سر ورق / ناول / بے رنگ پیا ۔ قسط نمبر6 امجد جاوید

بے رنگ پیا ۔ قسط نمبر6 امجد جاوید

قسط نمبر 6

شام ہونے کو تھی جب وہ لان میں بیٹھی ہوئی تھی۔ایسے میں دادا اس کے پاس آ گئے ۔انہوں نے بیٹھتے ہوئے کہا

” کیا آج آ نے والے مہمانوں کے بارے میں سوچ رہی ہو۔“

اس پر وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔ ان مہمانوں کا خیال تو دور دور تک اس کے ذہن میں نہیں۔ اس وقت تو وہ یہی سوچ رہی تھی کہ آج اگر وقار حسین ہوتا تو کیاوہ اس سے شادی کر لیتی ۔دادا اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ان کا دل رکھنے کو بولی

” ہوں ۔ہوتا ہے ایسا ، فطری بات ہے۔“

تبھی دادا نے اس سے رائے لینے کے لئے پوچھا

 ” کیسے لگے ہیں لوگ ؟“

” وہی عام سے ، لالچی ، جنہیں مجھ سے نہیں میری دولت سے مطلب ہے۔کیا آپ کو ایسا نہیںلگا؟“ وہ مسکراتے ہوئے بولی تو دادا سوچتے ہوئے بولے

” ہاں ، مجھے ایسا لگا ، مگر بیٹی ایسا تو ہوگا،لوگ ہماری حیثیت ہی کو دیکھ کر ہم سے بات کرتے ہیں نا۔“

” یہ تو آ پ نے ٹھیک کہا، لیکن جب ایک لڑکی کی حیثیت کم اور دولت کی زیادہ ہوگی تو کیسے ایک لڑکی کی عزت ، مان اور وقار ہو سکے گا ۔ جب دولت معیار ہی ہوگی تو پھر….“

” میں جانتا ہوں بیٹا، ہماری کمیونٹی میں دولت ہی دیکھی جاتی ہے۔سمجھ لو کہ یہ ایک روایت ہے۔اس کی تو سمجھ ہے ، لیکن کہیں دوسری کمیونٹی میں جائیں گے تو شاید وہاں کی ہمیں سمجھ ہی نہ آ سکے۔“ دادا نے اس کی بات سمجھ کر اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

” یہ تو ہے ۔لیکن اویس نے تو….“ آیت جواب میں کچھ کہنے لگی تھی دادا ایک دم سے غصے میںآ تے ہوئے بولے

” اویس نے کیا تو خاندان ٹوٹ گیا۔کہاں بھراپرا گھر تھا اور اب ہم دونوں تنہا۔“ پھر خود پر قابو پاتے ہوئے لہجے کو پر سکون بناتے ہوئے بولے،” میں نے اس پر بھی سوچا ہے۔ فرض کرو، میں کسی غریب خاندان سے کسی لڑکے کو تمہارے لئے چن لیتا ہوں ، تب کیا ہوگا ؟ فطری سی بات ہے ، وہ اپنی خواہشات پوری کرنے میں لگ جائے گا ۔ ہمارا معاشرہ ایسا نہیںہے کہ یہاں عورت کو، اس کی خواہشات کو ، اس کے ہونے کو تسلیم کرے ، یہاں گھوم پھر کر قربانی عورت ہی کو دینا پڑتی ہے ، تم کیوں نہیںسمجھتی ہو اس بات کو ۔ ورنہ یہ معاشرہ ہی اسے کہیںکا نہیںچھوڑتا۔“

” دادو ، آپ پریشان مت ہوں۔ جیسے آپ بہتر سمجھیں۔میں کچھ نہیںکہوں گی ۔“ اس نے یوں کہا جیسے اسے اپنے دادا کی مجبوری سمجھ آ رہی ہو ۔ وہ چند لمحے بیٹھی رہی پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔وہ اپنے دادا کو بھی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی ۔لیکن اسے پورا یقین تھا کہ دادا اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیںکریں گے ۔

ز….ژ….ز

طاہر کے معمولات بدل چکے تھے۔کبھی کبھی وہ سارا دن ہی گھر میںپڑا رہتا، یہاں تک کہ اپنے بیڈ روم سے بھی نہ نکلتااور کبھی صبح سویرے ہی باہر چلا جاتااور شام تک نہ پلٹتا۔ علاقے سے بہت سارے لوگ آتے، کسی سے مل لیا، اور کسی سے نہیں۔ سارے معاملات اپنے ملازم نما سیکرٹری کے سپرد تھے۔ اسے یہ بھی خیال نہیںتھا کہ اس کے اثرات اس کی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا،تب سے اس عمر تک ،اُسے نہیںیاد تھا کہ وہ اپنے آپ سے اس قدر بے گانہ ہوا ہو ۔ ایک عجیب طرح کی بے چینی اُسے لگ گئی تھی ۔اُسے اپنی بے چینی کی پوری طرح سمجھ بھی تھی۔اس کی ابتدا تو انہی دنوں میں ہو گئی تھی، جب آیت النساءپہلی بار ملی تھی اور پھر گم ہو گئی تھی۔ افسوس بھرا احساس اُس کے من میں در آیا تھا۔انہی دنوں سے زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیاتھا۔یہ سب غیر محسوس انداز میں ہوا ۔ اسے خود سمجھ نہیںآئی تھی۔پھر وہ دوبارہ ملی، تو اس کی پوری توجہ کا مرکز آیت النساءبن گئی تھی ۔

عورت ذات اس کے لئے معمہ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی ان دیکھا جزیرہ تھا، جس کے بارے میں اسے کسی بھی طرح کا تجسس رہا ہو۔لیکن یہ سب ظاہری بات تھی، کبھی باطنی انداز میں اس نے عورت کو محسوس ہی نہیںتھا۔ یہ احساس اسے آیت النساءکی وجہ سے ملا۔جو اب ایک بے چینی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔اس کی ایک ان دیکھی، نا سمجھ میں آ نے والی کشش تھی ،جس کے حصار میں وہ آ چکا تھا۔وہ خود اس حصار کو توڑ کر باہر نہیںآ نا چاہتا تھا ۔وہ خود کو احساسات کے سمندر میں محسوس کرتا تھا، جہاں ایک نئی زندگی تھی ۔

 آیت النساءاس کے لئے ایک معمہ بن گئی تھی۔کیونکہ طاہر نے اُس کے وجود بارے نہیں سوچا تھا۔ بلکہ وہ یہ محسوس کرتا چلا جارہا تھا کہ ُاس پر اَن دیکھے محل کے دروازے کھلتے چلے جا رہے تھے۔ اس کی تو یہی حیرت کم نہیںہو پارہی تھی کہ اس دنیا میں بھی کوئی ایسا فرد ہو سکتا ہے جو دوسروں کے لئے جی رہا ہو۔ اپنے لئے نہیں دوسروں کے لئے زندہ ہو ۔ کسی ایسے فرد کے لئے جس سے اس کا خونی رشتہ بھی نہیں، صرف احساس کا تعلق ہو ۔ کسی پر احسا ن بھی جتا نا ہو تو ایسا کوئی وجود دنیا میں نہیں رہا تھا۔یہی تجسس اُسے کسی اور ہی جہاں کی سیر پر نکل جانے کو مجبور کر رہا تھا۔ اسے یہی سوال بے چین رکھتا کہ کیا عشق اتنی بڑی قوت ہے جو نہ صرف انہونے فیصلے کروا دیتی ہے بلکہ ان پر عمل بھی آ سانی سے کر لیتیہے ؟ کیا ہے یہ عشق ؟ کیا مجھے آیت النساءسے عشق ہو گیا ہے؟ جو میں اس کی کھوج میں لگ گیا ہوں؟ کیا یہ انہونی نہیںہو گئی کہ ایک لڑکی کے بارے میں وہ خود سوچتا چلا جا رہا ہے اور بے تحاشا سوچتا ہے ، اس کی خوشنودی چاہتا ہے؟ اس کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا یہی عشق ہے؟

 ابھی دوپہر نہیںہوئی تھی ۔طاہر باجوہ نے کار پورچ میں روکی اور تیزی سے داخلی دروازے کے جانب بڑھا، وہ ایک سیمینار میں تھا، جہاں اسے اطلاع ملی کہ اس کے بابا آئے ہوئے ہیںاور وہ اُسے بلا رہے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوا تھا کہ وہ اسے یوں بلاتے ۔ایسا اسی وقت ہوتا ، جب کوئی بہت اہم بات ہو ۔لاﺅنج خالی تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اس بار وہ اپنے لاﺅ لشکر کے ساتھ نہیں ہیں ، جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا۔طاہر توبس نام کا ایم پی اے تھا، سیاست تو اس کے بابا ہی کرتے تھے۔بابا کا یوں تنہائی میں بلانے ہی سے وہ سمجھ گیا تھا کہ معاملہ بہت اہم ہے۔ وہ خود کو ذہنی طور پر تیار کرکے ان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

وہ کمرے میں اکیلے ہی تھے ۔ وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے ۔ ان کے چہرے پر تھکن کے آ ثار تھے۔ وہ سلام کرکے ایک جانب صوفے پر بیٹھ گیا تو انہوں اٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگا لی۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد انہوں نے کہا

” میں اسلام آباد گیاتھا، واپسی پر سوچا تم سے ایک بات کرتا چلوں۔“

” جی ،ایسی ہی اہم بات ہے؟“ اس نے مودب لہجے میں پوچھا تو انہوں نے دبے سے لہجے میںکہا

” اُو یار تجھے وزیر بنانے کی گیم کر رہا تھا نا میں۔ بہت کوشش کرنے کے باوجود بات نہیںبن پا ئی ۔“

” تو پھر کیا ہو ابابا، نہیں بنی تو نہ سہی ۔ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔“ طاہر نے سکون سے کہا

”ایسا کبھی نہیںہوا کہ میں گیم بناﺅں اور وہ بنے نا، درمیان میں ایسا کچھ ہے ، جس کی مجھے سمجھ نہیںآ رہی ۔ ورنہ یہ اتنامشکل کام نہیں تھا ۔“ بابا نے یوں کہا جیسے وہ بہت دورتک اس معاملے کو سمجھ رہا ہے۔

” بابا، آپ اتنا سوچا نہ کریں۔یہ سیاست ہم نے اس لئے نہیںکی ہے کہ لوگوں کی خدمت کرتے پھریں، ہم نے اپنے کاروبار، اپنی زمینداری کے تحفظ کے لئے سیاست کی ہے تو اسی حد تک رکھیں۔زیادہ کے لالچ میں سو دشمن پیدا ہو جائیں گے ۔“ طاہر نے اپنی سمجھ داری کا اظہار کیا

” بیٹے تم کہتے ٹھیک ہو ، لیکن اب معاملہ اَنا کا آ گیاہے ۔“ بابا بولا

” کیسی اَنا بابا؟“ اس نے چونکتے ہوئے پوچھا

 ”خیر چھوڑو اس بات کو ، میں تم سے ایک بات کرنے آ یا تھا۔“ بابا نے موضوع بدلتے ہوئے کہا

” جی بابا کہیں۔“ وہ ہمہ تن گوش ہو گیا

”اپنے انعام الحق کی بیٹی جویریہ سے تم واقف ہو، کیسی ہے وہ لڑکی؟“ بابا نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” اچھی ہے ،ٹھیک ہے ۔“ طاہر نے سوچتے ہوئے کہا

” بہت دنوں سے ، بلکہ الیکشنوں کے بعد ہی سے انعام الحق بات چلا رہاتھا، وہ چاہتا ہے کہ تمہاری اور جویریہ کی شادی کر دی جائے ۔“ بابا نے انتہائی محتاط انداز میں کہا

” اور آ پ کیا چاہتے ہیں؟“ اس نے پوچھا

” میں چاہتا ہوں کہ لڑکی اچھی ہے ، ان کا سیاسی بیک گراﺅنڈ بھی ہے ۔ کل تم نے سیاست کرنی ہے، بہت کام آ ئیں گے وہ لوگ ۔پورا علاقہ تمہارے قابو میں رہے گا۔ بڑے زمیندار ہیں۔تم جانتے ہو اس کے سسرالیوں میں ایک دو ایم این اے، ایم پی اے بھی ہوتے ہی ہیں۔یہ شادی تمہیں بہت طاقتور بنا دے گی ۔“بابا نے اسے پوری طرح سمجھاتے ہوئے کہا

” یہ تو سب میں جانتا ہوں ۔لیکن کیا….“ طاہر نے کہنا چاہا مگر بابا نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا

” اور ہاں ، اس وقت اگر ہم اس رشتے کو قبول کر لیتے ہیں نا تو وہ جو تمہارے وزیر بننے والی گیم ہے ، یوں چٹکیوں میں بن جاﺅ گے وزیر ۔عیش کرنا میرے پتر عیش ۔“

”بابا، یہ جو کچھ بھی آ پ نے کہا، میں اسے جانتا ہوں ، یہ سب جویریہ کی پرانی خواہش ہے ، جسے اب میں آ پ سے سن رہا ہوں۔میں جانتا ہوں وہ مجھ میں دلچسپی رکھتی ہے ۔“ طاہر نے کہا

” تو بس پھر ٹھیک ہے پتر ،ہم زیادہ دن نہیںلگائیں گے ، فوراً شادی کر کے تمہیں وزیر….“بابا نے کہنا چاہا تو طاہر نے ان کی بات کاٹتے ہوئے دھیرے سے بولا

” لیکن مجھے اس سے شادی نہیںکرنی اور نہ ہی اس طرح وزیر بننا ہے۔“

 اس پر بابا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ طاہر بھی اُن کے حکم سے انحراف کر سکتا ہے۔انہوں نے تصدیق کے لئے پوچھا

 ” تم کیا کہہ رہے ہو ، میری بات سمجھ میں نہیںآ ئی ۔“

” بابا میںنے آ پ کی ساری بات سمجھ کر ہی ا ٓپ سے کہا ہے ۔“ اس نے کہا تو بابا نے چند لمحے سوچا پھر تشویش ناک انداز میں پوچھا

” کیاجویریہ کہیں غلط ….“

” نہیں ، وہ بالکل ٹھیک لڑکی ہے ، تھوڑی بولڈ ہے ، اور جدید دور کی لڑکی اگر ایسی ہو تو میری نگاہ میں وہ غلط نہیںہے ۔ اس کے والدین نے اسے آزادی دی ہے ۔لیکن ….“

” تو پھر کیا معاملہ ہے ؟“بابا نے پوچھا

”بابا ،کیا میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیںہوں ۔میں اگر وزیر نہیںبھی بنوں گا تو کیا ہوگا ؟ اور اگر یہ ایم پی اے بھی نہیں رہا تو کیا ہو جائے گا ۔میں طاہر باجوہ ، کیا مجھ سے، میری حیثیت چھین لی جائے گی ۔“وہ بڑے دُکھ بولا

”ہاں چھن جائے گی ، تمہیں کوئی پوچھے گا نہیں۔آج اگر تم سے لوگ جھک کر ملتے ہیں تو تیری حیثیت اور مقام کو دیکھ کر ملتے ہیں۔“ بابا نے اس سے کہا

” اور یہی حیثیت اور مقام دیکھنے والے ہی کسی دوسر ے کی طاقت کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ایسی حیثیت اور مقام کس کام کا ، جب لوگ آ پ کی دل سے عزت نہیںکرتے ہیں۔“ طاہر نے ادب سے کہا

”تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟“بابا نے پوچھا

”کہنا میں چاہتا ہوں کہ ایک لڑکی ، جو شادی سے پہلے اپنی منوانے کےلئے اس سطح تک آ جاتی ہے ، وہ بعد میں کیا کرے گی ۔میں مان لیتا ہوں وہ میرے ساتھ مخلص ہوگی ، لیکن پھر بھی میری مردانگی یہ گوارا نہیں کر سکتی ہے کہ میں اپنی طاقت بڑھانے کے لئے اُن کے سامنے جھک جاﺅں ۔“ اس نے بڑے ادب سے دھیمی آ واز کےساتھ اپنے بابا کو اپنا نکتہ نگاہ سمجھانے کی کوشش کی۔

” یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہے ۔تم ان کے سامنے کیوں جھکو گے ۔ہم لڑکے والے ہیں، اگر انہوں نے ذرا کچھ کیا تو ….“بابا نے پر غرور انداز میں کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولا

” یہ نوبت کیوں ؟ شادی حیثیتوں کی ہوگی یا دو انسانوں کی ، رشتے جوڑنے ہیں یا یہ سب پارٹ آف گیم ہے ۔سوری بابا ، میں ایسا نہیںکر سکتا۔“

”دیکھو بیٹا، تم جوان ہو ، جذباتی ہو ، تم نے ابھی دنیا داری نہیں دیکھی۔یہ سب کرنا پڑتا ہے ،اگر طاقت نہیں رہی تو یہی لوگ عرش سے اٹھا کر فرش پر دے ماریں گے ۔“بابا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔یہ سن کر طاہر چند لمحے بیٹھا رہا ، پھر اٹھ کر اپنے بابا کے پیروں کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ پھر بڑے پیارسے اس کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر بولا

” بابا، میں آ پ سے بہت محبت کرتا ہوں، میری جان ہیں آ پ ،آپ کی طرف اٹھائی جانے والی انگلی کو نہ صرف میں کاٹ سکتا ہوں بلکہ وہ بازو ہی الگ کر دینے کی ہمت ہے مجھ میں۔میںنہیںچاہتا میں کوئی نافرمانی کروں ۔ زمانہ ہمارے درمیان کسی غلط فہمی کو بڑھاوا دے کر کوئی دوسرا رنگ دے ۔لیکن آ پ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔میں کہنا کیا چاہتا ہوں۔“

” مجھے سمجھاﺅ۔“ بابا نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

”بابا۔! جو مان اپنی قوت بازو پر ہوتا ہے نا ، کسی دوسرے پر نہیں ہو سکتا۔مجھ میں اتنی ہمت ، قوت اور صلاحیت ہے کہ میں خود یہ سب کر سکوں۔کیا آ پ یہ سمجھتے ہیںکہ میں وازرت والی گیم کو نہیںسمجھتا؟ میں پوری طرح سمجھ رہا ہوںبابا ، اس میں اگر کوئی آ ڑے ہے تو وہ انعام الحق ہی ہے۔ “ وہ سکون سے بولا

” کیا کہہ رہے ہو تم ؟“انہوں نے حیرت سے پوچھا

” میں ٹھیک کہہ رہاہوں بابا، میں اسی لئے وزارت میں دلچسپی نہیںلے رہا تھا کیونکہ وہ ابھی سے اپنی قوت دکھا کر مجھے بلیک میل کر رہے ہیں۔وہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہی ہمیں ایم پی اے بنانے والے ہیں، اگر ان کی بات نہ مانی تو وہ ہمیں ختم بھی کر سکتے ہیں۔“ طاہر نے وضاحت کردی تو بابا نے طویل سانس لے کر کہا

”یہ تو حقیقت ہے بیٹا، اگر انہوں نے الیکشن میں مدد نہ کی ہوتی تو شاید تم ایم پی اے نہ بنتے ۔“

” بابا۔! میں آپ کا بیٹا ہوں ،کوئی آپ کو زیر بار کرے ، کوئی میرے ہوتے ہوئے آپ کو نیچادکھانے کی کوشش کرے ، ایسا ممکن نہیں ہے۔ایک بیٹے کا فرض ہے کہ وہ آ پ کی شان کو ویسا ہی بلند رکھے ۔آپ یہ ذہن سے نکال دیں کہ وہ اتنی طاقت رکھتے ہیں۔“اس نے اپنے بابا کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا

”میں پھر وہی بات کروں گا بیٹا، تم کرتے ہوجذباتی باتیں ، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔زمینی حقائق کوئی دوسری تصویر دکھا رہے ہیں۔“بابا نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا

” بابا۔ مجھے صرف ایک بات کی گارنٹی دے دیں ، میں آپ کو سب کچھ کر کے دکھا دوں گا۔“

” کیسی گارنٹی ؟“ انہوں نے سوالیہ انداز میںپوچھا تو وہ جرات مندانہ لہجے میں بولا

” آ پ نے مجھ سے کسی صورت میں بھی ناراض نہیںہونا، کبھی مجھے نافرمان نہیں سمجھیں گے ۔میںصرف تین ماہ میں آ پ کو وہ زمینی حقائق دکھا دوں گا جو سچ ہیں۔“

” تم میری جان ہو پتر، میر ے اکلوتے وارث ، بیٹا میں تم سے کیوں ناراض ہوں گا ، پر مجھے تمہاری کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے ۔“بابا کے لہجے میں شفقت گھلی ہوئی تھی۔

”ابھی میں آ پ کو جتنا بھی سمجھانا چاہوں ، آ پ میری بات سمجھ نہیںپائیں گے۔لیکن ،آپ انعام الحق کو جواب دے دیں۔ میں جویریہ سے شادی ہر گز نہیںکروں گا ۔“ اس نے پیار سے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو بابا نے سوچتے ہوئے کہا

” بیٹا۔! بہت کچھ ختم ہو جائے گا ۔ ایک نئی دشمنی گلے پڑ جائے گی ۔“

” کچھ بھی نہیںہوگا، اگر آپ مجھ پر بھروسہ کریں گے تو۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ، جیسا تم چاہو، اپنا آ نے والا کل تم نے سنوارنا ہے ۔میںنے تو گذار لی ۔“ بابا نے گہری سنجیدگی سے کہا تو وہ بالکل ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے کہا

” تو پھر دیکھئے گا ، علاقے میں ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔“

” چلو دیکھتے ہیں۔“بابا نے اور گہری سوچ میں کھو گئے ۔ انہیں یوں دیکھ کر طاہر نے کہا

” آ پ آ رام کریں۔ “

” نہیںبیٹا، مجھے ابھی کچھ دیر بعد ہی نکلنا ہے ، اسی لئے تمہیںبلوایا تھا۔“

” چلیں پھر بھی کچھ دیر آ رام کرلیں۔“ طاہر نے کہا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔

طاہر کو پوری طرح احساس تھا کہ یہ بات اس کے بابا کی سمجھ میں بالکل نہیںآنے والی تھی۔وہ اب تک جویریہ کو نظر انداز کرتا چلا آ رہا تھا۔ جہاں تک تعلق کی بات تھی ۔ جیسا دوسروں کے ساتھ روا رکھا، اُس کے ساتھ بھی ویسا ہی تھا۔وہ ایک اچھی دوست ہو سکتی تھی لیکن کبھی بھی جویریہ نے متاثر نہیں کیا تھا۔ایسا کیوں تھا، یہ وجہ وہ خود نہیںجانتا تھا ۔

سہ پہر سے پہلے ہی بابا بہاول پورچلے گئے۔وہ اپنے ساتھ کئی سوالیہ نشان لے کر گئے تھے۔ لاہور میں موجود ملازموں سے انہیں پتہ چلا تھا کہ طاہر کے معمولات بدل گئے ہیں۔انہوں نے جب خود ملازموں سے بات کر کے دیکھا تو اس اطلاع کی تصدیق ہوگئی کہ طاہربدل رہا ہے ، لیکن اسے ہو کیا گیا ہے ؟ یہ تبدیلی کیوں ہے ؟ ایسا ہونے کی وجہ کیا ہے؟ انہیں سمجھ نہیں آ ئی تھی ۔

 ز….ژ….ز

 سہ پہر ہو چکی تھی ۔موسم بہت ہی اچھا ہو رہا تھا۔ بارش کے بعد ہر شے دُھل کر نکھر گئی تھی۔آسمان کا نیلگوں پن زیادہ بڑھ گیا تھا۔ جس میں اُڑتے ہوئے پرندے بہت اچھے لگ رہے تھے ۔سبز درختوں کی شادابی گہری ہو گئی تھی۔ گھروں کی ممٹیاں، دیواریں، ان پر کئے گئے رنگ اُجلے ہوگئے تھے ۔ لان میں کِھلے پھول ، پودے اور گھاس کے گہرے رنگ بھی نگاہوں کو اچھی لگ رہے تھے۔ دھول اَٹی سڑکیں تک دُھل کر مزید سیاہ ہو گئی تھیں۔آیت آفس سے آ کر اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی ۔وہ سوچ رہی تھی کہ جس طرح قدرت نے یہ ماحول رنگین بنایا ہوا ہے ، اس سب کو جان بخشنے والی ایک شے ہے ،وہ ہے ہَوا، جو دکھائی نہیں دے رہی۔ کس قدر رنگینی ہے ، صرف ہَوا کی وجہ سے ۔ جس رَبّ نے یہ سب تخلیق کیا ، یہ سارے رنگ اسی نے یہاں اس دنیا کو بخشے ہیں۔ سوچ کا سرا طویل ہوا تو وہ سوچتی چلی گئی کہ رشتے ناطوں کے کیسے رنگ ہوتے ہیں۔انسان سے انسان کے تعلق میں کیسے کیسے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔رنگ صرف دکھائی ہی نہیںدیتے، انہیں محسوس بھی کیا جاتا ہے ۔ فون کی تیز آواز نے اس کا ناطہ خیالوں سے توڑ دیا۔ اس نے مڑ کے دیکھا، فون بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دھرا ہوا تھا۔ وہ وہاں تک گئی تو کال ختم ہو چکی تھی۔اسکرین پر طاہر کی کال آ نے کا عندیہ تھا۔ اس نے کال بیک کر لی ۔

” ہاں جی طاہر جی کیسے ہیں؟“

” میں بالکل ٹھیک ہوں ،ایک مشورہ کرنا تھا۔“ اس نے تیزی سے کہا

” کہو، کیسا مشورہ ؟“ آیت نے پوچھا

” ایسی باتیں فون پر تھوڑا ہوتی ہیں۔ کہیں مل بیٹھتے ہیں۔ میرے ہاں آ جاﺅ، یا میں تمہارے ہاں….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت بولی

” کل آ فس میں آ جانا، وہیں بات کر لیں گے ۔“

” نہیں، آ ج ہی ،ضروری ہے ۔شام سے پہلے میںنے کوئی فیصلہ کرنا ہے۔“وہ اصرار کرتے ہوئے بولا تو آ یت نے سوچتے ہوئے کہا

”اوکے تم پھر ایسا کرو،پارک میں آ جاﺅ ۔ دیکھو موسم کیسا اچھا ہو رہا ہے ۔وہاں بیٹھ کر سہولت سے بات کر لیں گے۔ کیا خیال ہے۔“

” اوکے میں آ رہا ہوں ، اب تم پہنچ جانا۔“ طاہر نے کہا اور جگہ کی نشاندہی کر کے فون بند کر دیا ۔

پارک میں اتنا رش نہیں تھا۔ایسے ہی جیسے معمول تھا۔ وہ کار پارک کے ٹہلتی ہوئی اس جانب بڑھ گئی ، جہاںوہ مل سکتا تھا۔وہ ذرا سا پیدل چلی تو دور ہی سے وہ ہاتھ ہلاتا دکھائی دیا۔ وہ ایک پر سکون گوشہ تھا۔ جہاں لوگ نہ ہو نے کے برابر تھے ۔آیت لکڑی کے بینچ پر پاس جا کر بیٹھ گئی۔طاہر نے منرل واٹر کی بوتل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

” لو پانی پیﺅ۔“

آیت نے وہ بوتل پکڑ لی ۔پھر طاہر کی طرف دیکھ کر بولی

” بات کیا ہے ؟ کیوںپریشان ہو ؟“

” ہوں بھی اور نہیںبھی ۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا

”مطلب کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہو ، لیکن فیصلہ نہیں کر پا رہے ہو ۔“ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولی

” ایسے ہی کہہ لو ۔“اس نے سوچتے ہوئے کہا اور پھر اپنے بابا سے ہونے والی ساری بات بتا دی ۔آیت نے وہ ساری روداد پورے تحمل سے سنی ۔ درمیان میں اسے ٹوکا تک نہیں۔ وہ کہہ چکا تو وہ بولی

”میری سمجھ میں تو یہ بات آ ئی ہے کہ جویریہ کو انکار کرنے کے بعد ہی دشمنی بنے گی ،ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو ، وہ تم سے محبت کرتی ہے تو اتنی کوشش کر رہی ہے ، ورنہ اسے کون سا رشتوں کی کمی ہو گی ۔“

” میں جانتا ہو ، اسے مجھ سے محبت نہیں ، یہ اس کی ضد ہے ، شادی کے بعد ہماری نبھے گی بھی نہیں۔یہ میں جانتاہوں۔“ اس نے یقین سے کہا توآیت نے پوچھا

”پہلی بات تو یہ ہے کہ تم کیوں نہیں کر رہے ہو اس سے شادی ؟“

” کیونکہ وہ مجھے جچتی ہی نہیں۔ میرا دل ہی نہیںمانتا۔“

” دیکھو، دل کے معاملے بڑے ہی عجیب ہوتے ہیں۔جہاں تک جویریہ کی بات ہے ، اس کے ساتھ تمہاری سیاست جڑی ہوئی ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے،کسی بھی طرح کے لالچ، توقعات اور امیدوں کے بغیر ان رشتوں کی شروعات ہونی چاہئے۔ بے غرض اور پر خلوص محبت کے ساتھ۔“ آیت نے اس کی طرف دیکھ کر کہا

” ہونا تو ایسے ہی چاہئے۔ لیکن یہ جو ہمارے ساتھ بندھے ہوئے لوگ ہیں، جن کے ساتھ ہمارا خونی رشتہ ہے، ان کا کیا کروں ، وہ اپنی منوانے پر اُتر آ تے ہیں۔“ طاہر نے احتجاجی انداز میںکہا

” ہاں دو زندگیاںتو خراب ہو تی ہیں جب ان میں محبت ہی نہ ہو تو ایک وقت میںجاکر دوسرا مایوس ہو جاتا ہے۔“ وہ بولی

” مجھے سمجھ نہیںآ رہی ہے کیا کروں۔“ اس نے مایوسانہ لہجے میںکہا

” دیکھو ، اگر گیم وزارت کی ہے تو کوئی بات نہیں، ہم کر لیتے ہیں کوشش، مل جائے گی ۔ مطلب جویریہ کے والد کو اور تمہارے بابا کو احساس ہو جائے گاکہ یہ تم نے ….“ آیت نے کہنا چاہا تو وہ جلدی وضاحت کرتے ہوئے بولا

”کیوں میں تمہاری مدد کیوں لوں، اگر مدد لینی ہے تو جویریہ کیا کم ہے ۔ میں اس طرح کی طاقت بڑھانے میں کسی کا بھی سہارا نہیںلینا چاہتا۔“

” باپ کا سہارا تو لے رہے ہو ۔“ آیت نے نے یہ دھیمے سے انداز میںکہا تھا لیکن طاہر نے یہ دھماکے کی طرح محسوس کی ۔ اسے لگا جیسے وہ اُس پر طنز کر رہی ہے۔ وہ خاموش ہوگیا۔یہ ایک حقیقت تھی۔اگر وہ چاہتا بھی تو تردید نہیں کر سکتا تھا۔اس نے پوری زندگی میں ایک پیسہ بھی نہیںکمایا تھا۔اسے مانگنے کی بھی ضرورت نہیںپڑتی تھا۔ اس نے کہنا بھی نہیںہوتا تھا۔بس اس کے سارے اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔

” تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں ہے۔میں نے کیا بنایا،کچھ بھی نہیں۔“ وہ یوں بولا جیسے خود کلامی کر رہا ہو ۔ چوٹ ذرا گہری ہی لگ گئی تھی۔ جس کا احساس آیت کو بھی ہو گیا۔اس لئے تلافی بھرے جذبات کے ساتھ پر جوش لہجے میں بولی

” تم اب بھی اگر اپنے بابا کی دولت کو سنبھال رہے ہو تو یہ بھی ایک مثبت عمل ہے، کچھ لوگ تو یوں اڑاتے ہیں کہ ….“

” میںجانتا ہوں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔جو سچ ہے اسے سچ ہی رہنے دو ۔“ اس کے لہجے میں مایوسی تھی۔ جیسے وہ خود کو ناکام ترین فرد خیال کر رہا ہو ۔ وہ خاموش رہا تو آ یت نے شرمندہ سے لہجے میںکہا

” میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیںتھا۔ میں….“

”میں تم سے کوئی اور بات کرنا چاہتا تھا لیکن شاید اب مجھ سے وہ نہیںہو پائے گی ۔“ وہ یو ں بولا جیسے خود کو سمجھا رہا ہو۔ تبھی آیت نے خوشگوار لہجے میںکہا

” اچھا موڈ ٹھیک کرو اور بولو ، کیا کہنے والے تھے۔“

طاہر نے اس کی طرف دیکھا۔چند لمحے اس کے چہرے پر غور سے دیکھتا رہا۔ پھر دھیمے سے بولا

” کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ؟“

یہ ایک ایسا سوال تھا، جس پر آیت کو چونک جانا چاہئے تھا۔اس کا کچھ تو ایسا رد عمل ہوتا جس سے یہ لگتا کہ طاہر کی کہی گئی یہ بات غیر متوقع تھی۔اس کا تھوڑا بہت اثر آیت پر ہوا ہے ۔لیکن یہ سن کو وہ یوں رہی جیسے پتھر کی ہو ۔ اس بات نے اس پرذرا سا بھی اثر نہ کیا ہو ۔طاہر اس طرح کے رد عمل پر گڑبڑا گیا۔وہ اس کی طرف دیکھتا رہا کہ وہ کیا جواب دیتی ہے ۔ کچھ دیر یونہی رہنے کے بعد وہ مسکراتے ہوئے صاف گوئی سے بولی

” پہلی بات تو یہ ہے کہ میرا شادی کرنے کا ارادہ ہی نہیںہے ۔ دوسری بات ،تم مجھ سے شادی کرنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ فرض کیا ہماری شادی ہو بھی گئی تو زیادہ سے زیادہ چند ماہ یا ایک برس تک چلے گی ۔اس کے بعد ہم پھر جدا ہو جائیں گے ۔ اس میں سراسر نقصان میرا ہی ہے، تمہارا کچھ نہیںجائے گا ۔“

” یہ تم نے کیسے نتیجہ اخذ کرلیا،کس بنیاد پر ؟“ طاہر جھنجھلاتے ہوئے بولا

” اگر یہی سوال میں تم سے کروں کہ تم نے کس بنیاد پر کہا ، میں تم سے شادی کر لوں ؟“ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا توطاہر نے بڑے اعتماد سے کہا

” اس لئے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔“

” محبت ۔! تمہیں مجھ سے محبت ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ ہلکے سے مسکرائی لیکن خاموش رہی، طاہر بے چین ہو گیا ، کہیں وہ مذاق ہی نہ سمجھ رہی ہو ۔ اس لئے تیزی سے بولا

”میں سچ کہہ رہا ہوں ۔میں ایک لاپرواہ قسم کا غیر ذمے دار انسان تھا، تم سے ملنے کے بعد جب تم دوبارہ نہیں ملی تو میںنے خود میں بہت ساری تبدیلیاں پائیں۔ خود پر سوچا، میں کیا ہوں ،کیاکر رہا ہوں۔ میں دوسرے لوگوں کے بارے میں کتنے غلط اندازے لگاتا ہوں۔پھر جب تم دوبارہ ملی تومجھے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا،مجھے علم ہوا کہ زندگی ہوتی کیا ہے ۔میںنے تمہیں خود سے بڑا قریب سمجھا، اتنا قریب کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ، اس کا مجھے اعتراف ہے۔“

 آیت یہ بات سن کر چند لمحے خاموش رہی جیسے وہ ایسی کسی بات کی توقع نہ کرہی ہو ۔پھر اس نے طاہر کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

”مجھے تمہاری محبت سے بالکل انکار نہیں ہو سکتا اور نہ ہے ۔ ایسی باتیں لڑکیوں کو بڑی متاثر کر تی، کوئی اسے چاہ رہا ہے ، اس کا خیال کرتا ہے، یہ بڑا پر کشش احساس ہے، لیکن ۔! کیا تم جانتے ہو انسانی محبت صرف خوبیوں سے ہوتی ہے؟خامیوں سے نہیں؟“

” میں سمجھا نہیں، کیاتمہارے نزدیک محبت کی کوئی وقعت ہی نہیںہے؟“ طاہر نے غصے میں کہا

” ہے ، کیوں وقعت نہیں ہے۔محبت کے بغیر عشق ہو نہیں سکتا۔پہلے محبت ہوتی ہے اور پھر عشق ہوتا ہے ۔کسی کو خوبیوں خامیوں سمیت چاہنے کا نام عشق ہے ۔“ آیت نے سمجھاتے ہوئے سکون سے کہا

” مطلب تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ تمہارا عشق ہم دونوں کی راہ میں رکاوٹ ہوگا ؟“ اس نے پوچھا

” بالکل ، میں نے تو اپنے عشق کی ماننی ہے ، میں منکر نہیں ہوسکتی،نہ عشق کی نہ مجازی خدا کی۔“ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔ اس پر طاہر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اسے کیا سمجھ رہا تھا، اور وہ کیا تھی ،نئے سے نیا رنگ دکھائی دیتا تھا اس میں۔

 ” تم اپنے عشق کی وجہ سے شادی نہیں کر رہی ہو ، یہی نا؟“

” تمہیں معلوم ہے کہ میںعشق کے کس مقام پر کھڑی ہوں۔ تم جانتے ہو سرمد میرے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے۔“اس نے سمجھاتے ہوئے کہا

” لیکن میں کیا کروں ، مجھے لگتا ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔“ وہ الجھتے ہوئے بولا

”دیکھو، تم بہت اچھے ہو ۔اپنی دنیا میں رہو،یہ پیار محبت اور عشق والے معاملات تمہارے بس کی باتیں نہیں ہیں۔جانے دو ،کوئی دوسری بات کرو ۔“ آیت نے سکون سے کہا تو وہ حیرت سے اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ کافی دیر تک ان میں کوئی بات نہ ہو ئی۔ یوں جیسے خامشی کی بھی اپنی کوئی زبان ہوتی ہے ۔کچھ دیر بعد ہی دونوں کو احساس ہوگیا کہ ان میں مزید گفتگو نہیںہوگی ، اس لئے وہ اٹھے اور پارک سے چل دئیے۔

ز….ژ….ز

وہ ایک اَبر آلود دن تھا۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ذیشان رسول شاہ صاحب اپنے کمرے میں آ کر بیٹھے ہی تھے۔ ایسے میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ انہوں نے سامنے دیوار پر لگے ہوئے کلاک پر نگاہ ڈالی ۔ چند لمحوں بعد دروازے میں سے ایک سفید ریش بزرگ، وہی نوجوان اور اس کے بعد طاہر باجوہ اندر آتے گئے ۔ وہ مصافحہ کر کے سامنے پڑے صوفوں پر بیٹھ گئے۔کچھ دیر تک وہ سب کا حال احوال پوچھتے رہے ۔تازہ حالات و اقعات پر تبصرہ ہوتا رہا۔ تبھی انہوں نے طاہر باجوہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

”کوئی بات ہے آپ کے ذہن میں تو کریں۔“

اس پر وہ چند لمحے خاموش رہا،جیسے بات کہنے کی ہمت کر رہا ہو۔ پھر دھیمے سے لہجے میںبولا

” آپ نے فرمایا تھا کہ ایسا عشق کیسا ہے جس پر عاشق اور معشوق بے رنگ ہو جائیں۔مجھے ابھی یہ بات نہیں سمجھنی بلکہ اس سے پہلے ایک دو باتیں ہیں جو میں سمجھنا چاہتا ہوں۔“

” جی ،فرمائیں ۔“ شاہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا

”جس طرح آپ نے یہ فرمایا تھا کہ پانی میں پانی مل جائے یا بے رنگی میں بے رنگی مل جائے تو اس کی ماہیت میں نہیں ، مقدار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ کیا اسی طرح دو عاشق ایک عشق پر جمع نہیں ہوسکتے، کیاا س کی ماہیت یا مقدار میںکوئی فرق پڑے گا ؟“ طاہر نے بڑی مشکل سے یہ سوال کیا تو شاہ صاحب مسکرا دئیے اور بڑے خوشگوار لہجے میں بولے

” آپ کی بات سن کر ایک شعر یاد آ گیا،اے عشق تری کوزہ گری جانتا ہوں….تو نے ہم دو کو ملایا تو بنا ایک ہی شخص۔“ یہ شعر سنا کر وہ لمحہ بھر رُکے اورپھر بولے ،” آپ کے سوال کا مختصر جواب یہی ہے کہ جی ہاں، جمع ہو سکتے ہیں۔“

” کیسے؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” دیکھیں ، عشق کی اکائی ماسوائے عشق کے دوسری کوئی نہیں ہے۔ انسان کسی بھی مذہب ، مکتبہ فکر ،یاسوچ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس پر ایک شے لازم ہے کہ وہ خود سے پیار لازمی کرتا ہے۔ یہ فطری تقاضا بالکل ایسے ہی ہے جیسے سبھی جانداروں کو پیاس لگتی ہے تو پانی سے پیاس بجھتی ہے ۔اور اس طرح اور بہت ساری باتیں۔ خیر۔! جب کسی انسان کو یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ اپنی ذات سے پیار، محبت ، یا عشق جو بھی ہے ، وہ اس میں محفوظ ہے ،تب وہ دوسری اکائی کے ساتھ رابطہ کرے گا۔ جب اس نے اپنی ذات کا اثبات کیا تو دراصل وہ خود عشق کی اکائی بن گیا۔ عاشق کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے معشوق کو اپنے آپ میں دیکھے۔ ہر جانب محبوب دکھائی دے ۔خود کے ساتھ کیا گیا عشق ،کشش پیدا کرتا ہے ۔اسی طرح دوسرا یونٹ بھی پر کشش ہے ۔ ایک مثبت شے دوسری مثبت شے کے ساتھ کشش رکھتی ہے۔دراصل خود میں ایسی صلاحیت، ایسی کشش یا ایسی تکمیل پیدا کرنی پڑے گی تو وہ جمع ہو نے کی اہلیت میں آ جائے گا ۔ جیسا وہ خود کو بنائے گا ، ویسی ہی اکائی میں جمع ہو جائے گا ۔ یوں عشق کی اکائی خود انسان بن گیا۔جب میں اپنے آپ کو بناﺅں گا تودوسرے کے ساتھ جڑ جاﺅں گا۔ یہی جڑنا ہی توانائی کا منبع بن جاتا ہے۔یہ سلسلہ عالم گیریت سے بھی آ گے نکل جاتا ہے۔“

” عشق کی توانائی ،اس کو آپ ذرا کھولیں۔“ طاہر نے انتہائی سنجیدگی سے درخواست کی تو شاہ صاحب مسکرا دئیے۔ پھر بڑے ہی خوشگوار انداز میں بولے

”پہلی بات تو یہ ہے کہ عشق محض ادبی سوال نہیں ہے۔ بلکہ اسے سمجھنے کے لئے اعلیٰ سائنسی حقائق کو جاننا بھی ضروری ہے۔ہم اسے یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ بنیادی سائنسی حقائق تک پہنچانے والی قوت عشق ہے ۔اب اگر ہم یہ کہیں کہ عاشقوں نے سائنس کے بنیادی حقائق کو تو دریافت کیا لیکن سائنس دانوں نے عشق کو دریافت نہیں تو کیسا ہے ؟“ اتنا کہہ وہ وہ چند لمحے مسکراتے رہے جیسے اس بات کا لطف لے رہے ہوں، پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولے ،”خیر۔!مادے میں جو قوت ہے ،اس میں تغیر ہے، اورجو دل کی طاقت ہے۔اس میں تغیر نہیں ۔ جب من کی طاقت اپنی افعالی صورت میں آ تی ہے تو وہ کئی گنا ضرب کھا کر ایسی حالت میں بھی چلی جاتی ہے، جہاں تغیر نہیں ۔عشق کی طاقت حاصل ہو جانے کے بعد اس پرچیزیں غیر موثر ہو جاتی ہیں۔بات صرف اتنی ہے کہ عشق کی طاقت کو استعمال کرنے کا طریقہ آ نا چاہئے۔“

” یہ سب کیسے ہو جاتا ہے ؟ “ اس نے حیرت سے پوچھا

”معمول سے ہٹ کر وقوع پذیر ہونے والا واقعہ تجسس پیدا کرتا ہے۔ایک عام آدمی کو بات سمجھ میں نہ آ ئے تو وہ اپنے تجسس میں آ گے نہیںبڑھتا۔لیکن ایک سائنس دان اس کے حقائق تک پہنچنے کی پوری کوشش کرتا ہے، کیونکہ ہر شے کی ایک دلیل ہے۔کسی بھی شے کا منطقی انداز میں سمجھنا کہ اسے دوبارہ دہرایا جاسکے، یہی سائنس ہے۔کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو منطقی انداز میں سمجھنا ایک عمل ہے۔اس عمل کے لئے ایک ایسی قوت چاہئے، جس میں جتنی بھی ناکامی ہو ، وہ قوت مایوس نہ کرے بلکہ اسے آ گے ہی آ گے بڑھتے رہنے کا حوصلہ دیتی ہے ۔اور وہ سوائے عشق کے کوئی دوسری قوت نہیںہے۔ ہم پھر وہیں پر آ جاتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے ؟عشق کی افعالی صورت کی انتہا پر معجزہ ہے،پھر اولیاءاللہ کی کرامات ہیں۔ یہ چیز سائنس دان کو بے چین کر دیتی ہے کہ یہ کیسے ہو گیا؟ وہ اسے مادے میں دیکھنے کی کوشش میں جُت جاتا ہے۔اور صوفیاءاسے ’مقام حیرت‘ کہتے ہیں، جہاں سالک روحانی سفر شروع کرتا ہے۔اسے بھی عشق کی قوت ہی درکار ہوتی ہے ۔آپ کے سامنے یہ دنیا ہے ۔ جہاں نت نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔اور یہ انسان ہی کر رہا ہے۔“ شاہ صاحب نے کہا

” تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں مایوسی ہے ، وہاں عشق نہیں؟“ طاہر نے بات سمجھتے ہوئے پوچھا، جس پر شاہ صاحب نے بڑے سکون سے کہنے لگے۔

” بالکل ، ایسا کہیں نہیںہے کہ کوئی سائنس دان سائنسی حقائق کو سامنے لایا ہو اور اس سے پہلے اس کا عشق کاملیت کی جانب محو سفر نہ ہو ۔ ایسا انسان ہی کوئی نئی حقیقت سامنے لاتا ہے۔اس کا کسی مذہب، کسی بھی سوچ اور کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق ہو ،وہ دراصل مقام انسانیت پر کھڑا ہے اور وہ کروڑوں لوگوں کا دُکھ دور کر رہا ہے۔ جس کے اندر وہ قوت ہوگی ، جو دریافت و ایجاد کے لئے ضروری ہے، وہ کچھ نیا کرے گا ۔کوئی بھی کچھ نیا کرنے والا ایک امید لیتا ہے۔اسے آپ مقصد بھی کہہ سکتے ہیں۔نیت کی بنیاد پر سب سامنے آ جاتا ہے ۔“

” محترم شاہ صاحب، سکون کی انتہا عشق کیسے ہو سکتا ہے ، جبکہ عشق بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ آگ ہے،بے چین رکھتا ہے ….“ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا

” بہت کچھ کہا جاتا ہے۔دراصل جب انسان کا اپنا اطمینان موجود ہو تب، جو ماسوائے عشق کے ہو نہیںسکتا۔ کیونکہ اپنے آ پ کے ساتھ جڑنے کا نام سکون ہے۔اب سکون کیا ہے؟ آپ کسے سکون کہتے ہیں؟ “ شاہ صاحب نے کہا تو وہ خاموش ہوگیا۔ جیسے بہ زبان خاموشی یہی کہہ رہا ہو کہ آپ ہی فرمائیں، تب چند ثانئے توقف کے بعد شاہ صاحب نے کہا،”کسی بھی کیفیت کا عرصہ دراز تک قائم رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں سکون ہے،جیسے یہ کائنات کا نظام آپ دیکھ سکتے ہیں۔ایک روش پر قائم ہے ۔اس نظام میںتبدیلی نہیں۔ گویا یہ اطمینان اور سکون پر قائم ہے۔جسے صراط مستقیم کہا جاتا ہے۔سو سال پہلے بھی ایسا ہی تھا، اب بھی ایسا ہی ہے ۔ اسی طرح انسان کی زندگی اور عمر میں یا ایک انسان پچاس سال پہلے بھی اسی قائم تھا ، آج بھی اسی پر قائم ہے،اس میںتغیر نہیںآیا ۔اگر کسی شے کو دوام حاصل نہیں تو اس میں سکون نہیں،دوام ماسوائے عشق میں کہیں نہیں ہے۔“

”حضور پھر عشق کی کیا دلیل ہوگی؟“ ساتھ بیٹھے ہوئے نوجوان نے پوچھا

”عشق ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جس طرح انسان کی دلیل خود انسان ہی ہے اسی طرح عشق بلا دلیل ہے۔ اگر ہم عشق کو دلیل میںلائیں گے تو وہ عشق نہیںرہتا۔کیونکہ جب عشق آ تا ہے تو وہ کوئی وقت نہیںلگاتا،اس میں عالم جاہل کی کوئی تخصیص نہیں۔ جب یہ آتا ہے تو زیر و زبر کر دیتا ہے۔جہاں چھا جاتا ہے ، اپنی حکومت قائم کر کے خود کو منوا لیتا ہے۔ “ شاہ صاحب نے فرمایا تو اس پر وہ نوجوان تو خاموش رہا لیکن وہ بزرگ گفتگو کرنے لگے۔جس کی طاہر کو سمجھ نہیںآ رہی تھی۔ اس لئے وہ اپنی سوچوں ہی میںکھو کر رہ گیا۔

ز….ژ….ز

اس دن شام ہو رہی تھی ، جب آیت النساءآفس سے گھر واپس آ ئی ۔ پورچ میں کار روکتے ہی اسے اپنے دادا دکھائی دئیے، وہ لان میں اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ اس دن شہر کے فائیو سٹارہوٹل میں کاروباری لوگوں کی تقریب تھی۔جس میں حکومتی نمائندے بھی شریک تھے۔ یہ تقریب غیر ملکی کاروباری لوگوں کے اعزاز میں تھی۔ وہاں دادو ہی نے جانا تھا۔وہ ایسی تقریبات میں کم ہی جاتی تھی ۔ اندر جاتے ہوئے اسے یقین ہوگیا کہ اب وہ اس تقریب میں نہیں جانے والے۔ کیونکہ جب بھی ان کے یہ دوست آ تے ،وہ دنیا و مافہیا سے بے خبر ہو جاتے تھے۔ کچھ دیر بعد دادو کا پیغام آ گیا کہ وہ تقریب میں نہیںجا پائیں گے، اب اسے جانا ہی تھا۔

شام ڈھل کر رات میں بدل گئی تھی ۔ جب وہ شہر کے فائیو ہوٹل پہنچ گئی ۔تقریب شروع ہو گئی تھی ۔ اسے پہلے سے مخصوص نشست پر بٹھا دیا گیا۔اسی دوران اس کی نگاہ طاہر پر پڑی، وہ حکومتی لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی۔ آ یت بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ طاہر کی نگاہوں میں اس کے لئے حد درجہ ستائش تھی۔رسمی تقریروں کے دوران وہ آیت ہی کی طرف دیکھتا رہا۔ یہ رسمی سلسلہ ختم ہو ا تو وہاں موجود لوگ اپنی اپنی دلچسپی کے مطابق لوگوں سے ملنے لگے۔ یہاں تک کے وہ ڈنر کے لئے میزوں کی جانب بڑھ گئے۔آیت بھی کاروباری لوگوں کے ایک گروپ میں کھڑی تھی،اس سے پہلے کہ وہ کسی میز کی جانب بڑھتی ،طاہر تیزی سے اس کے قریب آ گیا۔ آیت نے اسے اپنے قریب دیکھ لیا تھا۔ اس نے کچھ بھی کہنے کی بجائے نرمی سے آیت کا ہاتھ تھام لیا۔ پھر اگلے چند لمحوں میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا۔وہ ہاتھ پکڑے رکھتا تو شاید آیت النساءکو اتنامحسوس نہ ہوتا لیکن ہاتھ پکڑ کر جس طرح طاہر نے چھوڑا، وہ محسوس ہوا۔

 کچھ دیر بعد ان کاروباری لوگوں سے بات ختم کر کے وہ دونوں ایک میز کی جانب بڑھ گئے ، جہاں کچھ لوگ مزید بیٹھے ہوئے تھے۔وہاں بھی کاروباری باتیں ہی چلتی رہیں۔ ڈنر کے بعد جب لوگ واپس جانے لگے ۔ تو ایسے میں طاہر نے آیت سے کہا

”کچھ دیر کہیںبیٹھا جائے ، کیا خیال ہے؟“

” تمہارا مطلب ہے یہاں نہیں، کسی اور جگہ ، کہاں جانا ہے؟“آیت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” میرے ہاں ؟“ اس نے تجویز دیتے ہوئے پوچھا

” وہ کسی اور دن چلے جائیں گے، فی الحال یہیں کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔“ آ یت کے صلاح دینے پر طاہر کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔تب وہ مسکراتے ہوئے بولی،”یہاں لاہور میں کوئی سمندر کنارا تو ہے نہیں، لے دے کے ایک دریا ہے ، وہ بےچارا بھی اس وقت ہانپتا ہوا سو رہا ہوگا۔ اُسے کیوں ڈسٹرب کرنا ۔ یہاں کھلی فضا ہے، یہیں بیٹھ جاتے ہیں۔“

”میرے ہاں نہیں تو میں تمہارے پاس….“ اس نے کہنا چاہا تووہ بولی

” آج میرے دادو کے دوست آ ئے ہوئے ہیں۔مناسب نہیں لگتا ۔ویسے خیر تو ہے آج تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو؟ “ اس نے صاف کہہ دیا۔

” اس لئے کہ آج تم بہت اچھی لگ رہی ،لگتا ہے آج تم نے تیار ہونے میں خاصا اہتمام کیاہے۔“ طاہر نے مسکراتے ہوئے کہا

”تمہیں لگ رہا ہوگا ، میں تو ویسے ہی تیار ہوئی ہوں جیسے روزانہ ہوتی ہوں ، ایسا کوئی خاص اہتمام بھی نہیں کیا کہ ماڈل گرل لگوں۔خیر۔! تم وہ بات کرو، جو کہنا چاہتے ہو۔“وہ خوشگوار لہجے میں بولی

” تو چلو پھر وہیں لان میں چلتے ہیں۔وہیں بیٹھ کر باتیں کریں گے۔“ اُس نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔آیت نے چند لمحے سوچاپھر وہیں جا کر بیٹھنے کا عندیہ دے دیا ۔

وہ بڑے سارے لان میں پرسکون گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔موسم کافی اچھا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ۔ہوٹل کی عمارت سے چھن کر آ نے والی روشنی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ لیکن لان میں جوپول لگے ہوئے تھے ، ان پر لگی لائٹس کی روشنی کافی تھی۔ وہاں پر لوگ اتنے زیادہ نہیں تھے۔تھوڑے سے لوگ تھے ، جو دو دو چار کی صورت میں ادھر اُدھر بیٹھے ہوئے اپنی باتوں میں مگن تھے ۔ ویٹر ان کے سامنے کافی کے مگ رکھ گیا تھا۔ کچھ دیر تقریب پر تبصرہ کرتے رہنے کے بعد طاہر سنجیدگی سے بولا

”اچھا سنو۔!جو بات کہنے کے لئے میں سکون سے کہیںبیٹھنا چاہتا تھا۔“

” کہو ، کیا کہنا چاہتے ہو ؟“ آیت نے سکون سے کہا

 ”میںنے جو تم سے شادی کی بات کی ہے وہ مذاق نہیں ہے۔اس پر سنجیدگی سے غور کرو،میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔اگر تم راضی ہو تو میں اپنے بابا کو بھیجوں تمہارے ہاں ؟“ اس نے اپنی کہہ کر پوچھا

”طاہر ۔!میں نے تمہیں سنجیدگی ہی سے جواب دیا تھا۔میںنے کوئی مذاق نہیں کیا تھا۔میرا آج بھی وہی جواب ہے جو اس دن تھا۔“وہ سکون سے بولی

”لیکن اگر میں یہ کہوں کہ دو عاشق ایک عشق پر جمع نہیںہو سکتے ؟ اس پر تم کیا کہو گی؟“طاہر نے اسے لاجواب کرنا چاہا تو وہ ہلکے سے مسکرا دی ، پھر اسی سکون سے بولی

”میں یہی کہوں گی کہ پہلے تم عاشق توبن جاﺅ ، پھر کسی دوسرے کے عشق پر جمع ہو نے کی سوچنا۔“

” میں تیار ہوں ، مجھے آ زما سکتی ہو ۔“ اس نے حتمی انداز میں کہا تو آیت کے چہرے پر مسکراہٹ ویسے ہی رہی ۔اس پر طاہر تلملا گیا۔اس نے کہنا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی وہ بول پڑی

” طاہر ۔! دعوی کرنے اور اس پر عمل کرنے میں بڑا فرق ہے۔ میں بڑی آ سانی سے کہہ سکتی ہوں کہ میں آ گ میں سے گذر جاﺅں گی ، لیکن پتہ اس وقت لگتا ہے ، جب میں آ گ میں سے گذروں گی۔“

”کیا تمہارے ساتھ شادی کرنا آ گ میں سے گزرنے جیسا ہے۔“ طاہر نے زچ ہو کر پوچھا

”شاید اس سے بھی زیادہ ۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی جس پر وہ بھی چپ رہا، تب وہ بولی،” طاہر میں جانتی ہوں عورت اور دولت تمہارے لئے کوئی مسئلہ نہیںہے۔اس کے علاوہ بتاﺅ ، تمہیں مجھ سے کیا چاہئے ؟ کھل کر کہہ دو ۔“

” مجھے کیا چاہئے ، میں اس بارے کچھ نہیںجانتا ، بس مجھے تمہارا ساتھ چاہئے۔“ اس نے یوں کہا جیسے وہ سب کچھ تج دینے کے بعد یہ بات کہہ رہا ہو۔

” میرا ساتھ ،تمہیں میرا ساتھ چاہئے ، وہ تو اب بھی ہے ۔“ وہ کھوئے ہوئے لہجے میںبولی

” نہیں یہ ساتھ نہیں ہے، ایسا ساتھ ، جس میں تم فقط میری ہو جاﺅ ۔“

اس کے یوں کہنے پر وہ ذرا سا مسکرائی پھر بولی

” میں تو پہلے ہی کسی کی ہوں، تمہاری کیا ہوں گی۔عاشق بنتے ہو اور ضد بھی کر رہے ہو ،کمال ہے ۔“

” آ زما لو ۔“اس نے پھر حتمی لہجے میں دعوی کر دیا ۔

” میں خود آ زمائش سے گزر رہی ہوں ، کسی کو کیا آ زماﺅں گی۔میری مانو،اپنی دنیا میں لوٹ جاﺅ ۔ تمہاری دنیابہت رنگین ہے۔کھو جاﺅ اس کے رنگوں میں ، انجوائے کرو۔“ آ یت نے یوں کہا جیسے وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہ رہی ہو ۔

” دیکھو آ یت یہ میںنے فیصلہ کر لیا ہوا کہ اگر شادی ہو گی تو تمہارے ساتھ ورنہ کسی کے ….“ طاہر نے یوں پوچھا جیسے اسے وراننگ دے رہا ہو ۔ اس پر ا ٓ یت النساءہنستے بولی

”عاشق ہونے کا دعوی کرتے ہو اور شرط بھی لگاتے ہو ۔ میں کہہ رہی ہو ں کہ جاﺅ اپنی دنیا میں لوٹ جاﺅ، جو مرضی کرو ۔“

”تم میری کسی بات کو سیریس ہی نہیں لے رہی ہو ، میرے جذبات ہی کو نہیں سمجھ رہی ہو۔“ اس نے یوں منتشر لہجے میں کہا جیسے وہ اپنے من کو فورا ہی اس کے سامنے کھول دینا چاہتا ہو ۔ آیت اس پر خاموش رہی۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی در آ ئی تھی ۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی

” ابھی تم نے بڑے چاﺅ سے میرا ہاتھ پکڑا، لیکن اگلے ہی لمحے چھوڑ دیا، میں پوچھ سکتی ہوں، پکڑا کیوں اور ایسے چھوڑا کیوں؟“

” میں حیران ہوں، تم اتنی برف کیوں ہو ، جیسے تم میں زندگی کی رمق ہی نہ ہو ؟ تمہیں یاد ہے، جب ایک بار جیولر کی دوکان سے اٹھانے کے لئے میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا۔ تب بھی یونہی لگا تھا مجھے، جیسے میں نے کسی ٹھنڈی شے کو ہاتھ لگا دیا ہو۔ یہ ایسا کیوں ہے؟ میں ….“

”مجھے چھو کر پکڑے نہیں رکھ سکتے اور بات شادی کی کرتے ہو ، کیا خیال ہے؟“ آیت نے سکون سے کہا تو وہ حیرت سے بولا

” لیکن یہ ایسا کیوں؟“

” ابھی نہیں سمجھو گے، کچھ وقت لگے گا۔“ آیت نے کہا تو ان دونوں میں یوں خاموشی چھا گئی ، جیسے ان کے پاس مزید کرنے کے لئے باتیں ہی نہ ہوں ۔ وہ کچھ دیر تک بیٹھے رہے ، پھر دونوں ہی اٹھ گئے۔

رات گئے جب آیت اپنے بیڈ پر آ ئی تو پہلی بار اس نے طاہر کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ طاہر نے اپنے جذبات کا اظہار مان پر کیا تھا۔ لیکن اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ آخروہ ایسا چاہتا کیوں ہے؟اسی سوال کی رُو میں وہ بہتی چلی گئی۔

پہلی ملاقات سے لیکر اب تک کا ماضی اس نے دہرایا، کہیں بھی ایسا کوئی مقام نہیںتھا، جہاں پر ان میں ایسے کسی تعلق کا نشان موجود ہو ۔ کہیں کوئی یاد انتظار میں نہیں تھی ۔کہیں کوئی وعدہ منتظر نہیں تھا ۔ کہیں کوئی احساس نہیں ہمک رہا تھا۔پہلی ملاقات سے لے کر اب تک ایک سپاٹ راستہ تھا، جس میں جذبوں کے پھول ایسے نہیں تھے، جن کے رنگوں کی تعبیر وہ ایسے کسی تعلق کی صورت میںکھلے ہوئے ہوں۔اس نے طاہر کے بارے میں ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ لیکن تھوڑی دیر پہلے کی ملاقات کا رنگ ہی کچھ دوسراتھا۔ جس نے آیت کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ طاہر جس منزل کا راہی ہو گیا تھا، اس بارے وہ خوب جانتی تھی ۔ کیونکہ کبھی وہ خود کسی کی نگاہ کا مرکز تھی ، اب اس کا منظور نظر کوئی اور تھا۔وہ ان دونوں راہوں کے ایسے مقام پر تھی، جہاں سے وہ ان رستوں کی مسافت ، صعوبت اور کلفت کو بخوبی جانتی تھی۔وہ مقام عاشقی اور مقام معشوقی کو تسخیر کر کے مقام عشق پر کھڑی تھی۔ایسے بندے کے لئے کسی بھی راہ پر پلٹنا کوئی معنی نہیںرکھتا تھا۔ وہ جب چاہے عاشق بن سکتی تھی اور جب چاہے معشوق ۔مگر اس کے پاس کوئی ایسی وجہ نہیںتھی، جس سے کسی بھی راہ پر جانا اس کی مجبوری ہوتا۔ مگر طاہر کے بارے میں اسے یوں لگا جیسے عشق کی وادی میں کوئی شہزادہ آن وارد ہوا ہو۔یہاں اپنی مرضی سے آیا تو جا سکتا ہے لیکن واپسی کا راستہ ہو نے کے باوجود واپس کوئی نہیںپلٹتا۔اس وادی میں منزل پر پہنچنے کے لئے راہنما کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ بھول بھلیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ وہ اس وادی کی آ شنا تھی۔ راہنمائی تو بنتی تھی۔اب یہ طاہر کا خلوص تھا کہ کس قدر جلدی منزل تک پہنچتا ہے ۔ یہ سوچ کر وہ بے اختیار مسکرا دی۔ وہ عشق کی راہوں پر تھا، اس کی راہنمائی اب آیت کو کرنا تھی ۔ یہ راہنمائی کیسے ہوگی، اس پر بہت دیر تک سوچتے رہنے بعد وہ پرسکون ہو کر سو گئی۔

ز….ژ….ز

سیاست کی دنیا میں ایک طوفان آ گیا تھا۔ جو بڑی تیزی سے اٹھا اور اٹھ کر تھم بھی گیا۔طوفان جب اٹھتے ہیں تو اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے جاتے ہیں۔کہیں تعمیر میں تخریب اورکہیں تخریب میں تعمیر پنہاں ہوتی ہے ۔ سیاست کی دنیا کا یہ طوفان اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے گیا تھا۔ کل تک طاہر رکن اسمبلی تھا، وہ آ ج نہیں رہا تھا۔پوری علاقے کی طاقت کا مرکز سکندر حیات، آ ج محض ایک زمیندار تھا، کوئی حکومتی عہدہ، مراعات یا سہولت اس کے پاس نہیں تھی ۔ وہ حویلی جہاں لوگوں کا رش لگا رہتا تھا، اس دن سنسان تھی۔سکندر حیات سمجھتا تھا کہ ایسی طاقت سمندر کنارے کسی جھونپڑے کی سی ہوتی ہے ، جب چاہے کوئی بھی طوفان اس جھونپڑی کو بہا کر لے جائے ۔وہ جو حوصلے والے ہوتے ہیں یا جن کی مجبوری ہوتی ہے ، وہ ایسے جھونپڑے کی پھر سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ اور جن میں حوصلہ نہیںہوتا وہ کچھ نیا تعمیر نہیںکر سکتے ۔نئے الیکشن کا اعلان ہوگیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی جوڑ توڑ کی سیاست اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی ۔

طاہر اپنے بابا سکندر حیات کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ سکندر حیات کے چہرے پر تفکر کی گہری پر چھائیاں تھیں ۔ جبکہ طاہر کے چہرے پر سکون پھیلا ہوا تھا۔بلاشبہ یہ ان کے اندر کا اظہار تھا۔وہ دوپہر کے وقت لاہور سے بہاول پور پہنچا تھا۔ اس نے یہاں کی ساری صورت حال دیکھ لی ہوئی تھی۔ سر شام جب وہ اپنے بابا کے ساتھ بیٹھا اور کئی ساری باتیں ہو چکیں تواس نے اپنے بابا کو حوصلہ دینے والے انداز میں کہا

  ”بابا آ پ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ میری ایم پی اے شپ ہی ختم ہو ئی ہے نا۔ یہ کون سا مستقل تھی۔ اسے کبھی تو ختم ہونا تھی، اب ذرا جلدی ہو گئی ۔ ہم پھر الیکشن لڑیں گے اور کامیاب ہو جائیں گے۔“ اس پر سکندر حیات نے ایک گہری اور طویل سانس لے کر کہا

” بات یہ نہیں ہے بیٹا۔ یہ سب اچانک ہو گیا، بہت سارے ہمارے اپنے ذاتی ایسے کام تھے، جو اب نہیںہوں گے ۔ اور پھر اب بہت محنت کرنا پڑے گی ۔“

”کام اب نہیںہو پائیں گے تو پھر ہو جائیں گے۔حلقہ بھی وہی اور لوگ بھی وہی ہیں۔آپ فکر نہ کریں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“ اس نے پھر سے اپنے باپ کو تسلی دی ۔

”تمہیں عوامی شعور کا اندازہ نہیں بیٹا۔اب وقت بدل گیا ہے۔کبھی ہوتا تھا، ایک بستی میں سے صرف ایک معتبر بندے کو پکڑتے تھے اور اس پوری بستی کے ووٹ لے لیتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں، ایک بستی ہو یا گاﺅں ، اس کے اپنے ہی ووٹ بکھر گئے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ تا۔ اور پھر وہ لوگ جو کل ہمارے ساتھ چلے تھے، ممکن ہیں آ ج نہ ہوں۔ ان کی دلچسپی کہیںاور ہو جائے۔“ بابا نے اسے زمینی حقائق بتائے

” بابا، یہ ٹوٹ پھوٹ تولگی رہتی ہے کون سی نئی بات ہے۔کچھ جائیں گے تو کچھ آ بھی جائیں گے ۔ “ اس نے پھر امید بھرے لہجے میں کہا تو بابا نے کہا

”اب دیکھو ، یہی انعام الحق، ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے ہمیں بلیک میل کرتا رہا۔اگر تم وقت پر ہاں کر دیتے تو اب ہمیں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اب اس کا کوئی پتہ نہیں،وہ ہماری مخالفت میں بھی جا سکتا ہے۔اس کے پاس جو ووٹ بینک ہے اس کے ذریعے وہ کسی کو بھی جتوا سکتا ہے۔“

” اگر ہم الیکشن ہی نہ لڑیں؟“ طاہر نے دھیمے سے کہا توسکندر حیات کا چہرہ سرخ ہو گیا۔وہ چند لمحے کود پر قابو پاتا رہا ، پھر غصے میں بھرے ہوئے لہجے میں بولا

” یہ کیا بزدلوں والی بات کر دی تم نے،اس علاقے پر ہمارا راج تھا، ہے اور رہے گا ، اس کے لئے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے تو کریں گے۔چاہے تمہیں جویریہ سے بھی شادی کرنا پڑی تو وہ کرو گے ۔ میں یہاں سے اپنا راج نہیں کھو سکتا۔“ بابا نے یوں کہا جیسے وہ اپنے آپ میں نہ رہے ہوں۔“

” آپ کیاسمجھتے ہیں ، یہ جویریہ سے شادی ہی یہاں کے راج کے لئے ضروری ہے ؟“ اس نے پوچھا

” ہاں ، پہلے تو انہوں نے کہا تو مجھے یقین تھا ، لیکن اب شاید وہ ہماری بات نہ مانیں ، کیونکہ میں نے انہیںاب تک جواب ہی نہیں دیا ، اگر کوئی اور ….“ یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئے پھر ایک دم سے بولے،” نہیں میں کروں گا بات ان سے ، ابھی وقت ہاتھ ہی میں ہے۔“

طاہر نے جب یہ سنا تو بے چین ہو گیا۔اسے یقین ہوگیا کہ وقت جویریہ کو اس کے سامنے لے آ یا ہے ۔وہ اس کی مجبوری بن سکتی ہے ۔بابا کبھی ہار تسلیم نہیں کریں گے ۔اپنی جیت کے لئے انہیں جو بھی کرنا پڑا وہ کریں گے ۔ وہ خاموش ہو گیا۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہا کہ بابا کی سنجیدگی کا مطلب گھمبیر حالات کی نشاندہی ہے ، ورنہ وہ پر سکون ہوتے ۔اس نے بابا کی طرف دیکھا، ان کے چہرے پر گہرے تفکر کے آثار تھے۔ پہلے کبھی ایسا ہوجاتا ، تب وہ بلا سوچے سمجھے اپنے باپ پر جان وارنے کو تیار ہوجاتا تھا ۔ لیکن اس بار وہ سوچ میںپڑ گیا تھا۔ اس کا ذہن اور دل مختلف خانوں میں بٹا ہوا تھا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا

” بابا۔! مجھے کچھ وقت دیں ۔میں سوچنا چاہتا ہوں ۔“

” اس میں سوچنے والی کیا بات ہے بیٹا،ہمیں یہ سیٹ دوبارہ حاصل کرنی ہے اور ہر قیمت پر کرنی ہے ۔میں کوئی رسک نہیںلینا چاہتا، میں شکست نہیں دیکھ سکتا۔“ اس کے بابا کی آواز میں شکستگی آ گئی تھی ۔ طاہر کو یوں لگا جیسے وہ اندر سے ٹوٹ گئے ہوں۔ انہیں اپنی شکست صاف دکھائی دے رہی ہو ۔

” ٹھیک ہے بابا، جیسے آ پ کہیں،میں وہی کروں گا ۔“ طاہر نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا تو سکندر حیات نے اس کی طرف دیکھا، چہرے پر خوشی کا کوئی تاثر نہیںابھرا، بلکہ اذیت کا احساس مزید بڑھ گیا۔ انہوں نے مزید کوئی بات نہیںکی اور وہاں سے اٹھ کر اندر چلے گئے۔ وہ بھی کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا ، پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

وہ اپنے بیڈ پر پڑا سوچ رہا تھا۔ اسے بھی اپنے بابا کی طرح پوری صورت حال کااندازہ تھا۔جویریہ کے ساتھ اس علاقے کی حاکمیت پھر سے اسے مل جانے والی تھی ، بڑا آ سان اور شارٹ کٹ رستہ تھا۔ لیکن اس کا اندر نہیں مان رہا تھا۔اس کے سامنے آ یت النساءکی مثال تھی ۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی اس نے بہت کچھ کر لیا تھا۔عورت ہو کر اس نے نہ صرف حالات کا مقابلہ کیا ، بلکہ حالات کو اپنے قابو میں بھی کر لیا۔وہ ایک مرد ہو کر بھی کچھ نہیںکر سکتا، جو وہ چاہتا ہے؟ یہی سوال اس کے اندر کی کشمکش بن گیا۔ اندر سے یہی آواز ابھری

” بات یہاں مرد یا عورت کی نہیں ، اس مقصد کی ہے جو انسان لے کر چلتا ہے ۔آیت النساءکے پاس ایک مقصد تھا، اس نے اس کے ساتھ اپنا آپ پورا لگا دیا ۔ تم نے کیا کیا؟کوئی مقصد ہے تمہارے پاس ؟“

” میرے پاس اگر کوئی مقصد نہیں ہیں تو یہ حالات بھی میرے بنائے ہوئے نہیں ہیں۔“ اس نے خود کو توجیہ پیش کی ۔

” لیکن ان حالات سے نبرد آ زما تمہی نے ہونا ہے ۔“ اسے اندر سے جواب ملا

”ہاں اب مجھے ہی ان حالات کو دیکھنا ہے ، لیکن میں کیا کروں ، مجھے سمجھ میں نہیںآ رہا۔“اس نے خود سے کہا اور پھرچونک گیا۔ اس کے دماغ میں سوچ ابھر آ ئی کہ کیوں نا وہ آ یت سے بات کرے ، وہ اسے کبھی غلط مشورہ نہیں دے گی ۔ وہ تعلق کی اس سطح پر تھی جہاں وہ اس سے ہر طرح کی بات کر سکتا تھا۔وہ بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔اس نے چند لمحے سوچا اور پھر فون اٹھا کر آیت کو کال کر دی ۔ چند بیل جانے کے بعد فون پک کر لیا گیا۔

”طاہر خیریت، اتنی رات گئے فون کیا ہے ؟“

” میں تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔“ اس نے کہا

” کوئی بات رہ گئی تھی کیا، ابھی سہ پہر کو اتنی باتیں تو ہوئی ہیں۔“ ا س نے یاد دلایا

” وہ تو ….خیر چھوڑو، میں ایک مشورہ کرنا چاہ رہاہوں۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

” تو کسی سمجھدار بندے سے مشورہ کرو ، میرے ساتھ ….“ اس نے خوشگوار لہجے میں کہنا چاہا تو طاہر نے بات کاٹتے ہوئے کہا

” پلیز ۔! میں الجھن میں ہوں ، بڑے گھمبیر حالات میں ہوں ۔“

” اچھا کہو ۔“ اس نے جواب میں کہا تو طاہر نے اپنے بابا سے ہونے والی ساری بات دہرا دی ۔ تب اس نے کہا،” تم کیا چاہتے ہو ۔“

”میں یہ سیٹ جیتنا چاہتا ہوں ،لیکن جویریہ والی شرط کے بغیر ۔“اس نے صاف کہہ دیا

” تو پھر اتناپریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔ڈٹ جاﺅ ، اوراپنا آ پ ثابت کردو ۔“ آیت نے اطمینان سے کہا

”کیسے کوئی راہ بھی سمجھائی دے ۔“ اس نے اُلجھتے ہوئے کہا تو آ یت خوشگوار لہجے میں بولی

” خود کو عاشق بھی مانتے ہو ، اورحالات سے بھی گھبرا گئے ہو ۔سنو ، جو عاشق ہوتے ہیں،ان کی راہیں بڑی کٹھن ہوتی ہیں۔لیکن عشق انہیں راستہ دکھاتا ہے ۔اب اپنے عشق کو آ زماﺅ ، عشق طویل سفر کو بھی کم سفر راستہ بنا دیتا ہے ، یہ حالات تو کچھ بھی نہیں۔“

”میں سمجھا نہیں۔“ اس نے منتشر لہجے میں کہا

” کیا تم اپنے باپ کی شکست دیکھنا چاہتے ہو ؟“

” نہیں کسی قیمت پر بھی نہیں۔“ اس نے پرجوش لہجے میں جواب دیا

”تو پھر اپنے راستے خود بناﺅ۔رکاوٹیں بہت ہوں گیں، اتنی رکاوٹیں کہ تم دل برداشتہ ہو جاﺅ گے ،انہی حالات میں ثابت قدم رہ کر اپنا مقصد حاصل کرنا عشاق کا شیوہ ہے۔“آیت نے لفظ لفظ پر زور دیتے ہوئے

” میں سمجھ گیا۔میں خود کو آزماﺅں گا، لیکن کیا تم میرا ساتھ دو گی ؟“ طاہر نے دبے دبے جوش سے کہا

”کیوں نہیں، تم اگر چاہو تو میں ہرممکن حد تک ، جو مجھ سے ہوسکا میں تمہاری مدد کروں گی۔“ آیت نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

” پوری دنیا میں اس وقت اگر کوئی میرا مرکز ہے تو وہ تم ہو ، میں تم سے مدد چاہتا ہوں ، بولو مجھے کیا کرنا ہے؟“ طاہر نے یوں کہا جیسے اس میں ایک نئی زندگی در آ ئی ہو تو آ یت نے حوصلہ افزا انداز میں کہا

” میں سب سے پہلے یہی کہوں گی کہ تم صرف ایک سیٹ پر نہیں دونوں سیٹوں سے الیکشن لڑو، اپنی منزل اور مقصد بڑا رکھو ،بابا سے کہہ دو کسی سہارے کے بغیر تم الیکشن لڑو گے اور جیت کر دکھاﺅ گے ۔“

” ڈن ہو گیا۔“طاہر نے کوئی لمحہ ضائع کیئے بنا فوراً کہہ دیا ۔

” کاغذات جمع کروا دو ، اور اپنا کام شروع کرو ۔ان شاءاللہ جیت ہماری ہوگی ۔“ آ یت نے عزم سے کہا تو وہ بولا

” ہوگی اور ضرور ہوگی ۔“

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر مزید اسی موضوع پر بات کرتے رہے پھر فون بند کر دیا ۔ طاہر میں ایک نیا ولولہ پیدا ہو چکا تھا ۔اسے یوں لگا جیسے جیت اس کے قدموں میں آن پڑی ہو۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد ..  قسط نمبر5 ۔

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد  قسط نمبر5 ۔ چَل آ اِک ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے