سر ورق / افسانہ / سچی خوشی طاہرہ مسعود

سچی خوشی طاہرہ مسعود

سچی خوشی

طاہرہ مسعود:

رمضان اپنی تمام تر رعنائیوں اور برکتوں کے ساتھ رواں دواں تھا۔ عید کی آ مد آمد تھی ا س لیے طرح طرح کی مصنوعات پہ سیلز اور پروموشنز چل رہی تھیں ۔ شام کا وقت تھا ، آج   رابعہ کے میاں سعود  دفتر سے جلد گھر  آگئے تھے۔ افطاری میں ابھی وقت تھا۔ ا س لیے وہ بھی دیگر کام کاج نپٹا کے اپنے بچوں اور شوہر  کے ساتھ ٹیلیویژن دیکھ رہی تھی۔کہ ٹیلی ویژن پہ   پھر وہی اشتہار دوبارہ چلا جس کا کچھ روز سے وہ سعود سے ذکر کر رہی تھی۔ اس اشتہار میں ایک برانڈ نیم میٹرس کی تشہیر تھی۔  جس کے مطابق پرانے میٹرس دے کر آدھی قیمت میں نئے لیے جا سکتے تھے۔ ان کے گھر کے پرانے میٹرس اب کافی ابتر حالت میں تھے۔  ا س لیے رابعہ کو یہ آفر  بہت ہی معقول  لگی تھی۔

گو وہ پہلے بھی سعود سے ا س کا ذکر کر چکی تھی لیکن مصروفیت کے باعث شاید  وہ بھول گئے تھے۔

” سُنئیے کیا سوچا پھر آپ نے؟  ہم بھی میٹرس نئے نہ لے لیں۔۔ یہ اچھی ڈیل ہے؟” اس نے چہک کر اپنے میاں سے پوچھا۔

آفرتو معقول ہے” سعود نے سوچتے کہا۔”

"مگر عید بھی  توآ رہی ہےنا۔” وہ ذرا سا منہ بسور کر بولی۔ ” اور پھربجٹ بھی اجازت نہیں دے گا۔۔۔۔ ”   پھر  وہ کچھ سوچ کر خود کلامی کے ناداز میں بولی،”  ایسی آفر بھی روز روز نہیں آتی۔۔۔۔ تو؟ ۔۔۔  ۔۔ ہاں ایسے کرتی ہوں کہ میں اس عید پر اپنے کپڑے نہیں بناتی۔۔۔” اس نے اپنی طرف سے مسئلہ حل کردیا۔

"تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمہارے کپڑوں پر ایک شامیانے کےبرابر کپڑا لگتا ہو۔ یا تم اطلس و کمخواب پر ہیرے جواہرات  ٹنکواتی ہو۔ کم آن۔۔ بھئی۔  اگر بجٹ کنٹرول کرنا ہی ہے تو کچھ اور کر لیتے ہیں۔میرے پاس بہت کپڑے ہیں ۔۔  ا س لیے تم میرے کپڑے  رہنے دو۔۔ بس  تم بنا لینا۔۔۔۔ اور وہ جو میں نے ایک پرائیویٹ نقشے کا ذکر کیا تھا کہ ملنے والا ہے نا  اس کا ایڈوانس بھی جلد مل جائے گا۔۔۔  ۔۔ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔۔ تم فکر نہ کرو”۔ اس کے میاں سعود نے   تسلی دی ۔

"نہیں!!” ا س نے حتمی لہجے میں کہا۔۔” آپ کے کپڑے  تو بہت ضروری ہیں۔ میری خیر ہے۔مجھے کون سا روز دفتر جانا ہو تا ہے؟  اور پھر  میں نے ابھی پچھلے مہینے جو نازیہ کی شادی پر جوڑا بنایاتھانا؟ وہی پہن لوں گی۔ بس بچوں کی تیاری کر لیں گے۔۔ کیوں؟؟ا س نے سعودکی رائے لی۔ اور ویسے بھی  جو نقشے کے پیسے ملیں گے  ان کو اس بار سنبھال لیں گے۔ کچھ جوڑنے کی طرف بھی آئیں ۔ ہم تو ابھی کوئی رقم ملتی نہیں پہلے سے خرچنے کا منصوبہ بنا لیتے ہیں۔ توبہ ہے۔ بچے بڑے ہو رہے ہیں کل کو انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں  میں بھی جانا ہے۔ وہ ہمیشہ کی طرح  فکرمند ہو گئی۔

تم بھی نا!  یا ماضی میں رہتی ہو یا مستقبل میں۔ کبھی حال میں بھی جی لیا کرو شیخ چلی صاحبہ۔۔۔۔ انہوں نے چھیڑا۔ ویسے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والی خاتون کو کیا کہتے ہیں؟ سعود شرارتی مُوڈ میں آگئے

اس  کو اور کچھ نہیں سوجھی تونے منہ چڑھادیا ۔ سعود ہنسنے لگے۔

"میں سچ کہتی ہوں۔ مجھے بہت فکر ہے۔ ہم بہت فضول خرچ ہیں۔ آپ کبھی اس بات کو سیریس نہیں لیتے”اس نے پھر کہا

کوئی فضول خرچ نہیں ہیں ہم اور نہ تم۔۔۔ اللہ کا شکر ہے خدا ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔ رہی بچوں کی  تعلیم کی بات۔  دیکھنا خدا اس کا بھی کوئی نہ کوئی اعلیٰ  بندو بست کرے گا۔ انشاءا للہ۔ اللہ تعالیٰ شکر خورے کو شکر ہی دیتا ہے۔۔   اور سنو! کل ہفتہ ہے۔ میرے آفس کاہاف ڈے ہے میں دو بجے تک آجاؤں گا ۔ تیا ررہنا۔ کل ہی لے لیتے ہیں یہ میٹرس۔” سعود نے اعلان کیا۔

وہ خوش ہو گئی۔ا سکے میاں کی یہ عادت اسے بہت اچھی لگتی تھی۔ کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ہی تلاش کرتے۔ جبکہ وہ سدا کی منفی سوچ رکھنے والی جلنے کڑھنے والی  عادت میں مبتلا رہتی تھی۔ جس کو وہ  چاہ کر بھی   بدل نہیں پاتی تھی۔

"آپ کیسے اتنا اچھا سوچ لیتے ہیں؟ وہ خوش ہوئی

"ایسے” وہ  ا سکی ناک کے پاس چٹکی بجا کر بولے

اگلے دن وہ بچوں سمیت میٹرس کے سٹور پر تھے۔ا یک پک اپ پر پرانے میٹرس رکھو اکر وہاں لے گئے اور نئے پسند کر لیے۔ سعود ادائیگی کے لیے کاؤنٹر پر چلے گئے جبکہ وہ بچوں کو لے کر اپنی چھوٹی سی  شراڈ کارمیں آ بیٹھی۔

اسی  پک اپ پر میٹرس لیے گھر آگئے۔گھرآ کر جب میٹرس پلنگو ں پر لگادیے گئےتو رابعہ  نہال ہو گئی۔ گھر کی کوئی طٓچیز بنانے پہ عورت کتنی خوش ہوتی ہے۔ اسنے ان پر سلیقے سے استری کی ہوئی چادریں بچھائیں اور تکیے رکھے۔ کمرے سج گئے۔ وہ خوش اور مطمئن ہو کر کچن میں شا م کی افطاری کا بندوبست کرنے آ گئی۔

فروٹ چاٹ   بنا کر  وہ فرج ی میں  رکھ گئی تھی ۔ اب وہ پکوڑو ں کے لیے بیسن گھول رہی تھی۔  سعود اس کو پکارتے ہوئے کچن میں آگئے اور بولے،”رابعہ۔۔۔ میٹرس تو ہمیں توقع سے بھی کم قیمت میں ملے ہیں۔”

"وہ کیسے؟ ” وہ حیرانی سے بولی

"یہ دیکھو”انہوں نےا س کو رسید دکھاتے ہوئے کہا۔

"اوہ” اس نے دیکھ کر کہا۔ یہ تو کوئی غلطی ہوئی ہے دکاندار سے۔۔۔ کہیں یہ سنگل میٹرس کی قیمت تو نہیں لگا لی سیلز مین نے؟”

"کچھ تو غلط ہو اہے” سعود نے اثبات میں جواب دیا

"چلیں پھر۔ جا کر بات کرتے ہیں۔۔۔ ایسانہ ہو کہ دکاندار پریشان ہورہا ہو۔ جلدی چلیں افطار کی وجہ سے دکان بند نہ ہوجائے”۔ وہ جلدی سے بچوں کو بھی گاڑی میں ساتھ لے کرسٹورپر پہنچے۔

جب سیلز میں کو بتایا تو  وہ حیران ہو  کر ان کو دیکھنے لگا ۔پھر آبدیدہ ہو کر بولا۔ "بہت بہت شکریہ بھائی صاحب۔آ ج میری طبیعت خراب تھی ۔ کام ٹھیک سے نہیں ہورہا تھا۔ میں بال بچے دار آدمی ہوں۔ یہ نقصان مجھے اپنی تنخواہ سےبھرنا پڑتا”۔اور وہ ان کو دعائیں دینے لگا

باقی ماندہ رقم  سعود نے اس  شخص کو ادا کی اور خوشی سے لبریز  دل اور ہلکی جیب لیے وہ شادا ں وکامراں گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔

"کیسا لگ رہا ہے؟” سعود نے راستے میں  پوچھا

دلی خوشی اور تسکین محسوس ہو رہی ہے۔ اگر ہم  پیسے دینےو اپس نہ آ تے تو بے چارے کو کتنی مشکل ہوتی۔۔۔ لیکن  ۔۔۔  اس کی  مشکل تو وقتی ہوتی۔۔ ہمیں کتنا گناہ ہوتا ۔۔ ہے نا؟؟

اورا س نیکی کا کریڈٹ تمہیں جاتا ہے۔ سعود نے کہا

آپ کو ہی جاتا ہے جناب۔۔ آپ نے ہی تو   مجھے بتایا ۔ وہ خوش ہو کر بولی

اور پھر کہنے لگی یہ اللہ کا فضل ہے۔ کہ ا س نے ہمیں ایسی سوچ عطا کی۔ الحمد للہ

اب جلدی چلیں گھر جا کر افطاری کی باقی تیاری بھی کرنی ہے اور ہاں رستے سے گرما گرم سموسے بھی لیتے جائیں گے۔”۔ رابعہ نے کہا ۔۔  ۔۔”

"ابو! ابو!  کیک بھی لینا ہے”۔ پیچھے بیٹھے بچوں کی آ واز ائی۔ لو جی اب لسٹ بڑھتی جارہی ہے۔ وہ ہنسی ۔ بیٹا  میں خود بناؤں گی گھر میں  کیک۔

آئینسگ والا وہ جس پہ بنٹیز لگا تیں ہیں  آپ؟؟؟  بچوں نے خوش ہو کر پوچھا۔

بالکل آئیسنگ اور بنٹیز  والا۔۔ رابعہ نے یقین دہانی کروائی۔۔

وااہ  زبردست!! ۔۔ ضرو ر ۔ ابھی چلتے ہیں  ” سعود نے کہا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے