سر ورق / کالم / ہمیں سوچنا ہوگا … سفیان علی فاروقی

ہمیں سوچنا ہوگا … سفیان علی فاروقی

ہمیں سوچنا ہوگا

سفیان علی فاروقی

            مسلمانوں کی جانیں ،عزتیں اوراملاک غیر محفوظ تھیں ، ان کا معاشی مستقبل تاریک تھا،ان کے تعلیمی مستقبل کو شیطانی شرطوں کے ساتھ مشروط کردیاگیا ،ان کے مذہب کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوششیںکی جانے لگیں،ان کی مقدس کتاب قرآن مجید ان کے پیغمبر محسن انسانیت محمد رسول اللہ اور ان کے جانثار صحابہ کرام ؓ پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں القصہ مختصر ایک ایسا لائحہ عمل ،ایسا سیٹ اپ بنادیا گیا کہ جس کے مطابق چل کر مسلمان ،مسلمان نہ رہے اور اگر ان کی مرضی و منشاءکے خلاف چلے تو غربت و افلا س کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے اور معیشت کے تمام دروازے اس پر بند کردیے جائیں۔

            پھر ایک تحریک اٹھی جس نے مسلمانوں کی اس استحصالی کیفیت کے خلاف آواز بلند کرنی شروع کردی جو کہ بعدمیں ایک منظم تنظیم کی شکل اختیار کر گئی اور اس نے مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کردیا ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے ملک کا قیام کرنے جارہے ہیں جس میں مسلمان اپنی پوری مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں اپنا لوہا منواسکیں گے، اسلام کے نظریہ امن و آشتی کی بہار آفرینی سے اطراف عالم کو خیرہ کریں گے ،جہاں قال اللہ وقال الرسول کی بے خوف صدائیں بلند ہونگی ، جہاں محبتوں کے پھول کھلیں گے ،بھائی چارے کی کلیاں چٹخیں گی ، شرم و حیا کی بہاریں ہونگی ،اخوت و یگانگت کی ہوائیں چلےں گی،جہاں فضائیں امن و امان کے ترانے گائیں گی ،یہ گلشن چمکے کادمکے گا اور پوری دنیا کو اپنی روشن کرنوں سے منور کرے گا۔

            ان نعروں کا لگنا تھا کہ ایک خلقت ان کی ہمنوا ہوگئی اور اس تحریک نے بہت زیادہ شدت اختیار کی جس کی وجہ سے علیحدہ ملک کا اعلان کردیاگیا یہ 14اگست 1947 ±ؑاور رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی جب پوری دنیا کے نقشے پر ایک ننھی سی اسلامی ریاست ”پاکستان “ کے نام سے معرض وجود میں آئی اور ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ “ کے بدلہ میں مسلمانوں کو جو اس کی قیمت چکانا پڑی وہ اتنی درد ناک اور بھیانک ہے کہ تاریخ عالم میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔

            امرتسر سے ایک ٹرین چلی جو مسلمانوں سے بھری ہوئی تھی اور جب وہ لاہور پہنچی تو چند ایک نفوس کے علاوہ باقی سارے شہید کردیے گئے تھے ،کتنے ہی قافلے ہندو ذہنیت کی بھینٹ چڑھ گئے ،خواتین کی بے حرمتی کی گئی ،قرآن پاک کی بے ادبی کی گئی،مساجد کو نظر آتش کردیاگیااور جب کچھ عرصہ بعد حساب لگا یا گیا تو پتا چلا بیس لاکھ مسلمان پاکستان کے قیام کے لئے اپنی جان کی قربانی دے چکے تھے ۔

            آج کل ایک مرتبہ پھر 14اگست کے حوالے سے پورے ملک میں گہما گہمی عروج پر ہے ہمیں رنگ برنگی محفلیں سجانے سے پہلے سوچنا ہوگا ،مہنگے مہنگے پروگرام اور شوز کرنے سے پہلے ، پاکستانی پرچم کے لباس سلوانے سے پہلے،کروڑوں روپے کی محض اشتہار بازی سے پہلے ،لاکھوں روپے کا پیٹرول ضائع کرنے سے پہلے ،سالگرہ کا کیک کاٹنے سے پہلے سوچنا ہوگا کہ کیا وہ سپنے پورے ہوگئے جن کی خاطر لاکھوں جوانیاں خوں میں نہلادی گئیں ؟، کیا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگئے جو قوم کی آنکھوں کو دان کئے گئے تھے ،کیا وہ مقاصد پورے ہوگئے جن کی تکمیل کے لئے 20لاکھ انسان قبر کی پاتال میں اتار دیئے گئے ،کیا وہ مستقبل محفوظ ہو گیاجس کی حفاظت کرتے کرتے لوگوں نے اپنی خوہشات و ضروریات کو تج دیا حتیٰ کہ اپنے جان سے زیادہ عزیر لوگوں کے بے گوروکفن لاشے ان کی زندگی کا سکون بھی اپنے ساتھ لے گئے ؟۔

            یہاں صرف مقصود زمین کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ مقصود تو اسلامی قانون کا نفاذ تھا ،قائد اعظم محمد علی جناح ؒ یہی تو چاہتے تھے کہ ایک آئیڈیل اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہو جو پوری دنیا کی رہنمائی اسلامی اصولوں کے مطابق کرے ،مقصود ایک صالح اسلامی سو سائٹی کاقیام تھا جہاں امن و امان ہو ،جہاں غریب کو انصاف اس کے گھر کی دہلیز پر ملے ،جہاں کمزور انسان سر اٹھا کر جی سکے،جہاں مسلمان بے خوف خطر اپنی عبادت گاہوں میں اپنے پروردگار کا شکر بجا لا سکیں ، مقصود موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی بہتات نہیں تھا ،مقصود لمبی لمبی جدید سڑکیں نہی تھیں ،مقصود عالیشان بلڈنگیں اور پلازے نہیں تھے، مقصود اقوام متحدہ میں بیٹھنا نہیں تھا ،آئی ایم ایف سے قرضہ لینا نہیں تھا ،مقصود کسی بھی مادی پاور کے آگے اپنی بقاءکے لئے سمجھوتا نہیں تھا یہ سب تو صرف ذرائع تھے مقصود تو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں ہر شخص بنیادی ضروریات زندگی کو بآسانی پورا کرسکے ۔جہاں طبقاتی تقسیم ،معاشی استحصال ، عدل و انصاف کی عدم دستیابی ،ذرائع و وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور غیر اسلامی نظام تعلیم کا کوئی گزر نہ ہویہ تھا ہمارے قائد کا پاکستان اسی لئے خون کی لکیر عبور کی گئی ۔

            ہمیں سو چنا ہوگا،ہمیں یاد رکھنا ہوگا جو قومیں اپنے مقاصد کو بھلا کر ذرائع کو مقصود بنالیں ،منزل کی بجائے رستے کو منزل سمجھ لیں وہ قومیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ،منزل تک نہیں پہنچ سکتیں ،14اگست 2018آچکا ہے یہ تجدید عہد کا دن ہے ،یہ قیام پاکستان پر دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے ،یہ اپنے بڑوں کے وژن کو آگے بڑھانے کا عزم کرنے کا دن ہے خدارا اس کو محض لہو لعب میں ضائع مت کریں بلکہ اس دن ہمیں سوچنا ہوگا ، ہمیں سو چنا ہوگا ۔

٭٭٭٭٭…

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی دوستو!!! کئی روز قبل صبا ممتاز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے