سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ماہ کے منظوم قہقہے۔۔ ظفر نوید کیانی

اس ماہ کے منظوم قہقہے۔۔ ظفر نوید کیانی

 

تم نے جب چھوڑ دیا ساتھ دواخانے میں

نرس نے تھام لیا ہاتھ دوا خانے میں

وہ بھی آتے ہیں علاج اپنا کرنے کے لئے

روز ہوتی ہے ملاقات دواخانے میں

بن سنور کر وہ چلے آئے عیادت کو مری

مشتعل ہو گئے جذبات دواخانے میں

”ڈاکٹرنی“ کی سمجھ میں نہیں آئی یارو!

غالباً دل کی مری بات دواخانے میں

آپریشن جو کیا پیٹ سے میرے نکلے

سرجری کے کئی آلات دواخانے میں

اُٹھ کے بستر سے کھڑے ہو گئے بیمار سبھی

آپ آئے جو مرے ساتھ دواخانے میں

خوف و دہشت سے بندھی جاتی ہے گھگھی شانہ

شب کو منڈلاتے ہیں جنات دواخانے میں

اقبال شانہ

اس لیے صورت ہے مرجھائی بہت

ہو گئی ہے پھر سے مہنگائی بہت

کر دیا چپ خوفِ بیگم نے ہمیں

”تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت“

اُس کے چہرے پر نظر رکتی نہیں

اُس کے چہرے پر ہے چکنائی بہت

بیوی بس اُس کا تو کچھ مت پوچھیے

ہاں مگر اچھی ہے ہمسائی بہت

ہم نے ہر افسر کو راضی کر لیا

ایک رشوت اپنے کام آئی بہت

شعر تو استاد اچھا ہے مگر

ایک مصرع کی ہے لمبائی بہت

خاوری

یاد ہم کر کے جن کو روتے ہیں

وہ تو پطرس کو پڑھ کے سوتے ہیں

شعبہ عشق کے بنے ہیں امین

قیس و لیلی کے جتنے پوتے ہیں

جن کے جبڑوں میں ایک دانت نہیں

ان کے گھر میں کئی سروتے ہیں

دل کے ننھے فلیٹ میں عشاق

مہ جبینیں کئی سموتے ہیں

گیدڑوں میں یہ چھڑ گئی ہے بحث

شوہروں میں بھی شیر ہوتے ہیں؟؟

چائے میں بسکٹوں کی طرح عزیز

کب پکوڑوں کو بھی ڈبوتے ہیں

ڈاکٹر عزیز فیصل

شادی کی مبارک

—————-

سہرے کی یہ لڑیاں تمہیں مبارک ہوں

یہ شادی کی گھڑیاں تمہیں مبارک ہوں

لو آج سے کل سر دردی ختم ہوئی

راتوں کی آوارہ گردی ختم ہوئی

یہ رنگین ہتھ کڑیاں تمہیں مبارک ہوں

ٹوٹ گئی مغروری،مٹا تکبر ہے

آج سے ترلے منت تیرا مقدر ہے

روسے،اڑیاںتمہیں مبارک ہوں

یار پرانے، پارٹیاں سب چھوٹ گئیں

آج سے چکن کڑاہیاں،چانپیں روٹھ گئیں

آلو بینگن ،وڑیاں تمہیں مبارک ہوں

جو چاہو گے ملے گا لیکن عرضی سے

سب کچھ گھر میں ہوگا ان کی مرضی سے

گلاں،پھجیاں ،سڑیاں تمہیں مبارک ہو

سہرے کی یہ لڑیاں تمہیں مبارک ہوں

یہ شادی کی گھڑیاں تمہیں مبارک ہوں

شہباز چوہان

اشتہار

——

ضرورت ہے ہمیں اِک خوبرو کمسن حسینہ کی

کہ جس کی ڈیوٹی ہو گی ہمارے گھر کی رکھوالی

اِسے باورچی خانے کے بھی سارے کام کرنے ہیں

سویرے ناشتے کے سب ہی اہتمام کرنے ہیں

ہمیں پھر ناشتے کے بعد تازہ چائے مل جائے

کلی دل کی ہمارے چائے پینے سے ہی کھل جائے

ہمارے ناشتے کے سارے برتن دھو چکے جب وہ

ہمارے ناشتے سے ایسے فارغ ہو چکے جب وہ

صفائی میں ہمارے گھر کی وہ مصروف ہو جائے

بس اپنا آپ بھولے اور کچھ ایسے وہ کھو جائے

اسے بس مالکن کی تان پر لبیک کہنا ہے

بُرا ہو یا بھلا جو کچھ کہیں بس ہنس کے سہنا ہے

ہمیں دفتر کے کاموں میں ذرا سی دیر ہو جائے

تو اپنی مالکن سے کہہ کے وہ پیغام بھجوائے

کہاں پہنچے ہیں مالک مالکن بھی راہ تکتی ہے

کچھ ایسی بیکلی ہے وہ مجھے ہر دم جھڑکتی ہے

ہماری شام کو رنگیں بنانے میں وہ ماہر ہو

بنائے چائے کچھ ایسی کہ اُس کی شان ظاہر ہو

تھکن ساری ہماری چائے پینے سے اُتر جائے

ہمیں چائے پلائے اور پھروہ اپنے گھر جائے

یہ جتنی خادمائیں مالکن نے گھر میں پالی ہیں

یہ سب بدشکل ہیں اور سب زمانے سے نرالی ہیں

کسی کی عمر پچپن سال ہے اور پانچ بچے ہیں

کوئی کالی بھجنگ اور سامنے کے دانت کچے ہیں

وہ ایسی صورتیں جانے کہاں سے ڈہونڈ کر لائیں

کہاں سے اور کس مقصد سے اِن کو گھر پہ لے آئیں

ہمارے سامنے وہ کوستی ہیں ان کو تو ہر دن

مگر فارغ کریں ان کو ، نہیں ایسا نہیں ممکن

اِسی باعث تو ایسا ایڈ ہم تدوین کر بیٹھے

جسے پڑھتے ہی کوئی خوبرو آ جائے گھر بیٹھے

محمد خلیل الرحمٰن

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

    آکر مری آنکھوں کو ذرا دیکھ ستمگر ہیں تیری محبت میں ابھی خشک، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے