سر ورق / افسانہ / وینٹی لیٹر … شبیر احمد

وینٹی لیٹر … شبیر احمد

وینٹی لیٹر

شبیر احمد

اب انھوں نے یہی طریقہ اپنا رکھا تھا۔دامن پسار کر ہاتھوں کو یوںپھیلا دیتیں جیسے نیچے کوئی چراغ دھرا ہو، اور وہ آنچل کو فانوس بناکر اس کی حفاظت کر رہی ہوں۔ پچھلے تین ماہ سے یہی کررہی تھیں۔ نماز پوری کرکے اسی طرح ہاتھ اوپر کرتیں آنچل کا فانوس بناتیں اور گڑ گڑانے لگتیں ۔ آج بھی عشا کی نماز کے بعد اسی طرح دعائیں مانگ رہی تھیں۔

لَو تو کب کی جا چکی تھی۔فتیلے پر بس ایک چھوٹی سی چنگاری ٹکی ہوئی تھی ۔ دعاوں کی ہلکی ہلکی پھونک سے وہ اس چنگاری کو پھر سے لَو میں تبدیل کردینا چاہتی تھیں۔

جسم لرزرہا تھا۔ہونٹ تھرتھرا رہے تھے۔کمرے کا سنّاٹا چپی سادھے ایک کونے میں دبک گیا تھا۔رکت آمیز فریاد اب شدید سے شدیدترہوگئی تھی،”اے اللہ،اے رب الکریم ، اپنے حبیب کے صدقے، مجھ بے سہارے پر رحم فرما۔اس خاندان کاچراغ مت بجھااے اللہ،اے رب الکریم ،اپنے حبیب کے صدقے “

دعا وں سے فارغ ہو کروہ اسی طرح مصلے پر بیٹھی رہیں۔جب دیوار پر ٹنگی گھڑی نے دس بجنے کا اشارہ کیاتو انھوں نے آنسو پونچھے،مصلیٰ تہہ کیااورکرسی کی موٹھ تھام کر آہستہ آہستہ کھڑی ہوئیں۔ واش بیسن کا نل کھولا۔ منہ پر پانی کے دو چارچھینٹے مارے۔ فریج سے کھانا نکال کرمائیکرو یومیں گرم کر نے لگیں۔آج کل وہ کھانا پکا کر فریج میں رکھ دیتی ہیں اور اوین میں گرم کر کر کے کئی دنوں تک کام چلاتی ہیں ۔

مائیکرو اوین کے اندر رکابی دھیرے دھیرے گھوم رہی تھی ۔اسکرین پرہندسے ایک ایک کرکے گھٹ رہے تھے۔ مقررہ وقت کا ابھی کچھ حصہ ہی گزرا تھا کہڈائننگ ٹیبل پر موبائیل کھڑ کھڑااٹھا۔

انھوں نے آنکھوں پر عینک چڑھائی ۔نام دیکھتے ہی ماتھے پر بل پڑ گئے۔ بدبدائیں،”ثمرہ کا فون اوراس وقت!“

فوراً مائیکرو ویو بند کردیا اور”اے اللہ رحم کر!“ کہتی ہوئیں فون کان سے لگالیا۔

اللہ میاں نے رحم ہی کیاتھاجبھی تو ان کی بجھی بجھی آنکھیں چمک اٹھیں،ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ ان کی مصلحت پسندی کام آگئی۔ مہینوں بعد ان کے چہرے پرایسی چمک اور مسکراہٹ آئی تھی۔مگر بستر پر لیٹتے ہی ذہن کے پردے پر عدیل نمودار ہوا اور رنج و الم نے انھیں پھر سے آگھیرا۔

عدیل ان کے ساتھ ہی سویا کرتا تھا۔سوتے وقت کہاکرتا ،”دادی ،لوری سناو نا۔“

دادی لوری گانا شروع کرتی ،”چندا ماما دور کے“

”نہیں یہ والی نہیں۔اڑن کھٹولے والی۔“وہ دادی کی گردن میں بانہیں ڈال کر اصرارکرتا۔

دادی ہنس کراس کے گال تھپک دیتی۔انھیں معلوم تھا ،جب کبھی شام کووہ نیند بھرسو لیتا ہے تو رات کو اسی لوری کی فرمائش کرتاہے ۔اورپھر لوری کی دھیمی میٹھی آواز کمرے میں مرتعش ہوجاتی:

”آرے آجا ،نیندیا تو لے چل کہیں

اڑن کھٹولے میں“

آج بھی وہ لیٹے لیٹے یہی لوری گا رہی تھیں:

”دوردوردوریہاں سے دور“

۔۲۔

رات بھر آسمان صاف تھا۔چاند پورے آب و تاب سے چمکتا رہا تھا۔ہوا بھی فرحت بخش تھی۔ مگرصبح کو موسم کا رنگ یکسر بدل گیا۔ آسمان ابر آلود ہوگیا۔ سیاہ بادلوں نے سورج کو آ گھیرااور رہ رہ کر بجلی بھی چمکنے لگی۔مگرموسم کا یہ مزاج عمیرہ بانو کا قدم بھلاکیسے روک سکتا تھا۔روز کی طرح آج بھی وہ وقت پر ہی نکل پڑیں۔

پہلے تو جالب اور ثمرہ کے لوٹنے کے بعددوپہر کو نکلاکرتی تھیں، لیکن ان کے چلے جانے کے بعد اب وہ صبح کو ہی نکل پڑتی ہیں۔بس سے اترتی ہیں۔ دس بارہ منٹ پیدل چلتی ہوئیںمین گیٹ میں داخل ہوتی ہیں۔ سامنے والے درخت کے نیچے بنچ پر بیٹھ کر کچھ دیر دم لیتی ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے آئی سی یو وارڈ کی جانب چل دیتی ہیں ۔

مگر ادھر کئی دنوں سے پہلے بچہ وارڈ کی طرف جاتی ہیں۔اس کے بعد آئی سی یو وارڈ کی راہ لیتی ہیں۔ تیسری منزل پر پہنچ کر بائیں مڑتی ہے اور کمرے میں داخل ہو کر پوتے کو غور سے دیکھتی ہیں ۔ پیشانی سہلاتی ہیں۔اور پھر بیگ سے موبائل نکاکر واٹس ایپ کھولتی ہیں۔ ثمرہ کے نام پر ویڈیو کال کا بٹن کلک کرتے ہی دوسری جانب سے ًآواز آتی ہے ، ” سلام علیکم، اماں! کیسی ہیں؟“

”وعلیکم سلام ،بیٹی۔ ٹھیک ہوں ۔ تم لوگ کیسے ہو؟ جالب کیسا ہے؟“

”اماں،ہم سب ٹھیک ہیں۔“

اس کے بعد کیمرے کا رخ پوتے کی جانب موڑکرکچھ دیر موبائل تھامے رہتی ہیں ۔ کہتی ہیں ،”بیٹا، دیکھو، یہاں سب پہلے جیسا ہی ہے۔“

اور پھرفون آف کر کے پائینتی بیٹھ جاتی ہیں۔پوتے کے جاگنے کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔چہرہ دیکھتے ہوئے منہ بسور کر من ہی من کہتی ہیں ، ”دنیا کے سارے بچے باہر کود پھاند رہے ہیں اور تو بستر پر پڑا ہے۔اپنی زندگی کوپائپ اور مشینوں کے حوالے کیے ۔نہ کوئی ضد۔ نہ کوئی ہٹ۔ نہ رونا چلانا۔دنیاو ما فیہا سے بے خبر،معلوم نہیں توکیسی نیند سو رہا ۔“ اورجب آنسو چھلک آتے ہیں تو بیگ سے رومال نکال کر آنکھیںملنے لگتی ہیں۔

آج بھی بس اسی جگہ آ ٹھہری تھی۔وہ سنبھل کر دھیرے دھیرے اتریں۔کنارے آ کر نظریں اوپر کیں۔ آسمان اور بھی ابر آلود ہوگیاتھا۔سست رفتارمٹیالے بادلوں کے دبیز دبیز جتھوں نے سورج کے گرد ڈیرا ڈال رکھا تھا۔ چیلوں کا غول منڈلارہاتھا۔فضا میں عجب گھٹن تھی۔سڑک کی دونوں جانب درختوں پر پرندوں کا شوربھی بڑھ گیا تھا۔

وہ تیز تیز چلنے لگیں۔ لیکن ضعف کے سبب ان کی رفتار ایک حد تک ہی تیز ہوپائی تھی۔ اسپتال کی جانب بڑھتی جا رہی تھیں کہ دفعتاًبجلی کی ایک کوند ان کے وجودکولرزا گئی۔ تین ماہ قبل ایسی ہی ایک کوند گری تھی۔ زمین پر نہیں ان کے دل پر ۔ پتا نہیں کیسے عدیل مکان کی چھت سے گر پڑاتھا۔دھم کی آواز سن کر وہ بھی دوڑی تھیں۔ خون میں لت پت دیکھ کران کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا ۔

جالب خان گرمیوں کی چھٹی میں گھر آیاہوا تھا۔بیٹے کی حالت دیکھ کر کانپ گیا ۔ گود میں لیے نرسنگ ہوم کو دوڑپڑا ۔ بہت کوشش کی گئی مگرہوش نہ آیا۔آخر کارایک بڑے اسپتال میں منتقل کردینا پڑا۔

اچانک ہوا کے ایک جھوکے نے عمیرہ بانو کے قدم روک دیے ۔ جسم موڑ کر چہرے کو ہتھیلی سے ڈھک کر تھوڑی دیر کھڑی رہیں۔پھر آہستہ آہستہ کھسک کرایک پیڑ کی اوٹ میں پناہ گزیں ہوئیں۔ اور جب ہوا کا زور کم ہوا تودوبارہ منزل کی طرف گامزن ہوئیں۔

کل ڈاکٹر سنگھ نے کہا تھا، آج صبح میڈیکل ٹیم کی میٹنگ بیٹھے گی ۔مگر انھیں اب اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔پچھلی میٹنگ میں ڈاکٹروں کی بس ایک ہی رٹ تھی ، ”بچے کا لائف سپورٹ بند کردیا جائے۔سوئچ آف دی وینٹی لیٹر۔“

ڈاکٹروں کی ٹیم میں چٹرجی ہی ایسے ڈاکٹر تھے جو نسبتاً نئے اور کم عمر ہو نے کے باوجود سینئروں کی رائے سے متفق نہ تھے۔پہلی میٹنگ میں جالب اور ثمرہ کو بلایا گیا تھا۔ بیٹے کی حالت دیکھ اور ڈاکٹروں کی دلیلیں سن کران دونوں نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔مگر ڈاکٹر چٹرجی نے ہار نہیں مانی تھی ۔ ڈٹے رہے ۔ ان کے اس رویے نے ڈاکٹر سنگھ کو کہنے پر مجبور کردیا تھا ،”ویل ،ڈاکٹر چٹرجی کی بات بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔میڈیکل سائنس میں بہت کچھ نیا ہورہا ہے۔ ڈاکٹر چٹرجی کی یہ بات قابلِ غور ہے کہ پچھلے ستائیس دنوں سے مریض کی حالت اگر سدھری نہیں تو بگڑی بھی نہیں ہے۔ آرگن فیلور کی بھی کوئی رپورٹ نہیں ۔ویل، وی مے گیو ہیم اے چانس۔“

اور اس طرح دوسری میٹنگ تک وینٹی لیٹر آن رکھنے کا فیصلہ لیا گیا۔مریض کو پورے طور پر ڈاکٹر چٹرجی کی نگرانی میں دے دیا گیا۔

۔۳۔

جالب خان اب تھک چکا تھا ۔اتنے دنوں تک صبح شام، گھر اسپتال ایک کرتا رہا مگر امید کی کوئی کرن نظر نہ آئی ۔اسے ڈاکٹر چٹرجی کی کم عمری پر بھروسہ نہ تھا ۔ کالج کھلے تین ہفتے گزر چکے تھے۔ بلاوے پر بلاوا آرہا تھا۔بچوں کا بھی نقصان ہورہا تھا۔ اب اور چھٹیاں مناسب نہیں۔

اور جب اس نے اپنے موقف کا اظہار کیا تو ثمرہ چونک پڑی ۔مگر اس نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔بس آنسو بہاکر رہ گئی ۔

عمیرہ بانو چائے کا ٹرے لیے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں توبہو کے چہرے پر تناومحسوس کیا۔اولاد کے دکھ کا احساس ان سے زیادہ بھلا اورکسے ہو سکتا تھا۔ ٹرے رکھا اور ثمرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،”وہ ٹھیک کہہ رہا ہے ،بیٹی۔ یہاں تو ایک بچہ ہے ،وہاں اس کے سیکڑوں بچے ہیں۔ اسے مت روک ۔ “

وہ جانتی تھیں،ایسی گھڑی میں جذبات واحساسات کا معمولی سا سائباں بھی ان کی اولاد اور خاندان کے مستقبل کے لیے سود مند نہیں۔ مہینے بھرسے وہ بیٹے کو تل تل مرتا دیکھ رہی تھیں۔ انھیں حال سے زیادہ مستقبل کی فکرتھی۔چنانچہ ثمرہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر کمرے میں لے آئیں۔ دھیمے لہجے میں بولیں۔ کہتے وقت ان کا لہجہ لڑکھڑا یا بھی تھامگر مصلحت دامن گیر رہی،”میں کہتی ہوں ، تو بھی ساتھ چلی جا۔ایسی حالت میں اسے اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں۔“

”یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟“ثمرہ نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔

”ٹھیک کہہ رہی ہوں،بیٹی۔“انھوںنے سمجھایا ۔

” مگرعدیل ؟ “ ثمرہ تقریباً جھلّااٹھی تھی۔

”عدیل کی دیکھ بھال کے لیے نرس ہے ۔اور ویسے بھی وہ بے سدھ پڑا رہتا ہے۔اسے کیا خبر،کون آیا کون گیا۔نرس اور ڈاکٹردن رات اس کی نگرانی کرتے ہیں۔اور پھر میں ہوں نا۔ “وہ اسے سمجھاتی رہیں۔

بہو کا لہجہ کمزور پڑتا گیا۔وہ کہتی گئیں،” میری بات مان،بیٹی۔ ساتھ چلی جا۔میں اسے اس حال میں اکیلے نہیں چھوڑ سکتی۔وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔اب بس تو ہی اس کاسہارا ہے۔عدیل کی فکر نہ کر۔ تو وہاں سے بھی اسے دیکھ سکے گی۔ تو جا۔یہاں میں سب سنبھال لوں گی۔“

اورتبھی سے انھوں نے یہاںسب کچھ سنبھال رکھا تھا ۔ روزصبح دس بجے اسپتال آجاتیں۔ ویڈیوکال کے ذریعہ ثمرہ کو پوتے کے حال سے باخبر کرتیں ۔ چھٹی کے دنوں میں جالب بھی بیٹے کا دیدار کرلیتا تھا ۔اس طرح وہ دونوںمطمئن تھے ۔مگر وہ انھیں ہر بات بتانا ضروری نہیں سمجھتی تھیں۔ میڈیکل ٹیم کی میٹنگ اور فیصلوں کے بارے میں تو قطعی نہیں۔

۔۴۔

گزشتہ میٹنگ ایک ماہ قبل ہوئی تھی۔ گارجین کی حیثیت سے انھیں بھی شریک کیا گیا تھا۔ ممبروں کی رائے جان لینے کے بعد ڈاکٹر سنگھ نے ڈاکٹر چٹرجی کو ترچھی نگاہوں سے دیکھاتھا، کہا تھا،” ویل،میں آپ سبھوں سے سہمت ہوں،ڈاکٹرز۔اب کوئی مراکل نہیں ہونے والا۔ وینٹی لیٹرسوئچ آف کردینا چاہیے۔“

یہ سن کر وہ بپھرگئی تھیں،” میرے پوتے کو مار دینا چاہتے ہیں؟ اس معصوم نے کیا بگاڑا ہے آپ لوگوں کا۔ “

ڈاکٹر سنگھ کی پیشانی پر سلوٹیں ابھر آئی تھیں۔غصے پر قابو کرتے ہوئے کہا تھا ،”ماں جی،کسی مریض کو ہم ہمیشہ کے لیے تووینٹی لیٹر پر نہیں رکھ سکتے۔ایسی حالت میں“

”کیوں نہیں رکھ سکتے ؟ آپ کااپنا بیٹا ہوتا تب بھی نہیںرکھتے؟“ ان کا لہجہ ترش ہوگیا تھا۔

”ہاں تب بھی نہیں۔میںاسے اس اذیت سے نجات دے دیتا۔یہاں وینٹی لیٹر کم ہے، اور مریض زیادہ۔“ ڈاکٹر سنگھ جذباتی ہو گئے تھے۔

وہ بھی طیش میں آگئیں۔بولیں،”اوومیں تو بھول ہی گئی تھی کہ مریض کا نام محمد عدیل خان “ انھوں نے محمد اور خان کو کچھ زیادہ ہی کھینچ دیا تھا۔مگر دوسرے ہی لمحہ انھیں فوراًاپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انھوں نے اپنے باقی الفاظ نگل بھی لیے تھے،مگرتیر کمان سے نکل چکاتھا۔

ڈاکٹر سنگھ حواس باختہ ہو گئے ۔ دوسرے ڈاکٹر بھی سوالیہ نگاہوں سے ایک دوسرے کوتکنے لگے ۔ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی ۔ پھر سبھوں نے حالات اور ماحول کے زیر اثر فیصلہ لیا ۔سر ہلا کرایک دوسرے تک اس فیصلے کی ترسیل کی۔ ڈاکٹر سنگھ نے خاموشی توڑی ،”ویل، جنٹل مین، ایک بات تو مگراب بھی اس کیس میں پوزٹیو ہے اور وہ یہ کہ مریض کے سبھی آرگن انٹیکٹ ہیں۔ تھوڑاوقت دیاجا سکتاہے۔“

ٹیم کے اس فیصلے سے وہ خوش تو ہو گئی تھیں مگر ذہنی طورپر تناو میں تھیں۔تیسری منزل پر جانے کے بجائے نیچے اتر آئیں۔باہرکھلے میں سانس لینا چاہا۔ بنچ پر بیٹھے آنکھیں موندے دم لے رہی تھیں کہ کسی نے آواز دی،” توہار بچوا کا بھی ایڈمیشن نئے کھے لیت کا ،مائی؟“

آنکھیں کھلیں تودیکھا ، ایک عورت گود میں لاغر ساایک بچہ لیے کھڑی ہے ۔ آنکھیں بند ہیں اور گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی۔ عمیرہ بانو نے پوچھا ، ”کیا ہوا اسے؟“

” نمو نیا ہوگیل با۔ڈاکٹر لوگ بھرتی لکھ دے لے با ،مگر آفس کا آدمی لوگ بولا تراسن ،بیڈ خالی نئے کھے۔ار واں جو پینٹ پہن کے کھڑا سگریٹ پی ات با، بولا تا کہ بھرتی کروادی، مگر چار ہجار روپیہ لگی۔ہم بہوت بولنی ہاں کہ ہمار پاس بس پندرہ سو روپیہ با ،لے لے۔مگر اوہم کے بھگا دے لسا۔“یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔

انھو ں نے پہلے تو بچے کو غور سے دیکھا۔پھر پیشانی پر ہتھیلی رکھ کر بولیں، ”ارے، اس کا بدن تو تپ رہا ہے۔“

عورت بچے کی طرف دیکھ کر اور بھی زور زور سے رونے لگی۔”مائی، ہم بہوت دور سے آئیل بٹی“

انھوں نے پتلون والے شخص کوہانک لگائی ۔جب وہ قریب آیا توکہا،”بیٹا ، غریب عورت ہے ۔ بچے پر رحم کر، کچھ کم سم کر۔اللہ ٰ تیرے بچوں پر رحم کرے گا۔ یہ سن کر وہ بولا،” مائی ، وہ سالے حرامی لوگ ہیں۔میرے بس میں ہوتا تو میں بنا پیسے ہی اڈمیشن کرادیتا،مگر وہ اس سے کم میں نہیں مانیں گے۔“ اتنا کہہ کر اس نے سگریٹ کا ایک کش لیا اور پھر دھیرے سے بولا،” اچھا ،ایسا کر، دو سو روپے کم دے دینا۔“

یہ سن کر انھوں نے عورت سے کہا،”لا دے کتنے پیسے ہیں تیرے پاس۔“ عورت نے آنچل کھول کر روپے کا پلندہ نکالا اور کہا،”ہمار پاس ای ہے پندرہ سوبا بس۔“

انھوں نے روپے لے لیے۔ پرس سے دو ہزار کاایک نوٹ نکالا ۔اس آدمی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،”لے بیٹا،یہ ساڑھے تین ہزار روپے رکھ ۔ بے چاری غریب ہے۔ تو تو دیکھ ہی رہا اس کی حالت۔اگر بھرتی نہیں کیا تو یہ معصوم مرجائے گا۔ جا کرا دے بھرتی ،ایشور تیرے بچوں کا بھلاکرے گا۔“

دراصل ان کے دل میں ایک گمان در آیا تھا،”اگر یہ بیماربچہ صحت یاب ہو گیا تو میرا عدیل بھی صحت یاب ہو جائے گا۔“

اوراب جب وہ اسپتال آتیں توپہلے اس بچے کی عیادت کوچلی جاتیں۔ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دوائی لے آتیں۔ ہر ممکن مدد کرتیں۔

۔۵۔

ہوا کا زور کم ہو چکا تھا۔ مین گیٹ کے قریب آکر عمیرہ بانو نے کندھے سے بیگ اتار ا۔ تھپکیاں لگا کر گرد جھاڑی ۔ عینک اتار کر آنچل سے ہاتھ منہ پونچھے ۔پھر آگے بڑھ کر سندیش اور مسمی خریدے ۔بچوں کے وارڈ میں داخل ہوئیں تو دیکھا ،بچہ رو رہا ہے۔ ماں سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر وہ پچھاڑیں کھا رہا ہے۔لیکن ان پر نظر پڑتے ہی چپ ہو گیا ۔ماں سے لپٹ کر معنی خیز انداز میں مسکرایا ۔

انھوں نے پوچھا،”کیوں رے، دیوکی ،کیا ہوا میرے نندوکو؟ کیوں رو رہا تھا ؟“

دیوکی نے کہا کہ آپ کو ڈھونڈ رہا تھا۔کہہ رہا تھا، دادی ابھی تک کیوں نہیں آئی۔آپ کے آنے میں ذرا بھی دیر ہو جائے تو اسی طرح ہٹ کرنے لگتا ہے۔

”کیوں رے ،بدمعاش ! تو ہٹ بھی کرتا ہے؟ “یہ کہتے ہوئے انھوں نے مسمی کا پیکٹ دیوکی کو تھمایا اور بانہیں پھیلادیں،”چل آ ،میرے پاس۔دیکھتا نہیں ہے،کتنی زور کی آندھی چل رہی ہے۔“

وہ جب بھی نندو کو چھاتی سے لگاتی ہیں، ان کا من بھر آتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عدیل لمبی نیند سے جاگ کر ان کی چھاتی سے لپٹ گیا ہو۔

نندو رفتہ رفتہ صحت یاب ہوتا گیا، مگرعمیرہ بانو کاگمان گمان ہی رہا۔عدیل ہنوز کوما میں پڑا رہا۔

انھوں نے نندو کی زلفوں میں انگلیاں پھیریں۔ ڈبہ کھول کر سندیش کھلایا۔اور دیوکی سے پوچھا،”ڈاکٹر نے کیا کہا ، چھٹی کب ہوگی؟“

دیوکی نے بتایا کہ ڈاکٹربابو شام کو آئےںگے۔چھٹی کے بارے میں وہی بتائیں گے۔ اتنا کہہ کر وہ ان کا ہاتھ تھامے رونے لگی، ”مائی اگر تو نہ رہتی تو ہمار بیٹا“

انھوں نے دھاڑس بندھاتے ہوئے کہا،”بیٹا ،سب اوپر والے کی مرضی ہے۔کوئی کچھ نہیں کرتا۔اگر میں کچھ کر سکتی تو میرا پوتا بستر پر پڑا اس طرح تکلیفیں نہ جھیلتا۔“

دیوکی اداس نظروں سے انھیں تکنے لگی۔کچھ دیر فضا میں خاموشی چھائی رہی۔اس کے بعد انھوں نے عینک نکال کرآنچل سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،” تیرایہ نندو ، میرے لیے نندلال ثابت ہوا ہے۔ ایشور کو مجھ ابھاگن پرآخر دَیا آ گئی۔رات بہو کا فون آیا تھا ۔میرے گھرامید کی ایک کرن پھوٹی ہے۔“

عمیرہ بانو کے چہرے پر مسرت کے ہلکے ہلکے آثار نمایا ں ہونے لگے تھے ۔انھوں نے ایک بار پھر نندو کو چھاتی سے بھینچ لیا۔

۔۶۔

وہ پچھلے تین ماہ سے پوتے کو اسی حال میں دیکھتی آ رہی تھیں۔مگر آج ان کا دل بیٹھنے لگا تھا۔ کمرے میں داخل ہوئیںتو سانس حسب معمول پھول رہی تھی۔ سسٹر مانیٹر دیکھ رہی تھی۔ کاغذ پر کچھ نوٹ کر رہی تھی۔اس نے انھیں کن انکھیوں سے دیکھا۔ تھوڑی دیر چپ چاپ اسی طرح نوٹ کرتی رہی۔اس کے بعد کاغذ ایک طرف رکھادیا۔ بستر کی چادر کھینچ تان کر برابر کرنے لگی ۔ جب سانس پھولنے کا عمل قدرے ماند پڑ گیا تونرس ان سے مخاطب ہوئی،”ماسی ماں، آج میڈیکل ٹیم کی میٹنگ تھی۔کیا ہوا؟“

عمیرہ بانو نے ایک سرد آہ بھر ی۔کہا،”کیا معلوم ،میں نہیں گئی۔جاکر ہو تا بھی کیا؟ وہی پرانی بات!اب تو مجھے بھی لگنے لگا ہے ،ہم اس ابھاگے پر ظلم کر رہے ہیں۔“ یہ کہہ کر انھوں نے حسب معمول بیگ سے موبائل نکالا اور وٹس ایپ پر ’اُس ابھاگے “ کاوڈیوثمرہ کو بھیجنے لگیں۔اور پھر سختی سے ہدایت کی،”خبردار بھاری چیز نہ اٹھانا۔ اور جتنی جلد ی ہو سکے یہاں چلی آنا۔“

سسٹر جا چکی تھی۔وہ بستر کے پائینتی آنکھیں موندکر سر ٹیکے بیٹھ گئیں۔کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ نا چاہتے ہو ئے بھی شاید آج کے فیصلے کے بارے میں ہی سوچ رہی تھیں۔ اور جبھی توان کے کان میں ڈاکٹر سنگھ کے الفاظ گونجنے لگے تھے :

”ہاں،میںاسے اس اذیت سے نجات دے دیتا۔ یہاںوینٹی لیٹر کم ہے، اور مریض زیادہ“

انھوں نے غور سے پوتے کی طرف دیکھا۔ ناک منہ میں وہی پائپ! کلائیوں پنڈلیوں میںویسے ہی چبھی ہوئیں سوئیاں!! و ہی گہری نیند !!!

مانیٹر پر نگاہیں ڈالیں۔لہروں کی طرح اوپر نیچے کرتی ہوئیں وہی لکیریں دائیں سے بائیں جاتی ہوئیں۔

وہ ٹکٹکی باندھے ان مدھم مدھم لکیروں کو دیکھ رہی تھیں کہ کانوں میں آواز آئی ،”دادی لوری!“

دادی لوری سنارہی تھی:

”آرے آجا ،نیندیا تو لے چل کہیں

اڑن کھٹولے میں“

عمیرہ بانو ہولے سے اٹھیں ۔ پوتے کا چہرہ ہتھیلیوں میں بھرکر پیشانی پر ہلکا سا بوسہ لیا۔

آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔لوری کی ہلکی میٹھی آواز کمرے میں مرتعش ہو رہی تھی:

”دور دور دور یہاں سے دور“

اوراس کے ساتھ ہی وینٹی لیٹر کے سوئچ پرکپکپاتے ہوئے جسم کی ساری توانائی سمٹ آئی ۔

۔۷۔

اب وہ تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اتر رہی تھیں۔ دوسری منزل پر ڈاکٹر سنگھ کاکیبن تھا۔ کیبن کی اور بڑھتی جارہی تھیں۔ ان سے آخری بار ملنا چاہتی تھیں۔ معافی مانگنا چاہتی تھیں۔ ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھیں۔

کیبن کے سامنے کھڑے ہوکرخود کو سمیٹا ۔ پھردھیرے سے دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہو گئیں۔

ڈاکٹر سنگھ کرسی پر بیٹھے تھے۔میز پر فائل کھلی پڑی تھی۔ بائیں جانب ڈاکٹر چٹرجی ادھ جھکے انداز میں کھڑے تھے۔شاید وہ دونوں کسی نکتے پر غور وخوض کررہے تھے۔

انھیں دیکھتے ہی ڈاکٹر سنگھ ہنستے ہوئے کھڑے ہو ئے۔ڈاکٹر چٹرجی کے لبوں پربھی مسکراہٹ ابھر آئی ۔ڈاکٹر سنگھ نے پوچھا،” آپ میٹنگ میں نہیں آئیں؟ “

وہ خاموش کھڑی رہیں۔ڈاکٹر سنگھ نے ڈاکٹر چٹرجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پُر جوش انداز میں کہا ،”ماں جی ، اس پٹھے نے کمال کردیا ۔اس کا ایک دوست ساوتھ کیرولینا میں رہتاہے۔ امریکہ کے مشہور نیورلوجسٹ پروفیسر ڈگ والٹ کا اسسٹنٹ ہے۔ پچھلے ہفتے اس نے عدیل کی کیس فائیل اسے بھیجی تھی۔ پروفیسر والٹ کا کہنا ہے، اس طرح کے پیشنٹ کو کوما سے نکا لا جا سکتا ہے اور وہ نارمل زندگی بھی جی سکتا ہے۔ انھوں نے ایک نسخہ بھیجا ہے۔ آج میڈیکل ٹیم کی میٹنگ میں تمام ڈاکٹرعلاج کے اس نسخے سے متفق ہو گئے ہیں۔ فکر نہ کریں،اب آپ کا پوتا۔“

وہ ہونقوں کی طرح گھوررہی تھیں۔ان کا سر چکرانے لگاتھا ۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیاتھا

ڈاکٹر چٹرجی تیزی سے لپکے ۔ ڈاکٹر سنگھ بھی ہڑبڑاکر کر سی سے اٹھے اور عمیرہ بانو کی طرف دوڑ پڑے۔٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے