سر ورق / افسانہ / برف کا ڈھیر … رضیہ حیدر خان

برف کا ڈھیر … رضیہ حیدر خان

برف کا ڈھیر

رضیہ حیدر خان

ارسلان اور ناذنین کی شادی کو ایک ماہ گذر چکا تھا ۔اور اب ارسلان کی چھٹیاں بھی ختم ہونے کو تھیں، ارسلان کی پوسٹنگ آجکل ایک پہاڑی علاقے میں تھی ، یوں تو سردیوں میں وادی کے ہر خطے میں خاصی سردی ہوتی ہے لےکن پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور سردی کے ساتھ ساتھ برفانی طوفان وغیرہ بھی آتے رہتے ہیں جسکے چلتے خاصی احتیاط کرنا پڑتی ہے ۔اکثر خشک ہوائیں ، تیز آندھی طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ان سب سے بچاﺅ کے لئے گورنمنٹ کی جانب سے محکمے ہوتے ہیں جو وقت بے وقت آنے والے موسمی اُتار چڑھاﺅکے حساب سے ڈیوٹی پر آفیسر رکھے جاتے ہیں اور مزدور بھیاور زندگی روٹین سے چلتی رہتی ہے روز مرّہ کا کام بند نہیں ہوتا۔

ارسلان کے خاندان میں کبھی کوئی شادی کے بعد اپنی فےملی کو اپنے ہمراہ لے کر نہیں گیاسب ایک ساتھ رہتے تھے joint family کی روایت تھی ، کشمیر کے زیادہ تر خاندان اسی روایت کو آج بھی اپنائے ہوئے ہیں ارسلان چاہتا تھا کہ وہ اپنی شریک حیات کو اپنہ ہمرا ہ لے جائے حالانکہ یہ روایت سے ہٹ کر تھا ۔لےکن پھر بھی اُسکی یہ خواہش تھی کہ وہ ناذنین کو اپنے ہمرا ہ ہی رکھے اکلوتا بےٹا تھا اس لئے بہت زیادہ کہنے کی نوبت نہیں آئی اور ارسلان کے ساتھ ساتھ ناذنین کے جانے کی بھی تیاریاں ہو گئیں۔

ناذنین ارسلان کی شریکِ حیات ہی نہیں اُسکی ماموزاد بھی تھیناذنین کو سب گھر میں پیار سے ناذہ پکارتے تھے ، ناذہ بےحد خوبصورت تھی ،بہت سنجیدہ اور دیندار لڑکی تھی حالانکہ شادی سے پہلے وہ بہت چنچل اور شوخ تھی لےکن شادی کے بعد بالکل کم گو ہو گئی تھیکھِلکھِلا کے ہنسنا تو دور وہ تو مسکراتی بھی بہت کفایت شاری سے تھی،ناذہ کے لئے وہ گھر کوئی غیر نہیں تھا اس لئے وہاں اُسکے اکےلا پن قطعی محسوس نہیں ہوتا تھا۔

سارا دن یا تو گھر سے باہر کا کوئی یا گھر کے افراد اسکے آگے پیچھے لگے رہتےلےکن آج جب اُس نے اپنے جانے کی بات سنی تو اُسے ذرا سی دیر کے لئے کچھ اٹپٹا سا لگا اور اُسے کچھ دیر کے لئے بُرا بھی لگا لےکن وہ خاموش ہی رہی۔

ارسلان ناذہ کو لےکر اپنی قیام گاہ پہنچا ۔خوشی اُسکے چہرے سے جھلک رہی تھی ۔وہ بار بار ناذہ کی طرف دےکھتا اور پھولا نہیں سماتا کیونکہ اُس نے جو خواب دےکھا تھا ناذہ کو اپنے ساتھ لےکر آنے کا وہ پورا ہو گیا تھا ۔ یہ بہت بڑی بات تھی شادی کے بعد اگر کوئی اپنی فےملی کو لےکر بھی جاتا تھا تو مہمان بطور ۔ہفتہ دس دن کے بعد پھر واپس اپنی فےملی کے ساتھ

ارسلان نے hut کا دروازہ کھولا اور یکے بعد دیگرے ناذہ کو گھر کا ساز و سامان دکھانے لگاناذہ جانتی ہو یہ صوفہ میں تب لایا تھا جب ہمارا رشتہ ہوا تھا ، یہ بیڈ اور یہ ڈائننگ ٹےبل جب ہماری منگنی ہوئی تھی ۔اسی طرح ارسلان نے ناذہ کو سارا مکان دکھایا۔اس درمیان ناذہ آہستہ سے جی کہہ دیتی یا ہلکے سے مسکرا دیتی۔ ” ناذہ “تم یہاں میرے ساتھ آ کر خوش ہو نا “ ارسلان نے ناذہ کو مخاطب کیا ”جی“ ناذہ نے کہا اور ارسلان کے قریب جا کر اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھ ں میں لےکر مُسکرا دی۔ ارسلان نے بڑی محبت سے اُسکی پےشانی کو چوم لیا۔

ایک پہاڑی کے دامن میں قریب 15 یا 20 Hut بنی ہو ئی تھیں ایک کالونی کی طرح سامنے سے ایک سڑک گذرتی تھی جو اتنی چوڑی تو تھی کہ بیک وقت بلڈوزر اور ایک گاڑی گذر جائے ۔ایک کچا راستہ بھی تھا جو کئی جانب مُڑ رہا تھا ارسلان کی hut اُس کالونی کی سب سے پہلی hut تھی جس کا ایک دروازہ بےڈ روم میں کھُلتا تھا دوسرا living place میں اور ایک دروازہ پیچھے کی جانب کچن میں سے کھُلتا تھا۔hut کیا تھی اچھا خاصہ فلےٹ تھا ۔ دو بیڈ روم ایک living place بیچ میں گیلری اور اسکے بعد کچن دونوں کمروں کے باہر چبوترہ ،واش روم ایک کمرے کے ساتھ اٹیچ تھا اور دوسرا گیلری میں ، اس مکان کو ارسلان نے سجا سنوار کر خوبصورت گھر بنا رکھا تھا۔

”السلام علیکم صاحب “ ارسلان نے دروازے کی جانب دےکھا شعبان اور اُسکی بیوی حاجرہ کھڑے ہوئے تھے۔ ” وعلیکم السلام “ آﺅ شعبان ارسلان نے کہا ۔ ناذہ یہ شعبان اور یہ اسکی بیوی ہے یوں سمجھو کہ اس گھر کے ہی کار مختار ہیں۔“ شعبان چوکیدار تھا اور اُسکی بیوی گھر کی صاف صفائی کا کام کرتی تھی اور کھانا بناتی تھی ۔ یہ سہولت بھی ارسلان کو محکمے کی جانب سے میسّر تی ۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا یہ دونوں اور انکے پیارے پیارے دو بچّے یہ ہماری فےملی ممبر کی طرح ہیں ۔حاجرہ بہت لزیز کھانا بناتی ہے مجھے یقین ہے کہ تمہیں یہاں بھی ایک بھری فےملی کی طرح ہی محسوس ہوگا ۔“ جی ناذہ نے مُسکرا کر اُن دونوں کو دےکھا۔ حاجرہ میرے لئے ایک کانگڑی لا دواگر تیار ہے تو ۔

جی بی بی جی ابھی لاتی ہوں ۔“ اور حاجرہ بہت جلدی سے برابر والی ہٹ میں گئی جہاں سے بچوں کے کھےلنے اور بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور پانچ منٹ میں حاجرہ کانگڑی لے آئی۔ناذہ نے کانگڑی کو اپنی شال میں چھپایا اور حاجرہ کی طرف دےکھ کر مسکرا دیاب آپ شام کے کھانے کی تیاری کریں ۔لےکن اس سے پہلے جلدی سے چائے ہو جائے۔“ارسلان نے کہااور ارسلان اور ناذہ اندر چلے گئے ۔ارسلان نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا جو چبوترے پہ کھلتا تھا ۔

صرف دو سیڑھیاں چڑھ کر یہ چبوترہ تھا اوراسکے آگے چھوٹا سا صحن اور صحن کے سامنے لکڑی کا چھوٹا سا گیٹ ، صحن میں کیاریاں بھی بنی ہوئی تھیں بہار کے موسم میں پھول بھی کھِلتے ہونگے لےکن اب تو وہ سب سفید چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ہلکی سی برف کی چادر ۔چبوترے پر کھڑے ہو کر ارسلان نے ناذہ کو مخاطب کر کے کہا ” دےکھو ناذہ وہ غروب ہوتا ہوا سورج کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اور جاتے جاتے ایک پےغام بھی دے رہا ہے ۔

”کیا ناذہ نے کہا“

ہم دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور یہ کہکر ارسلان نے ناذہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لےکر کہا ” میرا ساتھ نبھاﺅ گی نا۔“

جانے کیوں ناذہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔آنسوﺅں کے دو موتی اسکے خوبصورت رخصاروں پر اُتر آئے ” ارے یہ کیا تم اُداس ہو گئیں ۔میں جانتا ہوں ناذہ تم اُداس ہو۔“ ناذہ نے کچھ حیرت سے ارسلان کی طرف دےکھا تو ارسلان نے وضاحت بھی کر دی۔

” ارے بھئی پہلی بار اتنی بڑی فےملی سے الگ ہوئی ہو نا اس لئے ایسا ہو رہا ہے ۔انشاءاللہ بہت جلدی یہاں تمہارا دل لگ جائے گا۔ میں ہوں نہ تمہارے ساتھ “ اور ارسلان نے ناذہ کے رخساروں پہ اُترے موتیوں کو بڑی حفاظت سے اپنے رومال میں سمےٹ لیا۔

ان دونوں کو یہاں آئے ہوئے پندرہ دن کے قریب ہو گئے تھے ۔ ارسلان آجکل بےحد مصروف تھا ۔اکثر رات کو بھی کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی پر گذارنے پڑتے اور کئی بار ناذہ ارسلان کا انتظار کرتے کرتے سو جاتی اور پھر دیر رات وہ لوگ کھانا کھاتے ۔کبھی کبھی پورا دن بھی ارسلان ڈیوٹی پر ہی ہوتا ناذہ ہمیشہ کوشش کرتی کہ جتنی دیر ارسلان گھر میں رہے وہ اُسکی دل جوئی کرے اور اُسے خوش رکھے اور ارسلان بھی ہر لحاظ سے ناذہ کا بہت اچھا شوہر بننے کی کوشش میں لگا رہتا۔

ناذہ اکثر اپنے ہاتھ سے کھانا بناتی ، شعبان کو بازار بھےج کر ضرورت کا سامان منگاتی اور کئی طرح کے لذیز کھانے بناتی ، سارا دن جب اکےلی ہوتی تو شعبان کے بیوی بچوں کے ساتھ ہنستے کھےلتے وقت گذارنے کی کوشش کرتی۔

آج ناذہ نے کئی طرح کے کھانے بنائے تھے ارسلان ڈیوٹی سے لوٹا تو اُس نے آتے ہی ناذہ کو یہ خبر دی کہ آج افسکی نائٹ ڈیوٹی ہوگی ، محکمہ موسمیات کی پےشین گوئی ہے کہ آج رات کو کسی بھی وقت برف باری شروع ہو سکتی ہے ، بھاری برف باری کی توقع ہے اور برفانی طوفان کے آنے کا بھی خطرہ ہے ۔شام کے چار بجے تھے ارسلان چائے سے فارغ ہوا اور فوراً ہی تیار ہو گیا ۔کھانے تک تو رُک جاتے میں نے آپکی پسند کا کھانا بنایا ہے ۔“ ناذہ نے ارسلان کو مخاطب کیا “ ” حضور آپکی محبت سر آنکھوں پر لےکن کیا کریں ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ، جانا پڑے گا۔“

ارسلان نے اور کوٹ اور دستانے پہنے اور گاڑی کی چابی لےکر باہر نکل گیا دو منٹ بعد ہی واپس لوٹ آیا ۔” بےگم دھیان سے سنو میں شعبان اور اُسکی بیوی سے کہتا ہوا جاﺅں گا رات کے کھانے کے بعد حاجرہ تمہارے پاس آ جائے گی اور شعبان دونوں جگہ کی نگرانی رکھے گا ۔تم پرےشان مت ہونا ، کھانا کھا لےنا میرا انتظار مت کرنا کیونکہ آج میرا آنا مشکل ہے ۔انشاءاللہ صبح بہت سوےرے آ کر ملاقات ہوگی اور ہاں شعبان کو کہیں باہر مت بھےجنا نہ ہی اُسے جانے دینا اللہ حافظ۔“

ارسلان کے جانے کے بعد ناذہ کافی دیر چبنوترے پر کھڑی ہوئی دور تک اُسکی گاڑی کو جاتے ہوئے دےکھتی رہی ۔آجکل حالات قدرے بہتر تھے ۔ کئی دن سے کہیں سے بھی کسی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں تھی اس لئے ناذہ کہیں نہ کہیں تسلّی سے تھی

کافی دیر تک ٹی وی دےکھنے کے بعد اور ساری خبریں سُن لینے کے بعد ناذہ وضو کے لیے اُٹھی تبھی حاجرہ نے دروازة بجایا ۔کھانا لگا دیں بی بی “ ارے نہیں بھئی ابھی وقت ہی کیا ہوا ہے ، ابھی نہیں۔ وقت کتنا ہوا ہے بی بی مجھے تو وقت کا پتہ ہی نہیں رہتا ۔ مجھے شعبان بھی اس بات پہ کئی بار ڈانٹ دیتا ہے “ کوئی بات نہیں ایک گھنٹہ بعد کھانا لگا لےنا ناذہ نے کہا اور ناذہ نماز پڑھنے لگی ۔نماز اور دعائیں پڑھ کر فراغ ہوئی تو حاجرہ نے کھانا لگالیا۔ ناذہ نے ایک دو نوالے کھائے تھے کہ رُک گئی” حاجرہ شعبان کہاں ہے “ جی ابھی بلاتی ہوں اور حاجرہ شعبان کو بُلا لائی ۔ جی بی بی سب خیریت ؟“ ہاں سب خیریت ہے شعبان تم صاحب کے آفس کا راستہ جانتے ہو ۔“ ناذہ نے کہا ۔

جی بی بی جی

کتنا وقت لگتا ہے پیدل آنے جانے میں ۔“ ناذہ نے کہا ۔

جی کوئی بیس منٹ آنے میں اور بیس منٹ جانے میں ۔“ تو ٹھیک ہے تم کھانا پےک کرو ٹِفن میں اور صاحب کو دے آ:و۔“ شعبان حیرت سے ناذہ کو دےکھ رہا تھا ۔

بی بی صاحب نے سختی سے منع کیا ہے کہ آپ کو چھوڑ کر کہیں نہ جائے ۔رات کا وقت ہے کسی وقت بھی برف باری شروع ہو سکتی ہے اور آدھا گھنٹے سے ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی ہے ۔

اوفو شعبان تمہارے لیے کون سا انجانا راستہ ہے ۔ابھی ساڑھے سات بجے ہیں انشاءاللہ ساڑھے آٹھ تک تم واپس بھی آ جاﺅ گے کون سی دیر لگنی ہے۔“

اور شعبان بہت ہی پرےشانی کے عالم میں اٹھا ،کھانا پےک کیا اور باہر نکل گیاشعبان میں نے صاحب کی پسند کا کھانا بنایا ہے ۔ میں کھا نہیں پاتی انکے بغیر ۔ناذہ نے شعبان کو دروازے پر رخصت کرتے وقت کہاکھانے سے فارغ ہو کر ناذہ کمرے میں داخل ہوئی تھی کہ ارسلان کا فون آ گیا ۔ ” کمال کرتی ہو یار حد کر دی تم نے ایک کھانے کو لےکر تم نے اتنا بڑارسک لے لیا ۔یہاں کھانے کا سارا انتظام ہوتا ہے ، نائٹ شفٹ والوں کے لئے باقاعدہ کھانا بنوایا جاتا ہے یہ کیا بے وقوفی ہے باہر دےکھو کتنی زوردار برف باری ہو رہی ہے اور تیز ہوائیں بھی۔ میں ایسے موسم میں شعبان کو واپس نہیں بھےج سکتا ، یہ بھی انسان ہے اور میں تو گاڑی سے بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔اتنی تیز برف باری میں گاڑی نہیں چل پائے گی ۔خیر اب جو ہونا تھا ہو گیا اب کیا ہو سکتا ہے ۔اپنا خیال رکھنا ، کھڑکی اور دروازے اندر سے بند رکھنا ۔اگر حاجرہ بچوں کے ساتھ ابھی وہیں ہو تو اُسے روک لو، میں آنے سے پہلے فون کروں گا اور رابطے میں رہنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ حافظ اور ارسلان نے فون کاٹ دیا ۔ ناذہ بہت پرےشان تھی اُس نے ایک نظر کھڑکی سے باہر جھانکا اور ٹھٹھک کر رہ گئی اُف میرے خدا ! یہ میں نے کیا کر دیا ۔شعبان کو تو بھےج ہی دیا حاجر ہ کو بھی یہ کہکر رخصت کر دیا کہ جب شعبان آ جائے گا تو وہ اُس کے پاس آ جائے گی۔ ناذہ ڈری سہمی ہوئی بستر میں منہ ڈھانپے پڑی تھی ہوائیں بہت تیز تھیں بار بار کھڑکی کھڑکیاں کھڑک رہی تھیں ۔ناذہ آنکھیں بند کر کے نیند کو زبر دستی بلانے کی کوشش کر رہی تھی لےکن نیند کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں تھا پھر ایسا لگا جیسے ناذہ کسی دوسری دنیا میں چلی گئییہاں اُسکے میکے کی دنیا ،اُس کا کالج اُسکی سہےلیاں اور یاصر جسے وہ کافی پہلے سے جانتی تھی اور بے انتہا محبت کرتی تھی یونیورسٹی میں دونوں ساتھ پڑھتے تھے یاصر ایک خوبصورت نوجوان تھا نہایت ذہین اور ناذہ کی طرح اُسکی گنتی بھی کالج کے ہونہار طالب علموں میں ہوتی تھی ۔دونوں ایک دوسرے کو جان پہچان سے کچھ آگے تک جانتے تھے۔ ناذہ دل ہی دل میں یاصر کو بہت چاہتی تھی لےکن کبھی کسی سے یا خود یاصر سے بھی کہلوانے یا کہنے کی جسارت نہیں کی بس دل ہی دل میں ہمدردی تھی اور شاید محبت بھی“

” اُف میرے اللہ ! یہ سب کیا ہو رہا ہے ، یہ مجھے کس قسم کے خیال آ رہے ہیں میرے خدا رحم کر میرے نزدیک یاصر کا خیال بھی نہ ہو کر گذرا، میرے لیے اب ارسلان سے بڑھ کر کوئی نہیں “ ناذہ کے چہرے پہ اتنی سخت سردی کے باوجود پسینے آ گئے ناذہ نے کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر لیں لےکن خیالوں کا سلسلہ تھا کہ ٹوٹتا ہی نہیں تھا ناذہ کے لاکھ چاہنے پر بھی ۔ اور ناذہ پھر سے ایک بار اُسی دنیا میں لوٹ گئی

تو بھئی مان گئے دلوں کے حال اللہ بہتر جانتا ہے ۔“ نیلوفر نے چھےڑنے کے انداز میں کہایاصر کا خط ہے جواب بھی مانگا ہے پہلی اور آخری بار جواب دے دو اور خط بھی پڑھ لو کیونکہ آگے آگے تو موبائل زندہ باد ” ہائے اللہ خاموش ہو جا نیلوفر کسی نے سُن لیا تو کیا ہوگا ناذہ نے نیلوفر کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر کہا ناذہ اوریاصر کی محبت پروان چڑھنے لگی پاک محبت ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہنے والے ایک وعدہ دونوں نے ایک دوسرے سے کیا ہوا تھا کہ اپنے بارے میں وہ کبھی کسی کو نہیں بتائے گی اور نہ ہی کبھی ایسا کچھ کریں گے کہ کسی کو شک بھی ہو جائے۔

نیلوفر کی بات اور تھی وہ ناذہ کی ہی نہیں بلکہ اب یاصر کی بھی بہت اچھی دوست تھی بہت اچھی بہن تھی اور اُس نے بھی وعدہ کیا تھا کہ ہمیشہ راز رکھے گی جب تک صحیح وقت نہ آ جائے“

ہمیشہ کی طرح جب ایک دن یاصر کا فون آیا تو ناذہ نے صرف دو ہی جُملے کہکر فون کاٹ دیا آیندہ مجھے فون مت کرنا ، میری شادی ہو رہی ہے ۔اس کے بعد یاصر نے جانے کتنے ہی فون کیے لےکن ناذہ نے کبھی فون نہیں اُٹھایا نیلوفر نے جب سُنا تو غصّے سے لال پیلی ہونے لگی ” یہ اچانک تمہاری شادی کیسے ہونے لگی ناذہ“ مجھے بھی ابھی پتہ چلا کہ میری شادی ہو رہی ہے ۔رشتہ ہو چکا ہے اور اِس ہفتے منگنی بھی ہو رہی ہے ۔“ تم نے احتجاج نہیں کیا“ کیسا احتجاج نیلوکیا احتجاج مجھے یہ بتایا گیا کہ پھوپی کی طبیعت خراب چل رہی ہے وہ چاہتی ہیں کہ جلد انکے اکلوتے بیٹے کی شادی ہو جائے اور ہاں یہ بھی کہ اُن کا بیٹا بھی مجھے ہمیشہ سے پسند کرتا ہے ۔ سب بہت خوش ہیں ۔میرے لئے ابو کا حکم اور اُس سے بھی بڑھ کر اُن کا بھروسہ مجھ پر میں کیا کہتی کب کہتی اور ناذة نیلوفر کے کاندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی “

ہم لڑکیوں سے پوچھا ہی کب جاتا ہے کہ ہماری پسند نا پسند بھی کچھ ہے یا نہیں بس حکم سنایا جاتا ہے جس کی تعمیل کرنا ہر لڑکی اپنے مقدر میں لکھوا کر لاتی ہے میں نے سوچا تھا اس بار امتحان کے بعد میں امّی کو سب بتا دونگی لےکن“ ہاں ناذہ یاصر بھی یہی کہہ رہا تھا کے امتحان کے بعد ہماری شادی کی بات ہوگی وہ بھی اپنے گھر والوں کو رشتے کے لئے بھےجنے کو کہہ رہا تھا۔“

اب سب ختم ہو گیا نیلو ! سب ختم ہو گیا۔ میں خود نہیں جانتی کہ میں یہ رشتہ کیسے نبھا پاﺅں گی ۔اللہ میری مشکل آسان کرے ۔ زندگی کے کسی موڑ پر شادی کے بعد اگر یاصر سے آمنا سامنا ہوا تو کیا ہوگا؟ نیلو ! میں کیا کروں اور ناذہ کئی گھنٹے سسکتی رہی۔

کئی مہینے تک نیلوفر ناذہ کو یاصر کی خیریت دیتی رہی لےکن ایک دن ناذہ نے نیلوفر کو قسم رکھ کر یہ سلسلہ بند کروا دیا

ناذہ کے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا ۔اچانک دروازے پر کسی نے دستک دی ۔کوئی لگاتار دروازہ بجائے جا رہا تھا ناذہ بے تحاشہ کانپ رہی تھی ۔حالات کو دےکھتے ہوئے وہ دروازة کھولنے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہی تھی ۔ ہوائیں ابھی بھی بہت تیز چل رہی تھیں بار بار کھڑکی اور دروازہ  ہل جاتے اور اس بیچ یہ دستک ناذہ نے لحاف سے منہ ڈھانپ لیا ، بُری طرح لرز رہی تھی اور پھر آہستہ آہستے دستک کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی۔ لےکن اچانک ایک آواز آئی دھاڑ سے جیسے کوئی بھاری بھرکم چیز دروازے سے آ کر ٹکرائی ہو اور اس کے بعد سنّاٹا ہو گیا ۔ رات کے دو بجے تھے

ہوائیں ابھی تک اسی رفتار سے چل رہی تھیں اور برف باری بھی ابھی تک ہلکی نہیں ہوئی تھی ۔کافی دیر تک ناذہ کانوں پر ہاتھ دھرے بستر میں دبکی ہوئی پڑی کانپتی رہی اور پھر اُسے نیند آ گئی۔ ۔اچانک ناذہ کی آنکھ کھلی باہر سے کچھ لوگوں کے آہستہ آہستہ بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور پھر ایک آواز سُن کر وہ لرز کر بےٹھ گئی ۔ ناذہ نازہ یہ آواز ارسلان کی تھی ۔ارسلان کے پاس دوسری چابی تھی اس نے Living place کا دروازہ کھولا اور زور زور سے چلانے لگا ۔ ناذہ کہاں ہو تم ایسی بھی کیا غفلت ‘ایسا بھی کیا ڈر اور خوف کہ ایک آدمی کی جان چلی گئی لےکن تم نے دروازہ نہیں کھولا کوئی مسافر تمہارے در پہ دستک دے رہا تھا ،کیا پتہ کوئی بیمار تھا ، زخمی تھا یا تھکا ہوا تھا ۔اس برفانی طوفان میں جانے کون مصیبت کا مارا دروازے پر آیا ہوگا ۔ ایک بار کھڑکی سے جھانک ہی لیا ہوتاکیا پتہ اس غریب کی جان ہی بچ جاتی ۔ارسلان بہت غصّے سے ناذہ کو کھری کھوٹی سُنا رہا تھا ۔ ناذہ روئے جا رہی تھی ساری رات کی جاگی ہوئی تھی آنکھیں سوج گئی تھیں وہ کیا کہتی کہ رات بھر اُس کے ساتھ کیا گذری ارسلان کے بیڈ روم کا دروازة کھُل نہیں سکتا تھا کیونکہ اس دروازے پر ہی وہ لاش پڑی تھی ارسلان نے ناذہ کا ہاتھ پکڑا اور اُسے کھےنچتا ہوا living place کے دروازے پر لے آیا ۔

” وہ دےکھو کہیں نہ کہیں اس شخص کی موت کی تم ذمہ دار ہو ناذہ ارسلان کو حیرت سے دےکھ رہی تھی اُس نے ارسلان کو پہلے کبھی اتنی اونچی آواز میں بولتے نہیں سُنا تھا ۔دوپٹّے سے بار بار آنسو پوچھ رہی تھی کچھ حالات اور کچھ ٹھنڈ سے وہ بُری طرح کانپ رہی تھی

کچھ لوگ شعبان اور ارسلان کے ساتھ اس لاش سے برف ہٹا رہے تھے ۔جیسے ہی لاش کے چہرے سے برف ہٹی تو چہرہ سامنے آیا

ناذہ کی پتلیاں پھےل گئیں ، ہاتھ پےر نیلے پڑ گئے ، دانت بجنے لگے ۔سامنے برف کے ڈھےر میں یاصر کی لاش دیکھ کر وہ برف کا ڈھےر ہو گئی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ولن۔۔ علی زیرک

اوئے۔۔۔۔ روہی میں آسمان کے کنگرے توڑتے  گنے کے  کھیت ہیں اورمیرے میں بھربھری مٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے