سر ورق / کہانی / مارو تی موٹرگاڑی ڈاکٹر کنہیا لال بھٹ/عامر صدیقی

مارو تی موٹرگاڑی ڈاکٹر کنہیا لال بھٹ/عامر صدیقی

مارو تی موٹرگاڑی

ڈاکٹر کنہیا لال بھٹ/عامر صدیقی

گجراتی کہانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماروتی موٹر گاڑی دروازے پر آکر کھڑی ہوئی، جنک رائے حیرت میں ڈوب گئے۔

جس گھر کے دروازے پر کبھی سائیکل کی گھنٹی تک بج نہیں سکی، اس گھر کے دروازے پر ماروتی موٹر گاڑی؟

انہوں نے چارپائی پر بیٹھے بیٹھے جھٹ سے دھوتی ٹھیک کی۔

کندھے سے رومال اتار کر برابر میں رکھا۔

اور بیڑی بجھا دی۔

جھٹ سے ایک نظر سامنے والے آئینے پر ڈالی، چہرہ بوڑھا لگا ۔

لیکن بھرا بھرا ہونے پر دل ہی دل میں خوش بھی ہوئے، پاس میں رکھا چشمہ اٹھا کر آنکھوں پر لگایا۔

آنکھیں جگمگا اٹھیں۔

نظریں گھر کے دروازے سے باہر جا ٹکیں،ماروتی موٹر کے دروازے پر پہنچی۔

جشودا نے اپنی باون سالہ زندگی میں کبھی بھی، حقیقت میں ماروتی نہیں دیکھی تھی۔

ایک بار انہیں خواب میں نظر آیا تھا کہ وہ اور اس کے شوہر جنک رائے دونوں ماروتی میں کہیں دور جا رہے ہیں۔

صبح ہوتے ہی وہ خواب جشودا نے اپنے شوہر کو بتایا ۔

اس صبح میاں بیوی دونوں نے ہی گویا تصور میں ہی، خوشیوں کے گھوڑوں کی ریس لگا دی تھی۔

اس کے دو دن بعد ہی جنک رائے کے سینے میں درد اٹھا تھا، جشودا کو ان کے سینے کا درد یاد آ گیا۔

توے پر بھاکھری(ایک قسم کی روٹی) جلی۔

دھواں نکلا، بو آئی، بھاکھری پر سیاہ داغ پڑ گئے۔

جشودا نے فوراً دونوں ہاتھوں سے بھاکھری گھمائی۔

جشودا کو خود اپنی زندگی بھی جلی ہوئی بھاکھری جیسی لگی۔

ایک گہری سانس منہ سے خارج ہو گئی ۔

آ ٹے والے ہاتھ جھٹکے۔

موٹر گاڑی کی آواز سن کر ،تھوڑا اونچا ہوکر کھڑکی کے باہر نظر ڈالی، تو اسے ایک جھٹکا سا محسو س ہوا۔

اس کے گھر کے دروازے پر موٹر گاڑی آئی ہے؟

لمحے بھر کے لئے تو جشودا کو اپنا وہ خواب سچا لگا۔

اسے لگا شاید یہ موٹر گاڑی اس کی اپنی ہی ہو تو؟

نہیں نہیں ،وہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر ایک فیکٹری میں کلرک کی عام سی نوکری کرتے تھے، اسی وجہ سے ابھی تک سائیکل بھی نہ لے سکے تھے ۔

تین تین بیٹیوں کی شادیوں کا خرچ اور سود پر اٹھائے پیسوں پر، ہر ماہ لگنے والے سود کی وجہ سے، بڑی مشکل سے گزارا چلتا تھا۔

جشودا نے کھڑکی کے باہر دیکھا اور پٹرے پر بیٹھ گئی۔

باجرے کے آٹے میں پانی ڈالا۔

دونوں ہاتھوں سے آٹا گوندھا، گوندھے ہوئے آٹے کی لوئیاں بنا کر انہیں ایک ایک کر کے بیلنا شروع کیا۔

آٹے کی گول لوئی پھیلتی چلی گئی، بیلنے کی وہ آوازیں ایک لے میں تبدیل ہوتی گئیں ۔۔۔ ٹپ ۔۔۔ ٹپ ۔۔۔ ٹپ ۔۔۔

جنک رائے کو جشودا کے ہاتھوں کی بنی بھاکھری کو بیلنے کی ٹپ ٹپ بہت اچھی لگتی تھی ۔

پینتیس سال کی خوشگوار ازدواجی زندگی کی رسیلی موسیقی، ان بھاکھریوں اور ہاتھوں کی ٹپ ٹپ کی آوازوں کے احساس سے بھری تھی۔

انہوں نے ایک نظر باورچی خانے کی طرف دوڑائی۔

نظریں باورچی خانے کے دروازے سے باہر نکلتے دھوئیں کو چھو کر واپس آئیں۔

دھواں۔۔۔ دھواں

یہ کالادھواں جشودا کو روز تکلیف دیتا ہے۔

اسکی خوبصورت آنکھوں کے چاروں طرف، اس دھواں نے گہرے رنگ کے گھیرے ڈال دیئے ہیں، لیکن وہ کیا کرے؟

حالات کے مضبوط گھیرے سے وہ چاہ کر بھی باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔

گھر میں بارہ بتی کا چولہا تھا، پر گھانس لیٹ ملتانہیں تھا، ملتا تو بلیک مارکیٹ سے تین چار گنا زیادہ پر لینا، بڑا مہنگا پڑتا۔

کئی برس گزر گئے انہیں گھانس لیٹ دیکھے ہوئے۔

گھر میں لکڑی کا چولہا اور انگیٹھی موجودتھے۔

وہ کوئلے اور اپلے بھی بناتی اور کچھ پانچ دس روپے بچا لیا کرتی۔

جشودا نے سینکی ہوئی بھاکھری کو اتار کر، بیلی ہوئی بھاکھری کو توے پر ڈالا۔

پاس پڑی پانی کی پیالی میں ہاتھ صاف کرے۔

کنارے پر پڑے لکڑی کے دو چار ٹکڑے اٹھا کر چولہے میں ڈالے۔

لگاتار آٹھ دس پھونکیں ماریں۔

اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

ازدواجی زندگی کے پینتیس سال اسی دھواں کو نکالنے میں ضائع ہوگئے، ایسا لگا اسے۔

لیکن اس میں اس کے بیچارے شوہر جنک رائے کا بھی بھلا کیا دوش؟، جو بھی دوش ہے وہ تو قسمت کا ہے۔

نصیب کا ہے ۔

پچھلے جنموں کا چکر ہے۔

جشودا کو گیتاکا ایک اشلوک یاد آیا۔

’’کرمنیوادھ گاڑیستے ما پھلیش کداچن

ما کرمپھلہیتُربھوما تے سنگ استُ اکرمن‘‘

یہ اشلوک اس کے شوہر کو بے انتہا پسند تھا۔

ہرروز صبح اشنان کرتے وقت، جنک رائے کے منہ سے یہ سننے کو ملتا۔

اپنی شادی کے دوسرے ہی دن صبح سویرے جب جنک رائے نے اشنان کرتے وقت یہ اشلوک پڑھا۔ تب اس نے اس کا مطلب پوچھا تو جواب میں جنک رائے نے سرسوت چندر جیسا لمبا لیکچر دے دیا تھا۔

توے پر جشودا نے بھاکھری گھمائی۔

جشودا کو اپنے شادی کی یاد آئی۔

پہلا ملن یاد آیا۔

باون سالہ چہرے پر شرم کی چند بوندیں پھوٹ پڑیں۔

آنکھوں سے ٹپکتی بوندوں کو ساڑی کے آنچل سے آہستہ سے جشودا نے پونچھ لیا۔

نمکین پانی کی دو چار بوندیں نیچے بھی ٹپکیں۔

تبھی چولہے کی راکھ سے دھواں نکل پڑا۔

پینتیس سال پہلے کے جوان جنک رائے ، جشودا کی یادوں میں نمودار ہوئے۔

زعفرانی رنگ کی دھوتی، اس پر سفید سلک کا کرتا، تیل ڈال کر بنائے ہوئے بال، پیشانی پر سرخ رنگ کا تلک، اس پر زعفرانی رنگ کی پگڑی، پاؤں میں راجستھانی موجڑی، اس وقت بھی جشودا کو جنک رائے پرانی فلموں کے ہیرو کی طرح ا سمارٹ لگتے تھے۔

جشودا نے بھاکھری توے سے نیچے اتاری۔

جنک رائے کو لگا یہ ماروتی ان کی اپنی ہی ہو تو؟ جشودا کو اس میں بٹھاکر لمبے سفر پرلے جائے گا۔

لیکن۔۔۔۔ نہیں، نہیں اس طرح کی خوا ہش کرنا اچھا نہیں؟ خواہشیں ہی انسان کودکھی کرتی ہیں۔

صابردل میں تکلیف کا احساس بھر دیتی ہیں

گیتا کے ستراویں باب کاایک اشلوک جنک رائے کو یاد آ گیا۔

من پرساد سومیتوں مونماتمونگرہ

بھاو سنشُدھرتیت تپو مانس مچیتے۔

اتنا ہونے پر بھی جنک رائے اپنے دل کو قابو میں نہ کر سکے۔

ہمارا بیٹا ضرور ایک دن ماروتی گاڑی لے کرآئے گا اور میری خواہش پوری کرے گا۔

لمحے بھر تو جنک رائے کو لگا کہ آنگن میں کھڑی ماروتی گاڑی سے اس کا ہی بیٹا تو نہیں اترا؟

اُتسو۔

تین بیٹیوں کے بعد کی اولاد، و ہ اُتسو تھا،اُتسو کی پرورش غربت میں ہوئی ۔

اس کے کوئی شوق پورے نہ ہو سکے اس بات کا رنج آج بھی کسی دوسرے باپ کی طرح جنک رائے کو دکھی کر دیتا، کالج کی پڑھائی بھی اُتسو خود بڑی ہی مشکل سے پوری کر پایا تھا، یہ جنک رائے جانتے تھے ۔

انگریزی میڈیم سے گریجویٹ اُتسو اعلی تعلیم بھی حاصل نہ کر سکا کہ وہ پروفیسر ہی بن سکے ۔

پروفیسر بن کر ماروتی گاڑی لانے کا خواب بھی اب اُتسوپورا نہیں کر پائے گا۔

جنک رائے کے اندر بڑی گہری اداسی چھا گئی۔

سارے اندیشوں کو جھٹک کرجنک رائے نے ا پنی نظریں دروازے پر دوڑائیں۔

شاید موٹر گاڑی میں اُتسوہی ہو۔

تبھی دروازے سے اُتسو اندر آیا۔

’’ ارے بیٹااُتسو اس موٹر گاڑی میں تو آیا ہے؟‘‘

’’کون سی موٹر بابو جی؟‘‘

’’یہی ماروتی، جو دروازے پر کھڑی ہے، وہی؟‘‘

اُتسونے دروازے پر نظر ڈالی، وہاں کوئی ماروتی نہیں تھی ۔

وہ سمجھ گیا ۔

’’ارے بابو جی، آپ کو کتنی بار کہا ہے کہ آپ،موٹر،موٹر مت کیا کرو۔‘‘

’’بند کرو اب ماروتی کا خواب دیکھنا۔‘‘

’’بھگوان نے ہمارے نصیب میں ماروتی گاڑی کا سکھ نہیں لکھا ہے۔‘‘

’’پر بیٹا، تو آیا ہے اس گاڑی میں۔‘‘

’’میں پیدل چل کر ہی آیا ہوں اور باہر کوئی گاڑی نہیں کھڑی ہے۔‘‘

جیسے ہی جشودا باورچی خانے سے باہر نکلی، جنک رائے بول اٹھے،

’’تو نے باہر ماروتی گاڑی دیکھی تھی کہ نہیں؟‘‘

’’ ہاں بیٹااُتسو، گاڑی تو میں نے بھی دیکھی تھی۔ کس کی تھی وہ؟ تو نے لی بیٹا؟ اچھا کیا ۔تیرے پتا کا خواب کتنے برسوں بعد پورا ہوا۔‘‘اُتسو ہکا بکا رہ گیا۔ ا سے ڈاکٹر کی باتیں یاد آ گئیں۔

‘اگر تیرے بابو جی کا ذہنی دباؤ اور خیا لی دنیا میں رہنا دور نہیں ہوا ۔ تو اس کا اثر تیری ماں پر بھی پڑے گا اور شاید انہیں بھی یہی ذہنی بیماری ۔۔۔‘‘

’’بیٹا ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر۔۔۔‘‘

’’نہیں ماں، وہاں کوئی گاڑی نہیں ہے ۔۔۔ بابوجی کی طرح اب آپ بھی۔۔۔۔‘‘

اُتسو آگے کچھ نہ کہہ سکا۔

اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

اُتسو۔

گزشتہ کتنے عرصے سے پریشان تھا۔

اس کے بابوجی جنک رائے جو اپنی پوری زندگی میں ایک سائیکل بھی نہ لے پائے تھے، وہ گزشتہ کئی برسوں سے مار وتی گاڑی کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے جی رہے ہیں۔

اُتسوکو اچھی طرح سے یاد تھا کہ جب وہ ایم ایس سی میں تھا تو اس نے بابوجی سے موٹر گاڑی لینے کی بات چھیڑی تھی اور اسی وقت ماں نے بابوجی کے سینے میں درد ہونے کی بات بتائی تھی، تب سے لے کر آج تک اس نے کبھی بھی موٹرگاڑی لینے کی بات منہ سے نہیں نکالی تھی۔ لیکن دماغ کے کسی کونے میں اُتسو نے بھی ایک دن ماروتی گاڑی لینے کی خواہش جگائے رکھی تھی اور نہ جانے کیوں جب سے جنک رائے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ تبھی سے ماروتی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں۔ آج انہیں ریٹائرڈ ہوئے بھی برسوں گزر گئے ہیں۔

فیکٹری سے ریٹائرمنٹ پائی تب پی ایف ، انشورنس اور تھوڑی بہت سیونگ کے جو کچھ بھی پیسے آئے، وہ سارے بہنوں کے جہیز میں چلے گئے،اُتسو یہ اچھی طرح جانتا تھا۔

گزشتہ پانچ چھ سالوں سے روز ایک آدھ بار جنک رائے کو اپنے گھر کے دروازے پر ماروتی گاڑی آکر کھڑی ہوتی دکھائی دے ہی جاتی تھی اور اس ماروتی کو دیکھ کر روز جنک رائے ٹھیک ہو جاتے ۔

خیالوں کے چکر میں پڑ جاتے ۔آخر میں جشودا کو بلا کر، پاس بٹھاکر دروازے پر کھڑی ماروتی گاڑی کے متعلق بتایا کرتے ۔

جشودا بھی بیچاری کیا کرے؟

زندگی کے اتنے سال غربت میں نکالے ، پھر بھی اگر غربت گھر کی چوکھٹ نہ چھوڑتی ہو تو ایک آدھ ماروتی لینے کا خوشگوار خواب دیکھ لینے کی خواہش کو جشودا کس طرح روک پاتی؟ پھر تو جنک رائے روز جشودا کو دروازے پر کھڑی ماروتی گاڑی دکھایا کرتے۔

جشودا روز یوں ہی روٹی چھوڑ کر آ جایا کرتی۔

موٹر دیکھتی اورہنستی ۔

دونوں میاں بیوی چارپائی پر بیٹھ کر گاڑی لے کر کہاں کہاں سیر کرنے جائیں گے، اس پر بحث کرتے۔

تینوں بیٹیوں کے گھر جاکر انہیں بھی گاڑی میں بٹھا گھومنے لے جانے کی باتیں کرتے اور دل ہی دل میں اسکا لطف اٹھاتے اور باورچی خانے میں روٹی جل جاتی۔

ماں بابوجی کے اس نفسیاتی پنے سے اُتسو بخوبی واقف تھا۔

رات ہوئی۔

چولہا چوکا نپٹاکر جشودا اپنی چارپائی پر جاکر لیٹ گئی۔

دن بھر کی تھکاوٹ سے بھری ہونے پر چارپائی پر لیٹتے ہی اسکی آنکھ لگ گئی۔

نیند کی دیوی نے جشودا کو اپنے جال میں لپیٹ لیا ۔لیکن جنک رائے دوسری چارپائی پر لیٹے لیٹے آنکھیں بند کئے ا بھی تک اپنے خیالوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

اُتسو۔

وہ بھی اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔

اسے لگا اگر ایک آدھ بار گاڑی کرائے پر لے کر اپنے ماں باپ کو ایک لمبا سفر کرا دے تو، شاید یہ خوشگوار تجربہ انہیں ان کے ذہنی دباؤ اور خیالی دنیا سے نجات دلا سکے ۔

لیکن ماروتی کے کرائے کی اتنی بڑی رقم وہ اکیلا کیسے جمع کر پائے گا؟اپنے مالی حالات کا جائزہ لینا اُتسو نے چھوڑ دیا تھا۔

بابوجی کی طرح وہ خود بھی ایک بہت ہی چھوٹی سی فیکٹری میں کام کرکے مشکل سے گھر چلاتا تھا۔

اُتسو آج مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔

اس نے اپنی ماں بابوجی کی چارپائیوں پر نظر یں دوڑائیں۔

دونوں شاید سو گئے تھے اسے ایسا لگا۔

’’کیا کرنا چاہئے؟‘‘ اپنی فیکٹری میں روز نوٹوں کے ڈھیر سارے بنڈل گنتے سیٹھ کے آفس میں ڈاکہ ڈالوں؟ نہیں نہیں اس بار تنخواہ سے چندلاٹری کی ٹکٹ ہی لے لیتا ہوں۔

شاید نصیب میں ماروتی گاڑی۱۰۰۰ سی سی ہو اور لاٹری لگ گئی تو؟ نہیں نہیں بڑا مشکل ہے ، اب نصیب پر تو۔۔۔۔

’’بینک میں چوری کروں؟‘‘

’’کسی کا خون، اغوا برائے تاوان، فراڈ۔۔۔‘‘

سوچوں کا ڈھیر لگ گیااُتسو کے دماغ میں۔

گاڑی کیسے خریدوں؟اُتسو کو اپنے والدین کی خواہش کی اہمیت کا آج اندازہ ہوا۔

خود بھی روز چار کلومیٹر چل کر فیکٹری جاتا ۔

گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ، سردیوں کی کڑکڑاتی سردی یا ساون کی موسلا دھار بارش۔

جو بھی ہو جلنا، ٹھٹھرنا اور بھیگنا اس کے فرائض میں شامل ہو چکا تھا۔

ایک آدھ ماروتی گاڑی ہو۔ ڈرائیور ہو۔۔۔۔

فیکٹری میں گاڑی سے نیچے اترتا اس کا سیٹھ، اُتسو کو یاد آیا۔

بغیر ماروتی کے زندگی ،اُتسو کو بیکارسی لگی۔

ڈنلوپ کی نرم نرم سیٹیں ہوں۔

اندر کے شیشے سے باہر مناظر کا احساس ہوتا ہو اور ہوا میں سرسراتے ہوئے کلومیٹر کٹتے چلے جائیں، دور دور تک درختوں کے ساتھ دوڑتے چلے جائیں، دن میں سورج اور رات میں چاند بھی اپنی موٹر کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوں۔

کتنا آرام اور اطمینان ملے؟

نہیں، نہیں، موٹر تو لینی ہی ہوگی ۔

اسے لگا اسی لمحے ماں بابوجی کو، جگاکر کہہ رہی ہیں کہ اب میں، جو بھی ہو، جیسے بھی ہو، ماروتی موٹر گاڑی لوں گا اور سب مل کر سفر پر جائیں گے۔

تمام رات اُتسو کے خیالوں میں موٹر گاڑی کی گھرگھراہٹ گونجتی رہی۔

آنکھیں سے نیند غائب تھی۔

آس پاس ہزاروں موٹروں کے درمیان اس نے خود کو موجود پایا۔ صبح صبح پہلے پہرمیں آنکھیں لگیں ۔

صبح ہوئی۔

اُتسو ابھی تک اٹھا نہیں تھا۔

جنک رائے نے جشودا سے پوچھا،’’اُتسو ابھی تک اٹھا کیوں نہیں؟ اس طبیعت تو ۔۔۔۔؟‘‘

تبھی اُتسونے کروٹ بدلی اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں ۔

اس نے چاروں طرف دیکھا ۔

ماں بابوجی کو دیکھ مسکرایا۔

گھر کے چاروں طرف دیکھا ۔

اسے تھوڑا شک ہوا۔

سامنے ٹنگی گھڑی کی جانب دیکھا، ارے دس بج گئے ہیں؟

اوہ۔

تبھی ماروتی آکر گھرکے دروازے پر کھڑی ہوئی۔

جنک رائے، جشودا اوراُتسو کی نظریں دروازے پر آئی ماروتی موٹر گاڑی کے دروازے پر ٹک گئیں۔

دروازہ کھلا۔

سفید کلر کے سوٹ اور گوگلز پہن کراُتسو، ماروتی سے نیچے اترا۔

***

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کچھ کہنا تھا تم سے ۔۔۔ بِینوبسواس/عامر صدیقی

کچھ کہنا تھا تم سے بِینوبسواس/عامر صدیقی ہندی کہانی …………….  ویدیہی کا من بہت اتھل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے