سر ورق / کہانی / خواب ! یاسین صدیق

خواب ! یاسین صدیق

خواب !

یاسین صدیق

پہلا حصہ

خواب سرمایہ حیات ہوتے ہیں۔ خواب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تووہ جو دوران نیند دیکھے جاتے ہیں۔ دو سرے کھلی آنکھو ں سے آنکھوں میں سجائے جاتے ہیں۔ نیند کے دوران دیکھے جانے والے خواب ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے ٹوٹ جانے کا انسان کو دکھ نہیں ہو تا ۔مگر جو خواب انسان بیداری کی حالت میں دیکھتا ہے یا اپنی آنکھوں میں سجاتا ہے۔ وہ ٹوٹ جائیں تو بہت دکھ ہوتا ہے ۔ اتنا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری زندگی تلف ہو گی ہو۔ میںنے بھی بہت سے خواب آ نکھوں میں سجائے تھے۔ ان میں سے ایک خواب تھا !

 کلثوم کو اپنا شریک حیات بنانے کا ۔

 دبلی پتلی ،لمبے قد ،کتابی چہرہ، گلابی رنگ ،غزالی آنکھیں،چاندی کے دانت ،سونے کابدن رکھنے والی کلثوم کو اپنا بنانے کا خواب ۔ میں نے زندگی میں اس سے پہلے کوئی خواب اتنی شدت سے نہ دیکھا تھا۔ اس سے پہلے اس طرح کوئی آنکھوں کو جچا ہی نہ تھا ۔دل میں سمایا ہی نہیں تھا۔کچھ عمر بھی ایسی ہی تھی ۔ اٹھتی جوانی یہ ہی کوئی سترہ برس تو ہوگی۔ دسویں جماعت کا طالب علم تھا ، شوخ چنچل ، آزاد ، کو ئی غم ہی نہیںتھا ، اب سوچتا ہوں کتنی اچھی تھی وہ زندگی۔ خواب سی لگتی ہے۔ایسے دن بھی تھے کبھی زندگی میں صبح اٹھے، نماز پڑھنے چلے گئے ، ان دنوں مجھے یوگا کی مشقیں کر نے کا جنون تھا۔آلتی پالتی مار کر شمال رخ منہ کر کے تنفس کی مشقیں کرنا، میں نے یوگا کے موضوع پر ڈھیروں کتابیں خریدی تھیں ۔اور ان پر عمل بھی کیا کرتا تھا، شایدمیرے ہر وقت خوش رہنے کا،نکھرے نکھرے چہرے کا سبب یہی ہو ، میں سکول جاتا ، لائبریری سے کتابیں پڑھتا اور بس یہی میرے مشغلے تھے، کوئی خواب نہ تھا۔کوئی پریشانی نہ تھی ۔کوئی دکھ نہیں تھا ۔کوئی چاہت نا تھی ۔کوئی منزل نہ تھی ۔

 پھر وہ دن آیا۔ کاش وہ دن نہ آیا ہوتا،ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ایسے دن آ ہی جاتے ہیں ۔کاش ایسا نہ ہوا ہوتا تو آج زندگی یکسر مختلف ہوتی ۔ وہ ایک عام سا دن تھا۔ دوسرے دنوں کی طرح سورج طلوع ہواتھا۔ میں سکول سے واپس گھر آیا تو پتہ چلا کہ ہمارے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں۔ میرے خالوصفدر علی ان کی زوجہ عائشہ بی بی ایک بیٹاابو بکر جو میرا ہم عمر تھا کلاس فیلو بھی تھا۔کہتے تھے کہ ابوبکر جب پیدا ہوا تو بہت بیمار تھا بڑے تعویز دھاگوں سے جا کر بچا تھا اورایک تھی کلثوم۔ یہی کوئی سولہ برس کی ہوگی۔ اس نے فراک پہنی ہوئی تھی ۔اس فراک پر سفید اورسرخ رنگ کے پھول تھے، وہ خود بھی پھول ہی تھی ۔ وہ میرے بھائی کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو چُپ ہوگی ، میںتو بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔

 اسے سلام کرنا بھی یاد نہ رہا تھا۔جب اسے خیال آیا تو وہ بو کھلائی ہوئی اٹھی اور مجھے سلام کیا، میری تو زبان ہی نے میرا ساتھ نہ دیا ۔

بس اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔اس نے دوبارہ سلام کیا تو مجھے ہوش آیا تھا ۔ میں نے جلدی جلدی اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر مجھ سے وہاں کھڑا نہ ہوا گیا۔ میرا دل گھبرا رہا تھا ۔ مجھے پیاس لگی ہوئی تھی۔ نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا۔ خالونے مجھے اپنے سینے سے لگایا تو کچھ سکون محسوس ہواخالو کہتے رہے۔

” واہ بھی واہ ۔ خرم تو گھبرو ہو گیا ہے تین سالوں میں بڑا قد نکالا ہے ۔“

میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔

” کس کلاس میں ہو“

انہوں نے مجھے خود سے الگ کرتے ہوئے پوچھا۔میں نے دسویں کلاس بتائی ۔

 انہوں نے میری پیٹھ تھپکی اور کہا

”شاباش تم خاندان کا نام روشن کرو گئے۔“

خالو صفدر ایسے ہی تھے زندہ دل ،ہنس مکھ ۔انہوں نے چھوڑا تو خالہ عائشہ نے میری بلائیں لیں،ماتھا چوما۔ ابو بکر تو میرا ہاتھ پکڑے بیٹھ گیا ، اور اپنے گا و ¿ں سلطان آباد اور شہر فیصل آباد کے قصے سناتا رہا۔ میں ہوں ، ہاں کرتا رہا اور کلثوم کو دیکھتا رہا۔ وہ گھر میں اڑتی پھرتی تھی ، کسی گڑیا کی طرح دل چایا اسے ایک جگہ کھڑی کردوں اور بس دیکھتا رہوں۔

میرے تایا کی بیٹی رقیہ کی شادی تھی اور ابھی چار دن باقی تھا ۔ابو بکر کی منگنی میر ے تایا زاد بشری سے ہو ئی تھی ۔یعنی ابو بکر اپنے ہونے والے سسرال جا رہا تھا ۔ہم اس وجہ سے اسے مذاق کا نشانہ بناتے رہے ۔ ہمارا گھر پہلے آتا تھا اس لیے وہ پہلے ہمارے ہا ں آ گئے تھے ۔ ابا جان کی تایا جان سے کچھ ناراضی تھی۔ اس لیے ہم نے شادی میں شرکت تو کرنا تھی ۔مگر شادی کے دن صبح جانا تھا اور شام کو آ جانا تھا۔میں نے سوچا کاش تایا جان سے ابا جان کی لڑائی نہ ہوئی ہوتی تو ہم بھی چار دن پہلے چلے جاتے ۔مگر یہ تو صرف سوچا جا سکتا تھا۔ ایسا ممکن نہ تھا۔

 رات ہو ئی تو ، ابا جان خالو اور خالہ جان تو بیٹھ کر خاندان بھر کی باتیں کرنے لگے کہ خاندان نے فلاں شادی پر فلاں بات کی تھی ، اسے نہیں کرنا چاہیے تھی ، ابا جان تایا جان کی اب تک تمام خامیاں نکال رہے تھے اور خالو جان چاہتے تھے کہ ابا جان اور تایا جان کی صلح ہو جائے ۔یہ موقع بہت اچھا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔

 جنوری کی سر در اتیں تھیں ۔ کمرے میں الاو دہک رہا تھا۔ سب چار پائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے دونوں بھائی حمید اور سعید کب کے بیٹھک میں سو گئے تھے میری بہن رابعہ اور کلثوم بیٹھی ہو ئی بزرگوں کی باتیں سن رہی تھیں ۔ عورتوں کو دوسرے کے متعلق جاننے کا بہت شوق ہو تا ہے۔ وہ دونوں پڑ ے انہماک سے گفتگو سن رہی تھیں۔ جسے ان سے امتحان لیا جانا ہو۔ ابو بکر ایک رسالہ پڑھتے پڑھتے سو گیا تھا ۔

سب سے برا حال میرا تھا۔ میں سب کے منہ تک رہا تھا ، جو بھی بات شروع کرتا تو میں اس کو دیکھنے لگ جاتا ۔اس کی بات ٹوک کر دوسرا بات شروع کرتا تو میں اس کو دیکھنے لگ جاتا ۔اس دوران چپکے سے کبھی کبھی کلثوم کو دیکھ لیتا۔ اسے دیکھ کر دل میں ہلچل سی مچ جاتی ۔ رات آدھی سے زیادہ گزرگی۔آخر اباجان نے ڈانٹ پلائی ۔

”خرم جاو سو جاو کیا منہ تک رہو سب کے ۔“

 میں اٹھ کر بیٹھک میں آگیا ۔ بستر پر لیٹا تو دل چاہا پھر ان کے پاس چلا جاو ¿ں اور کلثوم کو دیکھتا رہوں۔عجیب بے چینی تھی ۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہو اتھا۔ میں تو سر شام ہی سو جایا کر تا تھا۔ آج نیند نہیں آ رہی تھی دل گھبرا رہا تھا، میں نے دو تین کروٹیں بدلیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ سونے سے پہلے ورزش معمول تھی آج تو وہ بھی نہیں کی تھی نہ ہی نماز پڑھی تھی۔میں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا۔اس کے بعدپھر لیٹ گیا۔ دل کی عجیب حالت تھی۔ایسے جیسے کوئی چیز گم ہو گی ہو۔کچھ چھن گیا ہو ۔ میں نے خود پر بڑا ضبط کیا مگر سو نہ سکا تو اٹھ کر صحن میں ٹہلنے لگا ۔ کمرے میںابھی تک باتیں کر رہے تھے۔میں ٹہلتا رہا۔خالہ جان کسی کام سے کمرے سے باہر آئیں ،مجھے دیکھاتو پوچھا ۔

”خرم تم جاگ رہے ہو۔“

 مجھے ایسے لگا جیسے کو ئی چوری کر تے ہوئے پکڑا گیا ہوں۔

 ” نہیں ۔نہیں ۔“ پھر اپنے بے تکے جواب کا خیال آیا تو جلدی سے کہا ۔

” ہاں نیند نہیں آرہی۔“

 خالہ جان ہنس پڑھیں ، جیسے ان کو پتا ہو کہ میں کیو ں جاگ رہا ہوں ۔ مجھے بڑی ندامت ہوئی میں بیٹھک میں آیا اور رضائی اوپر تان لی۔ دل بھرا بھرا تھا ، ایسے سوچتے ہوئے ، سو نے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے رات گزر تی رہی ، اس رات میں نے سونے سے پہلے جاگتی آنکھوں سے زندگی کا پہلا خواب آنکھوں میں سجایا تھا۔ کلثوم کو اپنا بنانے کا خواب۔اورپھر علم نہیں کب نیند آ گی تھی ۔

µµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµµ٭٭٭

دوسرے دن صبح صبح ناشتے کے بعد ابوبکر وغیرہ تایا جان کے گھر تانگے پر بیٹھ کر چلے گے اور میں سکول ۔دو دن بعد جمتہ المبارک تھا۔ان دنوں جمعة المبارک کو چھٹی ہوا کرتی تھی ۔ تایا جان ہم سے تین چار کلو میڑ دورایک ڈیرہ میں رہتا تھا۔ یہ ساہیوال کے نزد یک ہی ایک گاو ¿ں تھا۔ مگر اس سے پہلے ہمارا گاو ¿ں آتا تھا۔ ہمارا گاو ¿ں نام کا ہی گاو ¿ں تھا۔ وہ تو اب شہر کا حصہ بن چکا تھا ۔ان دودونوں میں نے بہت سے خواب دیکھے تھے کہ کلثوم ملی تو اسے یہ کہوں گا کہ تم بہت خوبصو رت ہو، دل کش ہو ،مجھے تم سے پیار ہے، میں نے سوچا تھا کہ اسے ایک شعر بھی سناو ¿ں گا ۔

                                                                                                اجازت ہو تو لکھ لوں تیرا نام

             ورق میرے دل کا سادہ ہے اب تک

میں نے تصور ہی تصور میں اس سے ڈھیروں باتیں کیں ، وہ میر ے سامنے کھڑی شرما رہی ہے۔ میری باتوں پر ہنس رہی ہے ۔ایسے ہی دو دن گزر گے ۔جمعتہ المبارک کے دن میں نے سوچا مجھے ڈیرہ پر جانا چاہیے ۔میں نے امی جان سے اجازت مانگی ۔

تو انہوں نے کہا ۔”چلے جاو لیکن اپنے ابو سے پوچھ لو۔“ میں نے عرض کی ۔”آپ ہی پوچھ دیں ۔“

 ابا جان ابھی کمرے میں ہی تھے ۔جب میں نے سائیکل صحن میں نکال کر اس کی صفائی شروع کر دی ۔امی جان ابو کے کمرے میں داخل ہوئیں تو میرا جسم کان بن گئے ۔امی نے ابا جان کوبتایا کہ ”خرم ڈیرہ پرجا رہا ہے ۔“

میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔اگر ابا جان انکار کر دیا تو۔۔۔ آگے مجھ سے سوچا نہ گیا ۔میں بے توجہی سے ہاتھ چلاتے ہوئے امی ابو کی باتیں توجہ سے سننے لگا ۔ ابا جان کی آواز آئی ۔”جانے دو ۔“میرا دل خوشی سے بلبلوں اچھل پڑا۔وہ ایک لمحہ رکے پھر کہنے لگے ۔”بچوں کو روکنے کا کیا فائدہ ۔“

 میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلے ، سائیکل تھوڑی دیر بعد ہواو ¿ں سے باتیں کر رہا تھا ۔تایا جان کی گلی میں آ کر جب ان کا گھر چند قدم کے فاصلے پر تھا میرے پاو ¿ں من من بھر کے ہو گئے ۔میں نے خود کو حوصلہ دیا اور ان کے گھر قدم رکھ دیا ۔شادی میں ابھی دودن باقی تھے۔ مگر ایسے لگتا تھا جیسے آج ہی شادی ہو ۔ گھر بھرا ہوا تھا تایا جان گھر میں نہیں تھے ۔باقی سب ملے اور انہوں نے خوب آو ¿ بھگت کی۔تایا زاد بھائی کفیل ،علیم عرف عالی اور ابو بکر تو خوشی سے نہال ہو گے ۔تھوڑی دیر بعد میں نے ان سے کہا”ابھی تائی سے مل کر آیا ۔“ تائی نے تو مجھے اپنے پاس ہی بیٹھالیا ۔خاندان کی کافی عورتیں وہاں بیٹھی ہوئی تھیں ۔مجھے دیکھ کر سب ابا جان اور تاتا جا ن کے متعلق باتیں کر نے لگیں۔میں بور ہوتا رہا ۔ عورتوں کے پاس شایدباتیں کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ مجھے الجھن ہو رہی تھی۔ ابھی تک کلثوم نظر نہیں آئی تھی۔ میرا دل چاہا خالہ عائشہ سے پوچھ لوں مگر پھر خود ہی ارادہ ملتوی کر دیا۔خدا خدا کر کے وہاں سے جان چھوٹی۔ میں کافی دیر میں ادھر اُدھر گھومتا رہااور سب سے ہنس ہنس کر باتیں کرتارہا۔تایا جان کے گھر میں چار کمرے تھے ۔تین میں اب تک دیکھ چکا تھا ۔چوتھے میں محلے اور خاندان کی لڑکیاں جمع تھیں اور ان کی ہنسی کی آواز آرہی تھیں ۔ میں نے سوچاوہاں کلثوم ہوگی۔ میری تایا زاد بہن رقیہ کی شادی تھی اور سب لڑکیاں آپی رقیہ کے گرد جمع تھیں ۔میں نے دھڑکتے دل سے کمرے میں قدم رکھ دیا ”اﷲجی۔کون ہو تم۔“ ایک لڑکی نے مجھ سے ٹکراتی ٹکراتی بچی اس نے غصے سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ میں نے دل پر ہاتھ اور کلثوم پر نظراور جواب دیا اسے ۔”خرم شہزاد“

 لڑکیوں کے چہروں پر پھول کھل گے ۔ آپی رقیہ نے اٹھ کر مجھے گلے لگایاابوبکر کی منگیتر بشری اور کلثوم رقیہ کی پشت پر کھڑی تھی ، اس کی آنکھوں میں جگنو چمک رہے تھے ۔دو نقاب پوش لڑکیا ں ”اونہہ“کہ کرکمرے سے نکل گئیں۔

 میں نے کلثوم سے پوچھا ۔”کیسی ہو ۔“اس نے کہا ۔”ٹھیک ہوں۔“

ایک دو لمحے خاموشی کے آئے لڑکیوں نے سمجھا میں نے اب مل لیا ہے اس لیے اس کمرے سے جانا چاہئے ۔لیکن میں ایسے کیسے چلا جاتا ۔میں نے کلثوم کو دیکھا ،وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔

اس نے نظریں جھکا کر پوچھا۔”اور آ پ کیسے ہےں ۔“۔

میں نے کہا ۔”خراب ہوں۔“ سب لڑکیاںایک بار پھر کھل کھلا کر ہنس پڑھیں۔ کلثوم شر م سار سی ہو گی ۔ایک بار پھر کمرے میں خاموشی چھا گی ۔اس کا صاف مطلب تھا کہ مجھے اب جانا ہوگا ۔میں ٹھنڈی آہ بھر کر کمرے سے باہرنکل آیا۔برآمدے میں آ کر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اب کیا کروں ۔صحن میں تائی اور دوسری عورتیں تھیں ،بیٹھک میں تایا زادبھائی اور ان کے دوست ،دوسرے کمروں میں رشتے دار جو دوسرے شہروں سے آئے تھے ۔میرا تو کہیں جانے کو دل نہیں کر رہا تھا ۔اس لیے میں نے ایک ستون سے ٹیک لگا دی ۔اس گھر میں سب خوش تھے ۔شادی والا گھر جو تھا ۔لفظ شادی کا مطلب ہی خوشی ہوتا ہے ۔یہ سب جو قہقے بکھیر رہے تھے اندر سے سب غمگیں تھے ۔عارضی طور پر سب اپنے اپنے غم بھول کر خوشی منا رہے تھے ۔لیکن میں اداس تھا ۔مجھے وہاں کھڑے ہوئے دو تین منٹ ہی گزرے تھے کہ اس کی آواز نے خیالات سے باہر نکالا ۔” آ پ کب آئے ۔“

یک دم میں گھوما میرے سامنے وہ کھڑی تھی ۔میری شوخی ایک پل میں پلٹ آئی ۔”سولہ سال پہلے۔“

 اُسے میری بات کی دیر سے سمجھ آئی ۔

میں اس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ میںکیسے کہہ دیتاکہہ تم کو دیکھ کے میں خود سے بیگانہ ہو گیا ہوں۔ دو تین راتوں سے میں تیرے سپنے دیکھ رہا ہوں ، میں تم کو اپنا بنانا چاہتا ہوں۔ میں یہ سب کچھ سوچ کے ہی رہ گیا۔ابھی اس کی عمر ہی کیا تھا۔خوف اور جھجھک نے میرا دامن تھام لیا۔

 مگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ اب اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر شائد کبھی وقت نہ ملے ۔ایسا وقت جس میںصرف ہم دونوں ہوں۔

میں اس سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھامگر مجھے معلوم نہ تھا کہ ایسے موقعوں پر بات کس طرح شروع کی جاتی ہے، وہ بھی چپ تھی ، کافی وقت گزر گیا آخر مجھ سے ضبط نہ ہوا ،میںنے دھڑکتے دل سے اُسے پکارا ۔”کلثوم۔“

اس نے مختصر جواب دیا ”جی“مجھ سے مزید بات کچھ نا کہا گیا ۔

 مجھے وحشت ہو رہی تھی ۔خاموشی جان پر آ گئی تھی۔وہ بھی خاموش تھی ۔کبھی کبھی نظر اٹھا کر دیکھ لیتی ۔ میں نے ہمت کر کے اسے پھر پکارا ۔”کلثوم“

 میری آواز روندھی ہوئی تھی۔ مجھے اپنا لہجہ خود اجنبی سا لگا اس نے پھر ”جی“ کہا ۔اب کے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی ۔

 میں نے ڈوبتے دل سے کہا ۔”میں ۔۔میں۔۔ تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ “وہ چپ رہی ،لیکن مسلسل مجھے دیکھتی رہی میں نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ،اس کا دیکھنا دیکھا نا گیا ،میںدوبارہ گویا ہوا ۔”سابقہ دو دن سے میں تم سے یہ بات کرنا چاہتا ہوں “

یہ کہہ کر میں نے اسے دیکھا ۔اور مزید کچھ کہنے کی ہمت کھو دی ۔اس کی آنکھوں میں رنگ تھے ،چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔مجھ سے کافی دیر کچھ نہیں کہا گیا ۔اس وقت وہ دو نقاب پوش لڑکیاں جو میرے کمرے میں جانے پر کمرے سے نکل گئیں تھیں دوبارہ آ گئیں ۔ہمارے پاس سے گزریں ۔اپنے اندر اس دوران میں نے ہمت پیدا کی ،خود کو دلاسا دیا ۔کلثوم نے اپنے پر مسکراہٹ سجائے ٹٹولتی نظریں میرے چہرے پر گاڑ دیں ۔

جیسے ہی وہ لڑکیاں کمرے میں داخل ہوئیںاس نے کہا ۔” میںبھی کچھ کہنا چاہتی تھی ۔“ میں نے جھٹ پوچھا ”کیا“ ۔

”پہلے آپ بتائیں“ اس نے کھکھلاتی ہوئی آواز میں کہا۔

” کیا تم جانتی ہو کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔“

”مجھے علم ہے ۔“ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ میرا دل اوپر نیچے ہو رہا تھا جو بات کہنا چاہتا تھا۔ وہ بات اسے معلوم تھی ۔اب اور اسے کیا کہنا تھا۔ میرے پاس کہنے کے لیے بچا کیا تھا ۔ میں نے پوچھا ” کیا پتہ ہے “ وہ ہنس پڑی۔میرے اردگرِد جلترنگ سے بج اٹھے۔ اسی وقت تائی نے مجھے آواز دی ۔ وہاں خالہ عائشہ تھیں ہم دونوں اس کے پاس جا کر بیٹھ گئے پھر ہم نے آپس میں کوئی بات نہ کی ۔وہ چوری چوری مجھے دیکھتی رہی۔ یہی حال میرا تھا۔ جب اس سے نظر ملتی تو وہ نظر جھکا لیتی۔ وقت گزرتا رہا ۔میں تایا زاد بھائیوں کے پاس دو تین گھنٹے بیٹھا رہا انہوں نے مجھ سے کہا کہ ” میں ایک دن شادی سے پہلے آجاو ¿ں “ میں نے حامی بھر لی ”ابا جان سے پوچھ کے بتاو ¿ں گا ۔“شام سے ذرہ پہلے میں نے واپسی کی تیاری کر لی۔ سب سے اجازت لے کر بوجھل قدموں سے گھر کی راہ لی ۔واپسی کا سفر طویل ترین ہو گیا تھا ۔ہمارا گاوں ہی نہیں آ رہا تھا ۔سارے راستے میں خود کو ملامت کرتا رہا کہ اسے سب کہہ دینا چاہیے تھا جو سوچتا رہا ہوں ۔

شادی کا دن آیا ۔گزر گیا ۔خوب ہلا گلا رہا۔اس میں یادگار وہ گانا تھا جس پر کلثوم اور بشری نے ڈانس کیا تھا ۔اور دونوں نے مجھے دیکھ دیکھ کر میرے سامنے ،مجھے سنا سنا بلکہ دکھا دکھا کر کیا تھا ۔یہ شادی سے پہلے کی رات تھی ۔سردی اپنے جوبن پر تھی ۔ہم سب کزن دائرہ بنا کر کھڑے تھے ۔اور تالیاں بجا رہے تھے ۔جب کلثوم اور بشری اپنی کمر پر اپنا اپنا ڈوپٹہ باندھ کر آئیں ابوبکر کی منگیتر بشری نے میرا بازو پکڑا مجھے دائرہ میں کھڑا کر دیا ابوبکر زور زور سے تالیاں بجانے لگا ۔

لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا

آبہہ سامنے کولوں دی رس کے نا لنگ ماہیا

وے بنیرے توں سٹیاں رسیاں

تساں پوچھیاں تے نا اساں دسیاں

لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا

میں شرم سار کھڑا رہا ۔پہلے مجھے جو سردی کا احساس تھا رفتہ رفتہ وہ ختم ہو گیا ۔انہوں نے بل کھا کر کمر لہرا کر جیسے ڈانس کیا ۔دل اوپر نیچے ہوتا رہا ۔

دوسرے دن شادی کے بعد شام کو خالو صفدر وغیرہ ہمارے ساتھ ہی ہمارے گھر آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صبح پانچ چھ بجے چلے جائےں گے صرف ایک رات باقی تھی ، سب کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے میں اٹھ آیا۔میرے پیچھے ابوبکر بھی اٹھ آیا ۔ہم دو تین گھنٹے بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ہمارے خیالات ملتے تھے ۔اس لیے دل بھی مل گئے ۔مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ہم صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔

حمید و سعید نے ابو بکر کو آواز دی تو وہ اٹھ کر چلا گیا ۔اس کے جانے کے بعد میں نے سوچا ”یہ ایک رات بھی کیا یوں ہی گزر جائے گا۔“

 میری بے چینی بڑھ گئی۔بیٹھک میں کرسی پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔ اب اس سے کیسے بات کروں ؟۔کیا بات کروں ؟۔اور پھر اس کے بقول جو بات مجھے اس سے کرنا ہے ۔اسے معلوم ہے ۔کیا اسے واقع معلوم ہے؟۔ کہ مجھے اس سے محبت ہے پھر بھی میں اس سے کہہ سکتا ہوں کہ تم مجھے بھول تو نہ جاو ¿ گئی۔میں تم سے شادی کا خواہاں ہوں۔ مجھے اس سے یہ بھی کہنا چاہیے کہ میں تمھارے گھر آو ¿ں گا ، میرا انتظار کرنا ۔ وہ مجھے خط بھی لکھ سکتی ہے ۔ وہ نہم کی طالبہ ہے۔ ایسے ہی خیالات مجھے آتے رہے آخر میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے کو ئی نہ کوئی بات کرنا چاہیے ۔کیا خبر اسے کیا معلوم تھا اور میں کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا ۔پھر اسے بھی تو مجھ سے کچھ کہنا تھا ۔کم ازکم اس سے یہ تو پوچھا جا سکتا تھا ۔میںاٹھ کر دوسرے کمرے میںآگیا ۔ وہ سب بیٹھے تھے خالو جان شادی میں ہونے والی باتیں ابو جان کو بتا رہے تھے۔ درمیان میں خالہ عائشہ بھی معلومات کا اضافہ کر دتیں۔ مگر وہاںکلثوم اور رابعہ نہیں تھیں۔ رابعہ کلثوم کودوسرے کمرے میں صندوق سے نکال نکال کر کپڑے دکھا رہی تھی اور کلثوم تبصرے کر رہی تھی۔پاس ہی سعید بیٹھا تھا اور ان کے کپڑوں کی خامیاں نکال رہا تھا ۔ میں ان کے پاس ہی بیٹھ گیا اور بڑی کوشش کی کہ کوئی بات کروںمگر ، میری زبان پر کوئی بات نہیں آئی، ہر بات مجھے بے معنی سی لگتی ۔

آخر کلثوم نے پوچھا ۔”خرم ۔“

اس نے میرا نام لیا تو دل دھک سے رہ گیا میں نے لکنت زدہ زبان سے کہا ”جی ۔۔۔جی“

”آپ ہمارے گھر آو گے ناں؟۔

 اس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا۔ میں کل سے سوچ رہا تھا۔”ہاںہاںکیوں نہیں ،ضرور آو ¿ں گا۔“

 میرے چہرے پر پتہ نہیں کیا تھا کہ ان دونوں نے غور سے مجھے دیکھا۔رابعہ نے پوچھا ۔”بھائی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔“

میںنے جلدی سے کہا ۔” ہاں ۔۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔“

”نہیں۔۔نہیں تو آپ کا چہرہ اتنا سرخ ہے۔؟“

میری ساری شوخیاں کہیں کھو گئیں تھیں ۔میں خاموش رہا ۔ان دونوںنے مجھے دیکھا پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور کھل کھلا کر ہنس دیں ۔سعیدبھی معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔

 میں وہاں سے اٹھ آیا۔ وہاں مزید بیٹھا بھی نہیں گیا۔ باہر آکر ایسے لگا جیسے کسی جیل سے چھوٹ کر آیا ہوں مجھے سکون محسوس ہوا ۔ رات کا کھانا نوبجے کھایا گیا ۔کھانے کے دوران بھی رابعہ اور کلثوم مجھے دیکھ کر مسکراتی رہیں۔مجھے رابعہ پر غصہ آ رہا تھا ۔وہ مجھے دیکھ دیکھ کر کیوں مسکراتی تھیں ۔یہ ہی حال سعید کا تھا ۔الو دیدے گھما کر مجھے دیکھتا تھا ۔میں باقی سب گھر والوں کی وجہ سے خاموش رہا ۔

میں نے محسوس کیا تھاکہ سعید ، رابعہ اور کلثوم ان دنوں میں ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ہیں ۔سچی بات ہے مجھے حسد سا محسوس ہوا۔

 میں نے سوچا کہ کلثوم اور رابعہ ضرور میرے بارے میں باتیں کرتی رہتی ہیں ۔رابعہ کو کلثوم نے بتا دیا ہوگا ،مگر اس نے کیا بتایا ہو گا۔ میں نے اس سے اب تک کوئی ایسی بات نہیں کی تھی ، پھر وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتی کیوں ہیں۔سعید بھی تو ان میں شامل ہے خبیث کہیں کا ،کیسے دانت نکال رہا تھا ۔میں نے فیصلہ کر لیا جیسے ہی موقع ملا اس کے دانت ضرور توڑ دوں گا ۔پھر میں نے سوچا مجھے چپ ہی رہنا چاہیے ۔میں نے سوچا کہ اب بازار جاو ¿ں ۔ اور کوئی تحفہ لے کر کلثوم کو دوں۔ مگر کون سا تحفہ ۔پھر اب اجازت کیسے لوں گا ،باہر جانے کی ، ایسے ہی خیالات میں کھانا کھا لیا گیا ، سب اٹھ کے چلے گئے ، خالو نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور سگریٹ منگوائے ۔ میں نے ان کو گلی سے سگریٹ لا کر دیئے۔ ابو بکر ،سعید اور کلثوم اور رابعہ بیٹھ کر لڈو کھیلنے لگے ۔خالوا ابا جان اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے ۔کافی سردی تھی ۔گیارہ بجے سب سونے چلے گے ۔ کلثوم اور رابعہ ایک ہی بستر میں لیٹی ہوئی تھیں۔ میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔میں نے پانی پیا۔ اور کرسی پر بیٹھ گیا یہ کمرہ میرا تھا۔ اس میں سامان کم اور کتابیں زیادہ تھیں ۔

بیٹھک بھی یہی تھی اور مطالعہ کا کمرہ بھی یہی تھا۔کاش یہ میرا کمرا نہ ہوتا تو میں ان کے کمرے میں اس کے نزدیک توسو سکتا تھا۔ اب صبح وہ جارہے تھی ۔۔ تب میرے دل میں خیال آیا کہ میں اسے خط لکھ دوں۔یہ غالبا 1995 کی بات ہے ان دنوں دور دور تک موبائل کا نام و نشان نہیں تھا ۔خط کاطریقہ مناسب تھا۔ جو باتیں میںاس کے سامنے نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ خط میں لکھ سکتا تھا۔ میں نے کاغذ قلم اٹھایا اور اسے خط لکھنا شروع کر دیا۔ اس وقت جو بھی میرے دل میں آتا گیا میں لکھتا گیا میں نے لکھا۔

”کلثوم۔جب سے تم کو دیکھاہے ۔میرا حال بڑا خراب ہے ۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ تم ہو ہی اتنی خوبصورت۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ آ پ کل یہاں سے جا رہی ہو۔ میں سوچتا ہوں میری زندگی کیسے بسر ہوگی ۔ تمھیں دیکھاتو تیرے طلب گار بن گئے۔“

اتنا لکھ کر میںنے دوبارہ پڑھا ۔ تو یہ الجھا الجھا سا لگا ، میں نے سوچا اسے خط ذرہ تفصیل سے، ہر بات سمجھا کر لکھنی چاہیے تاکہ میرے خط کا اس پر دیر تک اثر رہے ۔میں نے وہ ورق پھاڑ دیا ۔ اور نئے ورق پر دوبارہ لکھنا شروع کر دیا۔

”پیاری کلثوم !گزشتہ پانچ ایام سے میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا تھا۔ مگر کر نہ کر سکا۔

پیاری کلثوم! کل تم یہاں سے جارہی ہو۔ میں نے سوچا کہ آپ کو کچھ لکھ دوں۔ اور۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں نے آپ کو روک لوں جانے نہ دوں۔ آپ چلی جائیں گئیں تو میرا دل بھی آپ کے ساتھ چلا جائے گا۔میں تم کو بہت پیارکرتا ہوں ۔ تم بھی مجھے بھول نہ جانا۔

 کلثوم میں کوشش کروں گا کہ جلد آ پ کے گھر آو ¿ں ۔تم میرا انتظار کرنا مجھے تم سے محبت ہو گی ہے۔“

 اتنا لکھ کر میں نے خودکو روک لیا میراہاتھ کانپ رہا تھا ، میں نے دوبارہ پڑھا تو یہ خط پہلے سے بھی گٹھیا گٹھیا سا لگا ۔دماغ قلم کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ جو بات میں نے کہنی تھی وہ تو لکھ نہ سکا تھا ، یہ سب باتیں مجھے سطحی سے معلوم ہوئیں۔ عام سی باتیں۔ مجھے تو اس کو جو خط لکھنا تھا۔ وہ خاص ہونا چاہیے تھا ۔میں نے اس ورق کو بھی پھاڑ دیا۔ سوچا سب سے پہلے مجھے شعر لکھنا چاہیے اور مختصر سا خط کافی ہے ۔ دیر تک میں شعر سوچتا رہا آخر ایک شعر مجھے یاد آگیا میں نے لکھا۔

طیش میں آ کر تم میرا خط پھاڑ ڈالو

تمہارے قدم چوم لیں گے میری تحریر کے ٹکڑے

 میں تم سے محبت کرتا ہوں ، میں تمھارے گھر آو ¿ں گا ۔میں تم سے شادی کروں گا۔ تم مجھے بہت یاد آو ¿ گی۔ خد احافظ“

 میں نے اس خط کو دو تین دفعہ پڑھا ۔یہ تو ایسے تھا جسے کسی کے پتھر مار دیا جائے ۔نہ سلام نہ دعانہ کوئی اس کا لقب اور پھر اتنا مختصر خط بھی نہیں لکھنا چاہیے ۔مجھے خود پر غصہ آنے لگا ۔میں نے نئے سرے سے حوصلہ جمع کیا اور لکھنا شروع کیا، اب کے میں نے ٹھہر ٹھہر کر لکھا سردی سے میری انگلیاںٹھٹھری جا رہی تھیں ۔میرا قلم اٹک اٹک رہا تھا ۔میں نے اسے لکھا۔

” جان سے پیاری کلثوم ۔ سدا پھولوںکی طرح مسکراتی رہو ۔

اسلام علیکم !کے بعد عرض ہے کہ رات آدھی گزر گئی ہے ۔مجھے نیند نہیں آ رہی ۔ میںنے بڑی دیر سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں ۔مگر سمجھ میں نہیں آرھا کہ بات کیسے شروع کروں۔ آپ نارض نہ ہو جائیں ۔ آپ نے پوچھا تھا کہ ”میں آپ کے گھر کب آو ¿ں گا“ تو میں بہت جلد آپ کے گھر آو ¿ں گا۔آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں۔ میںآپ سے شادی کروں گا اور اپنے گھر لے آو ¿ں گا ( میں نے لیلیٰ مجنون فلم دیکھی تھی اس کا ایک شعر یاد آگیا)

      سنگ مرمر سے تراشا ہوا شوخ بدن

      اتنا دل کش ہے کہ اپنا نے کو جی چاہتا ہے ۔

      تم دل لگا کر پڑھا کرو۔ نماز پڑھا کرو ۔دعا کرنا اور خط میں اگر کوئی غلطی ہو تو معاف کردینا۔

                       فقط تمھارا دیوانہ

                       خرم شہزاد

میں نے اس خط کو دوبارہ پڑھاتو خود کو چغدمحسوس کیا۔ بھلا یہ بات پہلے ہی خط میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں تم سے شادی کروں گا ۔پھر خاص بات لکھی ہی نہیں کہ تم جارہی ہو میںتم کو بہت یاد کروںگا، میں نے اس خط کو بھی پھاڑ دیا، میرا دل چاہا کہ میں اپنا گریبان بھی پھاڑدوں۔ کمرے میں موجود ہر چیز کو توڑدوں ، میرا غصہ عروج پرتھا۔ میں نے قلم کو توڑ دیا۔ جتنے ورق تھے سب کو پھاڑ دیا ۔کمرے میں میں اکیلا تھا اپنی چار پائی کو الٹا دیا۔ میرا دل چاہا دیوار وں سے سردے ماروں۔ کتنا نالائق ہوں کہ ایک خط نہیں لکھ سکتا۔ لعنت ہے ایسی تعلیم پر میں نے کتابیں اٹھا اٹھا کر پھیکنا شروع کردیں۔ اور دیواروں پر مُکے مارنے لگا۔میرا رونے کو جی چاہتا تھا۔ دل بھرا ہو ا تھا۔ میرا خون رک رک کر گردش کر رہا تھا۔ اعصاب منجمد سے ہو گئے تھے۔ میںتھک کر چارپائی سیدھی کی بستر بچھایا اور اس پر بیٹھ گیا۔سارے کمرے میں کتابیں بکھری ہوئی تھیں ۔ ان کو اٹھایا ۔ ترتیب سے رکھیں اور خود لیٹ گیا۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔نہ جانے کب تک میں بے چین رہا اور کب مجھے نیندآگئی مجھے نہیں معلوم۔اچھا خاصہ دن چڑھ آیا تھا جب میں نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی جھنجھوڑ رہا ہے ۔میں نے آنکھیں کھول دیں ۔کمرے میں اچھی خاصی روشنی تھی اور رابعہ مجھے جھنجھوڑ رہی تھی۔ میں ایک دم اٹھ بیٹھا ۔ پہلا خیال آیا کہ کلثوم وغیرہ چلے گئے ہوں گے ۔رابعہ سے پوچھا تو اس نے تصدیق کر دی ۔

 ”بھائی آپ سوتے رہے اور وہ چلی گی۔وہ کیا کہتے ہیں ،لگی والیاں نوں نیند نہیں آوندی تیری کیویں اکھ لگ گی ۔“

 میں نے رابعہ کی گت پکڑی ۔”تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا! “

 اس نے ہنس کر کہا ”میں نے سوچا رات آپ جاگتے رہے ہو گے ابھی نیند آئی ہو گی چلو سو لینے دو ۔“ میں نے اس کی گت چھوڑدی ۔

 میرے رگ وپے میں اداسی کی لہر اتر گی۔”میرے پاس آپکی ایک امانت ہے۔“

اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میںشوخی تھی ۔میرا دل دھڑکنے لگا۔میں نے سوچا مجھے لا پرواہی اختیار کرنا چاہیے۔میں نے لاپرواہی سے کہا ۔” کیا ہے ؟۔ اس نے میرا چہرہ غور سے دیکھا ۔میں نے چہرے کو بے تاثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ وہ اٹھ کر گئی اور دونوں ہاتھ پیچھے کیے ہوئے واپس آئی ۔ ”بھائی کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ “

” نہیں ۔ میں نہ تو ٹیلی پتھی جانتا ہوں اور نہ ہی ایسا کوئی اور علم ۔“ان دنوں ایک معروف رسالہ میں محی الدین نواب کی ”دیوتا“ شائع ہو رہی تھی اس کی بڑی دھوم تھی ۔اس نے زیادہ تکرار نہیں کی اور وہ چیز میرے سامنے کر دی وہ ایک خط ہی تھا ۔وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گی ۔

میں نے اسے کھولا لکھاتھا۔

  اسلام علیکم

    پیارے خرم اﷲتعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ۔ مجھے آپ بہت یاد آئیں گے۔ آ پ ہمارے گھر لازمی آنا۔میں آپ کا انتظار کروںگی ۔

 چاندنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں

 دوستی ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں

آپ ضرور ہمارے گھر آنا۔آئیں گے ناں۔ لازمی آنا۔ میرادل چاہتا تھا کہ آپ سے بہت سی باتیں کروں مگر مجھے شرم آتی ہے اس لیے خط لکھ رہی ہوںاور میں آپ کو بتاو ¿ں مجھے آپ سے محبت ہے۔اس کا کسی کو نا بتانا ۔ اس خط کو پڑھ کر پھاڑ دینا ۔اچھا میری طرف سے بہت سی دعائیں۔آپ کی دوست کلثوم ۔

میرا دل چاہا کہ میں ناچنا شروع کر دوں ۔ کتنا سادہ سا، سیدھا سادہ خط تھا۔اور میں ساری رات اسے خط نا لکھ سکا ۔اس سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ ان کے جانے کے وقت سوتا رہا ۔اور جو سوتے ہیں وہ کھوتے ہیں ۔میں نے بھی الوداعی ملاقات کھو دی تھی ۔

٭٭٭

کچھ خواب لاشعوری خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ مثلاََ ایک لڑکی کو دیکھا بڑی سندر ہے ، اس کا گداز بدن ، مرمریں ہاتھ آدمی اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اسے اپنانے اور ملاقات کر نے کے منصوبے بناتا رہتا ہے ۔ وہ لڑکی خوابوں کی رانی بن جاتی ہے۔ایسا ہی میرے ساتھ ہوا۔میں دن کو کھلی آنکھوں سے اور رات کو نیند کی حالت میں کلثوم کے خواب دیکھتا ۔ میں اس سے جی بھر کر باتیں کرتا۔باغوںمیںہم گھومتے ۔انسانی دماغ بھی عجیب ہے جس چیز سے جتنا متاثر ہو تا ہے وہی چیز خیالات پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ پھر وہی خواب بن جاتے ہیں اس بات کو یوں بھی لکھا جاسکتا ہے کہ خواب خواہشات ،ارادوں اور خیالات کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ بات غلط بھی ہو سکتی ہے ۔مگر اتنی بھی غلط نہیں ہے ۔ اکثر خواب خواہشات کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔معروف نفسیات داں فرائیڈے کا سارا فلسفہ یہ ہی ہے ۔ مگر کچھ خواب اس سے ہٹ کر بھی ہوتے ہیںمثلا مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایسے خواب نیک لوگوں کو ہی آتے ہیں ۔خوابوں کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں۔کچھ خواب سچے ہوتے ہیں اور کچھ جھوٹے ہوتے ہیں اس میں انسان کے کردار کو بھی دخل ہوتا ہے ۔اعمال کو بھی اور نیت کو بھی ۔نیت بھی اصل میں سوچ ہوتی ہے ۔لیکن اسے حاوی سوچ کہنا چاہیے ۔جو ہر وقت ،ہر لمحے اندر ہی اندر ،دل ہی دل میں جاری رہتی ہے ۔اب میری سوچوں میں کلثوم جاری ہو گی تھی ۔

زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ گزرتی رہتی ہے۔ صبح آتی ہے گزر جاتی ہے ۔ شام آتی ہے گزر جاتی ہے ۔ایک ایک پل ایک ایک کر کے گزر جاتا ہے ۔ لمحے گھنٹوں میںبدل جاتے ہیں ۔گھنٹوں سے دن بنتے ہیں ۔ دنوں سے ہفتے بن جاتے ہیں۔مہینوں سے سال بن جاتے ہیں ۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا ۔جب والد بیمار ہوئے ۔پہلے تو گاوں کے ڈاکٹر سے دوا لیتے رہے ۔ان کو آرام آجاتا ۔ایک دو دن بعد پھر مرض لوٹ آتا ۔ہر وقت بخار رہتا ۔پہلے پہل تو ہم نے معمولی مرض سمجھا ۔جب ایک ماہ گزرا تو سنجیدگی سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو شہر لے جا کر دکھایا ۔انہوں نے مکمل توجہ سے تفشیش کی اور چند ٹیسٹ لکھ کر دے ۔میں رپورٹ کروا لایا ۔ایک بھیانک انکشاف منتظر تھا ۔والد صاحب کو ٹی بی ،شوگراور معدے میں پتھری تھی ۔ہمارے ہاتھ پاوں پھول گئے ۔ہمیں بتایا گیا کہ لاہور میں علاج ہوگا ۔ہم نے تمام جمع پونچی اکھٹی کی ،کچھ قرض مانگا اور بیس ہزار(اس زمانے میںبیس ہزار کی ویلیوتھی )جمع کر کے میں اور میرا بھائی سعیدوالد کو لے کر لاہور جا پہنچے ۔والدہ کو جب سے والد کی بیماری کا علم ہوا تھا وہ خود بیمار ہو گی تھیں ۔بلکہ یہ کہنا مناسب تھا کہ والد سے زیادہ ان کی حالت خراب ہو گی تھی ۔اس لیے حمید اور رابعہ کو ان کے پاس چھوڑ کر ہم لاہور جا پہنچے ۔یہاں ایک رشتہ دار عتیق صاحب کے ہاں دو دن رہے ۔اور ٹیسٹ کروائے ۔پھر ہسپتال میں ڈیرے لگا دیے ۔تینوں امراض ایسے تھے کہ ڈاکٹر کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی پہلے کس مرض کا علاج کریں ۔سب سے زیادہ تکلیف دہ معدے کی پتھری تھی ۔اس کا آپریشن کروانا تھا ۔گھر سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا تھا ۔محلے میں ایک پی سی او تھا لیکن اس کے نمبر کا علم نہیں تھا ۔میں ایک شام سعید کو ابو کے پاس چھوڑ کر گھر جا پہنچا ۔والدہ کی طبعیت پہلے سے بہتر تھی ۔میں پی سی او کا نمبر لے آیا ۔اب سکون سے آپریشن کروایا جا سکتا تھا ۔چند دن بعد آپریش ہوا جو کہ کامیاب رہا ۔ایک ہفتہ مزید وہاں رہ کر ہم گھر لوٹ آئے ۔ابو کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔کھانا پینا چھوٹ گیا تھا ۔میں ایک ماہ کے بعد کالج گیا ۔امتحانات قریب تھے ۔دن رات ایک کر دیا ۔دو ماہ ایسے ہی گزر گے ۔ہم ہر پندرہ دن بعد لاہور جاتے اور ٹی بی و شوگر کی دوا لے آتے ۔چھ ماہ بعد ابو اچھے خاصے تندرست ہو گے ۔اور دوبارہ کام پر جانے لگے ۔وہ ایک فیکٹری میں منشی تھے ۔ پانچ چھ ماہ بعد کی بات ہے ۔میں امتحانات دے کر فارغ ہو چکا تھا ۔ابھی رزلٹ آنا تھا ۔میں سارا دن دوستو کے ساتھ گزار کر جب واپس شام کو گھر پہنچا ۔ایک لرزا خیز واقعہ میرا منتظر تھا۔ابا جان صبح دس گیارہ بجے فوت ہو گئے تھے۔اور میں شام پانچ بجے پہنچا تھا ۔

 میری ہچکیاں بندھ گئیں۔میرا حق بنتا تھا کہ میں چھوٹے بھائیوں اور بہن و امی کو دلاسا دیتامگر وہ مجھے دلاسا دے رہے تھے ۔محلے اورخاندان کے بہت سے افراد اور خواتین جمع تھیں ۔امی کا حال سب سے برا تھا مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ امی گلے سے لگ گی اور دیر تک روتی رہیں ۔

میں نے بہن کو دیکھااس نے اپنے ہونٹ زور سے بھیجے ہوئے تھے۔ اس کے بال بکھرے بکھرے تھے، اس کی رنگت زرد ہو گی تھی۔

وہ میرے پاس آئی تو میںنے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے۔ہاتھ برف کی طرح سرد تھے۔دوسرے لمحے میںنے چھوڑ دیے ۔وہ میرے سینے سے لگ گئی اور بلک بلک کر رونے لگی ۔میرا سینہ پھٹاجارہاتھا ۔میںبت کا بنا ہوا تھا۔۔ جیسے خود میں جان نہ ہو۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے آنسو ضبط کر سکوں مگر اب بھی نہ روئے گا تو ظالم مرجائے گا ۔میں خود اپنے اختیار میں نہ رہا۔آنکھوں سے سیل رواں ہوگیا وہ دونوں بازوں سے مجھے بھنجے ہوئے تھی۔ میںنے یک دم محسوس کیا جیسے اس کی گرفت کمزور پڑگی ہو۔۔اگر میںاسے تھام نہ لیتا تو وہ گر جاتی ۔۔وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ دو تین عورتوںنے آگے بڑھ کر مجھ سے اسے تھام لیا میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ تب میرا سر چکراسا گیا نزدیک پڑی ہوئی چار پائی پر میں نے خود کو گرا دیا۔ میرا دل زورزور سے دھڑک رہا تھا کسی نے مجھے پانی پلایا ۔ میںنے اسے دیکھا نہیں شائد نظر بھی نہ آتا تھوڑی دیر کے بعد میری طبعیت سنبھلی ۔جنازہ کا اعلان ہوا ۔جان سے پیارے ابا جان کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر ہم قبرستان لے کر گئے ۔یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ۔جیسے ہم کوئی مشین ہوں ۔آج بھی سوچوں تو حیرت ہوتی ہے ۔اتنا حوصلہ کہاں سے آیا تھا مجھ میں ۔میں نے لحد کو خود قبر میں اتارہ ،مٹی ڈالی ،کیسے کس ہمت سے گھر آگیا تھا علم نہیں ۔

ہم غریب گھر سے تعلق رکھتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا کہ مڈل کلاس تھے کہ سفید پوشی کا بھرم بڑی مشکل سے قائم تھا۔میں نے چند دن بعد ہی نوکری کی تلاش شروع کر دی ۔میں بھائیوں کو پڑھانا چاہتا تھا ۔بہن نے تو میٹرک کر کے چولہا سنبھال لیا تھا ۔میں مختلف جگہ پر نوکریاں کرتا رہا ، میرے ماں باپ نے مجھے بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھے تھے ڈاکٹر وغیرہ۔ مگر میں کچھ نہ بن سکا ۔ کچھ بھی نہیں ۔روز گار حاصل کرنا کتنا مشکل ہے یہ تو وہی جانتے ہیں جن کا بے روزگا ری سے واسطہ پڑا ہو۔ ان دنوں لوگ مجھ کو مختلف مشہوروں سے نوازتے تھے۔ ایسے جیسے رزق حاصل کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہو ۔یہ طرز فکر بالکل غلط ہے کہ اس میں انسان کی اپنی دانائی کا عمل دخل ہوتا ہے ،اور جو غریب ہوتے ہیں کیا وہ بے وقوف ہوتے ہیں۔ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ غریب رہیں ۔بے روزگار رہیں ۔عجیب طرز فکر ہے۔اﷲکی مرضی ہوتی ہے ۔اس کی مرضی وہ کسی کو امیر گھر پیدا کر دے کسی کو غریب کے گھر پیدا کر دے ۔اس میں انسان کی اپنی عقل کہاں ہوتی ۔اپنی مرضی کہاں ہوتی ہے ۔اگر انسان اپنی مرضی سے کسی کے گھر پیدا ہو سکتا تو غریب کے گھر کوئی اولاد ہی نہ ہوتی ۔ہاں دکھ ہم خود بھی اپنی غلطیوں سے اٹھاتے ہیں اور کچھ باتیں اﷲکی طرف سے انسان کی آزمائش کے لیے بھی ہوتی ہیں ۔اللہ کسی کو رزق دے کر کسی کو غربت میں رکھ کر آزماتا ہے ۔ اپنی بے روزگار ی کے دنوں میں میرے اپنوں نے مجھ سے جو کچھ کہا۔ وہ سب میرے دل پر نقش ہوتا رہا ۔اس سے میرے اندر ایک آگ سی سلگتی رہتی ۔اس نے مجھے اداس بنا دیا ۔ مجھے بے وقوف ، نادان ، سمجھاگیا۔ذلیل کیا گیا۔ مجھے اس کا شدت سے احساس ہواکہ فی زمانہ یہ بات رائج ہے کہ دولت مند ہی صاحب کردار ہے ۔وہی عقل مند ہے۔ میرا دل کڑھتا رہتا۔انسان کو اللہ نے راستے کا انتخاب دیا ہے ۔میرے سامنے بھی دو راستے تھے ایک سچ کا ایک جھوٹ کا لیکن میں نے سچ کا راستہ چنا ۔ایمانداری کا راستہ چنا ۔اس راستے میں امتحان زیادہ تھے ۔مجھے اس بات کا علم تھا ۔آج ابو نہ رہے تھے کل میں نے نہیں رہنا تھا ۔تو بے ایمانی کیوں کرتا ۔ مجھے مختلف جگہوں پر نوکریاں کرتے ہوئے تین برس گزر گئے ۔ان تین سال میں ارادے باندھتا رہا۔ٹوٹتے رہے۔ وقت گزرتا رہا ۔ مگر میںکلثوم سے ملنے نا جا سکا ۔ کوئی نہ کوئی مجبوری آڑے آتی رہی۔ والد کی وفات پر وہ آئی تھی ۔ابوبکر اور کلثوم دو ہی بہن بھائی تھے ۔اس لیے وہ سب کی لاڈلی بھی تھی ۔سنا تھا اس نے ایف ایس سی کر لی تھی ۔اب بی ایس سی میں داخلہ لے لیا تھا ۔وہ ڈاکٹر بننے جا رہی تھی ابوبکر فوج میں بھرتی ہو گیا تھا ۔اس نے وہاں سے مجھے دو تین خط لکھے جواب نا پا کر اس نے خط لکھنے بند کر دیے ۔ ایک دن محلے کے پی سی او پر فون آیا ۔اطلاع ملی کہ ابو بکر شہید ہو گیا ہے ۔

وہ میرا خالو زاد تھا۔ وہ کلثوم کا بھائی تھا۔وہ میری تایا زاد بشری کا منگیتر تھا۔میرا بہترین دوست تھا ۔بے شک ہمارا ساتھ کم رہا تھا لیکن اس سے میری بڑی حسین یادیں جڑی تھیں ۔وہ میری خالہ کی آنکھوں کا تارا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے ایک دن مر جانا ہے ، مجھ اپنا دم گٹھتا ہوا محسوس ہوا، مجھ پتہ بھی نہ چلا کب میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔امی جان ابوبکر کی تعریف کر رہی تھیں ۔وہ بہت اچھا تھا ۔چپ چاپ رہتا تھا، اس میںعام لڑکوں کی طرح عادتیں نہیں تھیں۔ اﷲاسے جنت الفردوس میں جگہ دے۔امی جان اور میں رات کے دس بجے ان کے گھر فیصل آبادکے ٹاون سلطان آباد جاپہنچے۔

میرے خالو صفدر علی نے مجھے گلے لگایا۔ تو میری ہچکیاں بندہو گئیں۔میں نے کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ ایسے موقع پر عام طور پر گنے چنے جملے جاتے ہیں۔ مرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس کے لواحقین کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ مگر کیا اس سے غم کم ہو جاتا ہے ۔خالہ عائشہ کا حال سب سے برا تھا مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ امی جان نے آنٹی عائشہ کاکندھا تھپکا اور کہا ۔

”سب کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ اپنے وقت پر جاتا ہے آگے نہ پیچھے ایک دن سب کو جانا ہے مجھے بھی تجھے بھی خرم کو بھی ، سب کو۔“

کلثوم کی آنکھیں لبریز تھیں ۔ وہ مجھ سے تھوڑی ہی دور کھڑی تھی ۔ مجھ میں تو ہمت نہ تھی کہ اسے دلاسا دیتا ۔اس نے میری طرف قدم بڑھادیے۔ اس نے اپنے ہونٹ زور سے بھیجے ہوئے تھے۔ وہ پہلے سے لمبی بھی کافی ہو گی تھی اور موٹی بھی۔لباس پر بہت سی شکنیں تھیں ۔

 وہ میرے پاس آئی تو میںنے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے۔اس کا بھائی ،اس کا مان ،اس کا دنیا میں واحد سچا دوست ،اس دنیا سے اٹھ گیا تھا ۔اس کا ٹوٹ جانا ،بکھر جانا حق بنتا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے آنسو ضبط کر سکوں مگر میں خود اپنے اختیار میں نہ رہا۔ غم دینا ،غم جاناں دونوں مل گئے۔اس کی خبر نہیں ہوئی کب وہ میرے گلے سے لگی وہ سسک رہی تھی ۔میری آنکھوں سے سیل رواں ہوگیا۔ وہ دونوں بازوں سے مجھے بھنجے ہوئے تھی ۔میں نے محسوس کیا جیسے اس کی گرفت کمزور پڑگی ہو۔اگر میںاسے تھام نہ لیتا تو وہ گر جاتی ۔وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ دو تین عورتوںنے آگے بڑھ کر مجھ سے اسے تھام لیا ۔

 خالو صفدر کا گھراچھا خاصا بڑا تھا۔ مردانہ ایک طرف تھا اور زنان خانہ ایک طرف ۔ درمیان میں صحن تھا۔چار کمرے تھے ۔ ایک باورچی خانہ تھا ۔ میںاس وقت زنان خانہ میں موجود تھا۔ میرے علاوہ وہاں کوئی بھی مرد نہ تھا۔ میں وہاں سے اٹھ آیا۔جاتی گرمیاں تھیں۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈ ہو رہی تھی یا مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔ میںلان میں پڑی ہوئی ایک چارپائی پر لیٹ گیا۔ بہت سے مہمان پہلے ہی لیٹے ہوئے تھے۔لیکن میںسب سے الگ پڑی ہوئی چار پائی پر لیٹ گیا تھا ۔میرا دل نہیں کرتا تھا کہ کسی سے بات کرو ں۔ مگر جہاں میں لیٹا ہوا تھا وہاں مردوں کی باتوں کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی اور عورتوںکی بھی۔ نہ جانے لوگ اتنی باتیں کیسے کر لیتے ہیں ۔میں موت کے بارے میںسوچ رہا تھا۔ یہ کتنی اٹل حقیقت ہے کہ آدمی نے مر جانا ہے۔ یہ محبتیں ،یہ نفرتیں سب بے کار ہیں ۔یہ دولت کے لیے بھاگ دوڑ، دوسروں کو نیچا دکھانے کی تگ ودو کتنی بے معنی لگتی ہے۔ انسان کتنے خسارے میں ہے۔

انسان ان باتوں کے بارے میں کبھی سوچتا ہی نہیں ہے ۔ایسا کوئی حادثہ ہو جائے تو چند لمحوں کے لیے اسے یہ خیال آتا ہے ۔پھر دنیا کے ہنگاموں میں بھول جاتا ہے ۔مزہ تو تب ہے جب یہ حادثہ زندگی بدل دے۔رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔خاندان بھر سے رشتے دار آئے ہوئے تھے۔میری ساتھ والی چارپائی پر دو آدمی باتیں کر رہے تھے ۔ انکل مجیدجو کہ ایک کالج میں پروفیسر تھے کسی سے باتیں کر رہے تھے۔

”اﷲکی مرضی ہے۔ وہ انسان کو اپنی مرضی سے پیدا کرتا ہے ۔ اس کا دل چاہے تو کسی امیر کے گھر پیدا کر دیے۔ اس کا دل چاہے تو کسی غریب کے گھر پیدا کر دے۔ کسی کو وہ معذور پیدا کردیتا ہے ۔کسی کو گورا کسی کو سانولا کسی کو کالا۔میں نے دیکھا ہے لوگ کالے رنگ سے نفرت کرتے ہیں ۔مگر یہ نہیں سوچتے اس میں اس کا کیا قصو ر ہے۔ جس کا رنگ کالا ہے۔ اس طرح غریبوں کا حال ہے ۔یہ تو اﷲکی مرضی ہے نا ۔لوگ اس بات کو کیوںنہیں سمجھتے۔اب دیکھو اللہ نے صفدر کو سب کچھ دیا۔ لیکن اب کا کیا رہ گیا ۔ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی شہید ہو گیا ۔اب صرف ایک بیٹی رہ گی ہے ۔سنا ہے بیٹے کی منگنی سلطان کی بیٹی سے ہوئی تھی ۔“

میں کھلے آسمان کے نیچے لیٹا ہو ا تھا۔آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ یہ ستارے صدیوں سے چمک رہے ہےں۔انہوں نے زمین پر بہت کچھ دیکھا ہے ۔لوگوں کی خوشیاںدیکھی ہیں۔لوگو ں کے غم دیکھے ہیں۔ دور بہت دور ڈیرہ میںیا شاید اسی گھر میں بشری بھی کہیں ہے ۔اس پر کیا بیت رہی ہو گی ۔ بشری جو کہ میری تایا زاد ،ابوبکر سے اس کی منگنی ہو ئی تھی۔ ابوبکر اس سے بہت محبت کرتا تھا ۔وہ بھی اس کو دیکھتی تو اس کی آنکھوں میں جگنو سے چمک جایا کرتے تھے ۔آج کتنی اداس ہو گی۔ اس کی آنکھوںمیں کتنے آنسو ہوں گے۔ یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔جس دن میں کلثوم کو ملنے آپی رقیہ کی شادی سے دو دن پہلے گیا تھا ۔

 اس دن میںنے ابوبکر سے کہا تھا۔” تم بھی میرے ساتھ چلو ۔“

اس نے میرا ہاتھ پکڑکر دبا دیا تھااور کہا تھا۔

”سمجھا کرو یار ۔ مجھے یہاں ہی رہنے دو ۔“اس کی آواز میں خوشی رچی ہوئی تھی ۔میں نے کہا تھا۔

”میں خالہ جان سے پوچھ لیتا ہوں ۔“اس نے گھور کر دیکھا تھا ۔اور منت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔

” دیکھو امی کے سامنے نہ کہنا۔ ورنہ وہ کہے گی ۔چلے جاو ¿۔ میں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔“

 میں مسکرادیا تھا مجھے علم تھا کہ وہ وہاں کیوں رہنا چاہتا تھا۔ وہاں اس منگتیر جو تھی۔ میں نے پھر ا س سے کچھ نہ کہا تھا۔ اس دن وہ بشری سے دور نہ جانا چاہتا تھا۔ آج وہ کتنی دور چلا گیا تھا۔جس جگہ سے کوئی واپس نہیں آیا ۔ وہ دن جب کلثوم اور بشری نے مٹک مٹک کر ’ ’ لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیا “ پر خوب ڈانس کیا تھا ۔کتنے زندگی سے بھر پور تھے وہ لمحے ۔اور یہ لمحے اس زندگی کے منہ پر تماچا مار رہے تھے۔ ابوبکر سے میرا ساتھ بڑاکم رہا تھا ۔اس نے دس پندرہ خط لکھے تھے ۔میں نے دو یا تین ۔اس نے چند دن میرے ساتھ گزارے تھے ۔میں ان چند دنوں کو یاد کرتا رہا ۔کبھی میرے خیالوں میں کلثوم آ جاتی ۔کبھی سوچ بشری کی طرف چلی جاتی ۔انہی سوچوں میں رات کالی کرتا رہا ۔انکل مجید کی کسی سے بحث جاری تھی ۔اصل میں انکل مجید کچھ خود ہی بہرے تھے اس لیے ہمیشہ بلند آواز میں بات کرتے تھے ۔علم نہیں دوسرے مہمان نے کیا کہا تھا۔ جس کے جواب میں وہ کہہ رہے تھے ۔”اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔جن باتوں کو ہم ظلم سمجھتے ہیں یا نا انصافی ان باتوں بارے اللہ نے قیامت کے دن حساب ہی نہیں لینا ۔مثلا آپ امیر تھے یا غریب یہ سوال نہیں ہو گا۔آپ موچی کے گھر پیدا ہوئے یا بادشاہ کے گھر یہ نہیں پوچھا جائے گا اور نہ ہی اس پر جزا یا سز ا دی جائے گی ۔رنگ گورا یا کالا ہونے پر ،قد بڑا یا چھوٹا ہونے پر کوئی سزا نہیں ہو گی ۔مطلب جو انسان کے اختیار میں نہیں اس کا حساب نہیں ۔اور جو انسان کے اختیار میں ہے اس کا حساب ہوگا ۔ ہاں یہ سوال ہوگا کہ تم نے جس حال میں بھی تھے دوسروں کے لیے کیا کیا ۔دوسری بات یہ کہ جس کے لیے ہم کوشش کریں گے اللہ وہی ہمیں دے گا ۔ہماری کوشش کا صلہ لازمی ملتا ہے ۔کوئی عزت کے لیے کوشش کرے تو اسے عزت ملتی ہے ۔کوئی ذلت کے لیے کوشش کرے تو اسے ذلت ملتی ہے ۔“ایسی ہی کچھ باتیں تھیں جو سونے سے پہلے میرے کانوں میں پڑیں تھیں ۔اس وقت صبح ہونے والی تھی جب میں نیند میں ڈوبتا چلا گیا ۔

  ٭٭٭

علیم عالی میرے تایا زاد نے صبح مجھے اٹھایا ۔میں اٹھنے لگا تو اٹھا نہ گیا ۔اس نے محسوس کیا کہ میری طبیعت خراب ہے ۔میرا ہاتھ پکڑا اور بولا

 ”تم کو تو بخار ہے ۔“ دن چڑھ آیا تھا ۔گھر میں قرآن خوانی ہو رہی تھی ۔آج سوم تھا ابو بکر کا ۔میں اٹھ بیٹھا۔ وہ میرے پاس ہی بیٹھ گیا ۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ ان کے سب گھر والے آئے ہوئے ہیں ۔ہم نے منہ ہاتھ دھویا ۔ناشتہ کیا ۔اورقرآن پڑھنے بیٹھ گئے ۔

یہ زندگی کیا ہے ؟ میری اہمیت کیا ہے؟ پہلے میرے والد اللہ کے پاس جا پہنچے ،آج ابو بکر۔۔۔کل مجھے مر جانا ہے؟ یہ سب لوگ کہاں بھاگ رہے ہیں ،کیسا نفسا نفسی کا دور ہے ،کیا عزت وبے عزت کیا جائیدادو بے گھری ،سب کچھ فضول سا ہے ۔ہم لوگوں کو موت کا خوف نہیںہے اس بات کا علم نہیں کہ ایک دن زمین کے نیچے دفن ہونا ہے حضور اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ”مر جاو ¿ مرنے سے پہلے“ اس کا مطلب کیا ہے۔ اپنی خواہشات کو ختم کرنا۔

تین بجے تک تقریبا جتنے مہمان آئے تھے وہ سب ہی چلے گئے تھے۔ امی جان ،خالہ عائشہ ،خالوصفدر علی ،کلثوم ،علیم عالی ،بشری ،تائی ،تایاسلطان وغیرہ سب نے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔میں نے دیکھا ۔بشری کا پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہونٹ بھنج کر بیٹھنا ۔کلثوم اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔خالو صفدر نے کھوکھلے لہجے میں کہا ۔

”اللہ نے دیا تھا ۔اللہ کی راہ میں وہ شہید ہوا ہے ۔دشمن ملک سے لڑتے ہوئے ،مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے ۔یہ تو ایک بیٹا تھا اللہ نے دس بھی دے ہوتے تو سب ملک و اسلام پر قربان کر دیتا ۔ مرنے والے کے ساتھ کوئی مر نہیںجاتا ۔حقیقت یہ ہے کہ سب نے مرجانا ہے۔پھر کیا غم کیا خوشی ۔بس جب تک زندگی ہے جینا ہے ۔“

 کھانا کھانے کے بعد میں اور علیم عالی ابو بکر کے کمرے میں جا بیٹھے ،اس کی باتیں کرتے رہے ،تھوڑی دیر بعدبشری چائے لے آئی ۔میں اسے دیکھتا رہا ۔اس کا منگیتر نہیں رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی۔ یہ رونے اور راتوں کو جاگنے کی وجہ سے تھی ۔ اس کے کپڑے بھی بدلے ہوئے تھے ، وہ ہمارے پاس ہی بیٹھ گئی ۔ اس نے چائے میز پر رکھ دی تھی ، اور اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔اسی وقت کلثوم بھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے وہاں آ گی ۔

”آپ یہاں بیٹھے ہیں میں نے سارے گھر میں دیکھا۔“

میں نے پوچھا ۔”خیر تھی ۔“ اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا

”ہاں وہ کل آپ سب چلے جائیں گے تو ۔تو گھر کتنا ویران ہو جائے گا۔میں اور امی سارا سارا دن ابوبکر کو یاد کیا کریں گے ۔اب جتنی دیر آپ سب ہیں ۔آپ کے ساتھ وقت گزار لوں ۔پھر کون سا آپ میں سے کسی نے ملنے آنا ہے ۔ “اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ۔

”میں نہیں جاو ¿ں گا۔ میں تمھارے پاس رہوں گا۔مجھے دنیا میں کوئی کام نہیںہے ۔ میں فضول آدمی ہوں ۔میں تمھارے کسی کام تو نہیں آو ¿ں گا ۔بلکہ شاید میں دکھ ہی دوں ۔ میں اکثر دوسروں کو دکھ دیتا رہتا ہوں ۔ میرے پاس وقت بہت ہے ۔ بلکہ ہے ہی وقت صرف ۔“

میر ی آواز میں دکھ تھا ، بے بسی تھی ۔ حالات کا کرب تھا۔ وہ تڑپ گئی۔

”نہیں نہیں ۔میرا مطلب تھا ہمارے ہاں رسم بن گی ہے کہ کسی کی شادی پر جانا ہے یا اس کی فوتگی پر ،اس سے ویسے ملنے نہیں جانا ۔اب بھائی عالی پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہیں ۔میرا بھائی فوت نا ہوتا تو کبھی نہیں آتے ۔اسی طرح آپ نے کتنے وعدے کیے تھے کہ آو گے لیکن نہیں آئے ۔میں نے کتنا انتظار کیا ۔“میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میرے حالات کیسے رہے ہیں لیکن اس نے جلدی سے چائے کے برتن اٹھائے اور چلی گی ۔ہم تینوں اسے دیکھتے رہ گئے ۔دوسرے دن صبح چھ بجے ہم سب اپنے گھر کو روانہ ہوگئے ۔اور بقول کلثوم اس کا گھر ویران ہوگیا ٭٭٭

اس سے اگلے دن کی بات ہے ۔ جس جگہ میں پہلے کام کرتا تھا وہاں گیا تو جواب مل گیا۔ انہوں نے ایک نیا لڑکا کام پر رکھ لیا تھا۔میں چھ دن کے غیب کے بعد آیا تھا۔ انہوں نے کام لینا تھا۔ انہیں کام کی ضرورت تھی۔ بے روزگار وں کی کمی نہیں تھی۔ وہی کام جو میں 12000پر کر رہا تھا۔ اس کام کے لیے انہوںنے 10000 روپے پر لڑکا رکھ لیا تھا ۔میں منہ لٹکا کر آگیا۔جو آدمی ان حالات سے گزرتا ہے وہی اس کرب سے واقف ہوتا ہے ۔جو تن لاگے سو تن جانے۔پھر اس ناقدری اور سبکی کے احساس کو الفاظ میں بیان کرنا تو بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔دن گزرتے رہے اورمیں کٹی پتنگ کی طرح ادھر ادھر اڑتا رہا ۔میرے پاس سفارش نہیں تھی ۔ اور رشوت دینے کے پیسے نہیں تھے ۔ اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کہ ناجائز کام ہو یا جائز کام ہو وہ رشوت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔میرٹ، ایمان داری ، خلوص یہ صرف کتابی باتیں ہےں ۔حقیقی زندگی میں یہ ناکامی کی علامتیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سچ بولنا تو ویسے ہی گناہ ہے ۔

 زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ گزرتی رہتی ہے دکھ آتے ہیں۔ گزر جاتے ہیں۔ خوشی آتی ہے گزر جاتی ہے ۔ دن کے بعد رات ،رات کے بعد دن کسی چیز کو ثبات نہیں ہے۔ وہ لوگ جو اس دنیا کی رونقوں سے منہ موڑ کر جنگلوں صحراو ¿ں میں نکل جاتے ہیں۔ آخر ان پر کوئی تو دنیا کا عرفان ہوتا ہوگا نا ۔ میں نے پڑھاتھا بدھ جن کا اصل نام سدھارت تھا گھر بار سب چھوڑ کر ویرانوں میں نکل گئے تھے ۔ سکون کی تلاش میں۔اسلام میں بھی آقا صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں جا بیٹھے تھے ۔اس میں بات میں کچھ تو چھپا ہے ۔میں ان دنوں سوچا کرتاتھا ۔کیا اس دنیا میں سکون بھی ہے ۔ چند دن کے لیے اس دنیا کو چھوڑ کر کسی غار میں جا بیٹھوں۔لیکن اس پر عمل نا کر سکا ۔میں نے ٹیکسٹائل مل میں کام کیا ۔کاٹن فیکٹری میں ۔ویلڈنگ کی دکان پر،کریانہ سٹور پر،وکیل کا منشی ،اسٹام فروشی کا پھر ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ کا ۔اور ایسے ہی بہتا بہتا اس فیکٹری میں جا پہنچا جہاں ابو جان بطور کلرک یا منشی کے کام کرتے رہے تھے ۔مالک اشرف صاحب اخلاق سے ملے ۔تعارف کے بعد انہوں نے نوکری دے دی ۔زندگی میں ایک ٹھہراو آگیا ۔کیا اس ٹھہراو کا نام سکون ہے تو کچھ سکون میسر آیا ۔وہاں سب ابا جان کے دوست ،ان کے ساتھ کام کرنے والے تھے ۔اس وجہ سے میری کسی نے ٹانگیں نہیں کھینچیں ۔تنخواہ بھی اچھی مل گی پورے18000 روپے ۔میں سائیکل پر جاتا ،معاشی طور پر یا نوکری کی طرف سے سکون میسر آیا تو کئی ایک ادھورے کام یاد آئے ۔بھائی زیر تعلیم تھے ۔ایک نے میٹرک دوسرے نے ایف اے کر لیا تھا ۔بہن گھر میں بیٹھی تھی ۔والدہ اکثر بیمار رہتی تھیں ۔میں نے ان کی ضروریات کی لسٹ بنائی اور رفتہ رفتہ ان کی ضروریات پوری کرنے لگا ۔ایسے حالات میں بھلا کیسے کلثوم کے خواب دیکھتا ۔لیکن رات کو سونے سے پہلے وہ خیالوں میں چلی آتی ۔میں اس سے باتیں کرتا ۔

تایا زاد بھائی کفیل سے ایک دن ملاقات ہوئی اس نے میڑک مجھ سے ایک برس پہلے کیا تھا۔ اور عرصہ چار برس تک ایک میڈیکل سٹور پر کام کرتا رہا تھا اور اب چھ ماہ سے اس نے اپنا میڈیکل سٹور کھول لیا تھا ۔ وہ ایک کامیاب آدمی تھا۔ مجھے کام سے واپسی پر سرِراہ ملا تو میرے ساتھ ہی ہمارے گھر آگیا۔ مجھ سے پوچھا”آج کل کیا کر رہے ہو۔“

میں نے اپنا کام بتایا ۔” یار تم بھی کوئی کام مستقل مزاجی سے نہ کرنا۔ تیرے والد بھی پوری عمر کوئی کام نہ کر سکے ۔ تم بھی ویسے ہی زندگی گزار دو گئے۔“کفیل بھائی سچ کہ رہے تھے۔ مگر مجھے ایسے لگا جیسے کوئی گالی دے رہے ہوں۔ میں نے ضبط کیا اور صرف اتنا کہا۔

” یہ آدمی کے اختیار میں کب ہوتا ہے ۔“اس نے اپنی مثال دی۔”اب اﷲکے فضل سے اپنا میڈیکل سٹور ہے روزانہ 800 روپے کم از کم بچت ہے یہ صرف اور صرف محنت اور مستقل مزاجی اور درست منصوبہ بندی کے وجہ سے ہے ۔“

 وہ چپ ہوئے تو میں کہا ” بھائی مجھ کو تو سمجھ نہیں آتی کیا کروں“

انہوں نے کہا ۔”بس عقل کی بات ہے ۔ اس دنیا میں صرف وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ جن میں عقل ہوتی ہے میری بات کا برا نہ ما ننا ۔تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔یہ بات میں لکھ کر دے دیتا ہوں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ یوگیش کناوا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے