سر ورق / ناول / درندہ۔۔ قسط نمبر 13۔۔خورشید پیرزادہ

درندہ۔۔ قسط نمبر 13۔۔خورشید پیرزادہ

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 13

رفیق اپنے کیبن میںایک فائل کا مطالعہ کر رہا تھا- بھولونے اندر آکر سلیوٹ کیا-

”کچھ پتہ چلا؟-“

”ہاں سر- 2009 ءمیں اسلم شاہ کے خلاف ایک ایف آئی آر درج ہوئی تھی- ایک دوکاندار نے شکایت درج کروائی تھی کہ اسلم شاہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے چھوٹے بھائی کو کرکٹ بیٹ سے اتنا مارا کہ وہ دم توڑ گیا- بات صرف اتنی سی تھی کہ ان دنوں کرکٹ سیریز چل رہی تھی -اس کا بھائی کہہ رہا تھا کہ پاکستان جیتے گا جبکہ اسلم شاہ نے شرط لگائی تھی کہ انڈیا جیتے گا-

”مجھے یہ سن کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی- جیسا اس کا مزاج ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے-“ رفیق بولا-

”مگر سر بعد میںاس کیس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا- اسلم شاہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا اور ہاں سر اس وقت سب انسپیکٹر وحید ملک اس کیس میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہا تھا-“ بھولو نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا-

”کیا وحید جانتا تھا اسلم شاہ کو؟-“

”شاید—- مجھے اب یاد آرہا ہے کہ وحید صاحب نے اس وقت کے ڈی ایس پی صاحب سے اسلم شاہ کے لئے کافی ریکوئیسٹ کی تھی- اور شاید ڈی ایس پی صاحب کو موٹی رقم بھی دی گئی تھی اس کیس کو ختم کرنے کے لئے-“

”ان دنوں چوہان بھی تویہیں تھا نا؟-“ رفیق نے سوچ کر پوچھا-

”جی ہاں وہ بھی تھے- وہی تو کیس کو ہینڈل کر رہے تھے-“

”تم کیا کہتے ہو- کیا چوہان بھی اسلم اور وحید کے ساتھ ملا ہوا تھا اس وقت؟-“

”نہیں سر- مجھے تو ایسا نہیں لگا تھا- کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ڈی ایس پی صاحب سے سفارش کروانے کی کیا ضرورت تھی- شاید چوہان صاحب پر دباﺅ ڈالا گیا تھا اور اسی دباﺅ میں آکر انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا-“ بھولو نے اپنا تجزیہ پیش کیا-

”ہوں— ٹھیک ہے- تم جاﺅ-“

بھولو کے جانے کے بعد رفیق گہری سوچ میں ڈوب گیا- اور پھر چونک کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا-

٭٭٭٭٭٭٭

اگلی صبح رفیق کو پھر شہلا سے ڈانٹ پڑ رہی تھی-

”یہ کیا حماقت ہے رفیق- کیا تم کسی کے بھی گھر میں گھس کر اسے تھانے اٹھا لاﺅ گے- انہی باتوں سے پولیس بدنام ہوتی ہے-“

”میڈم مجھے شک تھا کہ اسلم شاہ ہی درندہ ہے- اس لئے میں کچھ تفتیش کرنے اس کے گھر گیاتھا- مگر اس نے میری کسی بات کا جواب دینے کی بجائے مجھ پر فائر کھول دیا- اور میڈم اس نے دو لڑکیوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں بھی کہیں غائب کر دی ہیں- اور مشکوک تو وہ پہلے سے ہی تھا کیونکہ اس کے پاس بھی ایک بلیک اسکارپیو ہے-“

”وہ سب ٹھیک ہے- مگر قانون نام کی بھی کوئی چیز ہے یا نہیں- ہمیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ڈیوٹی انجا م دینی ہوتی ہے-“

”تب تو آپ مزید سو سال انتظار کریں میڈم- پھر بھی شاید ہی وہ درندہ ہاتھ آسکے-“

”شٹ اپ – میں کچھ نہیں سننا چاہتی-“

”سوری میڈم-“ ڈانٹ کھا کر حسبِ معمول رفیق کا چہرہ لٹک گیا تھا

”اب تم جا سکتے ہو-“

رفیق کوئی بات کئے بغیر باہر نکلا اور خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے بولا- ”اب میڈم کو کیسے سمجھاﺅں کو مجرموں کو پکڑنے کے لئے ان کی نفسیات کے مطابق ہی حربے آزمانے پڑتے ہیں-“

اس کے بعد کوئی اور کام نہ دیکھ کر رفیق جنگل میںدرندے کی زمین دوز پناہ گاہ کی چھان بین کے لئے نکل گیا-مگر وہاں اب بھی اسے ایسا کوئی سراغ نہیں مل سکا جس سے اس کی تحقیقات کچھ آگے بڑھتی- اس نے اس زیرزمین کمین گاہ کی تعمیر کے سلسلے میں بھی پوچھ تاچھ کی مگر کہیں سے کچھ پتہ نہیں چلا-اس نے اس سلسلے میں تعمیرات سے متعلق ہر محکمے سے معلومات حاصل کیں مگر نتیجہ وہی صفر-

”حیرت ہے- جنگل میں ایسی زیرزمین پناہ گاہ کی تعمیر کس نے کروائی- کب کروائی‘ کیوں کروائی اس کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے- درندے نے واقعی بہت سوچ سمجھ کر اپنا ٹھکانہ بنایا ہے- اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اسلم شاہ ہی درندہ ہے تو مجھے اس کے اردگرد کے لوگوں کے بارے میں انکوائری کرنی چاہئے- اور اس کے لئے مجھے اس کی بیوی سے بھی ملنا ہوگا- مگر— ہاں اس کا نمبر مراد سے مل جائے گا-“

رفیق نے مراد سے نمبر لے کر روبینہ سے رابطہ کیا تو وہ ملنے کے لئے تیار ہوگئی-

”کل گیارہ بجے میں مراد کے آفس جا رہی ہوں- آپ بھی وہیں آجائیں-“ روبینہ نے کہا-

”اوکے تھینک یو بیگم صاحبہ-“ رفیق بولا-

اس کے بعد رفیق نے اپنا ذہن دوڑانا شروع کیا تو اس کے اندر سے آواز آئی کہ ”پورا فوکس اسلم شاہ پر کرنے سے پہلے بلیک اسکارپیو کے باقی دو مالکان کے بارے میں بھی جانچ پڑتا ضروری ہے- روبینہ سے تو کل ہی ملاقات ہوگی- آج یہ کام بھی نمٹا لینا چاہئے- معاملہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ جلد بازی میں اسلم شاہ کو ہی درندہ مان لینا بھول ہوگی- حالانکہ دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مشکوک بھی وہی ہے-“

انہی سوچوں میں رہتے ہوئے رفیق کرنل داﺅد خان کے پہنچا- اس کے گھر کے باہر ہی ایک بلیک اسکارپیو کھڑی تھی- رفیق نے بڑے غور سے اس کا جائزہ لیا-

”کہیں اسی کار میں تو نہیں گھومتا وہ درندہ-“ رفیق کی سوچ نے پھر سے کہا-کار کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد رفیق گھر کے دروازے کی طرف بڑھا اور ڈور بیل بجانے پر ایک بزرگ شخص نے دروازہ کھولا-جو ملازم لگ رہا تھا-

”کیا میں کرنل داﺅد خان سے مل سکتا ہوں-“

”صاحب تو کوئٹہ گئے ہوئے ہیں-“ ملازم نے جواب دیا-

”کب تک لوٹیں گے-“ رفیق نے پھر پوچھا-

”کچھ کہہ نہیں سکتا- مالک لوگ ہیں ان کے آنے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے-“

”آپ کون ہیں ان کے؟-“

”میں اس گھر کا پرانا ملازم ہوں-“

”کیا ایک گلاس پانی مل سکتا ہے-“ رفیق نے کچھ سوچ کر کہا-

”ہاں بالکل- آپ اندر آجائیں- میں ابھی لاتا ہوں-“

رفیق پانی پینے کے لئے ڈرائنگ روم میں آیا تو اس کی نظر دیوار پر لگی ایک پینٹنگ پر اٹک گئی- بہت ہی عجیب پینٹنگ تھی- اس میں گھوڑے کی پیٹھ پر ایک آدمی کا کٹا ہوا سر رکھا تھا-اور آس پاس گھنا جنگل تھا-

”لگتا ہے کسی نفسیاتی مصور نے بنائی ہے یہ تصویر- مگر وہ کون سا مصور ہوسکتا ہے- او رکرنل صاحب نے اسے اپنے ڈرائنگ روم کی زینت کیوں بنا رکھا ہے- اس پینٹنگ کو دیکھ کر ایک عجیب سا احسا س ہو رہا ہے-“

”یہ لیجئے پانی-“

رفیق نے پانی پینے کے بعد گلاس دیتے ہوئے کہا- ”یہ تو بڑی عجیب پینٹنگ ہے بابا-“

”پتہ نہیں یہ تصویر صاحب کو کہاں سے مل گئی- ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کہیں سے خریدی ہو یا خود بنائی ہو- مجھے خود یہ بڑی عجیب سی لگتی ہے-“

”کیا ان کے پاس ایسی عجیب تصویریں اور بھی ہیں؟-“

”نہیں ایسی اور تصویریں تو میں نے نہیں دیکھیں یہاں-“

”ہوں- ویسے آپ کے صاحب کا رویہ کیسا ہے؟-“

”بہت اچھا—- سب کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے ہیں-“ ملازم نے کہا-

”ٹھیک ہے بابا- میں بعد میں مل لوں گا ان سے-“ بابا کو سلام کرکے رفیق باہر آگیا-

”درندہ خود کو فنکار کہتا ہے— اور کرنل صاحب پینٹنگ کا شوق رکھتے ہیں- اور انہوں نے اپنے گھر میں مصوری کا بہت ہی عجیب شاہکار ٹانگ رکھا ہے- کیا کرنل صاحب کو مشکوک سمجھا جاسکتا ہے؟—- گھریلو ملازم کے مطابق ان کا رویہ سب کے ساتھ بہت اچھا ہے- کیا وہ درندہ کوئی ایسا شخص ہوسکتا ہے جس کی معاشرے میں بہت عزت ہو- میرے خیال سے بالکل ہو سکتا ہے- اگر ایسا نہ ہوتا تو اب وہ نقاب لگا کر نہ گھومتا- وحید چلا چلا کر خود کو درندہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر وہ صرف ایک نقال تھا- اسلم شاہ بھی خود کو درندہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے- درندے جیسا شاطر دماغ ایسی غلطیاں کبھی نہیں کر سکتا- اسلم شاہ کے ساتھ ساتھ اب مجھے اس کرنل پر بھی نظر ہوگی- اب بچی چوتھی بلیک اسکارپیو کی مالک سمرن- اس سے بھی مل لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے“

یہی کچھ سوچتا ہواوہ سمرن کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ سمرن اس وقت بینک میں ہے‘ وہ ایک برانچ مینجر تھی- رفیق نے اس کا پتہ لیا اور سمرن کے بینک پہنچنے میں اسے زیادہ دیر نہیں لگی-

جب وہ سمرن کے آفس میں داخل ہوا تو چونک کر بولا- ”ارے تم؟-“

”وہاٹ اے سرپرائز- آﺅ آﺅ بیٹھو-“ سمرن نے کہا-

سمرن اور رفیق ایک دوسرے کو جانتے تھے- نوابشاہ میں ایک شادی کی تقریب میں دونوں کی ملاقات ہوئی تھی- رفیق نے اس وقت سمرن پر ڈورے بھی ڈالے تھے- سمرن تقریباً اس کے جال میں پھنس ہی چکی تھی مگر پتہ نہیں کہاں سے اس کا بھائی آگیا اور رفیق کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی-

”مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ آپ کراچی میں ہیں-“ رفیق نے کہا-

”آٹھ مہینے پہلے ہی آئی ہوں- آپ کیا پولیس میں ہیں-“ سمرن نے اس کی وردی دیکھتے ہوئے کہا-

”جی ہاں- یہ وردی میں نے کسی ڈرامے میں حصہ لینے کے لئے نہیں پہنی-“ رفیق شوخی سے بولا-

”کہئے- اس وقت کیسے آنا ہوا؟-“

”چلئے پہلے کام کی بات کر لیتے ہیں- باقی باتیں تو بعد میں ہوتی ہی رہیں گی-“

”باقی باتیں- کیا مطلب؟-“

”وہ سب بعد میں— پہلے یہ بتائیں کہ کیا آپ کے پاس بلیک اسکارپیو ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں— ہے— کیوں؟-“

”آپ کو ایک نفسیاتی درندے کی جانب سے شہر میں پھیلائی ہوئی دہشت کے بارے میں تو پتہ ہی ہوگا-“

”ہاں بالکل پتہ ہے- میں خود شام ڈھلنے کے بعد گھر سے باہر نہیں جاتی-آفس سے گھر بھی جلدی چلی جاتی ہوں- مگر ان سب باتوں کا میری بلیک اسکارپیو سے کیا تعلق؟-“ سمرن کی حیرت بجا تھی-

”دراصل وہ درندہ بلیک اسکارپیو میں ہی گھومتا ہے-“ رفیق نے وضاحت کی-

”تو کیا میں تمہیں کسی بھی اینگل سے درندہ نظر آتی ہوں-“ سمرن نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”ارے نہیں سمرن- یہ بات نہیں ہے- مجھے پتہ چلا تھا کہ ایک بلیک اسکارپیو آپ کے پاس بھی ہے-مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ وہی خوبصورت سمرن ہیں جو مجھے نوابشاہ میں ملی تھی-“ رفیق دونوں کہنیاں میز پر ٹکاتا ہوا بولا-

”اچھا-“ سمرن نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا-

”جی ہاں- میں نے آپ کو بہت مس کیا- آپ کا نمبر بھی نہیں تھا میرے پاس ورنہ ہماری بات چیت تو ہوتی ہی رہتی-“

”میں جانتی ہوں کہ آپ دل پھینک انسان ہیں- اور میںآپ کو نمبر دیتی تو اس کا مطلب ہوتا کہ میں آپ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوں-“

”پھول بھنورے کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا تو کیا ہوگا— میں تو تم کو دیکھتے ہی تمہارا دیوانہ ہوگیا تھا-“ رفیق نے ٹھیٹھ عاشقانہ انداز میں کہا-

”میرا خیال ہے بعد میں ایک ملاقات رکھ لیتے ہیں- ابھی میں مصروف ہوں- میرا نمبر لکھ لو-“ سمرن نے نرم پڑتے ہوئے کہا-

”لکھنے کی کیا ضرورت ہے- آپ بولتی جائیں- نمبر خود بخود دل کی گہرائی میں اترتا چلا جائے گا-“

”اچھا-“ ایک پروفیشنل عورت ہونے کے باوجود وہ رفیق کی باتوں سے ریجھ گئی اور کچھ شرما گئی-

”تم بالکل بھی نہیں بدلی ہو-آج بھی ویسے ہی شرماتی ہو-“

سمرن کو دفتر کے ماحول کا بھی احساس تھا- وہ رفیق کو ٹوکتے ہوئے بولی- ”پلیز- یہاں ایسی باتیں نہ کریں- ویسے بھی اس وقت میرا دھیان بینک کے کاموں میں الجھا ہوا ہے-“

سمرن نے نمبر بتایا اور رفیق نے اسے اپنے دل و دماغ میں چھاپ لیا-

اب بظاہر کوئی مصروفیت نہ پاکر رفیق دوبارہ تھانے چلا آیا-وہ شہلا سے مل کر اپنی اب تک کی کارگزاری پیش کرنا چاہتا تھا-

”میڈم- کچھ نئی باتیں سامنے آئی ہیں- سوچاآپ سے ڈسکس کرلوں-“

”ہاں بولو کیا بات ہے؟-“ شہلا نے کہا-

”میڈم ایک الجھن اور بڑھ گئی ہے- میں آج کرنل داﺅد خان کے گھر گیا تھا- میں نے ان کے ڈرائنگ روم میں ایک بہت ہی عجیب سی پینٹنگ دیکھی- اب پتہ نہیں بنانے والے کی دماغی رو ہٹی ہوئی تھی یا لگانے والے کی-“ اور اس نے تصویر سے متعلق ساری بات شہلا کے سامنے رکھ دی-

”ہوں— ایک اور بلیک اسکارپیو بھی تو تھی نا- اس کے بارے میں معلوم کیا؟-“

”ہاں میڈم- وہ سمرن کی ملکیت ہے- اس سے بھی مل آیا ہوں میں- اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے- ویسے بھی ہمارا مشکوک شخص ایک مرد ہے جبکہ سمرن ایک خاتون ہے-اور دوسری بات یہ کہ میں اسے بہت پہلے سے جانتا ہوں-“

”تم اسلم شاہ اور داﺅد خان پر کڑی نظر رکھو- درندہ ان دونوں میں سے ہی کوئی ہونا چاہئے-“ شہلا نے اسے لائن آف ڈائریکشن دیتے ہوئے کہا-

”اوکے میڈم-“

رفیق جیسے ہی شہلا کے کمرے سے باہر نکلا اس کا چوہان سے سامنا ہوگیا- رفیق کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں سے جیسے شعلے برسنے لگے-

”کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں- آج تمہاری خیر نہیں-“ یہ کہہ کر چوہان تیزی سے رفیق کی طرف بڑھا- رفیق کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس صورتحال سے کیسے جان چھڑائے- اور اس نے شکر ادا کیا کہ اسی وقت ڈی ایس پی شہلا اپنے کیبن سے باہر نکلی تھی کسی کام سے-

”رفیق – تم میرے ساتھ چلو- ایس پی صاحب نے بلایا ہے— ویسے تو میں اکیلی چلی جاتی مگر ابھی ابھی ان کے آفس سے فون آیا ہے کہ ایس پی صاحب تم سے بھی ملنا چاہتے ہیں-“

رفیق نے سکون بھرا لمبا سانس لیا اور جب وہ چوہان کے پاس سے گزرا تو اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا- ”جاﺅ بیٹا- آج تمہاری خیر نہیں- مجھ سے پہلے ایس پی صاحب تمہاری کھال ادھیڑ دیں گے-“

رفیق نے کچھ کہنا مناسب نہ جانتے ہوئے خاموشی سے باہر جانے میں ہی اپنی عافیت محسوس کی-

اور جیسے کہ دونوں امید کر رہے تھے- ایس پی صاحب نے دل کھول کر شہلا اور رفیق کو ڈانٹ کے بھرپور ڈوز دیئے-

”جنگل میں زیرزمین تعمیر ایک بہت بڑا سراغ ہے- مگر تم دونوں کچھ نہیں کر پا رہے ہو- اس تعمیر کے بارے میں معلومات کرو- اگر تم ایسے ہی بیٹھے رہے تو میری ملازمت بھی خطرے میں پڑجائے گی- اوپر والوں کی پھٹکار تو مجھے ہی سننی پڑی ہے- اس درندے کو پکڑنے کے لئے تمہیں اور کتنا وقت درکار ہوگا- یہ ہی بتا دو-“

”سر ہمیں کچھ اہم سراغ ملے ہیں- ہمیں امید ہے کہ ہم جلد ہی درندے کو پکڑ لیں گے-“ شہلا نے کہا-

”یہ تو اچھی خبر ہے- لیکن مجھے رزلٹ چاہئے- ہمیں زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں وہ درندہ چاہئے- اس کے لئے تمہیں جتنی پولیس فورس کی ضرورت ہوگی مہیا کر دی جائے گی- مگر اس آدمی سے ہماری جان چھڑا دو‘ جو ہمارے پورے ڈپارٹمنٹ پر بھاری پڑ رہا ہے-“ ایس پی نے کہا-

ایس پی صاحب کے کمرے سے باہر نکل کر شہلا بولی- ”اسلم شاہ اور داﺅد خان ہمارے پاس فی الحال یہ دو مہرے ہیں- انہیں اپنی کڑی نگرانی میں رکھو شاید کچھ ہاتھ لگ ہی جائے-“

”اوکے میڈم- میں یہی کر رہا ہوں- میری ہر اہم مہرے پر گہری نظر ہے-“

شہلا تو وہاں سے سیدھی اپنے گھر چلی گئی جبکہ رفیق نے اسلم شاہ اور داﺅد خان کی نگرانی کے لئے دو دو سپاہی مقرر کر دیئے اور انہیں سخت ہدایت تھی وہ پل پل کی خبر دیتے رہیں-رفیق خود بھی گھر جانے کی بجائے شہر کا راﺅنڈ لگا رہا تھا-کافی دیر تک وہ یہاں وہاں گھومتا رہا پھر اس کے دل میں ریما کا خیال آیا اور اس نے موبائل نکال کر ریما کا نمبر ملایا لیکن فوراً کاٹ دیا-

”اف- یہ میں کیا کر رہا ہوں- ریما کا موبائل تو اس کمینے چوہان کے پاس ہوگا- لگتا ہے چوہان نے اس پر سخت پابندیاں لگا دی ہیں- شاید ہمارا یہ افیئر یہیں ختم ہو رہا ہے- یہ بھی کیا زندگی ہے- اچانک ملے اور اچانک بچھر گئے- اپنا خیال رکھنا ریما— چاہے ہم مل نہ پائیں لیکن ہماری دوستی ہمیشہ قائم رہے گی-“

ریما کے خیال سے پیچھا چھڑایا تو سمرن کا سراپا رفیق کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا- ”سمرن کو فون کرکے دیکھتا ہوں- اس کے ساتھ بھی تو کچھ وقت گزارا ہے میں نے چاہے دور دور سے ہی سہی-“

رفیق مسکرایا اور سمرن کا نمبر ملانے لگا- ”ہائے سمرن- سو رہی ہو کیا؟-“

”کون بول رہا ہے؟-“

”ارے میں ہوں رفیق مغل- اتنی جلدی بھول گئیں کیا-“

”اوہ تم- سوری تمہارا نمبر میرے موبائل میں فیڈ نہیں ہے اس لئے پہچان نہیں پائی-“ سمرن نے کہا-

”کوئی بات نہیں ہے سمرن صاحبہ- اب تو پہچان لیا نا- اس وقت کہاں ہو تم؟-“ رفیق نے پوچھا-

”میں اپنے گھر میں ہوں-“

”اکیلی ہو کیا؟-“ رفیق نے شرارت سے پوچھا-

”کیوں؟-“

اگر تم اکیلی ہو تو میں آجاتا ہوں تمہاری تنہائی دور کرنے کے لئے-“

’اچھا-“ سمرن نے لفظ کو کھینچ کر ادا کرتے ہوئے کہا-

”جی ہاں- بولو کیا کہتی ہو- آج ہم اتنے دنوں کے بعد تو ملے ہیں- کیوں نہ ہم دونوں مل کر آج کے دن کو یادگار بنا دیں-“

”یادگار کیسے بنائیں گے- وہ بھی بتا دیں-“

”تم ملو تو سہی- ہماری ملاقات خود بخود یادگار بن جائے گی-“ رفیق نے ہنستے ہوئے کہا-

سمرن مسکرا کر بولی- ”اس وقت تم کہاں ہو؟-“

”میں تو بس یونہی ڈیوٹی کے نام پر آوارہ گردی کر رہا ہوں- جہاں تم کہو گی فوراً پہنچ جاﺅں گا-“

”کیوں آجاﺅ گے- درندے کو نہیں پکڑو گے کیا-“

”اسے تو بالکل پکڑنا ہے- دن رات اس کے پیچھے ایسے خوار رہتا ہوں جیسے مجنوں لیلیٰ کے دیدار کے لئے خوار ہوتا تھا- جب تک وہ نہیں ملتا تب تک اپنی خواری کم کرنا چاہتا ہوں-وہ نہیں سہی تمہیں پکڑ لیتا ہوں-“

”مجھے پکڑ کر کیا کرو گے— جیل میں تو نہیں ڈالو گے نا-“

”ہا ہا ہا— جیل تو نہیں البتہ تم کو پکڑ اپنے دل میں قید کرنے کا ارادہ ضرور ہے- آجاﺅں تم کو اپنے دل میں بند کرنے کے لئے؟-“ رفیق نے پرامید لہجے میں پوچھا-

”آجاﺅ کیا یاد کرو گے-“ سمرن نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا-

بیس منٹ بعد ہی رفیق اس کے گھر کے سامنے پہنچا ہوا تھا- وہاں رفیق نے غور کیا کہ سمرن کے گھر کے باہر بلیک اسکارپیو نہیں تھی- ”ہوسکتا ہے اس نے اپنی کار گیراج میں کھڑی کی ہو-“

یہ سوچتے ہوئے رفیق نے گھر کی بیل بجائی تو سمرن نے دروازہ کھول دیا-

”ہائے سمرن— تمہاری بلیک اسکارپیو نظر نہیں آرہی-“ رفیق نے پہلا سوال یہی کہا-

”چھوڑو بھی- یہاں تم مجھ سے ملنے آئے ہو یا تفتیش کرنے-“

”پولیس والا ہوں نا- اس لئے کوئی نہ کوئی سوال دماغ میں گھومتا ہی رہتا ہے- بتا ﺅ نا- کہاں کھڑی کرتی ہو اپنی کار-“

”حد کرتے ہو- آتے ہی سوال جواب شروع- پہلے اندر تو آجاﺅ-“ سمرن نے جگہ چھوڑتے ہوئے کہا-

نہ جانے کیوں رفیق کا ماتھا کچھ ٹھنک رہا تھا-”ویسے یہ سمرن کچھ زیادہ ہی جلدی مان گئی مجھ سے ملنے کے لئے- اور اتنی جلدی مجھے گھر پر بھی بلا لیا- اتنی کوئیک سروس کا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا- اور اپنی بلیک اسکارپیو کے بار ے میں بھی کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے- کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں-“

”آﺅ نا کیا سوچ رہے ہو؟-“

”نہیں کچھ نہیں- مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ تم نے مجھے اپنے گھر انوائیٹ کیا-“

”پھر جھجھک کیوں رہے ہو- آﺅ نا-“ سمرن نے ایک ظالمانہ مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا-

مگر رفیق کے دماغ میں کئی سوالات سانپ کی طرح پھنکاریں مار رہے تھے- اس کے دماغ میں یہ کیڑا بار بار کاٹ رہا تھا کہ آخر سمرن اپنی کار کے بارے میں بتانے سے کیوں کترا رہی ہے-اب چونکہ ہر سوال کا جواب سمرن سے ہی ملناتھا اس لئے اس نے اپنے دماغ کے تمام سانپوں اور کیڑوں کو تھپک کر ایک طرف کر دیا اور مسکراتا ہوا گھر کے اندر آگیا-

”کیا پیوگے تم- چائے ‘ کافی یا ٹھنڈا-“

”پینے کو تو ہم دودھ پینے آئے تھے- لیکن تمہاری مرضی جو پلا دو-“ رفیق اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا ہوا بولا-

”مجھے لگتا ہے کہ تم بے شرمی کی حد پار کر رہے ہو-“

”تم ہی پوچھ رہی تھیں کیا پیو گے تو میں نے اپنی پسند بتا دی- ا س میں بے شرمی والی کون سی بات ہے-“

”اب تم بچے نہیں ہو کہ دودھ مانگتے پھر رہے ہو-“

”مانگنے کو تو اور بھی بہت کچھ مانگنے کا ارادہ ہے-“ رفیق نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا-

”اچھا-“ سمرن دلبرانہ انداز سے بولی-

”جی ہاں- ویسے تم بہت اچھی لگ رہی ہو اس لباس میں-“

”واقعی میں بہت دل پھینک ہو تم- تم بیٹھو میں چائے لاتی ہوں- فی الحال وہی پی لو-“

رفیق نے آگے بڑھ کر سمرن کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی وہ اس کے ہونٹوں کا رس چرا چکا تھا-

”چھوڑو- یہ کیا کر رہے ہو-“ سمرن خود کو چھڑاتے ہوئے بولی-

”چائے کی کیا ضرورت ہے- مجھے جو پینا ہے خود پی لوں گا-“

”ویسے چائے پینے کے بعد میں کچھ زیادہ ہی ایکسائیٹڈ ہوجاتی ہوں- اب سوچ لو-“ سمرن کی آنکھوں میں بھی شرارت تیر رہی تھی-

”اگر ایسی بات ہے تو میں بھی وہ چائے ضرور پیوں گا- مگر تم چائے میں کچھ اور تو نہیں ملاتی ہو نا-“

”نہیں- چائے بس چائے ہی ہوتی ہے-“

”تو لے آﺅ- انتظار کس بات کا-“ یہ کہتے ہوئے وہ صوفے پر ڈھیر ہوگیا اور سمرن مسکراتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی-

کچھ دیر بعد سمرن نے ایک کپ رفیق کو دیا اور ایک کپ خود لے کر اس کے سامنے بیٹھ گئی-

رفیق کو نہ جانے کیوں سمرن پر کچھ شک سا ہو رہا تھا- وہ صوفے سے اٹھتے بولا-”کیوں نہ ہم اپنے کپ چینچ کرلیں- سنا ہے اس طرح کرنے سے پیار بڑھتا ہے-“

رفیق نے سوچا تھا کہ اگر سمرن نے چائے میں کچھ ملایا ہوگا تو وہ کوئی بہانہ بنا دے گی- مگر سمرن نے چپ چاپ مسکراتے ہوئے کپ تبدیل کر لئے-

”ہوں- اچھی چائے بنائی ہے تم نے- اب دیکھنا یہ ہے کہ چائے پینے کے بعد تم کتنا ایکسائیٹڈہوتی ہو- اور شاید تمہارے ایکسائیٹڈہونے سے میرا بھی کچھ بھلا ہوجائے-“

”ہا ہا ہا- اتنی ایکسائیٹڈ بھی نہیں ہوتی ہوں کہ کسی اور کا بھلا کرنے لگوں-“ سمرن نے ہنستے ہوئے کہا-

”توپھر مجھے اپنا بھلا کرنے کے لئے کیا کرنا ہوگا- ایسا کیا کروں کہ تم متاثر ہوجاﺅ-“

”کوئی فائدہ نہیں- انگور کھٹے ہیں-“

”اتنے حسین باغ کے انگور کھٹے ہوہی نہیں سکتے-“

”تم اچھے پولیس والے نہیں ہو-“

”تعریف کا شکریہ-“ رفیق بھی ہنس پڑا-”تو پھر دیکھنا چاہتی ہو کہ میں کتنا خراب پولیس والا ہوں-“

دونوں کی آنکھیں ملیں اور جلد ہی تن بھی-رفیق طوفان کو انتہا تک لے جاتے ہوئے اچانک رک گیا اور سمرن چونک کر اسے سوالیہ انداز سے دیکھنے لگی-

”اب میرے سوال کا جواب دو-“ رفیق نے کہا-

”ابھی کچھ نہیں—تم مجھے بیچ منجدھار میں نہیں چھوڑ سکتے-“ سمرن نے تڑپ کر کہا-

”ساحل پر پہنچانا میری ذمہ داری ہے- مگر پہلے یہ بتا دو کہ تمہاری بلیک اسکارپیو کہاں ہے-“

”مذاق مت کرو-“

”مذاق بھی ختم کر دوں گا- تم بتاﺅ تو سہی-“

”تو میں یہ سمجھوں کہ تم یہاں مجھ سے ملنے نہیں بلکہ اپنی تفتیش کرنے آئے ہو-“

”ڈیوٹی سب سے اہم ہے— باقی کے کام بعد میں- تم نے بھی تو بینک میں اپنی ڈیوٹی کے دوران مجھے چلے جانے کو کہا تھا نا- مجھے اپنے سوالوں کے جواب چاہئیں- اگر جواب نہیں ملے تو یہ کھیل یہیں ختم-“

”تم میرے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہو— آج تک کسی نے مجھے اس طرح مجبور نہیں کیا-“

”آخر میں بتانے سے اتنا کترا کیوں رہی ہو- جلدی سے بتا دو- میں تمہیں مطمئن کردوں گا-“

”کار میرے بوائے فرینڈ کے پاس ہے- وہ بائی روڈ لاہور لے گیا ہے- کل شام تک لوٹ آئے گا- تمہیں اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں بتانا نہیں چاہتی تھی‘ اس لئے کترا رہی تھی-“

”کیا نام ہے تمہارے بوائے فرینڈ کا؟-“رفیق نے پوچھا-

”تم کو اس سے کیا مطلب ؟— تم صرف مجھ سے مطلب رکھو – اس سے نہیں-“

”مجھے مطلب ہے– شہر میں جس درندے نے دہشت پھیلا رکھی ہے وہ بلیک اسکارپیو میں ہی دیکھا گیا ہے- کیا تمہاری کار اکثر تمہارے بوائے فرینڈ کے پاس رہتی ہے؟-“

”ہاں ہوتی تو ہے— مگر اس بات سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے-“

”تم سے تو واسطہ ہے نا-“

”تو پھر یہ واسطہ مجھ تک ہی محدود رکھو-“

”چلو تم تک ہی محدود کر لیتا ہوں-“

”یعنی اب مزید کوئی سوال تو نہیں کرو گے نا-“

”مجھے میرے کئی سوالوں کے جواب مل گئے ہیں- اب صرف یہی پوچھنا باقی رہ گیا ہے کہ تمہارے بوائے فرینڈ کا نام کیا ہے- بس-“ رفیق نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے پوچھا-

”راجہ نواز نام ہے اس کا- بس اب خوش-“

”بہت زیادہ— کہیں اس کے ساتھ تمہارا لو افیئر تو نہیں چل رہا-“

”پاگل ہوگئے ہو کیا- وہ شادی شدہ ہے اور اگر اس کے ساتھ میرا لو افیئر چل رہا ہوتا تو تمہارا چکر نہ چلتا میرے ساتھ- وہ صرف ٹائم پاس ہے-“

”ٹائم پاس فرینڈ- واہ مان گیا تم کو-“ رفیق ہنس پڑا-

”ہنسو مت-“

”اچھا اب ایک سوال اور-“

”اب کیا ہے— لگتا ہے تم میرا موڈ آف کرکے ہی رہو گے آج-“ سمرن نے منہ بنا کر کہا-

”راجہ نواز کا ایڈریس دے دو-“

”کیا- اس کا ایڈریس کیوں دوں تم کو— تم اس پر شک مت کرو- وہ بہت شریف بندہ ہے یار-“

”شریف بندے ہی کی تو تلاش ہے مجھے- مجھے لگ رہا ہے کہ وہ درندہ بھی کوئی شریف بندہ ہی ہے جس پر ہماری نظر نہیں گئی اب تک- ویسے یہ میرا اندازہ ہی ہے-“

”یار تم جاکر درندے کو پکڑو – یہاں میرا موڈ خراب مت کرو ایسے سوال کرکے- ایڈریس بھی دے دوں گی مرو مت- پہلے مجھے ساحل پر تو لے چلو-“ سمرن نے پیاسے لہجے میں کہا-

”تھینک یو- اور اب آپ کو ساحل پر لے ہی چلتا ہوں-“ ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا- ”اف یہ بے وقت کون تنگ کر رہا ہے-“

رفیق نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو کسی کا ایس ایم ایس تھا- اس نے جیسے ہی وہ ایس ایم ایس پڑھا اس کے ہوش اڑ گئے-

”مسٹر رفیق مغل- میرے ٹھکانے سے بچ کر نکل گئے تم- اس بات کی تو تم کو داد دینی پڑے گی- اور تمہاری ڈی ایس پی صاحبہ بھی پوری پولیس فورس لے کر جنگل میں پہنچ گئی تھی- اگر وہ اس وقت نہ آتی تو میں تمہارا وہ حال کرتا کہ تم سوچنے پر مجبور ہوجاتے کہ تم پیدا ہی کیوں ہوئے- اور اسی بات کی سزا کے طور پر تمہاری ڈی ایس پی صاحبہ اس وقت میرے قبضے میں ہے- اور سزا کے طور پر ہی اسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا – مزے لے لے کر— کچھ کر سکتے ہو اس کے لئے تو کرلو- پھر نہ کہنا کہ تم خبر نہ ہوئی-“

یہ ایس ایم ایس پڑھتے ہی رفیق فوراً اٹھ کر کھڑا ہوگیا-

”کیا ہوا- خیریت تو ہے- تم اچانک اس طرح کھڑے کیوں ہوگئے؟-“ سمرن نے پوچھا-

”میرے محکمے کی بہت قیمتی چیز داﺅ پر لگی ہوئی ہے سمرن- مجھے فوراً جانا ہوگا- لیکن پلیز تم جلدی سے مجھے راجہ نواز کا ایڈریس دے دو-“

”پہلے بتاﺅ تو بات کیا ہے؟-“

”پلیز یار – بعد میں بات کریں گے- ابھی وقت نہیں ہے-“

سمرن سے راجہ نواز کا ایڈریس لے کر رفیق گھر سے باہر نکلا اور کنفرم کرنے کے لئے اس نے شہلا کا نمبر ملایا- مگر دوسری طرف سے اسے درندے کی آواز سنائی دی-

”ہیلو مسٹر مغلِ اعظم— جب تمہاری ڈی ایس پی صاحبہ میرے قبضے میں ہے تو فون بھی میرے پاس ہی ہوگا نا- کیسے بے وقوف پولیس والے ہو تم- اتنی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی—- چلو کوئی بات نہیں- میں خود بھی تمہیں فون کرنے والا تھا- سوچ رہا ہوں کیوں سب سے پہلے ڈی ایس پی صاحبہ کی خوبصورتی اس سے چھین لوں- کیا خیال ہے- وہ بھی تو وردا سے کم خوبصورت نہیں ہے— اف کیا غصہ ہے اس کی آنکھوں میں- بیچاری بہت تلملا رہی ہے- بہت پیاری لگ رہی ہے- ابھی اس کی آنکھوںمیں ڈر نہیں ہے لیکن جب اس کی آنکھوں میں ڈر کی پرچھائیں اتریں گی تو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جائیں گے- ڈی ایس پی صاحبہ بھی ایک آرٹسٹک موت کی حقدار ہیں- اور ایسی انہیں صرف اور صرف میں ہی دے سکتا ہوں-“

”ابے نامرد- خوبصورت موت تو میں تمہیں دوں گا-“ رفیق چلایا-

”ہا ہا ہا ہا— آج پتہ چل جائے گا کہ کون مرد ہے اور کون نامرد- چلو تمہیں ڈی ایس پی صاحبہ کو بچانے کا ایک موقع دیتا ہوں- حالانکہ اسے ہر حال میں میرے ہاتھوں مرنا ہی ہے- ابھی اسی وقت اپنی جیپ سپرہائی وے کی طرف موڑ لو- اس بار پہاڑوں پر مصوری کرنے کا موڈ ہے میرا— جب تم ٹول پلازہ سے آگے آﺅ گے تو نوری آباد سے پہلے ایک کچا راستہ اندر پہاڑوں کی طرف جاتا ہے- تم اسی راستے پر چلے آﺅ- جہاں تمہیں میری بلیک اسکارپیو کھڑی نظر آئے گی وہاں رک جانا- آگے میں خود سنبھال لوں گا- زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش مت کرنا ورنہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کیا کر سکتا ہوں- میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں مسٹر مغلِ اعظم—- اور ہاں کسی کو بھی فون کرنے کی کوشش مت کرنا- خیال رکھنا کہ تمہاری جیپ میں اسپائی کیمرہ لگا ہوا ہے- تمہاری ایک ایک حرکت پر نظر ہے میری- اب تم خاموشی سے ڈرائیو کرتے ہوئے میرے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ جاﺅ- ویسے تمہاری مرضی ہے کہ تم نہ بھی آﺅ— کیونکہ وہ تمہاری لگتی بھی کیا ہے— ایک آفیسر ہی نا جو تمہیں ڈانٹتی ہی رہتی ہے— اگر نہیں آﺅ گے تو اگلے پینتالیس منٹ میں ڈی ایس پی صاحبہ بھی میرے فن کا حصہ بن جائے گی- اور اگر آگئے تو ان کے ساتھ ساتھ تم بھی میرے فن میں شامل ہوکر اسے اور بھی شاندار بنا دو گے- مرضی تمہاری ہے- بتاﺅ میں تمہارے آنے کا انتظار کروں یا ڈی ایس پی صاحبہ پر اپنی فنکاری کے جوہر دکھانا شروع کر دوں-“ درندے نے لمبی چوڑی بات کرتے ہوئے کہا- اس کا کہا ہوا ہر لفظ تیر بن کر رفیق کے دل میں چبھ رہا تھا-

”میں آرہا ہوں کمینے- نامرد کہیں کے- تمہاری ان حرکتوں سے تمہاری بزدلی ظاہر ہوتی ہے- سچ بتانا تمہیں تو اپنے باپ کا بھی پتہ نہیں ہوگا‘ ہیں نا— شاید کسی پڑوسی کی مہربانی کا نتیجہ ہو تم-“ رفیق بہت زیادہ دل جلا ہو رہا تھا-

”تمہیں مارنے میں بہت مزا آئے گا مغلِ اعظم— اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں مغلِ اعظم کہ تمہاری موت کے آصف کی مغلِ اعظم سے بھی زیادہ شاندار ہوگی— اب جلدی سے آجاﺅ دیر مت کرو— میرا خنجر بہت پیاسا ہو رہا ہے— اور اب تمہیں موبائل رکھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے- اس لئے اسے اب پھینک دو- پستول کا بھی کیا کرو گے- اسے بھی پھینک دو–“ درندے نے یہ آخری ہدایت دے کر لائن کاٹ دی-

”اس کمینے نے میری جیپ میں کیمرہ کب لگایا— بہت شاطر ہے-“ رفیق اب سہراب گوٹھ سے آگے نکل آیا تھا- اس نے درندے کی ہدایت کے مطابق موبائل اور پھر کچھ دور جاکر اور پستول بھی پھینک دیا- اور بتائی ہوئی نشانیوں پر غور کرتا ہوا چلنے لگا-

اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے- ہائی وے پر ٹرکوں اور بھاری ٹرالرز کا راج تھا- ان سے آگے نکلتے ہوئے رفیق نے اپنی جیپ کچے راستے پر موڑ لی اور پہاڑیوں کی طرف رخ کر لیا- کافی آگے جانے کے بعد جہاں سے ہائی وے پر چلتی ہوئی گاڑیوں کی روشنیاں بھی نظر نہیں آرہی تھیں- اسے درندے کی بلیک اسکارپیو کھڑی نظر آئی- اس نے اپنی جیپ اس کار کے پیچھے روک لی-

”واہ بھئی واہ- مان گیا تمہاری عقل کو- کار پر کوئی نمبر پلیٹ ہی نہیں ہے شناخت کے لئے-“ رفیق نے درندے کو داد دیتے ہوئے سوچا-

رفیق جیپ سے اترا اور چاروں طرف دیکھنے لگا-

”خوش آمدید مغلِ اعظم— بڑی جلدی پہنچ گئے— تمہاری ہمت کی داد دیتا ہوں میں-“ درندے نے کہا- وہ ایک درخت کے سہارے کھڑا تھا- اور اس کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا-

”تمہاری طرح نامرد نہیں ہوں میں-“

”ہا ہا ہا ہا— رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے— اب تم چپ چاپ میرے ساتھ چلو-“

”پوچھ سکتا ہوں کہ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟-“

”فنکار کو اپنے فن کے جوہر دکھانے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی- آﺅ اب تم کو پہاڑی جنگل کی سیر کراتا ہوں- “ درندے نے غرور سے کہا-

”لگتا ہے تم نے یہاں نیا ٹھکانہ بنالیا ہے-“

”بیکار کی باتیں چھوڑو اور جلدی چلو ورنہ ڈی ایس پی صاحبہ گہری کھائی میں گر جائے گی-“ درندے نے ہنستے ہوئے کہا-

”اب کون سا کھیل کھیل رہے ہو تم-“

”چپ کرکے چلتے رہو- سب پتہ چل جائے گا-“

رفیق چپ چاپ درندے کے آگے آگے چلنے لگا-

”ایک بار اپنا چہرہ تو دکھا دو- اتنا کیوں ڈرتے ہو تم-“

”مسٹر مغلِ اعظم میں کسی سے نہیں ڈرتا– فنکار ہوں میں— خود کو گمنام رکھنا چاہتا ہوں-“ درندے نے پھر اپنی بڑائی جھاڑتے ہوئے کہا-

”اپنے ڈر کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہو تم— گمنام رہنا تو صرف ایک بہانہ ہے-“ رفیق بھی اسے تپانے پر تلا ہوا تھا-

”بند کرو اپنی یہ بکواس— اب ایک لفظ بھی کہا تو بھیجہ اڑا ر رکھ دوں گا-“ اب کے شاید رفیق کی باتوں سے وہ واقعی تپ گیا تھا-

”ہا ہا ہا— مجھے پتہ ہے کہ تم مجھے ابھی نہیں مارو گے— اپنے پلان کے مطابق مارو گے- دیکھتا ہوں تم جیسے ہیجڑے نے میرے لئے کیا پلان بنا رکھا ہے-“ رفیق نے اس کی تضحیک کا ایک اور وار کرتے ہوئے کہا-

”میرا دماغ خراب مت کرو— میں پلان کے بغیر بھی تم کو مار سکتا ہوں-“

”پتہ ہے مجھے— میں جانتا ہوں کہ تم اور کچھ نہیں صرف ایک ذہنی مریض ہو-“

”ذہنی مریض نہیں میں ایک فنکار ہوں— اوہ ہ ہ کتنی بار بتانا پڑے گا-“ درندہ جھلا کر بولا-

”یہ تم مجھے لے کر کہاں جا رہے ہو؟-“

”چلتے رہو- بس پہنچنے ہی والے ہیں- آگے گاڑی نہیں جا سکتی اس لئے تمہیں اتنا پیدل چلنے پر مجبور کر رہا ہوں- اس کے لئے معذرت بھی کرلیتا ہوں- اوکے سوری-“

تھوڑی دیر بعد وہ بولا- ”لو پہنچ گئے اپنی منزل پر-“

”ہر طرف تو اندھیرا ہے- ڈی ایس پی صاحبہ کہاں ہیں؟-“ رفیق نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-ہر طرف گھنی جھاڑیوں اور پہاڑی درختوں کے سائے بھوتوں کی طرح لہرا رہے تھے-

درندے نے ٹارچ جلا کر روشنی ایک طرف پھینکی اور رفیق پھٹی آنکھوں سے اس طرف دیکھنے لگا-

شہلا کے دونوں ہاتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے اور وہ پیڑ کے ایک لمبے تنے کے سہارے لٹکی ہوئی تھی- درندے نے اس کا منہ بھی باندھ رکھا تھا تاکہ وہ آواز نہ نکال سکے- رفیق نے شکر ادا کیا کہ درندے نے اسے برہنہ نہیں کیا تھا- وہ ٹی شرٹ اور جینز پہنے ہوئے تھی-

”اب تم جاﺅ اور ایک اچھے ماتحت کی طرح اپنی آفیسر کو بچالو— اسے کھول کر زمین پر گرا دینا- بس یہی سمپل سی گیم ہے- تم تو خواہ مخواہ گھبرا رہے ہو-“ درندہ ہر لمحے کا مزا لے رہا تھا-”زیادہ پیچیدگی نہیں ہے اس گیم میں – جاﺅ پیڑ پر چڑھ جاﺅ-“

”درندہ کبھی سمپل گیم نہیں کھیلتا— یقینا اس بار بھی اس نے کوئی نہ کوئی پیچیدگی ضرور رکھی ہوگی-“ رفیق نے سوچا-

”کیا سوچ رہے ہو- جاﺅ اور اس کی مدد کرو- کیسے ماتحت ہو تم- ڈرپوک کہیں کے— اب تم نے ایک منٹ کی بھی دیر کی تو میں گولیوں سے اس کے بدن پر چترکاری شروع کر دوں گا-اور ساتھ ساتھ تم کو بھی-“ درندہ چلا کر بولا-

الجھنیں تو تھیں لیکن ان کے باوجود رفیق آگے بڑھنے لگا- اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا- درندہ پینٹنگ بنانے کے لئے کینوس سجا رہا تھا- اور اس کے لئے وہ ایک سرچ لائٹ استعمال کر رہا تھا- مگر شہلا کے صرف چہرے پر ہی ٹارچ کی روشنی پڑ رہی تھی- باقی اس کے آس پاس کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا-شاید چاند کی آخری تاریخیں تھیں اس لئے وہ بھی کہیں سو رہا تھا نیا مہینہ شروع ہونے کے انتظارمیں-

رفیق کو ناچار درخت کی طرف تو بڑھنا ہی تھا- ”ضرور اس نے کوئی خطرناک گیم پلان کر رکھی ہے جو میری سمجھ میں نہیں آرہی ہے-“ رفیق کے دل کے اندر ڈھیر سارے سوالات اٹھ رہے تھے-

ادھر درندہ کینوس پر رنگ بکھیرنے میں مصروف ہوچکا تھا- اس کینوس پر تنے سے لٹکی ہوئی شہلا کی تصویر تو پہلے سے بنی ہوئی تھی- اب وہ اس تنے پر ایک اور پرچھائیں بنا رہا تھا جو شاید رفیق کی تھی-

”یہ ایک لازوال شاہکار ہوگا— ڈی ایس پی صاحبہ اور مغلِ اعظم پیڑ کے مایا جال میں الجھے بہت خوبصورت لگیں گے- ہی ہی ہی-“ درندہ غراتے ہوئے ہنسا-

رفیق بہت زیادہ کنفیوز ہو رہا تھا- اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ درندے کا گیم پلان کیا ہے- ”آخر اس بار یہ کیا کرنا چاہتا ہے- اس جیسا شاطر اور کمینہ انسان اتنی آسان گیم نہیں کھیل سکتا- اس گیم میں کہیں نہ کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے-لیکن کیا ہے وہ جو مجھے سمجھ نہیں آرہی-“ رفیق پیڑ پر چڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا-

”آپ گھبرائیں مت میڈم- میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ نہیں ہوگا- ہاں مر گیا تو کچھ نہیں کہہ سکتا- پتہ نہیں اس بار کیا کھیل کھیلنے کا ارادہ کر رکھا ہے اس کمینے نے-“

شہلا نے رفیق کی بات سنتے ہی اس کی طرف دیکھا اور بری طرح سے مچلنے لگی- وہ رفیق سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر منہ بند ہونے کی وجہ سے وہ بول نہیں پا رہی تھی- لیکن وہ اس طرح مچل کر اور گھوں گھوں کی آوازیں نکال کر جیسے رفیق کو اشاروں میں کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی- رفیق کچھ سمجھا تو نہیں لیکن اتنا ضرور محسوس کیا کہ ڈی ایس پی صاحبہ کچھ کہنا چاہ رہی ہیں-

”مسٹر مغلِ اعظم- بہت ڈھیلے پولیس والے ہو تم- جلدی کرو- دیکھو ڈی ایس پی صاحبہ کیسے تڑپ رہی ہیں- تمہیں ان کا کچھ احساس ہے کہ نہیں- بیچاری بہت دیر سے ایسے ٹنگی ہوئی ہے- کب تک برداشت کرے گی—- عورت ذات ہے- اتنی دیر لٹک کر تو مرد وں کی بھی چیں بول جاتی ہے— بس اب جلدی سے رسی کھول کر انہیں زمین پر گرا دو- میں اسے زمین کی دھول چاٹتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں— اور ہاں تمہارے پاس ان کو اوپر کھینچنے کا آپشن نہیں ہے— انہیں اوپر کھینچنے کی کوشش کی تو دونوں کو گولی مار دوں گا-جیسے میں نے کہا ہے گیم ویسے ہی کھیلوگے تو تم دونوں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا- شاباش-“ درندے نے تیز لہجے میں کہا-

یہ سنتے ہی رفیق کا ماتھا ٹھنکا- ”کہیں یہ کمینہ میڈم کو میرے ہاتھوں مروانا تو نہیں چاہتا- کہیں اس نے زمین پر کچھ ایسا تو جال نہیں بچھایا ہوا کہ گرتے ہی میڈم کی موت واقع ہوجائے- اور اس درندے کے گھناﺅنے فن کی تکمیل ہوجائے-“ یہ سوچتے ہوئے رفیق نے بڑے غور سے نیچے کی طرف دیکھا- اتنا گھپ اندھیرا تھا کہ اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہاتھا-

”اب کیا سوچنے لگے مغلِ اعظم- تم اور کتنا وقت لگاﺅ گے— میں نے کہا نا کہ تمہارے پاس دیر کرنے کا آپشن بھی نہیں ہے-“ درندہ پھر چلا کر بولا-

”یا خدا- میں میڈم کو کیسے نیچے گرا دوں- نیچے تو کچھ نظر بھی نہیں آرہا ہے کہ کیا ہے— اس درندے نے مجھے کس امتحان میں ڈال دیا ہے- میری وجہ سے میڈم کو کچھ ہوگیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کرپاﺅں گا-“ رفیق پھر سوچ میں پڑگیا تھا-

درندہ ریوالور تان کر آگے بڑھا- ”پانچ تک گنوں گا – پانچ تک اسے نیچے نہیں گرایا تو میری گولی سیدھی اس کی کھوپڑی میں راستہ بنا لے گی-اور اسے مارنے کے بعد تمہیں بھی زندہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا- آگے تم خود سمجھدار ہو-“

درندے نے اپنی گنتی شروع کی تو رفیق نے رسی کھولنی شروع کر دی- رسی کھولتے ہوئے اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے- جیسے تیسے اس نے رسی کھول دی مگر اسے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے رکھا-

”مجھے پتہ تھا کہ تم اسے نیچے نہیں گراﺅ گے- یہی میری گیم تھی- ہا ہا ہا-“ درندہ نہایت سنگدلی سے ہنسنے لگا-

یہ سن کر رفیق حیران رہ گیا- ”سالے تم چاہتے کیا ہو- صاف صاف بتا دو-“ شہلا کی موجودگی میں رفیق کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ درندے کو کچھ اچھی اچھی گالیوں سے نوازتا-

”ہا ہا ہاہا- ابھی پتہ چل جائے گا- تھوڑی دیر رکو تو سہی-“ درندے نے کہا- یہ کہہ کر درندے نے موٹر سے چلنے والی آری اٹھائی اور

اور اس تنے پر رکھ دی جس پر رفیق چڑھا تھا-

”میں تم دونوں کا شکرگزار ہوں کہ تم دونوں میرے فن کا حصہ بنے- اب جاﺅ جہنم میں- ہاہا ہا ہا-“

ایک لمحے کے لئے تو رفیق کا ذہن بالکل ماﺅف ہوگیا- اس کی عقل ہی کام نہیں کر رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے-

”چلو اب بتا دیتا ہوں کہ یہ پیڑ کھائی کے بالکل کنارے پر ہے- اور یہ ان پہاڑیوں کی سب سے گہری کھائی ہے- اب تم اس کھائی میں قیامت تک آرام سے پڑے رہو گے- ہا ہا ہا ہا-“

رفیق کے پاس کچھ بھی کہنے یا کرنے کا موقع نہیں تھا- درندے نے آری اسٹارٹ کی اور تنے کو جڑ سے کاٹ دیا- تنا کٹتے ہی اپنے ساتھ رفیق اور شہلا کو لے کر کھائی میں نیچے جانے لگا-

گرتے ہوئے رفیق چلا کر بولا- ”ہم مر رہے ہیں لیکن تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی کمینے-“

”تم سے میرا بدلہ پورا ہوگیا— تم دونوں کو بھیانک مگر بہت خوبصورت موت دی ہے میں نے- اب تم دونوں بھی میرے فن کا حصہ بن گئے ہو- ہی ہی ہی ہی-اور اب وردا کی باری ہے— اس کا تو میں اس سے بھی زیادہ لازوال شاہکار بناﺅں گا- اور تم دونوں کی موت تو ہے ہی شاندار- ہی ہی ہی ہی ہی-“ اندھیری فضا میں درندے کی مکروہ ہنسی گونج رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

وردا گہری نیند میں سے چلا کر اٹھی- ”رفیق-“

آواز اتنی اونچی تھی کہ باہر جیپ میں بیٹھے راجو نے بھی سن لی- وہ دروازے کی طرف بھاگااور بیل بجانے لگا- گھر میں کام والی ماسی رکی ہوئی تھی- دروازہ اسی نے کھولا-

”کیا ہوا- وردا جی چلائی کیوں تھی؟-“ راجو نے گھبرا کر پوچھا-

”مجھے نہیں پتہ- میں بھی ابھی ان کی چیخ سن کر جاگی ہوں-“ ماسی نے کہا-

راجو نے وقت ضائع نہیں کیا اور اوپر وردا کے کمرے کی طرف دوڑا اور اس کے دروازے کو پیٹنے لگا- ”وردا جی کیا ہوا- دروازہ کھولئے-“

وردا بستر سے اٹھی اور کانپتے قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے دروازہ کھول دیا- وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی-

”کیا ہوا وردا جی- آپ چلائی کیوں تھیں-“

”راجو میں نے بہت بھیانک خواب دیکھا ہے- مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے-“ وردا نے سہمی ہوئی آواز میں کہا-

”اوہ- خواب ہی تھا نا- اس میں ڈرنے والی کون سی بات ہے- اچھا کیا دیکھا آپ نے خواب میں؟-“ راجو نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”میں نے دیکھا کہ پولیس اسٹیشن میں ہی درندے نے رفیق کی گردن— اوہ نہیں بتا سکتی میں-“ وہ بتاتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی-

”کوئی بات نہیں- میں سمجھ گیا- آپ گھبرائیں مت- لگتا ہے کالج میں رفیق سر آپ کے اچھے دوست رہے ہیں-“ راجو نے وہ بات پوچھ لی جو بہت دنوں سے اس کے دل میں پل رہی تھی-

”ہاں بہت اچھے دوست تھے ہم- میں رفیق سے بات کرنا چاہتی ہوں- ابھی اسی وقت- کیا اس کا نمبر ہے تمہارے پاس؟-“

”نمبر تو ہے- مگر اس وقت رات کے دو بج رہے ہیں- شاید وہ سو رہے ہوں-“ راجو نے کہا-

”نمبر دو پلیز- مجھے ابھی رفیق سے بات کرنی ہے-“ وردا بہت بے چین ہو رہی تھی-

”کیا آپ رفیق سر سے محبت کرتی ہیں-“ راجو نے درد بھرے لہجے میں پوچھا-

”اوہ کم آن— نمبر دو پلیز— کتنی بار کہوں کہ ہم صرف اچھے دوست تھے- اور تمہیں کیا حق ہے یہ سوال کرنے کا- خود تو دس دس لڑکیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہو اور مجھ سے ایسا سوال پوچھتے ہو-“

راجو نے خاموشی سے رفیق کا نمبر وردا کو دے دیا اور وردا نے فوراً وہ نمبر ڈائل کیا-

”ہیلو رفیق- تھینکس گاڈ کہ تم فون تو اٹھایا-“ وردا بولی-

”اوہ- تو یہ فون کسی رفیق کا ہے؟-“ دوسری جانب سے بولا گیا-

”کون ہو تم؟-“ وردا نے چونک کر پوچھا-

مجھے یہ فون راستے میں ملا تھا- میں نے اٹھا لیا- میں ایک شریف آدمی ہوں- سوچ رہا تھا کہ صبح اسے پولیس اسٹیشن میں جمع کروا دوں گا- آپ اپنا ایڈریس دے دیں میں فون آپ کے گھر پر دے جاﺅں گا-“

یہ سن کر وردا نے نمبر کاٹ دیا-

”کیا ہوا وردا جی-“

”رفیق کا فون کسی اور آدمی کے پاس ہے- کہہ رہا تھا کہ اسے راستے میں ملا تھا- مجھے رفیق کی فکر ہو رہی ہے- کہیں سچ میں درندے نے اسے-“ اس سے آگے وہ بول نہیں پائی-

راجو نے اپنے فون سے رفیق کا نمبر ملایا اور اس آدمی کو وردا کے گھر کا پتہ سمجھا دیا-

”ہے تو بہت عجیب بات- مگر ہوسکتا ہے کہ رفیق سر کا فون غلطی سے راستے میں کہیں گر گیا ہو-“ راجو نے توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا-

”راجو پہلے وہ خواب- اور اب رفیق کا فون راستے میں ملنا- مجھے کسی انہونی کا اندیشہ ہو رہا ہے-“ وردا ابھی بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی-

”گھبرائیں مت اور جا کر سوجائیں- یہ سب اتفاق ہے-“ راجو نے دلاسہ دیا-

”نہیں- میرا دل گھبرا رہا ہے- کہیں نہ کہیں گڑبڑ ضرور ہے-“ الجھن اس کے چہرے سے ہویدا تھی-

”میں میڈم کو فون کرتا ہوں- شاید انہیں کچھ پتہ ہو-“ یہ کہتے ہوئے راجو نے شہلا کا نمبر ملایا-

”ہیلو میڈم میں راجو بول رہا ہوں-“

”ہی ہی ہی ہی— بولتے رہو بیٹا- وہ تو میرے فن کا حصہ بن چکی ہے- ہا ہا ہا ہا— اور اب وردا کی باری ہے- تم اس کے گھر پر ہی ہونا— اسے بتا دو کہ اپنی آنکھوں میں خوف بھر کر میرا انتظار کرے- بہت انتظار کر لیا میں نے-“ دوسری طرف سے درندے کی آواز سن کر اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں-

اسے بہت غصہ آرہا تھا مگر وردا کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا- کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ خوف وردا کی جان نہ لے لے-

”اوہ تھینک یو میڈم- ٹھیک ہے رفیق سر کا فون نہیں مل رہا تھا اس لئے آپ کو زحمت دی-“

”ابے الو کے پٹھے- تمہاری ڈی ایس پی صاحبہ کے ساتھ وہ رفیق مغلِ اعظم بھی میرے فن کا شاہکار نمونہ بن چکا ہے-تم الٹی سیدھی باتیں کیوں کر رہے ہو— میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی یا تمہاری اوپر نیچے ہر طرف کی سٹی گم ہوچکی ہے- ہی ہی ہی ہی-“

”اوکے گڈ نائٹ میڈم-“ راجو نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا-رفیق اور ڈی ایس پی صاحبہ کے بارے میں سن کر اس کی آنکھیں نم ہو چلی تھیں-اس نے فون کاٹ دیا-

”کیا ہوا- تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں- “ وردا نے پوچھ لیا-

راجو ‘ وردا کو سب کچھ بتا کر خوفزدہ کرنا نہیں چاہتا تھا- ”کچھ نہیں- میڈم نے آج پہلی بار اتنی محبت سے بات کی ہے-“

”تمہارا ان کے اوپر بھی دل ہے نا— نکل جاﺅ میرے گھر سے- پتہ نہیں کیسی محبت کرتے ہو تم-“ وردا نے غصے سے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

”کھوں کھوں- آہ-“ وہ کھانستا ہوا اٹھا- منہ سے جیسے خون کی ندی بہہ گئی تھی- اس نے پٹپٹانے کے بعد آنکھیں کھول دیں- اسے ہلکی ہلکی روشنی دکھائی دے رہی تھی-

”لگتا ہے صبح ہوگئی ہے-“ اس نے سوچا اور پھر چونک کر بے چین ہوگیا- ”میڈم— میڈم کہاں ہے؟-“ یہ سوچ کر رفیق نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اٹھ نہیں پایا-

”کھوں کھوں- آہ ہ ہ ہ- رفیق-“ اسے شہلا کی کراہتی ہوئی آواز سنائی دی-

”میڈم- آپ کہاں ہیں؟-“

”تمہارے سر کے بالکل اوپر- اٹھو رفیق اور مجھے ختم کر دو پلیز- آہ ہ ہ ہ -“ شہلا کی آواز میں درد ہی درد تھا-

”یہ- یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں- پلیز ایسے مت کہیں- مجھے معاف کردیں- میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکا-“ اس حالت میں بھی رفیق معذرت کا طلبگار تھا-

”تو اب کر دو میری مدد- مجھے مار دو پلیز- مجھے مار دو-“ شہلا گڑگڑا کر کہنے لگی-

رفیق کی آنکھوں کے سامنے کھائی میں گرنے کا پورا منظر گھوم گیا- اوپر سے گرنے کے بعد وہ دونوں تین بار الگ الگ درختوں میں اٹکے تھے- اس وجہ سے وہ سیدھا نیچے گرنے سے بچ گئے تھے- مگر اب ان کو اپنا بچنا بھی عذاب لگ رہا تھا-

رفیق نے اپنا پورا زور لگا کر ہلکی سی گردن اٹھائی اور اپنے بدن کی حالت دیکھ کر وہ کانپ گیا- اس کے گھٹنے بری طرح چھل گئے تھے جن سے خون رس رہا تھا- اور ایسا ہی حال پورے بدن کا تھا- جسم کا ایک ایک حصہ زخموں سے چور تھا- اس نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی مگر پھر ناکام رہا- کسی طرح سے اس نے کروٹ لی اور سر اٹھا کر شہلا کی طرف دیکھا اور اس کی حالت دیکھ کر وہ رو پڑا- کسی درخت کی شاخ اس کے پیٹ میں دھنسی ہوئی تھی اور وہ درد سے مچل رہی تھی- اب رفیق کی سمجھ میں آیا کہ وہ خود کو ختم کرنے کی بات کیوں کر رہی تھی- وہ اس عذاب سے نجات چاہتی تھی-

رفیق آنکھوں میں آنسو لئے کسی نہ کسی طرح خود کو گھسیٹتا ہوا شہلا کی طرف بڑھا اور اس کے پاس آکر بولا- ”مجھے معاف کر دیں میڈم- میں آپ کو بچا نہیں سکا-“

”رررر رفیق- مجھ سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی ہے- پلیز مجھے اس عذاب سے چھٹکارا دلوا دو-“

”میں یہ گناہ کیسے کر سکتا ہوں میڈم- پلیز آپ یہ سب کرنے کا نہ بولیں-“

”تم سمجھ نہیں رہے ہو- میں کب سے تڑپ رہی ہوں – مگر پتہ نہیں یہ جان کیوں نہیں نکل رہی-“ یہ بول کر وہ رونے لگی-”پتہ نہیں کس گناہ کی سزا ملی ہے مجھے-“

”اے خدا مدد کر-“ رفیق نے دعا مانگ کر اٹھنے کے لئے پورا زور لگا دیا- اٹھتے وقت اسے ایسا لگا جیسے اس کا گھٹنا باہر آجائے گا- درد کی ایک لہر اس کے پورے بدن میں دوڑ گئی- اس نے اپنے دانت بھینچ کر خود کو چیخنے سے روکا- شہلا کی حالت دیکھ کر اس کے نیم مردہ جسم میں کچھ کرنے کا جوش پیدا ہوگیا تھا- اور اسی جوش کو قائم رکھتے ہوئے وہ اٹھ گیا-

”میڈم آپ تھوڑا برداشت کریں- میں آپ کو ہسپتال لے چلتا ہوں— آپ بس مرنے کی باتیں مت کریں پلیز-“ یہ کہتے ہوئے رفیق لڑکھڑا کر پھر گر گیا-

”کیسے لے جاﺅ گے رفیق—- تم تو خودکو بھی نہیں سنبھال پا رہے ہو- مجھے مار کر نکل جاﺅ یہاں سے- میری موت آسان بنا دو پلیز-“ شہلا رہ رہ کر موت کی دعائیں مانگ رہی تھی-

”یہاں سے اکیلے نکلنے کی بجائے میں آپ کے ساتھ ہی مرنا پسند کروں گا-“

”تم پاگل ہوگئے ہو کیا- اچھا مجھے مت مارو- مگر یہاں سے نکل جاﺅ تم- میں تو بس کچھ ہی پل کی مہمان ہوں- مجھ پر وقت برباد مت کرو- جتنا زیادہ خون بہے گا تمہاری زندگی کی امید اتنی ہی کم ہوتی جائے گی-“

”آپ کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا میں-“ رفیق دوبارہ ہمت کرکے کھڑا ہوگیا-

”یہ میرا حکم ہے رفیق- چلے جاﺅ-“

”جاﺅں گا تو آپ کو ساتھ لے کر ہی جاﺅں گا- اس وقت میں آپ کے کسی حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں-“

رفیق نے بڑی مشکلوں سے شہلا کو اپنی گود میں اٹھایا اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہاں چلنے لگا-

”کم سے کم یہ لکڑی تو میرے پیٹ سے نکال دو-“ شہلا کا ضبط اب ختم ہوتا جا رہا تھا-

”نہیں- اسے ابھی نکالا تو آپ کی جان کو خطرہ بڑھ جائے گا-“

”رفیق- ہم کھائی کی گہرائی میں ہیں- یہاں سے کیسے نکلیں گے- مجھے اٹھا کر پہاڑ پر کیسے چڑھو گے- میری بات مانو تم مجھے چھوڑ کر نکل جاﺅ اور تمہیں قسم ہے اس درندے کو زندہ مت چھوڑنا- گولی مار دینا- سیدھی اس کے سر میں-“ شہلا نے کہا- آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ کبھی کبھی قانون کے دائرہ عمل سے باہر نکل کر عمل کرنا ہی واحد حل ہوتا ہے-

”اس درندے کو گولی آپ ہی ماریں گی- اب آپ چپ رہیں- میں جیسے بھی ہو آپ کو ہسپتال تک ضرور پہنچاﺅں گا-“

رفیق ہمت کرکے شہلا کو اپنی گود میں اٹھا کر ایک ایک قدم آگے بڑھ رہا تھا مگر جلد ہی اسے احسا س ہوگیا کہ وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کی کوشش کر رہا ہے- کھائی کے چاروں طرف اٹھی ہوئی پہاڑیاں تھیں- اور شہلا کو گود میں اٹھا کر ان پر چڑھنا ناممکن تھا- جبکہ شہلا مسلسل درد سے تڑپ رہی تھی اور رفیق کو میڈم کی موت نزدیک نظر آرہی تھی- وہ اتنا مایوس ہوا کہ رو پڑا-

”اے خدا میں کیا کروں—- مجھے کوئی راستہ دکھا— میں کیسے اور کہاں سے میڈم کو ہسپتال لے جاﺅں- اے خدا میری مدد فرما-“ رفیق نے آسمان کی طرف دیکھ کر فریاد کی-

شہلا نے آنکھیں کھول کر رفیق کی طرف دیکھا اور وہ بھی رو پڑی- اگرچہ وہ بہت باہمت خاتون تھی اور چھوٹی موٹی تکلیفیں اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں مگر جس صورتحال سے اس وقت وہ دوچار تھی وہ تو کسی ہاتھی کو بھی چت کر سکتی تھی- اس نے رفیق کے گال پر ہاتھ پھیرا اور بولی- ”رفیق ایک ہی راستہ ہے جانے کا- جسے تم دیکھ کر بھی نظرانداز کر رہے ہو- کیوں ڈھو رہے ہو میرا بوجھ- کسی بھی وقت مرنے والی ہوں میں- تم بلاوجہ اپنا وقت اور طاقت ضائع کر رہے ہو- بالکل لاحاصل— کیا اپنی میڈم کی بات نہیں مانو گے- پلیز- مجھے میرے حال پر چھوڑ دو- اور نکل جاﺅ یہاں سے – اپنی جان بچا لو— تمہیں بھی طبی امداد کی سخت ضرورت ہے- جاﺅ رفیق اس درندے کو گولی بھی تم نے ہی مارنی ہے— میں تمہاری باس ہوں- اور تم کو میری بات ماننی پڑے گی-“

”پلیز آپ چپ ہوجائیں—- باس ہیں تو کیا کچھ بھی حکم دے دیں گے- میں نے کہہ دیا نا کہ آپ کے بغیر یہاں سے نہیں جاﺅں گا- آپ کو کچھ ہوگیا تو خود کو کیسے معاف کرپاﺅں گا میں- اب تم بالکل چپ رہو- زیادہ بولنا تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے- — اب میری بھی سن لیں- اگر تم نے ایک لفظ بھی نکالا تو میں باس کا رشتہ بھول کر تھپڑ مار دوں گا تم کو-“ رفیق نے غصے میں میڈم کو ہی ڈانٹ دیا-

 ”باس کو ڈانٹ رہے ہو- آپ سے تم پر آگئے- اور تھپڑ کیوں مارو گے تم- اپنی حد میں رہو- آہ ہ ہ ہ-“ شہلا پھر درد سے کراہنے لگی-

”دوبارہ ایسی بیہودہ بات کی تو تھپڑ ضرور پڑے گا- تم خود کو سمجھتی کیا ہو- ہر وقت تمہاری ہی بات مانی جائے گی کیا-“

”رفیق پلیز- میں تمہارے ہی بھلے کے لئے کہہ رہی ہوں- یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے- اور مجھے اٹھا کر تو تم کبھی یہاں سے نہیں نکل سکو گے- میری بات مان لو- مجھے یہیں چھوڑ دو-“

”میں نے کہا نا کہ میں اکیلا یہاں سے نہیں جاﺅں گا- یہاں سے ہم ساتھ ہی جائیں گے- اور اگر نہ جا پائے تو ساتھ ہی مریں گے- یہ میرا آخری فیصلہ ہے-“ رفیق نے دوٹوک لہجے میں کہا-

”میں تمہاری لگتی ہی کیا ہوں جو تم ایسی بات کر رہے ہو؟-“ شہلا نے پوچھا-

”انسانیت کا رشتہ ہے آپ سے— اتنا ہی کافی ہے میرے لئے- اب آپ چپ ہوجائیں -“

”اوہ رفیق تم سمجھتے کیوں نہیں ہو- آہ ہ ہ ہ-“

ِ”کہتے ہیں نا کہ جہاں چاہ وہاں راہ- کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا- ویسے درندے نے آپ کو کیسے اغواءکرلیا-“ رفیق نے درد سے اس کی توجہ ہٹانے کی غرض سے کہا-

”ڈیوٹی کے بعد روز جم جاتی ہوں- کل اکیلی ہی نکل گئی اپنی کار میں- جب جم سے واپس اپنی کار کی طرف آرہی تھی تو اس نے پیچھے سے مجھے پکڑ کر کچھ سنگھا دیا- پارکنگ میں شاید کوئی نہیں تھا اس لئے کسی نے یہ واردات ہوتے نہیں دیکھی- آنکھ کھلی تو خود کو پیڑ سے ٹنگا ہوا پایا- اس نے مجھے اپنی ساری گیم بتا دی تھی اور میرے سامنے ہی اس نے تم سے فون پر بات کی تھی- مجھے یقین تھا کہ تم جان بوجھ کر موت کے منہ میں نہیں آﺅ گے- مگر تم آگئے- اور نتیجہ دیکھ لو-“

”آتا کیوں نہیں- آپ میری باس ہیں-“ رفیق نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا-

”واہ- میں پھر سے باس بن گئی اور تم سے آپ بھی ہوگئی- واہ- آہ ہ ہ ہ-“

”آپ کم بولیں تو اچھا ہے- اور مجھ پر یقین رکھیں میں کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لوں گا-“

”رفیق وہ درندہ اپنے شکار کی پینٹنگ بناتا ہے- اس نے وہاں سارا انتظام کرکے رکھا تھا- وہ بہت ہی شاطر دماغ ہے- ہماری سوچ سے بھی زیادہ-“

”اب زیادہ دنوں تک نہیں بچے گا- اس کی ساری شاطری نکال کر رکھ دوں گا میں- اب مجھے سب سے زیادہ کرنل داﺅد خان پر شک ہو رہا ہے- اسے مصوری کا شوق ہے اور اس کے گھر میں بہت عجیب سی پینٹنگ بھی دیکھی تھی میں نے- ویسی پینٹنگ کوئی نفسیاتی اور ذہنی مریض ہی بنا سکتا ہے-“

”اس درندے کو چھوڑنا مت- تڑپا تڑپا کر مارنا اسے-“

”آپ اپنی آنکھوں سے اسے مرتا ہوا دیکھیں گی- دوبارہ مایوسی کی باتیں مت کریں-ورنہ اب سچ میں تھپڑ لگے گا-“

”سوری رفیق-“ شہلا نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا-

”ہا ہا ہا- میری باس نے مجھے سوری کہا- واہ-“

”بعد میں ساری کسر نکال لوں گی تمہاری ان باتوں کی- ایک بار ہسپتال پہنچنے دو مجھے-“

”جی بھر کے دیکھ لینا- ہسپتال تو آپ ہر حال میں پہنچیں گی-“ رفیق نے اسے امید دلاتے ہوئے کہا-

رفیق دل میں امید کی کرن لئے شہلا کو گود میں اٹھائے آگے بڑھتا رہا- شہلا نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں اور خود کو قسمت کے سہارے پر چھوڑ دیا تھا-

”کیا آپ سو گئیں-“ رفیق نے پوچھا-

”سر چکرا رہا ہے- بہت کمزوری محسوس ہونے لگی ہے- بس یونہی آنکھیں بند کر رکھی ہیں- پورا جسم درد سے پھٹا جا رہا ہے- ایسی حالت میںکون سو سکتا ہے-“ شہلا بولی-

”ہاں یہ تو ہے— میرا بھی انگ انگ دکھ رہا ہے- رات کو نیچے گرنے کے بعد تو شاید ہم بے ہوش ہوگئے تھے- میری تو صبح ہی آنکھ کھلی ہے-“

”میری آنکھ بھی صبح کو ہی کھلی- اور آنکھ کھولتے ہی درد کی اتنی ٹیسیں اٹھیں کہ سوچا کاش آنکھ نہ ہی کھلتی تو اچھا تھا-

”بس اب چپ ہوجائیں— اور مجھے راستہ ڈھونڈنے دیں-“ رفیق بولا-

وہ تقریباً ایک گھنٹے تک شہلا کو اٹھائے آگے بڑھتا رہا- اس کے قدم بہت آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے- ا س کا اپنا ایک گھٹنا بری طرح سے زخمی تھا- اچانک اس نے دور ایک بھیڑ کو چرتے ہوئے دیکھا-

”یہ تو پالتو بھیڑ لگتی ہے- ضرور آس پاس پورا ریوڑ ہوگا اور ساتھ میں چرواہابھی ہوگا-“ یہ سوچتے ہی رفیق کے قدم کچھ اور تیزی سے اس طرف اٹھنے لگے-

اس کا اندازہ صحیح نکلا- جب وہ کچھ آگے بڑھا تو اسے پورا ریوڑ دکھائی دیا مگر کوئی چرواہا نظر نہیں آرہا تھا-

”یہ بھیڑیں کس کی ہیں-“ رفیق نے پوری طاقت سے چلا کر کہا-

رفیق کی آواز سن کر شہلا نے بھی چونک کر آنکھیں کھول دیں اور سر گھما کر دیکھنے لگی-

”اگر یہاں بھیڑیں ہیں تو کوئی راستہ بھی ضرور ہوگا-“ شہلا بولی-

”وہی میں بھی سوچ رہا ہوں- چرواہا ملے گا تب ہی بات بنے گی-“ رفیق نے دوبارہ آواز لگائی-

ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا بھاگتا ہوا رفیق کے پاس آیا-

”ہمیں فوراً ہسپتال پہنچنا ہے- جلدی سے سڑک تک جانے کا راستہ بتاﺅ-“ رفیق نے لڑکے سے کہا-

”اوہ خدا— ان کو کیا ہوا-“ لڑکے نے شہلا کو دیکھ کر پوچھا-

”جلدی سے راستہ بتاﺅ- ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے-“

”مگر میں اپنی بھیڑیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا- مالک مارے گا مجھ کو-“ لڑکے نے کہا-

”تمہارے مالک کو میں سمجھا دوں گا- تم راستہ بتاﺅ- ان کا وقت پر ہسپتال پہنچنا بہت ضروری ہے-“

لڑکے نے اسے اشارے سے اپنے پیچھے پیچھے آنے کو کہا اور آگے چلنے لگا- کہیں کہیں ہلکی چڑھائی بھی تھی جہاں رفیق بہت مشکلوں سے چڑھ پایا- ایک چڑھائی پر اس کا پاﺅں پھسلا اور شہلا کے پیٹ میں دھنسی ہوئی شاخ رفیق کے ماتھے سے ٹکرائی جس سے شہلا کراہ اٹھی-

”سوری میڈم- تھوڑا پاﺅں پھسل گیا تھا-“

”کوئی بات نہیں- تم میرے لئے اتنا کچھ کر رہے ہو تو تمہاری وجہ سے بھی تھوڑا درد سہہ سکتی ہوں-“ شہلا نے پپڑی جمے ہونٹوں سے مسکراتے ہوئے کہا-

”مجھے معلو م ہے کہ بعد میں اس سب کی سزا بھی مجھے ہی ملے گی-“ رفیق نے ہنستے ہوئے کہا-

”ہاں- وہ تو ملنی ہی ہے-“ شہلا نے بھی ہنسنے کی کوشش کی-

مزید ایک گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد وہ لڑکا رفیق کو سڑک تک لے آیا- سڑک کو دور سے دیکھتے ہی رفیق کی آنکھوں میں چمک آگئی-

”شکریہ بھائی- تمہارا نام کیاہے؟-“

”اﷲ ڈنو-“ لڑکے نے جواب دیا-

”تم سچ میں ہمارے لئے اﷲ کا دیا ہوا رہنما ثابت ہوئے ہو- بعد میں تم سے ضرور ملوں گا- کہاں ملو گے تم-“ رفیق نے ممنویت بھرے لہجے میں کہا-

”میں روزانہ یہیں بھیڑیں چراتا ہوں-“ اور لڑکے نے پہاڑوں کے پیچھے اپنے گاﺅں کا بھی پتہ دیا-

”ٹھیک ہے- اب تم جاﺅ-“ رفیق نے لڑکے کو واپس بھیج دیا-یہ ہائی وے تو نہیں تھی بلکہ ہائی وے جانی والی لنک روڈ تھی-

تھوڑی دیر میں رفیق سڑک کے کنارے آگیا اور اس نے آرام سے شہلا کو زمین پر لٹا تے ہوئے کہا- ”میں کسی گاڑی کو روکتا ہوں-“

پانچ منٹ بعد رفیق کو ایک پرانے ماڈل کی جیپ آتی دکھائی دی اور رفیق نے بیچ سڑک پر آکے اسے رکنے پر مجبور کر دیا-

”کیا مسئلہ ہے بابا-“ ڈرائیور نے چلا کر بولا-

”ہمیں لفٹ چاہئے- ایمرجنسی ہے- مجھے ہسپتال پہنچنا ہے- جلد سے جلد-“

”کہیں دارو پی کر گر گئے تھے کیا- کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی- آﺅ بیٹھ جاﺅ-“ ڈرائیور نے کہا-

ِِ”تھوڑا رکو-“ رفیق نے کہا اور شہلا کو اٹھالایا-

”سائیں -کیا ہوا ان کو؟-“

”لمبی کہانی ہے— تم جلدی سے گاڑی چلاﺅ-“ رفیق ‘ شہلا کو لے کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا-

”میڈم- میڈم-“ رفیق نے کہا-

مگر شہلا نے کوئی جواب نہیں دیا-”لگتا ہے بے ہوش ہوگئی ہیں- خون بھی تو بہت بہہ گیا ہے- بے ہوش ہونا تو لازمی تھا-“ رفیق نے سوچا-

چالیس منٹ کے بعد ان کی جیپ کراچی کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی- اور جیپ والے نے ایک پرائیویٹ ہسپتال کے سامنے جیپ روک دی-

”یہ اچھا ہسپتال ہے- ان کو لے جاﺅ- اﷲ سب اچھا کرے گا-“ ڈرائیور بولا-

رفیق نے شہلا کو اپنی گود میں لیا اور ہسپتال میں داخل ہوگیا- او ر اس کی حالت دیکھتے ہوئے فوراً آپریشن تھیٹر میں بھیج دیا گیا-

”شکر ہے آپ نے یہ لکڑی باہر نہیں نکالی- ورنہ ان کا بچنا مشکل ہوجاتا-“ ڈاکٹر نے کہا- ”آپ کی حالت بھی بہت خراب ہو رہی ہے-“

اور ڈاکٹر کی ہدایت پر رفیق کو بھی ایڈمٹ کر لیا گیا-

بینڈیج وغیرہ ہونے کے بعد رفیق کو خون کی بوتل لگا دی گئی- اور بستر پر لیٹے لیٹے ہی رفیق نے ڈاکٹر سے موبائل لے کر تھانے فون کیا- دوسری طرف چوہان نے ریسیو کیا- اور رفیق نے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا-

”اچھا ہوا کہ تم بچ گئے- تم کو تو میرے ہاتھوں مرنا ہے-“ چوہان بڑبڑایا-

”سر آپ میڈم کی حفاظت کا انتظام کریں- اور ہاں آپ کے پاس ریاض حسین کا نمبر ہو تو وہ بھی مجھے دیں-“ رفیق نے کہا-

چوہان نے راجو کا نمبر رفیق کو لکھوا دیا-اس کے بعد رفیق نے راجو کو فون ملایا-

”ریاض حسین- میں رفیق بول رہا ہوں-“

”سر آپ-“ راجو جو رفیق اور شہلا کو مردہ سمجھ بیٹھا تھا خوشی سے چونک کر بولا -”مگر وہ درندہ تو کہہ رہا تھا کہ اس نے آپ کو اور میڈم کو-“

”اس کے بولنے سے کیا ہوتا ہے- سالے کو چھوڑیں گے نہیں ہم- میں ٹھیک ہوں- مگر میڈم کی حالت بہت نازک ہے- ان کا آپریشن چل رہا ہے— اور وہاں تو سب ٹھیک ہے نا؟-“

”ہاں سر – سب ٹھیک ہے- آپ یہاں کی فکر نہ کریں- بس اپنا خیال رکھیں-“ رفیق سے بات کرنے کے بعد راجو نے وردا کو ساری بات بتا دی- کیونکہ اب ایسی کوئی بات نہیں تھی ڈرنے والی-

”تو رات کو تم مجھ سے جھوٹ بول رہے تھے- کیا ضرورت تھی ایسا کرنے کی-“ وردا نے پوچھا-

” آپ پہلے ہی خواب کی وجہ سے ڈری ہوئی تھیں-میں آپ کو اور زیادہ پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا-

”میں رفیق نے ملنا چاہتی ہوں- اس کی عیادت کرنا چاہتی ہوں-“ وردا بولی-

”ویسے تو آپ کے وہاں جانے میں خطرہ ہے‘ لیکن آپ کی بات بھی نہیں ٹال سکتا- چلیں چلتے ہیں- مجھے بھی رفیق سر اور میڈم کی خیریت دریافت کرنی ہے-“

راجو نے دو گن مین اپنے ساتھ لئے اور وردا کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگیا-راجو خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا اور وردا بھی کچھ بولنے کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھی-

جب وہ ہستپال میں رفیق کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہ آنکھیں بند کئے لیٹا ہو اتھا-

”ہیلو رفیق کیسے ہو؟-“ وردا بولی-

وردا کی آواز سن کی رفیق نے چونک کر آنکھ کھولی- ”او ہ وردا تم— یہ تو سرپرائز ہے میرے لئے— مگر تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا-“ رفیق نے وسوسے ا ظہار کرتے ہوئے کہا-

”سوری- میر ابرتاﺅ تمہارے ساتھ اچھا نہیں تھا-“

”آپ دونوں باتیں کریں- میں باہر انتظار کر رہا ہوں-“ یہ بولتے ہوئے راجو باہر نکل گیا-

”کوئی بات نہیں- شاید قسمت میں ہمارا ملن تھا ہی نہیں-“ رفیق نے کہا-

”ہاں شاید— مگر تمہاری دوستی ہمیشہ مجھے یاد رہے گی— آج بھی جب میں وہ کتاب پڑھتی ہوں تو تمہاری صورت آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے- دوستی کا ایک اچھا روپ دیکھا تھا ہم نے مگر پھر نہ جانے کیوں سب بکھر کر رہ گیا-“ وردا کے لہجے میں افسوس تھا-

”اور یہ بات یاد رکھنا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود میں اب بھی تمہارا وہی پرانا دوست ہوں اور رہوں گا-“ رفیق نے دل سے کہا-

”اس دن تم کینٹین میں کیا کہنا چاہتے تھے جب شوکی نے آکر ہمیں پریشان کر دیا تھا-“ وردا نے اس دن کی بات پوچھ لی-

”تم اب وہ سب کیوں جاننا چاہتی ہو- جو تھا سب بکھر چکا ہے- کاش تم نے مجھے ایک موقع دیا ہوتا اپنی سچائی ثابت کرنے کا-“ رفیق نے شکایت کے انداز میں کہا-

”تم کو چاہنے لگی تھی- تم سے محبت ہوگئی تھی مجھے— مجھے یہ جان کر بہت دکھ پہنچا تھا کہ تم نے وہ سب صرف ایک شرط جیتنے کے لئے کیا تھا-“

”زندگی کے سفر میں لوگ کسی نہ کسی بہانے سے ہی ایک دوسرے سے ملتے ہیں- ہم بھی ایک شرط کے بہانے ہی دوست بنے تھے- اور اب تو یہ تم بھی مانتی ہو کہ ہماری دوستی محبت میں بدل گئی تھی- مگر تم نے کتنی آسانی سے اس ان کہی محبت کو ختم کر دیا تھا-اور نہ ہی مجھے موقع دیا کہ میں اپنی سب باتوں کی وضاحت کر سکتا- خیر چھوڑو- اب ان سب باتوں کو دوہرانے کا فائدہ بھی کیا ہے-“

”میں جانتی ہوں کہ کوئی فائدہ نہیں ہے- بس تمہیں سوری کہنے آئی تھی- یہ میری غلطی ہے کہ میں نے تمہیں وضاحت دینے کا موقع ہی نہیں دیا- شوکی نے بھی مجھے خوب بھڑکا دیا تھا تمہارے خلاف- اگر ہوسکے تو ہمیشہ میرے دوست رہنا-بہت تنہا ہوگئی ہوں میں-“ وردا کی آنکھیں چھلک آئیں-

”اب سنو- ایک لڑکی مجھ سے بہت محبت کرنے لگی ہے- اور اس نے میرے سامنے اپنی محبت کا اظہار بھی کر دیا ہے- مگر میں الجھن میں ہوں کہ میں کیا کروں- مجھے بھی وہ لڑکی بہت اچھی لگتی ہے— مگر ابھی کوئی فیصلہ ہی نہیں کر پا رہا ہوں- اوپر سے اس کے بھائی نے ہمارا ملنا جلنا بھی بند کر دیا ہے-“ رفیق نے ریما کا ذکر کرتے ہوئے کہا-

”اگر تم واقعی میں اس سے محبت کرتے ہوتو اس کے سامنے اظہار بھی کر دو- اس کی محبت کو نظرانداز مت کرو- محبت بہت انمول ہوتی ہے-“ وردا اسے سمجھاتے ہوئے بولی-

”ہاں اس بارے میں سوچوں گا- ورنہ میں تو دن رات اس درندے کے کیس میں ہی الجھا رہتا ہوں- ایسی باتیں سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا- اچھا اب ایک اہم بات پوچھ رہا ہوں-“

”وہ کون سی؟-“

”کیا تم سچ میں درندے کا چہرہ بھول گئی ہو؟-“ رفیق نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا-

”ہاں رفیق- مجھے سچ میں اب کچھ یاد نہیں ہے- دھیرے دھیرے اس کے چہرے کے نقوش میرے ذہن سے مٹتے گئے-“

”ہاں کبھی کبھی ہماری یادداشت کے ساتھ ایسا ہوجاتا ہے – اور ویسے بھی تم نے اسے ایک ہی بار تو دیکھا تھا-“

”ہاں— اوکے رفیق اب میں جا رہی ہوں- اپنا خیال رکھنا-“

”وردا- تمہارے یہاں آنے سے میرے دل کا بوجھ ایک د م ہلکا ہوگیا ہے- اب دیکھنا میرے سارے زخم کتنی جلدی بھر جائیں گے-“ رفیق نے مسکراتے ہوئے کہا-

”ٹیک کیئر- بائے-“ وردا نے بھی مسکرا کر کہا اور کمرے سے باہر آگئی-

وردا کے کمرے سے نکلنے کے بعد راجو اندر آگیا-

”ریاض حسین- اگر تمہیں وردا کے گھر سے ہٹا کر کوئی دوسرا کام دوں تو کیا کر پاﺅ گے-“ راجو کے کچھ بولنے سے پہلے ہی رفیق نے کہہ دیا-

”آپ حکم کریں سر-“ راجو نے ادب سے کہا-

”میر ے تکئے کے پاس سے میرے ویلٹ اٹھاﺅ- اس میں ایک رقعہ ہے- اس پر کسی راجہ نواز نام کے آدمی کا ایڈریس ہے- راجہ نواز کا سمرن کے ساتھ تعلق ہے جو ایک بینک میں مینجر ہے- سمرن کے پاس بھی بلیک اسکارپیو ہے- اور درندہ بھی بلیک اسکارپیو میں ہی دیکھا گیاہے- اور کل سمرن کی بلیک اسکارپیو راجہ نوازکے پاس تھی-تم راجہ نوازکے گھر جا کر اس کی انکوائری کرو کہ کل رات وہ کہاں تھا- تب تک وردا کے گھر کسی اور کی ڈیوٹی لگا دیتا ہوں- تم اس کام کی رپورٹ مجھے دے کر دوبارہ وردا کے گھر چلے جانا-“

”ٹھیک ہے سر- جیسا آپ کہیں- مگر سر پہلے میں وردا کو اپنی حفاظت میں اس کے گھر چھوڑ دوں؟-“ راجو نے پوچھا-

”ہاں تم اسے گھر لے کر پہنچو- تب تک میں کسی دوسرے سب انسپیکٹر کو وہاں بھیج دوں گا-“ رفیق نے کہا-

”اوہ- میں ایک بات تو بھول ہی گیا- یہ لیں سر آپ کا فون- ایک آدمی نے وردا کے گھر پر میرے حوالے کیا تھا-“

”یہ تو اچھا ہوا کہ تم فون لے آئے- کوئی بھی بات ہو تو مجھے بتانا- اور ہاں تم اپنے ساتھ چار پانچ سپاہی بھی لے جانا- اور اچھی طرح سے تفتیش کرنا- کوئی کسر نہیں رہنی چاہئے-“

”اوکے سر-“ راجو نے رفیق کے ویلٹ سے رقعہ نکالا اور ایڈریس دیکھ کر بولا- ”ارے یہ تو مینا کے گھر کا ایڈریس ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مینا ‘راجہ نوازکی بیوی ہے-“

”کون مینا؟-“رفیق نے پوچھا-

”مینا اور سہیل کے آپس میں تعلقات تھے سر- جس رات سہیل نے پولیس اسٹیشن آکروردا جی کو پھنسانے کے لئے جھوٹی گواہی دی تھی- مینا اس کے گھر پر ہی تھی-“

”ہوں- مینا‘ سہیل کو جانتی تھی- اور راجہ نواز ‘ مینا کا شوہر ہے- آج کل راجہ نواز بلیک اسکارپیو میں گھوم رہا ہے- — یہ بتاﺅ کیا سہیل نے جھوٹی گواہی مینا کے کہنے پر دی تھی؟— یہ سب اتفاق ہے یا پھر بلاوجہ ہمارا وقت برباد کرنے کی سازش؟-“ رفیق نے الجھتے ہوئے کہا-

”سر میں مینا سے مل چکا ہوں- وہ کوئی سازشی خاتون نہیں ہیں- وہ بہت اچھی خاتون ہیں- پھر بھی ایک بار پھر کھلے دل سے تفتیش کروں گا-“

”ہاں وہ تو کرنی ہے— کسی کے بھی بار ے میں خود فیصلہ مت کیا کرو- یہاں تو لوگ پل پل میں رنگ بدلتے رہتے ہیں- ویسے تو اس وقت مجھے سب سے زیادہ کرنل داﺅد خان پر شک ہو رہا ہے- مگر راجہ نواز کی انکوائری بھی ضروری ہے- فی الحال کوئی بات بھی واضح نہیں ہے- ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا-“ رفیق سوچتے ہوئے بولا-

”بالکل سر- اگر راجہ نواز شہر میں بلیک اسکارپیو لے کر گھوم رہا ہے تو اس کی انکوائری ضروری ہونی چاہئے-“

”مجھے یقین تھا کہ تم اس انکوائری میں دلچسپی لو گے- اس لئے تمہیں ہی بھیج رہا ہوں-“

”اوکے سر- اب میں وردا جی کو ان کے گھر چھوڑ کر اس کام پر نکل جاﺅں گا-“ راجو نے کہا-

کمرے سے باہر آکر راجو نے وردا سے کہا- ”میری ڈیوٹی چینج ہوگئی ہے- رفیق سر نے مجھے دوسرے کام پر لگا دیا ہے- آپ کو گھر چھوڑ کر میں چلا جاﺅں گا-“

”دوسرا کون سا کام؟-“ وردا نے حیرت سے پوچھا-

”ایک بندے کی ضروری انکوائری کرنی ہے- اور مجھے ہی کرنی ہے- یہ رفیق سر کا آرڈر ہے-“

”کیا کوئی اور یہ انکوائری نہیں کر سکتا- میں رفیق کو بول دیتی ہوں-“ وردا نے کہا-

”رہنے دیں- مجھے ہی کرنی ہوگی یہ انکوائری- اور میں خود کرنا بھی چاہتا ہوں-“.

”تو یہ کہو نا کہ تم تھک گئے ہو میرے گھر کے باہر کھڑے رہ کر— تمہارے دس دس لڑکیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی تو خلل پڑرہا ہے نا- جاﺅ جہاں جانا ہے- مجھے کیا-“ وردا اپنی طرف سے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی-

”ہم محبت کرتے ہیں آپ سے کوئی مذاق نہیں- اور آج لگ رہا ہے کہ آپ بھی مجھ سے محبت کرتی ہیں- شام تک واپس لوٹ آﺅں گا- تب تک میری جگہ دوسرا سب انسپیکٹرڈیوٹی کرے گا-“ راجو نے مسکرا کر کہا-

”مجھے تم سے کوئی محبت وحبت نہیں ہے- بس فکر ہو رہی تھی کہ بلاوجہ کہاں بھٹکتے پھرو گے-“

”تو ٹھیک ہے- پھر میں شام کو بھی نہیں آﺅں گا- رفیق سر سے کہہ کہ ڈیوٹی مستقل چینج کروا لوں گا-“ راجو نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا-

”تو کروا لو چینج- میرے گھر کے باہر رہ کر تم کیا احسان کرتے ہو مجھ پر—- تم چاہتے ہو مجھے- میں نہیں-“یہ کہہ کر وردا غصے میں جیپ کی طرف بڑھ گئی- راجو نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

”ہاتھ چھوڑو میرا- لوگ دیکھ رہے ہیں-“ وردا بوکھلا کر بولی-

آپ سچ سچ بتائیں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے کہ نہیں- اب میں مزید برداشت نہیں کر سکتا- بہت ہوگیا آپ کا یہ ناٹک-“ راجو تو جیسے دوٹوک فیصلہ کر چکا تھا-

”پاگل ہوگئے ہو کیا- لوگ کیا کہیں گے- چھوڑو— گھر چل کر بات کریں گے-“ وردا نے یہاں وہاں دیکھ کر کہا-

”میں کسی اور ڈیوٹی پر جا رہا ہوں- بتایا ہے نا آپ کو— بس آپ بتا دیں کہ میرے لئے آپ کے دل میں کیا ہے؟-“

”تم شام کو تو آﺅ گے نا- پھر بات کریں گے- میرا ہاتھ چھوڑو پلیز-“ وردا سخت کنفیوز ہو رہی تھی-

”یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شام تک میں زندہ نہ رہوں- زندگی کا بھروسہ ہی کیا ہے- چلیں چھوڑ رہا ہوں آپ کا ہاتھ- شام کو بھی نہیں آﺅں گا- اپنی ڈیوٹی ہٹوا لوں گا میں-“ راجو نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا-

وردا نے کچھ نہیں کہا اور جیپ میں آکر بیٹھ گئی- واپسی کا سفر بالکل خاموشی سے کٹا- یہ اور بات ہے کہ وردا نے کئی بار ترچھی نظروں سے راجو کی طرف دیکھا- مگر راجو کے چہرے پر غصے کی جھلک دیکھ کر وہ کچھ بولی نہیں-

راجو نے وردا کو گھر کے باہر اتارا اور اس کی طرف دیکھے بغیر جیپ گھما کرچلا گیا اور وردا بس دیکھتی ہی رہ گئی-

”کیا میں یہ محبت بھی کھو دوں گی- راجو پلیز شام کو واپس آجانا-“ وردا نے دل میں کہا اور نم آنکھیں لئے گھر کے اندر چلی گئی-

اندر آکر وردا نے راجو کا نمبر لگایا مگر رِنگ جانے سے پہلے ہی کاٹ دیا-”اس نے جاتے وقت مجھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا- سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو- جیپ گھما کر چپ چاپ نکل گیا- اگر وہ شام کو نہیں آیا تو پھر کبھی اس سے بات نہیں کروں گی-“ وردا خود سے ہی یہ سب کہہ رہی تھی-

کئی دنوں بعد راجو کو ایسا غصہ آیا تھا- اور غصے میں وہ جیپ بھی بہت تیز چلا رہا تھا- پہلے وہ تھانے پہنچا اور رفیق کی ہدایت کے مطابق چار سپاہی ساتھ لے کر مینا کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا-

گھر پہنچ کر راجو نے بیل بجائی تو دروازہ مینا نے ہی کھولا-”آپ— آج میں آپ کو ہی یاد کر رہی تھی-“

”مجھے یاد کر رہی تھی- کیوں بھلا-“ راجو نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا- اس کا موڈ ابھی بھی خراب تھا-

”بس ویسے ہی- اچھے لوگوں کو یاد کرکے دل خوش ہوجاتا ہے-“

”آپ کے شوہر کا نام راجہ نواز ہے؟-“ راجو نے مینا کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا-

”جی ہاں- شاید میں پہلے ہی آپ کو بتا تو چکی ہوں-“

”بتایا ہوگا- مجھے یاد نہیں—- آپ کے شوہر کہاں ہیں؟-“

”آخر بات کیا ہے- آپ تو جیسے پوری پولیس فورس لے کر آئے ہیں میرے گھر-“ مینانے سپاہیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”اس وقت میرا موڈ بہت خراب ہے- آپ جلدی سے بتا دیں کہ راجہ نواز کہاں ہے؟-“

”وہ تو پچھلے دو دنوں سے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں- ان کی جاب ہی ایسی ہے کہ ان کے مختلف شہروں کے چکر لگتے ہی رہتے ہیں-“ مینا نے بتایا-

”کیا وہ بلیک اسکارپیو میں اسلام آباد گئے ہیں؟-“ راجو نے پوچھا-

”بلیک اسکارپیو؟—- ہمارے پاس کوئی بلیک اسکارپیو نہیں ہے-“ مینا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

راجو نے سپاہیوں کو جیپ کے پاس رکنے کو کہا اور مینا کے قریب آکر بولا- ”آپ کے پاس نہیں ہے- مگر سمرن کے پاس بلیک اسکارپیو ہے اور راجہ نواز کے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں-“

”سمرن— کون سمرن؟-“

”وہ سب چھوڑیں اور یہ بتائیں کہ اسلام آباد میں کس جگہ گئے ہیں وہ؟-“

”انہوں نے کبھی بھی مجھے تفصیل سے کچھ نہیں بتایا- اور نہ ہی میں پوچھتی ہوں-“ مینا نے کہا-

”اچھا— حیرت ہے— آپ کو اپنے شوہر کے بارے میں معلوم نہیں ہے- بیویاں تو اکثر اپنے شوہروں کے بارے میں پوری معلومات رکھتی ہیں-“

”مجھے کبھی ان پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑی-“ مینابولی-

”جاب کیا ہے ان کی؟-“

”وہ —- بینک میں کام کرتے ہیں-“ مینا نے بتایا-

”ہوں— ٹھیک ہے- میں یہاں سے سیدھا بینک ہی جاﺅں گا- آپ یہ بتائیں کیا آپ کے شوہر اکثر گھر سے غائب رہتے ہیں؟-“

”اکثر تو نہیں- ہاں کبھی کبھی وہ گھر نہیں آتے- مگر وہ اپنی جاب کے سلسلے میں ہی باہر جاتے ہیں-“

”یہ تو بینک جا کر ہی پتہ چلے گا کہ وہ جاب کے سلسلے میں جاتے ہیں یا کسی اور سلسلے میں-“ راجو یہ کہہ کر اپنی جیپ کی طرف مڑ گیا-

اب راجو کی اگلی منزل —- بینک تھی- اور وہ سمرن کے سامنے بیٹھا ہوا تھا-

”کیا آپ کی بلیک اسکارپیو اس وقت آپ کے پاس ہے؟-“ اس نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر سوال داغ دیا-

”دیکھیں میں نے رفیق کو سب بتا دیا تھا- پلیز میرا وقت ضائع مت کریں-“ سمرن نے منہ بنا کر کہا-

”رفیق سر نے ہی بھیجا ہے مجھے- راجہ نواز کے پاس تھی نا آپ کی کار – کہاں ہے وہ- ذرا اسے بلائیں-“

”وہ آج ڈیوٹی پر نہیں آئے-“

”کیا وہ بینک کے کسی کام سے آﺅٹ آف سٹی ہے؟-“ راجو نے اہم سوال کیا-

”نہیں-بینک نے انہیں کہیں نہیں بھیجا- وہ شاید گھر پر ہوگا-“ سمرن نے بتایا-

”گھر پر اس کی بیوی نے بتایا ہے کہ وہ بینک کے کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد گیا ہے-“

”نہیں- ہم نے اسے اسلام آباد نہیں بھیجا- ان کی بیوی کو غلط فہمی ہوئی ہوگی-“

سمرن کی بات ختم ہونے پر راجو نے فون پہ ساری تفصیل رفیق کو بتا دی-

”سر مینا کا بیان ہے کہ راجہ نواز بینک کے کام سے اسلام آباد گیا ہے- مگر برانچ مینجر سمرن کے بیان کے مطابق انہیں اسلام آباد تو کیا کہیں بھی نہیں بھیجا گیا— کہیں یہ راجہ نواز ہی تو درندہ نہیں ہے؟-“

”ہوسکتا ہے یہ محض اتفاق ہو—مگر بہت اہم معلومات اکھٹی کی ہیں تم نے— اچھا سمرن کو فون دو-“

راجو نے فون سمرن کو پکڑا دیا-

”سمرن- راجہ نواز جب بھی آئے – یا تمہیں اس کے بارے میں پتہ چلے- تم فوراً مجھے فون کرنا- اوکے-“

”اوکے- جیسے ہی وہ آئے گا میں تم کو انفارم کر دوں گی-“ یہ کہہ کر سمرن نے فون واپس راجو کو دے دیا-

”سر ایک ریکوئیسٹ تھی آپ سے-“ راجو نے کہا-

”ہاں بولو ریاض-“

”سر میری ڈیوٹی وردا جی کے گھر سے ہٹوا دیں-“

”ریاض ویسے تو میں تمہاری بات مان لیتا- مگر وردا کے ساتھ تمہاری ڈیوٹی میڈم نے لگائی تھی-“

”کوئی بات نہیں سر- ویسے میڈم اب کیسی ہیں؟— آئی سی یو میں ہونے کی وجہ سے میں مل نہیں سکا تھا ان سے-“ راجو نے شہلا کی خیریت دریافت کرتے ہوئے پوچھا-

”آپریشن کے بعد سے وہ مستقل آئی سی یو میں ہی ہیں- اور ابھی تک انہیں ہوش نہیں آیا ہے- ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ شاید صبح تک وہ ہوش میں آجائیں گی- تم اب وردا کے گھر جاﺅ- بعد میں دیکھوں گا کہ کیا کرنا ہے- اور ہاں ہوشیار رہنا- اور ہر بات پر نظر رکھنا-“ رفیق نے آخر میں افسرانہ ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”اوکے سر-“

راجو نے پہلے سپاہیوں کو تھانے چھوڑا اور پھر وردا کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا-

٭٭٭٭٭٭٭

شام کے وقت مراد کالج کے باہر کھڑا سحرش کا انتظار کر رہا تھا- کالج میں کوئی فنکشن چل رہا تھا جس کی وجہ سے سحرش اتنی دیر تک کالج میں ہی تھی- جب وہ باہر آئی تو اسے دیکھتے ہی مراد جھوم اٹھا-

”بہت پیاری لگ رہی ہو- مجھ پہ اتنے ستم کیوں ڈھاتی ہو-“ مراد دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا-

”چل جھوٹے— صبح بھی تم یہی سب کہہ رہے تھے-“ سحرش نے بناﺅٹی غصہ دکھاتے ہوئے کہا-

”اب کیا کروں- تمہیں دیکھتے ہی میرے منہ سے خود بخود تعریفوں کے پھول جھڑنے لگتے ہیں-“

”مراد میرا دل تو کر رہا ہے کہ کہیں بیٹھ کر باتیں کریں- مگر بہت لیٹ ہوگئی ہوں-“ سحرش اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی-

”آﺅ بیٹھو- محبت کے دو میٹھے پل ہم نکال ہی لیں گے-“

سحرش ہنستے ہوئے پیچھے بیٹھ گئی اور مراد نے بائیک آگے بڑھا دی-

”آج کی شام بہت حسین ہے- اور ایسے میں اگر تمہارے ہونٹوں کا جام پینے کو مل جائے تو نشہ ہی نشہ ہے-“ مراد گنگناتے ہوئے بولا-

”میں باتیں کرنا چاہتی ہوں اور تم کو کچھ پینے پلانے کی پڑی ہوئی ہے- یہ بتاﺅ ہمارا مستقبل کیاہوگا- ابا سے کب بات کرو گے؟-“ سحرش نے اصل بات کی طرف دھیان دلاتے ہوئے کہا-

”اگر تم کہو تو آج ہی بات کر لیتا ہوں تمہارے ابا سے- ورنہ میں تو سوچ رہا تھا کہ پہلے تم اپنی تعلیم مکمل کرلو پھر آرام سے شادی کرلیں گے-“

”تو میرے ہونٹوں کے جام کی اتنی جلدی کیا پڑ گئی تم کو – شادی تک انتظار نہیں کر سکتے کیا-“ سحرش نے ہنستے ہوئے کہا-

اس وقت وہ ایک سنسان سڑک پر دوڑے جا رہے تھے اچانک مراد نے سڑک کنارے پر روک دی- سحرش بھی اتر گئی-

”کیا ہوا مراد- اس سنسان سڑک پر تم بائیک کیوں روک دی-“ سحرش نے پوچھا-

مراد نے کچھ بغیر ہی سحرش کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور لبوں سے رس چوسنے لگا-

”شادی کا انتظار نہیں کر سکتا- لب کشی ایک عاشق کا حق ہے- اور تم یہ حق مجھ سے نہیں چھین سکتیں-“مراد نے اس کے چہرے کو چھوڑتے ہوئے کہا-

”عاشقی کے حق کے ساتھ فرض کا حق بھی یاد رکھنا- مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑ دینا- اب جی نہیں پاﺅں گی- بہت محبت کرنے لگی ہوں تم سے-“ سحرش نے خمارآلود نظروں سے کہا-

”جانتا ہوں- اور بے فکر رہو – تمہیں تو میں پلکوں پر بٹھا کررکھوں گا-“مراد نے عاشقوں کا گھسا پٹا ڈائیلاگ ادا کرتے ہوئے کہا-

”ہی ہی ہی- تمہاری پلکوں پر کیسے بیٹھوں گی میں- تمہاری پلکیں ہیں یا چار کمروں کا فلیٹ-“

”میری پلکوں کی وسعت چار کمروں کے فلیٹ سے بھی زیادہ ہے-“

”اچھا اچھا بس- اب چلو گے بھی یا اس سنسان سڑک پر کھڑے ہوکر ہی خواب دیکھتے رہو گے-“ سحرش نے ہنستے ہوئے کہا-

”اوہ ہاں سوری- چلتے ہیں- میں تو بس اپنی سحرش پر محبت کی مہر ثبت کر رہاتھا-“

”اب آئندہ کسی سڑک پر کھڑے ہوکر مہریں مت لگاتے رہنا- کچھ تو خیال کیا کرو-“

”اوکے- تو آئندہ سے بائیک چلاتے چلاتے ہی مہر لگانے کی کوشش کیا کروں گا- ٹھیک ہے نا-“ مراد نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا-

”یہ کیسے ممکن ہے؟-“

”سب کچھ ممکن ہے- اگر تم کو کوئی اعتراض نہ ہوتو-“

ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک بلیک اسکارپیو ان کے برابر سے نکلتی چلی گئی-

”سحرش جلدی بیٹھو- اس بلیک اسکارپیو کا پیچھا کرنا ہے-“ مراد نے جلدی سے بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا-

”کیا بات ہے- کون ہے اس بلیک اسکارپیو میں-“ سحرش نے حیرت سے پوچھا-

”وہ درندہ ہمیشہ بلیک اسکارپیو میں ہی گھومتا ہوا دیکھا گیا ہے- آﺅ دیکھتے ہیں یہ بلیک اسکارپیو کہاں جا رہی ہے-“ مراد بولا-

”مراد مجھے ڈر لگ رہا ہے- رات ہونے والی ہے- گھر پر میرا انتظار ہو رہا ہوگا-“ سحرش درندے کا ذکر سنتے ہی سہم گئی تھی-

”اگر میں تمہیں رکشہ میں بٹھا دوں تو کیا تم اکیلی چلی جاﺅ گی— مجھے ہر حال میں اس کار کا پیچھا کرنا ہے—- کیا پتہ وہ درندہ اسی کار میں ہو-“ مراد نے پوچھتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے- تم مجھے کسی رکشہ میں بٹھا دو- میں چلی جاﺅں گی-“

کچھ دور آکر مراد نے ایک رکشہ دیکھ کراسے ہاتھ دیا اور سحرش کو اس میں بٹھا کر پوری اسپیڈ سے اپنی بائیک اس بلیک اسکارپیو کے پیچھے لگا دی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں.. مبشرہ انصاری .. قسط نمبر 3

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 3 ”یہ جو کچھ بھی تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے