سر ورق / افسانہ / پانی کی سطع ۔۔ مشرف عالم ذوقی

پانی کی سطع ۔۔ مشرف عالم ذوقی

پانی کی سطح

                                                                                    مشرف عالم ذوقی

‘اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی‘

—بائبل سے

ایک برہمن تھا۔ ایک مسلمان، ایک دلت تھا۔

 شہر میں درخت لگانے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی حفاظت کے لئے ‘باڑ’ یا فارم بنائے جا رہے تھے۔ یہ کہانی وہیں سے نکلی، جہاں کانٹا چبھنے کے بعد ایک ننہا برہمن طیش میں آ گیا اور کانٹوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔ سال گزرے، صدیاں گزر گئیں۔ نہ کانٹے کم ہوئے نہ کانٹوں کی تلاش میں آنکھوں کی چبھن میں کوئی کمی آئی۔

وقت کو گواہ بنایا جائے تو یہ وہی وقت تھا، جب کانٹوں کی جڑوں تک پہنچنے اور غیر ضروری کانٹے نکالنے کا کام زور شور سے جاری تھا۔ سیاست کی سرخ زمین تھی اور زنگ آلود تلوار پر چمکتے ترشول بھاری پڑے تھے۔ یہ وہی وقت تھا جہاں انسانوں کے مقابلے جانوروں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔

وقت بہت سی باتوں کا گواہ تھا۔ زمین تپ رہی تھی۔ آسمان سے آگ کے شعلے برس رہے تھے۔ تلوار کے چلانے والے سہمے ہوئے تھے۔ جارج آرول کا اینمل فارم جاگ گیا تھا۔ گولیور کے، گھوڑوں کے ملک میں جشن منایا جارہا تھا۔ الفاظ نے اقتدار کی حکمرانی قبول کر لی تھی۔ اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔

ll

پرجاپتی شکلا اور تارا شکلا

تارا شکلا کو پہلے پانی کی قوت کا اندازہ نہیں تھا۔یہ سوچنا بھی دشوار تھا کہ ایک دن پانی بڑھتے بڑھتے پہلے گردن پھرسر تک آجائے گا۔ یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایک دن اندر کی گھٹن اس حد تک بڑھ جائے گی کہ اس سے باہرنکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

 پرجاپتی شکلا کو پورا بھروسہ تھا اپنی بیٹی پر۔ ’میرے پر گئی ہے۔ بالکل اپنے باپ جیسی۔ خالصتا ًپانی میں رچی بسی۔‘

’پانی‘

’ہاں بھئی ہاں، ذات تو پانی کی دیکھی جاتی ہے´‘

’پانی مطلب کہاں کا پانی ہے بھائی؟ جیسا پانی، ویسی عقل‘

ll

پرجاپتی کہاں سے آئے تھے یا تشریف لائے تھے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ پریاگ کا پانی راس آیا توآبا واجداد وہیں کے ہو رہے — پھر مل گئی ٹیچری۔ چلے آئے دلی۔ پرانا بھولتے دیر ہی کیا لگتی ہے۔ اب جب دیکھو پانی کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ گنگا میلی ہو گئی۔ جمنا کے پانی میں گندگی آ گئی۔ بنارس کے گھاٹوں کا برا حال ہے۔ دلی کے بارے میں پرجاپتی کا اپنا خیال تھا۔ سمندرمنتھن کے بعد دیوتاﺅں کے کلش کے پیچھے راکشسوں کے گناہ کا گھڑا بھی آ رہا تھا جو درمیان میں ہی پھوٹ گیا اور ساری مصیبت دلی پر آ گری۔

راکشس دلی میں رہ گئے۔ دیوتا دلی سے بھاگ گئے۔

لیکن تب تک دیوتا دلی سے نہیں بھاگے تھے۔ پرجاپتی دلی میں رہ کر پریاگ کی یاد تازہ کرتے رہتے۔ جی میں آتا تو کوسنا بھی دیتے کہ وہیں اگر سب کچھ مل جاتا تو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر آہستہ آہستہ پریاگ ان کے دل و دماغ سے نکلتا چلا گیا۔ پریاگ تو نکل گیا مگر اندر بیٹھا برہمن، معاشرے سے سیاست تک کی آلودگی پر آنسو بہاتا رہتا۔ کبھی کبھی تارا ٹوک دیتی۔ ’یہ کیا اونچی ذات اور نیچی ذات میں الجھے رہتے ہو بابا۔‘

پرجاپتی کے اندر کا پانی شعلہ بن جاتا۔ ’پاگل ہوئی ہے کیا۔ یا دلی آ کر مت ہی ماری گئی۔ اسی لئے تو دلی کا سروناش ہوا۔ بار بار لٹی یہ دلی۔ کہاں کہاں سے کمینے آکر بس گئے دلی میں۔‘

’ایک کمینے ہم بھی‘ تارا شکلا نے قہقہہ لگایا۔

’ارے چپ کر۔ ہم ٹھہرے برہمن۔ دلی کو پاک کرنے آئے ہیں۔‘

’اور جو ہم ہی غلط ہو گئے تو ….؟‘

’کیا—؟‘ زور سے چیخے پرجاپتی۔ تارا ہنستی ہوئی بھاگ گئی تھی۔ لیکن تارا کی آواز دیر تک ان کے کانوں میں گونجتی رہی۔ بچپن یاد آ گیا۔ کتنی یادیں تازہ ہو گئیں۔ میلا ڈھونے والا کیشو اور اس کی عورت یاد آ گئی۔ بابا ان دونوں کو پشاچ کی اولاد کہتے تھے۔ جہنم برادری۔ ڈیوڑھی تک چھو نے کی اجازت نہیں تھی۔ بابا کی نظر میلا ڈھوتے ہوئے پڑ جاتی تو دوبارہ غسل کرنا پڑتا۔ تب ٹائلیٹ ایسے پکے ہائی اسٹائلش کہاں ہوا کرتے تھے۔ میلا ڈھونے والا نہیں آتا تو باہر گلی میں پائخانہ بہتا رہتا تھا۔ ان گلیوں سے گزرنے والے، گندی گالیوں کا تحفہ دے کر جاتے لیکن بابا کو اس سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ بابا کہتے تھے، وہ سب سے بہتر ہیں۔ وہ ویدوں کے جانکار ہیں۔ برہمن نہ ہوتے تو یہ سماج بھی نظر نہیں آتا۔ بابا کا خواب سارے جہاں میں شاستروں کے مذہب کو پھیلانے کا خواب تھا۔

پریاگ سے دلی تک دھند کی ایک گہری لکیر چلی گئی تھی۔ دلی تک آتے آتے مذہب، عقیدے، روحانیت پر لہراتے سیاست کے بادل تھے۔ وقت کے ساتھ پرجاپتی کو یہ نصیحت مل گئی تھی کہ بھگوان کا احساس کرنے کے لئے موہ کو قربان کرنا ہوتا ہے۔ موہ کو قربان کرنے کے لئے پریاگ کو چھوڑ دیں گے، یہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

ll

وقت کی سیاہ یادوں میں وہ منظر اب بھی محفوظ ہے، جب انہوں نے روزگار کے لئے پریاگ چھوڑنے اور راکشسوں کی نگری دلی جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بیوی کی اچانک وفات کے بعد تارا کو ایک محفوظ زندگی دینے کا خواب تھا۔ دلی آکر لگاکہ ورن اورگوتر کی رسمیں صرف سیاست تک محدود ہیں۔ ہے بھگوان۔ برہمن اور دلت ساتھ ساتھ وہ بھی ایک ہی ٹےبل پر بیٹھ کر کھان پان کرتے ہوئے۔ مذہب کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بابا یاد آ گئے۔ اب اسی دلی میں آہستہ آہستہ ان کی جڑیں جمنے لگی تھیں۔ اسکول میں ٹیچری مل گئی۔ تارا بھی پڑھنے جانے لگی۔ وقت گزرا تو دل پر پتھر رکھ کر پریاگ والا مکان بیچ دیا۔ بین الاقوامی بینک سے لون لے کر دلی میں ایک اچھا سا فلےٹ خرید لیا۔ خواب تھا، تارا کو خوش دیکھنا۔

پرجاپتی شکلا کو تب تک پتہ نہیں تھا کہ خواب تک جانے والے راستے کبھی کبھی زخمی بھی کر دیتے ہیں۔ تارا نے ایم بی اے کیا پھر ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرنے لگی۔وہیں تارا کی ملاقات حسن سے ہوئی تھی۔ حسن فرخ— اس دن بالکنی سے باہر گدھ کو منڈراتے دیکھ کر محسوس ہوا، کچھ انہونی وانے والی ہے۔ دیوتا غائب تھے۔ منتھن سے نکلا ہوا زہر سامنے تھا۔

lll

تارا شکلا نے جو کچھ کہا، اس کے بعد ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ وہ تھوڑا سا لڑکھڑائے۔ خود کو سنبھالا۔ تارا کی طرف دیکھا۔ دبی زبان میں بولے— ’زندگی کا فیصلہ ایسے ایک جھٹکے میں نہیں کیا جاتا بیٹی۔‘ تاہم وہ خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کر رہے تھے، لیکن حقیقت تھی کہ ان کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل چکی تھی۔کشناگ علاقائی بادشاہ کوشامب نے گھرتاچی نام کی عورت سے سو کنیائیں پیدا کی تھیں۔ یہ کنیائیں وایو دوش سے کبڑی ہو گئیں۔ تارا اس وقت کبڑی لڑکی کے طور پر دکھائی دے رہی تھی۔

سیاست میں یہ وقت مسلمانوں کے لئے اتھل پتھل کا وقت تھا۔ پرجاپتی شکلا مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔ اس وقت مسلمان پوری دنیا میں مارے جا رہے تھے۔ پرجاپتی کو لگتا تھا، اچانک یہ پورا ملک بھی مسلمانوں کی مخالفت میں کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو کٹوا کہتے تھے۔ جانور کاٹنے والے، گوشت خور، بیویوں کو تین طلاق کہہ کر چھوڑنے والے، چار چار شادیاں کرنے والے۔ انہیں محسوس ہوا، یہ سب تارا کے ساتھ بھی ہوگا۔ وایو دوش کا اثر تارا کو کبڑی بنا دیگا۔

وہ اس خبر کو سن کر سناٹے میں آ گئے تھے۔ اس وقت انہیں ایسا لگ رہا تھا، جیسے ان کا سارا گھر سلاٹر ہاوس بن گیا ہو۔ گھر سے مدر ڈیری جاتے ہوئے راستے میں حلال میٹ شاپ کی دکان نظر آتی تھی۔ وہ اس دکان سے آنکھیں بند کئے گزر جاتے۔ سن رکھا تھا، میٹ شاپ چلانے والا قریشی ہے۔ ہندو بھی اس کی دکان سے گوشت خریدتے ہیں۔ پڑوس کے لالہ جی، شکلا جی کی معصومیت پر قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔

’رام نومی کے دن قریشی دکان بند رکھتا ہے۔‘

’کیوں؟‘

’گوشت نہیں بکتا۔‘

’تو کیا مسلمان رامنومی میں گوشت نہیں کھاتے؟‘

’آپ بھی نا شکلا جی۔‘ لالہ جی زور سے ہنسے۔ ’مسلمان کیا گوشت خریدیںگے۔ قریشی بتاتا ہے کہ گوشت کی اصل فروخت ہندوو ¿ں سے ہوتی ہے۔ ہندو سب کھاتے ہیں لالہ جی۔‘

ll

سلاٹر ہاوس کے رجسٹریشن کو لے کر طوفان مچا تو قریشی کی دکان مہینوں بند رہی۔ وہ خوش تھے کہ اب اس جانب سے آنکھیں بند کر کے جانا نہیں پڑے گا۔ اچھا ہوا۔ کمبخت خود ہی چلا گیا۔ یہ ہندوستانی تاریخ کا بھی نیا موڑ تھا جہاں نئی سیاست کے سرخ صفحات کو دیکھنے اور پڑھنے کے باوجود بھی انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ کبھی کبھی تارا بٹیا کی بات سن کر چونک جاتے۔ راتوں کو دیکھتے، بٹیا خاموشی سے اندھیرے کمرے میں ٹہل رہی ہے۔ وہ بابا کے منہ سے تقسیم کی سینکڑوں کہانیاں سن چکے تھے۔ طاقت ہر بار اقتدار پر بھاری پڑتی ہے۔ اقتدار اس بار آٹھ سو برس کے طویل وقفے کے بعد انہیں حاوی ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ لہذا میڈیا سے اقتدار تک انہیں کہیں کوئی عیب نظر نہیں آ رہا تھا۔ لیکن تارا نے اچانک انہیں لہو لہان کر دیا تھا۔ اس وقت سارا گھر انہیں ہلتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اور اس سے بھی زیادہ، کیفیت یہ تھی کہ دھند میں گوشت کاٹتا ہوا قریشی ان کی نظروں کے سامنے تھا۔ گھر میں اچانک گوشت کی بدبو بھر گئی تھی۔ وہ اٹھے۔ وہی کیا جو ایسے موقع پر بابا کرتے تھے۔ جی بھر کر غسل کیا۔ واپس آئے تو تارا وہیں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ خاموشی سے آکر پاس بیٹھ گئے۔ اس معاملے کو نظر انداز کرنا آسان نہیں تھا۔ ٹھیک یہی وقت تھا، جب مسجد سے لاوڈ سپیکر پر اذان کی آواز انہیں سنائی دی۔ یہ آواز انہیں زہر لگتی تھی۔ ایک بار تارا سے اذان کا تذکرہ کیا تو تارا کاٹ کھانے کو دوڑی۔ ’تمہارا کوئی کام بغیر لاوڈ اسپیکرز کے ہوتا ہے کیا؟ جاگرن کرتے ہو تو ساری رات لاوڈ اسپیکر بجتا ہے۔ اب لگ رہا تھا، بابا کی طرح وہ گھر میں ایک محدود دائرہ کھینچنے میں ناکام رہے۔ بٹیا نے آسانی سے اپنی آزادی میں دوسرے مذہب کو جگہ دے دی اور انہیں پتہ بھی نہیں چلا۔ انہوں نے تارا کی طرف دیکھا، آہستہ سے بولے۔

”تم نے سب سوچ لیا ہے؟“

’سوچنا کیسا؟‘

’اوہ-‘ تارا کایہ سوال انہیں مایوس کر رہا تھا۔ انہوں نے ہمت بٹوری۔ ‘تم اس کا انجام جانتی ہو نا؟’

’ہاں۔‘

انہوں نے سر کو جنبش دی- ‘نہیں جانتی ہو۔ یہ تو جانتی ہو نا، اس وقت کیسی ہوا چل رہی ہے؟ ‘وہ لو جہاد کا نام لیتے ہوئے ٹھہر گئے۔

بٹیا نے ان کی طرف دیکھا۔ ‘تو آپ ڈررہے ہیں؟’

‘نہیں۔’

‘نہیں، آپ ڈررہے ہیں’ وہ ہنسی- ‘آپ اپنے ہی لوگوں سے ڈررہے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آپ کو بھی قتل کر دیں گے۔’

‘کیا؟’

پرجاپتی شکلا نے اس سے قبل مرنے والی بات نہیں سوچی تھی۔ لیکن یہ سچ تھا۔ اس وقت ملک میں ایسے کئی حادثے ہو چکے تھے۔ لیکن یہ حادثے پرجاپتی شکلا کو غلط نہیں لگتے تھے۔ وہ اسے ایک طرح کا رد عمل مانتے تھے۔ تاریخ کے صفحات پر ایسی کئی وحشتیں آباد تھیں۔ ان وحشتوں کی کہانیاں سنتے سنتے وہ بڑے ہوئے تھے۔ تغلق، خلجی سے لے کر بابر اور اورنگ زیب تک۔ ان کے پاس ایک تسلی تھی، کیا یہ سب صرف یہاں ہو رہا ہے؟ اس وقت ساری دنیا ان کے خلاف ہے۔ یہ عمل کے برعکس ایک رد عمل ہے۔ ایسا ہونا تھا، اور جو تشدد کرتے ہیں، تشدد ایک دن ان کے گھر کا راستہ بھی تلاش کر لیتی ہے۔ انہوں نے سر اٹھایا۔ بٹیا آنکھیں گڑائے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔

‘آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ دہشت گرد کیسے بن گئے؟ ‘

‘ردعمل …. وہ کہتے ہوئے ٹھہرے۔ بٹیا نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا۔ وہ غصے میں کہہ رہی تھی۔ ‘آخر آپ جیت گئے۔ تلوار کی جگہ ترشول اٹھا لیا۔ پہلے پیچھے سے وار کرتے تھے۔ اب آگے سے کرنے لگے۔ آپ جانتے بھی ہیں، اس وقت ملک میں تیزی سے ایک بدبو پھیل چکی ہے۔ آپ محسوس نہیں کریں گے۔ اخبار سے ٹی وی تک آپ نے ان سے سب کچھ چھین لیا ہے۔ جانتے بھی ہیں، وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں؟ ”

پرجاپتی شکلا اس بار غصے سے بولے۔ ‘طرفداری مت کرو۔ محبت پر نقاب مت چڑھاﺅ۔ ‘

‘نقاب؟’ تارا چونک گئی۔

وہ ہنسے -‘ایک دن تمہیں بھی نقاب پہننا ہوگا۔ ‘

‘نہیں’

‘کیوں؟’

‘اسے نقاب پسند نہیں۔’

‘اچھا، گوشت کھانے والے کو نقاب پسند نہیں؟’

‘وہ گوشت نہیں کھاتا۔’

پرجاپتی شکلا اپنی جگہ غصے سے اچھلے- ‘کیا فالتو بات ہے۔ مسلمان ہو کر گوشت نہیں کھاتا؟ ‘

‘بچپن میں اس کے گھر والوں نے ایک بکرا پالا تھا۔ بقرعید میں اس نے بکرے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس کے بعد سے گوشت نہیں کھاتا۔ ‘

‘وہی تو …. کٹوے ۔۔۔ ایک کے نہیں کھانے سے کیا ہوگا؟’

پرجاپتی شکلا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ کشمکش کی حالت میں تھے۔ کھیل بگڑ چکا تھا۔ تارا نے فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ اب کچھ زیادہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ پھر بھی جی سخت کر کے پوچھ ہی لیا۔

‘یہ سب ہوا کیسے؟’

‘مطلب؟’

‘محبت؟’ پرجاپتی شکلا نے سر جھکا لیا۔

‘اس کی وجہ پانی ہے۔’

‘پانی؟’ پرجاپتی پھر اپنی جگہ سے اچھل گئے۔ ‘وہ کیسے؟’

انہوں نے بیٹی کی طرف دیکھا۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے بولنا شروع کیا…. ‘میں پہلی بار اس کے گھر گئی تھی۔ اس نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔ پھر میرے لئے پانی لایا۔ پانی کا گلاس میری طرف بڑھانے سے پہلے اس نے دونوں ہاتھوں کو جس عقیدت سے پھیلایا اور دائیں ہاتھ سے گلاس میری طرف بڑھا، یہ میرے لئے ایک حیرت انگیز لمحہ تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، تم لوگ ایسے کسی کو پانی دیتے ہو؟ اس کا جواب تھا ۔۔۔ جی ہاں، ہم مہمانوں کو پانی پیش کرتے ہوئے اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتے ہیں۔ ‘

‘بکواس’ پرجاپتی شکلا تیز آواز میں بولے۔ ‘سب ہم سے چھینا۔ سب ہم سے سیکھا۔ تم نے سنا نہیں۔ اتیتھی دےوو بھوا۔ ہمارے یہاں مہمان کو خدا کہا جاتا ہے۔ ‘

پرجاپتی کچھ دیر تک کمرے میں ٹہلتے رہے۔ کمرے سے گوشت کی بدبو کسی حد تک ختم ہو چکی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس وقت ان کے انکار کا مطلب کیا ہو سکتا ہے، وہ آہستہ سے بولے۔

‘میری ایک شرط ہے۔ میں ملنا چاہوں گا۔ ‘

‘منظور’

‘لڑکا مجھے پسند نہیں آیا تو؟’

‘جو آپ کہیں گے میں وہی کروں گی۔ لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔ ‘اس نے بابا کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا’ آپ دھوکہ نہیں دیں گے؟ ‘

‘مطلب؟’

‘مطلب یہ کہ آپ پہلے سے یہ طے کرکے نہیں جائیں گے کہ آپ کو رشتے سے انکار کرنا ہے۔’

‘ایسا نہیں ہو گا۔ براہمن کی زبان ہے ‘

ll

تارا مطمئن تھی۔ حسن فرخ میں کوئی کمی نہیں۔ لہذا سوال ہی نہیں کہ حسن، بابا کو پسند نہ آئے۔ پرجاپتی مطمئن تھے، تارہ آج بھی سیاست کی چانکیہ پالیسی کو نہیں جانتی۔ برہمن کا جھوٹ بھی سچ ہوتا ہے۔ برہمن تو تمام مخلوقات میں اشرف ہے۔ کھڑکی کھولی۔ نیلا آسمان دھند میں کھو گیا تھا۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔ بد نما خیالات کی اپنی جمالیات ہے۔ بدصورتی اگر برہمن کے چہرے کی ہے تب بھی اس سے دیوتاوں کی چمک کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذہب اور تعلقات میں ایک کو بچانا ہو تو تعلقات کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ کھڑکی بند کی۔ پلٹے تو اندرونی بدصورتی کی چمک چہرے پر تھی۔ جسم میں خون کا دوران بڑھ گیا تھا۔ وہ اچانک چونکے۔ تارا کی پشت کا کوبڑ اب پہلے سے کہیں نمایاں تھا۔ پھر کئی مناظر آنکھوں میں رقص کر گئے۔ حجاب پہنے ہوئی تارا، جانماز پر بیٹھی ہوئی تارا، عبادت میں جذب تارا۔ گوشت خور تارا۔ لڑکا اگر دلت ہوتا تو؟ اس کے باوجودکسی بھی حالت میں اختلاف سے اتفاق کی طرف ان کا جھکاﺅ نہیں ہوتا۔ اب صرف سیاست کا بھروسہ تھا۔ سیاست جو ننانوے پتھر مخالفت میں اچھالتی ہے۔ پھر سوواں پتھر زخموں کو سہلانے آ جاتا ہے۔ سیاست شفاعت اور مخالفت سے الگ ایک پیچیدہ داستان بن چکی تھی۔ پتھر چلانے اور سہلانے کا یہی کھیل اب پرجاپتی شکلا کو بھی کھیلنا تھا۔ اس رات ایک خواب آیا۔ ناگپور سے رسی تڑا کر ایک سانڈ پہلے لکھنو آیا، پھر چلتا ہوا اچانک ان کے کمرے آ گیا۔ آگ کی اٹھتی ہوئی شعلوں کے درمیان پرجاپتی شکلا تھے۔ وہ چونک کر، اٹھ کر بیٹھ گئے۔ خواب اکثر سچ ہوتے ہیں۔ مگر وہ سانڈ؟ وہ آگ کی لپٹیں؟ ان شعلوں سے بچنے کے لئے ان کو غیر معمولی برہمن اندام نہانی میں (برہمن یونی) داخلہ لینا تھا۔ پرجاپتی بابا کے اثر میں تھے اب۔ بابا جو کہا کرتے تھے، برہمن چاہے تو نیوگ فعل کے ذریعہ دلت عورت کو پاک کر سکتا ہے۔ مسلمان کو کیوں نہیں؟ اس وقت حسن فرخ ان کے سامنے تھا اور ہوا کی نجاست (وایودوش) سے متاثر تارا شکلا کی پشت پر دوبارہ کوبڑ پیدا ہو گئے تھے۔ ابھی حسن فرخ سے ملنا باقی تھا۔

lll

‘تم معصوم جانوروں کو مارتے ہو؟’

اور اس وجہ سے آپ نے انسانوں کو مارنا شروع کر دیا؟ ‘

"بکو مت، جانوروں کی قربانی دینے کا حق کس نے دیا؟ ‘

‘آپ کو انسانوں میں بھید بھاﺅ کرنے کا حق کس نے دیا؟’

"تم نے مندر توڑے؟ ‘

‘تاریخ نہیں جانتا۔ جس نے توڑے گناہ کیا۔ لیکن یہی گناہ اب آپ کیوں کر رہے ہیں؟ ‘

‘کچھ جانتے بھی ہو جزیہ کیا ہوتا ہے؟’

‘ہاں مغلوں کے بارے میں پڑھا ہے۔ یہ بھی ایک مذہبی اور ذہنی جفاکشی ہے۔ لےکن- آپ جزیہ لیجیے ہمیں تحفظ دیجئے؟ ‘

‘مارے جاﺅ گے؟’

‘کب؟’

حسن مسکرا رہا تھا۔

پرجاپتی شکلا کو یاد بھی نہیں رہا کہ وہ حسن کے گھر کب پہنچے۔ اور یہ مذاکرات کب کس طرح شروع ہوگئے۔

تارا نے حسن کو فون کر دیا تھا۔ حسن نے شام آٹھ بجے آنے کو کہا۔ ساوتھ ایکس کے پوش علاقے میں ایک چھوٹا سا فلےٹ۔ پرجاپتی نے محسوس کر لیا تھا کہ اس علاقے میں مسلمان نہیں ہوں گے۔ حسن گھر کے باہر ہی مل گیا۔ ذرا فاصلے سے انہوں نے حسن کو دیکھا۔ گورا رنگ معصوم سا چہرہ، لمبا قد۔ جینس اور ٹی شرٹ میں۔ کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں؟ پاوں نہیں چھوئے حسن نے۔ ہاتھ جوڑ دیئے۔ اندر قدم رکھنے سے پہلے ہی ان کی زبان چل پڑی تھی۔ حسن نے ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کے لئے کہا۔ انہیں غصہ آ رہا تھا۔ اور حسن بس مسکرائے جا رہا تھا۔ انہوں نے پلٹ کر فلےٹ کا جائزہ لیا۔ چمکتی ہوئی دیواریں۔ دو جگہ دیوار پر پینٹنگ تھی۔ لیکن کہیں کوئی اسلامی پینٹنگ نظر نہیں آئی— کہیں ٹوپی یا جانماز نظر نہیں آیا۔

‘نماز پڑھتے ہو؟’

‘ہاں’

‘کب؟’

‘کبھی کبھی جمعہ کے دن’

ٹوپی؟ ‘

‘رومال باندھ لیتا ہوں۔’

‘یہاں مذہبی کیلنڈر نہیں ہے؟’

‘مذہب دل میں ہوتا ہے۔’

‘اوہ- اچانک وہ چونکے۔ ایک دروازہ ذرا سا کھلا ہوا تھا۔ پرجاپتی شکلا نے اشارہ کیا۔ ‘وہاں کیا ہے؟’

‘ٹائلےٹ’

پرجاپتی چیخے- ‘ٹائلےٹ کا دروازہ کھول کر رکھتے ہو؟ تبھی سارے گھر میں پاخانے کی بو پھیلی ہے۔ ‘

‘ساری، ابھی بند کرتا ہوں’

حسن نے آگے بڑھ کر دروازہ بند کر دیا۔ پھر تھوڑا آگے بڑھ کر پوچھا ‘آپ کے لئے پانی لاﺅں؟’

‘اسی ہاتھ سے پانی لاو گے؟’

‘ہاں’

‘یعنی ٹوائلٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد ہاتھ نہیں دھوﺅگے؟’

‘دروازہ بند کرنے پر ہاتھ دھونے کی کیا ضرورت ہے؟’

‘ہے؟’ پرجاپتی زور سے چیخے ‘یہی فرق ہے تم میں اورہم میں۔ ہمارے یہاں کہیں بھی جاﺅ، ٹائلےٹ کا دروازہ بند ملے گا۔ مگر تمہارے یہاں۔ ‘

حسن ان کی بات سننے کے لئے رکا نہیں۔ باتھ روم سے لوٹ آیا۔ ان کی طرف بھیگا ہاتھ دکھایا۔ پھر فرج کھول کر پانی کی بوتل نکالی۔ پرجاپتی کو تارا شکلا کی بات یاد آ رہی تھی۔ ‘میں اس کے پانی لانے کے طریقوں پر فدا ہو گئی۔’ وہ زور سے چیخے۔

‘بوتل اور گلاس لے آﺅ۔ پینا ہو گا تو میں خود لے لوں گا۔ ‘

بوتل اور گلاس رکھنے کے بعد حسن ایک طرف صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ گہری نگاہوں سے حسن کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ بدصورتی میں خوبصورتی ہے۔ وہ آہستہ سے مسکرائے۔ حسن کی طرف دیکھا۔

‘اگر میں اس رشتے سے انکار کر دوں تو؟’

‘آپ کو حق ہے، پھر بھی، ہم دونوں آپ کو سمجھانے کی پوری کوشش کریں گے۔ جو ملک میں ہو رہا ہے، وہ سیاست ہے۔ سب کچھ سیاست سے مت جوڑیے ‘

‘نہیں جوڑتا۔ کیا مذہب کے محافظ تم کو چھوڑ دیں گے؟ ‘

‘اس پر ہم دونوں نے سوچا ہے۔ یہ شادی خاموشی سے ہوگی ‘

پرجاپتی چیخے- ‘برہمن ہمیں چھوڑ دیں گے؟’

‘بات آگے بڑھی تو سارا الزام میں اپنے سر لے لوں گا۔ تارا پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ راستے سے ہٹ جاوں گا۔ ‘

‘پھر ابھی کیوں نہیں؟’

حسن کے چہرے پر آنے والے تبدیلی کو پرجاپتی شکلا نے صاف محسوس کیا ۔ ایک گھبراہٹ اس کے اندر بھی تھی۔ حسن جانتا تھا ایسا ہو سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں یہی ہو رہا تھا۔ مذہب کی حفاظت کرنے والے مسلم عورتوں کو، ہندووں سے شادی کا مشورہ دے رہے تھے۔ ایسے بحران میں ایک برہمن لڑکی کا مسلم لڑکے کی طرف جھکاﺅ خون خرابے کا سبب بن سکتا تھا۔ ادھیڑ بن دونوں طرف چل رہی تھی۔ زندگی کے ذاتی فیصلوں پر مذہب کاغلبہ تھا۔

‘پانی تو لیجئے۔’ حسن پوچھ رہا تھا۔

‘پہلی بار وہ محبت سے حسن کی جانب مڑے۔ ‘نہیں لے سکتا۔’

‘کیوں؟’

‘جانتے ہو یہاں آکر کیا خیال پیدا ہوا؟’ بھڑکنا مت۔ بچپن سے ایسا لگتا رہا ہے۔ وہ ٹھہرے…. تم لوگ بڑی بڑی شمشیرےں رکھتے ہو نا؟ یہ شمشیرےں خون میں سنی نظر آتی ہےں۔ اب بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے بوتل میں پانی کی جگہ خون بھرا ہو۔ معاف کرنا۔ ‘

وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔

حسن انہیں چھوڑنے باہر تک آیا۔ دروازے پر وہ کچھ لمحے کھڑے رہے۔ خاموشی حاوی رہی۔ یہ صفر میں تیرنے والا ایک لمحہ تھا۔ لیکن اس لمحے کی گونج بہت زیادہ تھی۔ کچھ ایسی ہی گونج، تھرتھراہٹ کے درمیان حسن بھی تھا۔ پھر وہ ٹھہرے نہیں۔ تیزی سے آگے بڑھ گئے۔

lll

پرجاپتی جان رہے تھے کہ تارا بیتابی سے ان کے آنے کا انتظار کر رہی ہوگی۔ جواب انہوں نے سوچ رکھا تھا۔ بیل بجائی۔ دروازہ تارا نے کھولا— تارا کاچہرہ سہما ہوا تھا۔

‘کیا رہا؟’

‘پانی پسند نہیں آیا؟’

پرجاپتی شکلا کا مختصر جواب تھا۔ وہ تارا کا جواب سننے کے لئے ٹھہر گئے- ‘تمہیں کوئی شک؟’

‘نہیں۔’

‘پھر ٹھیک ہے۔’

اگرچہ اس وقت دونوں کے دل خدشات سے خالی نہیں تھے۔ پرجاپتی جانتے تھے، کہ تارا اس بات کو آرام سے قبول نہیں کرے گی۔ کوئی اور بات ہوتی تو اسے قبول کرنا آسان بھی ہوتا۔ لیکن یہ بات تو محبت سے منسلک تھی۔ پرجاپتی کو شک کا احساس اس لیے بھی ہوا کہ ان کی بات سن کر بھی تارا نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ll

وہ تھک گئے تھے۔ پانی کے شفاف آبشار کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ گورے گورے جسم پر تعریف کی نظر ڈالی۔ اچانک چونک گئے۔ پانی کی جگہ ایک سیاہ دھار آبشار کے درمیان سے گرتی دکھائی دی۔ ٹنکی کا پانی گندا تو نہیں ہو گیا؟ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ٹنکی صاف کروائی تھی؟ پھر خالص چمکتے پانی کے درمیان یہ سیاہ دھار؟ بہتے پانی کو روک کر خیالات میں گم وہ کچھ دیر تک کھڑے رہے۔ آئینے میں اپنے چہرے کو دیکھا۔ چہرے پر بچھی ہوئی جھریوں کے جال میں بھی سیاہ پن پھیل چکا تھا۔ اس وقت یہی سیاہی انہیں غسل خانے کی دیواروں پر بھی نظر آ رہی تھی۔ فوری طور پر، تولیے سے جسم کو پوچھا۔ نصف شاور سے وہ کبھی نہیں اٹھے تھے۔ لیکن اب دوبارہ غسل کا تصور انہیں خوفزدہ کر رہا تھا۔ آبشار سے ویسا ہی سیاہ پانی ٹپکا تو ….؟ آئینے میں اس وقت ان کا چہرہ تک سیاہ پڑ چکا تھا۔ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئے۔

واقعات کی پوشیدہ جھریاں

وہاں موسم بہار دیر سے پہنچتا ہے۔

وہاں چہرہ بننے سے قبل

جھریوں کا جال بچھ جاتا ہے۔

کچھ پوشیدہ واقعات ہیں۔ اور /

ایک سہمے ہوئے مستقبل کے پنجرے میں

وہ مردہ پڑے ہیں /

ll

یہ ماننے اور نہیں ماننے کی بات نہیں ہے۔ لیکن یہ جھریاں صاف دکھ جاتی ہےں۔ وہ نازک وقت کے ترشول پر ٹنگے ہیں۔ جہاں گوشت اور جانور کے نام پر انہیں مار بھی دیا جاتا ہے اور جانوروں کو پالنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔ رشتے اور سیاست کے اسی نئے موڑ پر کھڑی تھی تارا شکلا— ڈسنے والی خاموشی میں ہزاروں طرح کے سوالات سے گزرتے ہوئے اس وقت اس کی موجودگی کسی بت کی مانند تھی۔ اگر وہ برہمن کے گھر پیدا نہیں ہوتی تو ….؟ اگر حسن کسی برہمن کے گھر جنم لیتا تو؟ برہمن کے گھر جنم لینے میں اس کا اپنا نصیب کیا ہے؟ جیسے حسن کا جرم صرف یہ کہ وہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا۔ الہ آباد سے دلی تک کی سڑک پر پرچھائیوں کا ایک گھیرا تھا۔ اس کا تحمل جواب دے رہا تھا۔ اس نے حسن میں صرف حسن کو دیکھا تھا۔ کسی مسلمان کو نہیں دیکھا تھا۔ دل کے روشن آئینے میں محبت آجائے تو مذہب کہیں دور رہ جاتا ہے۔ وقت اور حالات نے مذہب کو محبت پر حاوی کر دیا تھا۔

تارا شکلا اس دن ‘کیفیٹیریا’ میں حسن سے ملی۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے بھی ایک گہری خاموشی ماحول میں بنی ہوئی تھی۔ کافی دیر بعد اس خاموشی کو تارا نے ہی توڑا۔

‘تم لوگ ہمیشہ سے ایسے ہو؟’

‘مطلب؟’ حسن چونک گیا تھا۔

تارا، حسن کی آنکھوں میں غور سے دیکھ رہی تھی۔

’مطلب شمشیر والے۔ جیسا تمہارے بارے میں سوچا جاتا ہے۔‘

حسن اپنی جگہ سے اچھلا۔ ‘شمشیر؟ مطلب ٹریرسٹ؟ ‘

‘شاید-‘ تارا کہتے ہوئے ٹھہری۔ ‘لیکن آپ کے چہرے پر کہیں خون کے داغ نہیں؟ لباس پر بھی نہیں؟ ‘

‘اوہ ۔۔۔’ حسن مسکرایا۔

‘سنو حسن’ تارا اب بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ‘تاریخ کا مطالعہ میں نے بھی کیا ہے۔ تم طاقتور گھوڑوں پر آئے۔ محمد بن قاسم، خلجی کبھی تغلق بن کر ۔۔۔ کبھی تیمور کی اولاد بن کر ۔۔۔ بس ایک کہانی گم کر دی گئی۔ آپ کو ایک سزا فخر کرنے کی بھی ملی ہے۔ مگر آدھے ادھورے نوابوں اور بادشاہوں کی تاریخ میں تمہاری اصل تاریخ کو دبا دیا گیا۔

‘مطلب’

‘تم حضرت خواجہ معین الدین چشتی بن کر بھی آئے تھے۔ حضرت علی ھجوےری بن کر بھی۔ تمہاری تاریخ بلکہ بڑی تاریخ صوفی سنتوں کی بھی رہی ہے۔ تم شاہ ولی اللہ بن کر بھی آئے۔ مغلوں کی تاریخ میں تم اکبر اور دارا شکوہ بن کر بھی آئے۔ تم دوست بن کر آئے، مگر تاریخ نے چھل کیا تمہارے ساتھ۔ آج بھی کر رہی ہے۔ تاریخ نے تمہارے ہاتھوں مےں محبت کے کاسہ کی جگہ شمشیر تھما دی۔ ‘تارا ٹھہر گئی۔ ‘اچھا سنو۔ تم مذہب مانتے ہو؟ ‘

‘ہاں’

‘کتنا؟’

‘نہیں جانتا۔’

حسن نے پلٹ کر پوچھا۔ ‘تم مانتی ہو؟’

‘ہاں’

‘کتنا؟’

‘پتہ نہیں’

کافی سرد ہو گئی تھی۔

تارا پھر آہستہ سے بولی۔ ‘ہمارے درمیان مذہب آ گیا ہے۔’

‘ہاں’

میں اپنے والد کو جانتی ہوں۔ جانتی ہوں کہ برہمن ہونا کیا ہوتا ہے۔ ‘

‘محبت میں خوف نہیں ہوتا’ حسن آہستہ سے بولا۔

‘شاید۔ مذہب نے پیار کو کمزور کر دیا ‘

‘کوئی راستہ ….’ حسن تارا کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔

’محبت مذہب کا لباس پہن لے تو….؟‘

‘کس مذہب کا؟’

‘جو مذہب اکثریت کا مذہب ہو۔ جو مضبوط ہو؟ ‘

‘پھر محبت کہاں رہی؟’

خاموش ماحول میں تارا کا قہقہہ گونجا۔ ‘پھر ایک دن محبت کرنے والوں کا کاسہ گم ہو جائے گا۔ وہ گھوڑوں پر آئیں گے۔ ہاتھوں میں اسلحے لے کر۔‘

‘شمشیر؟’

‘نہیں’

‘ترشول؟’

‘نہیں ۔۔۔ اسلحے ۔۔۔ ہم اکیسویں صدی کے جشن میں ڈوبے ہیں۔ شمشیر اور ترشول سے ورلڈ ٹریڈ ٹاور نہیں گرایا جاتا۔ شہر گجرات اور مظفر نگر نہیں بنتے۔

حسن کی آواز کمزور تھی۔ ‘بننے کے لئے تو جانور کا گوشت ہی کافی ہے۔’

تارا کی چمکتی آنکھوں میں اچانک چور دروازے سے خوف داخل ہو گیا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

‘چلو کھیل دیکھتے ہیں۔’

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے