا تھا-

          صبح کا وقت ان کے گھر کا سب سے اچھا وقت ہوا کرتا تھا وہ اور دادا صبح جلدی اٹھنے کے عادی تھے-وہ فجر کی نماز پڑھ کر باہر لان میں چہل قدمی کرتی-اپنے لگائے ہوئے پھلوں اور پھولوں کے پودوں کا جائزہ لیتی اتنی دیر میں اخبار آ جاتا تھا وہ وہیں بیٹھ کر تازہ ہوا میں اخبات کی سرخیوں پر نظر دوڑاتی اور پھر اندر آ جاتی تھی جبکہ دادا جان نماز سے فارغ ہو کر دیر تک خوش الحانی کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے-

          اس دن بھی وہ ہلکے گلابی رنگ کے لباس میں سر سبز گھاس پر چہل قدمی کرتی خود کو بڑا فرش محسوس کر رہی تھی-اور اپنے لگائے ہوئے پودوں کا جائزہ لیتے وو اس پورشن کی طرف آ گئی تھی-پورشن کے سامنے کے اس حصّے میں اس نے پھل دار درخت لگائے تھے – وہاں کھڑی وہ اپنے پودوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر نہال ہو رہی تھی کہ کسی کی آواز نے اسے چونکا دیا-

        ” لگتا ہے گارڈ ننگ سے آپ کو بڑی دلچسپی ہے؟” سرمد نے دچسپی سے اسے دیکھا-

         گلابی لباس میں گلابی تر رنگت والی اس لڑکی کی بڑی بڑی آنکھوں پر لمبی اور گھنی پلکیں سایہ فگن تھیں -یہ حسین لڑکی آنکھوں کے رستے دل میں اتری جا رہی تھی-

         وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا بول رہا تھا-اس کی آواز سن کر وہ بری طرح چونکی -اس کے اس طرح چونکنے پر وہ بولا-

          ” شاید آپ ڈر گئیں ؟”

          ” نہیں ڈری تو نہیں لیکن میں سوچ رہی تھی آپ ابھی سو رہے ہونگے -اسی لیے آپ کی آواز سن کر چونک گئی تھی-وہ واپس جانے کے لیے مڑی –

          ” واہ امرود ………”وہ اس کے ہاتھ میں پکڑی باسکٹ کو دیکھ کر بولا-جس میں اس نے کچھ دیر قبل ہی پکے ہوئے امرود توڑ کر رکھے تھے-

          ” جی ہاں ……..تازہ پھلوں کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے–"علیزہ نے کہا –

           ” دیکھوں ذرا اس کا ذائقہ کتنا مختلف ہے-” وہ اس سے پوچھے بغیر ٹوکری سے ایک امرود اٹھا کر کھانے  لگا-

           ” آپ کا جب دل چاہے، تازہ پھل  توڑ کر کھا سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں” کہتی ہوئی وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی-

            اس دن مرزا صاحب اپنی پوتی رمشہ جو علیزہ کی بہترین دوست بھی تھی کو لے کر ان کے گھر آئے تھے-مرزا صاحب اور دادا جان تو اندر بیٹھے باتیں کر رہی تھے جبکہ وہ رمشہ کو لے کر باہر لان میں آ گئی تھی ارادہ تھا کہ چائے وہ باہر لان میں ہی پییں گے-کچھ دیر پہلے مہرو چائے اور دیگر لوازمات ان کے سامنے رکھ گئی تھی-

         ” کون ہے یہ اسمارٹ بندہ ؟” اس نے رمشہ کی نظروں کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں تو اسی مخصوص ستون سے ٹیک لگائے اس نے سرمد کو دیکھا-اس نے بھی ٹھیک اسی لمحے ان دونوں کو دیکھا تھا-وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی-

         سرمد نے اسے دیکھ لیا تھا مگر نہ تو وہ اس کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرایا تھا اور نہ ہی اور کوئی تاثر دیا تھا-اس کے چہرے پر بڑے نا قا بل فہم قسم کے تاثرات تھے- آنکھوں میں اجنبیت لیے اس نے علیزہ کو دیکھا تھا-

         گڈ لکنگ ہونے کے ساتھ ساتھ پراوڈ بھی لگتا ہے-” رمشہ نے کہا  تو اسے بڑی سبکی محسوس ہوئی- کچھ دن گزرے تھے گھر کے کاموں میں لگ کر وہ وقتی طور پر اس کے رویے کو بھول گئی تھی-اس صبح وہ معمول کے مطابق واک کر رہی تھی جب اس نے سرمد کی آواز سنی تھی- اسے گیٹ سے داخل ہوتے وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی اور دیکھ کر بغیر کوئی تاثر دیے آگے بڑھ گئی تھی-

         ” آپ روزانہ صبح اتنی جلدی اٹھتی ہیں؟” وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-

         ” جی ……” وہ مختصر جواب دے کر چپ ہو گئی -اس کا اس طرح اپنے ساتھ چلنے پر اسے غصّہ آ رہا تھا-وہ ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتا اس طرح اس کے ساتھ چل رہا تھا جیسے یہ اس کا روز کا معمول ہو-علیزہ کا دل چاہا کہ وہ اسے کوئی سخت جملہ کہ  دے مگر خود پر ضبط کے وہ چپ رہی پھر گیٹ کی طرف دیکھا جہاں اخبار پڑا تھا-وہ تیزی سے اخبار اٹھانے گئی اور یہ سوچتی ہوئی گھر کے اندر آ گئی کہ ” بڑا آیا کہیں سے -جب مرضی ہو گی بات کریں گے اور جب مرضی ہو گی اجنبی بن جایں گے–"

         دوسرے دن مہرو نے اسے سرمد کے آنے کا بتایا تو وہ اس کی آمد کی وجہ سوچتی ہوئی لاؤنج میں آ گئی تھی-

         "دادا جان تو گھر پر نہیں ہیں-” سلام و دعا کے بعد پہلی بات علیزہ نے یہی کی تھی-

         کوئی بات نہیں آپ تو ہیں نا -” وہ نہایت اطمینان سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا- اس کو بیٹھتا دیکھ کر مجبوراً علیزہ کو بھی بیٹھنا پڑا -وہ خاموشی سے بیٹھی اس کے بولنے کی منتظر تھی- وہ یہاں آیا تھا تو آنے کی کوئی وجہ تپ ہو گی اس نے سوچا-

         ” فرمایے کیسے آنا ہوا-” جب دو تین منٹ یونہی خاموشی سے گزر گئے تو بلآخر اس نے پوچھا –

         ” چائے پینے کا موڈ ہو رہا تھا-اس لیے سوچا کہ کیوں  نا آپ کے ہاں بن بلایا مہمان بنا جائے-"وہ بڑے سکوں سے بولا-نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کے وہ بڑے اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا-

         اس کی بات سن کر وہ دنگ رہ گئی-اس سے اس قسم کی بے تکلفی کی اسے بلکل توقع نہیں تھی-

         دروازے سے اندر داخل ہوتے دادا جان کو دیکھ کر اس نے سکوں کا سانس لیا تھا- وہ اسے سمجھ نہیں پائی تھی-سرمد کو دیکھ کر دادا جان بڑے خوش ہوئے تھے-

         ” میں تو سمجھ رہا تھا کہ تم کو دوبارہ بلانے کے لیے دعوت دینی پڑے کی-” انہوں نے سرمد سے مصافحہ کرتے ہوئے بات جاری رکھی –

         ” علیزہ تم نے سرمد کی کچھ خاطر مدارت کی؟” انہوں نے الزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

          ” جی دادا جان میں بس مہرو سے چائے کا کہنے ہی والی تھی-” وہ جلدی سے بولی-

          ” مہرو سے نہیں تم خود بنا کر لاؤ-” انہوں نے اعتراض کیا-

           اسے پتا تھا کہ چائے کے ساتھ وہ دیگر لوازمات بھی چاہتے ہیں-اسی لیے وہ بغیر کچھ کہے کچن میں آ گئی اور مہرو کے ہاتھ چائے بھیج کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئیتھی –

           اگلے دن صبح واک کرتے ہوئے جیسے ہی اس نے سرمد کو گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھا تو تیزی سے مڑی اور گھر کی طرف قدم بڑھا دیے –

           ” سنیں ………..” اس نے آواز دی تو الزہ کو رکنا پڑا -اس نے سوالیہ نظروں سے سرمد کو دیکھا-وہ غالبا جاگنگ کرنے گیا تھا-ٹریک سوٹ میں اس کا کسرتی جسم نمایاں تھا-

          "آپ کچھ ناراض لگ رہی ہیں-"

          ” نہیں ایسی کوئی بات نہیں-"

          "اگر میری کسی بات پر خفا ہیں تو میں معافی چاہتا ہوں -"

          ” میں نے کہا نا کوئی بات نہیں-"

          ” اگر ایسی بات نہیں تو آئیں میرے ساتھ کافی پئیں -"

          ” اس وقت میرا کافی پینے کا بلکل موڈ نہیں ہے-"

          ” پھر کولڈ ڈرنک پی لیں آئس کریم کھا لیں -” اس نے تجویز پیش کی -وہ اصرار کر رہا تھا-

          ” آپ مجھے بلانے پر اتنے بضد کیوں ہیں؟” اس نے تعجب سے پوچھا-

          ” اور آپ انکار پر اتنی بضد کیوں ہیں؟” وہ بغیر جواب دیے کندھے اچکاتی اس کے ساتھ اس کے پورشن میں آ گئی-

         ” آئیں بیٹھیں -” وہ اسے کمرے میں بیٹھا کر باہر چلا گیا-

         کچھ دیر بعد وہ ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوا-ٹرے تبل پر رکھ کر ایک کولڈ ڈرنک اسے پکڑائی اور دوسری خود لے کر بیٹھ گیا-

        ” لاہور میں آپ کہاں  رہتے ہیں؟” کچھ دیر بعد علیزہ نے اس سے پوچھا-

        ” میں آپ کے دادا کو کرایا ایڈوانس میں دے چکا ہوں-"

        ” کیا مطلب………؟” وہ فوری طور پر سمجھ نہیں پائی تھی-جبکہ وہ چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہا تھا-

         ” آپ اپنا انٹرویو جاری رکھیں-” وہ شوخی سے بولا-

         ” آپ کا خیال ہے میں آپ کا انٹرویو لے رہی ہوں؟”

         ” مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے-ابھی تو آپ کو بہت سے بنیادی سوال پوچھنے ہیں-جیسے کہاں ، کب اور کیوں پیدا ہوا،پسندیدہ رنگ وغیرہ……..” وہ اسے چڑا رہا تھا-

         ” مجھے کچھ نہیں پوچھنا-” کہتے ہپوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی خالی کولڈ ڈرنک اس نے ٹرے میں رکھی-اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی کھڑا ہو گیا-

        ” آپ ناراض ہو کر تو نہیں جا رہیں نا ………” وہ اس کے ساتھ دروازے تک آتے ہوئے بولا-

        ” آپ بہت عجیب ہیں پہلے الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں پھر معصوم بن کر پوچھتے ہیں کہ ناراض تو نہیں-” وہ اس کے انداز پر ہنس پڑا –

        ” چلیں معاف کر دیں آئندہ آپ  کو شکایت نہیں ہو گی-” وہ معزرت کرتے ہوئے بولا-

       بڑا ہی عجیب بندہ ہے اپنے پورشن میں داخل ہوتے ہوئے علیزہ نے سوچا لیکن عجیب ہونے کے ساتھ منفرد بھی ہے-اور ذہین بھی-دو تین دن گزرے تھے وہ اور دادا لاونج میں بیٹھے تھے-

        ” میں ذرا سرمد کی خیریت معلوم کر آؤں -” دادا نے کتاب پڑھتی علیزہ سے کہا –

        ” کیوں انہیں کیا ہوا ہے؟” وہ بے خیالی سے بولی-

        ” وہ کل سارا دن گھر پر رہا تھا اور آج بھی صبح سے کہیں نہیں گیا-خدانخواستہ کہیں اس کی طبیعت خراب نہ ہو-” وہ فکر مندی سے بولے-

        ” افوہ دادا آپ بھی حد کرتے ہیں وہ بھی کہے گا اچھے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں–باہر نہیں گیا میری مرضی انہیں کیا تکلیف ہے؟”

         ” وہ اتنا بدتمیز نہیں ہے-” دادا خفگی سے کہتے ہوئے دروازے کی سمت بڑھ گئے-اور وہ کتاب پڑھتے پڑھتے صوفے پر ہی سو گئی -پھر اذان کی آواز سے ہی اس کی آنکھ کھلی تھی-دادا ابھی تک نہیں آئے تھے-نماز سے فارغ ہو کر وہ چائے کا کپ لیے لاونج میں آ گئی-اسی وقت دادا اندر داخل ہوئے –

         ” اچھا ہوا جو میں چلا گیا– بے چارہ شدید بیمار ہے-” اس کے استفسار پر وہ بولے-صبح سے بھوکا پیاسا پڑا تھا-ایسا بھی ساتھ رہنے کا کیا فائدہ کہ بندہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام نہ آئے -میں نے مہرو سے چائے بنوا کر اسے پلوائی اور دوا کھلائی پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتا رہا تاکہ اس کا دل بھل جائے-” وہ فکر مند لہجے میں بولے-

          پھر رات میں اس کے لیے سوپ وغیرہ تیار کروا کر ٹرے سجا کر علیزہ سے کہا –

        ” اسے کھانا دے آنا اور اپنے سامنے کھلانا بیمار آدمی کا ویسے بھی کچھ کھانے  کو دل نہیں چاہتا-"

         وہ ٹرے لے کر گئی اور دروازے پر دستک دی-وہ کچھ ہچکچا رہی تھی-اس نے دروازہ کھولا اور علیزہ کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی-

         ” زہے نصیب آئیے  تشریف لائیے "اسے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے وہ شوخی سے بولاتھا-

         ” ٹرے اسے تھماتے ہوئے وہ بولی-

         ” دادا جان بتا رہے  تھے کہ آپ کی طبیعت ناساز ہے-"

         اتنا خاص بیمار تو وہ نظر نہیں آ رہا تھا-دادا جان تو خوامخواہ فکر مند ہو جاتے ہیں -” اس نے سوچا –

         ” جی بیمار ہوں ابھی بھی بخار ہے-آپ نے زحمت کی مہرو کے ہاتھ بھیج دیتیں -"

          ” آپ کھانا کھاییں دادا جان کی خاص ہدایت ہے کہ اپنے سامنے آپ کو کھانا  کھلاؤں -"

         ” میں کھا لوں گا آپ بیٹھیں-"

         ” نہیں میں چلتی ہوں -” یہ کہ کر وہ جانے کے لیے مڑی –

         ” ارے اتنی جلدی کیا ہے بیٹھیں نا -” وہ اصرار کرنے لگا-علیزہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی-اس نے سر اٹھا کر اپنے عین مقابل بیٹھے سرمد کو دیکھا تو وہ مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھا-

         ” کل تو مجھے بہت تیز بخار تھا–” وہ بولووہ دونوں بیٹھے باتیں کر رہی تھے کہ دادا جان کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر وہ چونکے –

         ” بیٹا اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں-” دادا نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا –

         ” ارے نہیں انکل پہلے ہی میری وجہہ سے آپ کو اتنی تکلیف ہوئی ہے-میں پہلے سے بہتر ہوں اور بخار بھی کم ہو گیا ہے-"

         ” تکلیف کسی بیٹا تم یہاں اکیلے ہو گھر والوں سے دور ہو-کیا تمھارے گھر والے یہاں ہوتے تو تمہارا خیال نہیں رکھتے؟”

          ” آپ اتنی تکلیف نہ کیا کریں-مجھے شرمندگی ہوتی ہے-” اس نے کہا –

          ” تکلف تو تم برت رہے  ہو اس گھر کو اپنا گھر سمجھو-” دادا نے کہا –

                                                                             ………………………………………………………………………………………………………….

          چند دن گزرے تھے-اس شام وہ رمشہ کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تھی-واپسی میں رمشہ جب اسے چھوڑنے گھر آئ تو علیزہ نے اسے چائے کے لیے روک لیا -وہ دونوں کسی بات پر ہنستی ہوئی گیٹ سے اندر داخل ہوئیں تو دیکھا لان میں کرسیوں پر دادا جان اور سرمد خوش گپیوں میں مصروف تھے-دادا اور سرمد سے سلام و دعا کے کے بعد علیزہ رمشہ کو لے کر اپنے کمرے میں آ گئی-

          ” کیا ہینڈسم اور گڈ لوکنگ بندہ ہے یار مجھے تو رشک آتا ہے تمہاری قسمت پر -” رمشہ نے کہا –

          ” کیا بکواس ہے-"

           ” ویسے سچ سچ بتاؤ کیا چکر ہے تمھارے دادا جان بھی ہر وقت سرمد سرمد کرتے نظر آتے ہیں-اور تمہارا چہرہ بھی اسے دیکھ کر لال گلال ہو جاتا ہے-” وہ شرارت سے بولی-

           ” رمشہ تم پٹو گی مجھ سے-"

           ” ویسے ایسا کچھ ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں-مجھے تو وہ بہت ہی اچھا لگا ہے-” وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی-

           ” بہت بیہودہ ہو گئی ہو-تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے-ہر بات میں کوئی نہ کوئی چکر نظر آتا ہے تمہیں-” رات وہ سونے کے لیے لیٹی تو رمشہ کی باتیں اسے یاد آنے لگیں اور سرمد بھی- اس نے  اپنے ذہن سے جھٹکنے کی بڑی کوششیں کین مگر ناکام رہی- وہ اس کے حواسوں پر چھا تا جا رہا تھا-

          دوسرے دن اتوار تھا -اس دن ناشتے پر وہ خاص اہتمام کرتی تھی-حلوہ پوری کے ساتھ آلو  کی ترکاری اور بھنا ہوا قیمہ بنایا تھا-

          ” بھئی بڑی اشتہا انگیز خوشبو آ رہی ہے-علیزہ جاؤ سرمد کو بلا لاؤ ناشتہ ساتھ کریں گے-"

          ” ہو سکتا ہے وہ ناشتہ کر چکے ہوں-"

          ” تم کہ کر تو آؤ اگر کر چکا ہو گا تو کوئی بات نہیں-” دادا کا جواب سن کر وہ باہر نکل گئی-اس پر نظر پڑتے ہی وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا تھا-

         ” آپ نے ناشتہ کر لیا یا ابھی کریں گے؟” سلام و دعا کے بعد اس نے پوچھا-

         ” آپ اندر تو آئیں -” وہ دروازے کے سامنے سے ہٹتا ہوا بولا-

         ” نہیں میں بیٹھنے نہیں آئ دادا جان نے کہا  ہے کہ اگر آپ نے ناشتہ نہیں کیا تو آ جائیں -"

        "اچھا تو دادا جان بلا رہی ہیں اور آپ………؟”

        ” میں نے ان کا پیغام پہنچا دیا آپ آنا چاہیں تو آ جائیں -"

        ” ٹھیک ہے آپ چلیں میں پانچ منٹ میں آتا ہوں -"

        اپنے وعدے کے مطابق وہ پانچ منٹ آ گیا تھا-کچھ ہی دیر میں وہ مزے لے لے کر کھا رہا تھا-

       ” سب کچھ بہت لذیذ بنا ہے-"سرمد نے کہا –

       ” ہماری علیزہ کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے- دادا جان نے قیمے کی ڈش اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا –

       ” واقعی ماننا پڑے گا-” ناشتے کے بعد وہ دیر تک بیٹھا دادا جان سے باتیں کرتا رہا وہ لان میں چلی آئ تھی اور اخبار کا مطالعہ کر رہی تھی -اخبار اس نے اپنے چہرے کے سامنے پھیلایا ہوا تھا-

         ” اخبار پڑھ چکی ہوں تو ذرا ادھر بھی دیکھ لیں-” سرمد جو نہ جانے کب سے وہاں کھڑا تھا بولا-

         ” مجھے کیا پتا تھا اتنا اچھا گھر کرائے پر ملنے کے ساتھ ساتھ اتنے اچھے کھانے  بھی ملیں گے وہ بھی مفت–"اس کے انداز پر وہ ہنس پڑی -اسے ہنستا دیکھ کر اوہ بھی مسکرایا اور اس کے قریب ہی کرسی پر بیٹھ گیا-

        ” ویسے آپ اتنے برے نہیں جتنا میں آپ کو سمجھی تھی-"

        ” شکر ہے کہ آپ کی رائے میرے بارے میں اچھی ہوئی -"

        ” پتا ہے جب دادا جان نے پورشن آپ کو دیا تھا تو میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے تھے کہ پتا نہیں کون ہے؟کیسا ہے؟ہمیں کسی انجان شخص کو اپنے ساتھ رکھنا چاہے یا نہیںاور ہم بھروسہ کر کے غلطی تو نہیں کر رہے -” وہ اس کے چہرے پر لمحہ بہ لمحہ بدلتے تاثرات سے بے خبر بول رہی تھی-اپنی بات مکمکمکل کر کے اس نے سرمد کو دیکھا تو اس کے چہرے پر سمجھ میں نہ آنے والے تاثرات تھے-

       ” میں چلتا ہوں-” وہ ایک دم کرسی سے اٹھ گیا اور تیزی سے چلا گیا-علیزہ اس کے اس طرح چلے جانے پر حیرت زدہ رہ گئی تھی-

        اور اسی رات وہ ہو گیا جو الزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا-دادا جان مرزا صاحب کے گھر گئے ہوئے تھے اور علیزہ پر قیامت ٹوٹ گئی تھی-اس کے بد ترین اندیشے صحیح ثابت ہو گئے تھے-

         وہ صوفے پر لیٹی تھی-اس کا دل رہا تھا کہ چلا چلا کر سب کو جمع کر لے- پورے گھر میں سناٹا تھا وہ اکیلی اور باہر موسلادھار بارش ہو رہی تھی-نہ جانے کس وقت وہ روتے روتے بے ہوش ہو گئی تھی-

          اس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے بیڈ پر لیٹی  تھی- اپنے  سرہانے  دادا جان کو دیکھ کر بے اختیار اس کی آنکھیں بھر آئیں-وہ پر تشویش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھے-

          ” کسی ہو بیٹا کیا ہوا تھا؟” وہ اس کی طرف جھکتے ہوئے بولے

          ” آپ کیوں چلے گئے تھے مجھے اکیلا چھوڑ کر؟” وہ روتے ہوئے بولی-

          ” ڈرتے نہیں ہیں بیٹا ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ڈرنے کی کیا بات ہے؟” وہ پیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے-

         ” ساری رات میں اور سرمد کتنا پریشان رہی ہیں تمہارے لیے-"وہ ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھی-اس کی نظریں سامنے کرسی پر بیٹھے سرمد پر پڑیں- بے ہوش ہونے سے پہلے اس کے ساتھ کیا ہوا تھا ایک دم اسے یاد آ گیا-

         ” پانی-” اس کی حلق میں کانٹے پڑ رہی تھے– دادا دعائیں پڑھ پڑھ کر اس پر پھونک رہے تھے-دادا کے ہاتھ سے ناشتہ کر کے وہ چپ چاپ لیٹی ہوئی تھی-ان کے لاکھ پوچھنے پر بھی اس نے ایک لفظ انہیں نہی بتایا تھا-

          دادا جان ظہر کی نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے-سرمد کو اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آتے دیکھ کر وہ سن پڑ گئی تھی-

          ” کیسی طبیعت ہے؟” وہ بڑے شیریں لہجے میں اس سے مخاطب تھا-اس کے چہرے پر بڑے نرم و ملائم تاثرات تھے-علیزہ کے چہرے کی سفید پڑتی رنگت دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے چپ سا ہو گیا-

         علیزہ پلیز جو کچھ ہوا ہے اسے ایک خواب سمجھ کر بھلا دو- میں بہت شرمندہ ہوں-نہ جانے اس دن مجھے کیا ہو گیا تھا-پلیز مجھے معاف کر دو-میں تمہارے ساتھ ایسا کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا-میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا-کل رات جو کچھ ہوا میں اس کے لیے معافی مانگ رہا ہوں -” وہ ندامت سے سر جھکائے بول رہا تھا-

         علیزہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے وہ کیسے صحیح سمجھے کل رات والے بے رحم اور سفاک سرمد کو یا اسے جو چہرے پر افسردگی اور ندامت لیے بیٹھا تھا-

          وہ کچھ دیر تک اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر اٹھ کر باہر چلا گیا-اس کے جانے کے بعد وہ دیر تک روتی  رہی، شام تک اس کی طبیعت کافی سنبھل چکی تھی-دادا جان نے بھی سکھ کی سانس لی تھی-

         وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی-بڑے دنوں بعد وہ باہر آ کر لان میں بیٹھی تھی-ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی-سرمد کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اسے ایک عجیب سے رنج و ملال نے گھیر  لیا تھا-

          اس کے چہرے پر پھلتے دہشت اور بے اعتباری کے رنگ دیکھ کر وہ چپ سا ہو گیاتھا-

         ” میں کبھی تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، پلیز خود کو صنبھالو دیکھو تمہاری وجہ سے دادا جان بھی کتنے پریشان ہیں-” وہ آہستگی سے بولا تھا-

        ” یہاں کیا کرنے آئے ہیں آپ دیکھیں مزید جھوٹ نہیں بولیے گا- وہ بے اعتباری سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی-

       ” دیکھو میں جو بھی ہوں اور جہاں سے بھی آیا ہوں مگر تم لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا-"

       ” نقصان کا مطلب بھی پتا ہے آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آپ کتنا بڑا نقصان پہنچا چکے ہیں- آپ نے میرے سادہ اور پر خلوص دادا جان کے اعتبار اور بھروسے کا خوں کیا ہے-بتائیں کیا اس نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے-"کچھ دیر ٹہر کر وہ بولی-اور میں ……… میں جو آپ سے محبت کرنے لگی تھی-” وہ رونے لگی-"اور نقصان کیسے کہتے ہیں؟ اس سے بڑا کوئی نقصان ہو سکتا ہے؟ ہماری محبت،خلوص اور اعتبار ہار گیا،نقصان تو ہو چکا-” علیزہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ جا چکا تھا-

        صبح وہ ٹیبل  پر ناشتہ لگا رہی تھی-اسی وقت دادا جان اندر آئے اور اس کے ہاتھ میں چابیاں پکڑاتے ہوئے افسردگی سے بولے-

        ” سرمد چلا گیا ہے-"

        ” چلے گئے-” اس کے دل کو دھکا سا لگا-

        ” ہاں رات میرے پاس آیا تھا کہ رہا تھا اس کا کام ختم ہو گیا ہے اس لیے صبح وہ چلا جائے گا-وہ صبح فجر کے وقت چلا گیا تھا-اب تک دل کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ چلا گیا ہے کیسا اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا-وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھی رہی – زمین کی گردش جیسے تھم گئی تھی -وہ کیا گیا کہ اس کی دنیا کو ویران کر گیا تھا-

         دونوں نے خاموشی اور اداسی کی فضاء میں ناشتہ کیا-ناشتہ کر کے اس کے پورشن کی طرف جاتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگنیں لگیں -وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو وہاں ویرانی کا ڈیرہ تھا-

       اس کے آنسو تواتر سے بھنے لگے-زمین پر علیزہ کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے ٹکڑے بکھرے تھے-جو اس دن سرمد کے ہاتھ کی اہنی گرفت سے ٹوٹی تھیں وہ کانچ کے ٹکڑے جیسے اس کے دل میں کھب گئے تھے-

      ” میں اس شخص کے لیے نہیں روؤں گی -وہ جھوٹا تھا،مجرم تھا اس نے ہمیں دھوکہ دیا میں ایسے انسان کے لیے آنسو نہیں بہاؤں گی-” وہ خود سے کہ بھی رہی تھی اور آنسو بھی بھا رہی تھی- وہ اس کے بیڈ پر بیٹھ گئی- چادر کی شکنیں بتا رہی تھیں کہ کچھ دیر پہلے وہ یہاں کروٹیں بدلتا رہا ہو گا-علیزہ نے اس کا تکیہ سیدھا کر کے رکھا تو دیکھا تکیئے کے نیچے ایک سفید رنگ کا لفافہ رکھا ہوا تھا-

        اس نے بے تابی سے وہ لفافہ اٹھا کر کھولا-

        ” علیزہ میں جا رہا ہوں -اب ہم زندگی میں کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملیں گے–ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ،میری وجہ سے تمہیں جو تکلیف اور دکھ ملے ہیں ان سب کے لیے میں تم سے معافی مانگتا ہوں – میں کون تھا؟کہاں سے آیا تھا؟ کس مقصد سے آیا تھا؟ اور کہاں  جا رہا ہوں؟ یہ سب بے معانی باتیں ہیں-میرے لیے دعا کرنا-میں تمہارے لیے دعا گو ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو تمہیں  بے حساب خوشیاں ملیں اور کوئی دکھ کوئی غم بھولے سے بھی تمہارے نزدیک نا آئے – اسفند یار ………..”

       ” اسفند -” اس نے زیر لب دہرایا پورا خط اس کے آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا-

                                                                          ……………………………………………………………………………………………..

        ” اور میں………میں جو آپ سے محبت کرنے لگی تھی-اور نقصان کسے  کہتے ہیں؟ اس سے بڑا کوئی نقصان ہو سکتا ہے ؟” رات کی تنہائ میں اکثر یہ آواز اسے نیند سے جگا  دیتی تھی- وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ایک مانوس سی خوشبو اسے چاروں طرف بکھری سی محسوس ہوتی تھی-اور پھر ساری رات اس کی آواز اسے سونے نہیں دیتی تھی- وہ پھر اسی جگہ پہنچ جاتا جہاں سے بھاگ کر آ گیا تھا–کبھی کبھی اسے یوں لگتا جیسے اس کا دل اب بھی وہیں کہیں ہے- وہاں سے آتے ہوئے وہ اپنی قیمتی متا ع اپنا دل وہیں بھول کر آ گیا تھا-

        وہ خود کو تنبیہ کرتا محبت، خلوص ،اعتبار اور بھروسہ نامی باتوں کا اس دنیا میں کوئی وجود نہیں یہ سب بے معنی باتیں ہیں-میں اسفند یار کب سے ان جذبوں پر یقین کرنے لگا سب فضول باتیں ہیں- وہ اکثر سوچا کرتا تھا مگر اس کے باوجود اس کی بے سکونی ختم نہیں ہوتی تھی- وہ بے مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہتا تھا- میں نہیں   مانتا میرے دل میں محبت  کوئی جگہ نہیں، وہ چیخ اٹھتا تھا- کل ہی خرم کہ رہا  تھا کہ جب سے  کراچی سے آئے ہو بدلے بدلے سے ہو-"بکواس نہیں کرو-میں نہیں بدلہ ویسے کا ویسا ہی ہوں-"وہ خود کو تسلی دینے  ناکام کوشش کرتا تھا-

       اس نے ایک بے حد امیر اور سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی- پشاور کے ایک عالیشان گھر میں وہ ڈیڈی اور ممی کے ساتھ رہا کرتا تھا-دنیا کی ہر آسائش اسے حاصل تھی- وہ شروع ہی سے پڑھاکو اور خاموش طبع تھا – اس کے  خاموش طبع ہونے میں اس کے گھر کے ماحول کا بھی کافی دخل تھا-ممی کو آئے دن کے فنکشنز یا پارٹیز سے فرصت نہیں تھی جبکہ ڈیڈی اپنے بزنس اور سیاسی جھمیلوں میں الجھے رہتے تھے-

        اسفند کے ڈیڈی امیر یار پشاور  کی ایک مشہور سیاسی پارٹی کے اہم لیڈر تھے اور ان سے پہلے ان کے والد مہابت یار بڑے دبنگ قسم کے سیاسی لیڈر رہے  تھے-ایسے لوگوں کے جہاں   سو دوست ہوں وہاں سو دشمن بھی ہوتے  ہیں -مخالف پارٹی سے ان کی سیاسی چپقلش چلتی رہتی تھی-مہابت یار کے سامنے تو کسی کو جراءت نہیں ہوتی تھی کہ اف بھی کر  سکیں-لیکن ان کے بر خلاف امیر یار باہر کے کولیفائد اور نہایت ٹھنڈے مزاج کے شخص تھے-ان کے مزاج کی نرمی سے ان کے مخالفین بڑا فائدہ اٹھایا کرتے تھے بلکہ باز تو بر ملا انہیں بزدلی تک کا طعنہ دیا کرتے تھے-

         اسفند یار کو ان سیاسی جھمیلوں سے کوئی سروکار نہیں تھا- اس کا تعلیمی ریکارڈ بڑا شاندار تھا شروع سے ہی وہ ہر کلاس میں پوزیشن لیتا رہا تھا اور کامیابی سے ترقی کی منزلیں طے کرتا وہ میڈیکل کالج میں آ گیا تھا-اسلام آباد میڈیکل کالج میں اس کا ایڈمیشن ہوا تھا-اس لیے اسے یہاں کے ہوسٹل میں رہائش اختیار کرنی پڑی تھی- لیکن وہ بہت خوش اور مطمئن تھا- اب وہ یکسوئی سے اپنی تعلیم پر دھیان دے سکتا تھا-

        ابتدہ میں ممی اور ڈیڈی اسے بہت یاد آئے تھے-وہ پہلی بار ان سے جدا ہوا تھا-ڈیڈی گاہے بگاہے اس سے ملنے آتے رہتے تھے-

        اسفند نے سب کچھ بھول کر تعلیم پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر دی تھی- وقت تیزی سے گزرتا رہا-وہ اب میڈیکل کے فائنل ایئر میں تھا اور اس کے ایگزامز شروع ہونے والے تھے-

        انہی دنوں اس کے ڈیڈی امیر یار اس سے ملنے ہاسٹل آئے تھے-وہ بڑے چپ اور بجھے ہوئے سے لگ رہے تھے -اس کے اصرار پر انہوں نے بتایا تھا کہ مخالف پارٹی کا لیڈر جبّار اعوان اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور انہیں قتل کی دھمکیاں دینے لگا ہے-یہ سن کر اسفند کا لہو اس کی رگوں میں سنسنانے لگا-

       "اس کی یہ جرات ؟” ان نے غصیلے لہجے میں کہا پھر کچھ سوچ کر بولا- ڈیڈی آپ سیاست چھوڑ کیوں نہیں دیتے- آپ ان جاہلانہ ذہن رکھنے والے لوگوں سے مقابلہ نہیں کر سکتے-ویسے بھی ہمارے گھرانے کا سیاسی سفر آپ تک ہی اختتام پزیر ہو جائے گا- اس لیے کہ مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے- بہتر ہے کہ دامن بچا کر نکل جایں -"

        ” بیٹا پھر تبدیلی کیسے آئے گی- اگر ہر پڑھا لکھا قابل شخص یہی سوچنے لگے-"

        ” میں نے گارڈز کی تعداد بڑھا دی ہے،اور خود بھی بہت محتاط ہو گیا ہوں تم بے فکر رہو-” انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی تھی –

        اس نے پہلی بار ڈیڈی کو اتنا فکر مند دیکھا تھا-انہیں فکر مند دیکھ کر وہ بھی پریشان ہو گیا تھا-دو دن بعد اس کے فائنل ایگزامز شروع ہونے والے تھے-اسے اپنی ان تھک محنت پر بھروسہ تھا- اس محنت کے نتیجے میں ایک شاندار مستقبل اس کے سامنے تھا کہ وہ واقعہ ہو گیا جس نے اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا –

         ہوا یوں کہ جبار اعوان کا عیاش بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ ان دنوں اسلام آباد آیا ہوا تھا-یہ سب دوست کچھ بدنام زمانہ لڑکیوں کے ساتھ ایک مشہور ہوٹل میں ٹہرے ہوئے تھے =اس دن وہ دوستوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک شاپنگ مال کے پارکنگ میں اپنی گاڑی پارک کر رہا تھا کہ جبار اعوان کے بیٹے شہباز کو کسی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا-گاڑی اس وقت شہباز ہی ڈرائیو کر رہا تھا-فائر قریب سے کیا گیا تھا- گولی اس کے حلق سے پار ہو گئی تھی-یہ کسی مہر نشانے باز کا کمال لگتا تھا-

       رش اور ناکافی روشنی کی وجہ سے لوگ اور اس کے دوست قتل کو نہیں دیکھ سکے تھے- یہ تو تھی حقیقت مگر جبار اعوان اور اس کے حواریوں نے سارا الزام امیر یار کے بیٹے اسفند یار پر دھر دیا-شہباز کے دوستوں نے جبار کا مکمل ساتھ دیا اور اسفند کے خلاف گواہی دی تھی-

        دوسرے دن صبح ایگزامینشن ہال  میں اسفند یار اپنا پہلا پرچہ ھل کر رہا تھا جب پولیس نے اسے شہباز کے قتل میں گرفتار کر لیا تھا- اسفند نے تو کبھی شہباز کو دیکھا تک نہیں تھا-اس کے قاتل اسی جگہ دندناتے پھر رہے  تھے اور اسے نہ کردہ گناہ کی سزا میں گرفتار کر لیا گیا تھا- اسے پولیس ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا-

         امیر یار کو جیسے ہی اس واقع کا پتا چلا تو دونوں میاں بیوی سب کچھ چھوڑ چھاڑ اپنی گاڑی میں بذریعہ سڑک اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے تھے- ان دونوں نے ابھی چند ہی کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا کہ ان کا پیچھا کرتے جبار کے حواریوں نے انہیں جا لیا اور دوسنوں کو گولیوں سے بھون دیا اور موقع سے فرار ہو گئے-اس ساری کاروائی میں چند منٹ صرف ہوئے تھے اور ایک ہنستا بستہ گھر اجڑ گیا تھا-

       اسفند یار کے لیے یہ دوہرا صدمہ ناقابل برداشت تھا-وہ ٹوٹ کر رہ گیا تھا-بھری دنیا میں تنہا رہ گیا تھا-اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوئی تھی-پولیس،عدالتیں اور گواہ سب جبار اعوان  کی

جیب میں تھے- اسفند کی قیمتی متا ع  اس کے ماں باپ ظالموں نے چھین لیے تھے-اور اس  مستقبل اور کامیابی جو کہ صرف چند قدم دور تھی اس  تھی- ساری دنیا نے اس کا  چھوڑ دیا تھا- لے دے کے اس کا بچپن کا  خرم تھا جو جو اس کے  تھا اور اس کی خبر گیری  تھا-وکیل کا انتظام وغیرہ بھی خرم نے ہی کیا تھا-

         اسفند کے پچھلے دیکارڈ کو دیکھتے ہوئے اور اس کے قابل وکیل کی کاوشوں سے اسفند کی سزا میں کافی تخفیف ہو گئی تھی-مگر یہ سزا بھی سات طویل برسوں پر محیط تھی-

         ان سات سالوں نے اسے سر سے پاؤں تک تبدیل کر دیا تھا – وقت نے اسے بہت کچھ سکھایا تھا- انتقام کا جزبہ اس کے جسم میں لہو بن کر دوڑ رہا تھا-وہ اب سراپا انتقام تھا- روایتی بدلے کی آگ تو اس کے لہو میں شامل ہی تھی-اسے درحقیقت اب کسی سے محبت نہیں تھی-اس کے لیے اب کوئی دوست کوئی رشتہ اہم نہیں تھا-اس کے اندر اب صرف نفرت ہی نفرت بھری تھی-شدید نفرت-

         وہ بے پناہ خود غرض ہو گیا تھا-محبت، خلوص ،قربانی اور ایثار جیسے لفظ اس کے لیے بے معنی ہو کر رہ گیے تھے- اس کے ذہن پر بس ایک ہی دھن سوار تھی- جبار اعوان سے انتقام لینے کی دھن ان سات سالوں میں اسفند نے جبار سے انتقام لینے کے بے شمار منصوبے بنائے اور توڑے تھے-

         آخر وہ دن آ گیا جس کا اسفند کو شددت سے انتظار تھا – یانی اس کی رہائی کا دن……..وہ اپنے قیمتی سات سال ناکردہ جرم کی سزا بھگت کر باہر آیا تو اس کے  کچھ بھی نہیں بچا تھا ڈیڈی کا بزنس تباہ ہو چکا تھا-تھوڑی بہت جائداد اور اس کے اکاونٹ میں جمع کچھ رقم اس کے پاس تھی-اسے دولت وغیرہ کے چلے جانے کا کوئی غم نہیں تھا اس کا غم تو اس سے سوا تھا-

        باقی ماندہ جائداد کی فروخت اور اپنے اکاونٹ میں موجود رقم سے اس نے نئے کاروبار کی بنیاد رکھی تھی- خرم نے اس موقع پر بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا- اس کی محنت اور دیانت رنگ لائی تھی-بہت جلد اس نے اپنا بزنس سیٹ کر لیا تھا-

        وہ زندگی میں ہر طرح سے سیٹل ہو گیا تھا-زندگی ہر لحاظ سے ہموار اور پر سکوں ہونے کے باوجود اسے ایک بے سکونی لاحق تھی جیسے زندگی میں ایک اہم کام کرنا باقی ہے اور وہ کام تھا جبار اعوان سے انتقام لینے کا-

         وقت کا پہیہ گھوما تھا اور زندگی نے کروٹ لی تھی تو تبدیلی صرف اسفند یار کے حصّے میں نہیں آئ تھی بلکہ جبار اعوان کی زندگی میں بھی بڑی ھل چل مچی تھی- جبار کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ان میں سے شہباز قتل ہو چکا تھا جبکہ باقی پانچ بیٹوں کی فطرت اور عادت بھی شہباز سے ملتی جلتی ہی تھی- جوان بیٹے کی موت سے جبار کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی- اس کا سارا کرو فر رخصت ہو گیا تھا-اس کے موقع پرست اور عیار  بیٹوں نے اس کی تمام دولت اور جائیداد کے حصّے بخرے کر دیے اس سسلے میں ان کے آپس میں بھی جھگڑے ہوئے اور یوں بد دل ہو کر وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ کراچی شفٹ ہو گیا تھا-

         اسفند کو جبار کے یہ تمام حالات اس کی تلاش کے دوران ہی پتا چلے تھے- اسے تلاش کرنا اگرچہ ایک مشکل کام تھا مگر وہ اپنے ارادے میں اٹل تھا–آخر کڑیوں سے کڑیاں ملتی گئیں اور وہ کراچی کے پوش ایریا میں وقع اس بنگلے کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گیا جہاں آج کل جبار مقیم تھا-

         وہ اس بنگلے میں رہ رہا تھا جو علیزہ کے پڑوس میں ہی وقع تھا-اسے کیا کرنا تھا یہ وہ سوچ چکا تھا-جبار کے بارے میں تمام معلومات وہ بڑی ہوشیاری سے حاصل کر چکا تھا-اسفند نے وہاں جا کر اس علاقے کے ایک اسٹیٹ ایجنٹ سے ملاقات کی تو وہاں ایک بزرگ اپنے بنگلے کا ایک پورشن کرائے پر دینے کی غرض سے آئی ہوئے تھے-انہوں نے اسے وہیں اپنے گھر میں رہنے کی آفر دے دی تھی-ان بزرگ کی باتیں سن کر اسے فورا ہی ایک خیال سوجھا تھا- بزرگ اسے ٹھیک ٹھاک بیوقوف لگے تھے-

         وہ اپنی کراچی میں رہائش کو چھپانا چاہتا تھا-کسی ہوٹل میں رہائش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا-وہ اپنی کراچی آمد کا کوئی ثبوت چھوڑنا نہیں چاہتا تھا- اس نے جان بوجھ کر بزرگ کے سامنے اپنی رہائش کا مسئلہ بیان کیا تھا- اس کی توقع کے عین مطابق انہوں نے اسے اپنے گھر رہنے کی پیش کش کر دی تھی- اس کے  اندازے مشکل ہی سے غلط ثابت ہوتے تھے-

         یہ ایک کافی کشادہ اور قدیم طرز پر بنا ہوا بنگلہ تھا- اس میں داخل ہوتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا تھا- وہ جگہ جیسے اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی- وہ اپنی اس کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا-وہ اس کی زندگی میں آنے والے لوگوں میں سے سب سے سادہ اور بیوقوف لگتے تھے- بیٹا بیٹا کہتے ان کی زبان گھستی تھی- اس نے جو کچھ انہیں بتایا تھا انہوں نے آنکھ بند کر کے بھروسہ کر لیا تھا- حیان تک کے اس نے انہیں اپنا نام تک غلط بتایا تھا-

       انہوں نے پہلے ہی دن اسفند کو کھانے  پر بلایا تھا- وہاں پہلی بار اس نے انتہائی خوبصورت اور سادہ سی لڑکی علیزہ کو دیکھا تھا- وہ بے حد حسین تھی عام سے کپڑوں میں بھی وہ خاص لگ رہی تھی – اس کے چہرے پر بے پناہ معصومیت تھی-

       اس دن وہ اپنے گھر کے باہر ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اور اپنی دن بھر کی کارکردگی پر خوش ہو رہا تھا-جبار کے بارے میں اسے جبار کے ملازم کے زریعے بڑی اہم معلومات ملی تھیں -جبار کے بیٹے کے آنے اور جانے کے اوقات کے بارے میں بھی اسے پتا چل گیا تھا- وہ اس کے اتنا قریب تھا اتنا قریب کہ جب چاہتا اس کی زندگی کی ڈور کاٹ سکتا تھا- وہ اس سے نبٹنے کے کے لیے منصوبہ بنا رہا تھا جب اسے احساس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے- لان میں کچھ  فاصلے پر علیزہ کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھی تھی-علیزہ شاید اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی – لیکن اس کا ذہن اس وقت جبار میں الجھا ہوا تھا-اسفند نے اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا-

        دوسری صبح موسم ابر آلود تھا اور اس کا موڈ بھی بڑا خوشگوار تھا-وہ جاگنگ کرنے باہر نکل گیا تھا- واپسی پر وہ لان میں چہل قدمی کرتی نظر آئ تھ– ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی – گلابی رنگ کے لباس میں وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی سر سبز گھاس پر اپنے گلابی پاؤں دھرتی وہ آہستہ قدمی سے چل رہی تھی-وہ اس وقت پھول کی طرح کھلی کھلی لگ رہی تھی اور سیدھی اس کے دل میں اتری جا رہی تھی- وہ بے اختیار اس کے پاس چلا آیا تھا–اپنے کل کے نظر انداز کے جانے پر اس کا موڈ آف تھا- اسی لیے وہ اسے اگنور کر ہی تھی-وہ اپنے اس روٹھے روٹھے روپ میں اور پیاری لگ رہی تھی- وہ اس کا یہ انداز دیکھ کر مسکرایا تھا-

           یہاں سب کچھ اسفند کی مرضی کے مطابق ہو رہا تھا-اس نے جبار کے دو ملازمین کو تھوڑا سا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا- وہ ہر طرح سے اس کے ساتھ تعاون کر رہی تھے-اس کا کام بہت آسان ہو گیا تھا-ملازمین کے زرییے ہی اسے پتا چلا تھا کہ جبار آج کل بہت بیمار ہے-اور اپنے کمرے تک ہی محدود رہتا ہے-  ” کل وقت تمہارا تھا جبار مگر آج وقت کی طنابیں میرے ہاتھوں میں ہیں-” اس نے سوچا تھا-

          وہ رات کو دیر تک جاگتا رہتا تھا اور اکثر علیزہ کو اپنی کھڑکی سے ادھر ادھر جھانکتے اور آتے جاتے دیکھا کرتا تھا-کبھی کبھا تو یوں لگتا تھا کہ وہ نیند سے جاگ کر ادھر ادھر دیکھ رہی ہے-ایک بار جب رات گئے باہر کا جائزہ لینے کے بعد وہ کھڑکی سے حتی تو اسے ذرا تجسس ہوا- وہ دبے پاؤں ان لوگوں کے پورشن کی طرف آ گیا- اس نے کھڑکی سے اندر جھانکا تو وہ بڑے وہمی انداز میں کھڑکی دروازے چک کر رہی تھی- جو کھڑکیاں کھلی تھیں وہ جلدی جلدی بند کر رہی تھی- اس کے بے حد خوبصورت اور گھنے بال کھلے ہوئے اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھے-وہ اس حلیے میں بہت حسین لگ رہی تھی-وہ اتنی پیاری اور معصوم لگ رہی تھی کہ وہ مبہوت رہ گیا تھا-جس کھڑکی کے پاس وہ کھڑا تھا وہ اسے بند کرنے آئ تو وہ جلدی سے پیچھے ہت گیا تھا-اپنے کمرے میں واپس آیا تو اس کے دل کی کیفیت عجیب سی تھی-بار بار اس کی آنکھوں میں اس کا دلکش سراپا گھوم رہا تھا -اس نے اپنے ذہن سے اس کا خیال جھٹکنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا تھا- اس کی زندگی کا مقصد کچھ اور تھا اور اس کا دل اسے کسی اور سمت لیے جا رہا تھا-

          اس دن اسے بخار ہو گیا تھا- انہیں نہ جانے کیسے خبر ہو گئی تھی- وہ ان کے آنے پر حیران رہ گیا تھا-

          ” کل سے تم مسلسل گھر پر ہو تو مجھے تشویش ہوئی کہ کہیں خدانخوستہ طبیعت تو خراب نہیں” اسفند کو دیکھتے ہی وہ بولے تھے-

           معمولی بخار کو وہ خاطر میں نہیں لایا تھا-دوا لے کر وو بیڈ پر لیتا تی وی دیکھتا رہا تھا یا سوتا رہا تھا- مگر وہ اس طرح پریشان  ہو گئے تھے جیسے وہ نہ جانے کتنا شدید بیمار ہو-انہوں نے ملازمہ سے چائے بنوا کر اسے پلائی تھی بسکٹ کھلائے تھے پھر اس کے سرہانے بیٹھ کر دیر تک اس سے باتیں کرتے رہی تھے-

         ” اٹھنے کی ہمت نہیں تھی تو فون ہی کر دیتے-” وہ اس کے ماتھے  پر ہاتھ رکھ  کے اس کے بخار کا اندازہ کر رہے تھے-ان  کے ہاتھوں کا لمس پا کر وہ کچھ بے چین ہو گیا تھا- اسفند نے ان کا شکریہ ادا کیا تو وہ بولے تھے-

         ” تم تکلف بہت برتتے ہو کیا تمھارے گھر والے یھاں ہوتے تو انہیں منع کرتے-” ان کی اس بات نے اسے اندر سے ہلا کر رخ دیا تھا-کتنی سچی اور خالص محبت تھی ان کی- اس رات وہ بہت پریشن اور پشیمان رہا تھا-کتنے پر خلوص اور سادہ لوگ تھے یہ-

        ” وہ اتوار کا دن تھا وہ بستر پر سستی سے پڑا انگڑائیاں لے رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی تھی اس نے دروازہ کھولا تو سامنے علیزہ کھڑی تھی- وہ اسے ناشتے کے لیے بلانے ائی  تھی زرد آنچل کی اوٹ میں اس کا سرخ و سپید  چہرہ دمک رہا تھا- اس نے سوچا یہ رنگ آج سے پہلے اسے اتنا اچھا کیوں نہیں لگا تھا-ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنا اسفند کے لیے ایک بلکل انوکھا تجربہ تھا- وہ خود کو اس فیملی کا فرد تصور کر رہا تھا – اس نے بے اختیار دعا کی ا گر یہ خواب ہے تو  کاش یہ خواب کبھی نہ ٹوٹے اس لمحۂ اس نے سوچا اس جگہ سے اچھی جگہ روئے امین پر کوئی نہیں ہو سکتی-

        اسفند کا آج کل زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزر رہا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ یھاں چھٹیاں انجوئے کرنے آیا ہو-جبر کو جیسے وہ یکسر بھلا بیٹھا تھا-تھوڑی در کے لیے وہ باہر جاتا تو واپس گھر جانے کے لیے بے چن ہونے لگتاتھا- اس گھر اور گھر کے مکینوں میں نہ جانے ایسی کیا خاص بات تھی-جب اسے اس بات کا خیال آیا کہ وہ اپنا مقصد بھول رہا ہے تو اس نے نئے سرے سے خود کو تیار کیا-کچھ تھا جو اسے اینڈ ہی اندر کچوکے لگاتا تھا- اپنی بدلتی ہوئی کیفیت سے وہ پریشان ہو گیا تھا- اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا وجود دو حصّوں میں تقسیم ہو گیا ہو- اسے اپنے آپ سے ڈر لگ رہا تھا–شام تک یہ اضطراب اور بے قراری ایک ہیجان کی صورت اختیار کر گئی تھی-وہ علیزہ کو بتا دینا چاہتا تھا کہ اس کے دل میں جو اس کے لیے وسوسے تھے وہ سچ تھے- اپنا مقصد یاد آتے ہی لہو اس کی رگوں میں آگ بن کر دوڑنے لگاتھا-

        اس دن موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور وہ فون پر خرم سے بات کر رہا تھا-اسی وقت اسے وہاں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا اور اسی وقت چھناکے کی ایک زور دار آواز آئ تھی جو علیزہ کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ کر نیچے گرنے کی آواز تھی-اسفند کا غیظ و غضب سے برا حال ہو گیا تھا- اسے اس کے بارے میں سب کچھ پتا چل گیا تھا-یہ سوچ اس کی ہر سوچ پر حاوی ہو گئی تھی-اس پر ایک جنوں سا سوار ہو گیا تھا-علیزہ خوفزدہ تھی اور وہاں سے بھگ جانا چاہتی تھی-مگر اسفند نے اسے بھاگنے نہیں دیا تھا اور انتہائی سنگدلی اور بے رحمی سے کھینچ کر کمرے میں لے آیا تھا-وہ اس وقت وہی اسفند تھا جو اپنے راستے میں آنے والے کو کوچک کر رکھ دیتا تھا- وہ اس سے التجا کر رہی تھی گڑگڑا رہی تھی اور وہ اسے اذیت دے رہا تھا-اس کا منہ اس نے سختی سے بند کیا تھا-وہ بری طرح تڑپ رہی تھی اسے اس پر کوئی رحم نہیں آیا تھا بلک اس کے چلانے پر وہ گسسے سے پاگل ہو گیا تھا-اور پوری قوت سے اس کے منہ پر تھپڑ دے مرا تھا-وہ بے حال سی ہو گئی تھی اس کا سر بری طرح دیوار سے ٹکرایا تھا-پھر کچھ دیر بعد اسے اس نے کوئی بھی بات کسی کو بتانے سے منع کیا تھا اور وہاں سے جانے کا کہا تو وہ دیوانہ وار وہاں سے بھگ گئی تھی-

          وہ چلی گئی تھی اور اسفند  کھڑا اپنے آپ کو پر سکوں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب جبکہ اسے اس کی  پتا چل گیا ہے تو اسے جلد از جلد جبار کا کام تمام کر دینا چاہیے اور یہاں سے نکل جانا چاہیے -باہر سے آتا بارش کا شور اسے ڈسٹرب کر رہا تھا- وہ دروازہ بند کر کے کمرے میں پلتا تو فرش پر جا بجا الٹی ہوئی ٹرے ، پکوڑے ، سموسے، ٹوٹی ہوئی چائے کی پیالی جو وہ اس کے لیے بنا کر لائی تھی-بکھری ہوئی تھیں-

         ” میرے لیے …….. میرے لیے بنا کر لائی تھی -” اس نے خود سے کہا -اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دیکھنے لگا-وہ سب اٹھا کر اس نے ٹرے میں ڈالا –

        آگے کچھ فاصلے پر اس کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں پڑی تھیں-وہ دیوار کے پاس آیا یہاں اس کا زرد دوپٹہ پڑا تھا-جسے اس کے سر پر دیکھ کر اس نے سوچا تھا کہ آج سے پہلے یہ رنگ اسے اتنا اچھا کیوں نہیں لگا تھا-وہاں کی ایک ایک چیز اس کی سفاکی کا اعلان کر رہی تھی-

         ” اس کا دل تڑپ اٹھا وہ جیسے ہوش میں آ گیا- اس نے سوچا ” وہ کیا کر رہی ہو گی…….. وہ ٹھیک تو ہو گی ؟…….علیزہ …….. وہ چیخا اور باہر کی طرف دوڑا تھا-

        ” یہ میں نے کیا کر دیا؟”

        "علیزہ  اٹھو آنکھیں کھولو-” وہ جونونی انداز میں اسے جھنجھوڑ رہا تھا-مگر اس کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی- وہ پجول جیسی لڑکی اتنی سفاکی بھلا کیسے برسشت کر سکتی تھی-اس کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیروں کے ساتھ اس کے ہاتھ کا نشان بھی نظر آ رہا تھا- وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامے رو رہا تھا- مگر وہ ہوش و حواس سے بے گانہ پڑی رہی- وہ اسے اٹھا کر کمرے میں لیا اور بیڈ پر لیتا کر باہر بھگا-

         طوفانی بارش میں وہ تیزی سے چلتا نزدیک ہی واقع ڈاکٹر کی کلینک کی طرف جا رہا تھا-راستے بھر وہ یہی سوچتا رہا تھا کہ اسے کچھ ہوا تو میں کیسے جی پاؤں گا- ڈاکٹر کو لے کر وہ واپس گھر پہنچا تو دادا جان اس کے سرہانے بیٹھے رو رہی تھے-اور مسلسل دعائیں پڑھ پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھے- ڈاکٹر کے تسلی آمیز جملے سننے کے بعد وہ بولے-

        ” غلطی میری ہے ……… اتنے خراب موسم میں اسے اکیلے چھوڑ کر کیوں گیا؟……. وہ ڈر گئی ہو گی-…….بارش کی گھن گرج سے وہ ہمیشہ سے بہت ڈرتی ہے-” لیسی قیامت کی یہ رات تھی وہ دونوں اس کے سرہانے بیٹھے اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہی تھے-

         بے ہوشی میں وہ کی بار چلی تھی- ” دادا جان مجھے بچا لیں-” اور اس کی یہ پکار اسفند کو ندامت کے سمندر میں غرق کر رہی تھی-

         اس کی نظر جیسے ہی اسفند پر پڑی تو اسے لگا کہ وہ چیخ کیخ کر سب کو بتا دے گی کہ وہ دھوکے باز ہے اور اسفند نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے اور اس کی وجہ سے آنچل اس کے سر سے گرا ہے- لیکن اس کے ہونٹوں پر تو جیسے قفل پڑے تھے- اس کے لب بنچے ہوئے تھے اور آنکھوں میں خوف منجمد ہو کر رہ گیا تھا-

         اسے دیکھ کر وہ ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا-زندگی اس کا امتحان لے رہی تھی -اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا-اس نے برسوں جس انتقام جس نفرت کی آبیاری کی تھی وہ اس مختصر سے عرصے میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے رہی تھی کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جو وہ کرنے جا رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے- علیزہ کی حسین آنکھوں میں اس کے لیے آنسو تھے-اس کی آنکھوں سے گرنے والا ہر اشک اس کے لیے تھا اس کی وجہ سے تھا اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کردے اور اس سے کہے –

         ” ہاں میں ہی وہ شخص ہوں جس پر تم آنکھیں بند کر کے اعتبار کر سکتی ہو-‘ وہ اسے سوتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا-وہ مسلسل سوچ رہا تھا-

   اس کی نظر جیسے ہی اسفند پر پڑی تو اسے لگا کہ وہ چیخ چیخ  کر سب کو بتا دے گی کہ وہ دھوکے باز ہے اور اسفند نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے اور اس کی وجہ سے آنچل اس کے سر سے گرا ہے- لیکن اس کے ہونٹوں پر تو جیسے قفل پڑے تھے- اس کے لب بنچے ہوئے تھے اور آنکھوں میں خوف منجمد ہو کر رہ گیا تھا-
         اسے دیکھ کر وہ ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا-زندگی اس کا امتحان لے رہی تھی -اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا-اس نے برسوں جس انتقام جس نفرت کی آبیاری کی تھی وہ اس مختصر سے عرصے میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھے رہی تھی کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جو وہ کرنے جا رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے- علیزہ کی حسین آنکھوں میں اس کے لیے آنسو تھے-اس کی آنکھوں سے گرنے والا ہر اشک اس کے لیے تھا اس کی وجہ سے تھا اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کردے اور اس سے کہے –
         ” ہاں میں ہی وہ شخص ہوں جس پر تم آنکھیں بند کر کے اعتبار کر سکتی ہو-‘ وہ اسے سوتا چھوڑ کر اپنے کمرے میں آ گیا تھا-وہ مسلسل سوچ رہا تھا-
         ” کاش علیزہ میں تمہارے قابل ہوتا-کاش میں تمہارے جیسا ہوتا- نفرت زہر بن کر میرے وجود میں پھل گئی ہے- محبت اب مجھے راس نہیں آئے گی -نفرتوں نے مجھے محبت کے قابل ہی کب چھوڑا ہے-مجھے معاف کر دینا علیزہ میں انتقام لیے بغیر جی نہیں سکتا-میں واپس اپنی اسی دنیا میں جا رہا ہوں-منافق، جھوٹی اور مکر و فریب سے بھری دنیا میں-……..”
         جبار کو قتل کرنے کے منصوبے کو اس نے آخری شکل دی تھی-اس کے ملازم نے جبر کے کمرے کے اے سی میں کوئی خرابی پیدا کر دی تھی اور الیکٹریشن کے روپ میں اسفند کو اس کے کمرے تک با آسانی رسائی مل گئی تھی-جبر کا ملازم اسے پہلے بتا چکا تھا کہ وہ بہت بیمار ہے لیکن اس کی بیماری کی نوعیت سے اس نے اسفند کو آگاہ نہیں کیا تھا-
         وہ اور جبار اس وقت جبار کے کمرے میں تھے- ملازم جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر گیا تھا-اسفند جبر کے بیڈ کے قریب آگیا- وہ بغور جبار  کے بوڑھے،کمزور اور فالج زدہ جسم کو بیڈ پر پڑے دیکھ رہا تھا-اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا- وہ برسوں سے اپنے بیڈ تک محدود تھا- یہاں تک کے قوت گویائی سے بھی محروم ہو گیا تھا-
       ” مجھے پہچانا جبار میں اسفند یار ہوں،امیر یار کا بیٹا جس کی زندگی تو نے تباہ کر دی- میں تجھ سے انتقام لینے آیا تھا-میں تجھے اذیت ناک موت مارنا چاہتا تھا تجھے تڑپتا اور اپنے سامنے گڑگڑاتے ہوئے زندگی کی بھیک مانگتے دیکھنا چاہتا تھا مگر جو موت میں تجھے دینا چاہتا تھا وہ کم اذیت ناک تھی -قدرت نے تیرے لیے بہتر سزا تجویز کی ہے-"
        نفرت اور انتقام کا وہ الاؤ جو برسوں سے اسفند نے اپنے وجود میں سلگائے رکھا تھا وہ جبار  کی اذیت ناک حالت دیکھ کر بجھ گیا تھا-جیسے لمحوں میں اس پر گھروں پانی پڑ گیا ہو- قدرت کے کھیل  نرالے ہوتے ہیں وہ اس سے پہلے ہی جبار  سے انتقام لے چکی تھی -بے شک الله بہتر انصاف کرنے والا ہے-اسفند نے سوچا تھا- وہ اسے اسی حالت میں چھوڑ کر چلا آیا تھا جبار دور تک اسے جاتا دیکھتا رہا اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے-
       اسفند پشاور اپنے گھر واپس آگیا تھا-سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا–بس وہ بدل گیا ٹھیس میں کوئی بڑی تبدیلی آ گئی تھی-خرم نے اس تبدیلی کو سب سے زیادہ محسوس کیا تھا-آفس کے بعد سارا وقت اس کا گھر پر ہی گزرتا تھا یا پھر وہ لانگ ڈرائیو پر نکل جاتا تھا-صوبۂ سو کر اٹھتا تو اپنے بنگلے کے وسع و عریض لان پر کوئی آہستہ آہستہ گھاس پر اپنے سفید پاؤں رکھتا نظر آنے لگتا-وہ اسے یاد کرنا نہیں چاہتا تھا-وہ اس کی ہر یاد کو ذہن سے جھٹک دینا چاہتا تھا-لیکن وہ جتنا اس کی یاد کو جھتکتا وہ اسے اتنی ہی شدّت سے یاد آنے لگتی تھی-اس کی آواز اسفند کے کانوں میں گونجتی تو وہ سوتے سے اٹھ جاتا تھا- وہ اپنے آپ سے لڑ رہا تھا-
          ایک سال بیت چکا تھا- خود سے لڑتے ہوئے اور علیزہ کو بھلانے کی کوشش کرتے ہوئے-مگر وہ ناکام رہا تھا-ماضی کی ایک ایک بات اسے یاد آتی تھی- رلاتی تھی-تڑپتی تھی-وہ بڑا بے چن اور مضطرب رہتا تھا- اب صرف وہ اسفند زندہ تھا جو محبت کرتا تھا جس کے دل میں ایک محبت بھرا دل دھڑکتا تھا-اس کے دل میں محبت نے ڈیرے ڈال دیے تھے- وہ اب اپنی زندگی محبتوں کے ساتھ گزرنا چاہتا تھا-علیزہ کے ساتھ گزرنا چاہتا تھا-
          ” کیا وہ مجھے معاف کردے گی؟”کیا اس کے  دل میں میرے لیے کوئی جگہ ہو گی؟” اس نے خود سے سوال کیا-
          ” کیا وہ میری محبت کا یقین کر لے گی؟”
          ” ہان………” اس کے اندر سے آواز آئ –
          ” وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے-” دل نے کہا –
          وہ کھڑکی میں کھڑی تھی اور باہر دیکھ رہی تھی – یہ دسمبر کے آخری ایام تھے باہر سخت سردی تھی-ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی-وہ کھڑکی بند کر کے پلٹنے ہی والی تھی کہ اس کی نذر اسی وقت ایک شخص پر پر جو صوت پہنے تیز قدموں سے گیٹ کے اندر داخل ہوتا نظر آیا- وہ تیز تیز چلا آ رہا تھا-
          ” سرمد …….” وہ بے اختیار بھاگی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی-اسفند نے بھی اسے دیکھ لیا تھا-وہ تیز قدموں سے چلتا اس  تک آ گیا تھا-وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے-
         ” علیزہ میں ایک طویل مسافت طے  کر کے آیا ہوں کیا مجھے یھاں جگہ ملے  گی-"
         ” اس کے سوال میں کئی  اندیشے تھے کئی امیدیں تھیں-کچھ دیر ٹہر کر وہ بولا-
         ” وہ سرمد مر چکا ہے اب تمہارے سامنے وہ اسفند کھڑا ہے جو تم سے شدید محبت کرتا ہے جو تمہارے بغیر جی نہیں سکتا-” وہ بڑی آس لیے اسے دیکھ رہا تھا-
         ” اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں-” اس کا جواب سن کر وہ ایک دم پر سکوں ہو گیا-اس کے سارے اندیشے ختم ہو گئے اور لبوں پر بڑی دلفریب سی مسکراہٹ پھیل  گئی تھی-
                                                                                 ………………………..……………………………………………………
                                                                                                                                                                                           مہتاب خان 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق پہلا حصہ خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے