سر ورق / افسانہ / افسانے۔۔ علی زیرک

افسانے۔۔ علی زیرک

غزال اور بھیڑیے

قرنوں پہلے ، کوسوں دور ہرے بھرے جنگل سے لوبان کی خوشبو پھیل کر ریگستان میں دن بھر اونگھنے والے غزال کے نتھنوں تک پہنچی تو اس نے حقارت سے سر جھٹکا اور جنت کے باغوں میں کِھلنے والے پھولوں سے کشید کی گئی متبرک کستوری سے بھرے نافے پر نگاہ کی۔

مغنی کہیں دور بیٹھا ہجر کا حال گا رہا تھا۔ دن بھر ریت میں دبکے پڑے حشرات شام ہوتے ہی باہر نکل آئے تھے۔ اور کی اور میں سرسراہٹ پھیل رہی تھی، ریت کے بڑے ٹیلوں کے اُس پار جہاں سے نخلستان شروع ہوتا ہے ، ساربان   الاوء میں چبائے ہوئے باسی قصے پھینک رہے تھے  اور غزال اپنی جواں بخت مستی کے سبب ہمک رہا تھا ۔ یہ وہی غزال تھا جس پر فرزاد نے اپنی شاہ کار نظم افرینا لکھی تھی اور جس کا قصہ یونانیوں کے اسطورہ سے بھی دل فریب اور مشہورتھا۔

اُس رات چندھیائی ہوئی چاندنی کے اینٹھن سے جکڑے ہوئے جبڑے کچکچا رہے تھےاور دیو پیکر درخت اژدہوں کی طرح لچک رہے تھے لیکن جب تنگ گھاٹیوں کے اُس پار دیودار کے دڑیل جنگل میں آگ بھڑکی تھی تب خانہ بدوش ، گیلی لکڑیوں کی تلاش میں ڈھیر ہوچکے تھے۔پانی دوزانو بیٹھا زمین پر ترچھی لکیریں کھینچ رہا تھا اور زمین اندر ہی اندر دھنستی چلی جارہی تھی ۔اُس رات سیاہ مچھلیوں کے منہ مکمل کھل گئے اور بچھووءں کے ڈنک ان کی آنکھوں میں اُگ رہے تھے۔

بہت سفاک رات تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اسی رات زمین کے رکھوالے  بھیڑیوں نے ریگستان کی طرف منہ کر کے اپنی بقا کا آخری گیت گایا اور سارے میں دھواں پھیل گیا۔

مغرور غزال آج بھی شاعروں کے گیتوں ، غزلوں میں ہمکتا ہے  جب کہ بھیڑیے قصوں کہانیوں میں امر ہوگئے۔

ماچس کی ڈبیا

ماچس کی ڈبیا میں تین من اور سوا سیر آگ بھری پڑی ہے لیکن میں ہوں کہ برف کی چھٹانک بھر  ڈلی کو اپنے سرپر تاج کی طرح سجائے کھڑکی سے باہر جھانک رہا ہوں ۔چھٹانک بھر ڈلی۔۔۔۔ جو کچھ دیر تک رتی ماشوں میں ڈھل جائے گی۔

سہ پہر تک میرے دونوں دوست آجائیں گے اور اُدھڑتے فرش کی شامت آجائے گی لیکن سیڑھیاں سلامت رہیں گی کیوں کہ میرے دوست ہمیشہ چھت سے آتے ہیں ۔

میرے دوستوں میں سے ایک کا چہرہ گرہن لگے سورج کی طرح ہے اور دوسرے دوست کے کانوں سے جھرنے پھوٹتے ہیں ہم تینوں کا ایک مشترکہ دوست بھی ہے جو دور دیس کےصحراوءں میں ریت چھانتا رہتا ہے جس کی بائیں آنکھ سے سرخ انگوری آگ نکلتی ہے جسے شاید اس نے اپنی پسلیوں کی تری سے کشیدکیاہے۔

اس ماچس کی ڈبیا میں مجھ سمیت کئی ایسی چیزیں ہیں جو پہلے یہاں موجود نہیں تھیں یہاں صرف گرد اُڑتی تھی اور گرد بھی ایسی کہ جس  کے خدوخال قدیم تہذیبیں بھی وضع نہیں کرپائیں۔ اب دیکھو کل ملا کر مجھ سمیت چونتیس جمع ایک چیزوں نےڈبیا کو بھر رکھا ہے اور آگ بھی تو ہے جو مسلسل جلتی رہتی ہے اور ہر دوسرے دن ایک نئی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ برسوں سے اس ڈبیا میں موجود میز ، کرسی اور کتابوں میں کسی کو بھی اس مقدس آگ نے نہیں چھوا حالانکہ میں دو ایک بار اس کے سامنے انکار کی آخری حدوں تک بھی پہنچ گیا لیکن مجال ہے کہ اس نے میرے مسام بھی چھوئے ہوں۔

سردیوں میں آگ کا رنگ گہرا سیاہی مائل ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی تو کرنجی آنکھوں سے بہنے والی  مایوسی کا رنگ بھی اس آگ کی لپٹوں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے لیکن سچ کہوں تو میں اس سے ڈرتا نہیں ہوں اور شاید اسی لیے سامنے کھڑکی سے شیشم کی لچکتی شاخیں مجھ سے پرندوں کی غیبت کرنے کے لیے جھانکتی رہتی ہیں ۔پرندے۔۔ جنہوں نے شیشم کی جڑوں میں موکھے بنا رکھے ہیں اور آنے والی بہاروں کو محفوظ کرنے  کے جتن کررہے ہیں ۔

میں یہ تو نہیں جانتا کہ آگ  ہمیشہ اسی طرح  جلتی رہے گی یا کسی رخنے سے آنے والی سبک ہوا  کی بانہوں سے لپٹ کر فرار ہوجائے گی لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ شیشم کی لچکتی شاخیں کھڑکی سے یونہی جھانکتی رہیں گی اور میرے دونوں بدنصیب دوست یونہی چھت سے آکر فرش توڑتے رہیں گے ۔۔۔۔لو وہ آگئے ۔۔۔۔خدا حافظ

*******

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ولن۔۔ علی زیرک

اوئے۔۔۔۔ روہی میں آسمان کے کنگرے توڑتے  گنے کے  کھیت ہیں اورمیرے میں بھربھری مٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے