سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا … نفیسہ سعید … قسط نمبر 1

ساڈا چڑیا دا چنبا … نفیسہ سعید … قسط نمبر 1

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 1

”عورت کبھی بھی میری کمزوری نہیں رہی اور یہ مجھے صرف ایک ہی رشتے میں اچھی لگتی ہے اور وہ ہے ”ماں“ کا رشتہ باقی اس سے وابستہ سارے رشتے فضول اور بے کار ہیں خاص طور پر بیوی کا رشتہ اور ازدواجی تعلقات یہ ہی وجہ تھی کہ میں نے اماں کو ہمیشہ شادی سے منع کیا پھر بھی جانے کیوں انہوں نے میری شادی کر دی۔“ کسی خوبصورت جملے کی منتظر نبیرہ نے ایک دم ہی سر اٹھا کر اپنے سامنے موجود شخص پر نظر ڈالی جو اس کے وجود سے یکسر بے نیاز بڑے ہی ظالمانہ انداز میں اپنا تجزیہ پیش کر رہا تھا۔

”تم یہ مت سمجھنا کہ اپنی خوبصورتی کو مجھ پر بطور ہتھیار استعمال کر سکتی ہو کیونکہ میرے نزدیک خوبصورتی کا معیار کافی مختلف ہے اور میرے معیار کے اعتبار سے تم میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو مجھے متاثر کر سکے۔“

دھڑام دھڑام اس کے آس پاس بنے اونچے اونچے تاج محل زمین بوس ہونے لگے۔ یکدم ہی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔ توہین کا شدید احساس اس کے تن بدن کو جلا گیا اور اسی جلن نے اسے دنیا و مافیہا سے پل بھر میں ہی بے خبر کردیا وہ بھول گئی کہ وہ کہاں موجود ہے؟ اور سامنے بیٹھے شخص سے اس کا کیا رشتہ ہے اسے یاد کرنے پر بھی یاد نہ آیا کہ اس طرح کا انداز گفتگو اس سے پہلے بھی کبھی کسی اور کا دیکھا ہے یا نہیں۔ وہ تو ہمیشہ خوبصورت الفاظ اور شیریں لہجہ سننے کی عادی تھی تو پھر یہ سب کیا تھا؟ اور یہ سب کہنے والا کون تھا؟

اس کا شوہر، اس کا مجازی خدا…. جس نے پہلے ہی دن اسے کوئلوں کی بھٹی پر بٹھا دیا تھا۔

”میرے اللہ! میری ساری زندگی اس شخص کے ساتھ کس طرح گزرے گی۔“ اپنی آئندہ زندگی کے تصور نے اس کے حواس چھین لئے وہ یکدم ہی برف کی مانند ٹھنڈی ہو کر وہیں کر گئی۔

QQQQ

”تم بہت خوبصورت ہو۔“ سنان اس کے کان کے قریب گنگنایا۔

”مجھے پتا ہے۔“وہ اٹھلائی۔

”اب کوئی نئی بات بتاﺅ۔“

”ایک تو یار تم بھی نا بڑی خوش فہمی کا شکار ہو میں تو صرف مذاق کر رہا تھا۔“

”او اچھا! تو یہ مذاق تھا؟“ اس نے بھنویں اچکا کر سوال کیا اور ساتھ ہی برا سا منہ بھی بنایا جسے دیکھ کر سنان زور سے ہنس دیا۔

”ایک بات بتاﺅ تم کیوں چاہتی ہو کہ میں ہر وقت تمہارے حسن کے قصیدے پڑھتا رہوں میری جان کبھی کبھی سچ سننے کی عادت بھی ڈالو صحت کیلئے اچھا ہوتا ہے۔“ نبیرہ کے چہرے پر آئے بالوں کو سنان نے اپنے ہاتھوں سے پرے ہٹایا۔

”اور سچ صرف اتنا ہے کہ تم اپنی تمام تر بدصورتی کے ساتھ میرے لئے دنیاکی خوبصورت ترین لڑکی ہو اور میں تم سے بے حد، شدید محبت کرتا ہوں اتنی کہ شاید تمہارے بغیر گزرنے والا میرا دن زندگی کا آخر دن ہو گا۔“ سنان کا شرارتی لہجہ ایک دم ہی گمبھیر سا ہو گیا۔

”چلو بہت ہو گیا ہٹو آگے سے مجھے اندر جانا ہے رحاب باجی میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔“ وہ سنان کو ہٹاتی اندر داخل ہو گئی کیونکہ اسے علم تھا کہ رحاب جو کہ عنقریب اس کی بھابی بننے والی تھی اس کی اور سنان کی دلی وابستگی سے آگاہ تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ جب بھی وہ رحاب سے ملنے آتی کسی نہ کسی بہانے گھڑی دو گھڑی باہر کھڑی ہو کر سنان سے بھی بات کرلیتی ورنہ تو جانے کیوں سنان سے اس کا بات کرنا اس کے پاپا اور بڑے بھائی جنید کو بالکل بھی پسند نہ تھا کیونکہ شاید انہیں سنان ہی پسند نہ تھا اور اس کی وجہ غالباً سنان کی لاپروا فطرت تھی۔

وہ پچھلے دو سالوں سے انٹر کے امتحان میں فیل ہو کر سب ہی کیلئے مذاق بنا ہوا تھا جس کا احساس اسے بالکل بھی نہ تھا حالانکہ رحاب کا اکلوتا بھائی اور شبنم آنٹی کا اکلوتو بیٹا ہونے کے ناطے اس پر بے حد ذمہ داریاں عائد تھیں جن سے وہ خود کو شاید اس لئے بھی بری الذمہ سمجھتا تھا کہ اس کے والد کی چھوڑی ہوئی بے تحاشا جائیداد کے سبب بچپن سے لے کر آج تک انہیں کسی مالی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑا اس کی والدہ ایک معاملہ فہم اور کافی دانشمند خاتون تھیں یہ ہی وجہ تھی کہ سب حساب کتاب انہوں نے بڑے احسن طریقے سے سنبھالا ہوا تھا جس کے سبب سنان اور رحاب کی زندگی بڑے مزے سے گزر رہی تھی اور کسی قسم کی ٹینشن ان کی زندگی کا کبھی بھی حصہ نہ رہی تھی۔

QQQQ

”شفایہ برتن اٹھاﺅ یہاں سے۔“ ٹی وی والے کمرے میں داخل ہوتے ہی جنید کی پہلی نگاہ کونے والے صوفہ پر پڑی جو نبیرہ کے نام سے منسوب سمجھا جاتا تھا وہاں رکھی پلیٹ اس میں بچا ہوا تھوڑا سا سالن اور چائے کا کپ اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ کالج سے واپس آچکی ہے اور یقینا کھانا کھا کر اپنے کمرے میں سونے بھی جا چکی ہے اس کی اس روٹین کا تقریباً سارا گھر ہی عادی تھا اس کی یہ عادت بچپن سے ہی تھی ٹی وی دیکھنے کے ساتھ کھانا کھانا، چائے پینا اور برتن اپنی جگہ پر ہی چھوڑ کر سونے چلی جانا جو کہ اس کے بعد ہمیشہ شفا ہی اٹھاتی تھی ابھی بھی جنید کے پکارتے ہی وہ ڈائننگ ٹیبل پر پلیٹیں رکھتی ہوئی اندر آگئی اور فوراً ہی برتن اٹھا کر واپس پلٹی۔

”ٹی وی کا ریموٹ دینا ذرا میں اٹھانا بھول گیا۔“ جنید نے صوفہ پر نیم دراز ہوتے ہوئے شفا کو پھر سے پکارا اسے شاید عادت تھی کہ اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے بھی ہمیشہ شفا کو ہی پکارا کرتا تھا اور شفا تھی بھی ایسی ہی بے لوث اور خدمت گزار لڑکی سب ہی کے کام آنے والی اس کی اور نبیرہ کی عادتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا پھر بھی دونوں آپس میں بہن سے زیادہ دوست تھیں اور اس کی ایک وجہ شاید شفا ہی کی صلح جو عادت تھی جس کے باعث آج تک دونوں بہنوں میں کبھی معمولی سی بھی کھٹ پٹ نہ ہوئی تھی ان کی دوستی اور پیار پورے خاندان میں مثالی سمجھا جاتا تھا۔

QQQQ

وہ جیسے ہی یونیورسٹی سے گھر آئی گھر میں ہونے والی چہل پہل سے ہی اندازہ ہو گیا کہ کوئی خاص مہمان آنے والے ہیں اور ان مہمانوں کے بارے میں رحاب کو پہلے سے ہی پتا تھا کیونکہ نہ صرف رات میں اسے امی نے بتا دیا بلکہ جنید نے بھی اسے اس سلسلے میں فون کر دیا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ بجائے کچن میں جانے کے وہ سیدھی اوپر اپنے کمرے میں آگئی تاکہ جلدی سے فریش ہو کر نیچے جا کر امی کا ہاتھ بٹا سکے اسی لئے جلدی سے اپنا بیگ رکھ کر اس نے الماری سے کپڑے نکالے اور واپس پلٹی کہ اسی دم دروازہ کھول کر سنان اندر داخل ہوا۔

”آپ کا کمپیوٹر ٹھیک ہے؟“

”ہاں کیوں؟ خیریت کوئی کام تھا؟“

”ہاں یار! میرا لیپ ٹاپ کام نہیں کر رہا۔“ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے کمپیوٹر آن کر لیا۔ رحاب بنا کوئی جواب دیئے باتھ روم میں چلی گئی اور جب وہ نہا دھو کر باہر نکلی تو سنان ابھی بھی کمپیوٹر پر ہی موجود تھا۔ اسے خاصی حیرت ہوئی کیونکہ عام طور پر اس وقت وہ گھر میں نہ ہوتا تھا بقول جنید کے باہر آوارہ گردی کر رہاہوتا تھا اپنے دوستوں کے ساتھ، رحاب نے ایک نگاہ اس کی جانب ڈالی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے گیلے بال سلجھانے لگی۔

”آپی….“ کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے چلاتے رک کر سنان نے اسے پکارا۔

”ہاں بولو….“ اندازہ تو اسے تھا ہی کہ سنان کچھ کہنا چاہتا ہے اور کچھ کچھ وہ جان بھی چکی تھی مگر پھر بھی سنان کے منہ سے سننا چاہتی تھی کہ وہ کس الجھن میں مبتلا ہے۔

”آج ڈنر پر انکل احتشام آرہے ہیں نا؟“

”ہاں….“ مختصر جواب دے کر اس نے شیشے سے ہی پیچھے بیٹھے سنان کی کمر پر ایک نظر ڈالی۔

”آپی….“ وہ شش و پیچ میں مبتلا تھا۔

”جلدی بتاﺅ سنان کیا بات ہے مجھے نیچے جا کر امی کے ساتھ کام کروانا ہے تم جانتے ہو نا کہ امی اکیلی کب سے مصروف ہیں۔“

”وہ ایسا ہے کہ….“ وہ کمپیوٹر بند کرکے اٹھ کھڑا ہوا اور رحاب کے عین مقابل آگیا رحاب خاموش کھڑی اس کے آگے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔

”آپ امی سے کہیں کہ وہ آپ کی ڈیٹ فکس ہونے سے پہلے میرے اور نبیرہ کے رشتہ کی بات بھی انکل سے کر لیں۔“

جانے کیوں سنان کے دل کو یقین تھا کہ اگر رحاب اور جنید کی شادی ہو گئی تو پھر اس کا رشتہ نبیرہ سے ہونا تقریباً ناممکن ہے اسی خوف کے سبب اس نے اپنی دلی خواہش بہن کے ذریعے ماں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اس کی یہ بات سن کر پہلے تو رحاب حیران ہوئی اور پھر ہنس دی۔

”حد ہے یار میری جان پربنی ہے اور آپ ہنس رہی ہیں۔“ وہ قدرے ناراضی سے بولا۔

رحاب نے ایک نظر اپنے سامنے کھڑے، خود سے چار سال چھوٹے بھائی پرڈالی جو قدو قامت میں رحاب سے کہیں اونچا ہو چکا تھا نہ صرف قدو قامت بلکہ دیکھنے میں بھی وہ رحاب سے بڑا ہی دکھتا تھا اسے اس وقت سنان پر بہت پیار آیا۔

”دیکھو سنان فی الحال یہ وقت یہ بات کرنے کیلئے مناسب نہیں ہے۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی رحاب نے اسے سمجھانے کا فیصلہ کیا۔

”کیوں…. اس وقت کیا ہے؟“

”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ انکل احتشام اپنی زندگی میں سب سے پہلا مقام تعلیم کو دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اصول نہایت سخت ہیں یہ وہی وجہ ہے کہ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی ساری اولاد ہی بہت قابل ہے۔“ وہ ذرا سا رکی اور بھائی پر ایک نظر ڈالی۔

”تم اور امان شروع سے ایک ہی ساتھ پڑھتے رہے ہو اور اب وہ ماشاءاللہ انجینئرنگ کا طالب علم ہے جبکہ تم نے سیکنڈ ایئر ہی پاس نہیں کیا پھر کس بنیاد پر امی تمہارے رشتہ کی بات کریں۔“ رحاب کی بات کافی حد تک درست تھی۔

”افوہ آپی! یہ سب جائیداد میری ہی تو ہے پھر کیا ضرورت ہے مجھے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو کر دوسروں کی نوکری کرنے کی بس ذرا امی مان جائیں تو انشاءاللہ جلد ہی اپنا بزنس شروع کروں گا اور یہ بات آپ لوگ انکل کو بھی سمجھا دیں کہ وہ میری ڈگری نہیں قابلیت دیکھیں۔“ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہ تھا۔

”کون سی قابلیت؟“ رحاب نے ذرا تیکھے لہجہ میں سوال کیا سنان گڑبڑا گیا اس سوال کا کوئی جواب فی الحال اس کے پاس نہ تھا۔

”پہلے تم بزنس شروع کرو، کسی قابل ہو جاﺅ پھر ہم تمہارے رشتہ کی بات انکل سے کرتے اچھے بھی لگیں گے ورنہ خود کو جنید کی جگہ رکھ کر سوچو کیا تم اپنی بہن کا رشتہ ایک ایسے لڑکے سے طے کر سکتے ہو جو انٹر کا امتحان بھی پاس نہ کر سکا ہو۔“ ہلکے پھلکے انداز میں اسے آئینہ دکھاتی رحاب باہر نکل گئی

”لعنت ہے یار ان لوگوں کی سوچ پر اب اگر بندہ تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہ رکھتا ہو تو کیا وہ لڑکی بھی پسند نہیں کر سکتا۔“ رحاب کے جاتے ہی اس نے نبیرہ کو فون ملا لیا جو غالباً جاننا چاہتی تھی کہ سنان کی اپنی امی سے کیا بات ہوئی۔

”ہاں تو اب کیا بندہ اپنی محبت کی خاطر ایک گریجوئیشن بھی نہیں کر سکتا، پلیز سنان زندگی کے ساتھ سنجیدہ ہو جاﺅ ایسے یہ سب نہیں چلتا۔“ نبیرہ نے جواباً اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”کیا مصیبت ہے یار اس تعلیم کو تو تم لوگوں نے میری ضد بنا دیا ہے مجھے پتا ہے آج رات کو تمہارا باپ اور بھائی نے جب تک یہا ںرہنا ہے اپنی قابلیت ہی کے گیت گاتے رہنا ہے۔“ وہ ایک دم ہی غصہ میں آیا ورنہ عام طور پر اسے غصہ بہت کم اور معمولی نوعیت کا آتا تھا اس میں برداشت کی صلاحیت کافی تھی۔

”ہاں تو تم بھی کوشش کرو نا قابلیت میں ان کا مقابلہ کرنے کی۔“

”تمہیں اچھی طرح پتا ہے نبیرہ میں ہمیشہ کتنی تیاری کرکے امتحان دیتا ہوں پھر بھی جانے ممتحن کو مجھ سے کیا دشمنی ہے ہمیشہ فیل کر دیتا ہے۔“ اس کی تیاری کا نبیرہ کو علم تھا اس وقت کوئی اور بحث کرکے وہ اس کا دل مزید توڑنا نہیں چاہتی تھی اسی لئے خاموش رہی اور وہ خود ہی جانے کیا کیا بولتا رہا۔

”تم سن رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں؟“

”ہاں سنان سن رہی ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ رحاب آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں چلو اب میں فون رکھتی ہوں کیونکہ مجھے تیار ہونا ہے۔“

”ایک منٹ بات سنو میری۔“ اور وہ فون رکھتے رکھتے رک گئی۔

”آج وہ ہی وائٹ اور براﺅن فراک پہن کر آنا جو میں نے تمہیں عید پر گفٹ کی تھی۔“ ایک سیکنڈ میں ہی وہ سب کچھ بھول گیا۔

”اور ہاں مہندی لگائی تھی تم نے۔“

”ہاں بابا لگائی تھی۔“

اسے پتا تھا کہ سنان کو اس کے مہندی والے ہاتھ بہت اچھے لگتے ہیں۔

”اچھا سا تیار ہونا تمہیں پتا ہے نا کہ اس ڈنر کی واحد خوبی یہ ہے کہ اس میں تم آرہی ہو اور تمہارے دیدار کی چاہ میں ہم ابھی سے آنکھیں فرش راہ کئے بیٹھے ہیں۔“ کچھ لمحے قبل والی ساری ٹینشن اس کے دماغ سے نکل گئی تھی اب اگر اسے کچھ یاد تھا تو صرف ”نبیرہ“ جسے دیکھنے کیلئے دو تین گھنٹے گزارنا بھی اسے مشکل ترین لگ رہا تھا

QQQQ

”یار تمہاری مسز تو بہت ہی خوبصورت ہیں۔“ اپنے دوست کی بات پرذرا کی ذرا نظر اٹھا کر سکندر نے نبیرہ کی جانب دیکھا جو ریڈشیفون کی فراک میں نفاست سے میک اپ اور جیولری کے ساتھ نک سک سے تیار خاصی خوبصورت لگ رہی تھی لیکن جانے کیوں اس کا اس قدر تیار ہونا سکندر کو عجیب سا محسوس ہوا۔ وہ آج سنان کے دوست کے گھر دعوت میں انوائٹڈ تھے جو کہ انڈین مسلمان تھا اور جب سے سکندر یہاں آیا تھا اس کا دوست عباس مسلسل نبیرہ کی تعریفیں کر رہا تھا اور اسے بالکل بھی اچھا نہ لگ رہا تھا جانے کیوں وہ عباس کی یہ سب فضول بکواس برداشت کر رہا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی اس نے ایک بھرپور ناقدانہ نظر نبیرہ پر ڈالی جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔

”کیا ضرورت تھی تمہیں اس قدر تیار ہوکر آنے کی ایک دعوت میں شرکت کیلئے تم لوگ اتنا تیار ہوتے ہو جتنا تیار ہمارے یہاں کی عورت شادی کے وقت بھی نہیں ہوتی۔“

”تم لوگ“ سے سکندر کی مراد یقینا پاکستانی تھے کیونکہ وہ اپنی ہر بات میں یہ صیغہ ”تم لوگ“ ضرور استعمال کرتا تھا نبیرہ نے اس کی کسی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا جبکہ وہ ابھی بھی بولے جا رہا تھا۔

”تم لوگوں کو اور تو کچھ نہیں سکھایا جاتا لیکن منہ پر پینٹ کرنا ضرور سکھا دیا جاتا ہے گھر کے کسی بھی کام کاج میں زیرو، لوگوں کا دل کیسے جیتا جانا ہے اس سے لاعلم، بس چوبیس گھنٹے بازاری عورتوں کی طرح سجنا سنورنا ہی دیس کی عورتوں کا کام ہے۔“

ایک لمحہ کو تو نبیرہ کا دل چاہا کہ پلٹ کر پوچھے تمہارے ہاں کی عورت اگر لوگوں کے دل جیتنے کا فن جانتی ہے تو پھر کیوں تمہاری بڑی بہن شادی کے دو ماہ بعد طلاق لے کر آگئی؟ لیکن اس کے بولنے کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ وہ اس اجنبی دیس میں نہ صرف اپنی زبان بلکہ تمام روایات اور ثقافت کے ساتھ بالکل تن تنہا تھی جبکہ اس کا مد مقابل اپنے پورے خاندان کے ساتھ تھا جس کا تجزیہ گزرتے ہر دن میں نبیرہ کو ہو چکا تھا۔

جب شروع شروع میں اس نے سکندر کی کسی بات پر جواب دینے کی کوشش کی تو ایک عجیب سا ردعمل دیکھنے میں آیا وہ بات صرف سکندر سے کرتی تھی اور جواب اس کا سارا خاندان دیتا جس میں اس کی ماں دونوں بہنیں یہاں تک کہ بڑی بہن کے دونوں بیٹے اور بڑے بھائی بھابی بھی شامل ہوتے، ایک بہنوئی ہی ذرا بے چارا سا آدمی تھا جو کسی بھی معاملے میں اپنا حصہ ڈالنے سے زیادہ بہتر سمجھتا کہ خاموش رہے ویسے تو شاید نبیرہ کسی بھی ایسی صورتحال کا مقابلہ کر ہی لیتی لیکن اصل مسئلہ زبان کا تھا اس کے سسرال والوں کی ایک عادت بہت ہی بری تھی وہ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ کر ساری گفتگو ہی ملائی زبان میں کرتے جو اس کی سمجھ میں بالکل بھی نہ آتی سونے پر سہاگہ یہ کہ دوران گفتگو خود پر پڑنے والی تمسخر آمیز نگاہیں اسے احساس دلاتی کہ موضوع گفتگو اسی کی ذات ہے اور ایسے وقت میں وہ خود کو نہایت ہی بے بس محسوس کرتی اور یہ ہی وہ لمحہ ہوتا جو اسے اپنے وطن سے دوری کا احساس دلا دیتا یہ ہی وجہ تھی کہ آج جب وہ سکندر کے ساتھ عباس اور اس کی بیوی ملیحہ سے ملی تو خاصی خوش ہوئی کیونکہ اس نے کتنے ہی دنوں بعد کسی کو اپنی زبان بولتے سنا تھا اور یہ احساس اتنا خوش کن تھا کہ اس کا دل ہی نہ چاہ رہا تھا کہ وہاں سے گھر واپس آئے لیکن ظاہر ہے کہ گھر تو اسے واپس جانا ہی تھا اپنی ان ہی سوچوں میں گھرے ہوئے اسے سکندر کا مسلسل تنقید کرنا ذرا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن وہ بھی جانے کس مٹی کا بنا تھا نبیرہ کے کسی بھی بات کا جواب نہ دینے کے باوجود وہ بولنے سے باز ہی نہیں آرہا تھا۔ نبیرہ کا سر دکھنے لگا۔

”اور یہ تم اتنی ہیل والی جوتی کیوں پہن کر گئی تھی؟“ ایک اور تنقید جس کا جواب نبیرہ کے پاس نہ تھا۔

”اب بتاﺅ بھلا تم لوگ ہاتھوں پیروں پر نیل پالش کیوں لگاتی ہو دیکھنے والا فوراً سمجھ جاتا ہے کہ نماز نہیں پڑھتیں اور بدبودار مہندی بھی لگانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔“

”الحمد اللہ میں نماز باقاعدگی سے پڑھتی ہوں۔“ اتنی دیر میں یہ پہلا جواب تھا جو نبیرہ نے اس متواتر بولتے ہوئے شخص کو دیا۔

”ویسے میں نے تو کبھی نہیں دیکھا جانے کب پڑھتی ہو بہرحال دوبارہ اپنے پاﺅں پر لال نیل پالش مت لگانا ہمارے ہاں کپڑوں اور نیل پالش میں یہ کلر ہندو عورتیں استعمال کرتی ہیں اور ویسے بھی لال نیل پالش کے ساتھ عورت کا کچھ عجیب سا تصور ہی میرے دماغ میں ہوتا ہے عجیب بھنگیوں والا کلر ہے۔ جانے تم کس طرح اتنا ڈارک کلر لگا لیتی ہو۔“ سکندر نے شاید چب ہونا سیکھا ہی نہ تھا۔

”تمہارے پاﺅں بہت خوبصورت ہیں۔“ ایک خوبصورت سی آواز اس کے کانوں میں گونجی جو یقینا سنان کی تھی اس نے گھبرا کر اپنی آنکھیں کھول دیں لیکن اب وہ گاڑی میں نہ تھی اسے سکندر کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی وہ کیا کہہ رہا تھا نبیرہ کو کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا وہ ذہنی طور پر بہت پیچھے جا چکی تھی اس دور میں جب وہ اپنے دیس میں تھی۔

QQQQ

وہ اور رحاب شادی کی شاپنگ کےلئے بازار آئی تھیں امان نے آتے ہوئے سنان کو بھی اپنے ساتھ لیا تھا احتشام صاحب اور جنید کی طرح امان، سنان کیلئے مخالفانہ جذبات نہ رکھتا تھا بلکہ ان دونوں کے درمیان کافی اچھی دوستی تھی بازار پہنچتے ہی امان کو اس کا کالج فرینڈ مل گیا وہ اس کے ساتھ بزی ہو گیا جس کی بنا پر سنان ان دونوں کو لے کر جوتوں کی ایک مشہور دکان پر آگیا وہ اپنے جوتوں کی زیادہ تر شاپنگ یہیںسے کرتی تھیں رحاب کے ساتھ ساتھ نبیرہ بھی اپنے لئے جوتے پسند کر رہی تھی جو اسے بارات اور ولیمہ کے سوٹ کے ساتھ پہننا تھے اس کے گورے گورے پاﺅں پر لال نیل پالش عجب سی چھب دکھا رہی تھی ہر بار جب وہ کوئی جوتی ٹرائی کرکے اتارتی تو سنان کی نگاہیں اس کے پاﺅں پر پڑ جاتیں اور بالآخر وہ بول ہی پڑا”تمہارے پاﺅں کتنے خوبصورت ہیں۔“ انہماک سے جوتے پسند کرتی ہوئی نبیرہ چونک اٹھی اور فوراً اپنے پاﺅں پر ایک نظر ڈالی جو کالی جوتی میں جکڑے بے حد نرم و نازک اور خوبصورت لگ رہے تھے سنان کی خود پر اس قدر توجہ اسے مغرور سا کر گئی اور پھر اس دن شادی کے سلسلے میں اس نے جو بھی شاپنگ کی سب سنان کی مرضی کے عین مطابق تھی۔ پہلے بھی جو ڈریس اس نے تیار کروائے تھے ان کے کلر اس نے سنان سے پوچھ کر ہی پسند کئے تھے کیونکہ رحاب کی شادی کے دنوں میں وہ بالکل ویسی نظر آنا چاہتی تھی جیسی توقع سنان اس سے کر رہا تھا حالانکہ اس کی پسند نا پسند میں پہلے ہی سنان کا عمل داخل کافی حد سے زیادہ تھا۔ لیکن اسے اچھا لگتا اپنا ہر وہ کام جو وہ سنان کی رضا کے مطابق سرانجام دیتی اور سنان اسے تو شاید دنیا میں سوائے نبیرہ کے کبھی کچھ نظر ہی نہ آتا تھا لیکن اس کے باوجود جانے کیا بات تھی کہ وہ اپنی شخصیت کو کبھی بھی احتشام صاحب کی مرضی کے مطابق ڈھال نہ سکا شاید یہ اس کے اندر کی سرکشی تھی جو اسے ہمیشہ وہی کام کرنے پر مجبور کرتی جو نبیرہ کے پاپا کو سخت ناپسند ہوتا۔

QQQQ

وہ وین کی کھڑکی سے سر ٹکائے باہر بھاگتے دوڑتے نظارے دیکھنے کے ساتھ ساتھ گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک بھی گن رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر گھر پہنچ جائے کیونکہ بھوک سے اس کا برا حال ہو رہا تھا اور بھوک تو وہ کسی بھی حال میں برداشت نہ کر پاتی تھی آج سارا دن ہونے والی لگاتار کلاسوں نے اسے تھکا دیا تھا اور پھر جب وہ کینٹین گئی تو وہاں بھی تقریباً سب کچھ ہی ختم ہو گیا تھا لہٰذا اب جو بھی کھانا تھا گھر جا کر ہی کھانا تھا اس خیال میں گم وہ اچانک چونک اٹھی سامنے ہی روڈ پر کھڑا لڑکا یقینا سنان ہی تھا اس کے ساتھ اس کے دو دوست بھی تھے اس سارے منظر میں جو بات قابل اعتراض تھی وہ سنان کے ہاتھ میں نظر آنے والا سلگتا ہوا سگریٹ تھا جس کے کش لگاتے ہوئے وہ بالکل عادی سگریٹ نوش لگ رہا تھا اس کا مطلب ہے سنان سگریٹ بھی پی رہا ہے جب کہ اس کے خاندان میں کوئی بھی ایسا فرد نہ تھا جس کے پاس کبھی بھی نبیرہ نے سگریٹ جیسی خرافات دیکھی ہوں اس کا دل ایک دم ہی غصے سے بھر گیا سنان کی اس حرکت نے نبیرہ کی تیز بھوک کو بھی پل بھر میں ہی ختم کر دیا اور وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر داخل ہوئی شفا نے اپنی اور اس کی چائے تیار کر دی تھی سامنے ہی ٹیبل پر دھری تھی جبکہ اس نے قریب رکھی ٹرے میں یہ بھی دیکھنے کی زحمت نہ کی کہ آج پکا ہوا کیا تھا خاموشی سے چائے پی اور وہیں کپ رکھ کر وہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی اپنا موبائل اس نے آف کر دیا تھا وہ آج سنان سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی اسے سنان پر کچھ زیادہ ہی غصہ آرہا تھا حالانکہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہ ہوا تھا آج تو اسے نیند بھی نہ آرہی ہے۔ ”کیا بات ہے نبیرہ تم نے آج کھانا کیوں نہیں کھایا؟“

شفا کھانا کھا کر اور نماز پڑھ کر کمرے میں سونے کےلئے ٓئی تھی نبیرہ کے بے چینی سے ہلتے پاﺅں دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ کسی ٹینشن میں ہے اور اس کی ہرٹینشن عام طور پر سنان کے متعلق ہی ہوتی تھی اس بات کا خاصا تجربہ شفا کو ہو چکا تھا پھر بھی وہ آج کی ٹینشن کا پس منظر جاننا چاہتی تھی۔

”کچھ نہیں یار ابھی میں آئی تو روڈ پر سنان کھڑا تھا۔“

”وہ تو روز اس وقت کھڑا ہوتا ہے غالباً اسے علم ہے کہ یہ ٹائم تمہارے کالج سے واپسی کا ہوتا ہے۔“ شفا کی یہ بات سو فیصد درست تھی۔

”ہاں لیکن تمہیں پتا ہے آج روڈ پر کھڑا وہ بالکل لفنگے لڑکوں والے اسٹائل میں سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔“ ٹینشن کا پس منظر کھل کر سامنے آگیا۔

”ہاں تو اس میں اتنی ٹینشن والی کیا بات ہے وہ سگریٹ پیتا ہے یہ بات سب ہی جانتے ہیں یہاں تک کہ پاپا کو بھی پتا ہے۔“ شفا نے اطمینان سے جواب دے کر اس کی اس غلط فہمی کو دور کر دیا کہ سنان کی اس حرکت کا علم شاید گھر میں کسی کو نہ ہو۔

”تم نے مجھے یہ بات کیوں نہ بتائی پتا نہیں ہر بات مجھے ہی کیوں لیٹ پتا چلتی ہے۔“

اس لئے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا تم کبھی بھی سنان کے حوالے سے کسی بات کا یقین نہیں کرتیں تاوقتیکہ خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو بالکل ایسے جیسے آج۔ اگر یہ ہی بات میں تم سے کہتی تو تم نے کہنا تھا کہ سب بکواس ہے۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے جس پر تم اتنی ڈپریسڈ ہو رہی ہو وہ یہ کارنامہ پچھلے کئی ماہ سے سر انجام دے رہا ہے۔“ تیز تیز بولتی شفا اس کی تمام غلط فہمیاں دور کرتی گئی اور جب شام کو اس نے یہ سب کچھ سنان سے پوچھاتو پہلے تو صاف مکر گیا۔

”تم نے کسی اور کو دیکھا ہو گا میں نے تو کبھی سگریٹ پی ہی نہیں۔“

”جھوٹ مت بولو سنان! تم اچھی طرح جانتے ہو میں بند آنکھوں سے بھی تمہیں دیکھ لیتی ہوں اس لئے مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہو سکتی۔“

”سوری یار آج پہلی بار ہی پی تھی وہ بھی تم نے پکڑ لیا۔“

”ایک اور سفید جھوٹ، تمہیں سگریٹ پیتے ہوئے کئی دفعہ پاپا اور جنید بھائی نے دیکھا ہے۔“ نہ چاہتے ہوئے اسے ان دونوں کا نام لینا پڑا۔ حالانکہ جانتی تھی کہ اس بات نے سنان کو جلتے توے پر بٹھا دینا ہے اور یقینا ایسا ہی ہوا وہ فوراً سے پیشتر تپ گیا۔

”تمہارے پاپا اور بھائی کو کوئی اور کام نہیں ہے جو ہر وقت میری جاسوسی کرتے ہیں حد ہے یار۔“ اور اب نبیرہ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ خاموشی اختیار کر لے لیکن پھر بھی اس نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ سنان کو اس بارے میں دوبارہ سمجھانے کی کوشش ضرور کرے گی۔

QQQQ

پیلے گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا اسٹیج بہت ہی دلکش لگ رہا تھا آج رحاب اور جنید کی رسم حنا جو ہال میں ایک جگہ انجام دی جا رہی تھی رحاب یلو اور گرین سوٹ میں ملبوس بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کے ساتھ ہی وائٹ کرتے شلوار میں جنید بیٹھا تھا تقریباً تمام رسمیں ادا ہو چکی تھیں اب صرف فوٹو سیشن ہو رہا تھا سنان بھی اپنے پروفیشنل کیمرے کی آنکھ سے ایک ایک منظر کو عکس بند کر رہا تھا بلکہ سچ تو یہ تھا اس بہانے سارے وقت اس نے نبیرہ کو ہی فوکس کیا تھا وائٹ پاﺅں تک آئی فراک اور چوڑی دار پاجامے میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی سنان دوران رسم بھی سارا وقت اسٹیج پر اس کے قریب ہی منڈلاتا رہا اتنا قریب کہ اسے نبیرہ کے سانس کی آواز بھی واضح طور پر سنائی دے رہی تھی اور ابھی بھی وہ اسٹیج کے بالکل سامنے رکھے صوفہ پر بیٹھا تھا جبکہ نبیرہ اور شفا دونوں اسٹیج پر موجود تھیں سنان کی نظروں کا محور صرف ایک ہی ہستی تھی وہ مسلسل اس کی تصویریں فوکس کر رہا تھا کہ یکدم ہی اس نے ناگواری سے کیمرا پرے ہٹا کر اسٹیج پر نظر ڈالی جہاں نبیرہ حمزہ سے کھڑی جانے کیا باتیں کر رہی تھیں حمزہ اسکی خالہ کا بیٹا تھا اس کی کسی بات نبیرہ زور سے کھلکھلائی جس کے ساتھ ہی اس کے خوبصورت سفید نگینوں والے آویزوں کا عکس اس کے چہرے پر جھلملایا سنان یکدم ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیز تیز ڈگ بھرتا اسٹیج پر ان دونوں کے پاس پہنچ گیا۔

”ایکسکیوزمی۔“ حمزہ کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے نبیرہ کو بازو سے تھام لیا۔

”نیچے آﺅ تمہیں امی بلا رہی ہیں؟“

”ایک منٹ حمزہ میں ابھی آئی۔“ وہ خفت زدہ ہو گئی کیونکہ حمزہ اسی کی جانب تک رہا تھا۔

”وائے ناٹ شیور۔“ وہ دھیرے سے مسکرایا۔

”کیا بدتمیزی ہے سنان! بازو چھوڑو میرا کوئی دیکھ لے گا۔“ ہال میں سب ہی مصروف تھے اور اللہ کا شکر تھا کہ کسی کی توجہ ان پر نہ تھی سنان کی اس حرکت کو صرف شفا نے ہی دیکھا تھا جو وہاں اسٹیج پر ان کے ساتھ موجود تھی اگر جنید بھائی دیکھ لیتے تو یہ سوچ کر وہ ایک دم ہی گھبرا اٹھی اور جلدی سے سنان سے اپنا بازو چھڑوایا۔

”یہ حمزہ تم کو کون سی الف لیلیٰ کی کہانیاں سنا رہا تھا۔“ طنز کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر شدید غصہ بھی موجود تھا اپنے بلیک کرتے کے بازو کہنیوں تک فولڈ کئے۔ نبیرہ سے جرح کرتا سنان اسے بہت ہی اچھا لگا۔

”تم مجھ پر شک کر رہے ہو؟“ نبیرہ نے حیرت سے سوال کیا۔

”نہیں جگر میں مرکر بھی اتنے گھٹیا انداز سے تمہارے بارے میں نہیں سوچ سکتا میں تو صرف حمزہ کی تم پر توجہ دیکھ کر ڈر رہا ہوں تمہارے باپ اور بھائی سے جو انسان کی پہچان اس کے نام کے ساتھ لگی ہوئی ڈگریوں سے کرتے ہیں اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ حمزہ کے نام کے ساتھ دو تین ڈگریاں تو ضرور موجود ہیں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں۔“ بات کے اختتام پر اس نے نبیرہ سے تصدیق چاہی۔

”پہلی بات تو مجھے جگر مت کہا کرو ایک دم لوفرانہ لفظ لگتا ہے۔“

”چلو جگر نہ سہی جان تو ٹھیک ہے نا۔“ وہ شرارت سے ہنسا جواباً صرف نبیرہ نے اسے گھور کر دیکھا۔

”دوسروں کی ڈگریوں کو اپنے لئے مسئلہ بنانے سے زیادہ اچھا یہ نہیں ہے کہ ایسی کم از کم ایک ڈگری تم بھی لے لو۔“

”ڈگری لینی کون سی مشکل ہے پیسے سے سب مل جاتا ہے اصل مسئلہ تو تمہارا باپ ہے جو ڈگری بھی تصدیق شدہ چاہتا ہے۔“

”ہاں تو اس میں غلط کیا ہے۔ کیوں نہیں تم اس بات کو سمجھتے۔“ وہ ذرا خفگی سے بولی۔

”چلو چھوڑو میرے اتنے اچھے موڈ کو ایسی باتوں سے خراب نہ کر و ویسے تمہاری اطلاع کےلئے عرض ہے کہ میںنے بی کام میں داخلہ لے لیا ہے اور انشاءاللہ جلد از جلد ایک ڈگری ہولڈر ہو ہی جاﺅں گا۔“ نبیرہ کی خفگی نے اس کو تھوڑا سا پریشان کر دیا تھا۔ سو اپنی بات سے وہ اس کی ناراضی دور کرنے کی کوشش کرتا ہوا بولا۔ جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہو گیا۔

QQQQ

آج ربیعہ اس سے ملنے آئی تھی جانے کیسے اس کی ساس نے اسے کھانے پر روک لیا ورنہ تو وہ ہمیشہ ربیعہ کی ساس کی گزری ہوئی باتیں ان کی موت کے بعد یاد رکھے رہتیں اور کسی نہ کسی موقع پر ضرور ایسا قصہ سنا دیتیں جو ان دونوں خواتین کے اختلافات پر مبنی ہوتا یہ ہی وجہ تھی کہ جب ربیعہ نے شادی کے بعد اس کی دعوت کی تھی تو سکندر نے فوراً منع کر دیا۔

”اس کا گھر کے۔ ایل سے بہت دور کم از کم ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر اور میں اتنی لمبی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔“ سراسر ٹالنے والا انداز تھا وجہ صرف اتنی تھی کہ اس کی ساس حاجرہ بیگم کو اپنی نند کا سسرال بالکل پسند نہ تھا جبکہ ربیعہ کی شادی اسی خاندان میں ہوئی تھی نبیرہ وجہ جاننے کے باوجود خاموش رہی حالانکہ اس کا بہت دل چاہ رہا تھا اپنی پیاری سی کزن سے ملنے کا جو اس کی بہترین دوست بھی تھی اور پھر اس نے بہت ہی سہولت سے ربیعہ کو منع کر دیا اس کے انکار کو ربیعہ نے انا کا مسئلہ نہ بنایا یہی وجہ تھی کہ آج وہ اپنے میاں عبدالوہاب کے ساتھ اس سے ملنے آگئی اس کی آمد نے نبیرہ کو خاصا خوش کر دیا تھا۔ وہ اپنے وطن سے دور اپنوں کےلئے ترسی ہوئی تھی اس کی ساس کچن میں مصروف تھیں وہ اپنی عادت کے عین مطابق کسی کو بھی کچن کے کاموں کو ہاتھ نہ لگانے دیتیں شاید انہیں کسی کا کبھی کوئی کام پسند ہی نہ آتا تھا یہاں تک کہ پہلی بار ہی نبیرہ کی کاٹی ہوئی سبزیاں بھی ریجیکٹ کر دی تھیں جس کے باعث دوبارہ نبیرہ نے کبھی بھی ان کی مدد کرنے کا سوچا ہی نہ تھا۔ اسے اپنی ساس کے ہاتھ کا کھانا قطعی پسند نہ تھا شاید ملائی کھانے پاکستانی کھانوں سے قطعی مختلف ہونے کے سبب ہی نبیرہ کو پسند نہ تھے عجیب پھیکے سیٹھے کھانے اس کے سسرال میں کم نمک مرچ کا ہی رواج تھا شروع شروع میں تو اسے خاصی مشکل ہوئی تھی لیکن اب اس نے نوڈلز کے کافی پیکٹ اپنے پاس رکھ لئے تھے جنہیں وقتاً فوقتاً وہ بنا کر کھا لیتی اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ بھی تو نہ تھا آخر پیٹ کا دوزخ تو بھرنا ہی تھا کھانا تیار ہو چکا تھا جو اس کی ساس نے اپنی بیٹی رفیدا کے ساتھ مل کر ٹیبل پر لگا دیا۔

رفیدا سکندر سے دو سال بڑی تھی اور اپنی طلاق کے بعد ماں ہی کے ساتھ رہتی تھی وہ ایک کوریر کمپنی میں جاب کرتی روز صبح آٹھ بجے جینز ٹی شرٹ سر پر اسکارف لئے سائیکل پر سوار اپنے کام پر روانہ ہو جاتی اور پھر رات میں واپس آتی گھر پر سارا دن نبیرہ اپنی ساس کے ساتھ تنہا ہوتی اس کی ساس کچن کے کام ختم کرکے لاﺅنج میں اونچی آواز سے ٹی وی لگا لیتیں۔ جہاں اس کا پسندیدہ ملائی سیریل اس وقت آتا تھا پھر کھانا کھا کر وہ ایک گھنٹہ اپنے کمرے میں سونے ضرور جاتیں لیکن جاتے جاتے ریموٹ کہیں چھپا جاتیں۔ ان کی اس حرکت نے شروع شروع میں تو نبیرہ کو خاصا تپایا لیکن اب وہ دیگر تمام باتوں کی طرح اس بات کی بھی عادی ہو چکی تھی۔

”تم اس دن میری دعوت پر کیوں نہیں آئی تھیں؟“ عبدالوہاب باہر سکندر کے ساتھ تھا اور وہ دونوں کمرے میں تنہا تھیں اسی لئے کمرے سے باہر نکلتے نکلتے ربیعہ پوچھ بیٹھی۔

”سکندر کا کہنا تھا کہ تمہارا گھر یہاں سے ڈیڑھ گھنٹہ دور ہے اور وہ اتنی لمبی ڈرائیونگ نہیں کر سکتا۔“

”میگاپور یہاں سے صرف ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہے جہاں میں رہتی ہوں۔“ ربیعہ نے نبیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا۔

”اور تمہیں نہیں پتا کہ میرے گھر کے قریب ہی تمہارا جیٹھ عمر اور اس کی بیوی روزینہ رہتے ہیں جہاں ہر دوسرے دن سکندر بھائی چکر لگاتے ہیں پھر جانے تمہیں کیوں منع کر دیا۔“

وجہ تو وہ پہلے سے ہی جانتی تھی لیکن اب وہ مصالحت کی زندگی گزارنے کی عادی ہو چکی تھی یہ ہی سبب تھا کہ اس نے نہ تو پہلے سکندر سے اس سلسلے میں کوئی جرح کی تھی اور نہ ہی اس کا آئندہ کوئی ایسا ارادہ تھا اسی لئے خاموش رہی ڈائننگ ٹیبل پر ملائی روایتی کھانے موجود تھے وہ ہی ابلے ہوئے چاول، لال مرچوں کی چٹنی، چھوٹی چھوٹی فرائی مچھلیاں اور چکن کا سانبھر، کچی پکی سبزیاں بھی ٹیبل پر موجود تھیں ایک دم ہی نبیرہ کو پاکستانی دعوتیں یاد آگئیں اور اس کے ساتھ ہی بریانی اور کباب کی مخصوص خوشبو نے اس کے نتھنوں سے ٹکرا کر اسے بے قرار کر دیا آج تو کھانے کے ساتھ تندوری نان بھی تھے جو یہاں قریب ہی ایک پاکستانی ہوٹل پر ملتے تھے پھر بھی وہ سب نہ تھا جو پاکستان میں ہوتا تھا۔ وہ خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تھوڑے سے چاول پلیٹ میں ڈالے اور ذرا سا سانبھر ڈال کر کھانے لگی سانبھر میں موجود چکن بالکل سفید رنگ کا تھا اس کی ساس سالن کو زیادہ بھون کر پکانا جاہلیت کی نشانی قرار دیتی تھیں چکن ذرا سے گھی میں ڈال کر مسالا کے ساتھ ہی پانی ڈال دیا جاتا اور ایسا پکا ہوا سالن گھر کے تمام افراد بڑی رغبت سے کھاتے ماسوائے اس کے اور اب بھی ایسا ہی تھا جبکہ ربیعہ بھی خاصی رغبت سے یہ سب کچھ کھا رہی تھی اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ پچھلے دس سالوں سے یہاں رہائش پذیر تھی۔ جو بنتا تھوڑا بہت کھا کر گزارہ کر لیتی اسی لئے اس کی بھوک بالکل ختم ہو گئی تھی اور وہ صرف ضرورت کے تحت ہی تھوڑا بہت کھانا زہر مار کرتی۔

”تم کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو؟“ اسے بے دلی سے کھاتا دیکھ کر ربیعہ نے سوال کیا۔

”یہ اتنا ہی کھاتی ہے شاید وہاں دیس میں غربت زیادہ ہونے کے باعث لڑکیوں کو کھانا کم دیا جاتا ہے۔“ اس کے بولنے سے قبل سکندر بول اٹھا اور سکندر کی اس بات پر رفیدا ہنس دی یہ غالباً کوئی گھٹیا سا غیر اخلاقی مذاق تھا نبیرہ صرف خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی۔

”نہیں سکندر بھائی ایسا نہیں ہے آپ شاید کبھی پاکستان نہیں گئے یا پھر وہاں کی کوئی دعوت اٹینڈ نہیں کی ہمارے ہاں دعوتوں پر خاصا اہتمام کیا جاتا ہے اور میرا خیال کہ نبیرہ کو بھی اس وقت اپنے وطن کی کوئی زبردست سی دعوت یاد آگئی ہے۔“ ربیعہ خاصی بولڈ تھی اور کچھ اسے یہ جرا ¿ت عبدالوہاب سے بھی ملی تھی۔ جو ہمیشہ اپنی بیوی کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔

”جب تمہیں یہاں کا کھانا پسند نہیں ہے تو کیوں اپنا کھانا نہیں بناتیں۔“ جاتے جاتے اسے ربیعہ نے سمجھایا جواباً وہ صرف خاموش رہی لیکن جب رات فون پر یہ ہی بات اس کی مما نے کی تو وہ خاموش نہ رہ سکی۔

”مما آپ جانتی ہیں مجھے کوکنگ نہیں آتی؟“ وہ بے بسی سے بولی۔

”تو بیٹا پکانا شروع کرو خود ہی آجائے گی اب تو اتنے کوکنگ کے چینل آتے ہیں کہ کچھ مشکل ہی نہیں رہا۔“

اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ ٹی وی پر مکمل اجارہ داری اس کی ساس کی تھی کیونکہ یہ ٹی وی ان ہی کا تھا جبکہ نبیرہ کو جہیز کے نام پر اس کے والد نے جو رقم دی تھی وہ سکندر کے اکاﺅنٹ میں تھی نبیرہ کے بار بار کہنے پر بھی وہ الگ سے کمرے کیلئے ٹی وی لے کر نہ آیا تھا اس بات کی اجازت بہرحال اسے اپنی ماں سے نہ ملی تھی۔

”ان کے ٹی وی پر پاکستانی چینل سیٹ نہیں ہیں۔“ اس نے بے دلی سے جواب دیا۔ اتنی دور بیٹھی اسکی ماں نبیرہ کے گھر کے ماحول سے قطعی بے خبر تھیں اس لئے بھی شاید مشوروں سے نواز رہی تھیں۔

”مما یہاں پاکستانی کھانے کوئی نہیں کھاتا پھر بتائیں بھلا میں اکیلی یہ سب پکا کر کیا کروں گی۔“

”جب پاکستان آتے ہیں تب تو سب کچھ کھاتے ہیں بہرحال اور سناﺅ کچھ چاہئے تو نہیں تمہارے پاپا کے کوئی دوست اپنی فیملی سمیت ملائشیا جا رہے ہیں اگر کچھ چاہئے ہو تو بتا دو میں بھیج دوں گی۔“

”نہیں مما مجھے کچھ نہیں چاہئے ابھی تو جو کچھ میں وہاں سے لائی ہوں وہ ہی استعمال نہیں ہوا تو مزید کا کیا کروں گی۔“ نہ چاہئے ہوئے وہ تلخ ہو گئی۔

”کیوں۔ کہیں جاتی نہیں ہو کیا؟“

”جاتی تو ہوں مگر بہت کم اور پھر ہمارے وہاں کا کپڑا یہاں پسند نہیں کیا جاتا۔“

”حیرت ہے نبیرہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ربیعہ تو آج تک اپنے کپڑے پاکستان ہی سے منگواتی ہے اس کے تو سسرال والے اپنے بچوں کی شادی کی شاپنگ بھی یہیں کرنے آتے ہیں۔“

”بہت فرق ہے مما ربیعہ اور میرے گھر کے ماحول میںمجھے تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر کیا سوچ کر میرا رشتہ یہاں طے کیا تھا؟“ کئی دنوں سے دل میں دبی چنگاری کو ذرا سی ہوا ملی تو سلگ اٹھی اور شکوہ لبوں پر آہی گیا۔

”اصل میں نبیرہ یہ سب نصیب کے کھیل ہوتے ہیں اور شاید تمہارے نصیب میں سکندر ہی کا ساتھ تھا، جو تمہیں مل گیا اب بیٹا کوشش کرو اسے اپنے رنگ میں ڈھالنے کی اور یہ ہی عورت کی جیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنا ہم نوا کر سکے انشاءاللہ مجھے امید کہ تم بھی ایسا کرو گی لیکن ابھی کچھ ٹائم لگے گا اس وقت تک تھوڑا صبر اور برداشت سے کام لو۔“

”اپنی کوتاہی کو نصیب کا کھیل قرار دے دینا شاید ہم انسانوں کی فطرت ہے۔“ اس وقت اپنی ماں کا جواب سن کر نبیرہ کے دماغ میں یہ ہی ایک جملہ آیا جو شاید کافی عرصہ پہلے اس نے کہیں پڑھا تھا لیکن وہ بولی کچھ نہیں اسے تو آج بھی اپنے باپ کے فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے وہ آخری الفاظ یاد تھے جو انہوں نے نبیرہ کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔

”بیٹا زندگی میں کامیابی کےلئے ہمیشہ اپنے سے اوپر دیکھو اور یاد رکھو تم سے نیچے والا تمہارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔“

”کاش پاپا آپ میری شادی سے قبل یہاں آکر دیکھ تو لیتے کہ ان لوگوں کا معیار زندگی کیا ہے۔“ لیکن شاید اس کے باپ کے نزدیک زندگی گزارنے کےلئے جو ضروری چیزیں تھیں وہ بدرجہ اتم اس گھر میں موجود تھیں شاندار رہائش، بڑی سی گاڑی اور سب سے بڑھ کر سکندر کے نام کے ساتھ موجود ڈگریوں کی لسٹ جو اس کے باپ کےلئے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھیں سنان سچ کہتا تھا اس کا باپ انسان کی پہچان اس کی ڈگری سے کرتا تھا سنان کا نام سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جنہیں صاف کرتی جیسے ہی وہ پلٹی یکدم نگاہ سامنے بیڈ پر موجود سکندر پر پڑی جو جانے کمرے میں کب آیا تھا۔

”آپ کب آئے؟“

”اس وقت جب تم اپنی ماں سے میری اور میری ماں کی چغلیاں کر رہی تھیں۔“ اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر اس نے بیڈ پر پھینک دی نبیرہ اس کے چہرے پر چھائی کرختگی دیکھ کر ڈر سی گئی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے اسے تو سوچنے سے بھی یاد نہ آیا کہ اس نے اپنی ماں سے کیا بات کی تھی جس میں سکندر یا اس کی ماں کی کوئی برائی موجود تھی وہ تو صرف یہاں کے ماحول ہی کے بارے میں گفتگو کر رہی تھی لیکن اب صفائی دینا بے کارتھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اپنے حق میں دی جانے والی کوئی بھی دلیل سکندر کے غصے کو ٹھنڈا نہیں کر سکتی اسی لئے خاموشی سے آگے بڑھ کر بیڈ پر پڑی ہوئی اس کی شرٹ اٹھانا چاہی تاکہ دھونے والے کپڑوں میں ڈال سکے لیکن قبل اس کے کہ وہ شرٹ اٹھاتی سکندر نے ایک جھٹکے سے شرٹ اس کے ہاتھ سے چھین لی۔

”اماں…. اماں….“ وہ حلق کے بل چلایا اور دوسرے ہی لمحہ اس کی ماں اور رفیدا دونوں بھاگ کر کمرے میں داخل ہو گئیں۔

”کیا ہوا؟“ رفیدا نے ملائی زبان میں بھائی سے پوچھ کر ایک نگاہ خفت زدہ کھڑی نبیرہ پر ڈالی اور نبیرہ کا تو شرمندگی کے مارے براحال تھا اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایک ذرا سی بات پر سکندر نے اتنا ہنگامہ کیوں کھڑا کر دیا ہے۔

”یہ میری شرٹ لے جاﺅ دھونے کےلئے گندے کپڑوں میں رکھ دو اگر یہ شرٹ اس مہارانی نے یہاں سے اٹھا کر باہر لے جا کر رکھ دی تو کل کو یہ اپنی ماں سے فون پر یہ بھی شکایت کرے گی کہ ہم اس سے گندے کپڑے اٹھواتے ہیں۔“ صرف یہ الفاظ اردو زبان میں بولے گئے اس کے بعد کی تمام گفتگو تینوں کے درمیان ملائی میں ہوئی جس میں سے چند ایک باتوں کے سوائے وہ زیادہ کچھ نہ سمجھ سکی کیونکہ اسے ابھی ملائی پوری طرح سمجھ نہ آتی تھی لیکن ان چند باتوں سے بھی نبیرہ کو اندازہ ہو گیا کہ کمرے میں موجود تینوں افراد نہ صرف اس کے گھر والوں بلکہ اس کے وطن کے تمام لوگوں کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف ہیں ایک ذرا سی بات کا اتنا بڑا ایشو بنایا گیا کہ اس کے بعد نبیرہ نے اپنی ماں سے کوئی گلہ کرنا بھی چھوڑ دیا اور اب تو ویسے بھی جب بھی کبھی پاکستان سے فون آتا اس کی ساس ہمیشہ اس کے سر پر سوار ہو جاتیں اور یہ بھی شایدان کے بیٹے کی ہی کوئی خاص ہدایت تھی۔

QQQQ

”تم آج کی دعوت میں کیا بنا رہی ہو میرے لئے؟“ وہ ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ کانوںمیں ہیڈ فون ڈالے آہستہ آواز میں سنان سے باتیں کرنے میں مصروف تھی جس کا علم صرف شفا کو تھا جو کچن میں مما کے ساتھ شام کی دعوت کی تیاریوں میں ان کا ہاتھ بٹا رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد آکر اسے حالات حاضرہ سے باخبر بھی کر جاتی یہ دعوت رحاب کی شادی کے بعد پہلی دفعہ اس کے گھر والوں کے اعزاز میں دی جا رہی تھی رحاب کی خالہ اور ان کا بیٹا امریکہ سے آئے ہوئے تھے اسے تو یہ بھی علم نہ تھا کہ دعوت کا مینیو کیا ہے؟ اسے اگر علم تھا تو صرف یہ کہ رات میں اس نے کیا پہننا ہے ابھی بھی وہ گود میں چیری سے بھری ٹوکری رکھ کر مزے سے سنان سے باتیں کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ شام کی تیاری کے حوالے سے اس کی رائے بھی معلوم کرتی جا رہی تھی کہ یکدم ہی سنان نے اس سے یہ سوال کر لیا وہ فوراً گڑ بڑا گئی۔

”میں شاید فرائیڈ رائس بناﺅں۔“ اچانک ہی اس کی نگاہ اپنے قریب رکھی سبزی سی بھری ٹوکری پر پڑی رنگ برنگی سبزیاں جو شفا اسے کاٹنے کیلئے دے گئی تھی یقینا فرائیڈ رائس کےلئے ہی تھیں یہ ہی سوچ کر اس نے سنان کو جواب دے دیا۔

”اوہ گڈ یار پھر تو آج دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھانا چاہئے ایک ساتھ ہی شام کو تمہارے ہاتھ کے بنے ہوئے فرائیڈ رائس کا مزا لوں گا۔“ اور فون بند کرکے وہ سبزیوں کا باﺅل لئے کچن میں آگئی جہاں ناہید گوشت صاف کر رہی تھی جبکہ مما اس کے پاس کھڑی اسے ہدایات دے رہی تھیں۔

”بیٹا یہ سبزیاں سیلب پر رکھ دو اور ایسا کرو شفا کو بھی بلا دو آکر فرائیڈ رائس کےلئے مسالا بنا لے۔“

”ممتا فرائیڈ رائس میں بنا لوں۔“ ردا ایک دم چونک گئی اور پیچھے پلٹ کر اپنی اس پیاری سی بیٹی پر ایک نظر ڈالی بلیک لانگ شرٹ کے ساتھ بلیک ہی نیل پالش لگائے اپنے اسٹریکنگ شدہ بال کھولے وہ ان سے اجازت طلب کر رہی تھی۔

”بنا لو مگر ایسا کرو پہلے اپنے بال باندھو کیونکہ کچن میں کھلے بالوں سے کام کرنا تمہارے پاپا کو پسند نہیں ہے اور ہاں….“ انہوں نے پل بھر کو رک کر کچھ سوچا اور پھر بولیں۔

”ایسا کرو شفا کو اپنے ساتھ لگا لو کیونکہ تم یہ کام پہلی بار کرنے لگی ہو اور پھر بیٹا گھر کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن یہاں سوال چونکہ مہمانوں کا ہے اس لئے میں نہیں چاہتی کہ کسی بھی معاملے میں میری یا تمہاری سبکی ہو۔“ بڑے ہی نرم لہجہ میں انہوں نے ساری بات نبیرہ کو سمجھائی جو اس کی سمجھ میں آبھی گئی پھر بھی اس سے کچھ غلط ہوہی گیا۔

”چاول میں جب ایک کنی رہ جائے تو ناہید سے کہنا ان کا پانی نکال دے گی۔ زیادہ گل نہ جائیں۔“ شفا جلدی جلدی اسے ہدایات دے کر باہر نکل گئی کیونکہ اسے امان کے ساتھ کچھ ضروری سامان خریدنے قریبی مارکیٹ تک جانا تھا۔

”ایک کنی رہ جانا۔“ یہ جملہ نبیرہ کی سمجھ میں ہی نہ آیا لیکن چاول زیادہ گل کر پیچ نہ بن جائیں یہ بات وہ بخوبی سمجھ گئی اور اسی خوف سے اس نے جلدی جلدی چاول نکالے اور پھر شفا کی اگلی ہدایات کے عین مطابق فرائیڈ رائس تیار کر لئے اور انہیں ہلکے دم پر ہی چھوڑ دیا تھا کہ مہمانوں کے آنے کے بعد کھولا جائے اور پھر وہی ہوا جس کا ردا کو ڈر تھا۔ چاول کافی دیر دم کے باوجود مکمل طور پر نہ گلے تھے بلکہ ان میں ابھی بھی کنی باقی تھی اور نمک تو غالباً وہ ڈالنا ہی بھول گئی تھی پہلے تو یہ کوشش کی گئی کہ چاول مہمانوں کو سرو نہ کئے جائیں لیکن شبنم آنٹی نے ڈائنگ ٹیبل کے گرد بیٹھتے ہی پہلا سوال نبیرہ کے پکائے گئے فرائیڈ رائس کے متعلق ہی کیا غالباً سنان انہیں بتا چکا تھا اب بچاﺅ کی کوئی صورت نہ تھی ماسوائے اس کے کہ ادھ کچے فرائیڈ رائس لاکر ٹیبل پر رکھ دیئے جائیں اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔

”چاول نئے تھے اسی لئے نبیرہ کو اندازہ ہی نہ ہوا۔ اسی لئے تھوڑے کچے رہ گئے ہیں۔“ کسی بھی متوقع صورت حال سے بچنے کیلئے ردا نے پہلے ہی وضاحت کر دی اور پھر ان کی توقع کے عین مطابق سارے چاول جوں کے توں ٹیبل پر پڑے رہے کسی نے بھی دوبارہ چار چمچے سے زیادہ کھانے کا حوصلہ نہ کیا سوائے سنان کے جس نے کسی بھی دوسری ڈش کو ہاتھ نہیں لگایا اور پلیٹ بھر کر چاول کھا لئے حالانکہ کھانے کے دوران شبنم نے ہلکی آواز میں اسے دو تین بار ٹوکا بھی کہ کچھ اور لے لو ایسا نہ ہو تمہارے پیٹ میں درد ہو جائے۔

”میرا پیٹ خاصا سخت ہے امی لکڑ پتھر سب ہضم کر لیتا ہے۔“ وہ ہنس کر بولا۔

”اور ویسے بھی آپ جانتی ہیں مجھے فرائیڈ رائس بہت پسند ہیں۔“ وہ سب کچھ جانتی تھیں یہ بھی کہ یہ چاول وہ صرف اس لئے کھا رہا ہے کہ نبیرہ نے بنائے تھے ورنہ اس کا معیار کھانے کے معاملے میں خاصا بلند تھا اور اس سلسلے میں وہ کوئی بھی سمجھوتہ نہ کرتا۔

”رحاب کے چہرے پر بھی واضح ناگواری کے تاثرات تھے اس کی امی یہ محسوس کر رہی تھیں کہ شادی کے بعد سے رحاب، نبیرہ کے معاملے میں خاصی بدل گئی ہے اب وہ جب بھی گھر آتی نبیرہ کے پھوہڑ پن یا ہر وقت اس کی تیاری کوہی موضوع گفتگو بنائے رکھتی اور یہ شاید جنید کے اس طرز کا جواب تھا جو وہ سنان کے سلسلے میں روا رکھتا تھا۔

”اپنی بہن کو تو کچھ آتا نہیں ہے اور سارا وقت میرے بھائی کے عیب ایسے نکالتے ہیں جیسے خود پتا نہیں کیا ہوں؟“ جانے رحاب کس بات پرتپی ہوئی تھی شبنم کی سمجھ میں نہ آیا لیکن وہ اس سے پوچھ کر بات بڑھانا نہ چاہتی تھیں۔

”اور امی ایک بات آپ کو اور بتاﺅں آپ سنان کو سمجھائیں کہ وہ نبیرہ کا خیال اپنے دل سے نکال دے۔“

”تم جانتی ہو بیٹا یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ اس معاملے میں وہ کسی کی بھی نہیں سنتا۔“ اور یہ سچ ہی تھا۔

”پھر بھی امی آپ سنان کو سمجھایئے گا ضرور کیونکہ وہ آپ کا اکلوتا اور واحد سہارا ہے ایسا نہ ہو کہ اس کے کسی غلط فیصلے کی سزا کل کو مجھے یا آپ کو بھگتنی پڑے۔“

”میں تمہاری بات سمجھی نہیں تم کیا کہنا چاہتی ہو۔“

”اصل میں امی نبیرہ اپنے گھر میں بہت ہی لاڈلی ہے اور جنید کی تو کچھ زیادہ ہی اور آپ یقین کریں کہ پورے خاندان میں اسے خوبصورتی کا سمبل سمجھا جاتا ہے۔“ وہ کیا کہنا چاہتی تھی ابھی تک شبنم پر واضح نہ ہوا تھا۔

”اور سنان کی لاپروا فطرت سے تو آپ واقف ہی ہیں اب اگر کہیں غلطی سے احتشام انکل نے یہ رشتہ دے بھی دیا جو کہ مجھے کسی طرح ممکن نہیں لگ رہا تو آپ کیلئے تو مشکل کھڑی ہو جائے گی اس حوالے سے میری جان بھی عذاب میں پھنس جائے گی یہ لوگ ذرا ذرا بات پر مجھے کٹہرے میں کھڑا کر دیا کریں گے۔“ اب وہ رسان سے انہیں سمجھا رہی تھی اور رحاب کا یہ نقطہ نظر شبنم کی سمجھ میں تو آرہا تھا لیکن سنان کو یہ سب سمجھانا ان کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا اسی لئے خاموش ہی رہیں کیونکہ ان کے خیال میں خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

QQQQ

وہ آج سکندر کے ساتھ کے ایل سی سی آئی تھی جانے کتنے عرصہ بعد آج سکندر کو یہ احساس ہوا کہ اسے کوئی اچھی سی پاکستانی فلم دکھا لائے کیونکہ یہاں اکثر و بیشتر پرانی پاکستانی فلمیں لگا کرتی تھیں فلم دیکھنے کے بعد دونوں نے قریب ہی ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں کھانا بھی کھایا ایک عرصہ بعد پاکستانی بریانی کھا کر اسے پھر سے اپنے وطن کی یاد آگئی اور پھر واپسی پر ایک گروسری شاپ سے اس نے پاکستانی مشہور برانڈ کے کچھ مسالوں کے ڈبے لے لئے اور اگلے دن وہ اس وقت کچن میں داخل ہوئی جب اس کی ساس بڑے ہی مصروف انداز میں کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں وہ کچن کے دروازے پر ہی کھڑی ہو گئی عجیب تذبذب کی سی کیفیت تھی اس کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ اپنا مدعا کس طرح ان کے سامنے پیش کرے۔

”کوئی کام ہے تمہیں مجھ سے؟“ وہ کبھی اس طرح کچن میں نہ آئی تھی اسی لئے بظاہر کام میں مصروف فاطمہ نے اس سے پوچھ ہی لیا۔

”وہ اصل میں آنٹی میں آج بریانی بنانا چاہ رہی تھی۔“ جھجکتے ہوئے اس نے جواب دیا

”لیکن ہمارے گھر میں تو بریانی کوئی نہیں کھاتا۔“ اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ کل رات ہی سکندر اس کے ساتھ بریانی کھا کر آیا ہے وہ جانتی تھی کہ یہ خبر اس کی ساس کو سخت ناگوار گزرے گی اور ہو سکتا ہے ان کے شدید ردعمل کے باعث آئندہ وہ سکندر کے ساتھ منانے والی اس چھوٹی سی تفریح کو بھی کھودے اس ڈر نے اس کی زبان بند رکھی۔

”وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں یہ بریانی صرف اپنے لئے بنانا چاہتی ہوں۔“

”بنالو تمہیں منع تو نہیں کر رہی لیکن اتنی ہی بنانا جتنی تم کھا سکو ویسے بھی رات کی کھائی ہوئی بریانی سکندر کو ہضم نہیں ہوئی پیٹ خراب ہو گیا ہے اس کا۔“ عجیب جتاتا ہوا انداز تھا۔

اوہ تو سکندر انہیں بتا چکا ہے کہ وہ بریانی کھا کر آیا تھا اس کے ساتھ ہی نبیرہ کو یہ احساس شدت سے ہوا کہ سکندر اپنے اور اس کی درمیان گزرنے والا ہر پل اپنی ماں سے ضرور شیئر کرتا ہے اور پھر اپنی ساس کی ہدایت کے مطابق اس نے صرف اتنی ہی بریانی بنائی جتنی وہ رات میں کھا سکے رائس کوکر میں اس نے پہلے کبھی چاول نہ بنائے تھے چنانچہ پانی کی صحیح مقدار کا اندازہ نہ ہونے کے سبب چاول ذرا زیادہ گل گئے تھے لیکن ذائقہ پھر بھی اچھا ہی تھا یا پھر چوائس نہ ہونے کے سبب یہ بریانی بھی اس کیلئے لذیذ ترین تھی چولہا بند کرکے وہ نہانے گھس گئی ساتھ ہی اس نے اپنے دو جوڑے بھی دھونے تھے۔ وہ فارغ ہو کر نکلی تو بھوک شدت سے چمک اٹھی تھی، کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی ڈائننگ پر اس کی ساس، سکندر، سکندر کی بڑی بہن سکینہ اور اس کے دونوں بیٹے بھی موجود تھے۔ اس کی ساس آج دن میں اتنی مصروف کیوں نظر آرہی تھیں وجہ نبیرہ کی سمجھ میں آگئی۔ اس کی اس مصروفیت کا سبب بیٹی کی آمد تھی نبیرہ باہر جانے والا دروازہ کھول کر بڑے سے صحن میں آگئی جس کی چھوٹی چھوٹی دیواروں سے دور تک سامنے کا روڈ نظر آرہا تھا بالکل سامنے والے ٹیرس پر گیتا چھوٹی سی نیکر پہنے وائپر لگا رہی تھی نبیرہ کو دیکھ کر وہ دور سے ہی مسکرا دی اور زور و شور سے ہاتھ لہرایا گیتا شروع دن سے نبیرہ کی خوبصورتی کی دیوانی تھی وہ جب بھی رفیدا سے ملنے آتی نبیرہ کی تعریف ضرور کرتی جسے سن کر رفیدا کے منہ کا زاویہ بگڑ جاتا لیکن گیتا اس بات کی پروا بالکل نہ کرتی تھی۔

”وہ ایک انڈین لڑکی تھی اور ملائی ایئر لائن میں جاب کرتی تھی کپڑے تار پر ڈال کر نبیرہ پلٹی تو ایک نظر دروازے سے باہر بنے اس حصے پر ڈالی جہاں سارے گھر کی جوتیاں موجود تھیں یہاں ایک روایت یہ بھی تھی کہ جوتیاں گھروں میں پہننے کا رواج بالکل نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایسے فنکشن جو گھروں میں ہی ارینج کئے جاتے ہیں وہاں بھی جوتیاں باہر ہی رکھی جاتیں جس کے سبب لوگ جوتوں کی خریداری پربھی زیادہ رقم صرف نہ کرتے شروع شروع میں تو نبیرہ کو یہ بہت ہی عجیب محسوس ہوا جب وہ کسی گھریلو فنکشن میں اپنی بہت ہی قیمتی اور بڑے پیار سے خریدی ہوئی جوتی گھر کے باہر اتار کر اندر گئی لیکن اب وہ دوسری باتوں کی طرح اس کی بھی عادی ہو گئی تھی لکڑی کا دروازہ کھول کر وہ اندر آگئی جہاں کھانا شاید آخری مراحل پر تھا وہ خاموشی سے کچن میں آگئی ریک سے پلیٹ اتاری اور چولہے پر رکھی دیگچی تک آئی آج کافی دنوں بعد شدید بھوک کا احساس اس کے حواس پر غالب ہو رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی اس نے ڈھکن اٹھایا دیگچی بالکل خالی تھی وہ حق دق رہ گئی۔

”یہ کیا سارے چاول کہاں گئے؟“ اس کی آواز خود بخود بلند ہو گئی۔

اسی وقت اس کی ساس کچن میں آئی تھیں ساتھ سکینہ بھی تھی جس نے اپنی پلیٹ دھو کر ریک میں واپس رکھ دی وہ تمام لوگ کھانا کھانے کے بعد اپنی اپنی پلیٹیں خود دھوتے تھے اور اتنے عرصہ کی زندگی میں یہ واحد کام تھا جو نبیرہ کو پسند آیا تھا اس نے کبھی بھی ان لوگوں کے کچن میں کسی دعوت کے بعد برتنوں کا ڈھیر نہ دیکھا تھا۔

”وہ بریانی تو ساری کبیر کھا گیا۔ اسے بریانی بہت پسند ہے۔“ اس کی ساس نے تو جواب دینے کی زحمت نہ کی تھی لیکن سکینہ کچن سے باہر نکلتے ہوئے بتا گئی تھی اور بھوک کی شدت سے نبیرہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے وہ بھی آخر انسان تھی کب تک برداشت کرتی پلیٹ کو زور سے سلیب پر پٹختی وہ تیزی سے باہر نکلی تاکہ اپنے کمرے میں جا سکے۔

”اسے کیا ہوا؟“ اپنے پیچھے اسے سکندر کی حیرت میں ڈوبی آواز سنائی دی لیکن اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔

”اگر بریانی اتنی ہی کم تھی تو آپ کو منع کر دینا چاہئے تھا میں نہ کھاتا اب تو لگ رہا ہے پیٹ میں درد ہی ہو گا۔“ کبیر کا انداز صاف تپانے والا تھا اور پھر کمرے میں جاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی ایک تو کچھ دنوں سے اس کی طبیعت بھی خراب تھی ہر وقت متلی سی محسوس ہوتی اور ساتھ میں کمزوری کے سبب چکر بھی آرہے تھے اس پر اتنی محنت سے تیار کی گئی بریانی بھی نصیب نہ ہوئی۔

”یہ تم کمرا بند کئے کس کا ماتم کر رہی ہو؟“ جانے سکندر کب کمرے میں آیا اسے وقت کا احساس ہی نہ رہا تھا اس کا سر بہت دکھ رہا تھا اور پیٹ میں شدید اینٹھن سی محسوس ہو رہی تھی۔ جس کے باعث وہ اٹھ بھی نہ پا رہی تھی۔

”کیا ڈرامہ بازی کر رہی ہو ایک بریانی تھی نا جو کبیر نے کھا لی اس پر قحط زدہ قوم کی طرح اتنا واویلا کیوں مچایا ہوا ہے کیا تمہارے گھر میں جب کوئی مہمان آتا ہے تو تم لوگ اسی طرح کمرے بند کرکے ان کی واپسی کا انتظار کرتے ہو۔“ اس نے ایک ہی جھٹکے میں نبیرہ کو بستر سے اٹھا کر کھڑا کر دیا۔

”پلیز سکندر چھوڑ دو مجھے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔“

”ظاہر ہے جب تک میری بیٹی گھر رہے گی تو تمہاری طبیعت ٹھیک بھی کیسے ہو سکتی ہے۔“ اس کی ساس اور سکینہ بھی کمرے میں آگئی تھیں۔

”چھوڑو سکندر! میں جا رہی ہوں۔“ سکینہ کا منہ پھولا ہوا تھا۔

”تمہیں اندازہ ہے تمہاری اس حرکت نے مجھے اپنی بہن اور بہنوئی کے سامنے دو کوڑی کا کر دیا ہے۔“ وہ دیوانوں کی طرح اسے جھنجھوڑتا ہوا بولا اس کا حلق خشک ہو گیا تھا اپنی ناسازی طبیعت کے باعث اور بے عزتی کا شدید احساس وہ ایک بار پھر رو دی دروازے کی چوکھٹ پر کبیر بھی کھڑا تھا گھر کا ہر فرد خاموشی کے ساتھ اس کی قدر بے عزتی کا نظارہ دیکھ رہا تھا۔

”چلو باہر آﺅ میرے ساتھ اور بھائی شاہ فرید کے سامنے کبیر سے معافی مانگو کیونکہ تمہاری آج کی اس گھٹیا حرکت نے میری ماں اور بہن کا بہت دل دکھایا ہے۔“

اپنی ماں اور بہن کے دکھے دل نے سکندر کو یہ احساس ہی بھلا دیا تھا کہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی عورت کے سینے میں بھی دل ہے اور شاید وہ بھی کسی کی بہن ہے اور اس دور دیس میں اتنے سارے لوگوں کے درمیان بالکل تن تنہا ہی ہے۔ چوبیس گھنٹے حقوق اللہ کے چکر میں سرگرداں لوگ حقوق العباد کی ادائیگی کیوں بھول جاتے ہیں شاید ان کے نزدیک صرف ماں اور بہن یا پھر خونی رشتوں کے حقوق کی ادائیگی ہی حقوق العباد تھی بیوی تو ویسے ہی سکندر کے نزدیک پیر کی جوتی تھی وہ ہمیشہ کہتا کہ بیوی وہ جوتی ہے جو صرف پاﺅں میں اچھی لگتی ہے اسے سر پر بٹھایا نہیں جا سکتا۔

سکندر کی باتیں سن کر اسے محسوس ہوا جیسے اس کا سانس ہی بند ہو جائے گا لیکن یسا کچھ بھی نہ ہوا وہ بمشکل خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر گئی اورسب کے سامنے پندرہ سالہ کبیر سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اس تمام عمل کے دوران گھر کا ہر فرد خاموش تماشائی بنا کھڑا رہا اس کی ساس، نند اور کبیر نے اس کی اس بے بسی کو دل بھر کے انجوائے کیا اور ساری رات نبیرہ کو ایسا محسوس ہوتا رہا جیسے وہ کانٹوں کے بستر پر لیٹی ہو سکندر بھی گھر نہ آیا تھا اس کا کہنا تھا کہ آج اس کے کسی دوست کے گھر ذکر اللہ کی محفل ہے اس لئے وہ رات وہیں رکے گا اور صبح گھر آئے گا لیکن اس کے گھر آنے یا نہ آنے سے نبیرہ کوکوئی فرق نہیں پڑتا تھا، آج کی اس بے عزتی نے فی الحال نبیرہ کے دل سے سکندر کےلئے پیدا ہونے والی تھوڑی سی محبت کو بھی ختم کر دیا تھا۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے